پشاور پولیس نے الیکشن میں امیدواروں کو سکیورٹی دینے سے انکار کردیا

پشاور پولیس نے الیکشن میں حصہ لینے والے سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو سکیورٹی دینے سے انکار کردیا جبکہ امیدواروں کو رجسٹرڈ کمپنیوں سے سیکیورٹی گارڈز لینے کی تجویز دی گئی ہے۔

پشاور پولیس کا کہنا ہےکہ نفری میں کمی کے باعث پی ٹی آئی، اے این پی، جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے امیدواروں کو پولیس گن مین نہیں دے سکتے۔

پشاور پولیس کو انتخابات کے دوران سکیورٹی کے لیے پی ٹی آئی کے تیمور سلیم جھگڑا، ارباب شیر علی، جماعت اسلامی کے امیدوار صابر حسین اعوان، سابق صوبائی اسپیکر کرامت اللہ چغرمٹی اور دیگر امیدواروں نے سکیورٹی کے لیے گن مین دینے کی درخواستیں دی تھیں۔

پولیس نفری میں کمی کے باعث کیپیٹل سٹی پولیس نے امیدواران کو تحریری طور پر مشورہ دیا ہے کہ تمام امیدوار رجسٹرڈ سکیورٹی کمپنیوں سے گارڈز لے کر اپنی سکیورٹی یقینی بنائیں۔

پشاور پولیس کے مطابق تمام امیدواروں کی کارنر میٹنگز اور جلسوں کے لیے سکیورٹی فراہم کی جائے گی، پولیس اہلکار الیکشن کے دن پولنگ اسٹیشنز پر تعینات رہیں گے، پولیس کے پاس امیدواران کو سکیورٹی دینے کے لیے اضافی نفری نہیں ہے۔

17 ارب روپے کرپشن کیس؛ ڈاکٹر عاصم کو بیرون ملک جانے کی اجازت

راولپنڈی: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی ضمانت کا معاملہ لٹک گیا، جس کی و جہ سے ان کے جیل ہی سے انتخابات میں حصہ لینے کا امکان ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف کے روبرو درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، جس میں سرکاری پراسیکیوٹر نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر اعتراضات دائر کردیے۔ عدالت نے تمام اعتراضات کو درست قرار دیتے ہوئے وکیل صفائی کو اعتراضات دور کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست ضمانت کی سماعت 6 فروری تک ملتوی کردی۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ کی درخواست پر اعتراضات اور سماعت ملتوی ہونے کی وجہ سے ان کی ضمانت کا معاملہ لٹک گیا جس کے باعث شیخ رشید احمد کے جیل ہی سے انتخابات لڑنے کے ساتھ ساتھ اڈیالہ جیل ہی سے ووٹ ڈالنے کا بھی امکان ہے۔

شیخ رشید احمد کی درخواستوں پر دائر اعتراضات میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سانحہ 9 مئی سے متعلق کیسز کی بابت عدالت اور ہائی کورٹ کا کوئی آرڈر درخواست ضمانت ساتھ منسلک نہیں۔ ہائی کورٹ نے اس حوالے سے جو فیصلے دیے، ان کی مصدقہ نقول بھی درخواست کے ساتھ لف نہیں کی گئیں۔

سرکاری پراسیکیوٹر کی جانب سے عائد اعتراضات میں مزید کہا گیا ہے کہ جو ضمانتیں منظور اور جو مسترد ہوئیں ان میں سے کسی کا فیصلہ لف نہیں کیا گیا۔ علاوہ ازیں سابق ڈپٹی اسپیکر واثق قیوم عباسی،صداقت عباسی،کرنل اجمل صابر کے وعدہ معاف گواہ بننے کا بھی کوئی تذکرہ نہیں ہے، جس پر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے تمام اعتراضات درست قرار دےدیے۔

واضح رہے کہ 5 فروری کو ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں چھٹی ہونے کی وجہ سے نقول کا حصول ممکن نہیں، تاہم 6 فروری کو مصدقہ نقول کے حصول کی درخواستیں دینے پر الیکشن میں صرف ایک ہی دن باقی رہ جائے گا۔

