عمران خان اتحادیوں پر اعتماد کریں اور فسادیوں سے دور رہیں،چودھری شجا عت

لاہور(خصوصی رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ کے صدر وسابق وزیراعظم چوہدری شجادت حسین نے عمرہ ادائیگی پر روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ اتحادیوں پر اعتماد کریں اور فسادیوں سے دور رہیں، عمران خان کو ”ٹیں کا درس دینے والے اتحادیوں سے محبت اور فسادیوں سے دوری کا سبق دیں، فسادیوں نے ہر دور میں نفرت و انتشار کی سیاست کی، اپنی اپنی نہیں بلکہ پاکستان کی بولی بولیں، انہوں نے کہا کہ ہم نے عمران خان کے ساتھ اتحاد بغیر کسی لالچ کے ملک و قوم کے مفاد میں کیا، اس پر قائم ہیں اور رہیں گے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تین مرتبہ مجھے خانہ کعبہ کے اندر جانے کی سعادت نصیب فرمائی، اپنی معافی کے علاوہ کبھی اپنے لیے دعا نہیں کی، اب بھی انشاءاللہ عوام کی خوشحالی کیلئے دعا کرونگا، انہوں نے اس سوال پر کہ عمران خان کیلئے بھی دعا کرینگے پر چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں فسادیوں کے نرغے سے دور رکھے، انہوں نے کہا کہ میں نے خانہ کعبہ کے اندر بھی عوام کی خوشحالی کیلئے دعا کی اور اس مرتبہ بھی عوام اور بالخصوص ان لوگوں کیلئے دعا کرونگا ، جنہوں نے اپنے نام کیساتھ دعا کی درخواست کی ہے، چوہدری ممتاز بھی انکے ہمراہ ہیں۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس ،اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے مطالبات پر عمل درآمد کا فیصلہ

اسلام آباد‘لاہور(نمائندگان خبریں) اتحادیوں کے مطالبات پر غور کیلئے حکومتی مذاکراتی کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جو معاملات طے ہوئے اس پر عملدرامد کیا جائے گا۔تفصیل کےمطابق حکومتی کمیٹیوں کے اجلاس میں اتحادیوں کے مطالبات اور ان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ شفقت محمود نے مسلم لیگ (ق) کے تحفظات سے اجلاس کے شرکا کو آگاہ کیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں اتحادیوں کے تحفظات کو دور کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے ساتھ باضابطہ رابطہ کیا جائے گا اور جو پہلے معاملات طے ہوئے اس پر عملدرامد ہوگا۔اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ اتحادیوں کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔ اجلاس کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ اتحادی بھی ساتھ رہیں گے اور اتحاد بھی برقرار رہے گا۔ آس لگانے والے پہلے بھی ناکام ہوئے، انھیں اب بھی مایوسی ہوگی۔عثمان بزدار نے کہا کہ اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے جبکہ تمام معاملات بھی افہام وتفیم سے حل کر لیے جائیں گے۔ ہم مشاورت سے چلنے پر یقین رکھتے ہیں ۔گورنر پنجاب چودھری سرور کا کہنا تھا کہ اتحاد کے معاملات حل کر لیں گے۔ ایسا کوئی مسئلہ نہیں جو حل نہ ہو سکے۔ ہم اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔وفاقی وزیر شفقت محمود نے بتایا کہ اگلے ہفتے اپنے اتحادیوں سے رابطہ کرکے ملاقات کریں گے۔ تمام کمیٹیاں اپنے اپنے ٹاسک کے مطابق اتحادیوں سے ملیں گی۔ پہلے سے طے شدہ معاملات پر عملدرامد کیا جائے گا۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اس ہفتے اتحادیوں سے مذاکرات شروع ہوجائیں گے، اتحادیوں سے مذاکرات کے پہلے سے طے شدہ طریقہ کار پر بات ہوگی۔تفصیلات کے مطابق اتحادیوں سے مذاکرات کے لیے بننے والی کمیٹیوں کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہا وس میں صدر چیمبر میں ہوا، وزیر دفاع پرویز خٹک نے اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار، گورنر پنجاب چودھری سرور، گورنر سندھ عمران اسماعیل ،ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری، شفقت محمود، اسد عمر بھی موجود تھے۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں اتحادیوں کے مطالبات، عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا، وزیراعظم نے اتحادیوں سے مذاکرات کے لیے 3 مختلف کمیٹیاں بنائی تھیں، ق لیگ سمیت دیگر اتحادیوں نے کمیٹیوں پر تحفظات کا بھی اظہار کیا تھا۔حکومتی مذاکراتی کمیٹیوں کے سربراہ پرویز خٹک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے اتحادیوں سے مذاکرات کا لائحہ عمل طے کیا ہے، اس ہفتے اتحادیوں سے مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اتحادیوں سےمذاکرات کے پہلے سے طےشدہ طریقہ کار پربات ہوگی، نئی کمیٹیوں کاقیام وزیراعظم عمران خان کا فیصلہ ہے، ہماری کوشش ہوگی معاملات ہفتہ دس دن میں طے ہوجائیں۔صحافی نے سوال کیا کہ کیاجہانگیر ترین کو دوبارہ کمیٹیوں میں شامل کیا جائےگا؟ جس پر پرویز خٹک نے جواب دیا کہ یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان نے کرنا ہے، جہانگیرترین خود بھی وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔

پاکستان پر حملہ مودی کی آخری غلطی ہو گی،عمران خان

میر پور (بیورورپورٹ) وزیر اعظم عمران خان نے ایک بارپھر بھارت کو خبر دار کیا ہے کہ نریندر مودی کی پاکستان پر حملے کی کوشش آخری غلطی ہوگی ،ساری الیکشن مہم میں مودی نے انتہا پسند آر ایس ایس کی نفرتوں کو بڑھاوا دیا،ہم نے ان کا بڑی مونچھوں والا پائلٹ واپس کیا، پاکستان پر امن ملک ہے،نیا آج کشمیر سے کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کررہی ہے، کشمیر کا بہت اچھا وقت نظر آرہا ہے، اب کرفیو زیادہ دیر تک نہیں رہ سکے گا،کشمیر سے جس دن کرفیو اٹھے گا، انسانوں کا سمندر نکلے گا، ایک ہی آواز آئے گی اور آزادی کی آواز آئے گی، اس کے بعد مودی کے پاس کوئی اور پتہ کھیلنے کے لیے نہیں رہے گا، مودی نے بیان دیا ہے11 دنوں میں پاکستان کو فتح کرلوں گا، لگتا ہے مودی نے دنیا کی تاریخ نہیں ڑھی، لگتا ہے آپ کی ڈگری جعلی ہے، ہماری فوج منجھی ہوئی ہے، دنیا کی بڑی بڑی فوجیں وہ جنگ نہیں جیت سکیں جو ہماری فوج نے جیتی،کروڑوں پاکستانی اور بچہ بچہ آخری سانس تک لڑنے والا ہے، ہم تمہارا مقابلہ کرکے دکھائیں گے۔ جمعرات کو یہاں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں آج میر پور ایک خاص وجہ سے آیا ہوں، مقبوضہ کشمیر میں ہمارے 80 لاکھ بہنوں، بچوں، بزرگ، نوجوان جس مشکل ترین امتحان سے گزر رہے ہیں، آج کے جلسے کا مقصد ان کو پیغام دینا ہے کہ سارا پاکستان مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوںنے کہاکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے مقبول عمل مشکل وقت میں صبر کرنا ہے اور میں کشمیر کی عوام کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ کے لیے اچھا وقت آنے والا ہے۔