جلاؤ گھیراؤ کیس: یاسمین راشد سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جلاؤ گھیراؤ اور تھانہ شادمان کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی اور ملزمان کا ٹرائل جیل میں کرنے کا حکم دے دیا۔

9 مئی کو تھانہ شادمان کو نذر آتش کرنے کے مقدمے میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج محمد نوید اقبال نے مقدمے کی سماعت کی۔

عدالت نے جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے ڈاکٹر یاسمین راشد، محمود الرشید اور اعجاز چوہدری پر فرد جرم عائد کردی۔

عدالت نے ملزمان کا جیل میں ٹرائل کرنے کا حکم دے دیا اور اور آئندہ سماعت پر گواہوں کو بھی طلب کر لیا۔

عدالت نے سماعت پر ملزمان کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے طلب کر رکھا تھا جبکہ عدالت نے تمام ملزمان کو چالان کی نقول تقسیم کر رکھی ہیں۔

پراسیکیوشن نے تھانہ شادمان نزر آتش کیس کا چالان جمع کرا رکھا ہے، چالان میں بغاوت سمیت دیگر سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ملزمان کے خلاف تھانہ سرور روڈ اور شادمان پولیس نے مقدمات درج کر رکھے ہیں۔

اعصام الحق کا پاکستان ٹینس فیڈریشن کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ

ٹینس اسٹار اعصام الحق نے پاکستان ٹینس فیڈریشن کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرلیا، 10 فروری کو ہونے والے ٹینس فیڈریشن کے انتخابات میں اعصام الحق صدر کے امیدوار ہوں گے۔

پاکستان ٹینس فیڈریشن کی نٸی باڈی منتخب کرنے کے لیے 10 فروری کو ہونے والے الیکشن میں طویل عرصے تک ملک کا نام روشن کرنیوالے ٹینس اسٹار اعصام الحق قریشی صدر کے عہدے پرحصہ لیں گے۔

آرمی سپورٹس ڈاٸریکٹوریٹ کے میجر سلمان سیکرٹری کے امیدوار ہوں گے، جس پر آرمی، ایئرفورس، نیوی، پی او ایف واہ سمیت دیگر اداروں اور صوبوں نے اعصام الحق کی سپورٹ کا فیصلہ کیا ہے۔

اعصام الحق کا کہنا ہے ٹینس کی ترقی کے لیے کردار ادا کرنا چاہتا ہوں، ٹینس فیڈریشن کا صدر منتخب ہونے کے بعد ترجیحات کا اعلان کروں گا۔

پی ٹی آئی نے’ بلے’ کا انتخابی نشان واپس لینے کے فیصلے کیخلاف نظرثانی اپیل دائر کردی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے’ بلے’ کا انتخابی نشان واپس لینے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کردی۔

تحریک انصاف کی جانب سے ’ بلے’ کا نشان واپس لینے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل دائر کی گئی۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے 2423/2024 ڈائری نمبر الاٹ کردیا۔

اپیل میں سپریم کورٹ سے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے اور بلے کا انتخابی نشان تحریک انصاف کو دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

’جسد خاکی اپنے ہاتھوں میں لیے رو رہا تھا‘ ، اداکاروں کی پہلی اولاد جو انتقال کر گئی

اکثر سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات سے متعلق ایسی کئی معلومات موجود ہیں، جو کہ سب کی توجہ بخوبی حاصل کر لیتی ہیں، لیکن کچھ ایسی ہوتی ہیں جو کہ حیران کن بھی ہوتی ہیں۔

چند ایسے ہی مشہور اداکاروں کی زندگی کا وہ لمحہ انہیں آج بھی سوگوار کر دیتا ہے، جب وہ اپنی اولاد کی میت کو آخری رسومات کے لیے لے جا رہے تھے۔

اداکارہ گووندا:

مشہور بالی ووڈ اداکار گووندا کی زندگی میں بھی ایک ایسا لمحہ ضرور آیا ہے، جب ان کی پہلی اولاد اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی۔