شیخ رشید کی ضمانت کا معاملہ لٹک گیا، جیل سے انتخابات لڑنے کا امکان

راولپنڈی: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی ضمانت کا معاملہ لٹک گیا، جس کی و جہ سے ان کے جیل ہی سے انتخابات میں حصہ لینے کا امکان ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف کے روبرو درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، جس میں سرکاری پراسیکیوٹر نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر اعتراضات دائر کردیے۔ عدالت نے تمام اعتراضات کو درست قرار دیتے ہوئے وکیل صفائی کو اعتراضات دور کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست ضمانت کی سماعت 6 فروری تک ملتوی کردی۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ کی درخواست پر اعتراضات اور سماعت ملتوی ہونے کی وجہ سے ان کی ضمانت کا معاملہ لٹک گیا جس کے باعث شیخ رشید احمد کے جیل ہی سے انتخابات لڑنے کے ساتھ ساتھ اڈیالہ جیل ہی سے ووٹ ڈالنے کا بھی امکان ہے۔

شیخ رشید احمد کی درخواستوں پر دائر اعتراضات میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سانحہ 9 مئی سے متعلق کیسز کی بابت عدالت اور ہائی کورٹ کا کوئی آرڈر درخواست ضمانت ساتھ منسلک نہیں۔ ہائی کورٹ نے اس حوالے سے جو فیصلے دیے، ان کی مصدقہ نقول بھی درخواست کے ساتھ لف نہیں کی گئیں۔

سرکاری پراسیکیوٹر کی جانب سے عائد اعتراضات میں مزید کہا گیا ہے کہ جو ضمانتیں منظور اور جو مسترد ہوئیں ان میں سے کسی کا فیصلہ لف نہیں کیا گیا۔ علاوہ ازیں سابق ڈپٹی اسپیکر واثق قیوم عباسی،صداقت عباسی،کرنل اجمل صابر کے وعدہ معاف گواہ بننے کا بھی کوئی تذکرہ نہیں ہے، جس پر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے تمام اعتراضات درست قرار دےدیے۔

واضح رہے کہ 5 فروری کو ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں چھٹی ہونے کی وجہ سے نقول کا حصول ممکن نہیں، تاہم 6 فروری کو مصدقہ نقول کے حصول کی درخواستیں دینے پر الیکشن میں صرف ایک ہی دن باقی رہ جائے گا۔

مساجد کے بعد ہندو انتہاپسند تاج محل کے خلاف بھی سرگرم

آگرہ: مودی سرکار میں ہندو انتہاپسندوں نے مساجد کے بعد اب تاج محل کے خلاف کارروائیاں شروع کردیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ہندو انتہاپسندوں کا گروپ تاج محل میں مغل بادشاہ شاہجہاں کے یوم وفات پر منائے جانے والے عرس پر مستقل پابندی لگوانے کے لیے عدالت پہنچ گیا۔

ہندو انتہاپسند جماعت کے رہنما کی جانب سے آگرہ کی عدالت میں دائر درخواست میں شاہجہاں کے عرس کی تقریبات مستقل طور پر روکنے اور عرس کے موقع پر تاج محل میں مفت داخلے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
آگرہ کی عدالت نے مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندو انتہاپسندوں کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔ شاہجہاں کا تین روزہ عرس 6 سے 8 فروری تک منایا جائے گا۔

مغل بادشاہ شا ہجہاں نے 1653 میں اپنی بیوی ممتازمحل کی یاد میں دریائے جمنا کے کنارے تاج محل تعمیر کیا تھا جس کا شمار دنیا کے عجائب میں کیا جاتا ہے۔ ہرسال دنیا بھر سے لاکھوں سیاح بھارت آتے ہیں جس سے بھارتی حکومت کو اربوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔

پاکستان میں امریکی شہریوں کو نقل و حرکت میں محتاط رہنے کی ہدایت

امریکا نے پاکستان میں موجود اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ عام انتخابات کے موقع پر غیر معمولی طور پر محتاط رہیں اور گرد و پیش پر نظر رکھیں۔

امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ سیاسی جماعتیں انتخابی مہم زور و شور سے چلارہی ہیں۔ ریلیا نکالی جارہی ہیں، جلسے منعقد کیے جارہے ہیں۔

ٹریفک جام اور دیگر عوامل کے نتیجے میں نقل و حرکت میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ بیان میں امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر جانے سے گریز کریں۔