عمران خان نے کہاکہ مودی نے چھ مہینے پہلے جو حماقت کی اور تکبر میں 5 اگست کو جو قدم اٹھایا، اس نے تکبر میں وہ غلطی کی جس کے بعد اللہ پر ایمان رکھ کر پیشن گوئی کرتا ہوں کہ اب کشمیر آزاد ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پانچ اگست سے پہلے دنیا کشمیر کو بھول چکی تھی، کوئی کشمیر کا نام نہیں لیتا تھا، پاکستان کے سربراہ بھی اس کا نام نہیں لیتے تھے لیکن ان 6 مہینوں میں آج کشمیر دنیا کے سامنے آگیا، اس سے پہلے ہندوستان 50 سال پوری کوشش کرگیا کہ کشمیر انٹرنیشنلائز نہیں ہوگا، بھارت ہمیشہ کہتا تھا کہ یہ دونوں ممالک کا آپس کا مسئلہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مودی نے سارے الیکشن میں پاکستان کو برا بھلا کہا، بالاکوٹ میں ہمارے درخت شہید کیے اور کہا کہ پاکستان میں 350 دہشت گرد ماردیئے اور دو جہاز گرادیے، مجھے تو تکلیف ہوتی ہے کہ کوئی درخت گرائے۔وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بڑی مونچھوں والا پائلٹ گرا ہم نے وہ بھی دے دیا، ساری الیکشن مہم میں مودی نے انتہا پسند آر ایس ایس کی نفرتوں کو بڑھاوا دیا، پاکستان پر امن ملک ہے پاکستان آج وہ ملک ہے جو دنیا کے مسئلے حل کرتا ہے، ہم نے پوری کوشش کی کہ ایران اور سعودیہ میں لڑائی نہ ہو، کوشش کی کہ ٹینشن کم ہو۔عمران خان نے کہا کہ 1965 کے بعد پہلی مرتبہ صرف 6 ماہ میں کشمیر تین مرتبہ جنرل اسمبلی میں اجاگر ہوا، یورپی یونین کے اراکین نے بھی کشمیر پر آواز اٹھائی جو کبھی نہیں ہوا، اب دنیا کشمیر کے حالات جان گئی ہے، دنیا آج کشمیر سے کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کررہی ہے، کشمیر کا بہت اچھا وقت نظر آرہا ہے، اب کرفیو زیادہ دیر تک نہیں رہ سکے گا، کشمیر سے جس دن کرفیو اٹھے گا، انسانوں کا سمندر نکلے گا، ایک ہی آواز آئے گی اور آزادی کی آواز آئے گی، اس کے بعد مودی کے پاس کوئی اور پتہ کھیلنے کے لیے نہیں رہے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ مودی نے جو بیان دیا کہ 11 دنوں میں پاکستان کو فتح کرلوں گا، لگتا ہے کہ مودی نے دنیا کی تاریخ نہیں پڑھی، لگتا ہے آپ کی ڈگری جعلی ہے، مودی نے جو تکبر بھرا بیان دیا کوئی انہیں دنیا کی تاریخ بتائے، دنیا کی طاقتور فوج 19 سال سے افغانستان میں ہے ان کے بھی جرنیلوں نے کہا تھا چند دنوں میں افغانستان کو فتح کرلیں گے۔انہوں نے کہا کہ مودی اور ان کے کمانڈر اِنچیف کو پیغام دیتا ہوں کہ آپ پانچ اگست کو ایک حماقت کر بیٹھے ہیں اور اگر اب یہ غلطی کی تو یاد رکھنا کروڑوں پاکستانی اور بچہ بچہ آخری سانس تک لڑنے والا ہے، ہم تمہارا مقابلہ کرکے دکھائیں گے، ہماری فوج منجھی ہوئی ہے، دنیا کی بڑی بڑی فوجیں وہ جنگ نہیں جیت سکیں جو ہماری فوج نے جیتی، اس لیے مودی اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ پاکستان میں ایکشن لے کر ہندوتوا کو اوپر لائیں گے، اگر آپ نے یہ کیا تو یہ آپ کی آخری غلطی ہوگی۔