اداکار اس وقت شوٹنگ میں مصروف تھے جب انہیں اس بات کی خبر ملی کہ ان کی ننھی پری جو کہ قبل از وقت پیدا ہوئی تھی، کمزور ہونے کے باعث انتقال کر گئی۔ گووندا کو وہ وقت بھی یاد ہے، جب وہ اپنی ننھی پری کے جسد خاکی کو ہاتھوں میں لیے آخری آرام گاہ کی جانب جا رہے تھے آنکھوں میں آنسو تھے اور ہاتھوں میں ننھی پری۔

اداکار کے لیے یہ انتہائی تکلیف دہ لمحہ تھا، کیونکہ اہلیہ کو سنبھالنا گووندا کے لیے آسان نہیں تھا، تاہم اس واقعے نے گووندا اور ان کی اہلیہ کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد کی۔

عامر خان:

اداکار عامر خان اور سابقہ اہلیہ کی شادی 2005 میں ہوئی تھی تاہم ان دونوں کی زندگی میں بھی وہ لمحہ ضرور آیا تھا جس نے انہیں ایک دوسرے کو سنبھالنے کا موقع دیا۔

وہ وقت جب کرن راؤ امید سے تھیں اور دونوں نئی آنے والی زندگی کو لے کر خوش تھے۔ انہی دنوں میں سابقہ اہلیہ کا مسکیرج ہو گیا تھا، جس نے پوری صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا۔

کاجول:

مشہور بھارتی اداکارہ کاجول کی زندگی میں بھی وہ وقت آیا تھا، جسے یاد کر کے آج بھی ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔

2001 میں اداکارہ کاجول کا مسکیرج ہوا تھا، وہ پہلا موقع جب ایک عورت ماں بنتی ہے، تمام لمحات میں سے سب سے زیادہ خوشی کا لمحہ ہوتا ہے۔ تاہم ان کے مسکیرج نے انہیں ذہنی طور پر متاثر کیا تھا۔ لیکن اجے دیوگن اور کاجول نے اس مشکل وقت میں ایک دوسرے ساتھ نہیں چھوڑا۔

گلوکارہ آشا بھوسلے:
بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے کی زندگی بھی اگرچہ آسائشوں سے بھری ہے، تاہم ان کی اولاد کی موت نے انہیں توڑ دیا تھا۔

آشا بھوسلے کی بیٹی ورشہ سے بے انتہا محبت کرتیں، تاہم بیٹی نے 2012 میں خود کو گولی مار کر اپنی جان لے لی تھی۔

سیاسی انفلوئسرز اور ٹرولز سوشل میڈیا پر غیرمصدقہ معلومات پھیلا رہے ہیں، ماہرین

پاکستان میں عام انتخابات سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا انفلوئنسرز ’میڈیا سینسرشپ‘ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی حریفوں کو آن لائن ہدف بنا رہے ہیں۔

پاکستان کے نوجوانوں میں سب سے زیادہ مقبول سیاسی جماعت پاکستابن تحریک انصاف کے بانی عمران خان مختلف مقدمات میں جیل میں قید ہیں اور پارٹی رہنماؤں پر کریک ڈاؤن ، ورچوئل جلسوں کے دوران سوشل میڈیا بلیک آؤٹ کے باعث حامیوں کی جانب سے سینسر شپ اور پابندیاں عاید کیے جانے کے دعوے سامنے آرہے ہیں۔

پی ٹی آئی پاکستان کی 2 بڑی سیاسی جماعتوں ن لیگ اورپیپلزپارٹی میں سے مسلم لیگ ن کو اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتی ہے اور عام تاثر ہے کہ اس بار ن لیگ کو فوج کی حمایت حاصل ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں جب معلومات کا خلاء موجود ہے تو انفلوئنسرز فائدہ اٹھاتے ہوئے غیرمصدقہ معلومات کے پھیلاؤ میں مصروف ہیں۔

ہر قسم کی کوریج کو ’سینسر‘ کیا جارہا ہے
انٹرنیٹ پرریسرچ کرنے والے گروپ ’بولو بھ‘’ کے ڈائریکٹر اور صحافی اسامہ خلجی نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ ’پی ٹی آئی کی ہر قسم کی کوریج کو سینسر کر رہے ہیں اور ایسا آن لائن بھی کیا جا رہا ہے۔