بیان کے مطابق پاکستان میں بعض سرگرمیوں کو کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاسکتا ہے اس لیے غیر معمولی سیاسی سرگرمیوں والے علاقوں سے دور رہنا لازم ہے۔

تفصیلات آرہی ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا نیا ججز ڈیوٹی روسٹر جاری کردیا گیا

اسلام آباد ہائیکورٹ کا نیا ججز ڈیوٹی روسٹر جاری کردیا گیا، چیف جسٹس کی منظوری سے رجسٹرار آفس نے ججز ڈیوٹی روسٹر جاری کیا۔

ججز ڈیوٹی روسٹر 5 فروری کے بعد تاحکم ثانی جاری رہے گا، آئندہ ہفتے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 8 ججز مختلف کیسوں کی سماعت کے لیے دستیاب ہوں گے۔

گزشتہ ہفتے رخصت پر گئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابرستار کی بھی واپسی ہوگئی۔

آئندہ ہفتے 8 سنگل اور 4 ڈویژن بینچ مختلف کیسوں کی سماعت کریں گے، ٹیکس اور کمرشل معاملات سے متعلق خصوصی ڈویژن بینچ بھی تشکیل دے دیے گئے۔

چیف جسٹس عامر فاروق کی ہدایت پر لارجر بینچ اور خصوصی ڈویژن بینچ بھی دستیاب ہوگا۔

پونم پانڈے زندہ نکلیں، اداکارہ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ

ممبئی: 2 فروری کو کینسر کے باعث انتقال کرجانے والی بھارتی اداکارہ و ماڈل پونم پانڈے زندہ ہیں، اداکارہ نے سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیو جاری کردی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پونم پانڈے نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ بالکل ٹھیک اور زندہ ہیں، اداکارہ کو موت کی خبروں کے بعد زندہ دیکھ کر مداح اور بھارتی شوبز شخصیات دنگ رہ گئے ہیں۔

پونم پانڈے نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ “میں زندہ ہوں اور بالکل ٹھیک ہوں، میں نے یہ سب سروائیکل کینسر کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے کیا کیونکہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کی وجہ سے کئی لوگ اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں”۔

اداکارہ نے کہا کہ “کینسر کی دوسری اقسام کے برعکس، سروائیکل کینسر مکمل طور پر روکا جا سکتا ہے، اگر ہمیں شروعات میں اس کینسر کے بارے میں آگاہی مل جائے گی تو ہم بروقت اپنا علاج کرواسکتے ہیں اور اس طرح کوئی بھی مریض سروائیکل کینسر کی وجہ سے اپنی جان کی بازی نہیں ہارے گا”۔

آخر میں اُنہوں نے اپیل کی کہ “آئیے، ہم سب ملکر سروائیکل کینسر سے متعلق معلومات لوگوں تک پہنچاتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ شعور پیدا ہوسکے”۔

پونم پانڈے کے اس ڈرامے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ جلد از جلد اداکارہ کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے کیونکہ انہوں نے موت کا مذاق بنایا ہے۔

واضح رہے کہ 2 فروری کی صبح پونم پانڈے کے آفیشل انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سروائیکل کینسر کی وجہ سے اداکارہ کی موت ہوگئی ہے۔

پونم پانڈے کی اچانک موت پر بھارتی شوبز انڈسٹری کو گہرا صدمہ پہنچا تھا جبکہ مداحوں کی جانب سے بھی اداکارہ کی موت پر افسوس کا اظہار کیا جارہا تھا۔

9 مئی کی پلاننگ عمران خان اور شیخ رشید کے ایماء پر کی گئی، وعدہ معاف گواہوں کا بیان

پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے خلاف 9 مئی کے مقدمات میں سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم، سابق ممبر قومی اسمبلی صداقت عباسی اور عمر تنویر بٹ وعدہ معاف گواہ بن گئے، 154 کے بیان میں کہا کہ 9 مئی کی پلاننگ عمران خان اور شیخ رشید کے ایماء پر کی گئی۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شیخ رشید کے خلاف 9 مئی کے مقدمات پرسماعت ہوئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق عمران خان اور شیخ رشید کے خلاف سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم، سابق ممبرقومی اسمبلی صداقت عباسی اور عمر تنویر بٹ وعدہ معاف گواہ بن گئے، تینوں رہنماؤں نے عدالت میں 154 کا بیان ریکارڈ کرادیا۔

