Tag Archives: ishaq dar
الیکشن قوانین کا بل منظور ،تحریک انصاف کا بائیکاٹ
اسلام آباد (صباح نیوز) وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کا بل کمیٹی نے منظور کرلیا جس پر جمعہ کے روز دستخط ہوں گے۔اسلام آباد میں انتخابی اصلاحات کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کے بعد کمیٹی ارکان کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ الیکشن بل 2017 پر سب جماعتوں نے اتفاق کیا ہے اور انتخابی اصلاحات کمیٹی کا بل کمیٹی نے منظور کرلیا ہے جس پر دستخط کی تقریب جمعہ کو ہوگی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ انتخابی قوانین کی تیاری کے لیے ذیلی کمیٹی نے 90 سے زائد اجلاس کیے، انتخابی قوانین الیکشن کمیشن کی مشاورت سے بنائے گئے اور ان کی تیاری میں تمام جماعتوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔انہو ں نے کہا کہ الیکشن قوانین الیکشن کمیشن کی مشاورت سے بنائے گئے ہیں۔ ان میں 9 قوانین کو ضم کیا گیا ہے۔ تمام پارٹیوں نے بھرپور حصہ لیا۔ ان کے تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا۔ اسحق ڈار نے کہا کہ کوشش ہے ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے صاف شفاف انتخابات کا نفاذ ممکن ہو سکے۔ بل کی تیاری ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ الیکشن بل 2017ءپر تمام جماعتوں کا اتفاق رائے ہے۔ اور انتخابی اصلاحات کمیٹی کا بل کمیٹی نے منظور کرلیا ہے جس پر دستخط کی تقریب جمعہ کو ہوگی۔ بل کی تیاری کے بعد ذیلی کمیٹی آئینی ترمیم کے حوالے سے کام کرے گی۔ بل کے تحت سینیٹ ،قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ایک جیسے انتخابات ہونگے۔ ۔اسحاق ڈار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تیاری کے لئے ایک قانون کی ضرورت تھی اس موقع پر قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپا¶ نے کہا کہتمام جماعتوں کا اس پر اتفاق تھا کہ بہترقوانین بنیں، کوشش ہے ایسے اقدامات کیے جائیں جس سےانتخابات کا انعقاد شفاف ہو۔ بل کی تیاری ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ تمام ارکان مبارکباد کے مستحق ہیں،میں کمیٹی کے چیئرمین اسحاق ڈار اور سب کمیٹی کے چیئرمین زاہد حامد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے انتھک محنت کی اور تمام ممبران نے بھرپور ساتھ دیا۔جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق نے کہا کہ میں جماعت اسلامی کی طرف سے پارلیمانی اور سب کمیٹی دونوں کا ممبر تھا ہم نے سو سے زیادہ اجلاسوں میں شرکت کی۔ دو سال کی کوششوں کے بعد آج یہ رپورٹ فائنل ہوئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کے ووٹ پرتحفظات ظاہر کیے اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ پر بھی تحفظات بتادیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے اس پر بائیو میٹرک سسٹم اوورسیز کے حوالے سے تحفظات ہیں۔ اب تک ہم نے اس پر کوئی میکانزم نہیں بنایا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اس میں حکومت کی کوئی خامی تھی۔ ہم سب نے کوشش کی ہے کہ اس کا کوئی مناسب حل نکالیں لیکن ہم ابھی تک اس پر کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ 10 فیصد خواتین کے ووٹ کے حوالے سے تحفظات ہیں لیکن جو 90 فیصد کام ہوا ہے اس کو ہم سراہتے ہیں۔ الیکشن کے حوالے سے 9 قوانین کو ترتیب دے کر ایک قانون بنا دیا ہے۔ ہمارے تحفظات موجود ہیں لیکن اوورآل جو کام ہوا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ اے این پی کے رہنما ءستارا ایازنے کہا کہ اچھے نظام کے لئے حکومت کا ساتھ دیا۔دوسری جانب تحریک انصاف نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کے اجلاس سے واک آوٹ کیا۔پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے مطالبات نہ مانے جانے پر اجلاس سے واک آوٹ کیا، کافی وقت سے حکومت کو کہہ رہے تھے لیکن وہ اصلاحات نہیں کی جارہیں، اب بنی گالا میں اجلاس کے بعد آیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
رکن قومی اسمبلی سے شادی ،اسحاق ڈار نے خاموشی توڑ دی
اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) سنیٹر محمداسحاق ڈار کے ترجمان نے جے آئی ٹی میں ان کی پیشی اور امریکہ میں شہریت سے منسوب خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جے آئی ٹی میں سینیٹرمحمداسحاق ڈار کی وزیراعظم کے خاندان کے خلاف گواہ بننے اورکسی بھی قسم کا بیان دینے پررضا مندی کی خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں،محمداسحاق ڈار کی جانب سے اپنے اوراپنے خاندان کے لیے امریکی شہریت کی خواہش اور ایک رکن قومی اسمبلی سے خفیہ شادی اور دوہزارآٹھ میں خریدی گئی مرسیڈیزبینز کے موٹروہیکل ٹیکس ادانہ کرنے کے حوالے سے خبروں کو بھی مستردکرتے ہوئے کہا کہ ان الزامات کا مقصد سینیٹراسحاق ڈار کی ذاتی اورپیشہ وارانہ ساکھ کونقصان پہنچانا ہے،تین جولائی کوسینیٹراسحاق ڈار نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں عمران خان کے بارے میں چند حقائق سے آگاہ کیا تھا،جس کی عمران خان اب تک کوئی وضاحت نہیں کرسکے۔تاہم اسحاق ڈار کی میڈیا سے مذکورہ گفتگو کے بعدسے ان کے خلاف بے بنیاد الزامات کی مہم جاری ہے۔ اتوار کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ترجمان نے اپنے ایک جاری بیان میں پی ٹی آئی کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے گورنراسٹیٹ بینک سے کہا ہے کہ پانچ جولائی کو انٹربینک مارکیٹ میں ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر گرنے کے معاملے کی سرکاری طورپر تحقیقات کرکے دس دن کے اندر رپورٹ پیش کی جائے۔وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے بطورچیئرمین مانیٹری اورمالیاتی پالیسی کوارڈی نیشن بورڈ معاملے کی تحقیقات کی سفارش کی ہے۔واضح رہے کہ چھ جولائی کوبینکوں کے صدوراورسی ای اوز کے اجلاس کے بعد وزیرخزانہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ڈالر کی قدر میں اضافے کے ذمہ داران کے تعین کرنے کے لیے معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اوران کے خلاف کارروائی جائے گی۔افواہوں کی وجہ سے پانچ جولائی کو انٹربینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں تین اعشاریہ ایک فیصد اضافہ ہوگیا تھا اورڈالرایک سو چارروپے نوے پیسے سے بڑھ کرایک سو ا ٓٹھ روپے پچیس پیسے پرپہنچ گیا تھا۔جس کا وزیرخزانہ نے فوری نوٹس لیا اورچھ جولائی کو ڈالرایک سوپانچ روپے پچاس پیسے کی سطح پرآگیا۔سینیٹرمحمداسحاق ڈار کے ترجمان نے جے آئی ٹی میں ان کی پیشی اور امریکہ میں شہریت سے منسوب خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جے آئی ٹی میں سینیٹرمحمداسحاق ڈار کی وزیراعظم کے خاندان کے خلاف گواہ بننے اورکسی بھی قسم کا بیان دینے پررضا مندی کی خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ ترجمان نے محمداسحاق ڈار کی جانب سے اپنے اوراپنے خاندان کے لیے امریکی شہریت کی خواہش اور ایک رکن قومی اسمبلی سے خفیہ شادی اور دوہزارآٹھ میں خریدی گئی مرسیڈیزبینز کے موٹروہیکل ٹیکس ادانہ کرنے کے حوالے سے خبروں کو بھی مستردکرتے ہوئے کہا کہ ان الزامات کا مقصد سینیٹراسحاق ڈار کی ذاتی اورپیشہ وارانہ ساکھ کونقصان پہنچانا ہے۔ بے بنیاد الزامات لگانے والوں کے خلاف مناسب کارروائی کی جارہی ہے۔ترجمان نے سوال اٹھایا کہ کوئی میڈیا پرسن جے آئی ٹی کی کارروائی سے متعلق معلومات کے بارے میں کیسے دعوی کرسکتا ہے۔ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ دوہزارآٹھ سے تیس جون دوہزاراٹھارہ تک سینیٹراسحاق ڈار نے موٹروہیکل ٹیکس کی ہرسال ادائیگی کی ہے۔ترجمان نے مزیدکہا ہے کہ تین جولائی کوسینیٹراسحاق ڈار نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں عمران خان کے بارے میں چند حقائق سے آگاہ کیا تھا،جس کی عمران خان اب تک کوئی وضاحت نہیں کرسکے۔تاہم اسحاق ڈار کی میڈیا سے مذکورہ گفتگو کے بعدسے ان کے خلاف بے بنیاد الزامات کی مہم جاری ہے۔
ایک طرف پانامہ دوسری طرف شادیوں کا ہنگامہ ،ڈار کی نئی بیوی ماروی میمن کا حق مہر ڈیرھ ارب
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر اعظم کے سمدھی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئر پرسن ماروی میمن سے مبینہ شادی زیر بحث ہے ۔لاہور کے سینئر صحافی چودھری غلام حسین کی طرف سے اپنے ٹی وی پروگرام میں اسحاق ڈار کی ماروی میمن کی شادی کے بارے میں کئے گئے انکشاف کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے ان کی شادی کو سوشل میڈیا پر وائر ل کر دیا ،ان کے مطابق ماروی میمن نے اسحاق ڈار سے ڈیرھ ارب روپے حق مہر مقرر روایا ۔
”اگر عظمیٰ یا علیمہ خان بھی طلب کر لی جائیں تو پھر۔۔۔“
اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کے تمام سوالات کے جواب دئیے ،مریم نواز کے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے پر برا لگ رہا ہے ،اگر عظمیٰ یا علیمہ خان بھی اس طرح پیش ہوتیں تو اچھا نہ لگتا۔جے آئی ٹی کے سامنے مختصر پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاملات شفاف ہیں تاہم وضاحت دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ کئی مرتبہ حکومت میں رہے ہمارے خلاف کرپشن کا ایک کیس بھی نہیں۔ان کا کہنا تھاکہ جے آئی ٹی میں میری ضرورت پیش نہیں آنی چاہیے تھی، تمام سوالوں کے جوابات دے دئیے، جو بھی معاملات ہیں وہ انہتائی شفاف ہیں، مشرف دور میں بھی بدنیتی کی بنیاد پر جھوٹے ریفرنس بنائے گئے، نواز شریف کا پاناما کے کسی پیپر میں نام نہیں، نام نہاد بیان حلفی ردی کے سوا کچھ نہیں۔پاناما کیس کی تفتیش کے لیے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی طلبی پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار آج جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔وفاقی وزیر خزانہ کے ساتھ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار بھی ان کے ساتھ جوڈیشل اکیڈمی پہنچے جنہوں نے اسحاق ڈار کی گاڑی بھی ڈرائیو کی۔اسحاق ڈار کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی بمشکل آدھے گھنٹے پر محیط تھی جس کے بعدباہر آکر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم کے ذاتی کاروبار کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، پاناما پیپرز وزیراعظم نوازشریف کیخلاف سازش ہے، دنیا میں کہیں بھی ایسی عجیب وغریب پٹیشنز دائر نہیں ہوتیں۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جو سوالات پوچھے ان کے جوابات دئیے ،مشرف دور میں جھوٹے اور بد نیتی پر مبنی ریفرنسز بنائے گئے۔ان کا کہنا تھاکہ عمر ان خان 1993میں میرے دفتر آتے اور میرے بیٹوں کے ساتھ بیٹھ کر میرا انتظار کرتے تھے تاکہ شوکت خانم کے لیے چندہ حاصل کر سکیں ،میں بھی اللہ نے راستے میں دیتا تھا ،کوئی احسان نہیں کرتا تھا لیکن جب پتہ چلا کہ عمران خان نے پیسہ جوئے میں لگا یا تو یہ سلسلہ بند کردیا۔