انٹرنیٹ کی مانیٹرنگ کرنے والے پلیٹ فارم ’نیٹ بلاکس‘ کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ سے منسلک مسائل کا براہ راست تعلق پی ٹی آئی کے آن لائن جلسوں سے ہے۔ نیٹ بلاکس بانی ایلپ ٹوکر کے مطابق واضح طور پرنظرآرہا ہے کہ جب بھی عمران خان کی جانب سے آن لائن تقریریں کی گئیں تو ہمیں انٹرنیٹ کی بندش دیکھنے کو ملی۔

انہوں نے کہا کہ ان معلومات کو بلیک آؤٹ کرنے کے باعث لوگ اپنے طور پر مصدقہ معلومات کی تلاش میں نکلتے ہیں اور مفروضے بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی حکمت عملی
م صورتحال سے نمٹنے کے لیے پی ٹی آئی نے جدید طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم چلائی جس میں مصنوعی ذہانت اور ٹک ٹاک جلسے شامل ہیں۔

دسمبر 2023 میں پی ٹی آئی کی جانب سے مصنوعی ذہانت کا سہارا لیتے ہوئے عمران خان کی تقریر ایک آن لائن جلسے میں نشر کی گئی۔

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے سربراہ جبران الیاس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے کیسے عمران خان کی غیر موجودگی میں نئے طریقے آزمائے ۔

جبران الیاس کے مطابق ، ’ہم نے کبھی ایسی سیاسی ریلی کا انعقاد نہیں کیا تھا جس میں عمران خان خود موجود نہ ہوں۔ چاہے وہ کوئی جلسہ ہو یا ورچوئل ایونٹ۔ ہم نے جو کچھ بھی کیا وہ ضرورت کے تحت کیا۔‘

پارٹی کی جانب سے لائیو سوشل میڈیا ریلیوں کا انعقاد بھی کیا گیا جہاں وہکارکنوں تک بغیر کسی کریک ڈاؤن کے پہنچ سکتے تھے۔ جبران الیاس نے کہا کہ جماعت کی جانب سے الیکشنز سے پہلے ٹک ٹاک پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ یہ پلیٹ فارم نوجوانوں اور دیہی علاقوں میں بہت مقبول ہے۔

پی ٹی آئی کے حامی انفلوئنسرز
اسامہ خلجی کے مطابق اس حکمتِ عملی کے ساتھ پی ٹی آئی نے ایسے انفلوئنسرز کے ساتھ بھی رابطے کیے جو اس پارٹی کے حامی ہیں ۔

پی ٹی آئی آفیشنل اکاؤنٹ کے ذریعے ایسے انفلوئنسرز کی پوسٹس کو لائک اور ری پوسٹ کیاجا رہا ہے جن کے لاکھوں فالوورز ہیں اوروہ روزانہ متعدد ویڈیوز پوسٹ کرتے ہیں۔کچھ انفلوئنسرز الیکشن سے قبل عام لوگوں تک پہنچنے کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوئے ہیں اور اس بارے میں بھی پی ٹی آئی کے بارے میں معلومات موجود ہیں۔

تاہم اسامہ خلجی کے مطابق ان اکاؤنٹس سے پوسٹ کی گئی معلومات مصدقہ ہونے کے حوالے سے خدشات موجود ہیں اوران کے دعوے حقیقت سے دور معلوم ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ، ’یوٹیوبرز کو فائدہ ہے کہ انہیں زیادہ سے زیادہ ویوز اوراس کے بدلے پیسے ملیں گے،اس لیے وہ اپنے پاس موجود معلومات میں سنسنی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

اسامہ خلجی کے مطابق ’جعلی خبریں اب سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کے ذریعے لوگوں میں پھیل رہی ہیں۔ مصدقہ معلومات کے فقدان کے درمیان ایسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جس میں لوگ اپنی کہانیاں بنا رہے ہیں۔‘

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی نگہت داد کا کہنا ہے کہ نوجوان پاکستانیوں کے لیے یوٹیوبرزکی معلومات کا اہم ذریعہ ہیں۔ ان کے دعوے بعد میں ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پربھی آ جاتے ہیں، جہاں غلط معلومات سے گمراہ ہونے کا زیادہ امکان ہے۔

