شاہ محمود قریشی 5 سال کیلئے نااہل، الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری

 اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو5 سال کے لیے نااہل قرار دے دیا اور نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی اور عمران خان کو سائفر کیس میں 10،10 سال قید کی سزا ہوئی۔

الیکشن کمیشن ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل لا نے بتایا کہ آئین و قانون کے مطابق کوئی سزا یافتہ مجرم انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا اور الیکشن کمیشن نے شاہ محمود قریشی کی پانچ سالہ نااہلی کا نوٹیفیکیشن باقاعدہ طور پر جاری کر دیا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کےآرٹیکل 63 ون کے تحت شاہ محمودقریشی کو نااہل قراردیا گیا ہے کیونکہ خصوصی عدالت 10 سال کی سزا دے چکی ہے اور مجرم قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ سائفر کیس میں خصوصی عدالت نے شاہ محمود قریشی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

شاہ محمود قریشی نے جج ابوالحسنات کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا بیان ریکارڈ نہیں کرایا گیا اور بیان سے قبل ہی سزا دی گئی ہے۔

کراچی؛ صوبائی الیکشن کمیشن آفس کے باہر دھماکے کا مقدمہ درج

  کراچی: سی ٹی ڈی پولیس نے صدر میں صوبائی الیکشن کمیشن آفس کے باہر دھماکے کا مقدمہ نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف درج کرلیا. 

کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) ساؤتھ پولیس نے پریڈی تھانے کے ایس ایچ او زاہد علی کی مدعیت میں صوبائی الیکشن کمیشن آفس کے باہر جمعرات کی شب ہونے والے بم دھماکے کا مقدمہ درج کر لیا۔

 

 

مقدمہ الزام نمبر 18 سال 2024 ایکسپلوزیو ایکٹ اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ کو شامل کیا گیا ہے، مدعی مقدمہ کے مطابق جمعرات کی شب 8 بجے شاہراہ عراق الیکشن کمیشن آفس کے سامنے فٹ پاتھ پر دھماکا ہوا واقعہ کی اطلاع ملتے ہی موقع پر دیگر نفری کے ہمراہ پہنچ کر فوری طور پر بم ڈسپوزل یونٹ اور کرائم سین یونٹ کو طلب کیا۔

بم ڈسپوزل یونٹ نے کارروائی عمل میں لاتے ہوئے شواہد جمع کیے اور موقع سے ٹائمر ڈیوائس اور 12 وولٹ کی بیٹری ملی، موقع سے ڈیٹونیٹر دیسی ساختہ جس میں ٹائم ڈیوائس تھی برآمد کیا۔

مقدمہ کے مطابق دہشت گردی کی نیت سے ٹائم ڈیوائس سے دھماکا کیا گیا جس پر سی ٹی ڈی پولیس نے نامعلوم ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی ۔

کراچی میں بارش کے بعد اربن فلڈنگ، کئی علاقوں میں بجلی معطل

  کراچی: شہر قائد کے مختلف علاقوں میں تیز بارش کے بعد سڑکیں زیر آب آگئیں جبکہ 700 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہونے سے مختلف علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق مغرب کے بعد شہر میں بارش کا سسٹم برسنا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے تقریبا تمام علاقوں میں موسلادھار بارش ہوئی۔

 

 

لانڈھی، کورنگی، ڈیفنس، کلفٹن، آئی آئی چند ریگر روڈ، ٹاور، کیماڑی، بولٹن مارکیٹ، صدر، گلستان جوہر، گلشن اقبال، نیپا، لیاقت آباد، سرجانی سمیت مختلف علاقوں میں 20 منٹ سے زائد وقت تک تیز بارش ہوئی اور اس دوران ہوا کے جھکڑ بھی چلے۔

 

ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں حفاظتی انتظامات کئے تحت بجلی کو بندکیا گیا ہے۔

 

 

تیز بارش کے باعث شہر کی مختلف سڑکیں زیر آب آگئیں اور تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جس کی وجہ سے شہریوں کی موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں بھی بند ہوئیں۔

اس کے علاقے شہر میں بارش کے بعد 700 سےز ائد فیڈرز ٹرپ ہوگئے جس کے باعث لیاقت آباد، گلشن اقبال، ناظم آباد، پی آئی بی، معمار اور لانڈھی مختلف علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔

علاوہ ازیں نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے کراچی کے کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔

سی ای او واٹر کارپوریشن انجینئر سید صلاح الدین احمد نے شہر بھر میں ممکنہ بارش کے پیش نظر واٹر کارپوریشن میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے چیف انجینئر سیوریج کو تمام جیٹینگ و سکشن مشینوں ہمہ وقت تیار رکھنے کے احکامات جاری کردیے۔

ترجمان واٹر بورڈ کے مطابق تمام ایگزیکٹو انجینئرز کو اپنے اپنے علاقوں میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ کہا گیا ہے کہ بارش سے قبل شہر بھر کی تمام اہم شاہراہوں پر مشینری پہنچا دی جائے۔

پاکستان اور یو ای اے کے درمیان میرین اور لاجسٹک سیکٹرز میں تعاون کیلئے یادداشت پر دستخط

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان میرین اور لاجسٹک سیکٹرز میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوگئے۔

وزیراعظم پاکستان کے میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کراچی پورٹ ٹرسٹ پاکستان اور ابوظہبی پورٹس گروپ یو اے ای کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخطوں کی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

یہ ایک تجارتی معاہدہ ہے جو کراچی بندرگاہ کے ایسٹ وہارف کی سات برتھوں پر بلک اور جنرل کارگو ٹرمینل کے آپریشن کی آئوٹ سورسنگ سے متعلق ہے۔

اس کا مقصد میرین اور لاجسٹک کے شعبوں میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانا ہے۔

 

 

اس موقع پر نگران وزیرمواصلات، ریلوے و میری ٹائم افیئرز شاہد اشرف تارڑ اور متحدہ عرب امارات کے وزیر تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی، پاکستان میں یو اے ای کے سفیر حمد عبید ابراہیم سلیم الزابی اور دونوں ممالک کے حکام موجود تھے۔

نگران وزیراعظم نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی شعبہ میں تعاون و بات چیت اور تبادلوں میں اضافہ پر اطمیان کا اظہار کیا۔

عمران خان کے خلاف اب قانون حرکت میں آیا تو خود کو مظلوم کہہ رہے ہیں، فضل الرحمان

لکی مروت: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف اب قانون حرکت میں آیا ہے تو وہ خود کو مظلوم کہہ رہے ہیں۔

پشاور کے ضلع لکی مروت میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ایک تحریک کا نام ہے اور جماعت نے ہمیشہ غریبوں کی نمائندگی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم مسلمان ہو کر تمام عبادتیں پوری کرتے ہیں جو ہم سب کے ذاتی معاملات ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان نے ملک پاکستان دشمن ممالک سے لاکھوں ڈالر وصول کیے ہیں اور اب ایمان دار بن رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت عوام کا روزگار ختم کرنے کے ایجنڈے پر کار بند رہی اور اعلان یہ کیا کہ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، 50 لاکھ گھر بنانے کے بجائے 50 لاکھ گھر مسمار کر دیے۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ عمران خان اب جیل میں پڑا ہے، ریاست مدینہ کے نعرے لگا کر اب ریاست کی بھی ان کو سمجھ نہیں آ رہی، ان سے کوئی پوچھے کہ ریاست مدینہ کسے کہتے ہیں۔

عمران خان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہتے ہیں کہ ہمارے خلاف کچھ نہ ہو باقی سب کے خلاف قانون حرکت میں آئے، اب ان کے خلاف قانون حرکت میں آیا ہے تو کہتے ہیں ہم مظلوم ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے کہا گیا کہ باہر سے پیسہ آئے گا اور ہم خیبر پختونخوا کو بنائیں گے اور مولانا پیسے تم خود تقسیم کرنا۔

ہمارے بچوں کو تمام انگریزی نظمیں یاد ہیں اور اردو سے اُن کا رابطہ ختم ہوگیا، نگراں وفاقی وزیر

  کراچی: نگراں وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت سید جمال شاہ نے کہا ہے کہ ہمارے بچے خود سے بے گانے ہورہے ہیں، انہیں انگریزی کی تو تمام نظمیں یاد ہیں مگر اب اُن کا اردو سے رابطہ ختم ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی آرٹس کونسل کے حسینہ معینہ ہال میں نگراں وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت سید جمال شاہ اور نگراں صوبائی وزیر اطلاعات و اقلیتی امور محمد احمد شاہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

نگراں وفاقی وزیر نے کہا کہ میں حادثاتی طور پر وزیر بنا اور ایسی وزارت میرے پاس ہے جسے میں خود کمی کمین منسٹری کہتا ہوں۔

