ابوظہبی: (ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں 12 فیصد اضافے کے بعد پٹرول کی فی لیٹر قیمت 4.63 درہم ہوگئی جو پاکستانی 257 روپے بنتی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کردیا گیا۔ اس بار پٹرول کی قیمتوں میں 12 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
پٹرول کی فی لیٹر قیمت 4.63 درہم یعنی 257 پاکستانی روپے جب کہ ڈیزل کی قیمت 4.76 درہم یعنی پاکستانی 265 روپے ہو گئی۔
خیال رہے کہ متحدہ عرب مارات میں 4 ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
برطانیہ میں بھی ایک لیٹر پٹرول 1.91 پاؤنڈ یعنی پاکستانی 470 روہے کا ہوگیا جب کہ ڈیزل کی قیمت 1.99 پاؤنڈ ہے جو پاکستان کے 489 روپے بنتے ہیں۔
اسی طرح امریکا میں بھی مختلف ریاستوں میں ایوریج 5 ڈالر فی لیٹر کی حساب سے فروخت ہو رہا ہے جو پاکستانی ایک ہزار 22 روپے بنتے ہیں۔
واضح رہے کہ عالمی سطح پر پٹرول کی قیت اس وقت فی بیرل 100 ڈالر ہے۔
Monthly Archives: July 2022
وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا، سپریم کورٹ
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا۔ تین ماہ کا بحران ہم نے تین سیشنز میں حل کردیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومتی بنچز اپوزیشن کا احترام کریں۔ قومی اسمبلی میں بھی اپوزیشن نہ ہونے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ عدالتی فیصلے پر پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز نے اتفاق کر لیا۔
قبل ازیں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو دو آپشن دیے تھے کہ دن میں دوبارہ انتخاب پر مان جائیں یا پھر حمزہ شہباز کو 17 جولائی تک وزیر اعلیٰ تسلیم کرلیں۔ جس پر پی ٹی آئی کے وکیل کو عدالت نے پارٹی قیادت سے مشاورت کے لیے وقت دیا جب کہ دوران سماعت تحریک انصاف اور وزارت اعلیٰ کے امیدوار پرویز الٰہی کے مؤقف میں اختلاف پایا گیا۔
عدالت نے فریقین سے کہا کہ اگر دونوں باہمی رضامند نہ ہوئے تو قانونی فیصلہ دیں گے، جس سے دونوں کو نقصان ہوگا۔ بعد ازاں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے حمزہ شہباز کو دوبارہ انتخاب تک وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر قبول کرلیا۔
قبل ازیں حمزہ شہباز اور پرویز الٰہی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت عظمیٰ اسلام آباد میں جاری سماعت میں پیش ہوئے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے تحریک انصاف کی اپیل پر کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب آج نہیں ہو سکتا۔
پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے دوبارہ الیکشن کے لیے وقت طلب کرتے ہوئے کہا کہ میرے ذہن میں 10 دن کا وقت تھا لیکن 7 دن کا عدالت سے وقت مانگا ہے۔ مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن بھی 7دن تک ہو جائے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ملک کے کسی بھی حصے سے 24 گھنٹے میں لاہور پہنچا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں 7 دن تک پنجاب میں کوئی وزیراعلیٰ نہ ہو؟۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ قانونی طریقے سے منتخب وزیراعلیٰ کو گورنر کام جاری رکھنے کا کہہ سکتا ہے۔ فیصلے کے اختلافی نوٹ میں ووٹنگ کی تاریخ کل کی ہے، کیا آپ کل ووٹنگ کے لیے تیار ہیں؟ کس بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کریں؟
