کسی کھلاڑی سے مس فیلڈ ہو جائے تو غصہ آتا ہے

لاہور(آئی این پی ) قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ساتھی کھلاڑیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا راز کھو لتے ہوئے کہا ہے کہ میرا مزاج ایسا ہے کہ میچ کے دوران بڑا پرجوش اور مگن رہتا ہوں۔ایساکھلاڑی جس سے امید ہو کہ وہ گیند کو روک سکتا تھا اورمس فیلڈ ہو جائے تو غصہ آتا ہے، مگرمیچ اور سیریز کے اختتام پر میں تمام کھلاڑیوں سے واضح کہتا ہوں کہ آن دی فیلڈ اگر میرے رویے سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو معذرت چاہتا ہوں لیکن ٹیم میں شامل سینئر اور جونیئرز کھلاڑیوں نے کبھی برا نہیں منایا،انھیں معلوم ہے کہ میں ان کی بہتری کیلیے ہی کہہ رہا ہوتا ہوں اور ہم سب پاکستان کیلیے کھیل رہے ہیں۔

پاکستان کا سب سے سستا شہر ،نئی رینکنگ جاری ،جان کر سب حیران

لاہور (خصوصی رپورٹ) ملک کے پانچ بڑے شہروں میں کراچی سستا ترین جبکہ لاہور سب سے مہنگا شہر ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی ایک رپورٹ میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کو سب سے مہنگا شہر جبکہ ملک کے معاشی حب کراچی کو سب سے سستا شہر قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صارفین کےلئے قیمتوں کے حساس اعشاریئے کی روشنی میں اگست 2017 ءکے دوران سی پی آئی کی شرح کراچی میں 1.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران یہ شرح 3.3 فیصد تھی۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے پانچ بڑے شہرں میں سی پی آئی کی مناسبت سے لاہور سب سے مہنگا شہر ہے جہاں اگست 2017ءکے دوران سی پی آئی کی شرح 5.1 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں صارفین کےلئے قیمتوں کے حساس اعشاریئے میں ملا جلا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔

ڈی سی او لاہور کی تنخواہ صرف 80ہزار جبکہ اُن کے ماتحت لاکھوں میں کھیلنے لگے

لاہور (خصوصی رپورٹ)محکمہ خزانہ پنجاب نے وفاقی حکومت کو فالو کرتے ہوئے اب وزیر اعلیٰ پنجاب کو ایک سمری ارسال کی ہے کہ صوبے میں ایم پی پے پیکیج کے تحت کام کرنیوالے افسران کے پے پیکیج میں مزید خاطر خواہ اضافہ کیا جائے جس کے تحت پہلے سے پانچ لاکھ ماہانہ تنخواہ لینے والے پبلک سیکٹر کے افسران کی ماہانہ تنخواہ سات لاکھ روپے ہو جائے گی اور ایم پی ٹو پے پیکیج لینے والوں کی ماہانہ تنخواہ چار لاکھ روپے سے زائد ہو جائےگی۔پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ممبران کو جو پہلے ہی تین لاکھ ستتر ہزار روپے تنخواہ وصول کر رہے ہیں ان کو بھی ایم پی ون پے پیکیج دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایک کہاوت مشہور ہے کہ محکمہ خزانہ پنجاب ہمیشہ چھوٹے ملازمین کا استحصال کر تاہے اور سیکرٹریوں اور دیگر بڑے افسران کو مراعات اور دیگر الاﺅنسز دینے میں ماہر مانا جاتا ہے جبکہ گریڈ ایک سے گریڈ سولہ تک کے ملازمین کی سمریوں کو دبا لیتا ہے، پنجاب سول سیکرٹریٹ کے ڈپٹی سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹریز کا سیکرٹریٹ الاﺅنس فریز ہے لیکن ایم پی پے پیکیج لینے والے افسران کی موجیں ہی موجیں ہیں۔ نجی شعبہ میں بھاری بھر تنخواہ کی وجہ سے ایک کشش بڑھتی جا رہی ہے۔ڈی ایم جی اور پی سی ایس افسران سرکاری محکموں میں نوکری کی بجائے سرکاری محکموں کے اندر ہی بننے والے پراجیکٹ اور کمپنیوں میں کام کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جوحکومت کےلئے لمحہ فکریہ ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پولیس کو سپیشل ایگزیکٹو الاﺅ نس دیا گیا ہے جو بالترتیب چار لاکھ روپے اور پونے چار لاکھ روپے ہے جبکہ دیگر افسران اور ملازمین کو ایسا کوئی الاﺅنس نہیں دیا گیا۔جس پر پنجاب کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی او سراپا احتجاج ہیں اور میڈیا نمائندوں کو فون کر کے فیلڈ افسران کی تنخواہیں بھی بڑھانے کا کہہ رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو سیکرٹری سمیت مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کی تعیناتی کےلئے موزوں اور اہل افسران نہیں مل پا رہے ہیں۔ ذہین اور تجربہ کار افسران نجی شعبہ میں چلے گئے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرنا یا کم از کم کم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس سے افسر شاہی میں دو بڑے طبقے پیدا ہو رہے ہیں۔ایک مراعات یافتہ طبقہ جو حکمرانوں کی قربت کے باعث اپنی من پسند سے سرکاری محکموں کے اند رمختلف پراجیکٹ اور کمپنیاں بنا کر دس سے بیس لاکھ تک ماہانہ تنخواہ وصول کرتے ہیں اور دوسرا وہ طبقہ جو اس وقت سیکرٹری ڈی سی او اور کمشنر اور سول سیکرٹریٹ میں مختلف اسامیوں پر تعینات ہیں اور ماہانہ ستر اسی ہزار روپے تنخواہ لیتے ہیں۔ ڈی سی او لاہور سمیر احمد سید گریڈ19کے ایک افسر والی ماہانہ تنخواہ اسی ہزار روپے لیتے ہیں جبکہ ان کے ماتحت ایم ڈی سالڈ ویسٹ بلال مصطفی سید کی ماہانہ تنخواہ دس لاکھ روپے ہے۔ حالانکہ کام کی نوعیت اور ورک لوڈ ڈی سی او لاہور پر ایم ڈی سالڈ ویسٹ کی نسبت سو گنا زیادہ ہے۔ ۔ ڈی ایم جی افسر کیپٹن (ر)محمد محمود کی تنخواہ نندی پور پراجیکٹ پر لاکھوں روپے ماہانہ رہی ہے لیکن اس کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ ممبر پی اینڈ ڈی عابد بودلہ ، فلم سنسر بورڈ کی زیبا علی ، ہیلتھ کیئر کمیشن کے ڈاکٹر محمد اجمل خان ، شعیب بن عزیز پریس سیکرٹری ٹو وزیر اعلی، ممبر پی اینڈ ڈی صداقت حسین، انفارمیشن کمیشن کے مظہر حسین منہاس، مختار احمد اور سابق ایڈیشنل آئی جی احمد رضا طاہر ، پرائیوٹائزیشن بورڈ کے طارق ایوب، ڈائریکٹر پیری ممتاز انور، ممبر پی اینڈ ڈی ڈاکٹر شبانہ حیدر، میٹرو بس کے سبطین فضل حلیم ، والڈ سٹی اتھارٹی کے کامران لاشاری ، سیکرٹری قانون ڈاکٹر ابولحسن نجمی ، فاروق الطاف کی ماہانہ تنخواہ پانچ لاکھ روپے سے زائد ہے۔ احد خان چیمہ، راشد محمود لنگڑیال کی ماہانہ تنخواہ بیس لاکھ روپے فی کس ہے۔یہ دونوں افسران پنجاب کے سرکاری محکموں میں نوکری کرنےکی بجائے ہوشربا تنخواہ لے رہے ہیں جس سے ان کے بیج میٹ احساس کمتری کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس میں ان کے بیج میٹ اور ان کے ہم گریڈ افسران کا کیا قصور ہے۔لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے سی ای او خواجہ حیدر اور ان کی بیوی ڈاکٹر شبانہ حیدر دونوں حکومت پنجاب سے لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں۔اس وقت ٹیچرز، یونیورسٹی پروفیسرز ، اور کلرک تنخواہوں میں سو فیصد اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگر ایک ڈاکٹر کو رسک الاﺅنس دیا جا سکتا ہے تو ایک ٹیچر کو ٹیچنگ الاﺅنس کیوں نہیں دیا جا رہا ہے۔ حالیہ سی ایس ایس کے رزلٹ نے واضح کر دیا ہے کہ ملک کی ذہین کلاس اب نو کر شاہی کا حصہ بننے کی بجائے دیگر شعبوں میں جانے کو ترجیح دے رہی ہے اور مڈل کلاس کے امیدوار سے تعداد سی ایس ایس کرنےوالوں میں پانچ فی صد سے بھی کم ہو کر رہ گئی ہے۔ جس سے پبلک سیکٹر زوال پذیر ہے۔چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن (ر)زاہد سعید کا کہنا ہے کہ سیکرٹری، کمشنر اور ڈی سی لگانے کےلئے ان کے پاس افسران کی چوائس بڑی ہی محدود ہوتی ہے ۔ حکومت کو اس کا سد باب کرنا ہوگا اور کم از کم گریڈ ایک سے گریڈسولہ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں فوری طور پر سو فی صدا ضافہ کرنا چاہیے۔

