آئی ایم ایف معاہدہ ہم نے نہیں کیا، کہیں غلط ہوں تو علمائے کرام اصلاح کریں، راناثناء

رہنما ن لیگ اورسابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ ہماری حکومت ختم کرکے ترقی کا سفرروکاگیا، ہم کہیں غلط ہوں توعلما کرام اصلاح کریں۔

فیصل آباد میں زاہد محمود قاسمی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مولانا زاہد محمود قاسمی نے ن لیگ کی حمایت کا اعلان کیا ہے، مرکزی علماء کونسل کی صوبائی قیادت کا شکر گزار ہوں، مرکزی علماء کونسل دینی مشن پرعمل پیرا ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 2017میں پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا لیکن اب مہنگائی نے پورے ملک کو جکڑا ہوا ہے۔مسلم لیگ (ن) الیکشن جیت کر ملک کو مشکلات سے نکالے گی، قوم اعتبارکرے، ہم مہنگائی کے طوفان سے نکالیں گے۔

لیگی رہنما کے مطابق اس وقت آئی ایم ایف سے جو معاہدہ ہے وہ ہم نے نہیں کیا، ایک نمونہ اس ملک پر مسلط ہوا یہ معاہدہ اسی نے کیا ہے، اس معاہدے میں درج ہے آپ تمام سبسڈی ختم کریں گے، اس میں لکھا ہے معاہدے کے تحت حکومت سبسڈی نہیں دے سکتی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہم کہیں غلط ہوں تو علمائے کرام ہماری اصلاح کریں، ختم نبوتﷺ کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ 2017 میں پاکستان ترقی کی راہ پر چل پڑا تھا، اگلے 3،2 سال مل جاتے تو پاکستان ترقی کرچکا ہوتا، دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ مہنگائی سے بڑھ کرعذاب تھا، قوم ہم پر اعتبار کرے ن لیگ مہنگائی سے نکالے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کی قیادت میں مہنگائی کو ختم کریں گے، ہم نے ماضی میں لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی پر بھی قابو پایا ہے، ن لیگ 8 فروری کے بعد حکومت بناکر ترقی کا سفر دوبارہ شروع کرے گی، 9 فروری سے ترقی کا سفر دوبارہ شروع ہوگا۔

کراچی میں بلاول کی ریلی- شہر اب ہمارے ہاتھ میں ہے، شیریں رحمان

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلزپارٹی کی انتخابی ریلی کا آغاز ہوگیا۔

ریلی کی قیادت بلاول بھٹو کررہے ہیں، پیپلز پارٹی کی ریلی شیریں جناح کالونی پہنچے گی، جس کے بعد ریلی کیماڑی اور ٹاور سے گزر کر لی مارکیٹ پہنچے گی۔

ریلی چاکیواڑہ، شیرشاہ، سائٹ، پاک کالونی سے ہوتی ہوئی پرانا گولیمار جائے گی، اس کے بعد ریلی نشتر روڈ، لسبیلہ، گلبہار سے ہوتی ہوئی رضویہ چورنگی پہنچے گی، جس کے بعد ریلی ناظم آباد، پیٹرول پمپ، لیاقت آباد 10 نمبر کے راستے سے حسن اسکوائر جائے گی۔

پیپلز پارٹی کی ریلی یونیورسٹی روڈ سے ہوتے ہوئے صفورا اور ملیرکینٹ جائے گی، جس کے بعد ملیر کالا بورڈ سے ہوتے ہوئے داؤد چورنگی پر ریلی کا اختتام ہوگا۔

سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کنٹینر پر موجود ہیں، وہ ریلی کے مختلف مقامات پر خطاب کریں گے۔

رہنما پیپلز پارٹی شیری رحمان
دوسری جانب کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ ریلی 7 اضلاع میں جائے گی، اب یہ شہر ہمارے ہاتھ میں ہے، ہمارے میئر کو اب 6 ماہ ہوئے ہیں، کراچی ایک میگا سٹی ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ پہلی مرتبہ ساری حکومتیں ہماری ہوں گی، بلاول بھٹو کہتے ہیں کراچی میں لینڈ کرتا ہوں تو سکون ملتا ہے، پیپلز پارٹی ہر وہ کام کرے گی جو وہ کرسکتی ہے، اس وقت لوگوں کو جو مسائل ہیں،وہ ہمارے لیے اہم ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کہتے ہیں انتقام کی سیاست نہیں کریں گے، اس وقت لوگوں کے مسائل ہیں،ان کو حل کریں گے۔