اسحاق ڈار سے اہم شواہد ملنے کی توقع
اسلام آباد (آن لائن) شریف فیملی کے بیانات مشترکہ تحقیقاقی ٹیم (جے آئی ٹی )کو مطمئن کرنے میں ناکام ہو گئے، دوہری شہریت کے حامل نیشنل بنک آف پاکستان کے صدر سعید احمد کی باتیں بھی ممبران کو رام نہ کر سکی اس لیے جے آئی ٹی ملکی اداروں سے شریف فیملی کی گزشتہ تین دہائیوں کی ٹرانزکشنز کے بارے مزید معلومات طلب کر رہی ہیں، اہم شواہد اکٹھے کرنے کی خاطر رواں ہفتے کے دوران وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو طلب کر لیا گیا ہے جبکہ وزیر اعظم نواز شریف کے نام کے بھی پروانے جاری کر دیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے تفشیش کے دوران جے آئی ٹی کو شریف خاندان کی جانب سے غیر قانونی طور پر بنائی گئی جائیدادوں سے متعلق اہم شواہد ملنے کی توقع ہے ان کے لیے اسحاق ڈار کا 2000میں نیب کو دیا گیا بیان بہت اہمیت کا حامل ہے جس میں انہوں نے شریف فیملی کے لیے غیر ملکی فارن کرنسی اکاونٹس سمیت 4بے نامی اکاونٹس کا بھی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا تھا کہ کس طرح نواز شریف اور شہباز شریف کے کہنے پر قاضی خاندان اور سعید احمد کے نام کھولے گے امریکہ اور برطانیہ میں کھولے گئے اکاونٹس سے رقم منتقل کرتے رہے اور آخر میں آکر حدیبیہ پیپر ملز کے قرضے معاف کروالیے۔ اسحاق ڈار نے نیشنل بنک آف پاکستان کے صدر سعید احمد کی جانب سے 90کے عشرے میں شریف فمیلی کی ایما پر رقم کو ایک اکاونٹ سے نکال کر دوسرے اکاونٹ میں منتقل کرنے کی بھی روداد سنائی ہے اسحاق ڈار نے دئے گئے حلفیہ بیان میں کہا تھا کہ شریف فیملی نے کیسے غیر ملکی کرنسی اکا¶نٹس کھول کر فائدہ اٹھایا تھا باو ثوق ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی ممبران پیشی کے دوران وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے حدیبیہ پیپر ملز لمیٹڈ سمیت شریف فیملی کے غیر ملکی اکا¶نٹس سے متعلق معلومات پوچھے گے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے شریف فیملی کے غیر ملکی بینک اکا¶نٹس میں پڑی رقم کے حوالے سے 2000میں جنرل مشرف کے دور میں نیب حکام کو ایک بیان ریکارڈ کروایا تھا۔ اگرچہ اب اس بیان سے مسلم لیگ نواز لاتعلقی ظاہر کرتی ہے کیونکہ ان کے مطابق اس وقت اسحاق ڈار سے بیان زبردستی لیا گیا تھامگراسحاق ڈار نے 2000میں نیب کو دیئے حلفیہ بیان میں اقرار کیا کہ وزیراعظم نواز شریف1964سے 1966تک گورنمنٹ کالج میں میرے کورس فیلو تھے لیکن ان سے اس وقت بات چیت بہت نہیں تھی شریف خاندان سے شناسائی1990ءمیں ہوئی جب میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا تھا۔ چونکہ میاں شہباز شریف ایل سی سی آئی کے سابق صدر رہے تھے اس لئے ان سے تعلقات بڑھنے لگے۔ حلفیہ بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ میاں نواز شریف کا مسعود احمد قاضی کے ساتھ1996میں تعارف کروایا مسعود احمد قاضی کے ساتھ ان کا 1970ءکے ساتھ تعلق تھا جب وہ لندن میں تعلیم حاصل کر رہے ۔ میاں محمد نواز شریف کی مسعود فیملی سے پہلی ملاقات کے بعد ان کا تعلق بڑھتا گیا1992ءمیں نواز شریف جب وزیراعظم تھے تو انہوں نے استدعا کی کہ میں اپنی مداربہ کمپنی سے10کروڑ روپے کی رقم کا بندوبست کر یں۔ حلفیہ بیان کے مطابق شریف فیملی نے مختلف بینکوں میں سکندر مسعود قاضی، نزہت گوہر ، طلعت مسعود قاضی اور کاشف مسعود قاضی کے نام پر فارن کرنسی اکا¶نٹس کھولنے کے لئے ان کے پاسپورٹ کی کاپی بھجوائی۔ تاکہ 10کروڑ روپے کی رقم مداربہ کمپنی کے ذریعہ دینی تھی۔ ان کو غیر ملکی کرنسی اکا¶نٹ کے ذریعے قاضی فیملی تک پہنچایا جائے۔ حلفیہ بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ مجھے بے نامی بنک اکا¶نٹس کھولنے کے حوالے سے تحفظات تھے مگر میاں نواز شریف نے یقین دہانی کروائی کہ ان کی حکومت نے پروٹیکشن آف اکنامک ریفرنڈم ایکٹ 1992ءکا نفاذکر دیا ہے اس لئے غیر ملکی اکا¶نٹس رکھنے والوں کو ہر قسم کی انکوائری سے استثنیٰ حاصل ہے۔ نواز شریف نے سکندر مسعود قاضی ، طلعت مسعود قاضی، نزہت گوہر اور کاشف مسعود قاضی کے نام پر چار بے نامی اکا¶نٹس کھولنے کی ہدایت کی کہ سکندر مسعود قاضی اور طلعت مسعود قاضی کے نام سے کھولے جانے والے 2فارن کرنسی اکا¶نٹس کو میں (اسحاق ڈار) چلائے گا جبکہ دیگر دو اکا¶نٹس کو نعیم محمود میری نگرانی میں چلائے گا جو میری مداربہ کمپنی کا ڈائریکٹر تھا۔ میں نے امریکہ کے بینک میں فارنگ کرنسی اکا¶نٹس کھولا اور ان پر میں نے خود دستخط کئے۔ اس طرح ان فارن کرنسی اکا¶نٹس کے علاوہ سعید احمد اور موسیٰ غنی کے نام پر کھولے گئے ماضی میں اکا¶نٹس میں کریڈٹ حاصل کرنے کے لئے شریف فیملی نے بڑی مقدار میں فنڈز منتقل کئے۔ حلفیہ بیان کے مطابق1998ءمیں میاں شہباز شریف نے کمال قریشی ہارون پاشا اور میرے ساتھ ماڈل ٹا¶ن میں ایک میٹنگ کی اس میں انہوں نے کہا کہ میڈیا میں قاضی فیملی کے بینک اکا¶نٹس کا مسئلہ اجاگر ہونے کے بعد شریف فیملی نے فیصلہ کیا ہے کہ قاضی فیملی کے افراد کے نام پر چلنے والے بینک اکا¶نٹس سے رقم نکلوا کر ہدیبیہ پیپر ملز لمیٹڈ میں بطور شیئر ڈیپازٹ رقم کے طور پر رکھی جائے تاکہ اس کے ذریعے فارن کرنسی اکا¶نٹ میں دی گئی رقم سے شریف گروپ کے قرضوں کو دور کیا جائے۔ میاں شہباز شریف نے کمال قریشی کو اس حوالے سے پلان بنانے کی ہدایت کی اور مجھے بینکوں سے فنڈز کا بندو بست کر کے رقم وصول کرنے کے حوالے سے کمال قریشی کی مدد کرنے کو کہا۔ حلفیہ بیان کے مطابق اس کے بعد میں نے نعیم محمود کو ہدایات جاری کی کہ شریف فیملی نے سعید احمد کے غیر ملکی بینک اکا¶نٹس میں رکھی گئی فنڈز کے عوض جتنے قرضے لئے ہیں ان کی تفصیلات ایمریٹس بینک لاہور سے حاصل کی جائے جس کے بعد نعیم محمود نے بتایا کہ ایمریٹس بینک میں سعید احمد کے نام سے کھولے گئے بینک اکا¶نٹس میں شریف خاندان کے 3.725ملین ڈالر پڑے ہوئے ہیں انہوں نے بتایا کہ اس رقم کو نکلوانے کے انتظامات ہو گئے ہیں اس کے تحت بینک منیجر کی مدد سے ترسیلات زر کی صورت میں رقم کو باہر بھجوایا جائے گا ۔ پھر اس رقم کو دوبارہ ترسیلات زر کی صورت میں ہجویری مداربہ کمپنی میں بھیجا جائے گا۔ اس کے بعدشریف فیملی کے قرضوں کے حوالے سے معاملات کو حل کیا جائے گا۔ مارچ1998ءمیں ہدیبیہ پیپر ملز لمیٹڈ کے بینک اکا¶نٹس میں3.725ملین ڈالر کی رقم آئی جس کے بعد سعید احمد کے اکا¶نٹس سے اتنی ہی غیر ملکی کرنسی اکا¶نٹس کی مد میں رکھی رقم کو دستبردار کر لیا گیا۔ اس طرح الفیصل بینک میں قاضی فیملی کے نام پر رکھی گئی8.539ملین ڈالر کی رقم کو بھی اسی طرح حاصل کیا گیا جس کے بعد ہدیبیہ پیپر ملز لمیٹڈ میں برابر سرمایہ کاری کی بنیاد پر صدیقہ سیدہ محفوظ حسین خادم کا نام کافی فیملی کی جگہ تبدیل کیا گیا لیکن فیصل بینک ممیں پڑی8.539ملین ڈالر کی رقم میں سے صرف2.95ملین ڈالر ہی ٹرانسفر ہوئے بعد میں حکومت نے ایٹمی ڈے کے ہونے کے بعد غیر ملکی بینک اکا¶نٹس منجمد کر دیئے گئے ہے اس لئے 5ملین ڈالر سے زائد رقم ان اکا¶نٹس میں پھنس گئی۔ جون1998ءمیں میاں شہباز شریف نے مجھے ہدایت کی کہ الفیصل انوسٹمنٹ بینک میں موجود قاضی فیملی کے اکا¶نٹس میں پڑی رقم کو ڈالر سے روپے میں تبدیل کر کے حدیبیہ پیپرز ملز لمیٹڈ میں منتقل کیا جائے جس کے بعد میں نے نعیم محمود اور کمال پاشا کے ساتھ مل کر یہ کام مکمل کیا۔ حلفیہ بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ شریف فیملی کی تمام ٹرانزیکشن جس میں ہجویری مداربہ کمپنی میں پہلے گیر ملکی اکا¶نٹس میں منتقل کرنا پھر ان کی ترسیلات زر کی مد میں حدیبیہ پیپر ملز لمیٹڈ کے اکا¶نٹس میں واپس منتقل کرنا اور ان سے حاصل کئے گئے قرضوں کی واپسی کا عمل ثابت کرتا ہے ان گیر ملکی کرنسی اکا¶نٹس سے شریف خاندان نے فائدہ اٹھایا ہے۔
”بجٹ “کیا کھویا کیا پایا ؟اسحاق ڈار کا حیران کن دعویٰ
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 10 برس میں پہلی مرتبہ معاشی شرح نمو 5 فیصد سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ اسے عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جارہا ہے۔اسلام آباد میں مالی سال برائے 17-2016 کے اقتصادی جائزے کے خدوخال بیان کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ 2013 میں معاشی شرح نمو 3 فیصد تھی جو اب 5 فیصد سے بڑھ چکی ہے جب کہ ملکی معیشت کا حجم 300ارب ڈالر کے حجم سے تجاوز کر گیا ہے۔ گزشتہ دس برس کے دوران پہلی مرتبہ ہماری جی ڈی پی 5 فیصد سے زائد رہی، جی ڈی پی میں اضافے کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جارہا ہے۔ ہمارے ملک میں جی ڈی پی کا تخمینہ لگانے کا طریقہ کافی پرانا ہے، جسے تبدیل کیا جارہا ہے، عالمی بینک اگلے سال پاکستان کی جی ڈی پی کا نیا طریقہ کار متعارف کرائے گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ معیشت کے تمام شعبوں میں ترقی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، ملک کی جی ڈی پی میں خدمات کا حصہ 60 فیصد رہا، زراعت کا حصہ 19.53 فیصد جب کہ صنعتوں کا حصہ 28.88 فیصد ہے۔ زرعی شعبے میں ترقی کی شرح 3.46 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے میں 5.98 فیصد ترقی ہوئی۔ رواں مالی سال 475ارب روپے کے زرعی قرضے جاری ہوئے، زرعی پیداوار میں گندم ، مکئی ، چاول ، کپاس اور گنے کی فصلوں نے بہتر ترقی کی، گندم کی پیداوار 25.75 ملین ٹن، چینی کی پیداوار 73.61 ملین ٹن جب کہ کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 7لاکھ گانٹھیں رہی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح 4.06 جب کہ فی کس سالانہ آمدنی 1629 ڈالر رہی۔ درآمدات کا حجم 37 ارب 84 کروڑ ڈالر جب کہ برآمدات کا حجم 21 ارب 76 کروڑ ڈالر رہا، دس ماہ میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ سوا 7 ارب ڈالر رہا جب کہ رواں سال مالیاتی خسارہ 4.