تربیلا غازی (خصوصی رپورٹ) تربیلا بجلی گھر کے پانچ یونٹ بند ہوگئے۔ تربیلا بجلی گھر کی کل پیداوار 3478 میگاواٹ ہے جو 624 میگاواٹ کی انتہائی کم سطح پر آگئی‘ جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ تربیلا جھیل میں پانی کی آمد میں کمی کے باعث گنجائش 66 فٹ کم جبکہ جھیل میں پانی کی سطح 1484.45 فٹ ہوگئی ہے۔
Tag Archives: power-house-electricity
بجلی بم گرا دیا گیا،صارفین کو بڑے جھٹکے
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام پر بجلی کا بم گرادیا ۔ نجی ٹی وی کے مطابق حکومت نے بجلی فی یونٹ 3روپے 90پیسے مہنگی کرکے ٹیرف منظور کرلیا ۔ نیپرا کی جانب سے منظور کردہ ٹیرف کے مطابق 100یونٹ استعمال کرنے پر 60پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا اور 200یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 3روپے 90پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا جبکہ 300یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ٹیرف میں 1روپے 50پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا ہے ۔
لوڈ شیڈنگ کے ستائے عوام کیلئے بڑی خوشخبری
عوام کیلئے خوشخبری ،قیمتوں میں حیران کن کمی
لاہور (ویب ڈیسک) عوام کے لئے خوشخبری، عالمی منڈی میں خام تیل کی کم قیمتوں کے باعث بجلی پیدا کرنے والا ایندھن مسلسل سستا ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی سطح پر بجلی 2 روپے 13 پیسے فی یونٹ سستی ہو سکتی ہے، مگر اس کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہو گا۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے بجلی کی قیمت میں کمی کی درخواست نیپرا میں دائر کرنے پر عوامی شنوائی 25 جولائی کو رکھی گئی ہے۔بجلی کی قیمت میں کمی کا اطلاق زرعی صارفین اور 300 یونٹس سے کم بجلی استعمال کرنے والوں پر نہیں ہوگا جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں صارفین کو پہلے ہی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جون کے مہینے میں بجلی کے یونٹ کی قیمت 6 روپے 83 پیسے وصول کی گئی جبکہ اس کی اصل قیمت 4 روپے 70 پیسے بنتی ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ صارفین کو 2 روپے 13 پیسے فی یونٹ کے حساب سے واپس کیے جائیں۔
پاور ہاﺅسز میں کرپشن کی غضب کہانی ….32ارب
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) مالی سال 2013ءمیں آئی پی پی پیز کو ادا کئے جانے والے 480ارب روپے کے گردشی قرضے میں وزارت خزانہ کی طرف سے 44.32ارب روپے کی ادائیگیاں ایسے بجلی گھروں کو کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جنہوں نے نہ پاور ہاﺅس چلایا اور نہ ہی ایک یونٹ بجلی پیدا کی جبکہ پیسے بھی انہیں بلوں‘ رسیدوں اور کسی ریکارڈ کے بغیر ادا کئے گئے۔ آڈیٹر جنرل اسدامین وزارت خزانہ سے بل کلیئر کرواتے کرواتے ریٹائر ہو گئے۔ دستاویزات کے مطابق وزارت خزانہ نے گیارہ نجی بجلی گھروں کو 44.32ارب روپے کی ادائیگی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حکم پر کی۔ ان نجی بجلی گھروں نے ایک یونٹ بجلی پیدا کی اور نہ ہی پلانٹ چلایا لیکن بل حکومت کو بھجوا دیا۔ وزارت پانی و بجلی کی طرف سے ان بلوں پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا اور انہیں وزارت خزانہ کو ادائیگی کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ نے بھی ان بلوں پر کوئی اعتراض نہیں لگایا بلکہ ان کمپنیوں کو ساڑھے بتیس ارب روپے کی خطیر رقم کی ادائیگیاں کر دیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے وزارت خزانہ سے کہا ہے کہ وہ اس طرح سے ان بلوں کو کلیئر نہیں کر سکتے۔ جن بجلی گھروں کو ادائیگیاں کی گئی ہیں ان میں وزیراعظم کے قریبی دوست اور ملک کے ایک معروف بینکار کا نجی بجلی گھر بھی شامل ہے۔ جن بجلی گھروں کو 2002ءکی پاور پالیسی کے تحت بغیر بلوں کی ادائیگیاں کی گئیں ان میں نشاط پاور لمیٹڈ‘ نشاط چونیاں‘ حبکو‘ لبرٹی پاور‘ سفائر الیکٹرک‘ اورینٹ پاور‘ سیف پاور لمیٹڈ‘ اٹلس پاور‘ ہالمور فاﺅنڈیشن‘ اٹک پاور جنریشن شامل ہیں۔ کچھ پاور ہاﺅسز کو 1994ءکی پاور پالیسی کے تحت ادائیگیاں کی گئیں جن میں ایچ سی پی سی ایل‘ فوجی‘ روش‘ کیپکو‘ آلٹرن‘ پاک چین‘ کے ای ایل‘ لال پیر شامل ہیں۔
بجلی گھر


















