دفتر خارجہ پاکستان نے عام انتخابات پر مبصرین کے خدشات کو غلط قرار دے دیا

ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ انتخانات نے ظاہر کیا ہے کہ بہت سے مبصرین کے خدشات غلط تھے، مبصرین کے خدشات غلط تھے، انتخابی عمل کی تکمیل سے پہلے ہی منفی تبصرے کرنا تعمیری نہیں ہے۔

پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد پر دیگر ممالک کے بیانات پر ترجمان دفترخارجہ کاردعمل سامنے آگیا۔

دفترخارجہ پاکستان نے اس حوالے سے جاری بیان میں کہا کہ ہم نے 8 فروری 2024 کو پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات پر بعض ممالک اور تنظیموں کے بیانات کا نوٹس لیا ہے۔

دفترخارجہ کے مطابق، ’ ہم ان میں سے کچھ بیانات کے منفی لہجے سے حیران ہیں، جو نہ تو انتخابی عمل کی پیچیدگی مدنظر رکھتے ہیں اور نہ ہی لاکھوں پاکستانیوں کی جانب سے ووٹ کے حق کا آزادانہ اور پرجوش استعمال تسلیم کرتے ہیں۔’

دفتر خارجہ پاکستان کے مطابق، ’یہ بیانات اس ناقابل تردید حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں کہ پاکستان نے عام انتخابات پرامن اور کامیابی کے ساتھ منعقد کیے ہیں اور غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں سنگین سیکیورٹی خطرات سے نمٹا ہے۔‘

اس حوالے سے جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ، ’کچھ بیانات حقائق پر مبنی بھی نہیں ہیں۔ ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش نہیں تھی، پولنگ کے دن دہشت گردی کے واقعات سے بچنے کے لیے دن بھر صرف موبائل خدمات معطل کی گئیں، انتخانات نے ظاہر کیا ہے کہ بہت سے مبصرین کے خدشات غلط تھے۔‘

دفترخارجہ پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات ایک مستحکم اور جمہوری معاشرے کی تعمیر کے عزم کے تحت منعقد کیے گئے، ہم اپنے دوستوں کے تعمیری مشورے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن انتخابی عمل کی تکمیل سے پہلے ہی منفی تبصرے کرنا تعمیری نہیں ہے۔’

جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ ہم اپنے دوستوں کے تعمیری مشوروں کو اہمیت دیتے ہیں، پاکستان متحرک جمہوری نظام کی تعمیر کے لیے کام جاری رکھے گا، ہر انتخاب اور اقتدار کی پرامن منتقلی اس مقصد کے قریب لاتی ہے، ہم ایسا دوسروں کے خدشات کی وجہ سے نہیں کرتے بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمارے لوگوں کی خواہش اور ہمارے بانیوں کا وژن ہے۔’

9 مئی واقعات: عمران خان، شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید کی ضمانت منظور

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی واقعات کے کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کرلی جبکہ عدالت نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں 9 مئی واقعات کیس کی سماعت ہوئی، جج ملک اعجاز آصف نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواستوں پر سماعت کی۔

انسداد دہشت گردی خصوصی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے ضمانت کا فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کرلی۔

عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی سانحہ 9 مئی کے 12 مقدمات میں ضمانت منظور کی جبکہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی جی ایچ کیو آرمی میوزیم حملہ کیس میں بھی ضمانت منظور کی گئی۔

عدالت نے عمران خان کو تمام 12 مقدمات میں ایک ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

علاوہ ازیں عدالت نے شاہ محمود قریشی کی بھی 13 مقدمات میں ضمانت منظور کرلی۔

عدالت نے شیخ رشید کو رہا کرنے کا حکم دے دیا
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے کیس میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے شیخ رشید کے خلاف 9 مئی کو حساس ادارے کے دفتر کے گیٹ پر حملے کے مقدمے کی سماعت کی اور سماعت شروع ہوتے ہی وقفہ کر دیا گیا، وقفے کے بعد دوبارہ سابق وزیر داخلہ کی درخواست ضمانت پر سماعت شروع ہوئی۔