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ 10ماہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ایک ارب 73 کروڑ ڈالر رہی جب کہ سال کے آخر تک بڑھ کر 2 ارب 58 کروڑڈالر تک ہوسکتی ہے، بیرون ملک سے بھجوائی جانے والی ترسیلات زر میں 2.6 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد رواں مالی کے دوران غیر ملکی ترسیلات زر 19 ارب 50 کروڑ ڈالر تک رہنے کا امکان ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نائن الیون کے بعد حکمران ایک ٹیلی فون کال پر لیٹ گئے تھے، پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی دہشت گردی کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ نہ کر سکے،اس جنگ میں 25 ہزار لوگ شہید اور 25 ہزار افراد زخمی ہوئے، اس جنگ سے پاکستان کو ہر سال 90 سے 100 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے،اس جنگ سے ہمیں اب تک ملکی معیشت کو 123ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے، دہشت گردی کے اخراجات اپنے بجٹ سے ادا کررہے ہیں کسی غیر ملکی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا رہے، رواں برس بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کی مد میں 101 ارب روپے رکھے جائیں گے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ ہم سب کا پاکستان ہے کسی ایک پارٹی کا نہیں، معاشی اہداف پورا نہ ہونے کی ہیڈ لائن لگانا آسان ہے لیکن موجودہ حکومت مشکل معاشی اہداف کے حصول پر یقین رکھتی ہے، رواں مالی سال ملک میں بے روزگاری کی شرح 5.9 فیصد جب کہ غربت کی شرح 29 فیصد رہی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رکھنے سے قومی خزانے کو 120 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ پاکستان پر اندرونی قرضے 20 ہزار 892 ارب روپے جب کہ غیر ملکی قرضے مارچ تک58.4ارب ڈالر ہے۔ اس وقر ہمارے ملکی قرضے مجموعی جی ڈی پی کے 60 فیصد سے کم جب کہ شرح منافع 43 سال میں سب سے کم سطح 5.75 فی صد پر موجود ہے۔
جے آئی ٹی کی تشکیل بارے اسحاق ڈار کا اہم بیان سامنے آگیا
واشنگٹن(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پر جے آئی ٹی قانون کے مطابق بنے گی اور اس میں وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس پر جے آئی ٹی کی تشکیل قانون کے مطابق ہو گی اور اس میں وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔ جے آئی ٹی میں 6 اداروں کے افسران شامل ہوں گے جب کہ اسٹیٹ بینک اور ایس ای ایس پی وزارت خزانہ کے ماتحت ادارے نہیں ہیں۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ امریکا کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائز مک ماسٹر سے ملاقات مفید رہی اور مک ماسٹر نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہا۔ مک ماسٹر کے ساتھ دفاع، مسئلہ کشمیر، بھارت اور افغانستان کے ساتھ مسائل پر بھی بات ہوئی۔ پاکستان کی سالمیت کے خلاف کام کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا، سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج نے کارروائیاں کی ہیں، چاہتے ہیں کہ پاکستانی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، ضرب عضب کی کامیابی کے بعد آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا، جنرل (ر) راحیل شریف کی مسلم ممالک کے فوجی اتحادکےسربراہ کی حیثیت سے تعیناتی میں کوئی ابہام نہیں، وہ ریٹائر ہو چکے ہیں اور اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ 4 سالوں میں پاکستان کی کرنسی مستحکم رہی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں صرف 5 فیصد گراوٹ آئی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر سے بات چیت مفید رہی، اب آئی ایم ایف کے مزید پروگرام کی ضرورت نہیں جب کہ بڑی امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش مند ہیں۔ آئندہ بجٹ میں کوئی نئے ٹیکس نہیں لگانے جا رہے، بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں گے۔


