انہوں نے ثقافت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم تضادات سے معاشرے میں رہے رہے ہیں، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس ملک کی تاریخ صدیوں پرانی ہے مگر افسوس یہ ہے کہ ہم نے اس کی ثقافت کو اُس طرح اجاگر نہیں کیا جیسا اس کا حق تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم شروع سے اپنی ثقافت کو ٹھیک طریقے سے اجاگر کرتے تو حالات مختلف ہوتے، اب اس معاملے میں آرٹس کونسل اور اس کے صدر محمد احمد شاہ اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس کے بعد حالات میں تبدیلی بھی نظر اارہی ہے۔

نگراں وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ہمارے بچے خود سے بے گانے ہورہے ہیں، انہیں انگریزی کی ہر نظم یاد ہے لیکن اُن کا اردو اور اپنی مادری زبان سے رابطہ ختم ہورہا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت کو اجاگر کرنے کیلیے ہم نے اپنے محکمے میں تمام زبانوں کے افراد کو جمع کرلیا ہے جس کے بعد اُن ہی زبانوں میں اینیمیٹڈ نظمیں بنائیں گے اور پھر ورثہ ٹی وی لانچ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مدارس میں خطاطی کی تعلیم شروع کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے جبکہ کئی قدیم مساجد سمیت دیگر تاریخی عمارتوں کی تزئین و آرائش بھی شروع کردی ہے اور امید کرتے ہیں کہ نئی حکومت اس کام کو آگے بڑھائے گی۔

جمال شاہ نے کہا کہ ’جب تک ہماری ثقافت مظبوط نہیں ہو گی ہم بین الاقوامی طور پر آگے نہیں جا سکتے، اسلام آباد بہت خوبصورت شہر ہے آج تک کسی گورنمنٹ نے کوشش نہیں کی کہ وہاں پر میوزیم بنے اور ہم نے منظور بھی کروالیا ہے ہم یہ کوشش کر رہے ہیں جس میں امریکا فرانس بھی ہماری مدد کرے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ 150 سینیما ایسے ہیں جہاں عام لوگ نہیں جاسکتے اب ہم کوشش کریں گے کہ ایسے سینما بنائیں کہ جس میں عام عوام بھی آئے ۔نگراں وزیر قومی ورثہ جمال شاہ نے مزید کہا کہ پاکستان وہ ملک ہے جس میں قومی نصاب نام کی کوئی چیز نہیں ہے ہمارے نصاب میں ہماری زبانوں کے بارے میں ہمارے ثقافت کے بارے بھر پور طریقے سے نہیں بتا یا گیا اب ہماری زبان کو قومی زبان کہہ کر دکھیل دیا گیا ہے ہمارا جو نصاب ہے اس میں اس کی چاشنی اور خوبصورتی کاجھلکنا بہت ضرورت ہے ہم آج کا مقابلہ پندرہ سال پہلے سے کریں تو کافی تبدیلی آ چکی ہے ہماری کوشش ہو گی کہ ہم اپنا ورثہ واپس لیں روز ہمیں کلچر کو سیلبریٹ کرنا چاہیے۔

قبل ازیں آرٹس کونسل پہنچنے پر نگراں صوبائی وزیر اطلاعات اقلیتی امور ،سماجی تحفظ وصدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے نگراں وزیر قومی ورثہ و ثقافت سید جمال شاہ کو خوش آمدید کہا۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم یہاں آج دو لوگ موجود ہیں، ہماری ایک ہی شناخت ثقافت اور ادب ہے، اتفاق سے ہم دونوں ہی وزیر ہو گئے۔ جمال شاہ وفاقی وزیرثقافت اور قومی ورثے کے ہیں، میں صوبائی وزیر اطلاعات ہوں۔

محمد احمد شاہ نے کہا کہ ’جمال شاہ کو آپ سب فلم میکر،اداکار اور فنون لطیفہ کی شخصیت کے طور پر جانتے ہیں، وہ کراچی تشریف لائے، حیدرآباد کا دورہ کیا۔جمال شاہ کا آرٹس کونسل سے ثقافتی رشتہ ہے، ہمیں ساری دنیا میں پاکستان کا مثبت چہرہ دکھانا ہے۔ہم نے جمال شاہ سے ایک قریبی تعلق رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمال شاہ نے فلم کی پالیسی بنائی، جمال شاہ نے ثقافت کے فروغ کے لیے بہت کام کیا ہے۔ہم ڈپلومیسی میں ناکام ہو گئے کلچر سب کو جوڑنے کاواحد ہتھیار ہے ہم اگر اپنی ثقافت کو ساتھ لے کر چلتے پوری دنیا میں تو حالات مختلف ہوتے۔کلچر کی قدر نہ ہونے سے جو نقصان ہوئے ہی وہ آپ کے سامنے ہے۔جمال شاہ نے فلم کی پالیسی اور گیلری بھی بنائی ہے۔