پی ٹی آئی کے حامیوں پر سوشل میڈیا کو غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کا الزام ماضی میں بھی عائد کیا جاتا رہا ہے۔

فرحان ورک کو اس سے قبل پاکستانی میڈیا میں خاصے بدنام ٹرول کے طور پرجانا جاتا تھا، وہ پی ٹی آئی حامی سوشل میڈیا ٹرول کی حیثیت سے 2020 تک پارٹی سے منسلک رہے۔

انھوں نے پی ٹی آئی کے حق میں ٹرولنگ کرنے، جماعت کے مخالفین کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے اور غلط معلومات پھیلانے کا اعتراف کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مسلسل ’پی ٹی آئی کے ناقدین کو ٹرول کرتے‘ اور ٹوئٹر پر اُن پر ’ذاتی حملے‘ کرتے تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے ہیش ٹیگز بناتے اور جھوٹی کہانیاں گھڑتے۔

فرحان رعرک کے جانے کے بعد سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تو تبدیل ہوئے ہیں لیکن پی ٹی آئی کی حکمتِ عملی میں تبدیلی نہیں آئی۔

اکثر اوقات انفلوئنسرز عمران خان کا تشخص بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک اکاؤنٹ نے پوسٹ کیا کہ آسٹریلیا نے ورلڈ کپ 2023 عمران خان کے نام کردیا ہے، یہ ایک جھوٹا دعویٰ تھا جسے بہت جلد جھوٹا ثابت کر دیا گیا لیکن اس سے قبل یوٹیوب پر 10 لاکھ افراد یہ ویڈیو دیکھ چکے تھے۔

ناقدین پر ہونے والے حملوں کے پیچھے بھی انفلوئنسرز کا ہاتھ
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی نگہت داد نے بی بی سی کو بتایا کہ انفلوئنسرز سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پی ٹی آئی کے ناقدین کو نشانہ بناتے تھے، خاص طور پر اقلیتوں کو۔

سال 2020 میں خاتون صحافیوں کی جانب سے ایک خط پر دستخط کیے گئے تھے جس میں پی ٹی آئی کے حامی اکاؤنٹس کی جانب سے ان کی کردار کشی بند کرنے کی بات کی گئی تھی۔تاہم ان حملوں میں کمی نہیں آئی۔

پاکستانی صحافی عاصمہ شیرازی نے نواز شریف کی کوریج کے دوران عمران خان پر تنقید کی تھی۔ اس کے بعد سے انہیں سوشل میڈیا پر کردار کشی اور جھوٹے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ۔ وہ کہتی ہیں کہ ، ’ایسا اکثر بیرونِ ملک موجود یوٹیوبرز کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے۔ یہ ہماری صنف پر فحش زبان کا استعمال کرتے ہوئے کیے جانے والے حملے ہوتے ہیں۔‘

عاصمہ شیرازی کے مطابق ان کی ویڈیوز اور فوٹوشاپ کی گئی تصاویر کو ٹک ٹاک، ایکس اور یوٹیوب پر پھیلایا گیا جس میں ان کے الفاظ کو سیاق وسباق سے ہٹ کر بیان کیا گیا۔

ان کا ماننا ہے کہ انھیں پی ٹی آئی پر تنقید کرنے کے باعث ہدف بنایا گیا ہے لیکن وہ کہتی ہیں کہ بطور صحافی یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب پرتنقید کریں۔

پی ٹی آئی سوشم میڈیا سربراہ کیا کہتے ہیں
پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے سربراہ جبران الیاس نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور انفلوئنسرز کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ فرحان ورک پی ٹی آئی کے ساتھ منسلک نہیں تھے اور نہ ہی وہ پی ٹی آئی کے باضابطہ پیغامات کی نمائندگی کرتے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فوج کے حامی بھی اب پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا حکمتِ عملی کو اپنا رہے ہیں۔

