اسلام آباد(ویب ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے عام انتخابات میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کا کہنا ہے کہ عام انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن سے مکمل تعاون کیا جائے گا اور قومی فریضہ مکمل ذمہ داری سے سرانجام دیں گے۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کی زیرصدارت 211ویں کورکمانڈرزکانفرنس ہوئی جس میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کاجائزہ لینے کے ساتھ ساتھ دیر پا امن کے لئے مثبت کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق ہوااور آپریشن ردالفساد میں پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ صاف و شفاف انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کی ضروری معاونت کی جائیگی جس کے لئے آرمی چیف نے عام انتخابات میں پاک فوج کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن سے مکمل تعاون کیا جائے گا اور قومی فریضہ مکمل ذمہ داری سے سرانجام دیا جائے گا،قومی انتخابات کی اہم ذمے داری نبھانے کےساتھ ساتھ سیکیورٹی معاملات پرفوکس رکھاجائے گا۔
Monthly Archives: June 2018
ڈیم پاکستان کی بقاء کیلئے ضروری ہیں، قربانی دینا ہوگی: چیف جسٹس
اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان نے کالاباغ ڈیم سےمتعلق کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ ڈیم پاکستان کی بقاءکے لیے ضروری ہیں جس کے لیے قربانی دینا ہوگی۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر سےمتعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ تمام صوبوں نے کالا باغ ڈیم پر اتفاق کیا تھا۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کالا باغ ڈیم کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے، شمس الملک اور اعتزاز احسن کو معاونت کا کہا ہے۔
ملک ریاض 5ارب روپے اور جائیداد کے کاغذ جمع کرائیں: سپریم کورٹ
اسلام آباد (نیوز رپورٹر) عدالت عظمی میں بحریہ ٹاﺅن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ملک ریاض کو دو ہفتوں میں پانچ ارب روپے اور ذاتی جائیداد کے کاغذات بطور ضمانت عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے سماعت کے موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار اور بحریہ ٹاﺅن کے سربراہ ملک ریاض کے مابین مکالمہ کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ملک صاحب اپنی آخرت سنواریں۔ ملک ریاض نے کہا کہ اللہ کی قسم کبھی رشوت نہیں لی چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی سماعت کے دوران ملک ریاض نے عدالت کو بتایا کہ عدالت بحریہ ٹاﺅن نے پاکستان میں تیسری دنیا کو پہلی دنیا بنایا۔ بحریہ ٹاﺅن میں 24گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے دنیا کی تیسری بڑی مسجد تعلیمی ادارے، اولڈ ایج ہوم، تفریحی مقامات اور بین الاقوامی معیار کے ہسپتال بنانے عدالت ایسا فیصلہ نہ دے جس سے ملازمین متاثرہوں۔ نیب تخت پڑی مقدمہ کلیئر قرار دے چکا ہے ملک ریاض نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کیس کے فیصلے تک نیب کو کارروائی سے روکے چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ قبضوں اور رشوت سے خیرات کے کام نہیں ہوتے آپ اپنی آخرت سنواریں جس پر ملک ریاض نے کہا کہ طاقتور صرف اللہ کی ذات ہے۔ عدالت نے ملک ریاض کی جائیداد قرق کرنے کی بات کی تو ملک ریاض نے کہا کہ میری کوئی جائیداد نہیں جس گھر میں رہتا ہوں وہ بیوی کے نام ہے۔ عدالت نے ملک ریاض کو دو ہفتوں میں پانچ ارب روپے اور ذاتی جائیداد کے کاغذات بطور ضمانت عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ملک ریاض کو کیس میں اپنی تجاویز او ربیان حلفی کے ہمراہ آج عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے۔