نگراں وزیراعلیٰ نے کراچی میں طلبا کو فیل کرنے پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنادی

  کراچی: نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے انٹرمیڈیٹ کے نتائج میں بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے چار رکنی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔

انکوائری کمیٹی میں وی سی این ای ڈی ڈاکٹر سروش لودھی (کنوینر)، ایگزیکٹو ڈائریکٹرآئی بی اے کراچی ڈاکٹر اکبر زیدی، سیکریٹری ایچ ای سی معین الدین صدیقی اور ایک اور ممبر شامل ہوں گے۔

 

کمیٹی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی کے سالانہ امتحانات 2023 کے دوران گیارہویں جماعت کے طلبہ کی پاسنگ پرسنٹیج میں اچانک کمی کے باعث نتائج میں مبینہ ہیرا پھیری کے معاملے کی تحقیقات کرے گی۔

کمیٹی بے ضابطگیوں میں ملوث افسران/اہلکاروں کا تعین کرے گی اور اگر کوئی ملوث پایا گیا  تواس سلسلے میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ کمیٹی 15 دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

تربت کے سیلاب زدہ علاقے میں پاک فوج کا کامیاب ریسکیو آپریشن

راولپنڈی / کوئٹہ: پاک فوج اور ایف سی نے تربت کے سیلاب زدہ علاقے سامی میں کامیاب ریسکیو آپریشن کر کے شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔

تربت کے علاقے سامی میں سیلاب کے بعد علاقہ مکین مشکل صورتحال میں پھنس گئے تھے، جس پر پاک فوج نے سیلاب میں پھنسے شہریوں کے انخلا کا بروقت فیصلہ کیا اور 3 فروری کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے دستوں نے تربت کے سیلاب زدہ علاقے سامی میں کامیاب ریسکیو اور ریلیف آپریشن کیا۔

آپریشن کا مقصد سیلاب سے متاثرہ علاقے میں پھنسے ہوئے بچوں سمیت 9 افراد کو نکالنا تھا۔ ریسکیو کئے جانے افراد کو قریبی فرنٹیئر کور (جنوبی بلوچستان) کیمپ میں بروقت طبی امداد اورضروری ادویات فراہم کی گئی۔

علاقہ مکینوں نے پاک فوج اور ایف سی کے بروقت اقدامات پر خوشی کا اظہار کیا۔مسلح افواج قدرتی آفات میں لوگوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے کسی بھی ابھرتے ہوئے چیلنج کا جواب دینے کے لیے چوکس ہے۔

پاکستان کا بہت نقصان کرنے والی وائرل بیماری ہمیشہ کیلیے ختم ہوگئی، مریم نواز

گوجرانوالا: مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ پاکستان کا بہت نقصان کرنے والی وائرل بیماری ہمیشہ کیلیے ختم ہوگئی۔

گوجرانوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پاکستان میں وائرل بیماری آگئی تھی جو پانچ سات سال رہی اور عوام کا بہت نقصان کرگئی، لیکن اب اب ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ اس وائرل بیماری کو سب سے پہلے گوجرانوالہ نے مار بھگایا تھا، جو لانگ مارچ لائے تھے وہ گوجرانوالہ سے بھاگ گئے۔
مریم نے مزید کہا کہ کسی نے پچاس لاکھ گھر کا وعدہ کیا تھا اور ایک گھر بھی نہیں دیا۔ نواز شریف نے پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کیا ہے تو ضرور دے گا، انتقام کی سیاست ختم کر کے ترقی کا سفر شروع کریں گے۔

آج کی سزا عمران خان کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش ہے، ہائیکورٹ میں چیلنج کرینگے، بیرسٹر گوہر

