کراچی کے عوام ووٹ کو تقسیم نہ کریں، حافظ نعیم

میر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کراچی گزشتہ 15 سال سے تباہ و برباد کردیا ہے، کراچی کے عوام مینڈیٹ پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے، جماعت اسلامی کی ہوا چل رہی ہے، ترازو جیت رہا ہے، کراچی اور پاکستان جیت رہا ہے، شہر قائد کے عوام ووٹ کو تقسیم نہ کریں، ووٹ تقسیم ہوگیا تو درندے اور بھیڑیے پھر سے آجائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب 246 بجلی نگر اورنگی ٹاؤن اور پرفیوم چوک گلستان جوہر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی میں ہزاروں سرکاری اسکولز ہیں جو منشیات کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔ کراچی کا ہر دوسرا بچہ تعلیم سے محروم ہے اور پورے سندھ کا یہی حال ہے۔ پیپلز پارٹی نے کراچی گزشتہ 15 سال سے تباہ وبرباد کردیا ہے۔ اب کراچی کے عوام 8 فروری کو پیپلزپارٹی کو مسترد کر کے تباہ وبرباد کردیں گے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو اب تک ایم کیو ایم میسر آئی تھی لیکن اب جماعت اسلامی کراچی کی آواز ہے۔ جماعت اسلامی پیپلزپارٹی کے لیے لوہے کے چنے ثابت ہوں گے۔ کراچی سے وابستہ سیاسی و مذہبی جماعتیں ایم کیوا یم کے حق میں دستبردار ہورہی ہیں۔ ساری جماعتیں مل کر جماعت اسلامی کے خلاف اکھٹا ہوگئی ہیں۔ کراچی میں اس وقت سب سے زیادہ مقبول ترین جماعت جماعت اسلامی بن گئی ہے۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو نوجوانوں کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹر میڈیٹ کے مسئلے کو پنجاب سے بیٹھ کر پیپلزپارٹی کے وڈیرے اور جاگیرداروں کی حمایت کررہے ہیں۔ کراچی کا ہر بچہ ہمارا بچہ ہے، ہم کراچی کے بچوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔ ہم کراچی کے نوجوانوں کو سپورٹ کررہے ہیں ہم انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اس وقت 25 سے 30 ہزار نوجوان طلبہ و طالبات فری آئی ٹی کورسز کررہے ہیں۔ 30 ہزار نوجوان ایک ماہ بعد کورسز مکمل کرلیں گے اور یہی نوجوان گھروں میں بیٹھ کر آن لائن کام کرے گا۔ جب کراچی کے عوام جماعت اسلامی کو بھاری مینڈیٹ دیں گے تو ہم تعلیم کے بجٹ سے فری آئی ٹی یونیورسٹی بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہماری ہی ٹیکسوں کے پیسوں سے جتنے چاہے اشتہارات چلالیں، عوام پیپلز پارٹی کو مسترد کردیں گے۔ فضل اللہ پیچوہو سانگھڑ میں کہہ رہے تھے کہ 12 بجے تک ووٹ ڈالنے نہیں نکلے تو پانی بند کردوں گا۔ پیپلز پارٹی اندرون سندھ کے عوام کا غم و غصہ کا سامنا کرے کراچی کے بارے میں سوچنا چھوڑ دے۔ عمران خان اور بلے کے نشان پر جن لوگوں نے ووٹ حاصل کیا۔

جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کا مشترکہ میئر بننے جارہا تھا لیکن چند لوگوں کی بے وفائی سے قبضہ میئر بن گیا۔ عمران خان اور بلے کے نام پر ووٹ لینے والے سب چلے گئے۔ اس وقت جتنے ایم این اے اور ایم پی اے انتخابات کھڑے ہیں وہ بتائیں کہ انہوں نے پی ٹی آئی کا مقدمہ کیوں نہیں لڑا؟

انٹرا پارٹی الیکشن کے نام پر جب پی ٹی آئی کا انتخابی نشان چھین لیا تو مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا انتخابی نشان کیوں نہیں لیا۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی خاندان ، وراثت اور وصیت کے نام پر چلنے والی پراپرٹیاں ہیں جو عوام کا استحصال کرتی ہیں۔