ٹیکس فری بجٹ ، تنخواہوں ، پنشن میں 10 فیصد اضافہ
لاہور (پ ر) نگران وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔وزےراعلیٰ آفس مےں منعقدہ اجلاس میں نئے مالی سال 2018-19 کے4 ماہ کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔اجلاس کے دوران سرکاری ملازمےن کی تنخواہوں مےں10فےصد اضافے کی تجوےزکو منظور کےاگےا اور ہاو¿س رےنٹ مےں نظر ثانی کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس مےں رےٹائرڈ سرکاری ملازمےن کی پنشن مےں بھی 10فےصد اضافے کی منظوری دی گئی۔ نگران کابےنہ نے نئے مالی سال 2018-19کے 4ماہ کے ترقےاتی بجٹ کی بھی منظور ی دی۔ اجلاس مےں نئے مالی سال 2018-19 کے 4 ماہ کے جاریہ اخراجات کے تخمےنہ جات کی منظوری دی گئی۔نگران وزےراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت نے نئے مالی سال برائے 2018-19کیلئے 4 ماہ کا بجٹ پیش کیا ہے اور ہم نے آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر بجٹ پیش کیا ہے۔ہم نے اپنے محدود مینڈیٹ اور آئینی ذمہ داری کے اندر رہتے ہوئے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔تعلےم،صحت ،زراعت اورسماجی شعبوں کےلئے فنڈز مےں اضافہ کےاگےاہے ۔ ہم نے اپنے مےنڈےٹ مےںرہ کر صوبے کے عوام کی خدمت کرنی ہے ۔ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا کہ تمام فےصلے کابےنہ کی مشاورت سے کےے جارہے ہےںاورآج اتفاق رائے سے بجٹ منظور کےاگےا۔اجلاس مےں پنجاب رےونےواتھارٹی کی کا رکردگی کو سراہا گےا۔قبل ازےں سےکرٹری خزانہ نے نئے مالی سال کے بجٹ کے اہم خدوخال کے حوالے سے برےفنگ دی ۔اجلاس مےں صوبائی وزراء،چےف سےکرٹری ،انسپکٹر جنرل پولےس اوراعلی حکام نے شرکت کی۔علاوہ ازیں صوبہ پنجاب کے پہلے چار ماہ کے بجٹ کے جاری اخراجات کے لئے 693ارب 70کروڑ روپے کا تخمینہ پیش کیا گیا۔ بجٹ میں تعلیم اور صحت کی مد میں 30فیصد اضافہ۔ تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے بجٹ میں مجموعی طور پر27.6فی صد اضافہ، پنشن کی ادائیگی کے لئے مجموعی طور پر 31.5فیصد اضافہ، پی ایف سی ایوارڈ کے لئے 26.8فیصد اضافہ اور سروس ڈلیوری کے اخراجات کے لئے 36.7فیصد اضافے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔ بجٹ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سکول ایجوکیشن کے لئے 322.354، محکمہ داخلہ کے لئے 137.54، پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کے لئے 143.21، سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے لئے 105.785، لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ کے لئے 106.966، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے لئے 43.622، فوڈ کے لئے 39.947، ہائیرایجوکیشن کے لئے 33.771، فنانس کے لئے 258.745 جبکہ دیگر متفرق اخراجات کے لئے 173.330 ارب روپے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر سکول ایجوکیشن کے بجٹ میں 26.4فیصد، محکمہ داخلہ کے بجٹ میں 18.5فیصد، پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے بجٹ میں 25.1فیصد، سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے بجٹ میں 30.4فیصد، لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ کے بجٹ میں 105 فیصد، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے بجٹ میں 31.8فیصد، فوڈ کے بجٹ میں 108.3فیصد، ہائیرایجوکیشن کے بجٹ میں 22.4فیصد، فنانس کے بجٹ میں 26.4فیصد، دیگر متفرق مدات میں 17.9فیصد، جبکہ مجموعی طور پر اخراجات میں 29.9فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔بجٹ اجلاس میں نگران کابینہ نے سفارشات اور تجاویز پیش کرنے کے بعد اتفاق رائے سے بجٹ منظور کر لیا۔