راولپنڈی: عمران خان کے وکیل اور پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ آج کا فیصلہ عمران خان کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش ہے جسے ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے ساتھ ہی بشریٰ بی بی کو بنی گالہ سے اڈیالہ جیل منتقلی کی بھی درخواست دیں گے۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدت کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ آج ایک بجے فیصلہ سنانا تھا لیکن ساڑھے تین بجے فیصلہ سنایا گیا، جو توقع تھی وہی ہوا، غیر اخلاقی قسم کے الزامات لگائے گئے اور ایک بے ہودہ کیس میں 7 سال قید دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جج کو کہا کہ آپ کے لیے قربانیاں دی تھیں، آپ سے مایوسی ہوئی ہے یہ وہ کیس ہے جس کا نہ سر ہے اور نہ پیر، یہ کیس عون چوہدری کی خواہش پر بنایا گیا، مولوی کا فتویٰ ہے کہ عدت پوری ہوجاتی ہے جب خاتون کہے، دو دن کے اندر 14، 14 گھنٹے سماعت کرکے کیس مکمل کیا گیا اور ہمیں ثبوت پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ زبانی فیصلہ سنایا اور کاپی نہیں دی، یہ سب کچھ سیاسی مقاصد کے لیے ہورہا ہے یہ سب عمران خان کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش ہے، عمران خان نے کہا ہے کہ نیب کے پہلے کیس توشہ خانہ میں بھی ہمیں سزا ہوئی یعنی جس کی حکومت سازش کرکے ختم کی گئی اسی کے خلاف اب کیسز چلائے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں صرف پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کیا گیا پاکستان کی تاریخ میں ہماری پارٹی سے انتخابی نشان لیا گیا ہم انصاف کے لیے ہائی کورٹ جائیں گے، ہمیں امید ہے انصاف ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جج کے پاس ججمنٹ نہیں تھی ملزمان کے پاس جو سپریم کورٹ کے فیصلے کی اسٹیڈنگ ہے وہ اس کیس میں لاگو نہیں ہوتی ہم نے کہا تھا کہ 1 جنوری کو نکاح ہوا اور ایک تقریب میں دعا کے لیے فنکشن کیا ہے، جج نے کہا نکاح نامہ بھی ایک ہے، پہلے نکاح نامہ کو مسترد کرتا ہوں اور دوسرے کو جائز سمجھتا ہوں، تیزی کے ساتھ سزا سنائی گئی اور زیادہ سے زیادہ سنائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے گواہ کا نام نہیں بتا سکتے، ہم نے جج کو کہا تھا کہ گھر کے ایک اور بندے کو لاتے ہیں، اب عمران خان اور بشری بی بی کو نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہے عدالت نے دوسرے نکاح کو جائز قرار دے دیا ہے۔

انہوں ںے کہا کہ اب ہم بشری بی بی کو بنی گالا سے واپس اڈیالہ جیل لانے کے لیے درخواست دیں گے، ہائی کورٹ میں بہت جلد درخواست دیں گے، اگر چھٹیاں نہیں ہیں تو آج ہی درخواست دیں گے کیوں کہ بشری بی بی کسی ڈیل کے تحت بنی گالا نہیں گئیں۔

انہوں ںے مزید کہا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ ہزار سال بھی یہاں رہنا پڑا تو رہوں گا، عوام پُرامن رہیں اور 8 فروری کو باہر نکلیں۔

عدت کیس مجھے ذلیل کرنے کے لیے بنایا گیا، عمران خان

راولپنڈی: عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے کہا ہے کہ یہ غیرت اور بے غیرتی کی جنگ ہے، فیصلہ عوام کو کرنا ہے۔

غیر شرعی نکاح کیس میں سزا کے بعد بشریٰ بی بی کا ردعمل سامنے آگیا، صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انہوں ںے کہا کہ عدت کا معاملہ قرآن مجید میں واضح ہے میرے رب نے قرآنِ پاک میں عدت سے متعلق پہلے ہی بتا دیا ہے آج کا فیصلہ ابلیس کا فیصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ غیرت اور بے غیرتی کی جنگ ہے، فیصلہ عوام کو کرنا ہے۔

راولپنڈی: پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ عدت کیس مجھے ذلیل کرنے کے لیے بنایا گیا اور اس میں پوری کوشش کی گئی ہے کہ مجھے ذلیل کیا جائے، میں آج بھی کہتا ہوں نہ ڈیل کی اور نہ کروں گا مرجاؤں گا لیکن کبھی ڈیل نہیں کروں گا۔

غیر شرعی نکاح کیس میں سزا ملنے کے بعد صحافیوں سے گفت گو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مجھے توشہ خانہ کیس میں جو سزا دی آج تک کسی کو نہ دی گئی جب کہ عدت کیس مجھے ذلیل کرنے کے لیے بنایا گیا اور اس میں پوری کوشش کی گئی ہے کہ مجھے ذلیل کیا جائے۔