فرحان ورک جو اس سے قبل پی ٹی آئی ٹرول کے طور پرجانے جاتے تھے انھوں نے اپنی وفاداری بدل دی ہے۔ وہ ایکس اور یوٹیوب فیڈز پر اب فوج کی حمایت کرتے ہیں اور پی ٹی آئی مخالف بیانیے کو پھیلاتے ہیں۔

ورک یہ مانتے ہیں کہ وہ اپنی پوسٹس میں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کسی ایک سوچ کی طرف درای ضرور کرتے ہیں لیکن نہ تو وہ فیکٹ چیکر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہ فوج کے ساتھ منسلک ہونے کے دعوے کی توثیق کرتے ہیں۔

اسی طرح پی ٹی آئی کے حامی انفلوئنسرز اور وہ انفلوئنسرز جو فوج کے حامی ہیں وہ بھی صحافیوں کو ہراساں کرتے ہیں۔ ایک خاتون صحافی نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قسم کے انفلوئنسرز کے حملوں کا نشانہ رہی ہیں۔ انفلوئنسرز کا تعلق کہیں سے بھی ہو وہ معلومات کے نظام پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اب انہوں نے ایک ایسی صورتحال بنا دی ہے جس میں رپورٹرز کے لیے معلومات تک رسائی میں ابہام پایا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا الگورتھمز خواتین کے خلاف نفرت آمیز مواد پھیلا رہے ہیں

حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سوشل میڈیا کے الگورتھمز خواتین کے خلاف نفرت آمیز مواد پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق محققین کا کہنا ہے کہ نئی نسل پر انتہا پسندانہ مواد تھوپا جارہا ہے اور یہ سب کچھ ان کے لیے معمول کا حصہ ہوتا جارہا ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے نئی نسل کو نشانے پر لے کر جو انتہا پسندانہ اور نفرت انگیز مواد پھیلا جارہا ہے وہ تعلیمی اداروں کے کیمپس کا ماحول بھی خراب کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا کی معروف ویب سائٹ ٹک ٹاک کے پانچ دن کے مواد کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین کے خلاف نفرت انگیز مواد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ ایسی وڈیوز بھی اپ لوڈ کی جارہی ہیں جن میں کسی بھی خراب معاملے کا ذمہ دار خواتین کو ٹھہرایا گیا ہو۔

محققین کا کہنا ہے کہ موبائل یا سوشل میڈیا پر پابندی لگانے سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر پیش کیے جانے والے نفرت انگیز مواد کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا جائے اور سامنے آکر مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

یونیورسٹی کالج لندن اور یونیورسٹی آف کینٹ کے محققین نے اپنی تحقیق کے ذریعے نئی نسل کو خرابیوں سے بچانے پر توجہ دینے کی ضرورت واضح کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حقوقِ نسواں کی تحریک کو نقصان دہ قرار دینے کے حوالے سے اچھا خاصا مواد اپ لوڈ کیا جارہا ہے۔ اس کے نتیجے میں خواتین کے حوالے سے تنگ نظری پر مبنی سوچ پنپ رہی ہے۔

حال ہی میں قتل کی جانے والی خواجہ سرا بریانا گھے کی والدی نے کہا ہے کہ اسمارٹ فون پر 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جانی چاہیے۔

محققین نے اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین کی ہتک پر مبنی اور اُن سے نفرت کو پروان چڑھانے والا مواد تفریح کے ذیل میں اپ لوڈ کیا جارہا ہے۔

یو سی ایل انفارمیشن سروسز کے پرنسپل انویسٹیگیٹر ڈاکٹر کیٹلن ریگر کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ انتہائی خطرناک، ہتک آمیز اور نقصان دہ خیالات کو اب نئی نسل نے خطرناک سمجھنا ہی چھوڑ دیا ہے اور سب کچھ معمول کے طور پر قبول کیا جارہا ہے۔

محمد عامر کو ٹیم میں واپسی کیلیے پھر منایا جائے گا

محمد عامر نے 2020میں ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقار یونس پر ناانصافی کا الزام عائد کرتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا مگر لیگز میں تسلسل کے ساتھ شرکت کررہے ہیں.