پی ٹی آئی کے جوانوں کا انخابی نشان 8 فروری کو ترازو ہی ہے۔ عمران خان اور بلے کانام پر جیتنے والوں نے پارٹی کے ساتھ وفاداری نہیں کی۔ 9 مئی کے واقعے کے بعد پی ٹی آئی کے کسی نمائندے نے عمران خان کے ساتھ رابطہ نہیں کیا۔

میں نے خود بنی گالہ میں جاکر عمران خان کے ساتھ کر ملاقات کی اور برے وقت میں بھی یاد کیا۔ آج پی ٹٰی آئی کا برا وقت ہے اور ہم آج بھی پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کیخلاف ہیں۔ جو عمران خان اور بلے کے نشان پر فروخت ہوگئے ہیں وہ آزاد امیدوار کے نام پر کیسے قیمت نہیں لگائیں گے۔

کراچی کے عوام عمران خان کے نام پر مانگے گئے ووٹ کے دھوکے میں مت آنا ، ہر شہری کا نشان صرف اور صرف ترازو ہے۔ ہم اسمبلی میں پہنچ کر حکومت کریں گے اپوزیشن میں نہیں بیٹھیں گے۔ ہمیں اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں کراچی کے عوام کے حقوق چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایم کیو ایم والے کہتے پھرتے ہیں کہ ہماری بات ہوگئی ہے، اداروں کے افراد کہتے ہیں کہ ہم 45 کو 50 کرسکتے ہیں لیکن 0 کو 50 نہیں کرسکتے۔ آر اوز اور ڈی آر اوز کراچی کے نوجوانوں کی رائے دیکھ لو اور ان کا غصہ بھی دیکھ لو۔

انہوں نے کہا کہ ہم واضح طور پر کہہ دینا چاہتے ہیں کہ اگر نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کی تو نوجوان پولنگ اسٹیشن پر بھرپور مزاحمت کریں گے۔ جماعت اسلامی کو جب بھی موقع ملا تو گڈ گورننس قائم کیا اور شہریوں کے لیے کام کیا۔

پیپلزپارٹی نے پندرہ سال کراچی کو لوٹ کر معیشت کو تباہ کردیا، خالد مقبول

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ظالموں کا دور ختم اور مظلوم و محکوم عوام کی حکمرانی کا دور شروع ہورہا ہے۔ کراچی شہر کا قطرہ قطرہ گلی گلی محلہ محلہ کراچی والوں کو لوٹ رہا ہے۔ 8 فروری کی شب انشاء اللہ ایم کیوایم پاکستان نماز شکرانہ ادا کرے گی۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے فائیواسٹار چورنگی پر ڈسٹرکٹ سینٹرل کی ریلیوں کی اختتامی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان کے منتخب نمائندوں پر اب کڑا وقت آنا ہے۔ ہم کراچی کے عوام کا اعتماد ضائع نہیں ہونے دینگے، پاکستان کے آئین کو مجبور کردینگے کہ وہ ظالم جابر خاندانوں کے بجائے پاکستانیوں کو تحفظ و سہولت دیں.
ان کا کہنا تھا کہ نماز فجر فرض ہے فرض کہ بعد قوم کا واجب بھی پورا کرنا ہے۔ پیپلزپارٹی نے پندرہ سال کراچی کو لوٹ کر معیشت کو تباہ کردیا۔ 8 فروری کو انتخاب نہیں قوم کا امتحان ہے۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کیلیے جدید ٹیکنالوجی، ماڈرن ڈیوائس استعمال کرنیکا حکم

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر تفتیشی افسران کو جدید ٹیکنالوجی اور ماڈرن ڈیوائس کا استعمال کرنے کا حکم دے دیا۔

ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کیا اقدامات کیے ہیں؟ تفتیشی افسر نے بتایا کہ 14 جے آئی ٹیز ہو چکی ہیں، شہریوں کی بازیابی کے لیے بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔ شہریوں کی بازیابی کے لیے ملک کی تمام ایجنسیوں کو خطوط لکھے ہیں۔