وزیراعظم نے کہاکہ ہماری دعائیں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، دنیا کو ہر جگہ بتائیں گے کہ کشمیریوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے، کشمیر کے لوگوں کو کسی قسم کی مدد چاہیے ہو سب آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ ایک منصوبہ انسان بناتا ہے اور ایک اللہ بناتا ہے اور کامیاب خدا کا منصوبہ ہی کامیاب ہوتا ہے اور مودی کا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں آپ کا سفیر بنوں گا، میں یہاں وزیر اعظم پاکستان نہیں کشمیر کا سفیر بن کر کھڑا ہوں۔انہوں نے کہا کہ مودی اس قوم کو للکار رہا ہے ہو جو شہادت سے کبھی نہیں گھبراتی۔انہوں نے کشمیر کی 80 لاکھ عوام کو پیغام دیا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی عوام دعاگو ہیں کہ اللہ آپ کو ہمت دے اور جب بھی کشمیریوں کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہوگی ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔آخر میں انہوں نے کشمیر اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان کا پرچم میرپور میں لہرایا جارہا ہے، یہ علامت ہے کہ پاکستان کا ہر شہر، ہر شہری، ہر ادارہ، ہر سیاسی جماعت کشمیریوں کے ساتھ کل بھی تھی، آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔انہوںنے کہاکہ اس کے ساتھ جو کشمیر کا پرچم جو اس پنڈال میں لہرا رہا ہے اسے مزید اونچا کرکے کر نریندر مودی کو پیغام دے دو کہ کیا وہ تمہارا پرچم جھکا تو سکتا ہے، کیا وہ نقشے پر لکیر کھینچ کر دلوں کو جدا کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا لہو، ان کی تاریخ گواہ ہے انہوں نے کبھی جھکنا نہیں سیکھا۔انہوںنے کہاکہ عمران خان نے خود سے ایک فیصلہ کیا ہے کہ جب تک کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی لڑائی جاری ہے، مودی کتنی بھی پابندیاں لگالے، میں بطور سفیر کشمیریوں کا مقدمہ لڑتا رہوں گا۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام خود دار لوگ ہیں یہ نریندر مودی کی سنگینیوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔انہوںنے کہاکہ نریندر مودی سمجھتا ہے کہ وہ ظلم اور بربریت سے کشمیریوں کے حوصلے پست کردے گا، آج یکجہتی کی یہ آواز پورے مقبوضہ کشمیر میں گونج اٹھی ہے کہ ہر کشمیری، ہر پاکستانی آپ کی اس جدو جہد میں ساتھ کھڑا ہے اور ساتھ کھڑا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دفتر خارجہ ہر موڑ پر، ہر فورم پر، ہر چوراہے پر کشمیریوں کی وکالت کرتا رہے گا۔ انہوںنے کہاکہ74 سال بعد کشمیریوں کا مسئلہ جو سرد خانے میں پڑا تھا اسے عمران خان کی حکومت دوبارہ سلامتی کونسل میں واپس لائی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کوئی پاکستانی کشمیریوں کے ساتھ بے وفائی نہیں کرے گا، آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور جب تک آپ کو حق خود ارادیت نہیں دلائیں گے آپ کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔وفاقی وزیر برائے کشمیر امور علی امین گنڈا پور نے بھارتی وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی عقل کے ناخن لو اگر ہم نے کشتیاں جلادیں تو دہلی کے دروازے پر جھنڈے گاڑ دیں گے۔وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر کے لیے جس طرح آواز بلند کی اس کی کوئی مثال نہیں۔