فٹبال ورلڈ کپ 2026 کا فائنل نیو جرسی میں کھیلا جائے گا

فٹبال ورلڈ کپ 2026 کا افتتاحی میچ نیو میکسیکو سٹی میں کھیلا جائے گا جبکہ فائنل کی میزبانی نیو جرسی کرے گا۔ 19 جولائی کے میچ کی میزبانی کے لیے نیو یارک کی بولی کو ڈیلاس کی طرف سے غیر معمولی مسابقت کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ 2026 کا فٹبال ورلڈ کپ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں ہو رہا ہے۔ اس بار ٹورنامنٹ میں 48 ٹیمیں شریک ہو رہی ہیں۔

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے اعلان کیا ہے کہ ورلڈ کپ کا فائنل نیو یارک، نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

فیفا کے صدر گایانی انفینٹینو نے بتایا ہے کہ ٹورنامنٹ کا افتتاحی میچ 11 جون کو میکسیکو سٹی کے ایزٹیکا اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ 16 جدید ترین اسٹیڈیمز میں 104 میچ کھیلے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹورنامنٹ گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے۔

اٹلانٹا اور ڈیلاس سیمی فائنلز کی میزبانی کریں گے جبکہ تیسری پوزیشن کا میچ میامی میں کھیلا جائے گا۔

فیفا ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل لاس اینجلس، کینساس سٹی، میامی اور بوسٹن میں کھیلے جانے ہیں۔

1994 کا فیفا ورلڈ کپ بھی امریکا میں کھیلا گیا تھا اور فائنل کی میزبانی لاس اینجلس کے نزدیک پاساڈینا میں دی روز باؤل نے کی تھی۔

تب نیو یارک میں فیفا ورلڈ کپ کے میچ پرانے جاینٹس اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تھے جسے بعد میں مسمار کرکے میٹ لائف اسٹیڈیم تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کا افتتاح 2010 میں کیا گیا تھا۔

فیفا ورلڈ کے صدر نے شمالی امریکا میں ایک لائیو ٹی وی براڈ کاسٹ میں میچوں کے شیڈول کا اعلان کیا۔ اس موقع پر سیلیبرٹی کم کردیشیان، ریپر ڈریک اور کامیڈین کیوِن ہارٹ بھی موجود تھے۔

نیو یارک کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں 82 ہزار 500 تماشائیوں کی گنجائش ہے۔ یہ این ایف ایل کی نیو یارک جاینٹس اور نیو یارک جیٹس کا گھر ہے تاہم یہاں 2016 کے کوپا امریکا ٹورنامنٹ کے فائنل سمیت کئی بین الاقوامی میچ ہوچکے ہیں۔

فیفا نے ڈیلاس پر خاص نظرِ کرم کی ہے اور اسے 2026 کے ورلڈ کپ کے 9 میچوں کی میزبانی دی گئی ہے۔

نیو میکسیکو کا ایزٹیکا اسٹیڈیم 1970 اور 1986 کے ورلڈ کپ کے بعد 2026 کے ورلڈ کپ میں میزبانی کے ذریعے پہلا اسٹیڈیم ہوگا جس میں تین ورلڈ کپس کے میچ کھیلے گئے ہوں۔

ایزٹیکا اسٹیڈیم نے 1986 اور 1970 میں فائنل کی میزبانی کی تھی۔

2026 کے فٹبال ورلڈ کپ کے مقابلوں کے دوران ہی امریکا کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ بھی منائی جائے گی۔ 4 جولائی کو امریکا کے یومِ آزادی کے موقع پر فلاڈیلفیا میں میچ رکھا گیا ہے۔ امریکا کے اعلانِ آزادی پر دستخط فلاڈیلفیا ہی میں کیے گئے تھے۔

اس ٹورنامنٹ میں امریکا اپنے مقابلوں کا آغاز 12 جون کو لاس اینجلس میں میچ سے کرے گا۔