دوربارہ سماعت شروع ہونے کے بعد بھی پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت میں کوئی پیش نہیں ہوا، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا جبکہ شیخ رشید احمد کے وکلاء سردار عبدالرازق خان اور سردار شہباز عدالت میں پیش ہوئے۔

سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے وکلاء کی جانب سے ضمانت کی درخواست دی گئی۔

عدالت نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کردی۔

عدالت نے پولیس کو ضمانتی مچلکے داخل کرانے پر شیخ رشید کو اڈیالہ جیل سے رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر شیخ رشید کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو انہیں رہا کیا جائے۔

بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی۔ یاد رہے کہ شیخ رشید کے خلاف تھانہ نیوٹاؤن میں مقدمہ درج ہے۔

بھارتی میڈیا نے حکومت سازی کیلئے نواز زرداری ملاقات کا دعویٰ کردیا

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے سپریم لیڈر محمد نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے لاہور میں ملاقات کی ہے۔

معروف بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کی ویب سائٹ نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق سابق سدرِ مملکت اور سابق وزیر اعظم کی ملاقات جمعہ کو رات گئے ہوئی جس میں ممکنہ حکومت سازی کے حوالے سے مختلف معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

یہ ملاقات جمعہ کی شام محمد نواز شریف کی طرف سے فتح کے اعلان اور متعلقہ خطاب کے بعد ہوئی جب انہوں نے اپنے اتحادیوں کو مخلوط حکومت کی تشکیل میں شرکت کی دعوت دی۔

پاکستانی میڈیا میں یہ خبر گرم رہی ہے کہ محمد نواز شریف کی ہدایت پر مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعہ کی شب پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطہ قائم کیا تھا۔

چیمپئینز ٹرافی 2025؛ بھارت نے پاکستان سے منتقلی کیلئے نیا ڈرامہ شروع کردیا

آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی 2025 کی میزبانی پاکستان سے منتقل کروانے کیلئے بھارت نے ایک بار پھر من گھڑت خبریں نشر کروانا شروع کردیں۔

چیمپئنز ٹرافی 2025 فروری اور مارچ میں شیڈول ہے، جس کی میزبانی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان دی ہے تاہم بھارتی میڈیا نے واویلا شروع کردیا ہے کہ غیرملکی لیگز کا ایونٹ سے ٹکراؤ ہورہا ہے۔

کرک بز کی رپورٹ کے مطابق ٹورنامنٹ فروری کے پہلے ہفتے میں شیڈول ہونے کا امکان ہے جبکہ اس دوران انٹرنیشنل ٹی20 لیگ (آئی ایل ٹی) 19 جنوری سے 17 فروری جبکہ جنوبی افریقا کی ٹی20 اور بنگلہ دیش پریمئیر لیگ بھی انہیں 2 ماہ کے عرصے میں شیڈول ہیں۔

اسی طرح پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) بھی آئی سی سی ٹورنامنٹ کے باعث مشکلات کا شکار رہ سکتی ہے کیونکہ یہ ایونٹ بھی فروری اور مارچ کے ابتداء میں کھیلا جاتا ہے بعدازاں بھارت کی انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کی تیاریوں کا آغاز ہوجاتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے حال ہی میں میزبان ملک کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جبکہ بھارتی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی یا نہیں، یہ سوال اب بھی اہم ہے۔

بھارتی صحافی ورلڈکپ 2023 میں پاکستانی ٹیم کے بھارت کے دورہ نہ کرنے پر یہ جواز پیش کررہے تھے کہ یہ آئی سی سی ایونٹ ہے اب وہی صحافی پاکستان کی میزبانی میں حکومتی اجازت کا بہانہ پیش کررہے ہیں۔

پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) 9 کی چمچماتی ٹرافی کی رونمائی 13 فروری کو لاہور میں ہوگی جبکہ ایونٹ 17 فروری سے شروع ہوگا، قذافی اسٹیڈیم کے باہر لیگ کا کاؤنٹ ڈاؤن آویزاں کردیا گیا۔ پاکستان سپر لیگ کے نویں ایڈیشن کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، پی ایس ایل کے آغاز میں اب صرف ایک ہفتہ رہ گیا ہے۔ ایونٹ کے افتتاحی میچ سے قبل پاکستان سپر لیگ کی ٹرافی کی تقریب رونمائی 13 فروری کو رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ٹرافی کی رونمائی کی تقریب گزشتہ برس کی طرح لاہور میں ہو گی۔ ذرائع کے مطابق ٹرافی کی رونمائی کے لیے گولف کورس اور تفریحی پارک کے مقامات زیر غور ہیں، اگلے ایک دو روز میں رونمائی کے لیے وینیو کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ ٹرافی کی رونمائی کی تقریب میں تمام کپتانوں اور فرنچائز مالکان کو مدعو کیا جائے گا۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل 9 کی افتتاحی تقریب پچھلی بار کی طرح اس بار بھی قذافی اسٹیڈیم میں ہوگی جہاں پی ایس ایل کے آفیشل ترانے کے گلوکار علی ظفر اور آئمہ بیگ کے علاوہ دیگر فنکار پرفارم کریں گے۔ ذرائع کے مطابق پی ایس ایل کرٹین ریزر تقریب پہلے میچ سے قبل ہو گی، افتتاحی تقریب کے موقع پر شاندار آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔ دوسری جانب دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز کے ایک نجی توانائی کمپنی کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا، سی ای او لاہور قلندرز عاطف رانا لیگ جیتنے کی ہیٹ ٹرک کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پی ایس ایل 9 کا کاؤنٹ ڈاؤن قذافی اسٹیڈیم کے صدر دروازے پر لگادیا گیا ہے اور 6 فرنچائزز ٹیموں کے کپتانوں کے پورٹریٹ بھی آویزاں کی گئی ہیں، کاؤنٹ ڈاؤن پر سلوگن کھل کر کھیلوں تحریر ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ 9 کا آغاز 17 فروری سے ہو رہا ہے۔

پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) 9 کی چمچماتی ٹرافی کی رونمائی 13 فروری کو لاہور میں ہوگی جبکہ ایونٹ 17 فروری سے شروع ہوگا، قذافی اسٹیڈیم کے باہر لیگ کا کاؤنٹ ڈاؤن آویزاں کردیا گیا۔

پاکستان سپر لیگ کے نویں ایڈیشن کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، پی ایس ایل کے آغاز میں اب صرف ایک ہفتہ رہ گیا ہے۔

ایونٹ کے افتتاحی میچ سے قبل پاکستان سپر لیگ کی ٹرافی کی تقریب رونمائی 13 فروری کو رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ٹرافی کی رونمائی کی تقریب گزشتہ برس کی طرح لاہور میں ہو گی۔

ذرائع کے مطابق ٹرافی کی رونمائی کے لیے گولف کورس اور تفریحی پارک کے مقامات زیر غور ہیں، اگلے ایک دو روز میں رونمائی کے لیے وینیو کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

ٹرافی کی رونمائی کی تقریب میں تمام کپتانوں اور فرنچائز مالکان کو مدعو کیا جائے گا۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل 9 کی افتتاحی تقریب پچھلی بار کی طرح اس بار بھی قذافی اسٹیڈیم میں ہوگی جہاں پی ایس ایل کے آفیشل ترانے کے گلوکار علی ظفر اور آئمہ بیگ کے علاوہ دیگر فنکار پرفارم کریں گے۔

ذرائع کے مطابق پی ایس ایل کرٹین ریزر تقریب پہلے میچ سے قبل ہو گی، افتتاحی تقریب کے موقع پر شاندار آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔

دوسری جانب دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز کے ایک نجی توانائی کمپنی کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا، سی ای او لاہور قلندرز عاطف رانا لیگ جیتنے کی ہیٹ ٹرک کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پی ایس ایل 9 کا کاؤنٹ ڈاؤن قذافی اسٹیڈیم کے صدر دروازے پر لگادیا گیا ہے اور 6 فرنچائزز ٹیموں کے کپتانوں کے پورٹریٹ بھی آویزاں کی گئی ہیں، کاؤنٹ ڈاؤن پر سلوگن کھل کر کھیلوں تحریر ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ 9 کا آغاز 17 فروری سے ہو رہا ہے۔

انتخابی نتائج خندہ پیشانی سے قبول کیے جائیں، ملالہ یوسف زئی

حقوقِ انسانی کی نوبیل انعام یافتہ پاکستانی کارکن ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ پاسکتان کو آزاد اور شفاف انتخابات کی ضرورت ہے جن میں ایک طرف تو ووٹوں کی گنتی میں شفافیت ہو اور دوسری طرف انتخابی نتائج کو قبول کرنے کی ذہنیت بھی پائی جائے۔

انتخابات کے موقع پر ایک ٹوئیٹ میں ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ ہمیں ووٹرز کے فیصلے کو کھلے دل اور خندہ پیشانی سے قبول کرنا چاہیے۔

ملالہ کا کہنا تھا مجھے امید ہے عام انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کی شخصیات اور اپوزیشن کے ارکان ہر حال میں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں گے اور جمہوریت اور اہلِ وطن کی بہبود کو اولین ترجیح کا درجہ دیں گے۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے شیخ رشید کی ضمانت منظور کرلی

راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید کی ضمانت منظور کرلی۔

انسداد دہشت گردی کی راولپنڈی کی عدالت نے سابق وزیرداخلہ شیخ رشید کے خلاف 9 مئی کے مقدمے میں درخواست ضمانت کی سماعت کی۔ عدالت نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے شیخ رشید کو 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کی۔

عدالت نے حکم دیا کہ اگر شیخ رشید کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو انہیں رہا کیا جائے۔ کیس کی سماعت کے دوران شیخ رشید کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے تاہم پراسیکیوشن کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔

عون چوہدری کی جیت الیکشن 2024 کا سب سے بڑا مذاق ہے، عفت عمر

لاہور: معروف اداکارہ و میزبان عفت عمر نے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے امیدوار عون چوہدری کی جیت کو مذاق قرار دے دیا۔

لاہور کے این اے 128 سے استحکام پاکستان پارٹی ( آئی پی پی) کے عون چوہدری اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سلمان اکرم راجا نے الیکشن لڑا تھا جس میں عون چوہدری ایک لاکھ 72 ہزار576 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

سلمان اکرم راجا کی شکست اور عون چوہدری کی جیت پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے اداکارہ عفت عمر نے سوشل میڈیا کا رُخ کیا۔
عفت عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ سلمان اکرم راجا کا ہارنا اور عون چوہدری کا جیتنا الیکشن 2024 کا سب سے بڑا مذاق ہے۔

اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں کسی بھی سیاسی جماعت کا نام لیے بغیر کہا کہ فضول کی حرکتیں کرنا بند کریں اور قبول کریں اب عوام آپ کے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ جو بھی ہے عوام سلمان اکرم راجا کو ہی چاہتی ہے، یہی حقیقت ہے، اسے تسلیم کریں۔

عفت عمر نے اپنے اگلے ٹوئٹ میں کہا کہ الیکشن 2024 میں جیتنے والوں اور ہارنے والوں کو خوش اسلوبی کے ساتھ نتائج قبول کرنے کی ضرورت ہے۔

اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ اب پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) کا نیا نام انڈیپینڈنٹ ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ لاہور کے این اے 128 سے عون چوہدری کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سلمان اکرم راجہ کھڑے ہوئے تھے، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق سلمان اکرم راجا ایک لاکھ 59 ہزار 24 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