لانڈھی سے لاپتا شہری حسن دلاور اور شاہ لطیف سے لاپتہ حبیب خان کے اہلخانہ عدالت پہنچ گئے۔ اہلخانہ نے لاپتہ شہریوں کو بازیاب کرانے کی استدعا کی۔
عدالت نے لاپتا شہریوں کی بازیابی کے لیے جے آئی ٹیز اور صوبائی ٹاسک فورس اجلاس کرنے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے تفتیشی افسران کو جدید ٹیکنالوجی اور ماڈرن ڈیوائس کا استعمال کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے حسن دلاور، حبیب خان اور دیگر لاپتہ شہریوں کی بازیابی سے متعلق پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 4 ہفتوں تک ملتوی کر دی۔

ایف پی سی سی آئی نے معدنیات کی برآمدات پر پابندی کی مخالفت کردی

کراچی: وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت پاکستان کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ خام معدنیات اور ماربل پر مجوزہ پابندی کی مخالفت کرتے ہیں جوکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے منظور کی ہے اور جس میں دھاتی اور غیر دھاتی دونوں طرح کی معدنیات شامل ہیں۔

فیڈریشن ہاوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت پاکستان کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ یہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے وژن سے متصادم ہے جس نے معدنیات کو اپنے پانچ فوکس ایریاز میں سے ایک رکھا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر معدنیات کے شعبے کو مراعات دی جاتی ہیں تو اس کی برآمدات دو سے تین سال کی مختصر مدت میں 10ارب ڈالر تک پہنچ سکتیں ہیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سنیئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ سہولیات کے قیام کیلیے 2 سے 3 سال کی ڈیڈ لائن کے ساتھ ایک فریم ورک دے،کیونکہ راتوں رات ویلیو ایڈیشن ماڈل پر منتقل ہونا عملی طور پر ناممکن ہے۔

نائب صدر ایف پی سی سی آئی ذکی اعجاز نے تجویز پیش کی کہ ایف پی سی سی آئی SIFC کو خط لکھے اور اسے پورے مائینز اور معدنیات کے شعبے کے لیے اس پریشان کن خبر سے آگاہ کرے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کرنے کے لیے ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کریں۔

سابق صدر اسلام آباد چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری شکیل منیر نے کہا کہ مجوزہ پابندی نے کاروباری برادری کو ایک جھٹکا دیا ہے، کیونکہ اسے ایس آئی ایف سی کے اقدامات سے تقویت ملی ہو ئی تھی اور دوسری طرف یہ معاملہ فارن ڈائریکٹ انوسیمنٹ، جوائنٹ وینچرز اور صنعتی تعاون لانے میں رکاوٹ کا باعث بنے گا۔

مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے نائب صدر بلال خان نے نشاندہی کی کہ یہ شعبہ پہلے ہی خطے میں سب سے مہنگی بجلی کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔

کراچی کے 5342 میں صرف 128 پولنگ اسٹیشن نارمل

کراچی میں پولنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے 2779 عمارتیں ھاصل کی گئی ہیں۔ ان عمارتوں میں مجموعی طور پر 5342 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ 3038 پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں،

پورے کراچی میں صرف 128 پولنگ اسٹیشن نارمل ہیں جو ضلع شرقی میں واقع ہیں۔

کراچی کے دیگر 6 اضلاع مکمل حساس ہیں جن میں 3038 پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس ہیں۔

کراچی کا انتہائی حساس ضلع غربی ہے جہاں کے تمام 676 پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس قرار دیے ہیں۔

دوسرے نمبر پر کراچی وسطی کے 655 پولنگ اسٹیشن حساس جبکہ 600 انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔

ضلع کورنگی بھی انتہائی حساس ہے جہاں 170 پولنگ اسٹیشن حساس اور 582 انتہائی حساس ہیں،۔

کراچی شرقی میں 471 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس اور 311 حساس جبکہ صرف 128 نارمل ہیں۔

ضلع کیماڑی کے345 پولنگ اسٹیشن حساس اور 251 انتہائی حساس

ضلع ملیر میں 383 پولنگ اسٹیشن حساس جبکہ 179 انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔ کراچی جنوبی کے 306 حساس اور 279 پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس ہیں۔

چلی کے سابق صدر ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک

سانتیا گو: چلی کے دو مرتبہ صدر رہنے والے 74 سالہ سیبسٹین پنیرا ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہوگئے جب کہ ان کے 3 ساتھی شدید زخمی ہیں۔

عالمی خبر رساں کے مطابق چلی کے جنوبی علاقے لوس ریوس میں ایک ہیلی کاپٹر گرکر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 3 شدید زخمی ہوگئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