کراچی کی سیاست میں الطاف حسین کا کتنا اثر بچا ہے ؟
کراچی کی انتخابی سیاست پر گذشتہ تین دہائیوں سے راج کرنے والی شخصیت الطاف حسین ویسے تو 1978 سے اردو بولنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن 15 اپریل 1985 کو ایک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں ایک طالبہ بشریٰ زیدی کی موت سے اُن کا سیاسی جنم ہوا۔اِس حادثے کے بعد جو فسادات ہوئے اِس نے کراچی کو بدل کر رکھ دیا۔ شہر کے لوگ لسانی بنیادوں پر اپنے اپنے محلوں میں دبک کر رہ گئے۔ اردو بولنے والوں کو الطاف حسین ایک مسیحا کے طور پر نظر آئے اور وہ اُن کی شخصیت سے مسحور ہوتے گئے۔پاکستان میں انتخابات 2018 پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریجعقیدت مندوں کو کروٹن کے پتوں پر الطاف حسین کی شکل نظر آنے لگی۔ انہیں پیر کا درجہ دیا جانے لگا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ پیر صاحب نہ کہنے پر لوگوں کے گال طمانچوں سے سرخ کر دیے جاتے تھے۔ لاکھوں کا مجمع ایک اشارے پر خاموش ہو جاتا تھا۔
پاکستان کیخلاف سازش بے نقاب ، سوئٹزرلینڈ ، پشتون موومنٹ کے مظاہرے ، بھارتی اور افغانی جھنڈے لہراتے پکڑے گئے
جنیوا(آئی این پی)بھارت اور افغانستان کی پاکستان کے اندرونی معاملات کی ایک اور سازش سے پردہ اٹھ گےا،سوئٹرزلینڈ میں پشتون تحفظ موومنٹ کے مظاہرے میں بھارتی اور افغان جھنڈے لہراتے پکڑے گئے،پشتون تحفظ موومنٹ کو بیرونی آقاﺅں کی مکمل آشیر باد حاصل ہے، بھارت اور افغانستان پاکستان دشمنی اور زہر افشانی میں مکمل طور پر شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بھارت اورافغانستان کی پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی ایک اور سازش بے نقاب ہوگئی، سوئٹرزلینڈ میں پشتون تحفظ موومنٹ کے مظاہرے میں بھارتی اور افغان جھنڈے لہراتے رہے۔جنیوا میں احتجاج کے دوران ثابت ہوگیا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کو فنڈ کرنے میں بھارت اور افغانستان پیش پیش ہیں۔ بھارت کی مدد سے چلنے والی ملک دشمن تنظمیں بھی مظاہرے میں شریک ہوئیں۔ یہ اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ پی ٹی ایم کو اس کے وہ بیرونی آقا چلارہے ہیں اورپاکستان کیخلاف زہرافشانی میں سرگرم عمل ہیں۔
قوم کا پیسہ واپس کریں ورنہ مقدمات کیلئے کیلئے تیار ہو جائیں : چیف جسٹس
اسلام آباد (این این آئی‘ آئی این پی) سپریم کورٹ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اگر قوم کے پیسے واپس نہ لا سکے تو کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ منگل کو چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قرضہ معافی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم قرض معافی سے متعلق تمام 222 مقدمات بینکنگ کورٹس کو بھجوا دیتے ہیں، بینکنگ کورٹس خود جائزہ لیں گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم خود کوئی مارک اپ طے کریں ¾تمام فریقین کو ایک موقع فراہم کرتے ہیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ قرض معاف کرانے والے 25 فیصد پرنسپل رقم ادا کریں ¾یہ پیشکش قبول نہ کرنے والوں کے مقدمات بینکنگ کورٹس بھجوا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بینکنگ کورٹس کو 6 ہفتوں میں مقدمات کا فیصلہ کرنے