مزید پڑھیں: نور بخاری اپنے شوہر عون چوہدری کا ساتھ دینے میدان میں آگئیں

سلمان اکرم راجا نے این اے 128 کے انتخابی نتائج کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا جس کے بعد عدالت نے الیکشن کمیشن کو 12 فروری تک حلقہ این اے 128 کے نتائج اور عون چوہدری کی کامیابی کا نوٹی فکیشن جاری کرنے سے روک دیا۔

راولپنڈی: راجہ بازار مغل سرائے مارکیٹ میں آتشزدگی، کئی دکانیں جل گئیں

راولپنڈی کے علاقے مغل سرائے مارکیٹ کے قریب واقع راجہ بازار میں آگ لگنے سے متعدد دکانیں جل گئیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق آگ نے کئی دکانوں کو لپیٹ میں لیا ہے، امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں جبکہ فائر بریگیڈ کی جانب سے آگ کو بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

ریکسیو حکام کا بتانا ہے کہ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے فائر ٹینڈرز کو بھی طلب کر لیا گیا، کینٹ فائر بریگیڈ، بحریہ فائر بریگیڈ اور اسلام آباد فائر بریگیڈ بھی طلب کرلی گئی۔

ریکسیو حکام کے مطابق بجلی کی بے ہنگم تاروں اور تنگ راستوں کے باعث امدادی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق 60 سے زائد فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں، فائر بریگیڈ کی سات گاڑیاں آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لے رہی ہیں۔

کراچی میں سبقت لینے والے 2 امیدوار بعد میں ہار گئے

کراچی میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر ابتدائی گنتی میں سبقت حاصل کرنے والے 2 امیدوار گنتی مکمل ہونے پر ہار گئے۔

قومی اسمبلی کے حلقے 241 میں پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ خرم شیر زمان کو ابتداء میں سبقت حاصل تھی لیکن بعد میں وہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے امیدوار اختیار بیگ سے شکست کھا گئے۔

اسی حلقے میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے فاروق ستار بھی امیدوار تھے جنہوں نے صرف 494 ووٹ لیے۔

خرم شیر زمان کا کہنا ہے کہ 30 گھنٹے بعد آنے والے نتائج سے معلوم ہوا کہ جس نشست پر میں بھاری لیڈ سے جیت رہا تھا وہاں پیپلز پارٹی کا امیدوار کامیاب ہو گیا۔

کراچی میں قومی اسمبلی کے ایک اور حلقے این اے 237 پر جماعت اسلامی کے امیدوار عرفان احمد کی ابتدائی سبقت بعد میں شکست میں تبدیل ہو گئی۔

عرفان احمد پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے امیدوار اسد عالم نیازی سے ہار گئے جبکہ اسی حلقے میں متحدہ قومی موومنٹ کے روف صدیقی بھی امیدوار تھے۔

دوسری جانب گوادر سے قومی اسمبلی کی نشست 259 پر حق دو تحریک کو سبقت حاصل ہے لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے فارم 47 جاری نہیں کیا گیا۔

بلوچستان میں ہی این اے 2 سے پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی کو سبقت حاصل ہے لیکن اس نشست پر بھی فارم 47 جاری نہیں ہوا۔

اِکواڈور میں حکومت کو آئینہ دکھانے والی سیاست دان کا بہیمانہ قتل

جنوبی امریکا کے ملک اکواڈور میں 29 سالہ رکنِ اسمبلی کو اس لیے گولی مار دی گئی کہ وہ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وڈیو بنارہی تھی تاکہ حکومت کو اصلاحِ احوال پر متوجہ کیا جاسکے۔