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لمبے عرصے تک صوبہ بغیر وزیراعلیٰ نہیں رہ سکتا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر وزیراعلیٰ کسی وجہ سے دستیاب نہ ہو تو صوبہ کون چلائے گا؟ بابر اعوان نے کہا کہ میری نظر میں موجودہ حالات میں سابق وزیراعلیٰ بحال ہو جائیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا کوئی ایسی شق ہے کہ وزیر اعلیٰ کے الیکشن تک گورنر چارج سنبھال لیں؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گورنر کو صوبہ چلانے کا اختیار دینا غیر آئینی ہوگا۔ آئین کے تحت منتخب نمائندے ہی صوبہ چلا سکتے ہیں۔ 17 جولائی کو عوام نے 20 نشستوں پر ووٹ دینے ہیں۔ ضمنی الیکشن تک صوبے کو چلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ عوام خود فیصلہ کریں تو جمہوریت زیادہ بہتر چل سکتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سمجھ آگئی کہ لاہور ہائیکورٹ نے 24 یا 36 گھنٹے کیوں دیے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نہیں چاہتی تھی کہ صوبہ بغیر وزیراعلیٰ کے رہے ۔کئیر ٹیکر حکومت کا تو سوال ہی نہیں ۔ 1988 میں بھی صدر کی وفات کے بعد قائمقام صدر کے انتظامات سنبھالنے کو درست نہیں کیا گیا تھا ۔ اگر موجود وزیر اعلیٰ نہیں تو پھر کون ؟۔ اس کا آپ کے پاس جواب نہیں ۔
دوران سماعت سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور پرویز الٰہی کو لاہور رجسٹری میں فوری طور پر طلب کرلیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ملک کا مسئلہ ہے، انا کا نہیں۔ آرٹیکل 130 میں حل موجود ہے، کتابوں پر توجہ دیں۔ آدھے گھنٹے میں فریقین لاہور رجسٹری آجائیں، ڈپٹی اسپیکر کو بتادیں کہ سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت جاری ہے ۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر ہم آرٹیکل 130 پر آئے تو دونوں کے لیے مسائل ہوں گے ۔ عدالت نے کہا کہ ابھی اجلاس روکنے کا باضابطہ حکم جاری نہیں کر رہے۔ دونوں امیدوار پونے 4 بجے تک آ جائیں تو 4 بجے تک فیصلہ ہوجائے گا۔
دوران سماعت پی ٹی آئی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے ارکان پورے نہیں ہیں تو الیکشن پر اثر پڑے گا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 5 ارکان کے نوٹیفکیشن اور ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد آپ کے پاس آپشن ہوگا۔ اگر ضمنی انتخاب آپ جیت جائیں اور حج والے ارکان واپس آ جائیں تو تحریک عدم اعتماد لا سکتے ہیں۔
سماعت مختصر وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی، جس میں عدالت نے پرویز الہٰی اور حمزہ شہباز کو روسٹرم پر طلب کرلیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ ہمارے سامنے یہ سوال ہے کہ جو وقت دیا گیا وہ کم، ہمارے سامنے یہ سوال بھی ہے کہ اگر عدالت وقت دیتی ہے تو صوبے میں حکومت کون چلائے گا؟۔وقفے کے بعد بتایا گیا کہ چودھری پرویز الٰہی کو حمزہ شہباز کو وقت ملنے پر اعتراض نہیں ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟
پرویز الٰہی نے جواب دیا مجھے تو ان پر کسی بھی صورت اعتماد نہیں۔ ہاؤس مکمل نہیں ہے ۔ پولیس نے پنجاب اسمبلی پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ کوئی بھی حادثہ ہو سکتا ہے، آپ حق کہیں گے آپ پر اعتماد ہے۔
عدالت نے کہا کہ پرویز الٰہی صاحب، آئینی بحران چلتا جا رہا ہے۔ آپ کو طلب اس لیے کیا ہے کہ آپ دونوں کی رضامندی مندی سے کوئی حل نکل آئے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کے وکیل نے کہا ضمنی الیکشن ہاؤس مکمل ہونے تک حمزہ پر اعتراض نہیں، ہاؤس مکمل ہونے کے بعد جس کی اکثریت ہوگی وہ وزیراعلیٰ بن جائے گا۔اس نقطے پر آپ دونوں حضرات کو طلب کیا گیا ہے۔ پاکستان میں موجود اراکین کے آنے تک دوسری صورت میں وقت دیا جا سکتا ہے۔ دوسری صورت الیکشن کے لیے وقت کی کمی کی ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ملک کو مستقل طور پر اس طرح نہیں چھوڑا جا سکتا، یہی حالات چلتے رہے تو کسی کا بھی فائدہ نہیں ہونا۔
چیف جسٹس نے پرویز الٰہی سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو ضمنی الیکشن تک حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب قبول ہیں؟ جس پر پرویز الٰہی نے جواب دیا کہ حمزہ شہباز کسی صورت وزیراعلیٰ قبول نہیں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانونی حل میں ہو سکتا ہے آپ کا بھی نقصان ہو۔ قانونی حل میں حمزہ بھی ہٹ جائیں گے اور آپ کو بھی نقصان ہو سکتا۔