کینیڈا کا پہلا میچ ٹورونٹو میں کھیلا جائے گا۔ وینکوور بھی قومی ٹیم کی میزبانی کرے گا۔

48 ٹیموں کو چار چار کے 12 گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ فائنل تک پہنچنے والی ٹیم کو 9 میچ کھیلنا ہوں گے۔

فیفا کے صدر کا کہنا ہے کہ شیڈول اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ کسی بھی ٹیم کو زیادہ سفر نہ کرنا پڑے۔

ن لیگ کے ساتھ اتحاد مشکل ہے یہ ووٹ کو عزت دو والی جماعت نہیں رہی، بلاول

اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ن لیگ کے ساتھ اتحاد مشکل ہے، یہ مسلم لیگ میثاق جمہوریت والی اور ووٹ کو عزت دو والی جماعت نہیں رہی بلکہ یہ آئی جے آئی والی ن لیگ ہے۔

وائس آف امریکا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) سے اتحاد مشکل ہے، یہ مسلم لیگ میثاق جمہوریت والی مسلم لیگ نہیں رہی، یہ ووٹ کو عزت دو والی نہیں بلکہ آئی جے آئی والی مسلم لیگ ہے یہ امیر المومنین بننے کے خواب دیکھنے والی مسلم لیگ ہے اس لیے میرا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ چلنا اب بہت مشکل ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑبڑ کرنا چاہتے ہیں، نگران حکومت اور انتظامیہ نواز شریف کے حق میں جانب دار ہیں، نگران وزیراعظم کی تقرری شہباز شریف نے راجہ ریاض کے ساتھ مل کر کی، راجہ ریاض اب مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے سندھ میں ہماری حامیوں کو گرفتار کررہی ہے، مسلم لیگ ن کی سیاسی تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش ناکام رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار کم کرنے کے لیے پہلا قدم سیاست دانوں کو اٹھانا ہوگا، سیاسی رہنما اختلافات کو سیاست تک محدود رکھیں، سیاست دانوں کو سیاست کے دائرے میں رہ کر سیاست کرنی چاہیے نہیں تو دوسروں سے بھی توقع نہ رکھیں کہ وہ اپنے دائرے میں رہ کر کام کرے، 9 مئی واقعہ بالکل بھی سیاست کے دائرے میں تو نہیں تھا، سیاست دانوں کو قواعد و اصول طے کرنا ہوں گے کہ سیاست کو سیاست ہی رکھیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ نواز شریف اگر وزیر اعظم بنتے ہیں تو دیکھنا ہوگا کہ کس سوچ کو لے کہ چلتے ہیں، ن لیگ نفرت و تقسیم کی سیاست لے کر چل رہی ہے اگر نواز شریف کو یہ ریت چھوڑنی ہے تو نفرت کی سیاست چھوڑنا۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان آزمائے ہوئے چہروں کو دوبارہ آزمانا نہیں چاہتے، نواز شریف سمجھوتہ پسند نہیں ہیں نواز شریف کا کچھ جمہوری مزاج تھا جو اب تقسیم ہوچکا، ہمیں الیکشن کی شفافیت پر پہلے سے سوالات ہیں ہم چاہتے ہیں کہ انتخابی عمل جتنا ممکن ہو صاف و شفاف ہو لیول پلیئنگ فیلڈ دیں تاکہ الیکشن کی ساکھ بحال ہو تاکہ جو بھی وزارت عظمی سنبھالیں ہمارا ملک مثبت سمت میں چلے۔

انہوں ںے کہا کہ ملک میں سیاسی افہام و تفہیم چاہتے ہیں تاکہ پاکستان آگے چلے، امید ہے نواز شریف کے دباؤ کے باوجود نگران حکومت الیکشن میں مداخلت نہیں کرے گی امید ہے پیپلز پارٹی کامیاب ہوکر حکومت بنائے گی۔

اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ن لیگ کے ساتھ اتحاد مشکل ہے، یہ مسلم لیگ میثاق جمہوریت والی اور ووٹ کو عزت دو والی جماعت نہیں رہی بلکہ یہ آئی جے آئی والی ن لیگ ہے۔