کی ہدایت دیں گے ¾اس کے علاوہ 25 فیصد قرض معافی کی رقم سپریم کورٹ کا اکاو¿نٹ کھول کر 3 ماہ میں جمع کرانے کا حکم دیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قرض معاف والی رقوم صوابدیدی فنڈز میں نہیں جانیں دیں گے، بریف کیس میں ڈال کر کیش کی صورت میں یہاں لے آئیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس قوم نے بڑے قرض اتارنے ہیں ¾ہم نے قوم کے پیسے واپس لانے ہیں، خود نمائی مقصد نہیں ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس سے متعلق سماعت (آج) 27 جون بدھ تک ملتوی کردی۔خیال رہے کہ اس سے قبل سماعت میں چیف جسٹس نے 222 کمپنیوں سے ایک ہفتے میں تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے تھے کہ اگر قوم کے پیسے واپس نہ کیے تو معاملہ قومی احتساب بیورو کے حوالے کردیں گے اور قرض نادہندگان کی جائیدادیں بھی ضبط کرلی جائیں گی ¾اس سے قبل گزشتہ سماعت میں عدالت نے تمام کمپنیوں کو عدالت میں پیشی کے لیے نوٹس جاری کیے تھے ¾یاد رہے کہ جسٹس (ر) جمشید کمیشن نے خلاف ضابطہ قرضے معاف کرانے والی 222 کمپنیوں کے خلاف مزید کارروائی کی سفارش کی تھی۔ کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 222 کمپنیوں نے 18 اعشاریہ 717 ارب کا قرضہ لیا اور قرضے کی رقم کا 8 اعشاریہ 949 ارب روپے واپس کیے ¾رپورٹ کے مطابق 222 کمپنیوں کی جانب اس وقت 11 اعشاریہ 769 ارب روپے کا قرض واجب الادا ہے ¾اس کے علاوہ ان کمپنیوں پر بینک سود کی مد میں 23 اعشاریہ 572 ارب روپے بھی واجب الادا ہیں۔ کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر 620 قرضہ معافی کے مقدمات میں 84 ارب روپے معاف کیے گئے، 222 کمپنیوں کے 35 ارب روپے کے قرض سرکلر نمبر 2002/29 کے تحت معاف ہوئے۔
نواز سنز کے بعد شہباز سن ان لاءبھی قانون کی نظر میں لایا جائے گا؟
لاہور(ویب ڈیسک ) قومی احتساب بیورو (نیب) نے شہباز شریف کے داماد علی عمران کو بھی انٹرپول کے ذریعے گرفتار کروا کے وطن لانے کا فیصلہ کرلیا۔ فواد حسن فواد کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کی سفارش کردی گئی،پنجاب حکومت کے سیکریٹریز علی جان اور نجم شاہ کے نام بھی ای سی ایل پر ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق سابق اورنا اہل قرار دیے گئے وزیر اعطم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کیخلاف نیب میں جاری کیسز آخری مراحل میں داخل ہو گئے ہیں۔نیب کی جانب سے جو کیسز دائر کیے گئے وہ نواز شریف، مریم نواز، حسن نواز، حسین نواز اور اسحاق ڈار کیخلاف ہیں۔ ان کیسز کو گزشتہ برس نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر کھولا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے حکم دیا گیا تھا شریف خاندان کیخلاف چلائے جانے والے نیب کیسز کو 6 ماہ کے اندر نمٹایا جائے۔ تاہم بعد ازاں قانونی پیچیدگیوں اور احتساب عدالت کی درخواست پر سپریم کورٹ کیسز کی مدت میں ایک سے زائد مرتبہ اضافہ کر چکی ہے۔اس دوران نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز مسلسل احتساب عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اس دوران ایک مرتبہ بھی نہ پاکستان آئے، نہ ہی انہوں نے احتساب عدالت میں ایک مرتبہ بھی پیش ہونے کی کوشش کی۔ حسن اور حسین نواز کے علاوہ اسحاق ڈار بھی نیب کیسز کے دوران لندن میں مقیم رہے ہیں۔دوسری جانب کلثوم نواز کی خراب طبیعت کے باعث اب نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی لندن جا چکے ہیں۔ نواز شریف اور مریم نواز کی جلد وطن واپسی کا امکان نہیں۔