سوئس کھلاڑیوں کے جشن نے فیفا ورلڈ کپ کو سیاست زدہ کر دیا

سوئٹزرلینڈ(ویب ڈیسک)سوئٹزرلینڈ کے فٹبالرز گرینٹ شاکا اور شردان شکیری نے سربیا کے خلاف گول اسکور کرنے کے بعد اپنے جشن میں کوسوو کے قومی جھنڈے پر بنے نشان بنا کر ورلڈ کپ میں سیاسی تناو¿ بڑھا دیا ہے۔روس میں جاری فٹبال ورلڈ کپ کے گروپ ای کے میچ میں گزشتہ روز سوئٹزرلینڈ نے سربیا کو دو کے مقابلے میں ایک گول سے شکست دی تھی۔سوئٹزرلینڈ کی جانب سے گرینٹ شاکا اور شردان شکیری نے اپنی ٹیم کی جانب سے ایک ایک گول کیا تھا۔دونوں کھلاڑی نسلاً البانین ہیں لیکن سوئٹزرلینڈ میں پلے بڑھے ہیں اور سوئس ٹیم کی نمائندگی کرتے ہیں۔دونوں کھلاڑیوں نے گول کرنے کے بعد خوشی کے اظہار کے طور پر اپنے ہاتھوں کو ایسی شکل دی جسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ انہوں نے دو سَروں والی چیل کی شکل بنائی ہے، ایسا ہی نشانہ البانیہ کے قومی پرچم پر بھی بنا ہوا ہے۔شردان شکیری کوسوو میں پیدا ہوئے جو پہلے سربیا کا صوبہ تھا اور اس نے 2008 میں آزادی حاصل کی تھی۔سربیا کوسوو کی آزادی کو تسلیم نہیں کرتا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناو¿ رہتا ہے۔شاکا کے والدین کا تعلق بھی کوسوو سے ہے اور وہ نسلاً البانین ہیں۔آرسینل کی جانب سے کھیلنے والے شاکا کے والد کوسوو کی آزادی کے حق میں مہم چلانے پر یوگوسلاویہ میں قید بھی رہ چکے ہیں۔شردان شکیری سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف خوشی کے اظہار کا ایک طریقہ تھا۔

چاہتی ہوں دنیا خوبصورتی کے بجائے مجھے میرے کام سے پہچانے، مومنہ مستحسن

کراچی (ویب ڈیسک)معروف گلوکارہ مومنہ مستحسن چاہتی ہیں کہ دنیا انہیں خوبصورتی کے بجائے ان کے کام سے پہچانے۔، ’مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہر کوئی مجھے میری آواز کے بجائے میری خوبصورتی کی وجہ سے پسند کر رہا ہے، میں جہاں بھی جاو¿ں مجھے یہی سننے کو ملتا کہ ’ارے دیکھو کتنی پیاری لڑکی ہے‘ لیکن میں یہ نہیں چاہتی’۔ان کا کہنا تھا، ‘میں چاہتی تھی کہ خوبصورت چہرے کے علاوہ بھی میری پہچان ہو جس کے لیے میں نے فیصلہ کیا کہ جب تک میں اپنے آپ کو ثابت نہیں کرلوں گی تب تک کوئی گانا ریکارڈ نہیں کروں گی’۔گلوکارہ نے بتایا، ‘میں نے تعلیم، صحت اور خاص طور پر پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنا شروع کیا، جس کے بعد مجھے امریکی جریدے فوربز نے 30 انڈر 30 کی فہرست میں شامل کیا جس نے مجھے دوبارہ میوزک کی طرف لوٹنے کی راہ دکھائی’۔انہوں نے بتایا کہ جس دن انہیں فوربز کی جانب سے کال موصول ہوئی، ا±سی دن انہیں ’آیا نہ تو‘ گانے کے لیے بھی کال آئی، جس پر انہیں احساس ہوا کہ اب وہ اپنی ایک پہچان بنا چکی ہیں۔واضح رہے کہ حال ہی میں بھارتی گلوکار ارجن ک±ننگو کے ساتھ مومنہ کا گانا ’آیا نہ تو‘ ریلیز کیا گیا، جسے مداحوں کی جانب سے خوب پزیرائی مل رہی ہے۔مومنہ مستحسن نے مزید بتایا کہ وہ رواں برس اپنے مزید گانے ریلیز کریں گی اور انہیں لگتا ہے کہ بطور گلوکار ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سماجی مسائل پر بات کریں اور اس کا عکس ان کے میوزک میں بھی دکھائی دے۔