”مٹی پاﺅ“کی سینیٹ سے نمائندگی ختم ،اندرونی کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ ) آئندہ سال سینٹ کی خالی ہونے والی 52 نشستوں میں سے سب سے زیادہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے 18 سنیٹرز سبکدوش ہو جائیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ ق کے ایوان میں موجود چاروں سینیٹر بھی سبکدوش ہو جائیں گے جس کے بعد سینیٹ سے ان کی نمائندگی ختم ہو جائے گی۔ مسلم لیگ نون کے 9 سینیٹر زاپنی مدت پوری کر کے سبکدوش ہو جائیں گے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹ میں موجود 26 میں سے 18 سینیٹرز سبکدوش ہو جائیں گے۔ مسلم لیگ نون کے سینیٹر اسحاق ڈار ، سردار یعقوب خان ناصر ، سردار ذوالفقار کھوسہ سمیت 9 سینیٹر مارچ 2018ءمیں سبکدوش ہو جائیں گے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے ایوان میں دو سینیٹر موجود ہیں جو دونوں ہی سبکدوش ہو جائیں گے ۔ جمعیت علمائے (ف )کے پانچ میں سے تین، متحدہ قومی موومنٹ کے 8 میں سے 4 ، پی ٹی آئی کے 7 میں سے ایک سینیٹر آئندہ سال مارچ میں اپنی مدت پوری کرنے کے بعد سبکدوش ہو جائے گا۔ پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کا ایوان میں ایک سینیٹر موجود ہے جو مارچ 2018ءمیں سبکدوش ہو جائے گا۔ جماعت اسلامی ،نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ایوان میں موجود سینیٹروں میں سے کوئی بھی سینیٹر آئندہ سال سبکدوش نہیں ہوگا جبکہ ان جماعتوں کے مزید سینیٹر بھی ایوان میں آئیں گے ۔ مسلم لیگ نون کو پنجاب سے 11 ، اسلام آباد سے 2 ، بلوچستان سے 4 اور کے پی کے سے ایک یا دو سینیٹر منتخب کرانے میں کامیابی کا امکان ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ سے 7 سینیٹرز منتخب کرا سکتی ہے۔ تحریک انصاف خیبرپختونخوا سے 6 ، جماعت اسلامی ایک سینیٹر منتخب کرانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام ف بھی ایک ایک نشست حاصل کرسکتی ہے۔ ایم کیو ایم سندھ سے 4 نئے سنیٹرز منتخب کرانے کی پوزیشن میں ہے۔ واضح رہے کہ سینٹ کے نصف ممبران 3 سال بعد سبکدوش ہو جاتے ہیں۔
سینٹ سیٹیں خالی

فیصلے پر ن لیگ کے اندر بھی حیرانگی

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی واپسی کے فیصلے سے مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی حیرانگی ہے۔ میاں نواز شریف اگرمیاں شہباز شریف کی ایڈوائس پر وطن واپس آتے تو دونوں بھائی اکٹھے واپسی کا فیصلہ کرتے۔ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف نے پیر کی صبح واپسی کا فیصلہ سنا کر لندن میں میاں شہباز شریف اور پاکستان میں چوہدری نثار علی کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے معتبر حلقوں میں میاں نواز شریف کی واپسی پر مختلف چہ میگوئیاں جاری ہیں اور دیگر جماعتیں بھی میاں نواز شریف کی خلاف توقع واپسی پر ششدر رہ گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں شہباز شریف تین روز پہلے پنجاب ہاﺅس میں چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کے بعد ایک خاص ایجنڈے کے تحت لندن روانہ ہوئے تھے لیکن میاں شہباز شریف اس وقت حیران رہ گئے جب ان کے بڑے بھائی نے ان کی رائے کے برعکس پیر کی صبح پی کے 786 میں وطن واپسی کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار کا استدلال شروع سے یہی تھا کہ اداروں سے ٹکراﺅ کی بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جائے لیکن میاں نواز شریف نے ہفتہ کو بھی لندن میں اپنا موقف دہرایا کہ جی ٹی روڈ کی ریلی درست تھی اور یہ کہ حالات عجیب رخ اختیار کر سکتے ہیں۔

سابق ایم پی اے سمیل راجہ کی درخواست پر عدالت کا بڑافیصلہ

لاہور (خصوصی رپورٹ) سیشن عدالت نے سابق ایم پی اے سیمل راجہ کو ہراساں کرنے سے روکنے کی توہین عدالت کی درخواست نمٹاتے ہوئے سی سی پی او لاہور کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم دیدیا، عدالت نے سابق ایم پی اے کی اپنے خاوند کے خلاف دیگر دو مقدمات کی سماعت اٹھائیس ستمبر تک ملتوی کردی۔ ایڈیشنل سیشن جج شیخ توثیر الرحمن نے سابق ایم پی اے سیمل راجہ کی اندراج مقدمہ کی تین مختلف درخواستوں پر سماعت کی ، درخواست گزار خاتون نے موقف اختیار کیا کہ شوہر راجہ بشارت نے سابق سینیٹر پری گل آغا کی ملی بھگت سے دو کروڑ کے زیورات اور گاڑی کی خریداری کیلئے رقم ہتھیائی، انہوں نے مزید موقف اختیارکیا کہ سابق سینیٹر پری گل آغا نے سوشل میڈیا پر غیر مسلم ہونے کی مہم چلائی جس کی بنیاد پر درخواست گزار کو ہراساں کیا جارہا ہے لہٰذا شوہر بشارت راجہ اور پری گل آغا کے خلاف امانت میں خیانت کے مقدمات درج کرنے اور موبائل فون پر ہراساں کیے جانے کے خلاف درخواست پر سی سی پی او کو کارروائی کا حکم دیا جائے،ملزموں کے وکیل کی جانب سے وکالت نامہ دائر کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی، عدالت نے درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد مزید سماعت اٹھائیس ستمبر تک ملتوی کردی۔