ڈایانا کارنیرو گوایس کے علاقے نارنجل میں نشانہ بنایا گیا۔

اکواڈر میں ایک کاؤنسلر کو بھی ایک میٹنگ کی صدارت کے فوراً بعد گولی مار دی گئی۔

دو موٹر سائیکل سواروں نے ڈایانا کارنیرو کے سر میں گولیاں ماریں۔

اس واردات کے نتیجے میں پورے ملک میں شدید رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سابق صدر رافیل کوریے نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بہیمانہ قتل سفاکی کا بدترین نمونہ ہے۔ جب اس عمر کے بچے ہوں تب اندازہ ہوتا ہے کہ والدین پر کیا گزری ہوگی۔ ڈایانا مخلص اور ذہین سیاست دان تھی۔ وہ ملک و قوم کے لیے بہت کچھ کرسکتی تھی مگر اس امکان کو ختم کردیا گیا۔

اکواڈر میں تشدد کے بلند ہوتے ہوئے گراف کے باعث صدر ڈینیل نوبوآ نے گزشتہ ماہ ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ منظم جرائم پیشہ گروہوں نے اعلان کیا تھا کہ رات گیارہ بجے کے بعد جو بھی گھر سے باہر دکھائی دے گا اُسے گولی مار دی جائے گا۔

اسرائیل تاحال بے لگام، فضائی حملوں سے 24 گھنٹوں میں مزید 107 فلسطینی شہید

اسرائیل نے غزہ کے مختلف علاقوں پر بمباری کرکے 24 گھنٹوں میں مزید 107 فلسطینیوں کو شہید کردیا۔ مصر اور غزہ کے درمیان رفح کراسنگ پر بھی اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی۔

تازہ ترین اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں فلسطینی شہدا کی تعداد27 ہزار947 ہوگئی۔ اب تک 67 ہزار 550 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

غزہ اور اس سے ملحق علاقوں پر بمباری کے علاوہ اسرائیلی فورسز نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقوں میں پناہ گزین کیمپوں پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے۔

غربِ اردن میں اسرائیلی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں تین فلسطینی نوجوان شہید ہوگئے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ روز واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل حد سے بڑھ گیا ہے۔ ان کا یہ بیان سفارتی حلقوں میں غیر معمولی سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ امریکا نے 7 اکتوبر کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج کی کارروائیوں پر براہِ راست تنقید سے گریز کیا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ غزہ کی صورتِ حال تقاضا ہے کہ لڑائی بند ہو اور فلسطینیوں کے حالات بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔

’بلوچستان کے جنگجو گروپ پاکستان و ایران کیلئے دردِ سر ہیں‘ ، برطانوی جریدہ

پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے ایک تجزیے میں برطانوی جریدے دی اکنامسٹ نے لکھا ہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروپ پاکستان اور ایران دونوں ہی کے لیے دردِ سر ہیں۔ برطانوی جریدے کے تجزیے کے مطابق عسکریت پسندی سے موثر طور پر نپٹنے کے لیے پاکستان اور ایران کو جامع مذاکرات کرنا ہوں گے تاکہ غلط فہمیاں دور ہوں اور حقیقی اعتماد بحال ہو۔

برطانوی جریدہ لکھتا ہے کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات تاریخ کے تناظر میں خوش گوار رہے ہیں۔ 1947 میں پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک ایران ہی تھا۔ تجارت اور دفاع کے معاملات میں دونوں ممالک بہت حد تک مل جل کر کام کرتے ہیں۔

پاک ایران سرحدی علاقوں میں بلوچ عسکریت پسند گروپوں کی کارروائیاں دونوں حکومتوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہیں۔ متعدد گروپ مل کر کام کرتے ہیں۔ حال ہی میں معاملات زیادہ سنگین ہوگئے ہیں۔ 16 جنوری کو ایران نے مغربی پاکستان میں میزائل داغے۔ اس کا کہنا تھا کہ سنی عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے جنگجوؤں کو نشانہ بنارہا ہے جو اس کی نظر میں دہشت گرد ہیں۔

اس کے بعد پاکستان نے مشرقی ایران میں میزائل داغے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ایرانی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنارہا ہے۔