گزشتہ دنوں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ممکنہ کم بیک کے سوال پر انھوں نے کہا تھا کہ زندگی میں آگے بڑھ چکا ہوں،کئی دیگر مصروفیات ہیں، انٹرنیشنل کرکٹ میں 3سال کا وقفہ خاصا طویل ہوتا ہے، پاکستان کا سسٹم دیکھیں تو ہر ماہ کوئی تبدیلی آجاتی ہے، آپ نہیں جانتے کہ آنے والے وقت میں کیا ہوگا، میرے لیے یہ بحث اب ختم ہوچکی ہے، میرے خیال میں کم بیک کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: عماد اور عامر پاکستان کیلئے کھیلنا نہیں چاہتے تھے، ڈائریکٹر قومی کرکٹ ٹیم

سوشل میڈیا پر بات کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں شاہین آفریدی نے عامر کی واپسی کے حوالے سے مثبت اشارہ دیا ہے، آئی ایل ٹی ٹوئنٹی میں سینئر پیسر کے ساتھ ڈیزرٹ وائپرز ٹیم کی نمائندگی کرنے والے قومی ٹی 20ٹیم کے کپتان نے کہا کہ پاکستان ٹیم میں کم بیک کیلیے دستیابی کے حوالے سے محمد عامر کے ساتھ بات کروں گا، ہم دونوں 5سال تک اکٹھے ایکشن میں نظر آتے رہے ہیں، ان کے ساتھ بولنگ کا تجربہ بہت اچھا رہا تھا،ہم دونوں کی شراکت شاندار تھی۔

یاد رہے کہ محمد عامر نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے سے قبل پاکستان کی جانب سے 36 ٹیسٹ، 61ون ڈے اور 50ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے۔

علیمہ خان کا ایف آئی اے طلبی کے نوٹس ہائیکورٹ میں چیلنج کرنیکا فیصلہ

اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے ایف آئی اے طلبی کے دونوں نوٹس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

علیمہ خان نے درخواست دائر کرنے کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کر والی ہے، کچھ دیر بعد ایف آئی اے طلبی کے دونوں نوٹس چیلنج کیے جائیں گے۔

علیمہ خانم وکیل شیراز احمد رانجھا کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچیں۔

فیفا ورلڈکپ 2026؛ فائنل نیویارک، افتتاحی میچ میکسیکو میں ہوگا

نیویارک: فیفا ورلڈکپ 2026 کا فائنل نیویارک جب کہ افتتاحی میچ میکسیکو میں ہوگا۔

فیفا ورلڈکپ 2026 کا فائنل نیویارک، نیوجرسی میں 19 جولائی کو منعقد ہوگا جبکہ ایونٹ کا آغاز 11 جون کو میکسیکو سٹی کے ایسٹاڈیو ایٹزیکا کلب میں ہوگا۔

ٹورنٹو ( کینیڈا )، میکسیکو سٹی ( میکسیکو) اور لاس اینجلس (امریکا) میزبان ٹیموں کے ابتدائی میچز کی میزبانی کریں گے، فیفا نے ورلڈ کپ کے شیڈول کا اعلان کردیا۔

کینیڈا کی مہم جمعہ 12 جون کو ٹورنٹو میں شروع ہوگی، اسی دن لاس اینجلس میں امریکا بھی اپنا پہلا میچ کھیلے گا، ایونٹ کے 104 میچز تینوں ملکوں کے 16 اسٹیڈیمز میں منعقد ہوں گے۔

کیا سندھ پریمئیر لیگ میں شریک کھلاڑیوں، آفیئشلرز کو واجبات ادا نہیں کیے گئے؟

سندھ پریمئیر لیگ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں اور منتظمین تاحال ادائیگی نہیں کی گئی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خبریں گردش کررہی ہیں کہ سندھ پریمئیر لیگ (ایس پی ایل) کے پہلے ایڈیشن میں شریک کھلاڑیوں اور آفیشلرز کو واجبات ادا نہیں کیے گئے ہیں۔

