افغانستان سے چین درآمد ہونے والے 26 ٹن چلغوزے چند منٹوں میں آن لائن فروخت ہوگئے۔

افغانستان سے چین درآمد ہونے والے 26 ٹن چلغوزے چند منٹوں میں آن لائن فروخت ہوگئے۔

چینی مارکیٹ میں افغانستان سے درآمد شدہ چلغوزوں کی طلب بڑھتی ہی جارہی ہے اور 26 ٹن چلغوزے چند منٹوں میں ہی آن لائن فروخت ہوئے ہیں۔

حال ہی میں افغانستان میں چینی سفیر وانگ یو نے ٹوئٹ میں بتایا کہ افغانستان سے اب تک چلغوزوں کی 10 فلائٹس پہنچ چکی ہیں۔

ڈاکٹر ماہا علی خودکشی کیس:ملزمان پر زیادتی کے الزامات ثابت نہ ہوسکے

تفصیلات کے مطابق پولیس سرجن حیدرآباد کی نگرانی میں 9 ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ کی رپورٹ متعلقہ عدالت میں جمع کرا دی گئی جس پر ڈاکٹر وحید علی، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، ڈاکٹر وقار احمد اور ڈاکٹر رجنی کمار کے دستخط ہیں، رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں خودکشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا علی سے مرکزی ملزمان جنید خان اور سید وقاص کے ڈی این اے میچ نہیں ہوئے۔

ڈاکٹر ماہا علی کے دوست جنید خان اور سید وقاص حسن پر متوفیہ کے والد سید آصف علی شاہ کی جانب سے زیادتی کے الزامات لگائے گئے تھے،عدالتی حکم پر مرکزی ملزم جنید خان اور سید وقاص نے خون اور بکل سویب کے نمونے جام شورو یونیورسٹی میں خود جاکر دیے، ڈاکٹر ماہا کے کپڑوں اور خون کے نمونوں سے ڈی این اے سمپل کا موازنہ کیا گیا۔

ڈی این اے رپورٹ کے مطابق مرکزی ملزم جنید خان اور سید وقاص حسن کا ڈی این اے متوفیہ ڈاکٹر ماہا علی سے میچ نہیں کرتا،ملزم جنید خان کے وکیل کے مطابق متوفیہ ماہا علی سے جنید خان اور وقاص کی زیادتی کے الزامات جھوٹے ہوگئے۔

خیال رہے کہ  گزشتہ سال کراچی کے علاقے ڈیفنس میں خاتون ڈاکٹر ماہا علی نے گولی مار کر خودکشی کرلی تھی،ڈاکٹر ماہا کے قریبی دوست جنید نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا تھا کہ اس کے مرحومہ سے گزشتہ 4 سال سے تعلقات تھے اور دونوں جلد ہی شادی کرنے والے تھے۔

جنید کا کہنا تھا کہ ماہا کو روز نجی ہسپتال میں پک اینڈ ڈراپ کرتا تھا، لیکن جس دن اس نے خودکشی کی اس دن ماہا نے گھر آنے سے منع کیا۔خاتون ڈاکٹر کے دوست کا کہنا تھا کہ ماہا کا اکثر اپنے والدین سے جھگڑا رہتا تھا، ماہا گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے ڈپریشن میں رہا کرتی تھی۔

ڈاکٹر ماہا علی کی موت کو پولیس نے اپنی تحقیقات کی بناء پر خودکشی قرار دیا ہے اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہا علی نے اپنے دوست جنید کے تشدد سے تنگ آکر خود کو مارا۔

