لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا اکثر قانون دانوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف صاحب چونکہ آئین پاکستان میں لکھا ہوا ہے کہ آپ فوج اورعدلیہ پر تنقید نہیں کر سکتے اس لئے عام طور پر عدلیہ کے بارے میں تو بے نظیر بھٹو صاحب نے کہا تھا کہ کل اپنے پروگرام میں کہا چمک فیصلہ کرتی ہے۔ انہوں نے چمک کا لفظ استعمال کیا عدالتیں پیسے سے متاثر ہو جاتی ہیں۔ اور اسی طرح نواز شریف نے فوج کے لئے لفظ گھڑا ہے کہ خلائی مخلوق، یعنی خلائی مخلوق آ کر ووٹ بھی ڈلواگئی لیکن آج جو پوزیشن ہے ان کے سارے مخالفین آصف زرداری، عمران خان نے بھی یہ کہا ہے کہ یہی خلائی مخلوق جو ہے پہلے دن سے جب ضیا دور میں فیصلہ ہوا وہ تو مارشل لا کا دور تھا کہ نوازشریف کو غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں پنجاب کا وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ ضیاءالحق صاحب نے خود کہاکہ یہ میرے سیاسی وارث ہیں۔ انہوں نے کہا نواز شریف کو میری عمر لگ جائے پھر جب ان کے خلاف چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی وغیرہ نے پنجاب میں بغاوت کی تو اس پر نوازشریف نے ہی اس میٹنگ میں موجود تھا شادی کی تقریب تھی انہوں نے کہا کہ اخبار والوں کو بلاﺅ جب ہم لوگ گئے تو انہوں نے کہا کہ صبح کے اخبار میں شہ سرخی شائع ہونی چاہئے کہ جس کو لیڈر کہتے ہیں کہ نواز شریف کا کلا مضبوط ہے ضیاءالحق۔ مختلف ادوار میں ان کو حمایت حاصل رہی ہے لیکن انہوں نے پرویز مشرف کو نکالنے کی کوشش کی تھی تو پرویز مشرف کے دور میں آرمی کی قیادت ان کے خلاف ہو گئی تھی اب اس چیز کو یہ کہنا کہ زرداری صاحب ہوں یا عمران خان ہوں آج انہوں نے جوابی الزام لگایا ہے کہ یہ تو ہمیشہ سے خلائی مخلوق ان کے ساتھ رہی ہے۔کنور دلشاد صاحب ہمیں گائیڈ کریں کہ وزیراعظم کی طرف سے خلائی مخلوق کا نام لینے پر الیکشن کمیشن کا نوٹس کا کیا مطلب ہے۔ نوٹس کیسے لیا جاتا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ انہوں نے یہی بات کہی۔ الیکشن کمیشن اس سلسلے میں کیا ایکشن لے سکتا ہے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے احسن اقبال صاحب نے بھی کہا ہے کہ احسن اقبال صاحب کے خلاف بھی کیس ہو گیا ہے۔ انہوں نے بھی کہا ہے کہ خلائی مخلوق سارا کچھ کر رہی ہے۔ جناب نوازشریف صاحب نے کہا ہے کہ عمران خان کو دہشت گردی کے کیس میں جو پی ٹی وی پر دھاوا بولا گیا تھا بقول استغاثہ کے اس میں انہیں بری کر دیا گیا اس پر بھی نوازشریف صاحب نے خلائی مخلوق کا ذکر کیا ہے۔ نوازشریف صاحب کے اس سٹیٹ منٹ پر اور آصف زرداری اور عمران خان دونوں کے جوابی بیانات آئے ہیں کہ جناب اگر کوئی خلائی مخلوق تھی تو سب سے زیادہ تو مختلف ادوار میں وہ نواز شریف کی مدد کرتی رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے شاہد خاقان عباسی کے بیان کا نوٹس لیا ہے اس پر نوٹس لینے کا کیا مطلب ہوتا ہے کیا وہ اس پر ایکشن لے سکتی ہے اور خلائی مخلوق سب کچھ کر رہی ہے اس نے الیکشن جیتا اور لڑا۔ اس پرکس بنیاد پر لیکشن کمشن نے نوٹس لیا ہے اور الیکشن کمشن کی نظر میں کون سی غلطی کا ارتکاب کیا گیا ہے۔کنوردلشاد نے کہا ہے کہ اصولی طور پر شاہد خاقان عباسی صاحب نے الیکشن اتھارٹی کو چیلنج کیا ہے اور الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر حرف آیا ہے کہ ایسی خلائی مخلوق ہے وہ الیکشن کروا رہی ہے۔ گویا الیکشن کمیشن کے پیچھے خلائی مخلوق ہے۔ خلائی مخلوق کا اشارہ تو آرمی اور اسٹیبشلمنٹ کی طرف جاتا ہے۔ پہلے یہ فرشتے کہا کرتے تھے اب فرشتوں کی جگہ خلائی مخلوق پر تو وزیراعظم کا بیان جو انتہائی ناپسندیدہ بیان ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی خود مختاری کے حوالے سے کہ الیکشن کمیشن نے کچھ نہیں کرنا ا ن کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ ہے آرمی ہے۔ اس پر انہیں طلبی کا نوٹس دیا کہ آکر بتائیں کہ خلائی مخلوق سے آپ کیا مراد لیتے ہیں کون سا خلائی مخلوق کا ادارہ ہے، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ ہے۔ ہر الیکشن کمیشن کی ساکھ کو مجروع کر دیا گیا ہے اب لوگ کہیں گے الیکشن کے پیچھے تو آرمی کھڑی ہے۔ ان کو باقاعدہ تحریری نوٹس دیا گیا ہے۔ضیاشاہد آپ فرمائیں! کیا وہ اس کا جواب دیں گے یا الیکشن کمیشن میں پیش ہونا پڑتا ہے۔کنوردلشاد نے کہا کہ وہ اس کا جواب دے دیں گے۔ جواز تو نکالیں گے بہرحال وزیراعظم سے اس لیے سوال جواب کیا ہے کہ کل کو الیکشن ہوں گے اگر یہ ہار جاتے ہیں تو کہہ سکیں گے کہ ہم نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ خلائی مخلوق کروا رہی تھی۔ضیاشاہد: یہ بات تو مدت سے اور مسلسل کہی جا رہی ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کا این ا ے 120 میں جو ضمنی الیکشن ہوا تھا اس میں جو نواز شریف کی نااہلی کی وجہ سے سیٹ خالی ہوئی تھی تو اس پر بھی اگرچہ کلثوم نواز صاحبہ جیت گئی تھی لیکن اس الیکشن کمپین میں محترمہ مریم نواز صاحبہ یہ کہتی رہی ہیں کہ عجیب و غریب لباس میں رات کو لوگ آتے ہیں اور ہمارے لوگوں کو گرفتار کرتے ہیں۔ ان کا بیان بھی چھپا تھا اخبارات میں کہ کئی سو لوگ ہمارے گرفتار کیے گئے ہیں جبکہ جب الیکشن ختم ہوا تو ان کئی سو بندوں کا پتہ چلا کہ وہ کونسے لوگ تھے کس نے اس کی لسٹ بنائی تھی اور کس جرم میں گرفتار ہوئے تھے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اب شاہد خاقان عباسی کا نوٹس لینا اچھا کیا لے لیا لیکن یہ تو تواتر کے ساتھ کہی جا رہی ہے نواز کے سارے جلسے محترمہ مریم نواز صاحبہ کی گفتگو اس میں تو ہمیشہ یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ الیکشن اب شفاف نہیں ہونگے اور ایک ضمنی ا لیکشن میں یہ الزام لگایا کہ وہاں جو پراسرار مخلوق مداخلت کر رہی تھی پہلے الیکشن کمیشن نے نوٹس کیوں نہیں لیا اور اس قسم کے بیانات کو نظرانداز کرتا رہا ہے۔کنور دلشاد نے کہا ہے آپ جو بات کر رہے ہیں وہ حلقہ این ا ے120 کے حوالے سے مریم نواز صاحبہ نے جو بات کی تھی وہ انہوں نے اس لیے کہی تھی کہ 20,15 لوگ ایسے تھے جنہوں نے الیکشن والے دن گڑ بڑ کرنی تھی پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کرنا تھا جو ان کی پرانی روایت ہے۔ انہوں نے ایسے لوگ رکھے ہیں جو پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کرتے ہیں پریذائیڈنگ آفیسرز کو ہراساں کرتے ہیں اور اطلاع یہ تھی کہ رینجرز نے ان کو ہاﺅس ریسٹ کیا تھا بہرحال اس کے بعد باتیں ختم ہو گئیں انہوں نے خاموش اختیار کی تھی وہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ وہ لاءاینڈ آرڈر کی صورت حال تھی۔ اب یہاں جو پرائم منسٹر نے بات کی ہے کہا ہے کہ جی خلائی مخلوق جو انتخاب کروائے گی خلائی مخلوق ہی نگران حکومت لیکر آئے گی۔ یہ بڑا پسندیدہ بیان ہے۔ نواز شریف، مریم نواز کہتے رہے وہ انڈر پریشر ہیں۔ عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں وہ ان کی ذہنی کیفیت ہے لیکن وزیراعظم کا کہنا مناسب نہیں دنیا کو غلط پیغام گیا ہے کہ خلائی مخلوق انتخابات کروائے گی۔ ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ہم کافی دیر سے شور مشا رہے تھے کہ ورلڈ بینک میں 7 سال سے ہماری درخواست رکی ہوئی ہے کہ انہوں نے صرف ریفر کرنی ہے عالمی مصالحتی عدالت میں۔ جس میں ہم نے کلیم کیا ہوا ہے کہ جناب 1960ءمیں انڈس بین پلان کے تحت راوی اور ستلج کا زرعی پانی انڈیا کے حصے میں آیا تھا لیکن 1970ءمیں دنیا بھر میں بڑی تبدیلی آئی اور انٹرنیشنل واٹر کنونشن ہوا جس کی سفارشات جو تھیں اس کو پوری دنیا میں یو این او نے تسلیم کر لیا اور اب یہ پوری دنیا کے ہر ملک میں نافذ العمل ہے یہ معاہدہ یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی دریا دو ملکوں میں یا دو سے زیادہ ملکوں سے چلتا ہے جو دریا کا بالائی علاقہ ہے وہ زیریں حصے کا وہ مکمل پانی بہتر نہیں کر سکتا اور 1970ءکے کنونشن کے تحت یعنی انڈس بیس معاہدہ ہے کہ 10 سال بعد یہ کہا گیا کہ ماحولیات کا پانی، پینے کا پانی، آبی حیات کا پانی ہوتا ہے سبزے کےلئے ہوتا ہے جس کو آپ مکمل بند نہیں کر سکتے۔ میں نے وزیراعظم سے خود پوچھا اس کی خبریں بھی چھپتی تھیں۔ انہوں نے کہا ورلڈ بینک نے ہماری درخواست روک رکھی ہے اب وزیرآبی وسائل جاوید علی شاہ صاحب کل انکشاف کیا کہ ورلڈ بینک کا ایک وفد آیا تھا ہم نے ان سے بات کی کہ ہمیں انڈیا ماحولیات کا پانی بھی روک رکھا ہے میں نے اس پر کتاب بھی لکھی ہے کہ راوی اور ستلج کا سو فیصد پانی بھارت نے بند کیا ہوا ہے اور اب لنک کینالوں کے ذریعے اس میں جو آگے نہریں ہیں ان کا پانی چھوڑا جاتا ہے اور پورا سال دریا بند اور خشک رہتے ہیں اس کی وجہ سے زیر زمین پانی بہت نیچے چلا گیا ہے اور پانی کی کوالٹی بھی ناقص ہو گئی ہے اس پر جاوید علی شاہ نے بطور وزیر آبی وسائل کہا کہ ورلڈ بینک کا وفد آیا تھا ان سے جب ہم نے یہ گزارشات کیں تو ورلڈ بینک کے وفد نے کہا کہ ہم عنقریب انڈیا جا رہے ہیں ہم وہاں انڈین حکومت سے بات کریں گے کہ پاکستان کا یہ مطالبہ ہے کہ آپ ماحولیات کا پانی ستلج اور راوی میں چھوڑیں اس کو سو فیصد بند نہ کریں۔ سابق ایم این اے اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے اہم رکن رانا قاسم نون نے جنوبی پنجاب کے حوالے سے مسائل کو اجاگر کرنے، پسے ہوئے لوگوںکی آواز بننے پر ضیا شاہد اور ”خبریں“ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 10 سال تک حکومت کو خیال نہ آیا اب منی سیکرٹریٹ ملتان اور بہاولپور میں بنانے کی بات صرف وقت کا ضیاع ہے۔ 2010ءمیں صوبائی اسمبلی میں دو قراردادیں پاس ہوئیں۔ 2013ءالیکشن میں نعرہ لگایا کہ اقتدار میں آ کر الگ صوبہ بنائیں گے۔ 2017ءمیں 2 منی سیکٹریٹ بنانے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تاہم کسی بات پر عملدرآمد نہ کیا گیا۔ اب ان باتوں کا وقت گزر چکا ہے، جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے۔ جنوبی پنجاب کی آبادی 52 فیصد ہے اس حوالے سے تو جو وہاں حکومت کر رہے ہیں ان کو اس کا اختیار ہی حاصل نہیں ہے۔ اب فیصلہ جنوبی پنجاب کے عوام کریں گے، حکومت صرف لالی پوپ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ اب جو سیاسی پارٹی جنوبی پنجاب کے مسئلہ کو اپنے منشور میں تحریری طور پر شامل کرے گی اور ٹائم فریم دے گی ہم اس کے ساتھ ڈائیلاگ کرنے کو تیار ہوں گے۔ ہم صرف اپنے حقوق کی بات کر رہے ہیں ہمارا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ جنوبی پنجاب متحدہ محاذ بنا ہی اس لئے ہے کہ اپنا صوبہ اپنا اختیار چاہئے۔ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے وہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ کے طور پر ایڈمنسٹریٹر یونٹ بنائے۔ ہم صرف الگ صوبہ کی یقین دہانی کرانے والی سیاسی پارٹی سے بات کریں گے، یہ سب اب الیکشن کے بعد ہی ممکن ہے تاہم 5 سال پر تو چھوڑنا ہو گا 100 دن یا 6 ماہ میں طے ہو سکتا ہے۔ جنوبی پنجاب کو اگر صوبہ بنانے کا اہم موقعہ وہ تھا جب 18 ویں ترمیم کی گئی صوبوں کو اختیارات دیئے گئے۔ بھارت کے پاس ہمارے پنجاب سے آدھا رقبہ ہے اس نے وہاں 3 صوبے بنا لئے۔ یہاں کیوں کچھ نہ ہوا، جنوبی پنجاب پسماندہ ترین علاقہ ہے آج بھی انسان اور جانور ایک ہی جوہر سے پانی پی رہے ہیں۔ جاوید شاہ کے موقف سے مکمل اختلاف کرتا ہوں، دھرنوں کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیںہے۔ ہم بہاولپور، ملتان اور ڈی جی خان والے مل کر اس معاملے کو نتیجہ خیز بنائیں گے کیونکہ سینٹ میں بھی نمائندگی ہونی ہے، آبادی اور فنانشل مسائل بھی دیکھنا ہیں۔ پہلے صوبہ بن جائے تو باقی کام ہم کریں گے۔ سابق کمشنر انڈس واٹر مرزا آصف بیگ نے کہا کہ پاکستان نے ورلڈ بینک کو عالمی مصالحتی عدالت میں جانے کیلئے درخواست دے رکھی ہے تاہم ورلڈ بینک نے معاملہ کو سال سے لٹکا رکھا ہے اور کوئی منطقی رائے قائم نہیں کر پا رہا۔ ان کا وفد پاکستان آتا ہے تو کہتا ہے کہ آپ عالمی مصالحتی عدالت جانے کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں اور اس پر اصرار نہ کریں۔ ورلڈ بینک بھارت سے بات ضرور کرے گا۔ تاہم بھارت تو وہی جواب دے گا جو اس کے مفاد میں ہے۔ ہمارے آبی وزیر نے مسئلہ کو اٹھا کر مثبت پیش رفت کی ہے، مسئلہ کسی حد تک اجاگر ہوا ہے۔
Monthly Archives: May 2018
سیٹھی کو پی ایس ایل چیئرمین برقرار رکھنے پر اتفاق
لاہور(آئی این پی)پاکستان سپر لیگ کے فرنچائز مالکان نے نجم سیٹھی کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اگلے سیزن میں بھی انہیں پی ایس ایل کا سربراہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔پاکستان سپر لیگ کی انتظامیہ اور پی ایس ایل فرنچائز مالکان کے درمیان ہونیوالے اجلاس میں متفقہ طور پر نجم سیٹھی کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ ہوا کہ پی ایس ایل کی آمدنی کے حوالے سے ہونے والے فیصلوں میں فرنچائز کو بھی شامل کیا جائے جس کے بعد رائٹس اور اسپانسرشپ کے معاملات پر کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ پاکستان میں ہونے والی ٹی 10 لیگ کیلئے بھی کمیٹی بنے گی۔فرنچائز مالکان اور پی ایس ایل انتظامیہ گیم ڈوپلمنٹ پر بات چیت کیلئے ایک بار پھر ملاقات کریں گے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پی ایس ایل 4 کے ڈرافٹ اور پلیئرز ریٹین کے طریقہ کار اور پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام پر بھی بات ہوگی۔خیال رہے کہ نجم سیٹھی اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ اور پی ایل ایل کے چیئرمین کے عہدے پر فائز ہیں۔
پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان 7 مئی کو پاکستان آئیں گے