ایک پلیٹ فارم پر پوسٹ شیئر کی گئی ہے کہ پاکستانی کرکٹر صہیب مقصود بھی ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہیں تاحال رقم ادا نہیں کی گئی جبکہ گزشتہ روز فائنل کھیلنے والی ٹیم کے ایک کھلاڑی نے رقم کی ادائیگی نہ ہونے پر میچ کھیلنے سے انکار کردیا تھا۔

واجبات کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں صہیب مقصود کی سوشل میڈیا پر ٹوئٹ کی تھی تاہم بعدازاں انہوں نے ٹوئٹ ڈیلیٹ کردی۔

واضح رہے کہ سندھ پریمئیر لیگ میں سابق کپتان شاہد آفریدی سمیت کئی پاکستانی کرکٹرز ایونٹ میں شریک تھے۔

گزشتہ روز کھیلے گئے فائنل میں میرپور خاص ٹائیگرز نے حیدر آباد بہادرز کو شکست دیکر ایونٹ کا پہلا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

پی ٹی آئی امیدواروں اور کارکنوں کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

اسلام آباد: ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی امیدواروں اور کارکنوں کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل شعیب شاہین اور علی بخاری کی درخواست پر احکامات جاری کیے۔

تحریکِ انصاف کے نامزد امیدواروں کی انتخابی مہم کی اجازت اور ہراساں کرنے سے روکنے کی درخواست پر چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔
دوران سماعت، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ پولیس ہمارے سپورٹرز کو اٹھا کر کہتی ہے کہ پی ٹی آئی سے الگ ہو جاؤ، ہمارے لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ کسی اور جماعت میں شامل ہو جاؤ، فون کالز کر کے کہتے ہیں کہ اگر جلسہ کیا تو آپ کے خلاف پرچہ ہو جائے گا۔

علی بخاری ایڈوکیٹ نے کہا کہ جو الیکشن مہم اور جلسے ہونے تھے وہ تو ہوگئے آج آخری دن ہے، ہمارے پولنگ ایجنٹس کو کالز کر کے ڈرایا جا رہا ہے۔ شعیب شاہین نے کہا کہ اگر اسلام آباد کی ماڈل پولیس یہ طرز عمل اختیار کرے گی تو پھر کیا امیج جائے گا۔

کسان تاحال درآمدی کھاد سے محروم، اربوں روپے خوردبرد ہونے کا خدشہ

اسلام آباد: نگراں حکومت کی جانب سے کسانوں کو یوریا کھاد کی فراہمی کا طریقہ کار طے کرنے میں ناکامی کے باعث ڈیلرز کی جانب سے یوریا کی فراہمی کے عمل میں اربوں روپے کے خوردبرد ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

حکومت نے 2 لاکھ 20 ہزار ٹن یوریا آذربائیجان سے درآمد کی تھی جس کی مالیت 30 ارب روپے تھی اور 25 دسمبر کو سرکاری گوداموں میں رکھا گیا تھا تاہم یہ کھاد تا حال کسانوں تک نہیں پہنچ سکی جو گندم کی اگلی فصل کے لیے اس کے انتظار میں ہیں۔

اس سے قبل اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ یوریا بنانے والے کارخانے سرکاری گودام سے ضرورت کے مطابق کھاد حاصل کریں گے اور اسے ایک مناسب قیمت پر کسانوں کو فراہم کریں گے لیکن اس کا طریقہ کار اب تک وضع نہیں کیا جاسکا جس کے باعث درآمدی کھاد اب تک سرکاری گوداموں میں ہی پڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوریا درآمد کرنے کے بعد بھی کھاد کا بحران جاری رہیگا، پاکستان کسان اتحاد

یوریا درآمد کرنے کا مقصد کسانوں کو کھاد کی بروقت فراہمی اور مارکیٹ میں اس کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا تھا تاہم کسانوں کو یا تو اب تک کھاد فراہم نہیں کی جاسکی ہے یا انہیں اس کے لیے دگنی قیمت ادا کرنی پڑرہی ہے جو کہ 6000 روپے فی بیگ ہے۔