فیصلوں میں آزاد ہیں، آج تک کسی ادارے کی بات سنی نہ دباؤ لیا: چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہےکہ سپریم کورٹ فیصلے کرنے میں آزاد ہے اور کسی کی ہمت نہیں ہمیں روکے جب کہ آج تک کسی ادارے کی بات سنی اور نہ ہی دباؤ لیا۔
لاہور میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ’کبھی کسی ادارے کی بات سنی اور نہ کبھی ادارے کا دباؤ لیا، مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ فیصلہ کیسے لکھوں، کسی کو مجھ سے ایسے بات کرنے کی کوئی جرات نہیں ہوئی، کسی نے میرے کام میں مداخلت نہیں کی، اپنے فیصلے اپنی سمجھ اور آئین و قانون کی سمجھ کے مطابق کیے‘۔
معزز چیف جسٹس نے کہا کہ ’آج تک کسی کی ڈکٹیشن دیکھی، سنی اور نہ ایسا کوئی اثرلیا، یہی کردار میرے ججز کا ہے، مجھے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں نے ڈکٹیشن لی، میری عدالت لوگوں کو انصاف دیتی ہے، ہماری عدالت قانون کی پیروی کرتے ہوئے کام کررہی ہے اور سپریم کورٹ کے ججز محنت کے ساتھ لوگوں کو انصاف فراہم کررہے ہیں‘۔جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ’ کہیں غلط فیصلے آتے ہیں کہیں صحیح، کسی کو غلط فیصلہ کہا جاتا ہے، یہ لوگوں کی اپنی رائے ہوتی ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں فیصلے درست ہیں کچھ کہتے ہیں غلط ہے، سب کا اپنا نظریہ ہے، سب کی رائے ہے، سب کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہی عدالتی نظام اور جمہوریت کی خوبصورتی ہے، ہم اس پر عملدرآمد کرتے ہیں، کسی کی ہمت نہیں ہوئی ہمیں روکنے کی، ہماری عدالت ہر فیصلہ کرنے میں آزاد ہے اور وہ کرتی ہے، جس کا مقدمہ سامنے آتا ہے ہماری عدالت ہر ایک کا محاسبہ کرتی ہے، ہمیں بتائیں کس کی ڈکٹیشن پر کس کا فیصلہ ہوا، ایسا نہیں ہے، لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا نہ کی جائیں‘۔
چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو غلط باتیں نہ بتائیں، انتشار نہ پھیلائیں، اداروں کے اوپر سے لوگوں کا بھروسہ نہ اٹھوائیں، پاکستان میں انسان کی نہیں قانون کی حکمرانی ہے، ہم جس طرح سے کام کررہے ہیں کرتے رہیں گے، ملک میں آئین و قانون اور جمہوریت کی حمایت کریں گے اور اسی کا پرچار کریں گے، کسی غیر جمہوری سیٹ اپ کو قبول نہیں کریں گے، ہم چھوڑ دیں گے اور ہم نے پہلے بھی چھوڑا، آج کے لیے اتنی بات کافی ہے‘۔

پاکستان نے بنگلا دیش کو دوسرا ٹی ٹونٹی میچ ہرا کر سیریز جیت لی

پاکستان نے بنگلا دیش کو دوسرا ٹی ٹونٹی میچ ہرا کر سیریز جیت لی۔ تین میچز کی سیریز میں گرین شرٹس کو 0-2 سے برتری حاصل ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان کھیلے جانے والے سیریز کے دوسرے میچ میں میزبان ٹیم کے کپتان محمود اللہ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
بنگلادیش کے اوپنر بلے باز ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ سیف حسن بغیر کھاتہ کھولے شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے۔ محمد نعیم صرف 2 رنز بناکر ہی پویلین لوٹ گئے، محمد وسیم جونئیر نے ان کا شکار کیا۔
مڈل آرڈر بلے بازوں نے بنگال ٹیم کو کچھ سہارا دیا۔ نجم الحسین اور عفیف حسین نے 46 رنز کی شراکت داری قائم کی۔ نجم الحسین نے 34 گیندوں پر 40 رنز کی اننگز کھیلی، جن میں 5 چوکے بھی شامل ہیں، انہیں شاداب خان نے پویلین کی راہ دکھائی، عفیف حسین 21 گیندوں پر 20 رنز بنا سکے۔ محموداللہ 12 جبکہ مہدی حسن نے 3 رنز بنائے۔
بنگال ٹائیگر مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 108 رنز بنا سکے۔ شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ محمد وسیم جونیئر، حارث رؤف اور محمد نواز نے ایک، ایک شکار کیا۔
ہدف کے تعاقب میں قومی ٹیم کی طرف سے اننگز کا آغاز کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے کیا، مسلسل دوسرے میچ میں قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم بڑی اننگز نہ کھیل سکے، 5 گیندوں پر ایک رن بنا کر مستفیض الرحمان کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔
اس دوران فخر زمان نے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے شروع میں محتاط انداز اپنایا تاہم کریز پر سیٹ ہونے کے بعد وکٹ کے چاروں اطراف شارٹس کھیلے۔ اس دوران فخر نے کھل کر کھیلتے ہوئے حریف سپنرز کی خوب درگت بنائی، انہوں نے اپنی اننگز میں تین بلند و بالا چھکے لگائے۔ تاہم محمد رضوان 45 گیندوں پر 39 سکور بنا کر امین الاسلام کی گیند پر پویلین لوٹ گئے۔ دونوں بیٹسمینوں نے 78 گیندوں پر 85 رنز کی پارٹنر شپ بنائی۔
قومی ٹیم نے ہدف 19 ویں اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ فخر زمان نے 57 جبکہ حیدر علی 6 رنز کی اننگز کھیلی۔ مستفیض الرحمان اور امین الاسلام نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
آج کے میچ میں قومی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی تھی، حسن علی کو آرام دے کر فاسٹ باؤلر شاہین شاہ کو موقع دیا جبکہ میزبان ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے 4 وکٹوں سے کامیابی سمیٹی تھی، اس میچ میں بہترین کارکردگی پر حسن علی کو پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا آخری ٹی ٹوئنٹی میچ 22 نومبر کو ڈھاکا میں کھیلا جائے گا۔