پرویز الٰہی نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ ہم دونوں پارٹیاں آپس میں بیٹھ کر یہ طے کرلیں کہ جو ہمیں قبول ہو۔ عدالت دونوں کو آپس میں حل طے کرنے کا وقت دے۔
حمزہ شہباز نے عدالت سے کہا کہ عدالت عظمیٰ کا بڑا احترام ہے۔ کوئی شخص اہم نہیں ہوتا نظام کو چلنا چاہیے۔ ڈپٹی اسپیکر پر جان لیوا حملہ ہوا، ہمارے پاس آج بھی نمبر پورے ہیں۔ ایک ایک منٹ کی قیمت ہوتی ہے۔ آج رن آف الیکشن ہونے دیا جائے۔ 17 کو جو رزلٹ آئے گا وہ بعد میں عدم اعتماد لے آئیں۔ ہمارے نمبر پورے ہیں۔ اپنے ممبرز کو حج پر جانے سے روکا ہوا ہے، لہذا آج کا الیکشن ہونے دیا جائے۔ 17 کو جو بھی جیتے گا ایوان اس کا فیصلہ خود کرلے گا۔
عدالت نے کہا کہ آپ دونوں آپس میں بیٹھ کر بات کرنا چاہتے ہیں، کرلیں ۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ میں عدالت کو مس گائیڈ نہیں کرنا چاہتا کہ ہم کسی نقطے پر پہنچ جائیں گے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ دونوں کے اتفاق سے گورنر کو نگران مقرر کرنے کی ہدایت کر سکتے ہیں۔ آپ کے پاس اکثریت نہیں ہے، اس لیے ہی دوبارہ انتخاب ہو رہا ہے۔ اگلے پیر تک بھی وقت دیں تو آپ وزیراعلیٰ نہیں رہ سکتے۔ فی الحال آپ قانون کے مطابق وزیراعلیٰ نہیں ہیں۔
حمزہ شہباز نے عدالت سے کہا کہ اس حساب سے تو آج ہی دوبارہ الیکشن کروا دیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دوبارہ الیکشن کے لیے مناسب وقت دینا ضروری ہے۔دو تین دن سے کوئی پہاڑ نہیں گرے گا اگر آئینی بحران کا حل نکالیں تو۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ تشریف رکھیں ہم اس پر فیصلہ کر دیتے ہیں۔ آئین کہتا ہے ایوان میں موجود اکثریت سے ہی دوبارہ انتخاب میں فیصلہ ہوگا۔ ضمنی الیکشن تک انتخابات روکنا ضروری نہیں ہے۔ عدالت نے قانون کو دیکھنا ہے کہ وزیراعلیٰ کا الیکشن کب ہونا چاہیے۔ آپ دونوں اتفاق کریں تو ہی 17 جولائی تک انتظار کیا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حمزہ شہباز مل بیٹھ کر مسئلہ حل کرنے پر آمادہ نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پرویز الٰہی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چودھری صاحب آپ کی دونوں باتیں نہیں مانی جا سکتیں۔ یا حمزہ کو وزیراعلیٰ تسلیم کرنا ہوگا یا پھر مناسب وقت میں دوبارہ الیکشن ہوگا۔
پرویز الٰہی نے جواب دیا کہ حمزہ شہباز کو نگراں وزیراعلیٰ رہنا ہے تو اپنا اختیار طے کریں، یہ تو بادشاہ بن جاتے ہیں۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پکڑ دھکڑ نہیں ہوگی۔یہ احکامات ہم جاری کریں گے۔قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو عدالتیں موجود ہیں۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ ہم نے اگر فیصلہ کرنا ہوتا تو تین مہینے ضائع نہ ہوتے۔ عدالت ہی اس معاملے پر فیصلہ دے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز الٰہی امیدوار ہیں، انہیں اعتراض نہیں تو پی ٹی آئی کو کیا مسئلہ ہے؟ جس پر پرویز الٰہی نے جواب دیا کہ محمود الرشید کے مشورے ہی پر آمادہ ہوا ہوں۔ بابر اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ اتحادی لیکن الگ جماعتیں ہیں۔ مجھے ایسی ہدایات نہیں ملیں۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ نے تو صرف 7 دن مانگے تھے اس طرح آپ کو زیادہ وقت مل رہا ہے۔
چیف جسٹس نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی درخواست پڑھیں آپ نے استدعا کیا کی ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو ہٹانے کی استدعا بھی کررکھی ہے۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ مؤقف سبطین خان کا ہے، پوری پی ٹی آئی کا نہیں۔
بابر اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن روز کہتا ہے عدالتی حکم ملتے ہی مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔ حمزہ شہباز کو قبول نہیں کر سکتے۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بابر اعوان صاحب ہم نے آئینی بحران پیدا نہیں کرنا۔