شاہ رخ خان نے کینسر سے لڑتے عرفان خان کی کیسے مدد کی؟

ممبئی (ویب ڈیسک)لندن کے ایک اسپتال میں کینسر سے لڑتے عرفان خان کی ان کے قریبی دوست اور اداکار شاہ رخ خان خاموشی سے مدد کر رہے ہیں۔عرفان خان 3 ماہ سے لندن میں نیورو اینڈو کرائن کینسر سے لڑ رہے ہیں اور گزشتہ دنوں انہوں نے بھارتی صحافی کو اپنی بیماری کے حوالے سے جذباتی خط تحریر کیا تھا۔بالی وڈ اداکار کے لیے دنیا بھر سے ان کے مداح دعائیں کررہے ہیں اور ان کی صحتیابی کے لیے کافی پر امید بھی ہیں۔ عرفان خان علاج کے لیے لندن روانگی سے پہلے قریبی دوست شاہ رخ خان سے ملاقات کے خواہشمند تھے جس پر ان کی اہلیہ نے کنگ خان سے رابطہ کیا۔شاہ رخ خان عرفان کے مڈھ آئی لینڈ گھر کے قریب ہی محبوب اسٹوڈیو میں فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھے اور جیسے ہی انہیں دوست کی خواہش کا علم ہوا تو وہ فلم کی شوٹنگ روک کر ملاقات کے لیے عرفان کے گھر پہنچے اور 2 گھنٹے سے زائد وقت ان کے ساتھ گزارا۔کنگ خان نے اس موقع پر عرفان خان کو لندن میں اپنے گھر کی چابی دی تاکہ وہ سکون سے وہاں علاج کراسکیں اور انہیں وہاں گھر والا ماحول میسر ہو تاہم وراسٹائل اداکار چابی لینے سے انکار کرتے رہے لیکن شاہ رخ نے انہیں لندن والے گھر میں رہنے کے لیے قائل کر لیا۔عرفان خان اپنے دوست کی اس محبت پر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ا?بدیدہ بھی ہوگئے تھے۔

لاہور سے قومی اسمبلی کے اہم حلقوں پر (ن) لیگ کے امیدوار فائنل

لاہور(ویب ڈیسک)مسلم لیگ (ن) نے لاہور میں قومی اسمبلی کے 14 حلقوں کے لیے اپنے امیدواروں کو حتمی شکل دے دی۔ذرائع کے مطابق (ن) لیگ نے لاہور کی اہم نشستوں پر اپنے امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دے دی جن میں ایم این اے کی ایک نشست پر نیا نام شامل کیاگیا ہے جب کہ سابقہ ایم این ایز کے حلقوں میں کچھ تبدیلی کی گئی۔ذرائع کے مطابق این اے 123 سے ملک ریاض، این اے 124 سے حمزہ شہباز، این اے 125 سے ملک پرویز، این اے 126 سے مہر اشتیاق اور این اے 127 سے مریم نواز امیدوار ہوں گی۔ذرائع نےبتایا کہ این اے 128 پر روحیل اصغر، این اے 129 پر سہیل شوکت بٹ، این اے 130 پر خواجہ احمد حسان اور این اے 131 پر خواجہ سعد رفیق الیکشن لڑیں گے۔اس کے علاوہ این اے 132 سے شہبازشریف اور این اے 133 سے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق میدان میں اتریں گے جب کہ این اے 134 سے رانا مبشر، این اے 135 سے سیف الملوک کھوکھر اور این اے 136 سے افضل کھوکھر الیکشن لڑیں گے۔ذرائع کےمطابق این اے 133 میں زعیم قادری کی ناراضی کے بعد این اے 125 پر بھی تنازع سامنے ا?گیا ہے اور بلال یاسین نے اس نشست پر الیکشن لڑنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔بلال یاسین کا کہنا ہے کہ این اے 125 پر مریم نواز کے نہ ا?نے پر میرا حق ہے، مریم نواز این اے 125 میں ہوتیں تو پھر پی پی150 میں جاتا لیکن لندن جانے سے پہلے نواز شریف اور مریم نواز سے میری بات طے ہوچکی تھی۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت این اے 125 میں پرویز ملک کو ٹکٹ دینا چاہتی ہے لیکن حلقہ این اے 125 سے پرویز ملک بھی امیدوار ہیں اور وہ صوبائی حلقے پی پی 150 پر بھی بلال یاسین کے ساتھ الیکشن کے لیے تیار نہیں۔