متنازعہ ٹویٹ ،اہم خاتون کیخلاف بڑی کاروائی

استنبول(خصوصی رپورٹ) ترکی کے قومی مقابلہ حسن کی فاتح حسینہ کو گذشتہ برس ملک میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کی کوشش پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا مہنگا پڑگیا اور انہیں اپنے اعزاز سے ہاتھ دھونا پڑے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 18 سالہ اِتر ایسن سے گذشتہ روز ‘مِس ترکی’ کا اعزاز واپس لے لیا گیا۔واضح رہے کہ 18 سالہ حسینہ 21 ستمبر کو استنبول میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں مِس ترکی 2017 منتخب ہوئی تھیں اور چین میں ہونے والے مِس ورلڈ کے مقابلے میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے والی تھیں۔مِس ترکی ایونٹ کا انعقاد کرنے والے آرگنائزرز کا کہنا ہے کہ 15 جولائی 2016 کو صدر رجب طیب اردگان کی حکومت کے خلاف بغاوت کی کوشش کے ایک سال مکمل ہونے پر ترک حسینہ نے ناقابل قبول ٹوئیٹ کی تھی۔منتظمین کے مطابق اس ٹوئیٹ کے سامنے آنے کے بعد ان کا یہ اعزاز رکھنا ممکن نہیں رہا۔واضح رہے کہ اپنی ٹوئیٹ میں اِتر ایسن نے ناکام فوجی بغاوت کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے 249 افراد کی خون ریزی کو اپنے ایامِ حیض کے خون سے تشبیہہ دی تھی۔ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے نتیجے میں جان سے جانے والے ان افراد کی قربانی کو عظیم الفاظ میں یاد کرتے ہوئے شہید قرار دیا جاتا ہے۔