جہاں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت 74 سالہ سیبسٹین پنیرا کے نام سے ہوئی جو چلی کے 2010 سے 2014 اور پھر 2018 سے 2022 تک صدر رہے ہیں۔
تاحال ہیلی کاپٹر حادثے کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا تاہم اس علاقے میں مسلسل اور موسلا دھار بارش ہورہی تھی اور غالب امکان ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے کی وجہ بھی موسم کی خرابی ہی ہو۔

چلی کے صدر گیبریل بورک نے ملک میں 3 دن کے قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق صدر کی تدفین سرکاری سطح پر کی جائے گی۔ جب کہ ہیلی کاپٹر حادثے کی وجہ کے تعین کے لیے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دیدی گئی۔

الیکشن 2024 : پولنگ کل ہوگی، انتخابی مہم ختم

ملک بھر میں 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم کا وقت ختم ہوگیا۔ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اس کے علاوہ بیلٹ پیپرز اور دیگر سامان کی ترسیل کا کام مکمل کرلیا۔

الیکشن مہم منگل کو رات 12 بجتے ہی ختم ہوگئی۔ ملک بھر میں 8 فروری کو صبح 8 بجے پولنگ شروع ہوگی۔

پولنگ کا عمل صبح 8 سے شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہے گا۔ پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے تک نتائج نشر کرنے پر پابندی عائد ہے۔ ریٹرننگ افسران مکمل غیر حتمی رزلٹ جاری کریں گے۔

ترجمان کے مطابق الیکشن مینجمنٹ سسٹم آر ٹی ایس سے بہتر ہے، ابتدائی نتائج 9 فروری کو دن 2 بجے تک جاری کردیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں انتخابات کے لیے7 لاکھ بیلٹ باکس کا انتظام کر لیا جبکہ ووٹنگ کے لیے 2 لاکھ 76 ہزار سے زائد پولنگ بوتھ قائم کئے جائیں گے، ہر پولنگ بوتھ پر 2 بیلٹ باکس رکھے جائیں گے، ایک بیلٹ باکس میں قومی اسمبلی اور دوسرے میں صوبائی اسمبلی کے لیے ووٹ کاسٹ ہوں گے۔

ملک بھرمیں 5 لاکھ 52 ہزار بیلٹ باکس استعمال ہوں گے جبکہ ڈیڑھ لاکھ ریزرو رکھے جائیں گے، بیلٹ باکس بھرجانے پر دوسرا بیلٹ باکس فراہم کیا جائے گا، بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ کا کام مکمل ہو چکا ہے، صوبائی سطح پر سکیورٹی، ٹرانسپورٹ، مواصلاتی اور ایمرجنسی پلان بھی تیار ہے۔

26 کروڑ بیلٹ پیپرز کی ترسیل کا کام مکمل
الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے 26 کروڑ بیلٹ پیپرز کی ترسیل کا کام مکمل کرلیا۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے بیلٹ پیپرز کی ترسیل کا عمل زمینی اور ہوائی راستوں سے مکمل کیا گیا، تمام بیلٹ پیپرز، سرکاری پریس سے متعلقہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفسران اور ان کے نمائندوں کے حوالے کیے گئے، موسم کی خرابی کے باعث بھی بیلٹ پیپرز کی ترسیل میں مسائل درپیش رہے۔

عام انتخابات کی مانیٹرنگ کیلئے کنٹرول روم قائم
عام انتخابات کی مانیٹرنگ کے لیے کنٹرول روم قائم کردیا گیا، 32 ریجنل اور 144 ضلعی مانیٹرنگ ٹیمیں شکایات کے ازالے لیے کام کررہی ہیں۔

الیکشن کمیشن کا میڈیا نمائندگان کو انتخابات کےلئے قائم نیٹورک آپریشن سینٹر کا دورہ تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

ایڈیشنل ڈی جی مرکزی کنٹرول روم ہارون شنواری نے بریفنگ میں بتایا اسٹیٹ آف ارٹ سسٹم میں مانیٹرنگ کے لیے خصوصی اقدامات کیے، شکایات درج کرانے کے لیے پہلی مرتبہ واٹس ایپ استعمال کر رہے ہیں، 26 دسمبر سے اب تک 625 افراد کو نوٹسز، 252 امیدواروں کو شوکاز نوٹس اور 156 لوگوں کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانے کیے، اب تک 221 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 198 شکایات کو حل کرلیا گیا ہے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن ڈاکٹر آصف حسین کا کہنا تھا کہ پریذائیڈنگ افسر نے ای ایم ایس پر صرف فارم کی تصویر لیکر بھیجنی ہے، زائد المعیاد شناختی کارڈز والے شہری ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