لندن (آئی این پی)پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان 7 مئی کو پاکستان آئیں گے۔ پاکستان آمد پر ان کا والہانہ استقبال کیا جائے گا، عامر خان نے کہا ہے کہ وہ 7مئی کو پاکستان آئیں گے اور ایشین گیمز کیلئے پاکستانی باکسرز کی ٹریننگ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ پاکستانی باکسرز میگا ایونٹس میں میڈلز جیتیں اور چیمپئن بن کر دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں۔عامر خان نے مزید کہا کہ عامر خان اکیڈمی اسلام آباد کے دروازے پاکستانی باکسرز کیلئے کھلے ہیں۔ وہاں پاکستانی باکسرز کیلئے تمام سہولیات موجود ہیں، انہوں نے پاکستانی باکسرز کو باکسنگ ٹپس دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ محنت کریں، بھرپور ٹریننگ کریں اور خود پر اعتماد قائم رکھیں۔، پھر کو ئی آپ کوعالمی چیمپئن بننے سے روک نہیں سکتا، واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے عامر خان نے 2 سال بعد کینیڈین باکسر فل لو گریکو کو محض 40 سیکنڈ میں شکست دے کر دنیائے باکسنگ میںہلچل مچا دی تھی۔ وہ اس مقابلے کیلئے دو سال سے تیاری کررہے تھے ۔
فیفاکا منی فٹبال ورلڈ کپ کرانے کا نیامنصوبہ
لندن(بی این پی) فیفا نے ہر 2 برس بعد نیا منی ورلڈ کپ منعقد کرانے کا منصوبہ پیش کردیا۔فیفا کے منی ورلڈ کپ کے اس نئے منصوبہ میں8 انٹرنیشنل ٹیمیں حصہ لیں گی، یہ ممکنہ طور پر گلوبل نیشنز لیگ ایونٹ کااختتام ہوسکتا ہے، ایونٹ کو ” فائنل 8 “ کا نام دیا جائے گا، یہ بھی فیفا کے انٹرنیشنل فٹبال میں اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے۔فٹبال کی عالمی تنظیم کو یقین ہے کہ وہ نئے منصوبے سے 12 سالہ سائیکل میں 25 بلین ڈالرجمع کرسکتی ہے، منی ورلڈ کپ2021 سے شروع کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے،اسے ہر 2 برس بعد منعقد کیا جائے گا، یہ ممکنہ طور اکتوبر یا نومبر میں ہوگا۔کلب ورلڈکپ کابھی2021ءسے انعقادممکن نظرآرہاہے۔
فالتو پانی سمندر میں ڈال دینا ملک کی تباہی کا نسخہ ہے
لاہور (وقائع نگار) وزیر آبی وسائل جاوید علی شاہ کی چینل فائیو کے پروگرام ضیا شاہد کے ساتھ میں گفتگو کے حوالے سے سابق کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی مرزا آصف سعید بیگ نے کہا کہ اگر عالمی بنک نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ماحولیات کے لیے پانی کے بارے تصفیہ کروانے کا کہا ہے تو یہ مثبت بات ہوگی۔ یہ اچھی تجویز ہے کہ پنجاب کے پانی پر سندھ کے اعتراضات پر انہیں کے انجینئرز کو کالا باغ ڈیم میں تعینات کر دیا جائے مگر یہ ارسا کی اتھارٹی کے تحت ہونا چاہیے کیونکہ 1991میں ہونے والے بین الصوبائی معاہدے میں پانی کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائی گئی ہے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ یہ متنازعہ نہ ہو جو چھوٹے چھوٹے اعتراضات ہیں وہ بھی بات چیت سے ممکن ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پانی کی کمی کا سامنا ہے بلکہ ہم نے تو بطور ملک اپنا گراﺅنڈ واٹر بھی استعمال کرلیا ہے اور اگر ہم فوری آبی ذخیروں کی جانب نہ گئے تو یہ بالکل ختم ہوتا جائے گا، یہ تباہی کا نسخہ ہے کہ فالتو پانی کو سمندر کے حوالے کر دیا جائے کیونکہ جو ضروری ہے اس سے تین گنا پانی ضائع کیا جا رہا ہے۔ ہماری آبادی بڑھ رہی ہے اسی کے اعتبار سے خوراک کی ضروریات بڑھ رہی ہیں ملک میں جوں جوں خوشحالی بڑھے گی پانی کی ضرورت مزید بڑھتی جائے گی، یہ ناقدری ہے جو ہم کررہے ہیں۔ سندھ اور کے پی کے کو اپنے بھائی پنجاب پر اعتماد کا اظہار کرنا چاہیے اور عدم اعتماد نہ بڑھائیں کہ شاید کسی نے ان کا پانی کسی نے لے لیا کیونکہ کوئی ایک ایسا واقعہ نہیں جس سے ثابت ہو کہ کبھی ایسا ہوا ہوگا، پنجاب نے آج تک کبھی ایک بوند زائد کسی صوبے سے وصول نہیں کی ہے۔ اس عدم اعتماد کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ سندھ، بلوچستان اور کے پی کے جو پانی نہروں میں چھوڑا جاتا ہے اس کا کنٹرول بھی ارسا کے حوالے کردیا جائے جو اس پر چیک اینڈ بیلنس کو یقینی بنائےگی۔ ملک سے پانی کے خاتمے کے حوالے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ سب سے بڑی زیادتی ہوگی کہ ہم بیٹھ کر تباہی کا انتظار کریں کہ پانی کی کمی ہماری نسلوں کو ختم کرے یا یہاں بھی جنوبی افریقہ جیسی صورتحال پیدا ہو۔ سب کو معلوم ہے کہ ملک میں بڑی تعداد میں غریب افراد بستے ہیں اور ہماری ستر فیصد سے زائد آبادی غزائیت کی کمی کا شکار ہے ہمارے بچے مکمل طور پر نشوونما نہیں کرسکتے ہیں آپ خود اندازہ لگائیں کہ جو قوم خوراک کی کمی کا شکار ہوگی اس کی کام کرنے کی صلاحیت کتنی رہ جائے گی۔ انہوں نے خبریں اور اس کے چیف ایڈیٹر ضیاشاہد کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی کوششوں سے ایک بہت بڑا مسئلہ زندہ ہو گیا ہے جو پاکستان کے لئے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ضیاشاہد نے اس ایشو پر بڑی محنت کی ہے۔ قوانین کا گہرائی میں جا کر مطالعہ کیا اور اعداد و شمار بھی اکٹھے کیے جو انتہائی مفید ثابت ہونگے۔ درحقیقت وہ اس معاملے میں جہاد کر رہے ہیں تاکہ آئندہ نسلوں کو تباہی سے بچایا جائے۔
خلائی مخلوق کا توڑ پاکستان کی 20 کروڑ عوام کرے گی، احسن اقبال
لاہور(ویب ڈیسک) ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیراحسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہمیں عدلیہ کا بہت احترام ہے اور کبھی عدلیہ کے خلاف بیان نہیں دیا، میں نے صرف اصولی بات کی پھر بھی ہائی کورٹ نے طلب کیا اور میں حاضر ہوگیا کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں پاکستان کی کامیابی آئین کی پاسداری میں ہے، میرے سیاسی حریف ابرالحق شوق سے سپریم کورٹ بھی چلے جائیں جہاں انہیں پہلے جانا چاہئے تھا وہ ایک بار پھر شرمندہ ہوں گے۔ عدلیہ کو بھی سیاسی تنازعات سے بالا تر ہونا چاہے، کسی ایک سیاسی جماعت کو نشانہ بنانا ملکی مفاد میں نہیں۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سوچ ہے کہ وہ ووٹ کے ذریعے ہمیں ہرا نہیں سکتے اس لئے بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگا کر عدالتوں کا سہارا لے رہے ہیں، مخالفین کو کہتا ہوں کہ وہ چور دروازے سے نہیں بلکہ انتخابات میں ہمارا مقابلہ کریں، پاکستانی عوام کا مقابلہ کوئی خلائی مخلوق نہیں کرسکتی اور اب تو 20 کروڑ عوام ہی مخلوق کا توڑ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یقین سے کہہ سکتا ہوں جیسی پالیسیاں ہم نے بنائیں کوئی دوسرا ملک نہیں بنا سکتا لیکن ٹی وی پر آنے والے سقراط و بقراط لوگوں کو پاکستان میں سب ستیاناس نظر آتا ہے، ہمارے مخالفین نے لیپ ٹاپ منصوبے کو رشوت کا نام دیا جو غلط ہے، نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی سے ہمکنار کرنے کے لیے یہ سلسلہ شروع کیا گیا تھا اور اس کی تقسیم میں کسی سیاسی وابستگی کو نہیں دیکھا گیا۔
جن کو سزا ہونی چاہیے تھی وہ بری ہورہے ہیں، نواز شریف