انہوں نے کہا کہ مودی سمجھ جاو¿ اس بات کو جذبے اور تلوار کی جنگ میں جیت جذبے کی ہوتی ہے۔اس موقع پر وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ پاکستان پر بری نظر رکھنے والے بھارت کو شکست دینے کے لیے ہمیں یکجہتی کی ضرورت ہے، ریاست کشمیر کی ایک ہی آواز ہے رائے شماری۔انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کا 5 اگست کے بعد مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر دوبارہ اجاگر کرنے پر شکریہ ادا کیا۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کے تمام ادارے کشمیر کے پیچھے کھڑے ہیں، ہمیں پاکستان کی عوام، اس کی قیادت پر اطمینان رکھنا چاہیے کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔

کورونا وائرس کا خوف: ہیکروں نے حملے تیز کردیئے

(ویب ڈسک )سلیکان ویلی: چین میں پھیلنے والے ناول کورونا وائرس، المعروف ”ووہان وائرس“ اگرچہ تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن وائرس سے کہیں زیادہ اس کا خوف پھیلایا جارہا ہے جس میں سوشل میڈیا کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ اب اسی خوف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہیکروں نے انٹرنیٹ صارفین کے کمپیوٹروں اور اسمارٹ فونز کو ہیک کرنا اور انہیں نقصان پہنچانا شروع کردیا ہے۔دنیا بھر میں وائرس حملوں پر نظر رکھنے والے دو بڑے اداروں ”آئی بی ایم ایکس فورس“ اور ”کیسپرسکی“ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی موجودہ وبائی صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہیکروں نے بھی انٹرنیٹ صارفین کو جعلی ای میل پیغامات بھیجنا تیز کردیئے ہیں جو بظاہر کسی اہم سرکاری ادارے کی طرف سے ہوتے ہیں۔ایسے کسی بھی پیغام کے ابتدائی حصے میں کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کا بڑھا چڑھا کر تذکرہ کیا جاتا ہے، جس کے بعد ای میل وصول کرنے والے صارف سے کہا جاتا ہے کہ وہ مزید معلومات کےلیے میل کے ساتھ منسلک فائل (اٹیچمنٹ) پر کلک کریں… اور جیسے ہی صارف اس اٹیچمنٹ پر کلک کرتا ہے، اس کے کمپیوٹر میں ایک نقصان دہ سافٹ ویئر ڈاو¿ن لوڈ ہونا شروع ہوجاتا ہے۔یہ سافٹ ویئر اس صارف کی ای میل آئی ڈی اور پاس ورڈ چوری کرنے کے علاوہ کوئی اور خطرناک پروگرام بھی انسٹال کرسکتا ہے؛ اور ممکنہ طور پر اس کمپیوٹر یا اسمارٹ فون کو د±ور بیٹھے کسی ہیکر کا غلام بھی بنا سکتا ہے۔ہیکروں کے ایسے حملے حالیہ دنوں میں جاپان میں واضح طور پر زیادہ دیکھے گئے ہیں۔ ان حملوں سے بچنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ای میل کے ساتھ منسلک کسی بھی اٹیچمنٹ پر کلک نہ کیا جائے۔غلط اور خوفزدہ کردینے والی معلومات کا سہارا لے کر صارفین کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کرنا اور شکار بنانا کوئی نئی بات ہر گز نہیں۔ انٹرنیٹ پر یہ سلسلہ آج کم و بیش 25 سال پرانا ہوچکا ہے، یعنی تب سے جاری ہے کہ جب سے انٹرنیٹ عام ہونا شروع ہوا ہے۔آئی بی ایم سے وابستہ سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، ”اس طرح کے واقعات ہم ماضی میں کئی بار دیکھ چکے ہیں اور اب ہمیں ان حملوں کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے جس میں چین سے پھیلنے والی کورونا وائرس کی وبا کو بطور محرک استعمال کیا جارہا ہے۔