وائس آف امریکا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) سے اتحاد مشکل ہے، یہ مسلم لیگ میثاق جمہوریت والی مسلم لیگ نہیں رہی، یہ ووٹ کو عزت دو والی نہیں بلکہ آئی جے آئی والی مسلم لیگ ہے یہ امیر المومنین بننے کے خواب دیکھنے والی مسلم لیگ ہے اس لیے میرا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ چلنا اب بہت مشکل ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑبڑ کرنا چاہتے ہیں، نگران حکومت اور انتظامیہ نواز شریف کے حق میں جانب دار ہیں، نگران وزیراعظم کی تقرری شہباز شریف نے راجہ ریاض کے ساتھ مل کر کی، راجہ ریاض اب مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے سندھ میں ہماری حامیوں کو گرفتار کررہی ہے، مسلم لیگ ن کی سیاسی تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش ناکام رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار کم کرنے کے لیے پہلا قدم سیاست دانوں کو اٹھانا ہوگا، سیاسی رہنما اختلافات کو سیاست تک محدود رکھیں، سیاست دانوں کو سیاست کے دائرے میں رہ کر سیاست کرنی چاہیے نہیں تو دوسروں سے بھی توقع نہ رکھیں کہ وہ اپنے دائرے میں رہ کر کام کرے، 9 مئی واقعہ بالکل بھی سیاست کے دائرے میں تو نہیں تھا، سیاست دانوں کو قواعد و اصول طے کرنا ہوں گے کہ سیاست کو سیاست ہی رکھیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ نواز شریف اگر وزیر اعظم بنتے ہیں تو دیکھنا ہوگا کہ کس سوچ کو لے کہ چلتے ہیں، ن لیگ نفرت و تقسیم کی سیاست لے کر چل رہی ہے اگر نواز شریف کو یہ ریت چھوڑنی ہے تو نفرت کی سیاست چھوڑنا۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان آزمائے ہوئے چہروں کو دوبارہ آزمانا نہیں چاہتے، نواز شریف سمجھوتہ پسند نہیں ہیں نواز شریف کا کچھ جمہوری مزاج تھا جو اب تقسیم ہوچکا، ہمیں الیکشن کی شفافیت پر پہلے سے سوالات ہیں ہم چاہتے ہیں کہ انتخابی عمل جتنا ممکن ہو صاف و شفاف ہو لیول پلیئنگ فیلڈ دیں تاکہ الیکشن کی ساکھ بحال ہو تاکہ جو بھی وزارت عظمی سنبھالیں ہمارا ملک مثبت سمت میں چلے۔

انہوں ںے کہا کہ ملک میں سیاسی افہام و تفہیم چاہتے ہیں تاکہ پاکستان آگے چلے، امید ہے نواز شریف کے دباؤ کے باوجود نگران حکومت الیکشن میں مداخلت نہیں کرے گی امید ہے پیپلز پارٹی کامیاب ہوکر حکومت بنائے گی۔

بھارتی قبضے کو 76 سال مکمل، پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے

بھارت کی جانب سے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کو 76 سال مکمل ہونے پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔

بھارت نے آج سے 76 برس پہلے زبردستی مقبوضہ کشمیر پر تسلط قائم کیا، 76 سال گزرنے کے بعد بھی بھارت کی مظلوم کشمیروں کیخلاف ظالمانہ اور غیر انسانی کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور ہر سال ہزاروں معصوم کشمیری بھارتی بربریت کے ذریعے شہید کر دیئے جاتے ہیں، فوج کشی کے باوجود بھارت آج تک کشمیریوں کے مضبوط عزائم اور حوصلوں کو پست نہیں کر سکا۔

دنیا بھر اور لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف ہر سال 5 فروری کا دن یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے، یوم کشمیر کے موقع پر کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے اور بھارتی جبر و استبداد کیخلاف پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے اور جلوس نکالے جائیں گے۔
یوم یکجہتی کشمیر منانے کا آغاز 1990ء میں ہوا جب اس وقت کے امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے تجویز پیش کی کہ کشمیریوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ایک دن مخصوص کیا جائے، 5 فروری کی تاریخ کی تجویز کی منظوری اس وقت کی وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے دی۔