ڈی جی آئی ٹی خضر حیات نے بتایا کہ ای ایم ایس کی ٹیکنالوجی کو اپگریڈ کیا گیا، پریذائیڈنگ افسر ای ایم ایس کے ذریعے ریٹرننگ افسر کو نتائج بھجوائے گا، نتائج ترسیل میں کوئی ایشو ہوا تو پریذائیڈنگ افسر ذاتی حیثیت میں ریٹرننگ افسر کو نتائج پہنچائے گا۔

پنجاب میں فوجی دستوں کی تعیاتی شروع
پنجاب میں عام انتخابات پرامن بنانے کے لیے مختلف شہروں میں فوجی دستوں کی تعیاتی شروع ہوگئی۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق لاہور، قصور،شیخوپورہ میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں، ننکانہ صاحب، جھنگ، منڈی بہاوالدین، چکوال، جہلم سمیت دیگراضلاع میں آج فوجی دستے پہنچ جائیں گے۔

حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب بھی جاری ہے۔

پولیس کی پنجاب میں سیکیورٹی، ٹریفک اور لاجسٹکس انتظامات کی فل ڈریس ریہرسل
پنجاب پولیس نے لاہور سمیت صوبے کے تمام ریجنز اور اضلاع میں سیکیورٹی، ٹریفک اور لاجسٹکس انتظامات کی فل ڈریس ریہرسل کی، الیکشن میٹریل کی بحفاظت ترسیل، پولنگ سٹیشنز و کلسٹرز پر پولیس نفری کی تعیناتی، سی سی ٹی وی کیمروں کی مانیٹرنگ کا جائزہ لیا گیا۔

ریہرسل کے دوران صوبہ بھر میں خصوصی ناکہ جات، سرچ اینڈ سویپ آپریشنز کئے گئے، پولیس افسروں نے لا اینڈ آرڈر کی مجموعی صورتحال پولنگ کے عمل کو پرامن رکھنے کی ریہرسل کا جائزہ لیا، پولنگ ڈیوٹی پر تعینات نفری کی ذمہ داریوں بارے بریفنگ بھی دی گئی۔

لاہور سمیت تمام اضلاع میں سپروائزری افسران کی زیر قیادت فلیگ مارچز کا انعقاد بھی کیا گیا، فلیگ مارچز میں ضلعی پولیس، ڈولفن سکواڈ، پولیس ریسپانس یونٹ، ایلیٹ فورس، ٹریفک پولیس کی موبائلز اور جوانوں نے حصہ لیا۔

ایران نے بھی بھارتی سیاحوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کردی

ایران نے بھارتی سیاحوں کے لیے پندرہ دن کی ویزا فری انٹری کا اعلان کیا ہے۔

نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے نے بتایا ہے کہ بھارتی پاسپورٹ کے حامل افراد اب ویزا لیے بغیر پندرہ دن تک ایران کی سیر کرسکیں گے۔

نئی پالیسی کے تحت بھارتی باشندے ہر 6 ماہ بعد ایران جاسکیں گے۔ ویزا کے بغیر کیا جانے والا قیام 15 دن کا ہوگا۔ اس مدت میں توسیع نہیں کی جائے گی۔ نئی پالیسی کے تحت صرف سیاحوں کو ویزا کے بغیر آنے دیا جائے گا۔

تعلیم، ملازمت یا کاروبار کی غرض سے ایران آنے والوں کے لیے ویزا کا حصول لازم ہوگا۔

ایرانی سفارت خانے نے یہ بھی بتایا کہ ویزا کے بغیر آنے والے بھارتی سیاح صرف فضائی سفر کے ذریعے ایران میں داخل ہوسکیں گے۔

یاد رہے کہ چند ماہ کے دوران تھائی لینڈ، ویتنام، سری لنکا اور چند دوسرے ممالک نے بھی بھارتی پاسپورٹ کے حامل افراد کے لیے ویزا فری سفر کی سہولت فراہم کی ہے۔