اس صورتحال گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ حسن ں واز، حسین نواز اور اسحاق ڈار کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کروا کے وطن واپس لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے داماد علی عمران کو بھی انٹرپول کے ذریعے واپس لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ شریف خاندان کے منظور نظر افسران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔فواد حسن فواد کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کی سفارش کردی گئی۔پنجاب حکومت کے سیکرٹریز علی جان اور نجم شاہ کے نام بھی ای سی ایل پر ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق نیب کے پاس انٹرپول سے براہ راست رابطے کا اختیار نہیں ہے۔نیب وزارت داخلہ کے ذریعے انٹرپول سے رابطہ کرے گی۔یاد رہے کہ شہباز شریف کے داماد علی عمران اس وقت نیب کے چنگل میں پھنس چکے ہیں۔علی عمران پر پاورکمپنی سے کروڑوں روپے ذاتی اکاو¿نٹ میں منتقل کرانے کا الزام ہے۔
عافیہ صدیقی کی واپسی ہماری ذمہ داری : عمران خان
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے الیکشن جیتنے کی حکمت عملی بنا لی ہے۔ انہوں نے کہا سروے میں پہلے ن لیگ اوپر تھی مگر اب پی ٹی آئی اوپر ہے۔ انہوں نے امریکہ کی قید میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی کو بھی اپنی ذمہ داری قرار دیا۔ ایک نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں عمران خان نے اعتراف کیا کہ پارٹی میں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے دھڑے موجود ہیں کے ہم حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم تگڑا ہو گا تو یہ دھڑے بھی ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا پی آئی اے کی نجکاری کی جائے گی اور نہ ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینگے کیونکہ اس طرح کرپشن بڑھتی ہے۔ عمران خان نے کہا ریمنڈ ڈیوس اور امریکی سفارتکار کے معاملے پر ہم نے خود اپنے قانون کا مذاق اڑایا ،پی آئی اے کی پرائیویٹائزیشن نہیں کریں گے۔ ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے ۔ فاٹا میں پی ٹی ایم کو ساتھ لیکر چلیں گے ۔ داعش سرحدوں تک پہنچ چکی ہے اگر فاٹا میں نوجوانوں کی سیٹل نہ کیا گیا تو وہا ں پھر انتشار پھیل سکتا ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں پارٹی کے اندر الیکشن کرانے کا کوئی نظام ہی نہیں ہے اسلئے میں نے پانامہ کی وجہ سے انٹرا پارٹی الیکشن ملتوی کردیئے۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف میں تقسیم ہے اور دو گروپ بن گئے ہیں لیکن یہ حکومت میں آنے بعد ختم ہو جائیں گے کیونکہ اگر وزیر اعظم تگڑا ہوتو پھرایسی چیزیں نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں شاہ محمود قریشی اور جہانگیرترین کے گروپ موجود ہیں لیکن اب ان میں تنا کم ہو رہاہے ۔سیتا وائٹ کی بیٹی کے حوالے سے سوال پر عمران خان نے کہا کہ اس مسئلے کاحل یہ ہے کہ یہ مسئلہ ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص ملک کی قیادت کرنا چاہتا ہے اس میں ایک چیز ہوتی ہے کہ وہ مالی طور پر کرپٹ ہے کہ نہیں ۔ وہ سچا ہے کہ نہیں۔جب سے میں سیاست میں آیا ہوں شریف برادران یا شوکت خانم پر حملہ کرتے ہیں یایہ میری ذاتی زندگی کو نشانہ بناتے ہیں ۔ یہ اتنا نیچے گرتے ہیں اور اب جو کتاب انہوں نے لکھوائی ہے اور افتخار چودھری کے پیچھے بھی ان کا کام ہے ۔ انہوں نے ایسا ہی بے نظیر اور نصرت بھٹو کے ساتھ بھی کیا ہے ۔ جتنا یہ نیچے گرتے ہیں اتنا یورپ میں بھی سیاستدان نیچے نہیں گرتے کہ وہ کسی کی ذاتی زندگی کو نشانہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کرپشن اس وقت ایشو بن چکا ہے ۔ ایشو یہ ہے کہ عوام اس کو ووٹ دیں جو ان کا پیسہ ان پر ایمانداری سے خرچ کرے ، یہ ہے اصل ایشو اور باقی سب نان ایشوز ہیں۔عمران خان نے کہا کہ اس ملک کی سیاست میں مقابلہ کرنے کی سب سے بہتر صلاحیت مجھ میں ہے ۔ پیپلز پارٹی اندرون سندھ میں ہے کراچی کی صورتحال اس دفعہ مختلف ہوگی ۔ ہمارا اصل مقصد ن لیگ کو ہرانا ہے اس لئے ہم باہر سے بھی امیدوار لے رہے ہیں اور سیٹ ایڈ جسٹمنٹ بھی کریں گے ۔ یہ الیکشن میں نے جیتنا ہے اور اس کو جیتنے کیلئے لئے ہم نے حکمت عملی بنائی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سروے کئے ہیں اوران کے مطابق پہلے ن لیگ اوپر تھی اور اب تحریک انصاف اوپر جارہی ہے اور مسلم لیگ ن نیچے آرہی ہے ۔ اصل چیز انتخابی مہم ہوتی ہے جن میں لوگ یہ فیصلہ کریں گے کہ ہم نے ووٹ کس کو دینا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے نیچے بہت سے زیادہ امیدوار ٹکٹ چاہتے تھے اس لئے میں نے سو چا کے پہلے سروے کرواں ورنہ سب نے کہنا تھا کہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے 95فیصد سروے درست ثابت ہوئے صرف 5فیصد جگہ پر لوگوں کی جانب سے اعتراض کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پانچ جولائی تک اپنا منشور دے دیں گے ۔ پاکستان ایک ایسا ملک بن گیا ہے جہا ں لوگ صر ف حکمرانوں کی خدمت کرنے کے لئے رہ گئے ہیں۔ عام آدمی ٹیکس کیوں دے گا جب اس کو ریاست کوئی سہولت ہی نہیں دیتی ۔ پرائیویٹ چیز یں امیر لوگوں کے لئے بن گئی ہیں اور سرکاری چیز یں غریبوں کے لئے بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امیروں کا اس ملک کی اکثریت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ 10سالوں میں ملک پر قرضہ 6ہزار ارب ڈالر سے بڑھ کر 27ہزار ارب ڈالر تک ہوچکا ہے ۔ بنگلہ دیش اور بھارت کی بر آمدات بڑھ گئی ہیں اور ہماری کم ہوگئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کا نظام بدلنے کیلئے گورننس کو بدلنا ہوگا ۔ کے پی کے میں سکولوں ، ہسپتالوں کا نظام ٹھیک کیا گیا ہے ۔ تبدیلی تب ہوتی ہے جب عام آدمی کی زندگی بہتر ہو۔ حکومت نوجوانوں کو روز گار دے ، کاروباری افراد کو سہولت دے ۔ اس وقت حکومت کی وجہ سے کسان پستا ہے اور چھوٹی انڈسٹری نہیں چل سکتی ہے ۔ پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا اثاثہ بیرون ملک پا کستانی ہیں ۔ اگر ان کے لئے ایسا ماحول بنادیا جائے کہ وہ پاکستان میں آکر کاروبار کرسکیں تو ہم بہت سے مسائل حل کر سکتے ہیں اور ملک میں بہت زیادہ پیسہ آسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف باہر سے کوڑا اٹھانے کیلئے کمپنیاں بلاتے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوںکہ کیاپاکستان میں بیروز گاری ختم ہوگئی ہے ؟ جو آپ باہر سے کمپنیاں لیکر آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے اپنی حکومت ٹھیک کرنے کی بجائے 56کمپنیاں بنا کر رکھ دیں ہیں جن کی کرپشن اب سامنے آرہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم کے پی کے میں جوڈیشری میں تبدیلی لیکر آئے ہیں جس سے ایک سال میں تمام سول کیس ختم ہو جائیں گے ۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے عمران خان کاکہنا تھا کہ یہ انسداددہشتگری کے دوران اٹھائے گئے ہم تو کے پی کے میں پولیس ٹھیک کرسکتے تھے اور ٹھیک کیا ۔ عمران خان نے کہا کہ پنجاب میں پولیس کو مخالفین کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ۔آئی بی کا کام جرائم کی بیخ کنی کرنا ہے ۔