اسموگ کے باعث اسکول بند نہیں کریں گے: شفقت محمود

لاہور: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اسموگ کے باعث اسکول بند کرنے کے امکان کو مسترد کردیا۔

لاہور میں نیشنل کالج آف آرٹس کے دورے پر میڈیا سے گفتگو میں شفقت محمود نے کورونا کے باعث تعلیمی صورتحال سے متعلق سوال پر کہا کہ تمام امتحانات وقت پر ہوں گے۔

وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ اسموگ کے باعث ایسےحالات نہیں کہ اسکول بند کیے جائیں۔ْ

اس موقع پر شفقت محمود نے اپوزیشن کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن بغیر وجہ روڑے اٹکا رہی تھی،الحمد اللہ تمام بل منظور کرلیے ہیں۔

پاکستان میں صنعت لگانے پر چینی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کریں گے، وزیراعظم

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے کوشاں ہیں ، پاکستان میں صنعت لگانے پر سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات ہوئی ، ملاقات میں وزیر توانائی حماد اظہر، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، شہباز گل اور خالد منصور بھی موجود تھے۔

ترجمان وزیراعظم آفس کی جانب سے کہا گیا کہ ملاقات میں کاروبار،سرمایہ کاری اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا دونوں ممالک میں عوامی رابطوں کو قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہم پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین آئندہ نسلوں تک ایک دوسرے سے جڑے رہیں گے ، ترجیحی بنیادوں پر پاکستان میں چینی کاروباری اداروں کی حمایت کریں گے

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں صنعت لگانے پر سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کریں گے جبکہ سڑکوں اور یوٹیلیٹی سہولیات کی فراہمی سے متعلق مسائل کو حل کیا جائے گا

اس موقع پر چینی سرمایہ کاروں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گلاس، سرائمکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔

کرتارپور: نوجوت سنگھ سدھونےدربار صاحب پہنچ کرمذہبی رسومات ادا کیں

نوجوت سنگھ سدھو کرتارپور آمد راہداری سے پاکستان آئے ہیں۔ نوجوت سنگھ سدھو کی پاکستان آمد کا مقصد بابا گرونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کرنا ہے۔

بھارت سے آئے 3000سکھ یاتری بھی مذہبی رسومات کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔ سکھ یاتریوں نے پاکستان کی جانب سے کئے گئےانتطامات پر بھرپور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔سکھ یاتریوں کی سہولت کیلئے 30 نومبر تک 10 دن کی پیشگی اطلاع کی شرط میں نرمی کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ بھارت نے انتہائی مختصر نوٹس پر کرتار پور راہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نےسکھ برادری کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہزاروں سکھ ياتری پاکستان ميں مذہبی مقامات ديکھنےآتےہيں،حکومت پاکستان انہیں مذہبی رسومات کی ادائيگی ميں سہولیات فراہم کرتی رہے گی۔