عمران خان نے کہا کہ مجھ پر 200 کیسز بنائے گئے آج تک کسی کے خلاف اتنے کیسز نہیں بنائے گئے، میں آج بھی کہتا ہوں نہ ڈیل کی اور نہ کروں گا میں مرجاؤں گا لیکن کبھی ڈیل نہیں کروں گا۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نااہل کیا، جے آئی ٹی بنی لیکن سب کیسز ختم کردیے گئے، شہباز شریف کے خلاف ایف آئی اے کا مضبوط کیس تھا ختم کردیا گیا۔
انہوں ںے مزید کہا کہ ملک پر چار سو ڈورن حملے ہوئے ان میں سے کوئی بولا ہی نہیں، اب باہر سے غلام آگیا ہے وہ نوکری کرے گا ان کی۔

اقتدار میں آکر پھر ترقی کا سفرشروع کریں گے، نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ اقتدار میں آکر ایک بار پھر ترقی کا سفر شروع کریں گے، ہم سی پیک کے ذریعے 60 ارب روپے کی سرمایہ کاری لائے۔

گوجرانوالا میں جلسے سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی اصل یوتھ ہمارے ساتھ ہے، بڑے کا ادب اور چھوٹوں کا خیال کرنے والی اصل یوتھ ہے۔

انھوں نے کہا کہ نوجوانوں کو باعزت روزگارکی فراہمی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، میرے دورمیں کرپشن کم ہوئی تھی۔

قائد ن لیگ کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک سے لوڈشیڈنگ ختم کی، ہمارے دورمیں غربت بھی کم ہورہی تھی، ہمارے دورمیں پاکستان ترقی کررہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا، ہم سی پیک لارہے تھے اور یہ دھرنے دے رہے تھے، ہم سی پیک کے ذریعے 60 ارب روپے کی سرمایہ کاری لائے، یہ دھرنا دے رہےتھے ہم ترقیاتی کام کروا رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ شہبازشریف نے کام کیے اور نام میرا لے رہے ہیں، موٹروے شہبازشریف بنوا رہے تھے، بجلی کے کارخانے بھی شہبازشریف نے لگوائے ہیں۔

عدت میں نکاح کا کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 7 ،7سال قید کی سزا سنا دی گئی

راولپنڈی: دورانِ عدت نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 7، 7 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

اڈیالہ جیل میں غیر شرعی نکاح کیس کی سماعت ہوئی، جس میں معزز جج نے ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ اس موقع پر بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔

عدالت نے غیر شرعی نکاح کا جرم ثابت ہونے پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 7، 7 سال قید کی سزا کا حکم سنا دیا۔ عدالت کے جج قدرت اللھ نے سزا میں دونوں ملزمان کو 5، 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔

عدالت مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ غیر شرعی نکاح کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

قبل ازیں عدالت نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ سینئر سول جج قدرت اللہ نے اڈیالہ جیل میں غیر شرعی نکاح کیس کی 14 گھنٹے طویل سماعت کرنے کے بعد دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

دوران سماعت استغاثہ کے چاروں گواہوں پر جرح مکمل کی گئی، جس میں بانی پی ٹی آئی کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجا نے گواہوں سے جرح کی جب کہ بشریٰ بی بی کی جانب سے وکیل عثمان ریاض گل نے گواہوں پر جرح کی۔ گواہوں میں خاور مانیکا، عون چوپدری، نکاح خواں مفتی سعید اور ملازم لطیف عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

عدالت کے حکم پر بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلا نے 342 کا بیان جمع کرایا، جس میں 13، 13 سوالات کے جوابات دیے گئے تھے۔ دونوں ملزمان کی جانب سے سلمان اکرم راجا نے جوابات تحریر کرائے۔عدالت میں 342 کے بیانات کے بعد شکایت کنندہ کے وکیل راجا رضوان عباسی نے حتمی دلائل دیے جب کہ ملزمان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے شہادت صفائی اور دلائل پیش کیے اور ایک گواہ کو پیش کرنے کی اجازت مانگی۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ’گواہ بشریٰ بی بی کے گھر کا ایک فرد ہے، اُس کا نام نہیں بتاؤں گا البتہ اُسے عدالت لانے کی اجازت دی جائے‘۔ عدالت نے شہادت صفائی میں گواہ پیش کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

بعد ازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جسے آج مختصراً جاری کردیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ 5 دنوں میں تین بڑے عدالتی فیصلوں میں سابق وزیراعظم اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو مجموعی طور پر 31 سال اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 19 سال کی سزا سنائی ہے۔