لاہور میں سب سے زیادہ ارائیں الیکشن لڑرہے ہیں

لاہور (نمائندہ خصوصی)الیکشن 2018میں تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے اپنے اپنے امیدوار نامزد کئے ان میں زیادہ تر تعداد ارائیں برادری کی ہیں کشمیری ،سید، قریشی ، راجپوت،بٹ، کھوکھر اور جٹ برادری کو اولیت دی گئی ہے جبکہ مرزا، رانا،ملک، شیخ اور دیگر برادریوں کو سیاسی جماعتوں نے پارٹی ٹکٹوں سے نوازا ہے جبکہ حلقہ این اے 134اور135میںتحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) نے کھوکھر برادری کو ٹکٹ جاری کیے ہیں تحریک انصاف نے ملک کرامت علی کھوکھر اور ملک ظہیر عباس کھوکھر اور مسلم لیگ(ن) کی طرف سے افضل کھوکھراور سیف الملوک کھوکھر الیکشن لڑ رہے ہین یہ آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں اور سال ہا سال سے ان حلقوں سے یہ کامیاب ہوتے چلے آرہے ہیں

الیکشن میں دھاندلی کی تیاریاں : ایاز صادق ، سرکاری فنڈز استعمال کرنیوالے بوکھلا گئے : علیم خان

اسلام آباد( آن لائن‘ این این آئی) مسلم لیگ ن کو اپنے سب سے بڑے گڑھ لاہور میں عام انتخابات کے انعقاد سے قبل ہی دھاندلی نظر آنے لگ گئی اور انہوں نے انتخابی مہم چلانے کی بجائے انتخابی عملے پر ہی اعتراضات اٹھانا شروع کر دیئے ہیں ن لیگ کے سینئر رہنماءاور سپیکر سردار ایاز صادق نے اپنے حلقے کے ریٹرننگ آفیسر کو جانبدار قرار دیتے ہوئے ان کی تبدیلی کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ ریٹرننگ آفیسر ان کے سیاسی حریف علیم خان کی کھلم کھلا حمایت کر رہے ہیں اور وہ ان کی موجودگی میں انتخابی نتائج تسلیم نہیں کرینگے جبکہ علیم خان کا کہنا ہے کہ ایاز صادق کو ابھی صرف ایک عید ملن پارٹی نظر آئی ہے اور وہ بوکھلا گئے ہیں اب انھیں ریلوے کے فنڈز نہیں ملیں گے۔ ذرائع کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھی قبل از انتخابات دھاندلی کے الزامات لگا دئیے ہیں سپیکر کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ر سردار رضا کو ایک خط لکھا گیا ہے جس کی کاپی آن لائن نے بھی حاصل کر لی ہے چار صفحات کے اس خط میں انہوں نے لاہور کے حلقہ این اے 129 کے ریٹرننگ افیسر غلام مرتضیٰ اپل کے خلاف شکایات کے انبار لگا دئیے اور کہا کہ ریٹرننگ افیسر مکمل طور پر جانبدار اور میرے سیاسی مخالف علیم خان کو سپورٹ کر رہے ہیںمجھے ذاتی طور پر کاغزات کی جانچ پڑتال کے لیے بلایا گیا جبکہ علیم خان کو استثنیٰ دے دیا گیا۔ہمارے احتجاج پر انھیں انیس جون کو بلایا گیا اور علیم۔خان کے پیش ہونے پر ریٹرننگ افیسر نے کہا کہ اپ کیو ںآئے اپ جائیں اپنی مہم چلائیں۔اپ کے کاغزات منظور ہو چکے ہین جبکہ مجھ سے انتہائی توہین امیز سوالات کیے گئے جن کا کاغزات کی جانچ پڑتال سے تعلق نہ تھا۔میرے غیر ملکی دوروں کی تفصیلات اور ترقیاتی کام بارے غیر ضروری سوالات کیے گئے ایک موقع پر ریٹرننگ افیسر نے مجھے کہا کہ اھر پڑھے لکھے لوگوں کا یہ حال ہے تو کیا ہوگا جبکہ میرے ذاتی طور پر پیش نہ ہونے پر میرے وکیل کے ذریعے پیغام دیا گیا کہ اگر پیش نہیں ہونا تو پھر حلقہ این اے 133 سے الیکشن لڑیں جبکہ علیم خان کے کاغذات ہمارے اعتراضات کا جواب دینے سے پہلے ہی قبول کرنے کا اعلان کر دیا اور علیم خان نے ہمارے اعتراضات کے جو جواب دیئے اس کی کاپی بھی ہمیں نہ دی گئی اس لئے انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ ریٹرننگ افیسر غلام مرتضیٰ اپل کو تبدیل کیا جائے۔اگر یہ ریٹرننگ افیسر برقرار رہے تو یہ قبل از انتخابات دھاندلی ہوگیاس صورت حال میں ہم بطور احتجاج الیکشن میں حصہ لیں گے تاہم واضح کیا کہ اس ریٹرننگ افیسر کی طرف سے اعلان کردہ انتخابی نتائج کو تسلیم۔نہیں کیا جائے گا۔سپیکر کے خط پر اپنے رد عمل میں علیم خان نے اپنے ایک اڈیو پیغام میں کہا کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ابھی تو انہوں نے صرف ایک عید ملن پارٹی دی ہے تو ایاز صادق کا یہ حال ہوگیا ہے وہ یاد رکھیں کہ یہ سال 2015 ہے ناں ہی نواز شریف وزیرا عظم ہے اور نہ ہی انھیں اب اس حلقے کے لئے ترقیاتی فنڈز ریلوے کی جانب سے ملیں گے اس لیے وہ قبل از انتخاب دھاندلی کے الزامات لگانے سے قبل انتخابی میدان میں مقابلے کی تیاری کریں۔