وکیل پی ٹی آئی بابر اعوان نے کہا کہ حمزہ شہباز کسی صورت قبول نہیں۔ عدالت جو مناسب وقت دے گی وہ قبول ہوگا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کی آپس میں بات نہیں بن رہی تو عدالت کیا کرے۔ آپ کا امیدوار کچھ اور چاہتا ہے اور آپ کچھ اور۔
بابر اعوان نے عدالت سے کہا کہ صرف استدعا ہی کر سکتے ہیں فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ پرویز الٰہی اور حمزہ نے کچھ واقعات کا ذکر کیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پانی میں مٹی ڈالنے کے بجائے مسئلے کا حل نکالیں۔ دو دن میں دوبارہ انتخاب یا حمزہ شہباز 17 جولائی تک وزیراعلیٰ، یہی دو آپشن ہیں۔
پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے جواب دیا کہ سیاسی پوزیشن سے عدالت کو آگاہ کر دیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سیاسی پوزیشن ایوان میں لیں، عدالت میں قانونی بات کریں۔ دو تین دن کے لیے متبادل انتظام ہو سکتا ہے لیکن لمبے عرصے کے لیے نہیں۔ آپ اور آپ کے امیدوار ہی ایک پیج پر نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز الٰہی نے جو شرائط رکھیں وہ آپ کے اطمینان کے لیے حمزہ پر عائد کی جا سکتی ہیں۔ عدم اعتماد والے کیس میں عدالت ایسی شرائط عائد کر چکی ہے۔ صرف دیکھنا چاہ رہے تھے کہ سینئر سیاستدان مسئلہ کس طرح حل کرتے ہیں۔
دوران سماعت میاں محمود الرشید روسٹرم پر آ گئے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ درخواست گزار نہیں اس لیے آپ کو نہیں سن سکتے۔ میاں محمود الرشید نے کہا کہ آپس میں طے کیا ہے کہ ہاؤس مکمل ہونے دیا جائے۔ جس پر بابر اعوان نے کہا کہ محمود الرشید کے بیان کے بعد پارٹی سربراہ سے ہدایات لینا ضروری ہوگیا ہے۔ لہذا 10 منٹ کا وقت دیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ دو سے تین دن کا وقت دے سکتے ہیں زیادہ نہیں۔ پرویز الٰہی عمران خان سے رابطہ کریں اور آدھے گھنٹے میں آگاہ کریں۔ عدالت نے سماعت آدھے گھنٹےکے لیے مؤقف کردی۔
سماعت کے دوبارہ آغاز پر اسد عمر، فواد چودھری اور دیگر رہنما سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ پی ٹی آئی کے وکیل امتیاز صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے بات ہوئی ہے۔ پنجاب حکومت تیار ہے کہ دوبارہ انتخابات ضمنی الیکشن کے تین چار روز بعد ہوگا۔
پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ حمزہ شہباز دوبارہ انتخابات تک وزیر اعلیٰ رہیں گے۔ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کسی کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ حمزہ شہباز کے ہمیشہ پروڈکشن آرڈر جاری کرتا رہا ہوں۔ یقین دہانی کراتا ہوں سب کچھ برادرانہ طور پر ہوگا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ اجلاس اسمبلی میں ہوگا؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دونوں کے درمیان اتفاق رائے پر خوشی ہوئی۔ اللہ تعالی کا مشکور ہوں کہ اس نے مخالفین کو ایک نقطے پر متفق کیا۔ یہ دونو ں جانب کی کامیابی ہے۔
چیف جسٹس نے بابر اعوان سے استفسار کیا کہ عمران خان نے کیا ہدایات دی ہیں؟
جس پر بابر اعوان نے بتایا کہ عمران خان نے حمزہ شہباز کو دوبارہ انتخاب تک وزیراعلیٰ تسلیم کر لیا ۔ شفاف ضمنی انتخابات اور مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن تک حمزہ بطور وزیراعلیٰ قبول ہیں۔بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ آئی جی، چیف سیکرٹری اور الیکشن کمیشن کو قانون کے مطابق کام کرنے کا حکم دیا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی نے صرف نیب والی درخواست دی تھی، دوسری آج دی ہے۔ آپ کے الفاظ سے لگتا ہے آپ کو کافی تشنگی ہے عدالتی نظام سے۔ عدالت پر باتیں کرنا بہت آسان ہے۔ ججز جواب نہیں دے سکتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تین ماہ کا بحران ہم نے تین سیشنز میں حل کر دیا ہے۔ توہین عدالت کا اختیار استعمال کریں تو آپ کی روز یہاں حاضری لگے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سیاستدانیا اپنے مسائل خود حل کریں یا ہمارے پاس آ کر ہماری بات مانیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ حکومتی بنچز اپوزیشن کا احترام کریں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن نہ ہونے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ آج رات بیٹھ کر حکم نامہ لکھیں گے۔