بیان میں کہا گیا کہ 9 مئی کی پلاننگ عمران خان، شیخ رشید، راجہ بشارت، شیخ راشد شفیق، اعجازخان جازی اور راشد حفیظ کے ایماء پر کی گئی۔

دوسری جانب راولپنڈی کے حلقے این اے 53 میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کرنل (ر) اجمل صابر بھی شیخ رشید کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے۔

اجمل صابر نے پولیس کو بیان دیا کہ شیخ رشید نے 6 مئی کو لال حویلی میں اجلاس بلایا تھا جہاں 9 مئی کی پلاننگ کی گئی تھی۔

انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے سابق وزیراعظم عمران خان، شیخ رشید اور شیخ راشد شفیق کو 6 فروری کو عدالت طلب کرلیا۔

تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ کا مقدمہ: صنم جاوید کی درخواست ضمانت پھر سماعت ملتوی

لاہور کی انسداد دہشت گری عدالت لاہور کو تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں نامزد صنم جاوید کی درخواست ضمانت کو پھر سے ملتوی کرنا پڑا۔

لاہور کی انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت کے جج ارشد جاوید نے صنم جاوید کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

صنم جاوید کی جانب سے پیش ہونے کے وکیل نے دلائل دیے کہ پولیس نے کبھی نہیں بتایا تھا کہ صنم جاوید تھانہ شادمان حملہ کیس میں بھی مطلوب ہے، اس سے پولیس کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔ 10 مئی 2023 کو صنم جاوید کے خلاف ایم پی او آڈر جاری کیا گیا، عدالت نے ایم پی او آڈر کو کالعدم قرار دیا تو صنم جاوید کو دوسرے کیسز میں گرفتار کر لیا گیا۔

وکیل درخواست گزار نے مزید کہا کہ ایک کیس میں رہائی ملتی ہے تو دوسرے کیس میں گرفتار کر لیا جاتا ہے، کبھی یہ نہیں بتایا گیا کہ صنم جاوید اور کس کس کیس میں نامزد ہے۔

عدالت کے پوچھنے پر سرکاری وکیل نے مقف اختیار کیا کہ ہمیں تیاری کے لیے مزید مہلت دی جائے۔

عدالت نے سرکاری وکیل کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 6 فروری تک ملتوی کردی ۔

اسٹیبلشمنٹ کو سبق سیکھتے ہوئے الیکشن میں غیرجانبدار رہنا چاہیے، سراج الحق

لاہور: امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو الیکشن میں غیر جانبدار رہنا چاہیے۔

امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ الیکشن شفاف نہ ہوئے تو ملک میں زیادہ ہنگامے اور فساد ہوں گے۔ الیکشن کے حوالے سے اب بھی شکوک و شبہات برقرار ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ اور دیگر ریاستی ادارے غیر جانب دار رہے تو ہی انتخابات کی ساکھ اچھی رہے گی۔

سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ ایک حکومت لانے میں پوری طرح ملوث تھی لیکن اسٹیبلشمںٹ کو ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے غیر جانبدار رہنا چاہیے۔عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو بھی غیر جانبدار رہنا ہوگا۔ ایسا کرنا ان اداروں کی ساکھ کے لیے بھی بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2018 میں اسٹیبلشمنٹ جس حکومت کو اقتدار میں لائی اس کی وجہ سے فوج کو آج بھی تنقید کا سامنا ہے۔ حکومتی اتحاد میں شامل ہونے یا حزبِ اختلاف میں بیٹھنے کا فیصلہ الیکشن کے بعد کریں گے۔

امیر جماعت اسلامی کے مطابق ایسا دکھائی دیتا ہے کہ الیکشن کے نتیجے میں بہت سی چھوٹی بڑی جماعتیں قومی اسمبلی میں آئیں گی تو اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے جماعتِ اسلامی حکومت یا حزبِ اختلاف میں بیٹھنے کا فیصلہ کرے گی۔ جماعتِ اسلامی نے ملک بھر سے 700 سے زائد امیدواروں کو میدان میں اُتارا ہے اور ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ جماعت کے امیدوار اتنی بڑی تعداد میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔

مچھ آپریشن میں مارے گئے دہشتگردوں کی مزید تصاویر منظرِ عام پر آگئیں

بلوچستان کے علاقے مچھ میں سیکیورٹی فورسز کے کلئیرنس آپریشن میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مزید تصاویر منظرِ عام پر آگئیں، لاپتہ افراد کے نام پر ملک کو بدنام کرنے کی سازش بھی بے نقاب ہوگئی جبکہ مارے گئے دہشت گردعبدالودود ساتکزئی کو لاپتہ افراد میں شامل کرکے ریاست مخالف پروپیگنڈا کیا گیا۔

مچھ حملے میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مزید تصاویر منظر عام پر آگئیں جبکہ دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا کامیاب ”مچھ کلئیرنس آپریشن“ مکمل کیا جاچکا ہے، سیکیورٹی فورسز کی بروقت جوابی کارروائی سے تمام حملوں کو ناکام بنا دیا گیا، ”مچھ کلئیرنس آپریشن“ کے دوران مجموعی طور پر 24 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔

لاپتہ افراد کے نام پر ملک کو بدنام کرنے کی سازش بھی بے نقاب ہوگئی، بے نقاب ہونے والی سازش کی واضح مثال مچھ حملے میں ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کی شناخت ہے، دہشت گرد عبدالودود ساتکزئی جس کو لاپتہ افراد میں شامل کرکے ریاست مخالف پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا وہ مچھ حملے میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں ہلاک ہوگیا۔

اس سے قبل دہشت گرد امتیاز احمد ولد رضا محمد بھی لا پتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا، جو سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران مارا گیا۔

عبدالودود ساتکزئی کی ہلاکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لاپتا افراد کا پروپیگنڈا کرنے والے اور بلوچستان کے دہشت گرد عناصر ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جو وقتاً فوقتاً ریاست پاکستان کے خلاف حملہ آور ہوتے رہتے ہیں۔

ہلاک دہشت گرد عبدالودود ساتکزئی کی بہن 12 اگست2021 سے بھائی کی گمشدگی کا راگ الاپ رہی تھی۔ حالیہ لاپتہ افراد کے نام پر سیاست کرنے والی ماہ رنگ بلوچ جیسے عناصر بیرونی قوتوں کی ایماء پر ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلا رہے ہیں، جس کا مقصد بلوچستان کی ترقی کو روکنا ہے

اس سے قبل ایران کے علاقے میں جوابی حملے کے دوران بھی کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی کے دہشت گرد ہلاک ہوئے جنہیں ماہ رنگ بلوچ نے بطور بلوچ شہری تسلیم کیا، مچھ اور اس جیسے بہت سارے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث کالعدم تنظیموں کی مذمت ماہ رنگ بلوچ اور دیگر انسانی حقو ق کے علمبرداروں کی طرف سے کبھی نہیں کی گئی جن کی وجہ سے کئی معصوم بلوچوں کی جان گئی۔

صرف سال 2023 میں دہشت گردوں نے ضلع تربت میں 158 دہشت گردی کی کارروائیوں میں 66 افراد شہید جبکہ 30 سے زائد زخمی کیے، حال ہی میں بلوچستان نیشنل آرمی کے ہتھیار ڈالنے والے سرفراز بنگلزئی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ“ملک دشمن عناصر چندپیسوں کے عوض بلوچستان کے معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں“۔

قدرتی وسائل سے مالا مال سرزمین بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے یا ریاست مخالف حکمت عملی اپناتے ہوئے معصوم بلوچوں کے خوشحال بلوچستان کے خواب کی راہ میں رکاوٹ بننا ہے یہ فیصلہ ماہ رنگ بلوچ اور دہشت گرد عناصر کو کرنا ہے۔

“میں نے اپنی قبر کی جگہ مختص کروالی ہے”، مصطفیٰ قریشی

کراچی: پاکستان شوبز انڈسٹری کے لیجنڈری اداکار مصطفیٰ قریشی نے انکشاف کیا ہے کہ اُنہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنی قبر کی جگہ مختص کروادی ہے۔