لہجے میں سختی نہ الزامات کی بوچھاڑ ، چوہدری نثار واپسی کیلئے تیار

لاہور (خصوصی رپورٹ) مسلم لیگ ن سے اصولی اختلاف کی بنا پر انتخابات میں آزاد حیثیت سے میدان میں کودنے والے چودھری نثار علی خان نے اپنی پریس کانفرنس میں ایک مرتبہ پھر اس موقف کو دہرایا ہے کہ پارٹی سے اختلاف کیا تھا بغاوت نہیں اور مسلم لیگ ن کو نقصان پہنچانے کا تصور نہیں کر سکتا چوہدری نثار علی خان کے اس بیان نے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ ن کے اندر اس لابی کو پریشان کر دیا ہے جو ان سے متعلق ہر ایشو پر جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کر کے قیادت کو ان سے دور کرتی رہی ، دیکھنا یہ ہو گا کہ ن لیگ کی حکمت عملی کے خلاف دو ٹوک موقف اختیار کرنے والے چودھری نثار دفاعی محاذ پر کیوں آ گئے کیا اب بھی جماعت یا اسکی لیڈر شپ میں ان کیلئے کوئی نرم گوشہ موجود ہے اور مستقبل میں چودھری نثار اور مسلم لیگ ن کے درمیان اختلافات کا کوئی مثبت حل نکل سکتا ہے جہاں تک پریس کانفرنس کے انعقاد کا سوال ہے تو اسکی تیاری چند روز سے ان ریمارکس کے حوالے سے کر رہے تھے جو ان سے منسوب کر کے بریکنگ نیوز کے طور پر چلوائے گئے تھے اور مسلم لیگ ن کے اندر چودھری نثار مخالف گروپ نے اس پر اپنا رد عمل بھی ظاہر کر دیا تھا ۔ چوہدری نثار علی خان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیں وہ مشکل آدمی ضرور ہیں اور مسلم لیگ ن کے اندر رہتے ہوئے اپنے خیالات اور تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں لیکن ان سے یہ توقع رکھنا کہ مخالفت میں ذاتیات پر اتر آئیں گے یا اپنے سیاسی نظریہ سے بیوفائی کریں گے تو ایسا ممکن نہیں ہو گا اور اس وجہ سے مسلم لیگ ن سے فاصلے بن جانے کے باوجود جمعتہ الوداع کے موقع پر پارلیمنٹ کی جامعہ مسجد میں انہوں نے خصوصی طور پر بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کیلئے دعا بھی کروائی جس پر وہاں موجود لوگ حسرت کا اظہار کرتے نظر آئے ۔