اس سے قبل 28 فروری 1975ء کو بھی کشمیریوں کیساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا جب کشمیری رہنما شیخ عبداللہ اور بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا آغاز سمجھا جاتا ہے، اس روز پورے پاکستان اور کشمیر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
یوم یکجہتی کشمیر پر سرکاری سطح پر عام تعطیل کا اعلان 4 فروری 2004ء کو وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی نے کیا، میر ظفر اللہ جمالی نے 5 فروری 2004ء کو پہلی بار بحیثیت وزیر اعظم پاکستان مظفر آباد میں آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کیا، تب سے ہر سال یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر اعظم پاکستان یا ان کے نامزد نمائندے کی خطاب کی روایت چلی آ رہی ہے۔
1990ء کی دہائی سے اب تک بھارت نے گزشتہ 33 سال کے دوران آزادی مانگنے کی پاداش میں 96 ہزار 285 کشمیری شہید کیے ہیں اور 1 لاکھ 70 ہزار کے قریب کشمیری شہری بھارت کی مختلف جیلوں میں قید کیے گئے جبکہ کھربوں روپے کی جائیدادیں بھی ضبط کرنے سمیت ایک لاکھ سے زائد کاروباری مراکز اور گھر جلا دیئے ہیں۔
5 اگست2019ء کے روز بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کر دی، پانچ سالوں کے دوران مزید 842 کشمیری شہید 2 ہزار 396 زخمی کیے ہیں جبکہ مزید 22 ہزار سے زائد کشمیری جوان پابند سلاسل ہیں۔

کشمیر میں ہندو اکثریت لانے کی کوشش ہو رہی ہے: مشعال ملک

کشمیری رہنما اور نگران وزیراعظم کی معاون خصوصی مشعال ملک نے کہا کہ ستمبر کے الیکشن میں کشمیر میں ہندو اکثریت لانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے اپنے بیان میں مشعال ملک کا کہنا تھا کہ 50 لاکھ سے زائد بھارتیوں کو مقبوضہ کشمیر کے ڈومیسائل جاری کئے گئے، بھارت میں مسلمانوں کے تاریخی مقامات کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مسئلہ کشمیر سے متعلق خصوصی کشمیر کمیٹی بنا دی گئی ہے اور اسٹریٹیجک پالیسی میں کشمیر سے متعلق تجاویز دی جائیں گی، کشمیر کی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی۔

مشعال ملک کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی سیاستی قیادت کو جیلوں میں بند کر دیا گیا، ہمیں کشمیر پر طویل المدتی پالیسی بنانا ہوگی۔

کسی کی مداخلت قبول نہیں، مالدیپ کے صدر کا بھارت کو پھر انتباہ

مالدیپ کے صدر محمد معزو نے کہا ہے کہ ہم کسی بھی ملک کو اپنے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہی سبب ہے کہ مالدیپ کی سرزمین پر تعینات بھارتی فوجیوں کے انخلا کے لیے مالے اور نئی دہلی کے درمیان 10 مئی کی ڈیڈ لائن پر اتفاق ہوگیا ہے۔

پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے مالدیپ کے صدر محمد معزو نے کہا کہ مالدیپ میں قائم تین ایوی ایشن پلیٹ فارمز میں سے ایک پر تعینات بھارتی فوجی 10 مارچ تک ملک چھوڑ دیں گے۔

مالدیپ اس حوالے سے بھارت سے اپنے معاہدے کی تجدید نہیں کرے گا۔ صدر محمد معزو کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی ملک کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہماری خود مختاری پر اثر انداز ہو۔

اپوزیشن کی مالدیپ ڈیموکریٹک پارٹی اور ڈیموکریٹس نے پارلیمنٹ سے صدر محمد معزو کے خطاب کا بائیکاٹ کیا۔

87 رکنی پارلیمںٹ میں دونوں جماعتوں کے ارکان کے کی تعداد 56 ہے۔ ان میں سے 7 معزو حکومت میں اہم انتظامی عہدے حاصل کرنے کے لیے مستعفی ہوگئے ہیں۔

پارلیمنٹ سے صدر کے خطاب کے دوران صرف 24 ارکان ایوان میں موجود تھے۔ یہ مالدیپ کی تاریخ میں پارلیمنٹ کی کارروائی کا سب سے بڑا بائیکاٹ تھا۔