96ہزار پاکستانی دنیا کی سب سے مہلک بیماری کا شکار

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)پاکستان میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ایڈز کے موذی وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں آٹھ ہزار سے زائد کا اضافہ ہوا ہے لیکن اس مرض سے متعلق کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔بین الاقوامی اداروں کی مدد سے سرکاری سطح پر جمع کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2016 سے جون 2017 تک ملک میں ایچ آئی وی/ ایڈز کے 8076 نئے کیس رپورٹ ہوئے جن میں صوبہ پنجاب 3875 مریضوں کے ساتھ سرِفہرست ہے۔اس دوران سندھ میں نئے مریضوں کی تعداد 2521، خیبر پی کے میں 881 اور بلوچستان میں 291 بتائی گئی ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق ملک بھر میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 96 ہزار کے لگ بھگ ہے لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
چنیوٹ (ڈسٹرکٹ رپورٹر) چنیوٹ کے ایک گاﺅں میں گزشتہ 3ماہ کے دوران ایڈز میں مبتلا 17افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے 7افراد بھی شامل ہیں۔ چنیوٹ کے چک 127بھٹی والا میں یہ مہلک بیماری عطائی ڈاکٹروں کی وجہ سے پھیلی۔ گاﺅں میں کھلے ہوئے عطائی ڈاکٹروں کے 7کلینکس پر ایک ہی سرنج سے لوگوں کو انجکشن لگائے جاتے رہے۔ ایڈز سے متاثرہ مریضوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق محکمہ صحت پنجاب کو 6ماہ پہلے ہی اس معاملے کی خبر ہوگئی تھی‘ جب اس گاﺅں میں ابتدائی طور پر ایڈز کے 12مریضوں کا انکشاف ہوا تھا لیکن صوبائی محکمہ صحت نے فوری طور پر کوئی ایکشن لینے کی بجائے معاملے کو دبائے رکھا۔ مقامی سیاسی رہنما طارق ڈاہر کے مطابق اس وقت بھی صرف ضلع چنیوٹ میں اڑھائی ہزار سے زائد عطائی ڈاکٹر لوگوںکی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ چنیوٹ کے ایک ہی گاﺅں میں ایڈز سے متاثرہ 300سے زائد مریضوں کے انکشاف پر ضلع بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ مقامی ذرائع نے اس سلسلے میں بتایا کہ چنیوٹ شہر سے 15کلومیٹر دور فیصل آباد روڈ پرواقع چک 127بھٹی والا میں جٹ تارڑ قوم آباد ہے۔ اس گاﺅں کی آبائی اڑھائی ہزار نفوس کے لگ بھگ ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران اس گاﺅں میں ایڈز کے شکار 17افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے 7افراد بھی شامل ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران ایچ آئی وی ٹیسٹ کیلئے اس گاﺅں سے 360افراد کے نمونے لئے گئے جن میں سے ابتدائی طور پر 50افراد کا ایچ آئی وی ٹیسٹ پازیٹو نکلا جبکہ ہفتہ کے روز مزید 30افراد کی رپورٹ پازیٹو آئی ہے۔ ہفتے کے روز 7مریض لاہور منتقل کئے گئے جن میں ثوبیہ‘ ذوالفقار‘ عذرا‘ جعفر‘ چار سالہ حسن علی‘ دس سالہ خالدہ اور 17سالہ یٰسین شامل ہیں۔ ان میں سے موخرالذکر تینوں بچے آپس میں حقیقی بہن بھائی ہیں۔ ایڈز سے متاثر ہونے والوں میں بزرگ‘ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ گاﺅں میں ایڈز جیسا مہلک مرض پھیلنے کی اصل وجہ عطائی ڈاکٹر ہیں۔ گزشتہ کافی عرصے سے اس گاﺅں میں عطائی ڈاکٹروں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ گاﺅں میں عطائی ڈاکٹروں کے 7کلینک تھے اور ان سب پر آنے والے مریضوں کو ایک ہی سرنج سے انجکشن لگائے جاتے تھے۔ یہاں کلینک چلانے والا ایک عطائی ڈاکٹر تو اپنے ملنے جلنے والوں کو ببانگ دہل کہا کرتا تھا کہ وہ روزانہ میڈیکل سٹور سے مختلف قسم کی ایک کلو گولیاں اور تین سرنجیں لے کر جاتا ہے اور ہر مریض کو انہی سرنجوں سے انجکشن لگاتا ہے۔ اسی طرح ایک عطائی ڈاکٹر نے اپنے کلینک کے باہر لگائے گئے بورڈ پر خود کومختلف اخبارات‘ نیوز چینل کے بورڈ لگا رکھے ہیں‘ اور خود بیورو چیف بھی لکھ رکھا تھا، تاکہ کوئی سرکاری ٹیم اس پر بھی ہاتھ نہ ڈال سکے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہی عطائی ڈاکٹر چک 127 بھٹی والا میں موت بانٹنے کا سبب بنے ہیں۔ کیونکہ علاقے بھر میں اس گاﺅں کی عمومی شہرت بہت اچھی ہے۔ یہاں کے رہائشی شریف اور بھلے مانس لوگ ہیں۔ یہاں ایڈز پھیلنے کی اب تک کوئی غیر اخلاقی وجہ سامنے نہیں آسکی ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے اس کیس کا فوری نوٹس لیا ہے۔ ایک آدھ روز میں یہاں پنجاب گورنمنٹ کاموبائل ہسپتال بھی منتقل کیاجارہا ہے۔ پورے گاﺅں کو سیل کرکے قریبی دیہات کے لوگوں کی یہاں آمدورفت روک دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر متاثرہ افراد کو علاج کیلئے لاہور منتقل کیاجارہا ہے،مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چھ ماہ قبل جب پہلی بار چک 127 بھٹی والا میں ایڈز کے 12مریضوں کا انکشاف ہوا تو میڈیا میں اس کی خبر آنے پر صوبائی محکمہ صحت کو بھی اطلاع مل گئی تھی۔ لیکن محکمہ صحت اس معاملے کو دبانے کی کوشش کرتا رہا۔ میونسپل کمیٹی چنیوٹ میں اپوزیشن لیڈر طارق ڈاہر نے بتایا کہ ہماری اطلاع کے مطابق چھ ماہ پہلے وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے محکمہ صحت کو اس گاﺅں میں لوگوں کی اسکریننگ اور ٹیسٹ کرنے کی ہدایت کی گئی، لیکن محکمہ سویا رہا۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس گاﺅں میں اب تک ایڈز کی وجہ سے ہونے والی 17ہلاکتوں کا اصل ذمہ دار محکمہ صحت ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ چنیوٹ میں صورتحال اس قدر خراب ہے کہ اس وقت بھی ضلع میں 2500 عطائی ڈاکٹر کام کررہے ہیں۔ پنجاب حکومت کو فوری طور پر ان کے خلاف کریک ڈاﺅن کرنا چاہیے۔ دوسری طرف پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام میں موجود ایک بااعتماد ذرائع نے بتایا کہ یہ خیال درست نہیں ہے کہ ملک بھر میں ایڈز کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت اس سلسلے میں گاہے گاہے لوگوں کے خون کے نمونے لے کر ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔ تقریباً آٹھ ماہ پہلے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام نے جنرل پبلک میں 17ہزار افراد کے نمونے لئے۔ یہ سب نارمل لوگ تھے ، ان میں کوئی نشے کا عادی، ہم جنس پرست یا غیر اخلاقی سرگرمیوں میں مبتلا شخص شامل نہیں تھا۔اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس سے متاثرہ تقریباً 34ہزار مریضوں کا بھی ایچ آئی وی ٹیسٹ کیاگیا۔ ٹیسٹ کا رزلٹ آنے پر پتاچلا کہ جنرل پبلک میں یہ مہلک مرض نہ ہونے کے برابر ہے۔ اہم بات یہ تھی کہ ہیپاٹائٹس سے متاثرہ مریضوں کا 750 طلبہ کے ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے کسی کا بھی ایچ آئی وی پلازیٹونہ نکلا۔ اس لئے یہ بات پوری ذمہ داری سے کہی جاسکتی ہے کہ عوام الناس میں یہ مرض نہ ہونے کے برابر ہے۔ البتہ معاشرے کے جن طبقات میں یہ مرض جڑ پکڑرہا ہے ، انہیں ہم ” ہائی رسک گروپس“ کانام دیتے ہیں ۔ ان گروپس میں ٹرانس جینڈرز(خواجہ سرا)،لیڈی سیکس ورکرز، ہم جنس پرست اور انجکشن کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد شامل ہیں۔کچھ عرصہ پہلے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت جب ان طبقات کی اسکریننگ کی گئی تو ایڈز میں مبتلا ہونے کی بلند ترین شرح ان لوگوں کی نکلی جو سرنج کے ذریعے نشہ کرتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر ٹرانس جینڈرز، تیسرے نمبر پر ہم جنس پرست اور سب سے کم شرح لیڈی سیکس ورکرز کی ہے جو ایک فیصد سے بھی کم نکلی۔ اس سلسلے کا آخری گروپ ایڈز سے متاثرہ ماں سے بچے میں بیماری کا منتقل ہوناہے۔ لیکن اگر بچے کی پیدائش سے قبل ہی ماں کے بارے میں پتہ چل جائے کہ وہ ایڈز کی مریضہ ہے تو ادویات کے ذریعے بچے کو اس مرض سے بچایا جاسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ذریعے نے بتایا کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ پورا ملک ہی اس مرض سے پاک ہے۔ بلکہ کبھی کبھار مختلف علاقوں میں ایسی Pockets سامنے آجاتی ہے جہاں مرض پھیلنے کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ جیسے چک 127 بھٹی والا میں ایڈز کا سبب عطائی ڈاکٹر بنے ہیں۔ جبکہ 11-2010ءمیں گجرات کے علاقے جلالپور جٹاں میں بھی ایڈز کے متعدد مریض سامنے آئے تھے، لیکن وہاں ایڈز کا سبب کچھ لیڈی سیکس ورکرز بنی تھیں۔“ محکمہ صحت کی عدم توجہ ڈیڑھ درجن سے زیادہ دیہات گلہڑ کی مہلک بیماری میں مبتلا۔سینکروں سے زائد افرادمیں مہلک بیماری کا انکشاف ضلع چنیوٹ کے نواحی چک نمبر 127بھٹی والے میںتقریبا پچاس سے زائد افراد کو ایڈ ز کی بیماری کا حملہ جہاں موت کی تلوار لٹک رہی ہے وہاں چنیوٹ کے کئی اور نواحی علاقہ جات میں گلہڑکی وبا ءنے ڈیڑے ڈال لئے پور ے علاقے میںبیماری کی وجہ سے خوف وہراس تفصیلات کے مطابق چنیوٹ کے نواحی علاقہ چک نمبر 127بھٹی والا میں چند ماہ پہلے چند لوگوں ایڈز اور ہیپاٹائٹس کی بیماری کا انکشاف ہوا تو محکمہ ہیلتھ کو میڈیا نے جگایا تو اس دیہات کے لوگوں کے سیمپلز لئے تو رزلٹ آنے پر پتہ چلا کہ تقریبا پچاس سے زائد لوگوں میں ایڈز کی بیماری پائی گئی ہے جس کی وجہ سے پورے علاقے میں لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا ابھی یہ تلوار لوگوں کے سروں پر منڈلا رہی ہے جس کی وجہ سے لوگ بہت پریشان ہیں محکمہ صحت کی عدم توجہی کے باعث تقریباڈیڑھ درجن سے زائد دیہات مختلف ا مراض میں مبتلاہو رہے ہیں دریائے کے کنارے بسنے والے ہزاروں افراد میں گلہڑ کی بیماری کا انکشاف ہوا ہے بتایا جا رہا ہے کہاس بیماری کے پھیلنے کا خطرہ ہے ایک رپورٹ کے مطا بق تین سینکڑوں کے لگ بھگ جن میں بچے ،بوڑھے ،مرد اور عورتیں شامل ہیں ان علاقوں میں حکومت کی جانب سے اب تک محکمہ ہیلتھ کی جانب سے کوئی کیمپ نہیں لگایا گیا ہے لہذا ان علاقوں میں محکمہ صحت فی الفور حفاظتی کیمپ لگا کر لوگوں کو ان مہلک بیماریوں سے بچائے اگر ایس انہ ہوا تو کئی اور دیہات بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں محکمہ ہیلتھ سے رابطہ کیا تو ہیلتھ آفیسر کا کہنا تھا کہ یہ مرض آیوڈین کی کمی کے باعث پھیل رہی ہے ۔