لالیگا:لیوانٹے اور ایتھلیٹک کلب کے درمیان میچ ڈرا ہوگیا

اسپینش فٹ بال لیگ لالیگا میں لیوانٹے اور ایتھلیٹک کلب کے درمیان کھیلا جانے والا میچ ڈرا ہوگیا۔

لالیگا میں راؤنڈ 14 کے سلسلے میں لیوانٹے اور ایتھلیٹک کلب کے درمیان میچ کھیلا گیا جو بغیر کسی گول کے برابر رہا۔

میچ میں زیادہ تر ایتھلیٹک کلب کی ٹیم کا پلہ بھاری رہا لیکن اُن کے کھلاڑی گیند کو حریف ٹیم کے جال میں نہ پہنچاسکے۔

 دوسری جانب لیوانٹے کی ٹیم کو چھ کارنر کک کی صورت میں بھی گول کرنے کے مواقع ملے مگر اُن کو کامیابی نہ مل سکی۔

اس ڈرا کے نتیجے میں ایتھلیٹک کلب کی ٹیم ٹیبل پر 19 پوائنٹس کے ساتھ ایک درجہ ترقی پاکر ساتویں پوزیشن پر آگئی ہے جبکہ لیوانٹے کی ٹیم ساتویں ڈرا میچ اور سات پوائنٹس کے ساتھ بدستور 19ویں نمبر پر موجود ہے ۔

واضح رہے کہ اسپینش فٹ بال لیگ کے تمام   میچز جیو سوپر پر براہ راست نشر کیے جارہے ہیں۔

بنگلہ دیش کی پاکستان کےخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ جاری

پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوسرے میچ میں بنگلادیش نے پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر پاکستان کو فیلڈنگ کی دعوت دی۔

کل کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ پہلے ٹی ٹوئنٹی کے ہیرو فاسٹ بولر حسن علی تھے جنہوں نے 22 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔

مہنگائی بڑا مسئلہ ،اپوزیشن جماعتیں بیوقوف نہیں جو ان حالات میں حکومت گرائیں۔ رپورٹ: ستار خان

اپوزیشن کا ارادہ ہے کہ حکومتی جماعت تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور کر دیا جائے اور پھر ختم کر دیا جائے۔ اب یہ بات کوئی ڈھکی چھپی بات نہی رہی کہ تحریک انصاف کا حکومتی جماعت ہوتے ہوئے اگلے انتخابات میں ووٹروں کا سامنا کرنا باقی تمام جماعتوں کی نسبت سب سے مشکل کام ہوگا کیونکہ ووٹرز صرف اور صرف حکومتی جماعت سے ہی سوال کرتی ہے کہ آپ کی جماعت ہمارے مسائل حل کرنے میں ناکام کیوں رہی۔ آپ کی جماعت نے تو ہم سے بہت سے وعدے ایسے کئے تھے جس کو آپ کی جماعت پورا نہ کر سکی جبکہ اپوزیشن کی جماعتوں کو اس طرح کے سوالات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ وہ تو اپوزیشن میں تھیں۔ تو یہ بات بالکل عجیب سی لگتی ہے کہ اپوزیشن کی جماعتیں حکومتی جماعت تحریک انصاف کو اس مشکل سے نکال دیں گی کیونکہ انتخابات کے موقع پر تو ووٹرز صرف اور صرف اس جماعت سے زیادہ سوالات کرتی ہے جو حکومت میں رہی ہو۔ جس کی اپنی حکومت ہو۔ اپوزیشن میں جتنی بھی قابل ذکر جماعتیں ہیں ان سب کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ اگلے انتخابات میں تحریک انصاف ہی سب سے زیادہ مشکل میں ہوگی اور تحریک انصاف کے لئے اگلے انتخابات میں ووٹ حاصل کرنا انتہائی مشکل مرحلہ ہوگا کیونکہ لوگ مہنگائی کی وجہ سے اور دیگر مسائل کی وجہ سے پسے ہوئے ہیں بلکہ آنے والے وقت میں مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے اپوزیشن جماعتیں خاص طور پر پاکستان مسلم لیگ ن اور پی پی پی یہ بالکل نہیں چاہیں گی کہ تحریک انصاف کو سب سے مشکل مرحلے سے نکال دیا جائے۔ اپوزیشن کی جماعتوں کو بخوبی اس بات کا اندازہ ہوگا کہ ہمسایہ ملک انڈیا میں سترہ وزیراعظم میں سے سات وزراءاعظم اپنی جماعت کی حکومت کی آئینی مدت پوری نہیں کر سکے تھے۔ یہ سات وزیراعظم پارلیمینٹ یعنی کہ لوک سبھا کا اعتماد کھو بیٹھی تھیں اور انہیں استعفے پڑے۔ کسی نے کچھ مہینے حکومت کی اور کسی نے زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دو سال حکومت کی۔ استعفیٰ کے بعد ان سات وزراءاعظم نے درمیانی مدت کے انتخابات کا اعلان کیا تو یہ تمام کے تمام وزراءاعظم اپنی جماعتوں کو کامیاب کروانے میں بری طرح ناکام رہے۔ ان سات وزراءاعظم میں مرار جی ڈیسائی، چرن سنگھ، وی پی سنگھ، چندرا شیکھر، دیو گاودا اور اندر کمار گجرال شامل ہیں۔ حتیٰ کہ انڈیا کے کامیاب وزیراعظم اٹل بہاری باجپائی اپنی پہلی حکومت میں صرف کچھ ہی مہینے وزیراعظم رہ سکے تھے۔ اٹل بہاری باجپائی اپنی دوسری حکومت میں آئینی مدت تو پوری کر سکے لیکن انتخابات نہ جیت سکے تھے۔ یہ تمام کے تمام واقعات اس بات کی مکمل تائید کرتے ہیں کہ حکومتی جماعت کے لئے انتخابات بہت ہی مشکل مرحلہ ہوتے ہیں۔ ان جماعتوں کی نسبت جو اپوزیشن میں ہوتی ہیں۔ ملک کی صورتحال جس خوفناک موڑ پر ہے، وہاں تحریک انصاف کو حکومت سے دور کرنا تحریک انصاف کی ڈگمگاتی کشتی کو سہارا دینے والی بات ہوگی۔