مالدیپ کے میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایم ڈی پی اور ڈیموکریٹس صدر محمد معزو کے مواخذے کی تحریک پر کام کر رہے ہیں۔

محمد معزو چین کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ جب سے انہوں نے منصب سنبھالا ہے تب سے بھارت سے مستقل مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے 87 فوجی مالدیپ سے نکال لے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں اس حوالے سے خاصی کشیدگی پیدا ہوچلی ہے۔

گزشتہ ماہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا تمسخر اڑائے جانے پر بھی دونوں ملکوں کے

تعلقات میں غیر معمولی کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ مالے حکومت اپنے تین وزرا کے خلاف کارروائی کرچکی ہے۔

نریندر مودی کی تضحیک پر بھارت نے جب اپنے سیاحوں کو مالدیپ جانے سے روک دیا تب مالدیپ کے صدر نے بھارت کے سامنے جھکنے کے بجائے چین سے کہا کہ وہ اپنے سیاح مالدیپ بھیجے۔ اس کے نتیجے میں کشیدگی کا دائرہ وسعت اختیار کرگیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے نے تین دن قبل بتایا تھا کہ مالدیپ کی سرزمین پر تعینات تمام بھارتی فوجیوں کو نکالے جانے کے حوالے سے نئی دہلی اور مالے کے درمیان اتفاقِ رائے ہوگیا ہے۔ بھارت دو مراحل میں مارچ سے مئی تک اپنے تمام فوجیوں کو نکال لے گا۔

روایتی طور پر بھارت اور مالدیپ کے تعلقات اچھے رہے ہیں تاہم چند دہائیوں کے دوران رونما ہونے والی منفی تبدیلیوں نے اب مالدیپ کے سیاست دانوں کو چین کی طرف دیکھنے پر مجبور کیا ہے۔

صدر محمد معزو کی بنیادی شناخت بھارت سے مخاصمت اور چین کے لیے جھکاؤ کی ہے۔ انہوں نے نے منصب سنبھالتے ہی چین کا دورہ کرکے نئی دہلی کے پالیسی سازوں کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔

گجرات کے عالم دین کو ممبئی میں گرفتار کرلیا گیا

ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح کے بعد انتہا پسندی کی نئی لہر کے دوران بھارت میں ایک مسلم عالم دین کو نفرت پھیلانے والی تقریر کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

مغربی ریاست گجرات کی پولیس نے اتوار کو مفتی سلمان ازہری کو ممبئی میں گرفتار کرکے گھاٹکوپر پولیس اسٹیشن کے حوالات منتقل کیا۔

حراست میں لیے جانے پر مفتی سلمان ازہری کے سیکڑوں حامی اور معتقدین گھاٹکوپر پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوگئے اور مفتی سلمان ازہری کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

مفتی سلمان ازہری کے حامیوں کے احتجاج کے باعث علاقے میں ٹریفک جام ہوگیا۔ صورتِ حال قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری طلب کی گئی۔

مفتی سلمان ازہری کے خطاب پر مبنی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر جونا گڑھ پولیس نے ہفتے کو دو افراد کو حراست میں لیا۔

مفتی سلمان ازہری نے یہ تقریر 31 جنوری کی رات جونا گڑھ کے بی ڈویژن پولیس اسٹیشن سے ملحق میدان میں منعقدہ تقریب کے دوران کی تھی۔

اس تقریر کی وڈیو وائرل ہونے پر مفتی سلمان ازہری، مقامی منتظمین محمد یوسف ملک اور اعظم حبیب اودیدارا کے خلاف شر انگیزی پھیلانے کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔

گھاٹکوپر پولیس اسٹیشن میں مفتی سلمان ازہری سے ملاقات کے بعد آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے رہنما وارث پٹھان نے کہا کہ مفتی سلمان ازہری نے بتایا ہے کہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا جس سے کسی کے جذبات بھڑکنے کا اندیشہ ہو۔ مفتی سلمان کا اپنے معتقدین اور عام مسلمانوں سے کہنا ہے کہ وہ جذبات قابو میں رکھیں اور قانون ہاتھ میں نہ لیں۔ وارث پٹھان کے بقول پولیس بھی کہہ رہی ہے کہ صورتِ حال قابو میں ہے۔