مون سون انتظامات کیلئے 17 رکنی کابینہ سب کمیٹی قائم

لاہور(خبر نگار)حکومت پنجاب نے فوری طور پروزیربلدیات ظفرمحمود کی سربراہی میں 17رکنی کیبنٹ سب کمیٹی برائے فلڈ قائم کر دی جو مون سون بارشوں کے دوران کسی بھی قسم کے انتظامات بارے منصوبہ بندی اور دیگر انتظامات پر عمل در آمد کو یقینی بنائے گی کیبنٹ سب کمیٹی برائے فلڈ کے قیام کا باقاعدہ نو ٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق وزیر بلدیات کمیٹی کے چئیر مین،چیف سیکر ٹری وائس چئیر مین اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے سیکر ٹری ہونگے جبکہ ممبرز میں سینئر ممبر بورڈ آف ریو نیو،ایڈیشنل چیف سیکر ٹری ہوم، آٓئی جی پولیس، سیکر ٹری اریگیشن، سیکر ٹری زراعت،سیکر ٹری انفر میشن و کلچر، سیکر ٹری ایس ایچ اینڈ ایچ ای، سیکر ٹری ا یس ایچ اینڈ پی، سیکر ٹری ایل اینڈ ڈی ڈی، سیکر ٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ،ڈائریکٹر سول ڈیفنس، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122، نمائندہ ہیڈ کوارٹر 4 کارپس انجنئیر، کمیٹی کی طرف سے کوئی بھی عوام کی طرف سے نامزد کردہ نمائندہ ہونگے۔کیبنٹ سب کمیٹی برائے فلڈ کا پہلا اجلاس ہفتہ کے دوران منعقد ہو گا۔
کمیٹی قائم

میانی صاحب قبرستان: 100 احاطوں کی مسماری کیلئے 30 جون تک ڈیڈ لائن دیدی گئی

لاہور (کورٹ رپورٹر) ہائیکورٹ نے میانی صاحب قبرستان کی اراضی پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت پر100احاطوں کی مسماری کے لیے 30جون تک ڈیڈ لائن دیدی۔ مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی کے حکم پر مئیر لاہور عدالت میں پیش ہوئے، دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دئیے کہ مئیر صاحب جو کام آپکے کرنے والا تھا وہ عدالت نے کیا، عدالت نے مئیر لاہور کو فوری طور پر میانی صاحب قبرستان پہنچنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ مئیر صاحب جائیں اور جاکر دیکھیں کتنے احاطے اب تک مسمار کردئیے گئے ہیں، جسٹس علی باقر قریشی نے ریمارکس دئیے کہ مئیر صاحب آپ بازاروں کے چکر کے علاو¿ہ کوئی اور کام بھی کرلیا کریں، تمام احاطے غیر قانونی طور پر سابق ڈی سی نے الاٹ کیے ہیں، عدالت نے مزید ریمارکس دئیے کہ قبرستان میں ایک بھی احاطہ نہیں چھوڑیں گے۔ میانی صاحب قبرستان کے کیس کی سماعت کے دوران ہی جسٹس علی باقر قریشی نے ریمارکس دئیے کہ میں لاہور کو صاف ستھرا دیکھنا چاہتا ہوں، کل سے تجاوزات کے خلاف آپریشن کریں اور جتنی پولیس چاہیے وہ بتادیں، عدالت نے مئیر لاہور کو حکم دیا کہ لاہور سے تجاوزات کا مکمل خاتمہ کردیں، اور آپریشن کا آغاز مال روڈ سے کر دیں، ہال روڈ، بیڈن روڈ سے بھی تجاوزات کا خاتمہ ہونا چاہیے، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ مئیر صاحب فوج ظفر موج آپکے ساتھ لیکن کارکردگی کچھ نہیں؟ عدالت آپکے ساتھ ہے بلاخوف کاروائی کریں، جسٹس علی باقر قریشی کا کہنا تھاکہ اگر تجاوزات کا خاتمہ نہ ہوا تو سخت ایکشن ہوگا، مئیر لاہور نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میں کل غیر ملکی 7روزہ دورہ پر جارہا ہوں، میری غیر موجودگی میں چیف آفیسر آپریشن کی نگرانی کریں گے جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ مجھے تجاوزات کا خاتمہ نظر آناچاہیے۔

