گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے 2 اہم بلوں کی منظوری کی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں صرف 19دن رہ گئے
اسلام آباد (ویب ڈیسک ) دو اہم بلوں کی منظوری کیلئے حکومت نے یوم عاشور کے فوری بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایف اے ٹی ایف کی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں صرف 19روز باقی ہیں کیونکہ گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو15ستمبر کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے جس بنا پر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سینیٹ سے مسترد ہونے والے بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاس کرائے جائیں گے۔واضح رہے کہ اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ سینیٹ سے ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ دو اہم بلوں کی منظوری نہ ہونے دے کر اپوزیشن نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ فیٹف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو نکالنے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے فیٹف سے متعلقہ اینٹی منی لانڈرنگ اور آئی سی ٹی وقف بل کو منظور نہیں ہونے دیا، میں پہلے دن سے ہی یہ کہہ رہا ہوں کہ اپوزیشن رہنمائوں کے اپنے ذاتی مفادات اور ملک کے مفادات متضاد ہیں، جونہی احتساب کے عمل کو سخت کیا جاتا ہے اپوزیشن کوشش کرتی ہے کہ وہ اپنی لوٹ مار کے تحفظ کے لئے جمہوریت کو ڈھال بنائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نیب قوانین میں ترمیم کے ذریعے این آر او کے لئے بلیک میل کرتے ہوئے اپوزیشن پاکستان کو فیٹف کی بلیک لسٹ میں ڈال سکتی ہے، جس سے ملک کی معیشت تباہ اور غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن پیسوں کو محفوظ بنانے میں اتنا مایوس ہو چکے ہیں کہ انہوں نے پارلیمنٹ کو اس کے کام سے روکنے کی کوشش کی اور اب وہ فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی پاکستان کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ میں واضح کر دوں کہ جو بھی ہو جائے میری حکومت کسی کو این آر او کی اجازت نہیں دے گی، یہ قوم کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہوگا، جنہوں نے قومی خزانے کو لوٹا ہے ان کا احتساب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مشرف نے 2 سیاسی رہنمائوں کو این آر او دیا جس سے ہمارے قرضے بڑھے اور معیشت تباہ ہوئی، اب کوئی این آر او نہیں ہوگا۔


