گزشتہ برس کے اوائل میں ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے اعلان کیا تھا کہ یکم دسمبر 2023 سے چین اور بھارت کے باشندوں کو ملائیشیا میں 30 دن کے لیے ویزا کے بغیر داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔ یہ انٹری کرمنل ریکارڈ کی چیکنگ سے مشروط ہوگی۔

تھائی لینڈ نے اعلان کیا تھا کہ 10 نومبر 2023 سے بھارت کے باشندے 30 دن کے لیے ویزا لیے بغیر داخل ہوسکیں گے۔ یہ سہولت فی الحال 6 ماہ کے لیے ہے۔ تھائی لینڈ کی کابینہ نے 10 مئی کو بھارتی باشندوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کی منظوری دی تھی۔

سری لنکا نے بھی بھارت، چین اور روس سمیت 7 ملکوں کے شہریوں کو ویزا کے بغیر آنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

دفتر خارجہ نے انتخابات پر اقوام متحدہ کی تنقید مسترد کردی

ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی تنقید مسترد کردی ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے پاکستان جامع جمہوری عمل کو فروغ دینے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے لئے مکمل طور پر پرعزم ہے جس کی ضمانت اپنے قوانین اور آئین میں دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے گزشتہ روز جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ تنظیم سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے خلاف تشدد کی تمام کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے اور حکام پر زور دیتی ہے کہ وہ بامعنی جمہوری عمل کے لئے ضروری بنیادی آزادی کو برقرار رکھیں۔

ووٹنگ سے قبل سیاسی جماعتوں کے ارکان کے خلاف تشدد کے کم از کم 24 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے حکام سے اپیل کی تھی کہ وہ مکمل طور پر آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کو یقینی بنائیں اور جمہوری عمل کے لیے دوبارہ عزم کریں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ انتخابی قوانین کے مطابق 8 فروری کو انتخابات کے انعقاد کے لیے سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا عدالتی نظام منصفانہ ٹرائل اور مناسب طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ انتخابی عمل میں کسی بھی شکایت کی صورت میں قانونی حل موجود ہیں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن (یو این ایچ سی) برائے حقوق انسانی نے پاکستان میں انتخابی مہم کے دوران پُرتشدد واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

جنیوا سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں یو این ایچ سی کے سربراہ واکر ٹرک کی ترجمان لِز تھراسیل نے کہا تھا کہ جمعرات 8 فروری کے عام انتخابات سے قبل پاکستان میں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کےدرمیان تشدد واقعات کی ہم مذمت کرتے ہیں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جمہوری عوامل کو بامعنی انداز سے جاری رکھنے کے لیے درکار آزادی یقینی بنائیں۔

بیان کے مطابق انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتوں کے کارکنوں پر حملوں کے 24 سے زائد واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ پندرہ برس میں سلامتی اور معیشت کے حوالے سے غیر معمولی چیلنجز کے باوجود جمہوریت کو کسی نہ کسی طور بچانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انتخابات ملک میں جمہوریت اور (اقلیتوں سمیت) انسانی حقوق کے تحفظ کی فراہم کرنے کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انتخابی مہم سے قبل اور اس کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کو ہراساں و گرفتار کرنے اور زیرِ حراست رکھنے کی خبریں پریشان کن ہیں۔ امید ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں سابق وزیر اعظم عمران خان کو سنائی جانے والی سزاؤں پر نظرِ ثانی کرکے، انسانی حقوق کی پاسداری سے متعلق پاکستان کی ذمہ داریوں کے تناظر میں، شفافیت یقینی بنائیں گی۔

بیان کے مطابق جو سیاسی جماعتیں انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اہل ہیں اُنہیں شفاف طریقے سے انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

عالمی ادارے کے بیان کے مطابق عام انتخابات خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ذمہ داریوں کی یاد دہانی کا موقع بھی ہے۔ قومی اسمبلی میں 22 فیصد نشستیں خواتین کو ملنے چاہئیں تاہم بیشتر سیاسی جماعتیں اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی دکھائی نہیں دے رہیں۔