الیکشن کی کوریج کیلئے میڈیا کمپلین ایپلی کیشن کا افتتاح

نگراں وفاقی وزیراطلاعات مرتضی سولنگی نے الیکشن 2024 کی کوریج کے لیے میڈیا کمپلین ایپلی کیشن کا افتتاح کردیا، انہوں نے کہا کہ حکومت نے انتخابات کے عمل میں الیکشن کمیشن کی ہرطرح سے مدد کی، انتخابات سے صرف 2 دن دورہیں۔

نگراں وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے الیکشن 2024ءکی کوریج کے لئے میڈیا کمپلین ایپلی کیشن کا افتتاح کر دیا، ایپلی کیشن کے ذریعے آن لائن شکایات درج کرانے میں مدد ملے گی جبکہ ایپلی کیشن کے ذریعے صحافی مسائل کی فوری اورموثررپورٹنگ کرسکیں گے ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت نگراں حکومت وجود میں آئی، حکومت نے انتخابات کے عمل میں الیکشن کمیشن کی ہرطرح سے مدد کی، انتخابات سے صرف 2 دن دور ہیں، 12 کروڑسے زائد پاکستان کے عوام اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔

نگراں وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پی آئی ڈی کے تمام دفاتر میں الیکشن سیل قائم کیے جارہے ہیں، نگراں حکومت نے انتخابات کے انعقاد کے لیے بھرپور کام کیا ہے، نگراں حکومت الیکشن کمیشن کی معاونت کررہی ہے، انتخابات میں عوام حق رائے دہی استعمال کرکے نئی حکومت منتخب کریں گے، ملک کو صرف منتخب نمائندے ہی چلائیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ دور ڈیجیٹل ہے، ہمیں اپنی کارکردگی بہتر کرنا ہے، میڈیا کمپلینٹ پلیٹ فارم کسی بھی براؤزر کے ذریعے استعمال کیا جا سکے گا، شکایات کے فوری ازالے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

حکام وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ ضابطہ اخلاق سے متعلق شکایات کا ازالہ ہوگا، یہ ایپلی کیشن صرف الیکشن کے لئے تیار کی گئی ہے، الیکشن کے بعد اس ہیلپ لائن کو جاری رکھنے پر غور کریں گے۔

’مرتضیٰ وہاب، دبئی کو آپ کی ضرورت ہے‘ ، سڑکیں ڈوبنے پر بلاول کا پیغام

سوشل میڈیا پر دلچسپ ویڈیوز تو بہت ہیں، لیکن کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو کہ مشہور شخصیات کی نظر سے بھی اوجھل نہیں ہو پاتی ہیں۔

ایک ایسی ہی خبر نے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی توجہ خوب سمیٹ لی ہے۔

دراصل ہوا کچھ یوں کہ ایک صارف نے ویڈیو اپلوڈ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ دبئی میں بارش! ساتھ ہی صارف نے حیران ہونے والا ایموجی بھی شئیر کیا۔

جبکہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دبئی کی بلند و بالا عمارتیں موجود ہیں اور سڑکوں پر پانی جمع ہے۔ نکاسی آب کا بہترین ہونے کے باوجود قدرت کے آگے دبئی بھی کچھ نہ کر سکا۔

صبح کے اوقات میں بارش کا یہ منظر تو سوشل میڈیا پر وائرل ہے، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ ویڈیو رواں سال کی ہے یا پھر گزشتہ سال۔

دوسری جانب اسی ویڈیو پوسٹ پر بلاول بھٹو زرداری نے بھی تبصرہ کیا ہے اور ساتھ ہی مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب کو بھی ٹیگ کر دیا اور کہا کہ مرتضیٰ وہاب، دبئی کو آپ کی ضرورت ہے۔

واضح رہے گزشتہ دنوں کراچی میں ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث سڑکوں پر پانی جمع تھا، جس کے بعد مئیر کراچی بھی سڑکوں پر نظر آئے تھے۔