حال ہی میں سینیئر اداکار مصطفیٰ قریشی نے یوٹیوب چینل کو انٹرویو دیا جس میں اُنہوں نے اپنی اہلیہ گلوکارہ و اداکارہ روبینہ اشرف قریشی کے انتقال سے متعلق گفتگو بات کی۔

مصطفیٰ قریشی نے کہا کہ “میری اہلیہ کی تدفین کراچی میں عبداللہ شاہ غازی مزار کے احاطے میں کی گئی تھی اور محکمہ ثقافت سندھ نے میری اہلیہ کی قبر کے لیے محکمہ اوقاف کو 5 لاکھ روپے کا معاوضہ بھی دیا تھا”۔
سینیئر اداکار نے کہا کہ “مجھے یہ لگتا ہے کہ میری اہلیہ کی قبر کے عوض میں سندھ حکومت نے پیسے ایک جیب سے نکال کر دوسری جیب میں ڈالے”۔

اُنہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “میری خواہش ہے کہ میرے انتقال کے بعد میری تدفین بھی میری اہلیہ کی قبر کے قریب ہی کی جائے لہٰذا میں نے اپنے لیے قبر کی جگہ مختص کروادی ہے کیونکہ وہاں صرف ایک ہی قبر کی جگہ بچ گئی تھی”۔

مصطفیٰ قریشی نے کہا کہ “میں نے محکمہ ثقافت کو میری قبر کا معاوضہ دینے سے منع کردیا ہے لیکن میری خواہش ہے کہ محکمہ اوقاف مجھ سے قبر کا معاوضہ نہ لے بلکہ کسی بھی فنکار سے قبر کا معاوضہ نہیں لینا چاہیے”۔

اداکار نے مزید کہا کہ “مجھے بھی اپنی قبر کے لیے 5 لاکھ روپے دینے ہیں لیکن فی الحال میں نے پیسے نہیں دیے ہیں اور قبر کی جگہ پر پتھر رکھ دیا ہے، جس پر لکھا ہے کہ جگہ مختص برائے مصطفیٰ قریشی”۔

واضح رہے کہ مصطفیٰ قریشی کی اہلیہ گلوکارہ و اداکارہ روبینہ قریشی سال 2022 میں دنیا سے کوچ کرگئی تھیں۔

روزویلٹ ہوٹل، مالیاتی مشاورتی خدمات کے معاہدے پر دستخط

اسلام آباد: روز ویلٹ ہوٹل کی مشترکہ ڈیولپمنٹ کے حوالے سے جے ایل ایل کی سربراہی میں قائم کنسورشیم کے ساتھ روزویلٹ ہوٹل کی مشترکہ ڈیولپمنٹ کے حوالے سے ایک مالیاتی مشاورتی خدمات کا معاہدہ طے پاگیا۔

وزارت نجکاری کے مطابق نجکاری کمیشن کے دفتر میں جے ایل ایل کی سربراہی میں قائم کنسورشیم کے ساتھ روزویلٹ ہوٹل کی مشترکہ ڈیولپمنٹ کیلیے ایک مالیاتی مشاورتی خدمات کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں،روزویلٹ ہوٹل، نیویارک، امریکا میں پی آئی اے آئی ایل کی ملکیتی جائیداد ہے۔

نگراں وفاقی وزیر نجکاری و آئی پی سی فواد حسن فواد نے تقریب میں شرکت کی، اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے عزم ظاہر کیا کہ دنیا کے مالیاتی دارالحکومت کے مرکز میں واقع تاریخی اور اہم مقام کو جدید ترین معیارات کے ساتھ ایک شاندار ڈھانچے کے طور پر تیار کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے مالیاتی مشاورتی کنسورشیم کی صلاحیت اور مہارت پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ بہترین ممکنہ شراکت داروں کو تلاش کیا جائے گا،حکومت پاکستان کیلیے اس کی ترقی سے زیادہ سے زیادہ ممکنہ قدر حاصل کی جا سکے گی۔

دستخط کے بعد ہونے والی میٹنگ میں تفصیلی روڈ میپ اور تکمیلی مدت پر بھی اتفاق کیا گیا جس کے نتیجے میں پروجیکٹ کیلیے ممکنہ جوائنٹ وینچر پارٹنرز کی شناخت اور انتخاب کیا جائے گا۔