اسلام آباد(ویب ڈیسک )احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نہ عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی ان پر مقدمہ چلا لیکن انہیں بری کردیا گیا جب کہ مجھے بیوی کی تیمارداری کرنے کے لیے جانے کی اجازت نہیں ملتی،عوام کے محافظوں پر تشدد کرنے والوں کو بری کرنے سے کیا تاثر جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کو سزا ہونی چاہیے تھی وہ بری ہورہے ہیں جب کہ جن کو بری ہونا تھا وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ کہتے ہیں صاف اور شفاف الیکشن کرائیں گے تاہم اب صاف اور شفاف الیکشن والی باتوں سے دل اٹھ گیا جب کہ لاہور جلسے میں ناکامی پر عمران خان نے الیکشن کے التوا کی بات کی۔صحافی کی جانب سے عمران خان کے بری ہونے کے سوال پر مریم نواز سے جب سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اوپر سے حکم آیا ہوگا۔
عزم کی بہترین مثال یہ نوجوان کرکٹر تعلیم کیساتھ گھر والوں کی کفالت کیلئے برگر بھی بیچتا ہے
لاہور (ویب ڈیسک) ہمت، عزم اور حوصلہ ہو تو زندگی میں کچھ بھی حاصل کرنا مشکل نہیں ہوتا اور اسی ہمت اور عزم کی بہترین مثال یہ نوجوان کرکٹر ہے جو ناصرف پاکستان کی نمائندگی کا خواب آنکھوں میں سجائے سخت محنت کر رہا ہے بلکہ اپنی تعلیم کیساتھ گھر والوں کی کفالت کیلئے برگر بھی بیچتا ہے۔افضال منصور کا تعلق ننکانہ صاحب سے ہے جو روزانہ صبح 6 بجے بیدار ہو کر 2 گھنٹے اپنے بھائی کیساتھ کرکٹ کی پریکٹس کرتا ہے اور پھر سکول جاتا ہے۔ سکول سے واپس آنے کے بعد اپنے چچا کیساتھ مل کر برگر لگاتا ہے اور 10 گھنٹے تک یہ محنت جاری رکھنے کے بعد رات کو 10 بجے سو جاتا ہے۔افضال منصور کا کہنا ہے کہ اسے کرکٹ کا بہت شوق ہے اور وہ اس کیلئے بہت محنت بھی کر رہا ہے۔ حال ہی میں انڈر 13 ٹورنامنٹ ہوا جس میں وہ بہترین وکٹ کیپر قرار پایا جس پر اسے ٹرافی اور 2000 روپے کیش انعام بھی ملا۔ افضال نے امید ظاہر کی کہ وہ ایک روز پاکستان کی طرف سے کھیلے گا اور ملک کا نام روشن کرے گا۔
آسٹریلیا کی بھارتی بورڈ کو نائٹ ٹیسٹ پر راضی کرنے کی کوششیں ناکام
نئی دہلی (ویب ڈیسک)آسٹریلیا کی بھارتی بورڈ کو نائٹ ٹیسٹ پر راضی کرنے کی کوششیں ناکام ہوگئیں جب کہ بھارت نے ایڈیلیڈ میں پنک گیند کے ساتھ فلڈ لائٹس میں پانچ روزہ میچ کھیلنے سے صاف انکار کردیا۔آسٹریلیا کی جانب سے بھرپور کوششوں کے باوجود بھارت رواں سال کے آخر میں شیڈول دورے میں ایڈیلیڈ میں نائٹ ٹیسٹ کھیلنے پر راضی نہیں ہوا،اس نے صاف الفاظ میں انکار کردیا ہے۔
بی سی سی آئی میں سپر یم کورٹ کی مقرر کردہ کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز کے سربراہ ونود رائے نے کہاکہ یہ بات واضح ہوچکی کہ ہم آسٹریلیا میں ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ نہیں کھیلنے والے اور اس میں کوئی شک ہی نہیں رہا، ہم نے دلیپ ٹرافی میں پنک بال کا تجربہ کیا مگر گیند کے حوالے سے مطمئن نہیں ہیں، ویسے بھی کوئی ہمارے سر پر بندوق تان کر ہمیں نائٹ ٹیسٹ کھیلنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔
الیکشن کے بعد ضرورت پڑی تو عمران خان سے اتحاد ہوجائے گا،زر دا ری کا دبنگ اعلان
لاہور(ویب ڈیسک)پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف زرداری کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں ضرورت تھی تو پی ٹی آئی سے اتحاد ہوگیا لہذا الیکشن کے بعد ضرورت پڑی تو عمران خان سے اتحاد ہوجائے گا۔لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سابق صدر اور شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف زرداری کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا، بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو جمہوریت کو مضبوط کرنے کی خاطرشہید ہوئے لیکن میاں صاحب نے مغل بادشاہ اور شہزادہ سلیم بن کر ہماری جمہوریت کے لیے کی گئی جدوجہد کمزور کردی، اب ہمارے پاس کمزور جمہوریت ہے جسے کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے، اس سے بڑا سانحہ کیا ہوگا ملک کے لیے۔