معروف امریکی ریپ گلوکار کلر مائیک گریمی ایوارڈز کی تقریب سے گرفتار

لاس اینجلس: معروف امریکی ریپ گلوکار اور سماجی کارکن کلر مائیک کو گریمی ایوارڈز کی تقریب سے گرفتار کرلیا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 4 فروری کو لاس اینجلس میں ہونے والی گریمی ایوارڈز کی تقریب میں معروف ریپر کلر مائیک نے میوزک انڈسٹری کے تین سب سے بڑے ایوارڈز اپنے نام کیے تھے۔

گریمی ایوارڈز کی تقریب میں تین بڑے اعزاز اپنے نام کرنے کے بعد ریپر کلر مائیک کو گرفتار کیا گیا، پولیس ہتھکڑیاں لگا کر گلوکار کو تقریب سے گرفتار کرکے لیکر گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ لاس اینجلس پولیس نے گلوکار کی گرفتاری پر کوئی بیان نہیں دیا جبکہ ڈیوٹی پر موجود دو الگ الگ افسران نے کہا کہ ان کے پاس بھی کوئی معلومات نہیں ہے۔

دوسری جانب کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ بتایا جارہا ہے کہ گلوکار کو ایرینا کے اندر ایک جھگڑے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کلر مائیک ریپ گلوکار ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی کارکن بھی ہیں، وہ نسل پرستی اور پولیس کی بربریت جیسے مسائل کے خلاف آواز اُٹھاتے ہیں۔

بڑی سیاسی جماعتوں کے منشور میں ٹیکس اصلاحات شامل نہیں

اسلام آباد: پاکستان کا ٹیکس سسٹم غیر منصفانہ، غیر موثر، ترقی مخالف اور ضرورت سے زیادہ ہے، یہ دکھ کی بات ہے کہ نوا زلیگ اور پیپلزپارٹی سمیت کسی بھی بڑی پارٹی کے منشور میں بزنس اور عوام دوست ٹیکس پالیسی شامل نہیں ہیں۔

جماعت اسلامی نے اپنے منشور میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ ٹیکسوں کی شرح میں کمی، ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور اشرافیہ کو حاصل مراعات کو کم کرے گی، پیپلزپارٹی کے منشور میں ایک بہتر نکتہ یہ ہے کہ پی پی نے غیر مقررہ سبسڈیز اور ٹیکس اخراجات کو کم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

اسی طرح نواز لیگ نے بھی ایک اچھی چیز منشور میں یہ شامل کی ہے کہ وہ موجودہ ٹیکس ریجیم کو آئندہ پانچ سال کے لیے برقرار رکھے گی، پی پی اور نواز لیگ دونوں میں سے کسی نے بھی ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کو بڑھانے کی بات نہیں کی ہے، لوگوں کا تعاون حاصل کرنے کیلیے فیئر ٹیکس پالیسی کا نفاذ ضروری ہے، جب لوگوں کو سب کے ساتھ یکساں سلوک کا احساس ہوگا تو وہ ملکی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے، لیکن اس کی سیاسی جماعتوں کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔

ضروری ہے کہ عوام ’’ فیئر ٹیکس چارٹر‘‘ پر دستخط کریں اور اسے حکومت کے سامنے پیش کرے تاکہ حکومت آئندہ بجٹ بناتے وقت فیئر ٹیکس چارٹر پر عمل کرنے پر مجبور ہو۔

سابق کرکٹر کپتان جویریہ خان نے زندگی کی نئی اننگ کا آغاز کردیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان جویریہ خان رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں، جبکہ شادی کی تقریب کراچی میں انجام پائی۔

سوشل میڈیا پر جاری کی جانے والی تصاویر میں سابق کپتان کو دیکھا جا سکتا ہے، ساتھ عزیز و اقارب بھی موجود ہیں۔

انسٹاگرام پر وائرل تصاویر میں جویریہ خان اور ان کے شوہر کو آف وائٹ لباس میں دیکھا جا سکتا ہے، دوسری جانب جویریہ خان نے کالا چشمہ بھی لگایا ہوا تھا۔

جبکہ ایک تصویر میں پاکستان وومن کرکٹ ٹیم کی دیگر خواتین کرکٹرز بھی موجود تھیں جو کہ جویریہ خان کے ساتھ تصویر میں موجود ہیں۔

واضح رہے جویریہ خان نے 116 ون ڈے اور 122 ٹی ٹوئنٹی میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