عدالت نے حکم دیا کہ وزیراعلی پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا، جس پر پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز نے اتفاق کر لیا۔
کپل دیو کے بعد بھارتی ٹیم کی قیادت فاسٹ بولر کے سپرد
لندن: (ویب ڈیسک) بھارتی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف سیریز سے قبل مشکلات کے بھنور میں پھنس گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ انگلیںڈ کے خلاف سیریز کے لیے جسپریت بمراہ ٹیم کی قیادت کریں گے جبکہ ریشبھ پنت کو نائب کپتان ہوں گے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ٹیم کے مستقل کپتان روہت شرما کورونا میں مبتلا ہیں جس کے باعث وہ ٹیسٹ میچ سے باہر ہوگئے ہیں، دونوں ٹیموں کے درمیان پانچواں ٹیسٹ میچ کل سے ایجبسٹن میں شروع ہو رہا ہے۔ سیریز میں بھارت کو 1-2 کی برتری حاصل ہے۔
حال ہی میں ریشبھ پنت نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی20 سیریز میں بھارت کی قیادت کے فرائض سرانجام دیے تھے تاہم بھارت کو سیریز میں شکست کا مزہ چکھنا پڑا تھا۔
جسپریت بمراہ نے 2016 کے آسٹریلیا کے دورے سے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا تھا اور اب وہ انگلینڈ سے کپتانی کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے 29 ٹیسٹ میچوں میں 123 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ 8 بار 5 وکٹ جھٹکا ہے۔ ان کی بہترین کارکردگی 27 رنز کے عوض 6 وکٹیں ہیں۔
واضح رہے کہ سابق بھارتی فاسٹ بولر کپل دیو کے بعد جسپریت بمراہ دوسرے فاسٹ بولر ہیں جنہیں بھارتی ٹیم کی قیادت کے فرائض سونپے گئے ہیں۔
بھارتی ٹیسٹ اسکواڈ: جسپریت بمراہ (کپتان)، شبھمن گل، ورات کوہلی، شریاس ائیر، ہنوما وہاری، چیتشور پجارا، رشبھ پنت (نائب کپتان-وکٹ کیپر)، کے ایس بھرت (وکٹ کیپر)، رویندرا جڈیجہ، روی چندرن اشون، شاردل ٹھاکر، محمد شامی، محمد سراج، امیش یادو، پرسدھ کرشنا، مینک اگروال۔
ویمنز سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان، تین نئی کرکٹرز بھی شامل
لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مینز کے بعد ویمنز سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کردیا۔
خواتین کی سلیکشن کمیٹی کی چیئر اسماویہ اقبال نے بتایا کہ ویمنز سینٹرل کنٹریکٹ برائے 23-2022 میں 20 کرکٹرز کو شامل کرتے ہوئے تین کھلاڑیوں کو پہلی بار کنٹریکٹ حصہ بنادیا گیا۔
انہوں نے کہا ندا ڈار، بسمہ معروف اور عالیہ ریاض سمیت 7 کھلاڑیوں کو کٹیگری اے میں ترقی دی گئی ہے جبکہ کٹیگری بی میں انعم امین، ڈیانا بیگ، فاطمہ ثناء، نشرہ سندھو اور عمیمہ سہیل شامل ہیں۔
کٹیگری سی میں عائشہ نسیم، منیبہ علی، جویریہ خان، سدرہ امین اور سدرہ نواز جبکہ کٹیگری ڈی میں غلام فاطمہ، گل فیروزہ، ارم جاوید، کائنات امتیاز، سعدیہ اقبال، صدف شمس اور طوبہٰ حسن شامل کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ طوبہٰ حسن، گل فیروزہ اور صدف شمس پہلی مرتبہ سینٹرل کنٹریکٹ کا حصہ بنی ہیں۔
سشمیتا سین نے اب تک شادی کیوں نہیں کی؟ اداکارہ نے وجہ بتا دی
ممبئی: (ویب ڈیسک) بھارتی اداکارہ سشمیتاسین دو گود لی ہوئی لڑکیوں رینی اور الیسا کی اکیلی ماں ہیں تاہم اب تک انہوں نے شادی کیوں نہیں کی حال ہی میں اداکارہ نے اس موضوع پر کھل کر بات کی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق اکشے کمار کی اہلیہ ٹوئنکل کھنہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بھارت کی معروف اداکارہ و سابق مس ورلڈ سشمیتا نے انکشاف کیا کہ رینی کو گود لینے کے بعد ان کی زندگی میں کوئی ایسا آدمی نہیں آیا جو یہ نہ جانتا ہو کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں۔