آصف زرداری نے کہا کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے، سینیٹ الیکشن میں ضرورت تھی تو پی ٹی آئی سے اتحاد ہوگیا لہذا الیکشن کے بعد ضرورت پڑی تو عمران خان سے اتحاد ہوجائے گا، ہم اپوزیشن اور حکومت دونوں میں بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، ہم نے پہلے بھی حکومت کی ہے، ہمیں وزیراعظم ہاو¿س دیکھنے کا کوئی شوق نہیں، انہوں نے نہیں دیکھا لہذا انہیں وزیراعظم ہاو¿س دیکھنے کی جلدی ہے۔
سری دیوی کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ،بیٹی نے انوکھا کا م کر دیا
نئی دہلی(ویب ڈیسک) آنجہانی بالی وڈ اداکارہ سری دیوی کی صاحبزادی اور اداکارہ جھانوی کپور نے نیشنل فلم ایوارڈز کی تقریب میں اپنی والدہ کی ساڑھی زیب تن کرکے ان کی یادیں تازہ کیں اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔نئی دہلی میں گذشتہ روز منعقد ہونے والے نیشنل فلم ایوارڈز کی تقریب کے دوران فلم ’موم‘ کے لیے سری دیوی کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا۔یہ ایوارڈ سری دیوی کی صاحبزادی جھانوی کپور اور ان کے خاوند بونی کپور نے وصول کیا۔تقریب میں جھانوی نے اپنی والدہ سری دیوی کی بنارسی ساڑھی پہن کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔جھانوی اس ساڑھی میں بالکل سری دیوی سے مشابہہ نظر آئیں، جس کی تصویر بھارتی ڈیزائنر منیش ملہوترا نے انسٹاگرام پر مداحوں سے شیئر کی۔
اسلام آباد میں سٹیڈیم بنانا چاہتے ہیں ، راولپنڈی کا گراﺅنڈ بھی ٹھیک کریں گے: نجم سیٹھی
اسلام آباد (ویب ڈیسک)چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پی سی بی اسلام آباد میں سٹیڈیم تعمیر کرنا چاہتا ہے ، راولپنڈی کا سٹیڈیم بھی ٹھیک کریں گے۔چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کرکٹ کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں، ہرضلع میں کرکٹ اسٹیڈیم ہوناچاہیے، اسلام آباد میں بھی کرکٹ اسٹیڈیم ہونا چاہیے کیونکہ یہاں بھی ضرورت ہے، راولپنڈی اسٹیڈیم کو بھی ٹھیک کریں گے۔انہوں نے کہا پی سی بی نے سوچا کہ اسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم تعمیر کریں لیکن عدالت میں درخواست دائرکردی گئی، ہم یہ نہیں چاہتے کہ ماحولیات پراثر پڑے، ہم عدالت اور انوائرمینٹل ایجنسی کے ساتھ ہیںکہیں اورزمین مل گئی تو4،3سال میں اسٹیڈیم بن جائے گا۔واضح رہے کہ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی شکر پڑیاں میں کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کے سلسلے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔
پریا نکا کا دی را ک کیلئے خا ص پیغا م
نئی دہلی (ویب ڈیسک) ڈوین جانسن کی کل سالگرہ تھی اور پریانکا چوپڑا نے بھی اس موقع پر ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا لیکن اس کیساتھ ہی ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا۔پریانکا چوپڑا نے آسکر ایوارڈ کے موقع پران کیساتھ لی گئی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ”میں ایک ایسے شخص کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کر رہی ہوں جو میرے حلقہ احباب میں مہربان ترین اشخاص میں سے ایک ہیں!!! دی راک آپ کا دل آپ کے پٹھوں سے بھی بڑا ہے۔آپ کو پسند کرتی ہوں اور دعا کرتی ہوں آپ کو ہمیشہ پیار اور خوشی ملے! آپ کے خاندان کیلئے میری طرف سے پیار۔۔۔“


