خبریں کی خبر پر ایکشن ، نیب کی کروڑوں کے گھپلے پر کاروائی

بہاولنگر (ملک مقبول احمد سے) بہاولنگر خبریں کی خبر پر ایکشن نیب ملتان نے تین ماہ انکوائری کرنے کے بعد اکاﺅنٹ آفس بہاولنگر کے بارہ سینئر افسران کو اپنی حراست میں لے کر کاروائی شروع کر دی جب کہ ان سے 19 کروڑ روپے کے محکمہ تعلیم کے بوگس بل کے انکشافات سامنے آ گئے جب کہ اکاﺅنٹ آفس کے افسران کی ملی بھگت سے محکمہ ایجوکیشن کے ریٹائرڈ ملازمین اور بوگس بھرتیوںاور بوگس بل کی مد میں 19کروڑ روپے کے انکشافات خبریں انسپکشن ٹیم نے کیے تھے جس پر نیب نے نوٹس لیتے ہوئے اکاﺅنٹ آفس بہاولنگر کے خلاف انکوائری شروع کر دی تھی آج خبریں انسپکشن ٹیم کی خبر سچی ثابت ہوئی تین ماہ انکوائری کے بعد نیب ملتان نے اکاﺅنٹ آفس بہاولنگر کے جاوید اخترگل سینئر ایڈیٹر اور ایڈیٹر مقصود ،عبدالستار فاروقی اسسٹنٹ اکاﺅنٹ افسر ،اظہر سیال اسسٹنٹ اکاﺅنٹ افسر ، اور محمد یسین سمیت اکاﺅنٹ آفس بہاولنگر کے بارہ سینئر افسران کو نیب ملتان نے گرفتار کر کے کاروائی شروع کر دی ان سے ایجوکیشن بہاولنگر کے 19کروڑروپے کے بل کی مد میں کرپشن کے انکشافات سامنے آ گئے تفصیلات کے مطابق محکمہ ایجوکیشن اور اکاﺅنٹ آفس بہاولنگر کے سینئرافسران کی ملی بھگت سے جعلی اور بوگس بل کروڑوں روپے کی مد میں پاس کیے گئے جس کی خبر روز نامہ خبریں نے شائع کی کہ 19کروڑ روپے کے قریب بوگس بل پاس کیے گئے ہیں تو اکاﺅنٹ آفس بہاولنگر اور محکمہ تعلیم کے اعلی افسران کی رات کی نیندیں اڑ گئی تھی خبریں انسپکشن ٹیم کے انکشافات کے بعد اس کروڑوں روپے کی کرپشن کا نیب نے فوری طور پر خبریں کی خبر پر ایکشن لے کر انکوائری شروع کر دی تھی تین ماہ نیب ملتان نے انکوائری کرنے کے بعد آج مورخہ 22جون کو اکاﺅنٹ آفس بہاولنگر کے بارہ سینئر افسران کو گرفتار کر کے کاروائی شروع کردی ہے۔

سابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ کے شوہر کے بھارت میں بینک اکاﺅنٹس کا انکشاف