اداکارہ نے کہا کہ ’میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ میں جس سے شادی کروں وہ میری بیٹیوں کی ذمہ داری بانٹ لے، لیکن وہ اسے اس سے الگ ہونے کے لیے بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان کی بیٹیوں کو ایک خاص عمر تک ان کی ضرورت ہے‘۔
سشمیتانے مزید کہا کہ وہ اپنی زندگی میں کچھ بہت ہی دلچسپ مردوں سے ملی ہیں لیکن ا ن سےشادی نہ کرنے کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ مایوس کن تھے۔ اداکارہ نے یہ بھی واضح کی کہ ان کے شادی نہ کرنے کے فیصلے کا ان کے بچوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ’ میری بیٹیاں بہت بہت مہربان طبعیت کی مالک ہیں انہوں نے اپنی زندگی میں لوگوں کو کھلے بازوؤں سے قبول کیا، کبھی منہ نہیں بنایا، اور سب کو یکساں محبت دی اور احترام بھی کیا‘۔
سشمیتا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ تین مرتبہ شادی کرنے کے قریب پہنچیں لیکن خدا نے انہیں بچا لیا، انہوں نے کہا کہ اگر میں شادی کرلیتی تو مجھ سے متعلقہ زندگیوں پر کیا تباہی آتی۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال سشمیتا نے اپنے دیرینہ بوائے فرینڈ روہمن شال سے علیحدگی اختیار کرلی تھی تاہم ان دونوں کی دوستی اب بھی برقرار ہے۔
امریکی گلوکار آرکیلی کو جنسی زیادتی کے الزام میں 30 سال قید کی سزا
نیویارک: (ویب ڈیسک)معروف امریکی گلوکارآر کیلی کو بچوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیاد تی کے الزامات ثابت ہونے پر 30 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی گلوکار آر کیلی کو گزشتہ سال ستمبر میں دو دہائیوں سے خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔
جس کے بعد امریکی عدالت نے گلوکار پر لگے الزامات ثابت ہونے پر انہیں 30 سال قید کی سزا سنا دی ہے تاہم آر کیلی کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔
واضح رہے کہ آرکیلی پرالزامات عائد ہیں کہ کنسرٹ میں شرکت کرنے والی لڑکیوں کو سہانے خواب دکھا کر آرکیلی کے پاس لایا جاتا تھا جبکہ گلوکار کمسن بچوں سے زیادتی کی ویڈیو بنا کر بلیک میل بھی کرتے تھے۔
ایک غیر ملکی میڈیا رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ آر کیلی نے جعلی کاغذات کی بنا پر 15 سالہ لڑکی سے شادی بھی کر رکھی تھی جبکہ گلوکار جنسی اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ چائلڈ پورنوگرافی اور اغوا میں مجرم پائے گئے تھے۔
جانی ڈیپ نے ڈزنی کی ملٹی ملین ڈالرز ڈیل کیوں ٹھکرائی؟
نیویارک: (ویب ڈیسک) معروف امریکی اداکار جانی ڈیپ نے ڈزنی کی جانب سے پیش کردہ ملٹی ملین ڈالر کے معاہدے کی پیشکش ٹھکرادی ہے۔
تاہم اداکار نے ایسا کیوں کیا انہوں نے اس کی وجہ بھی بتا دی ہےغیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے جانی ڈیپ نے کہا کہ جب ان کی سابقہ اہلیہ ایمبر ہرڈ کی جانب سے ان پر گھریلو تشدد اور بدسلوکی کے الزامات لگائے گئے تو کمپنی نے کیپٹن جیک اسپیرو کے کردار کے لیے جانی ڈیپ کو ہٹا کر ان کی جگہ کسی اور اداکار کو کاسٹ کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔
لیکن اب جب وہ ایمبر ہرڈ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت گئے ہیں تو ڈزنی کمپنی کی جانب سے اسی کردار کی پیشکش دوبارہ کی گئی لیکن اداکار نے اس ملٹی ملین ڈالر کی ڈیل کے بجائے اپنی عزت نفس کا انتخاب کیا ہے۔
ڈیپ نے کہا کہ ’’اگر ڈزنی 300 ملین ڈالر اور ایک ملین الپاکا کے ساتھ بھی آتا ہے، تو اس زمین پر کوئی بھی چیز مجھے واپس جانے اور ڈزنی کے ساتھ پائریٹس آف دی کیریبین فلم میں کام کرنے کے لئے راضی نہیں کر سکتی تھی ‘‘۔
واضح رہے کہ جانی ڈیپ نے ڈزنی کے ساتھ 2003 سے لے کر 2017 تک پائریٹس آف دی کیریبین فلم کے تمام سیکوئلز میں کیپٹن جیک کا کردار نبھاچکے ہیں۔
میکسیکو کے ایک میئر نے مادہ مگرمچھ سے شادی کرلی
میکسیکو: (ویب ڈیسک) میکسیکو کے ایک چھوٹے سے دیہات کے میئر نے ایک مادہ مگرمچھ سے شادی کرلی ہے۔