سیاسی جماعتوں کے لیے لازم ہے عام نشستوں پر کم از کم 5 فیصد امیدوار خواتین ہونی چاہئیں مگر یہ بنیادی شرط بھی پوری نہیں کی جارہی۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق واکر ٹرک کا تعلق آسٹریا سے ہے۔ انہوں نے کامیابی جمہوری عمل کے لیے شفاف اور غیر جانب دارانہ انتخابات یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔

فلسطینی بچہ تکلیف میں بھی قرآن مجید کی تلاوت کرتا رہا

فلطسین میں جہاں مظلوم فسلطینیوں پر ظلم و ستم جاری ہے، وہیں اپنی مٹی سے محبت انہیں شہادت سے ہم کنار کر رہی ہے۔

ایک ایسی ہی ویڈیو نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر رہی ہے، جس میں معصوم بچہ قرآن کی تلاوت کر رہا ہے۔

فلسطینی بچوں، خواتین، بوڑھوں کو جہاں اسرائیلی فوج اپنے ظلم کا نشانہ بنا رہی ہے، وہیں فسلطینی بچے بھی اب اسرائیل درندگی پر ہار ماننے کو تیار نہیں ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے، جس میں ایک معصوم بچے کو دیکھا جا سکتا ہے جو کہ زخموں سے چور ہے، لیکن آنکھوں میں آنسو نہیں اور چہرے پر خوف نہیں۔

اسپتال میں موجود یہ بچہ اپنے زخموں پر پٹی لگوا رہا ہے، تاہم اسی دوران اس کے لبوں پر قرآن مجید کی تلاوت تھی۔

عام طور پر کم عمر بچے جب کبھی چوٹ لگے یا زخم آئے تو تکلیف کے باعث رو جاتے ہیں۔ لیکن اس کم عمر کی آنکھوں میں موجود جذبہ اور لبوں پر قرآن مجید کی تلاوت اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے، کہ آنے والی فلسطینی آزادی کے جذبے سے سرشاد ہے۔

صارفین کی جانب سے بھی اس بچے کی خوب تعریف اور حوصلہ دیا گیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ماشاءاللہ، اس بچے کی آواز بہت خوبصورت ہے، اللہ اس پر اپنی رحمت برسائے۔

جبکہ ایک اور صارفر نے لکھا کہ اللہ ان کی تکالیف کو آسان کرے اور انہیں کامیابی عطا کرے۔

پاکستان عام انتخابات کے دوران بلا تعطل انٹرنیٹ تک محفوظ رسائی یقینی بنائے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر پاکستانی حکام سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات کے دوران ملک بھر کے تمام شہریوں کے لیے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن پلیٹ فارم تک رسائی کو یقینی بنائیں۔

یہ مطالبہ نگراں وزیر داخلہ گوہر اعجاز کے ایک بیان کے جواب میں سامنے آیا ہے ۔ انہوں نے جمعرات کے انتخابات کے دوران انٹرنیٹ میں خلل پڑنے اور بند ہونے کے امکان کو تسلیم کیا ۔

نگراں وزیراعظم اور چیف الیکشن کمشنر کے نام بھیجے گئے خط کی ایک کاپی ایمنسٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان کو بھی بھیجی ہے۔

خط کے مطابق سرکاری اداروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کے عوام اہم قومی واقعات کے دوران خاص طور پر بلا روک ٹوک، محفوظ اور مفت انٹرنیٹ کی سہولت حاصل کر سکیں۔

انٹرنیٹ تک سنہ 20024 کے عام انتخابات کے دوران بھی بلا تعطل رسائی ممکن بنائی جائے۔

خط کے مطابق یہ مطالبہ کیپ اٹ اوپن نامی اتحاد کی طرف سے کیا جا رہا ہے جس میں 105 سے 300 سے زیادہ انسانی حقوق کی تنظیمیں شامل ہیں جو انٹرنیٹ تک رسائی کے حق کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہیں۔ اس اتحاد کے مطابق آزادی اظہار رائے کے ذریعے سے ہی عام انتخابات صاف اور شفاف بنائے جا سکتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے وزیراعظم اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتخابی مدت کے دوران انٹرنیٹ کی مکمل رسائی اور سوشل میڈیا کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے فعال اقدامات کریں۔