برسی پر تقریبات ،خدمات کو خراج تحسین

لاہور(خصوصی رپورٹ)چودھری ظہور الہی کی برسی آج منائی جا رہی ہے۔ مختلف شہروں میں اجتماعات اور قرآن خوانی کے علاوہ گجرات میں انکی رہائشگاہ پر حسب معمول بڑا اجتماع 10 بجے صبح منعقد ہوگا جس میں انکو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے (ق) لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور اہل خاندان کے علاوہ ملک بھر سے مختلف سیاسی شخصیات، (ق) لیگ کے رہنما، کارکن اور ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد شرکت کریگی۔

نواز شریف واپسی کی اصل وجہ سامنے آگئی

لاہور (ویب ڈیسک)پھر دیکھتے ہی دیکھتے تمام افواہیں دم توڑ گئیں ،تجزیہ کاروں کی رائے اور پیشگوئیاں سب فلاپ ہو گئیں ،نواز شریف نے واپسی کا اعلان کرتے ساتھ ہی اگلے ہی دن سچ ثابت کر دکھا یا ۔سابق وزیر اعظم کی واپسی کو بھی تجزیہ کاروں نے نے نیا رنگ دے ڈالا ۔نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی واپسی اچانک نہیں بلکہ ایک پلان کے تحت ہی ہے ،گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی آدھی سے زیادہ پارٹی قیادت کو پیغام پہنچا رہی تھی کہ فوج کیخلاف بات مت کریں ۔مشورہ دے رہی ہے کہ ان کیساتھ لڑائی نہ لریں ۔تجزیہ کار کے مطابق پنجاب کی آدھی سیاست ہوتی ہی اسٹیبلشمنٹ کے اشارہ پر ہے ۔ن لیگ جو 170سے 80 سیٹیں لیے بیٹھی ہے ان میں اکثریت تو (ق)لیگ کی ہے اگرکوئی اشارہ ہو گیا تو پھر پارٹی چھوڑنے کی روایت شروع ہو گئی تو یہ کسی بھی پارٹی کیلئے بڑا خطرناک ثابت ہو تا ہے ۔تجزیہ کار کے مطابق نواز شریف کے واپس آنے کی سب سے بڑی وجہ پارٹی کو اکھٹا کرنا ہے ،پارٹی کے اندر یہ بات اُٹھ رہی تھی کہ شاید قیادت واپس نہ آئے ۔