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی سابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ کے اثاثوں کی تفصیلات بھی منظر عام پر آگئی ہیں جن میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کے شوہر کے بھارت میں 2 بینک اکاﺅنٹس ہیں اور انہوں نے 30 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ حافظ آباد سے تعلق رکھنے والی سابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے اپنے کاغذات نامزدگی میں 33 ایکڑ اراضی والد جبکہ 24 ایکڑ اراضی والدہ کی طرف سے ظاہرکی ہے۔ سائرہ افضل نے2015اور2016کے دوران زرعی آمدن محض 3 لاکھ روپے ظاہرکی جبکہ 2017میں اس 57 ایکڑ اراضی سے ساڑھے 3 لاکھ روپے آمدن ظاہر کی ہے۔ سابق وزیر صحت نے 2015 میں14لاکھ روپے کی آمدن ظاہر کی جس پر 1 لاکھ 62 ہزار روپے کا ٹیکس دیا جبکہ 2016 میں 15 لاکھ روپے کی آمدن پر محض 80 ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔ سائرہ افضل تارڑ نے اپنے کاغذات نامزدگی میں 60تولے زیورات اور21لاکھ روپے نقدی بھی ظاہرکی ہے جبکہ انہوں نے اپنے 2 بینک اکانٹس میں 15 لاکھ روپے کا بیلنس ظاہرکیا ہے۔ انہوں نے ٹیکس گوشواروں میں اپنے شوہر عرفان تارڑ کے بھارت میں2بینک اکاوئنٹس بھی ظاہرکیے لیکن کاغذات نامزدگی میں ان بینک اکاﺅنٹس کا ذکر نہیں کیا، سائرہ افضل کے شوہر عرفان تارڑ نے 30لاکھ روپے کی سرمایہ کاری بھی کی ہے۔

پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل ہونے سے بچانے کیلئے نگران حکومت نے سر جوڑ لیے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل ہونے سے بچانے کے بعد نگران حکومت نے سر جوڑ لیے۔ نجی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے پاکستان کی تیاریوں کے مدنظر وزیر اعظم ہاﺅس میں اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعظم کو گرے لسٹ کے معاملے پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ گرے لسٹ کے معاملہ پر ایف اے ٹی ایف کا 6 روزہ اجلاس 24 سے شروع ہو گا اور اس میں ایف اے ٹی ایف پاکستان کے اقدامات کی روشنی میں گرے لسٹ کا فیصلہ کرے گا۔

کلثوم نواز کی صورتحال….؟سانس مصنوعی مشینوں کے ذریعے بحال رکھی گئی ہے فاروق ملک بنگش کا دعویٰ ‘بات 95 فیصد درست لگتی ہے :بیوروچیف خبریں لندن

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ضیاشاہد کے ساتھ پروگرام میں خبریں کے لندن میں بیورو چیف وجاہت علی خان سے وہاں کے ایک شہری فاروق ملک بنگش کے بیگم کلثوم نواز کے حوالے سے دعوے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں کہا کہ یہ دعویٰ پچانوے فیصد درست معلوم ہوتا ہے۔ مسٹر بنگش نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ لندن کے کلینک کے تمام دروازے بند ہیں اور کسی ملاقاتی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تاہم وہ ایک معروف برطانوی سرجن ایلامشی کے ساتھ اندر جانے میں کامیاب ہو گئے جہاں بیگم کلثوم نواز کیبن نمبر 3 میں کئی ہفتے سے موجود ہیں۔ باہر لگی نیم پلیٹ کے مطابق ان کی نرس مس اندریتا انگی ہیں جو بلغاروی نژاد برطانوی ہیں‘ جس کے بعد میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ محترمہ کلثوم نواز کا تنفس مصنوعی مشینوں کے ذریعے ہی بحال رکھا گیا ہے۔ مسٹر بنگش نے بات کرنے کے لیے ایک فون نمبر بھی دیا ہے تاہم خبریں کے بیوروچیف نے اس نمبر پر رابطے کی کوشش کی‘ مسلسل کوشش کے باوجود انہیں کامیابی نہ ہوئی کیونکہ بند تھا اور اس پر ٹیپ لگی ہوئی تھی تاہم بیوروچیف کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ مسٹر بنگش کی اس حوالے سے رائے پچانوے فیصد درست ہے۔ انہوں نے کہا کلثوم نواز کے بارے میں ابہام کی سب سے زیادہ قصور وار خود شریف فیملی ہے۔ واضح رہے مریم نواز بار بار کہہ چکی ہیں کہ ہم آوازیں دے رہے ہیں مگر امی بول ہی نہیں رہیں۔
مصنوعی سانس