علامہ خادم حسین رضوی کے عرس کی تقریبات شروع، منزل حاصل کرینگے: حافظ سعد رضوی

لاہور(وقائع نگار)علامہ خادم حسین رضوی کے عرس کی تین روزہ تقریبات کا آغازہوگیا ہے،تحریک لبیک پاکستان کے امیر حافظ سعد حسین رضوی نے جمعہ کے اجتماع خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب باتوں سے زیادہ کام ہوگا، ہم صرف کام کریں گے اور حسب ضرورت جو باتیں ہوئیں وہ بھی کریں گے،کارکنوں نے میری اسیری کے دوران ظلم و زیادتی برداشت کی لیکن ثابت قدم رہے، کارکنان نے جان و مال، اولاد اور گھر کی قربانی دے کر ظلم برداشت کیا لیکن کمزور نہ پڑے، ساری قربانیاں آپ نے دیں میں تو قید میںتھا، آپ نے اپنی منزل نظر کی جانب رکھی اور ہماری منزل کیا ہے یہ بابا جی (خادم حسین رضوی ؒ)ہمیں اتنے طریقے سے بتاکر گئے ہیں کہ یہ سارے مل کر بھی آپ کو منزل سے نہیں ہٹاسکے۔ جمعہ کی نماز کے بعد سربراہ ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی اور مجلس شوریٰ کے اراکین نے مزار پر چادر پوشی کی،اس موقعہ پر مجلس شوریٰ کے رکن علامہ محمد شفیق امینی، پیر سید ظہیر الحسن شاہ، قاضی محمود اعوان، علامہ غلام عباس فیضی، مولانا فاروق الحسن قادری، علامہ غلام غوث بغدادی، پیر سید عنایت الحق شاہ بھی موجودتھے، خصوصی د±عا رکن شوریٰ و سرپرست اعلیٰ ٹی ایل پی قاضی محمود اعوان نے کی، کارکنان کی بڑی تعداد مرکز جامع مسجد رحمة اللعالمین کے اندر اور باہر موجود تھی۔علامہ سعد حسین رضوی کا استقبال کارکنوںنے لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے نعروں اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے کیا، سربراہ تحریک کو کارکنوں کی بڑی تعداد نے گھیر لیا اور بغلگیر ہوئے سربراہ تحریک کارکنوں سے ملتے آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے کارکنان کی عرس مبارک میں شرکت بابا جی سے انکی والہانہ محبت کا ثبوت ہے۔ سربراہ تحریک سعد حسین رضوی نے جمعة المبارک کے اجتماع سے خطاب کیانمازیوں کی بہت بڑی تعداد کے باعث ملتان روڈ اور اطراف کی گلیوں میں بھی نمازیوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