اسرائیلی سازش کامیاب

لاہور (خصوصی رپورٹ) عراق کے نیم خود مختار کرد اکثریتی صوبہ کردستان میں دو لاکھ یہودیوں کی آباد کاری کا خفیہ معاہدے بے نقاب ہو گیاہے۔ اسرائیل بننے کے بعد ایران، عراق، ترکی اور شام سے جانے والے کرد زبان بولنے والے یہودیوں کی کردستان میں آبادکاری سے پاکستان، ترکی، ایران کی قومی سلامتی پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ کردستان صوبہ میں رواں ماہ 25 ستمبر کو ریفرنڈم متوقع ہے جس کی کامیابی کی صورت میں کرد صوبہ عراق سے علیحدہ ہو کر آزاد کردستان کے نام سے الگ ریاست بنے گی۔ اسرائیل عالمی سطح پر کردستان کی علیحدگی کی حمایت کرنے والا واحدملک ہے۔ لندن سے شائع ہونے والے عرب جریدے کے مطابق اسرائیل اور کردستان کے درمیان ہونے والے خفیہ معاہدے میں طے پا گیا ہے کہ اسرائیل کے دو لاکھ یہودی کردستان میں آ کر بسیں گے۔ یہ وہ یہودی ہیں جو کرد نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور اسرائیل بننے کے بعد کردستان، ایران، ترکی اور شام کے کرد علاقے چھوڑ کر اسرائیل چلے گئے تھے۔ ترک ذرائع ابلاغ نے اس معاہدہ کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس معاہدے میں ترکی کے خلاف مسلح کارروائیوں میں ملوث دہشت گرد کرد گروپوں نے اداکیا ہے کردستان کے صدر مسعود بارزانی کی جانب سے اسرائیل نے کردستان کی آزادی میں ہر قسم کی مالی ، سیاسی اور سفارتی معاونت کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی فوج کے نائب سربراہ جنرل ٹائیر گولان نے واشنگٹن میں ایک سکیورٹی کانفرنس میں کردستان لیبرم کرد پارٹی کو امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے جانے کی مخالفت کی۔ یہودی جنرل کی جانب سے سکیورٹی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں کردستان لیبر پارٹی کے بارے میں جاری بیان کو مشرق وسطی کے تجزیہ کار غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔ اس سے قبل 2014 میں کردستان کی آزادی کی حمایت اسرائیلی زیراعظم نیتن یاہو بھی کر چکے ہیں، تاہم یہودی وزیراعظم نے کرد لیبر پارٹی کو دہشت گرد نہ کہنے کی بات نہیں تھی۔ کرد صوبے اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ کئی دہائیوں سے عسکری اور دفاعی معاہدے ہیں۔ کردستان کی آرمی البیشمرگہ کی تربیت میں تل ابیب کا کلیدی کردار ہے۔ کردستان کے متوقع ریفرنڈم سے متعلق اسرائیل اپنا پالیسی بیان جاری کر چکا ہے۔ جس میں اسرائیل نے آزاد کرد ریاست کی ہر ممکن تعاون کرنے کاعزم ظاہر کیا ہے۔ عرب اور مغربی ذرائع ابلاغ نے کرد ریاست کے اسرائیل کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کو بے نقاب کیا ہے ۔ اسرائیل اور کردستان کے درمیان رابطوں کی تاریخ پرانی ہے، تاہم دونوں کے تعلقات 2014ءمیں زیادہ کھل کر سامنے آئے۔ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور سیاسی اسٹڈیز سے متعلق اسرائیل کرد فاﺅنڈیشن نے 2014 میں ایک مشترکہ میگزین کا اجراءکیا ہے۔ اس میگزین کا دفتر کردستان کے علاوہ مقبوضہ بیت المقدس میں بھی قائم ہے۔ رپورٹ کے مطابق 1947ءمیں اسرائل جانے والے کرد یہودیوں میں اسرائیل جانے والے کرد یہودیوںکی تعداد تیس ہزار کے لگ بھگ تھی۔ اسرائیل جانے والے کرد یہودیوں کی عراق میں 146 بستیاں تھیں ، ایران میں 19 جبکہ ترکی میں 11 بستیاں تھیں جو ان کے جانے کے بعد خالی ہوگئی تھیں۔ اس وقت اسرائیل جانے والے کرد یہودیوں میں 19 ہزار عراقی، آٹھ ہزار ایرانی اور تین ہزار ترکی تھے۔

بے نظیر پر فائرنگ کرنیوالے قاتل کا نام سامنے آگیا،سنسنی خیز رپورٹ

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )سابق وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا نے کہا ہے کہ میں جانتا ہوں بے نظیر بھٹو کا قتل کس نے کیا ،اس شخص کا نام بتانے پر جو رد عمل آئے گا اس کے بارے میں بھی جانتا ہوں اور میں اس کے لیے تیار ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کو محمد خان چانچڑ نے فائرنگ کر کے قتل کیا ،اس کی گاڑی سلو نامی پیپلز پارٹی کا کارکن چلا رہا تھا جو جنوبی افریقہ میں مارا گیا۔ نجی نیو ز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی بی کو قتل کرنے کا پیغام جاوید خان جیل سے لے کر آئے تھے اور یہ جیل میں ڈاکٹر تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے منہ نہ کھولنا میری غلطی تھی، کچھ وجوہات اور دوستی کے باعث میں نے پہلے اپنا منہ نہیں کھولا۔ذوالفقار مرزا نے کہا مجھے نہیں پتہ تھا کہ آصف زرداری ملک توڑنا چاہتے ہیں اور یہ ایک بھارتی ایجنٹ ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں یہ سب جان کر اپنا منہ نہیں کھولوں گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اور چند ایک باتوں کا علم ہے جو میں وقت آنے پر عوام کو آگاہ کروں گا۔ واضح رہے چند روز قبل سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ بینظیر بھٹو کا قتل آصف علی زرداری نے کروایا۔

ایم کیو ایم کے سینیٹر میاں عتیق کی پارٹی رُکنیت بارے چونکا دینے والی خبر

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ایم کیو ایم پاکستان نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر سینٹر میاں عتیق کی بنیادی رکنیت منسوخ کر دی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار کا کہنا تھا کہ میاں عتیق نے پالیسی کے خلاف ووٹ دیا، میاں عتیق نے اپنی غلطی مان لی ہے، جبکہ شاہد خاقان عباسی کو ووٹ دینا ایک علیحدہ فیصلہ تھا۔ سربراہ ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی، پیپلزپارٹی اپنے سینیٹرز کیخلاف کیا کارروائی کرتے ہیں نہیں جانتا، میں نے کہا ہمارا فیصلہ اصولی ہو گا، جن دو سیینٹرز نے ووٹ نہیں دیا ان کے خلاف بھی کاروائی ہو گی۔ فاررق ستار کا مزید کہنا تھا کہ جمعہ والے دن سعد رفیق اور ایاز صادق نے ووٹ سے مانگا تھا۔