ان کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک نے اپنے اپنے سفیر کو واپس بلایا۔ معاملات اچانک بگڑتے دکھائی دینے لگے مگر پھر دونوں ممالک نے معاملات کو سفارت کاری کی سطح پر سلجھانے کا ڈول ڈالا۔ 29 جنوری کو اسلام آباد میں ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے ملاقات کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک اپنی اپنی سرزمین پر عسکریت پسند گروپوں کے خلاف لڑیں گے۔ پاک ایران سرحدی علاقوں میں خصوصی طور پر اور بلوچستان میں عمومی طور پر دہشت گردی جاری رہی ہے۔

بلوچستان چونکہ جنوبی ایشیا کے لیے گیٹ وے کی سی حیثیت رکھتا ہے اس لیے اس پر بیرونی قوتیں ہر دور میں حملہ آور ہوتی رہی ہیں۔ مکران کا ساحل بیرونی تاجروں اور حملہ آوروں کا مشاہدہ کرتا رہا ہے۔

بلوچستان اس اعتبار سے غیر معمولی علاقہ ہے کہ یہاں بیرونی لوگ ہمیشہ آباد ہوتے آئے ہیں۔ جب عربوں نے اس خطے میں قدم رکھا تو یہاں کے لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ عربوں کی آمد سے اس خطے کی تجارتی اور دفاعی اہمیت بڑھ گئی۔

انیسویں اور بیسویں دہائی میں برطانیہ اور ایران نے بلوچستان کو آپس میں بانٹ لیا۔ اس کا کچھ حصہ افغانستان کو بھی دے دیا گیا۔ ایران نے مغربی بلوچستان کو 1928 میں اپنا باضابطہ حصہ بنالیا۔ 1947 میں برطانوی راج ختم ہوا، پاکستان قائم ہوا تو مشرقی بلوچستان پاکستان کا حصہ بن گیا۔

ایک پورے کے پورے خطے کی یوں بندر بانٹ کے جو خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے تھے وہ ہوئے۔ بلوچ قوم پرستوں میں عمومی تصور یہ ہے کہ پنجاب کے لوگوں نے انہیں دیوار سے لگاکر غرب اور پس ماندگی کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ 1947 سے اب تک وہ وفاقی حکومت کے خلاف لڑتے آئے ہیں۔

1970 کی دہائی میں بلوچستان کے حالات غیر معمولی خرابی سے دوچار ہوئے اور تشدد کے نتیجے میں کم و بیش 8 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 2000 کے عشرے میں بلوچستان میں ایک بار پھر غیر معمولی تشدد کی لہر اٹھی جو کسی نہ کسی شکل میں اب تک جاری ہے۔ بلوچستان کے طول و عرض میں موجود عسکریت پسندوں نے فورسز اور عام شہریوں پر حملوں میں جدید ترین ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ اس کے نتیجے میں تشدد بھی بڑھا ہے اور ہلاکتیں بھی۔

چند برسوں کے دوران بلوچستان کے طول و عرض میں بلوچ عسکریت پسند گروپوں کے حملوں میں غیر معمولی رفتار سے اضافہ ہوا ہے اور ہلاکتوں کا دائرہ بھی وسیع تر ہوا ہے۔ 2022 میں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی نے صوبے کے کم از کم 6 شہروں میں منصوبہ بندی کے ساتھ دھماکے کیے جن کے نتیجے میں فورسز کو غیر معمولی جانی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

جب پاکستانی فورسز جوابی کارروائیاں کرتی ہیں تو صوبے کے حالات پر اس کا گہرا اثر مرتب ہوتا ہے۔ فورسز کی جوابی کارروائیوں پر انسانی حقوق کے علم بردار گروپ شور مچاتے ہیں کہ بے قصور لوگ مارے جارہے ہیں۔ یہ گروپ پاکستانی حکومت پر بلوچ رہنماؤں کو بلا جواز اور غیر قانونی طور پر زیرِ حراست رکھنے کا الزام بھی عائد کرتے رہے ہیں۔ پاکستانی فورسز کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے بہت سے بلوچ عسکریت پسند افغانستان چلے گئے ہیں اور وہاں سے حملے کرتے ہیں۔