انٹرنیٹ تک رسائی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کرنے کی اہلیت شہریوں کے لیے جمہوری عمل میں حصہ لینے کے لیے ضروری ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اس کے شراکت دار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انتخابات کے دوران انٹرنیٹ تک رسائی میں رکاوٹیں نہ صرف جمہوری عمل کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ یہ شہریوں کی اہم معلومات تک رسائی اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار میں بھی رکاوٹ ہے۔

1000 ون ڈے میچز؛ آسٹریلیا دوسری ٹیم بن گئی، پاکستان کا نمبر کیا ہے؟

آسٹریلیا نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل میچ جیت کے ساتھ یادگار بنالیا۔

کینبرا میں کھیلے گئے سیریز کے تیسرے میچ میں آسٹریلیا نے ویسٹ انڈیز کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 8 وکٹوں اور 259 بالز سے شکست دی، جو بالز کے اعتبار سے کینگروز کی سب سے بڑی فتح تھی۔

اسی میچ کے ساتھ آسٹریلیا نے 1000 ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلنے والی دوسری ٹیم بھی بن گئی، کینگروز نے ایک ہزار ون ڈے میچز میں 609 فتوحات سمیٹیں جبکہ بھارت واحد ٹیم ہے جس نے ایک ہزار 55 میچز کھیل رکھے ہیں اور 559 جیت حاصل کی ہیں۔

پاکستان جیت کے لحاظ سے فہرست میں تیسرے نمبر پر موجود ہے جس نے 970 میچز کھیلنے کا اعزاز حاصل کررکھا ہے جبکہ 512 فتوحات سمیٹی ہیں۔

واضح رہے کہ سری لنکا 912، ویسٹ انڈیز 873، نیوزی لینڈ 824، انگلینڈ 797، جنوبی افریقہ 672، زمبابوے 572 اور بنگلہ دیش 435 ون ڈے میچز کھیل چکا ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی؛ عماد وسیم کا در مکمل بند کرنے سے گریز

عماد وسیم نے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کا در کھلا رکھا ہے، ان کے مطابق کہ ابھی حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اگر پاکستان کرکٹ کو اشد ضرورت ہوئی تو پھر دیکھا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کو ابوظبی سے خصوصی انٹرویو میں عماد وسیم نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ میرا اپنا فیصلہ تھا، ساتھیوں سے مشورہ پہلے ہی کرلیا تھا، مستقبل میں کم بیک کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا تاہم کوئی نہیں جانتا کہ زندگی کہاں لے جاتی ہے،اگر پاکستان کرکٹ کو اشد ضرورت ہوئی تو پھر دیکھوں گا۔

انھوں نے کہا کہ دنیا بھر کی لیگز کا معیار انٹرنیشنل کرکٹ جیسا ہی ہوتا ہے،اگر کوئی بیٹنگ، 4اوورز بولنگ اور فیلڈنگ کرسکتا ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ فٹنس انٹرنیشنل معیار کی ہے، اگر نہ ہو تو لیگز والے کبھی نہ بلائیں۔

امریکا اور ویسٹ انڈیز کی اسپنرز کیلیے سازگار کنڈیشنز میں شیڈول ٹی 20ورلڈکپ کیلیے قومی اسکواڈ میں ممکنہ شمولیت کے سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ اگر مگر کی بات ہے،جب کوئی حتمی فیصلہ ہوا تو وہ سب کے سامنے ہوگا، میں سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھاؤں گا، اگر ایسا کوئی موقع نہیں بنتا تو فی الحال میں جہاں ہوں وہیں خوش ہوں۔

ایک سوال پر عماد وسیم نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی اب پاکستانی ٹی 20ٹیم کے کپتان ہیں، میں ان کو پہلے بھی مشورے دیتا تھا، اب بھی دیتا ہوں کہ جو بھی کرنا ہو دل سے اور پاکستان کیلیے کرو،ان کے ارد گرد موجود لوگ بھی انھیں اچھے مشورے دے سکتے ہیں، ابھی ہم آئی ایل ٹی ٹوئنٹی میں مصروف ہیں، میری کرکٹ میں واپسی کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، ایسا ہو تو سب کو معلوم ہوہی جائے گا، ابھی ٹیم ڈائریکٹر محمد حفیظ سے بھی کوئی بات نہیں ہوئی، ریٹائرمنٹ سے قبل پی سی بی آفیشلز اور میں ایک ہی پیج پر تھے۔