تاہم یہ قدیم رسوم کے تحت علامتی شادی ہے جس کا مقصد دولت، عزت اور رتبے می ضافہ کرنا ہے۔ تاہم علامتی شادی میں کی تقریب رنگا رنگ تھی جس میں لوگوں نے شرکت کی اور موسیقی بھی بجائی گئی۔ لوگ رقص کرتے رہے اور میئر نے مادہ مگرمچھ کو بوسہ بھی دیا۔
سان پیڈرو ہومی لیولا نامی چھوٹے سے قصبے کے میئر وکٹر ہیوگو سوسا نے منگل کے روز انہوں نے مادہ مگرمچھ سے شادی ہے۔ تاہم جب انہوں اس کی تھوتھنی پر بوسہ دیا تو اس کا مضبوطی سے باندھا گیا تھا۔
ہسپانوی تہذیب میں سینکڑوں برس سے یہ شادیاں رائج ہیں کیونکہ اس کا مقصد فطرت سے نعمت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح کی شادی سے اصل شادی پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس کا مقصد دولت اور عزت میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔
’ اس (علامتی شادی کے بعد) ہم قدرت سے بارشوں، زیادہ فصلوں اور دریاؤں میں مچھلیوں کی بہتات طلب کرتے ہیں،‘ میئر نے بتایا۔ اس گاؤں کا نام اوکساکا ہے جس کی اکثریت ماہی گیروں پر مشتمل ہے۔ یہاں کے لوگ قدیم زبان، ثقافت اور رسوم پر سختی سے کاربند رہتے ہیں۔
سات سالہ دلہن مگرمچھ کو ’ننھی شہزادی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ مگرمچھ اس ثقافت میں دیوتا سمجھے جاتے ہیں اور لوگوں کا خیال ہے کہ ان سے جڑنے سے وہ بھی فطرت سے منسلک ہوجاتے ہیں۔
جب مادہ مگرمچھ کو ڈھول تاشوں کے شور میں سجا کر لایا گیا تو سڑک کے دونوں اطراف مردوں نے اپنا ہیٹ اتار کر استقبال کیا۔ دیہات بھر میں جشن منایا گیا ہے اور لوگ بہت مسرور ہیں۔
برطانیہ کے 21 لاکھ قدیم درختوں کو ’قومی ورثہ‘ قرار دینے کی مہم جاری
لندن: (ویب ڈیسک) برطانیہ میں ایک دلچسپ انکشاف ہوا ہے کہ وہاں 21 لاکھ سے زائد ایسے درخت ہیں جو نہ صرف بہت قدیم ہیں بلکہ تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔ ماحول اور ثقافتی تحفظ کے حامیوں نے ان درختوں کی اسی طرح حفاظت کی درخواست کی ہے جس طرح جنگلی حیات اور قدیم تاریخی عمارات و آثار کو بچایا جاتا ہے۔
یہ تحقیق جامعہ نوٹنگھم نے کی ہے اور بتایا ہے کہ برطانیہ بھر میں پھیلے 17 لاکھ سے 21 لاکھ تک درخت ایسے ہیں جن میں سے صرف ایک لاکھ سے کچھ زائد ریکارڈ پر ہیں۔ ان کی اکثریت کو تحفظ حاصل نہیں، کوئی قانون موجود نہیں اور کوئی پالیسی ہے۔ ماہرین نے ان خزانے کو بچانے کے لئے آواز بلند کی ہے۔
سائنسدانوں نے درختوں اور جنگلات کے تحفظ کے ایک ادارے ’دی وُڈلینڈ ٹرسٹ‘ سے رابطہ کیا ہے اور پورے برطانیہ میں اہم درختوں کی نقشہ کشی کی ہے۔ اس ضمن میں ایک ڈیٹا بیس بنایا گیا ہے اور کئی ریاضیاتی ماڈل بھی بنائے گئے ہیں۔
وڈ لینڈ ٹرسٹ نے یہاں تک کہا ہے کہ جس طرح ویسٹ منسٹر ایبے اور بکنگھم پیلس کی طرح یہ درخت بھی ثقافتی ورثے میں شامل ہونے کے اہل ہیں۔ اس طرح ان درختوں کو ازخود ایک حفاظتی درجہ مل جائے گا۔ ان میں سے ایک بید کا درخت بھی شامل ہے جو 1000 سال سے بھی پرانا ہے۔ تاہم اس فہرست میں وہ درخت ہیں جو کم سے کم 400 سال پرانے ہیں۔
ماہرین نے ان درختوں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کا وسیع ذخیرہ قرار دیا ہے۔ ماہرین نے مردہ درخت، بڑے کھوکھلے درختوں اور فنجائی پر مشتمل بڑی کینوپی کو بھی ثقافتی فہرست میں شامل کیا ہے۔
وُڈلینڈ ٹرسٹ نے ان درختوں کا مکمل ڈیٹابیس بنانا شروع کر دیا ہے۔
سی ٹی ڈی سندھ متحرک، ٹیرر فنانسنگ کے 7 کیسز پر تفتیش شروع
کراچی: (ویب ڈیسک) سندھ میں ٹیررفنانسنگ کے معاملے پر سی ٹی ڈی سندھ متحرک، ایف آئی اے اور کسٹم کے کیسز میں ٹیررفنانسنگ کی جانچ پڑتال کرے گا، 7 کیسز پر تفتیش شروع کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق سی ٹی ڈی سندھ کے دفتر میں انٹر ایجنسی کورڈنیشن کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، سی ٹی حکام کے مطابق ایف آئی اے اور کسٹم سے ٹیرر فنانسنگ کے کیسز مانگ لیے ہیں۔
ایف آئی اے اور کسٹم کے 7 مقدمات میں ممکنہ طور پر ٹیررفنانسنگ کا شک ہے جس پر تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