اس سے قبل کابینہ نے اپنے اجلاس میں بھی کم قیمت پر گیس لینے کے باوجود یوریا بنانے والے کارخانوں کی جانب سے کسانوں سے کھاد کے بدلے بھاری قیمتیں وصول کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جبکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مقامی طور پر تیار کی جانے والی اور درآمدی کھاد کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار وضع کرنے کی منظوری دی تھی کیونکہ صوبوں نے قیمتوں میں اضافی بوجھ کو برداشت کرنے سے انکار کردیا تھا۔

کابینہ کمیٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ نیشنل فرٹیلائزر مارکیٹنگ لمیٹڈ درآمدی یوریا کی قیمتوں کا تعین کرے گا اور فنانس ڈویڑن کا کہنا تھا کہ ایک بار قیمتوں کا تعین ہوجانے کے بعد مزید کسی قسم کی کوئی سبسڈی نہیں دی جائے گی۔

آئی ایم ایف نے قرض منصوبوں کی فوری منظوری روک دی

اسلام آباد: آئی ایم ایف نے صنعتوں ژکیلیے بجلی کی قیمتوں میں کمی، گردشی قرضے کے پانچویں حصے سے زیادہ کی ادائیگی اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے 268 ارب روپے کے قرض کو حکومتی قرضوں کا حصہ بنانے کی عبوری حکومت کی تجاویز کی فوری طور پر توثیق نہیں کی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اس قدر جلد بازی کی وجوہات کے بارے میں بھی استفسار کیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن عبوری حکومت کو پی آئی اے کی نجکاری پر فیصلے سے پہلے ہی روک چکا ہے۔

حکومتی ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے 3اہم تجاویز کے معاشی اور قانونی طور پر قابل عمل ہونے کے بارے میں مزید تفصیلات طلب کیں۔ آئی ایم ایف نے دو ورچوئل میٹنگز کیں لیکن ان کے نتائج پاکستانی حکام کی توقعات سے کم تھے۔ ان تجاویز پر بات چیت کا اگلا دور پاکستانی حکام کی جانب سے اضافی معلومات فراہم کرنے اور آئی ایم ایف کے اندرونی جائزے کے بعد ہوگا۔

آئی ایم ایف نے تینوں تجاویز کو نہ تو مسترد کیا اور نہ ہی قبول کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دو ملاقاتوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آئی ایم ایف منتخب حکومت کے دور میں اس پر مزید غور کرے گا۔ نگراں حکومت عہدہ چھوڑنے سے پہلے تینوں تجاویز پر پیشرفت کی خواہشمند ہے۔ یہ ملاقاتیں انتخابات سے صرف تین دن قبل پاکستانی حکام کی درخواست پر ہوئیں۔

وزارت خزانہ کے ترجمان قمر عباسی نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ کیا آئی ایم ایف نے تینوں تجاویز کو کلیئر نہیں کیا اور مزید معلومات مانگی ہیں۔ آئی ایم ایف کی نمائندہ ایستھر پیریز نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا بنیادی اعتراض پی آئی اے کے قرضوں کو حکومتی قرض بنانے کی فوری ضرورت پر تھا۔ حکومت دعویٰ کر رہی تھی کہ ادارہ نجکاری کے لیے تیار ہے اور اس کی آئندہ آمدنی قرضوں کی ادائیگی کے لیے ہو گی لیکن پھر بھی وہ نگران سیٹ اپ کے خاتمے سے قبل 268 ارب روپے کو حکومتی قرضوں کا حصہ بنانا چاہتی تھی۔

آئی ایم ایف پی آئی اے کی نجکاری کے ممکنہ وقت اور کم از کم ریزرو قیمت کے بارے میں مزید وضاحت چاہتا تھا، ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا استفسار تھا کہ قرضے کی ادائیگی کے لیے پی آئی اے کی نجکاری کا انتظار کیوں نہ کیا جائے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور پاکستان اسٹیٹ آئل کے قرضوں پر بھی سوال اٹھایا گیا۔ آئی ایم ایف کو کمرشل بینکوں اور وفاقی حکومت کے درمیان 268 ارب روپے کے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس مفاہمت کے تحت، حکومت پی آئی اے کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو اصل رقوم کی ادائیگیوں کے لیے استعمال کرے گی اور اگر فنڈز ناکافی ہوئے تو بجٹ کا سہارا لے گی۔