بابا گرونانک کے جنم دن کی تقریبات جاری‘ یاتریوں کی شرکت، رسومات ادا کیں

ننکانہ صاحب (تحصیل رپورٹر) سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرو نانک کے 552 ویں جنم دن کی تقریبات جاری ، بھارت, انگلینڈ،کینڈا بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک سے آئے سکھ یاتریوں نے گوردوارہ سچا سودا میں اپنی مذہبی رسومات ادا کیں۔ بابا گرو نانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے آئے سکھ یاتریوں کو ننکانہ صاحب سے خصوصی بسوں کے زریعے شیخوپورہ کے گوردوارہ سچا سودا لایا گیا۔ جہاں انہوں نے اپنی مذہبی رسومات ادا کیں۔گوردوارہ سچا سودا شیخوپورہ میں سکھ یاتری پاکستانی حکومت کے جانب سے کیے جانے والے انتظامات پر خوشی سے نہال نظر آئے۔ بابا گرو نانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سمیت دیگر ممالک سے آئے سکھ یاتریوں کا ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ رانا شکیل اسلم نے استقبال کیا اور سکھ برادری کو ان کے مذہبی پیشوا کے جنم دن پر مبارکباد دی۔ ڈپٹی کمشنر رانا شکیل اسلم نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کی ہدایت پر گوردوارہ میں میڈیکل کیمپ اور لنگر کے بہترین انتظامات کیے گئے۔ سکھ یاتریوں کو وی آی پی مہمانوں کا درجہ دیا گیا ہے اور ان کے لئے سیکیورٹی کے بھی بہترین اور فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں۔وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر کے سکھوں کے لئے محبت اور احترام رکھتا ہے، پاکستان میں تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لئے اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے مکمل آزادی ہے، کرتار پور راہداری منصوبے کا مقصد محبت اور مساوات کو فروغ دینا اور مذہبی امتیازات کے خاتمے کا پیغام دینا تھا، ہم نے ہمیشہ تمام مذاہب کے لئے فراغ دلی کا مظاہرہ کیا ہے، ہمارے پڑوس میں جو کچھ ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے، ایک سال سے سکھ برادری اپنے جائز مطالبات کی بات کررہی ہے ،مودی سرکار طاقت سے دبانے کی کوشش کررہی ہے۔

پاکستان میں ٹک ٹاک کو ایک مرتبہ پھر بحال کر دیا گیا

پاکستان میں پانچ ماہ تک بین رہنے کے بعد ٹک ٹاک کو ایک مرتبہ پھر بحال کر دیا گیا۔
پی ٹی اے کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں ٹک ٹاک ایک دفعہ پھر بحال کر دی گئی ہے۔ ملک بھر میں سوشل میڈیا کی مشہور ایپ کو بحال کر دیا ہے، ٹک ٹاک کی جانب سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے یقین دہانی کے بعد ایپلیکشن کو بحال کیا گیا۔ پی ٹی اے ٹک ٹاک پر غیر قانونی مواد کی مانیٹرنگ جاری رکھے گا۔
ٹک ٹاک نے پی ٹی اے کو یقین دہانی کروائی کہ سوشل میڈیا کی مشہور ایپ پر مسلسل غیر قانونی مواد اپ لوڈ کرنے والوں کو بلاک کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 21 جولائی کو پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے معروف شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کو ایک بار پھر بلاک کردیا۔
پی ٹی اے سے جاری بیان کے مطابق پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعلقہ دفعات کی روشنی میں اتھارٹی نے ملک میں ٹِک ٹاک ایپ اور ویب سائٹ تک رسائی کو بلاک کردیا ہے۔ یہ کارروائی پلیٹ فارم پر نامناسب مواد کی مستقل موجودگی اور پلیٹ فارم کے ایسے مواد کو روکنے میں ناکامی کی وجہ سے کی گئی ہے