کیسز میں حوالہ ہنڈی سمیت دیگر اہم مقدمات شامل ہیں، مزید کیسز کی حوالگی کے کیے بھی ایف آئی اے اور کسٹم حکام سے رابطے جاری ہیں۔
ایپل اور گوگل سے ٹِک ٹاک ایپ ہٹانے کی درخواست
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکا کی وفاقی مواصلاتی کمیشن کے ایک کمشنر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایپل اور گوگل کو چین سے متعلقہ ڈیٹا کی سیکیورٹی کے پیش نظر اپنے ایپ اسٹورز سے ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹِک ٹاک کو ہٹانے کا کہا ہے۔
کمیشن کے کمشنر برینڈن کار نے ٹوئٹر پیغام میں ایپل کے سی ای او ٹِم کُک اور ایلفابیٹ سی ای او سُندر پِچائی کو لکھا گیا ایک خط شیئر کیا۔
خط میں ان رپورٹس کی جانب اشارہ کیا گیا جن میں ٹِک ٹاک کی دونوں کمپنیوں کے ایپ اسٹور کی پالیسیوں کی خلاف ورزیوں کے متعلق بتایا گیا۔
خط میں ان کا کہنا تھا کہ ٹِک ٹاک وہ نہیں ہے جو سطح پر دِکھ رہی ہے۔ یہ صرف ایک نہیں ہے جس میں مزاحیہ ویڈیوز یا میم شیئر کی جارہی ہیں۔ بنیادی طور پر ٹِک ٹاک ایک پیچیدہ نگرانی کرنے کے آلے کے طور پر کام کرتا ہے جو بڑی مقدار میں نجی اور حساس ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے۔
تاہم، ایلفابیٹ، ایپل اور ٹِک ٹاک کی جانب سے کسی قسم کا موقف سامنے نہیں آیا۔
24 جون کو لکھے جانے والے خط میں کہا گیا کہ اگر ایپل اور ایلفابیٹ نے اپنے ایپ اسٹورز سے ٹِک ٹاک کو نہیں ہٹاتے تو انہیں 8 جولائی تک جواب جمع کرانا ہوگا۔
برینڈن کار کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں کمیشن کے لیے نامزد کیا تھا۔ کمیشن کی چیئر جیسیکا روزین ورسیل کو سینیٹ نے دسمبر میں مزید پانچ سالوں کے لیے تعینات کیا تھا۔
پتے کے کینسر کو جسم میں پھیلنے سے روکنے کا طریقہ دریافت
لندن: (ویب ڈیسک) سائنس دانوں نے ایک ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس سے پتے کے سرطان کو بڑھنے اور جسم میں پھیلنے سے روکنا ممکن ہے۔
یہ دریافت لندن کے انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ کی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج اس بیماری کے علاج کے لیے نئی راہیں استوار کرسکتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ GREM1 نامی ایک پروٹین پتے کینسر میں پائے جانے والے ایک قسم کے خلیوں کو قابو کرنے میں اہم ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق پروٹین کی سطح کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ان خلیوں کو مزید جارح بنانے کے لیے توانائی دے سکتی ہے یا اس عمل کو الٹ سکتی ہے۔
لندن کے انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ میں کینسر اسٹیم سیل ٹیم کے رہنما پروفیسر ایکسیل بیہرین جو کہ تحقیق کے سینئر مصنف بھی ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اہم اور بنیادی دریافت ہے جو پتے کے سرطان کی علاج کے لیے نئی راہیں کھولے گی۔
تحقیق میں محققین نے یہ بتایا ہے کہ پتے کے سرطان کے خلیوں کو روکنا ممکن ہے اور ان خلیوں کو ایسی نہج تک لے جانا جہاں ان کا علاج آسانی سے کیا جاسکے۔
واضح رہے کہ کینسر کے مرض سے بچنے والے مریضوں میں سب سے کم شرح پتے کے سرطان کے مریضوں کی ہے۔ سات فی صد سے کم افراد پانچ سال یا اس سے زیادہ اس بیماری میں زندہ رہ پاتے ہیں۔
مجھے پٹرول کی قیمت میں اضافے کا اعلان ٹی وی پر آکر نہیں کرنا چاہیے تھا: مفتاح اسماعیل
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ مجھے پٹرول کی قیمت میں اضافے کا اعلان ٹی وی پرآکر نہیں کرنا چاہیے تھا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مجھے کل شام پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان ٹی وی پر نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ اعلان میرے ایک اورساتھی کو کرنا تھا۔ وزیراعظم نےفیصلہ کیا تھا کہ مصدق ملک اور مجھے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرنا چاہیے۔


