قصور جیسے واقعات کا کھوج لگانا ہے لیکن یہ اس کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی اپنی سٹیل مل تو سعودی عرب میں چلتی تھی لیکن ملک کی سٹیل مل تو ٹھیک نہیں کرسکے۔ پی آئی اے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم پی آئی اے کو پرائیویٹائز نہیں کریں گے بلکہ اس کو ٹھیک کریں گے اس حوالے سے ہم نے حکمت عملی بنالی ہے ۔ پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئر لائن مانی جاتی تھی صرف سیاست زدہ کرنے سے خراب ہوگئی ہے ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک ٹریجڈی ہے مہذب دنیا میں کوئی ایسا گھناﺅنا کیس ہوا ہی نہیں کہ ایک ماں اپنے تین بچوں کے ساتھ غائب کردی جاتی ہے ۔ مجھ عافیہ کے ماموں نے یہ بتایا تھا جس کے بعد میں نے پریس کانفرنس کی اور اس کے بعد یہ بات ختم ہوگئی ۔ اس کے بعد ایوا ن ریڈلے نے مجھ آکر بتایا بٹگرام جیل سے ایک خاتون کی چیخوں کی آواز آتی ہے ۔ اس کویہ بات تین برطانوی قیدیوں نے برطانیہ جاکر بتائی تھی جو بٹگرام جیل سے رہا ہوکر برطانیہ گئے تھے۔اس کے بعد میں نے اور ریڈلے نے مل کر پریس کانفرنس کی جس کے بعد اس کو امریکہ لے جایاگیا لیکن اس دوران پاکستان کی حکومت کا رویہ افسوسناک رہا ۔انہوں نے کہا جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو ہماری کوشش یہ ہوگی کہ صرف عافیہ صدیقی ہی نہیں بلکہ ہمارے جو شہری بیرون ملک جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں ان کی پور ی ذمہ داری لیں گے ۔ عمران خان نے کہا کہ امریکی جب دیکھتے ہیں اگلا گھٹنے ٹیکتا جارہا ہے اور آگے بڑھتے جاتے ہیں ۔ یہ ہماری کمزوری ہے جس سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ریمنڈ ڈیوس دوپاکستانیوں کو دن دیہاڑے قتل کردے اور چلاجائے ، ایک سفارتکار شراب پی کر پاکستانی کوکچل دے اور کوئی اس کو کچھ نہ کہے ہم خود اپنے قانون کا مذاق اڑاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کونسا ہے ملک جہاں ڈر ون سے اپنے ہی شہری مارے جارہے ہیں دنیا میں یہ کہیں پرنہیں ہوتا ۔ عمران خان نے کہا کہ وہ ڈرون حملہ ان پر کرتے تھے اس کا اثر پاکستان پر پڑتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بمباری کرنے کے خلاف ہوں ان میں بے قصور لوگ مارے جاتے ہیں ۔ اس کا نقصان پاکستان کوہوتا ہے ۔ لوگ بدلہ لینے کیلئے پاکستان سکیورٹی فورس پر حملہ کرتے تھے۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقے میں ترقیاتی کام کرنے چاہئے۔ اگر نوجوانوں کووہا ں سیٹل نہ کیا گیا تو پھر اس کے امکانات موجود ہیں کہ وہا ں انتشار پھیل سکتا ہے کیونکہ داعش سرحدو ں تک آچکی ہے اور آئی جی کے پی کے نے مجھے بتایا کہ انہوں نے کئی ایسے افراد کے سیل پکڑے ہیں۔ہم نے کوشش کی ہے کہ پی ٹی ایم کے ساتھ مل کر ان کے مسائل حل کریں اور ان کے امیدوار علی وزیر کے خلاف اپنا امیدوار کھڑا نہیں کریں گے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ ملیں بجائے کے ہم ان کو تنہا کردیں۔کشمیر کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ مودی کی حکومت آنے کے بعد کشمیروں پر بہت زیادہ ظلم کیاگیا ہے جس کے بعد کشمیر میں تمام طبقات بھارت کے خلاف ہوگئے ہیں اور بدقسمتی یہ ہے دنیا کشمیریوں کی آواز نہیں سنتی بھارت کی لابی بہت مضبوط ہے وہ ان کی آواز کودبا دیتی ہے جس طرح اسرائیلی لابی فلسطینیوں کی آواز کو دبا دیتی ہے ۔ مودی کی پالیسی ہے کہ پاکستان کو دہشت گرد قرار دیکر دنیا میں تنہا کردیا جائے ۔ کشمیر میں جو جدوجہد ہے بھارت اس کو دنیا کے سامنے اس طرح پیش کررہا ہے کہ یہ کشمیر ی نہیں کررہے بلکہ باہر سے کروایا جا رہا ہے ۔ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات کی وجہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے ۔اس حوالے سے ہمیں بھارت سے بات چیت بھی کرنا پڑے گی ۔ یہ کتنی دیر اور چلتا رہے گااور بھارت کتنی دیر کشمیریوںپر ظلم کرتا رہے گا ۔ زلفی بخاری کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ مجھے تو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آئی کے زلفی بخاری کا قصور کیا تھا ؟اور اس حوالے سے مجھ پر تنقید کیوں کی جارہی ہے ؟ وہ برطانیہ کا شہری ہے وہ جانے اور برطانیہ جانے ہم نے اس کو بلیک لسٹ میں کیوں ڈال دیا ہے ؟
کتاب جو پاکستانی معاشرے کو قندیل کی نظر سے دکھاتی ہے
جب میں نے یہ سنا کہ قندیل بلوچ پہ کوئی کتاب لکھ رہا ہے تو مجھے اس کتاب کو پڑھنے کی رتی برابر بھی تشنگی نہ ہوئی۔وہ اس لیے کیونکہ جولائی 2016 کے بعد سے، یعنی وہ مہینہ و سال جسکے بعد قندیل ہم میں نہ رہی، اسکی کہانی پر ہر چینل، ہر اخبار، ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پہ موجود ہر جاننے والے نے اتنا تبصرہ فرمایا کہ اب قندیل کی کہانی عبرت کی نشانی بن کے رہ گئی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ قندیل کی زندگی کی ہر چیدہ حقیقت متعدد ڈاکومنٹریوں کا مرکز بن چکی ہے۔
پی ٹی آئی کی الیکشن مہم کا آفیشل گانا فرحان سعید گائیں گے
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی انتخابی مہم بھرپور جوش و جذبے سے جاری ہے اور ایسے میں پی ٹی آئی نے گلوکار فرحان سعید کا انتخاب کرلیا ہے، جو کارکنوں اور ووٹروں کا لہو گرمانے کے لیے پارٹی کا نیا آفیشل گانا گائیں گے۔گزشتہ روز فرحان سعید نے بنی گالا میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اور الیکشن مہم 2018 کا آفیشل گانا گانے کے لیے ان پر اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
ملکہ برطانیہ کی جانب سے 3 پاکستانی نوجوانوں کیلئے ’کوئنز ینگ لیڈرز‘ ایوارڈ
لندن: ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کی جانب سے 3 پاکستانی نوجوانوں کو سماجی خدمات انجام دینے پر ’کوئنز ینگ لیڈر‘ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔گزشتہ روز شاہی محل بکنگھم پیلس میں ’کوئنز ینگ لیڈرز‘ ایوارڈ کی تقریب منعقد کی گئی، جس میں پاکستانی نوجوانوں ہارون یاسین، حسن مجتبیٰ اور ماہ نور سید کو ’کوئنز ینگ لیڈرز‘ ایوارڈ دیا گیا۔’کوئنز ینگ لیڈرز‘ ایوارڈ کی تقریب میں پاکستان سمیت مختلف ممالک کے اُن تمام نوجوانوں کو اعزاز سے نوازا گیا جو معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں۔
عالمی میڈیا بھی عمران خان کی پالیسی کا معترف ،بلین ٹری سونامی منصوبے کو پاکستان کیلئے’’سبز سونا‘‘ قرار دیدیا ،ہیرو شاہ کا حلیہ ہی تبدیل،خوبصورتی کے پوری دنیا میں چرچے
لاہور( ڈیسک )انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹ میں بلین ٹری سونامی منصوبے کو پاکستان کے لئے “سبز سونا” قرار دے دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں اکثر خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے شروع کیا جانے والا بلین ٹری سونامی منصوبہ پاکستان تحریک انصاف کے ناقدین کی زبان پر ہوتا ہے اور اسے محض جھوٹ کا پلندہ قرار دیا جاتا ہے۔تاہم انٹرنیشنل میڈیا بھی بلین ٹری منصوبے کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گیا ہے اور اس منصوبے کو پاکستان کے لیے سبز سونا قرار دیا گیا۔انٹرنیشنل میڈیا رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ تبدیلی واقعی مشکل ہے۔ہیروشاہ کے علاقے میں


