“ان حملوں سے بچنے کےلیے ماہرین کا مشورہ بہت سادہ اور آسان ہے: اِدھر ا±دھر سے ملنے والی ہر طرح کی معلومات پر بھروسہ نہ کیجیے بلکہ بہتر ہے کہ انٹرنیٹ پر خود یہ معلومات تلاش کیجیے۔ اگر ای میل میں آپ سے کسی فائل پر کلک کرنے کےلیے کہا جائے تو ہر گز کلک نہ کیجیے۔ بہتر یہی ہے کہ اپنے کمپیوٹر اور اسمارٹ فون، دونوں کو کسی اچھے اینٹی وائرس سافٹ ویئر سے لیس رکھیے۔غرض عمومی نوعیت کی احتیاطی تدابیر اختیار کرکے آپ اپنے کمپیوٹر اور اسمارٹ فون کو ہیکروں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ان حملوں میں ہمارے لیے ایک سبق یہ بھی ہے کہ بوکھلاہٹ ایک اچھے خاصے سمجھدار انسان سے بھی احمقانہ حرکتیں کروا سکتی ہے۔

جاپانی طالبہ نے ربربینڈ سے بنے ملبوسات تیار کرلیے

( ویب ڈسک )ٹوکیو: کچھ لوگ عام ڈگر سے اتنا ہٹ کر سوچتے ہیں کہ دوسرے انہیں پاگل سمجھ بیٹھتے ہیں۔ شاید یہی معاملہ ’تاما آرٹ یونیورسٹی‘ ٹوکیو سے گریجویشن کرنے والی طالبہ رائی ساکاموتو کا ہے، جنہوں نے فیشن ڈیزائننگ میں اپنا ہنر منوانے کےلیے ربربینڈ سے بنے ملبوسات ایجاد کرلیے ہیں، جنہیں پہنا بھی جاسکتا ہے۔جی ہاں! یہ وہی ربربینڈ ہیں جو گھروں، دفتروں اور ہوٹلوں میں عام استعمال ہوتے ہیں جنہیں ساکاموتو نے آپس میں بڑی خوبی اور مہارت سے جوڑ کر شال، اسکرٹ اور جیکٹ وغیرہ جیسے ملبوسات میں تبدیل کیا ہے۔دور سے دیکھنے پر یوں لگتا ہے جیسے یہ اون سے بنے لباس ہوں لیکن انہیں چھونے پر معلوم ہوتا ہے کہ دراصل انہیں ربربینڈ سے بنایا گیا ہےگزشتہ مہینے تاما آرٹ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرنے والے طالب علموں کے بنائے ہوئے فن پاروں کی نمائش میں جب ربربینڈ سے بنے ہوئے یہ ملبوسات رکھے گئے تو لوگوں کی بڑی تعداد ان کی طرف متوجہ ہوئی

نمکین ماسک کورونا وائرس کو ختم کرسکتے ہیں

:
(ویب ڈسک )کینیڈا کے ایک سائنسدان کا دعویٰ ہے کہ محض سادہ ماسک پہننے سے کورونا وائرس کو روکنا محال ہے لیکن اسی ماسک پر عام نمک کی ایک پرت لگا کر کورونا وائرس کو مو¿ثر انداز میں ہلاک کیا جاسکتا ہے۔یونیورسٹی آف البرٹا میں بایو میڈیکل انجینئر پروفیسر ہیو جِک چوئی کہ کورونا وائرس روکنے کے لیے جو سرجیکل ماسک استعمال ہوتے ہیں ان میں دو طرح کی خامیاں ہیں، اول یہ کہ وہ ہوا میں تیرتے ہوئے مائع کے بڑے قطرے ہی روک سکتے ہیں، کورونا وائرس اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ وہ مائع کے انتہائی باریک قطروں میں رہتے ہوئے ناک اور پھر سانس تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کا ایک اور حل این 95 اور این 99 قسم کے ماسک مہنگے ہوتے ہیں جنہیں زیادہ دیر تک پہنا نہیں جاسکتا۔دوسری جانب ماسک کے سوراخوں میں بھی وائرس پھنس جاتے ہیں اور بار بار ماسک اتارنے اور پہننے سے انگلیوں اور ہاتھوں پر وائرس چپک سکتے ہیں۔ اس لیے وائرس کوختم کرنے والے ایک ماسک کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔ اس کا کم خرچ اور آسان حل نمک والے ماسک کی صورت میں سامنے آیا ہے۔حل کے طور پر پروفیسر ہیو جِک چوئی نے روایتی ماسک پر نمک کی ایک پرت لگائی ہے جو پانی کے قطروں کو جذب کرلیتی ہے۔ دوسری جانب وائرس اس سے ٹکراتے ہیں فنا ہوجاتا ہے جس کے لیے انہوں نے سوڈیئم کلورائیڈ اور پوٹاشیئم کلورائیڈ جیسے عام نمک پر مشتمل ایک پرت تیار کی ہے۔پروفیسر ہیو نے بتایا کہ ’ ہم نے نمکین ماسک تین اقسام کے فلو وائرس پر آزمایا اور صرف 30 منٹ میں نمک کی تہہ نے اکثر وائرس کو ختم کرڈالا‘۔ اگرچہ اسے نئے کورونا وائرس پر نہیں آزمایا گیا لیکن توقع ہے کہ انفلوئینزا کے باقی وائرس کی طرح یہ کورونا وائرس کو بھی تباہ کرسکتا ہے۔اب یونیورسٹی نے بتایا ہے کہ کاروباری شریک ملنے کی صورت میں ایک سے ڈیڑھ برس میں یہ ماسک بڑے پیمانے پر مارکیٹ میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ تب تک سائنسدانوں کا مشورہ ہے کہ ماسک پہنتے اور اتارتے وقت ہر مرتبہ وہ اپنے ہاتھ اور چہرے کو اچھی طرح دھوئیں اور اگر ممکن ہو تو تھوڑے تھوڑے دن بعد ماسک تبدیل کرلیں اور پہلے ماسک کو اچھی طرح تلف کریں۔واضح ہے کہ پروفیسر ہیو ایک عرصے سے وائرس اور مختلف ماسک پر تحقیق کررہے ہیں۔ انہوں نے 2017ءمیں تجویز کیا تھا کہ دروازے کھولنے کے دستوں اور سیڑھیوں کی سہارا دینے والی ریلنگ پر نمک کا لیپ کرکے انفیکشن کو بہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

کھال کے خلیوں سے دھاگوں اور ’’انسانی ٹیکسٹائل‘‘ کی تیاری

(ویب ڈسک )پیرس: ٹشو انجینئرنگ کے میدان میں ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے فرنچ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ میڈیکل ریسرچ، بورڈیاکس کے ماہرین کی ایک ٹیم نے انسانی کھال کے خلیوں سے اونی ریشے (یارن) تیار کرلیے ہیں جنہیں انہوں نے ”انسانی ٹیکسٹائل“ کا نام دیا ہے۔ انہیں امید ہے کہ انسانی ٹیکسٹائل کو زخم بند کرنے اور زندہ کھال پر مشتمل پیوند تیار کرنے میں کامیابی سے استعمال کیا جاسکے گا۔ریسرچ جرنل ”ایکٹا بایومیٹیریالیا“ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں ان سائنسدانوں نے انسانی ٹیکسٹائل کو ٹشو انجینئرنگ سے تیار کردہ مصنوعات کی نئی نسل قرار دیتے ہوئے اسے انسانی جسم کےلیے ہر لحاظ سے موزوں ترین قرار دیا ہے۔انسانی خلیوں سے تیار کردہ ریشے اور ٹیکسٹائل کا اہم ترین فائدہ یہ ہے کہ اس سے انسانی مدافعتی نظام میں کوئی مزاحمتی ردِعمل بھی پیدا نہیں ہوتا، جو بصورتِ دیگر زخموں کی صحت یابی میں مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ان ریشوں کی تیاری کےلیے پہلے مرحلے میں انسانی کھال کے خلیوں کو ایک پتلی چادر کی شکل دی جاتی ہے جس میں سے باریک باریک ریشے کاٹ لیے جاتے ہیں۔ پھر انہیں دھاگے کی طرح استعمال کرلیا جاتا ہے یا پھر ضرورت کے مطابق کوئی شکل دے دی جاتی ہے۔’ہم اس (انسانی ریشے) سے تھیلیاں، لچک دار نلکیاں، والو اور سوراخ دار جھلیاں بنا سکتے ہیں،“ اس تحقیق کے مرکزی سائنسداں نکولاس لے ہیوریوکس نے کہا، ”دھاگے سے آپ پارچہ بافی کا کوئی بھی کام لے سکتے ہیں: ب±نائی، سلائی اور کپڑا سازی تک۔“ابتدائی تجربات میں اس خصوصی ریشے کو چوہوں کے زخموں کی سلائی میں استعمال کیا گیا، جو دو ہفتوں میں مکمل طور پر بھر گئے۔ علاوہ ازیں، اسی ریشے سے انہوں نے خاص طرح کی مشین پر کھال کا پیوند تیار کیا جس سے ایک بھیڑ کی کٹی ہوئی رگ کو کامیابی سے بند کیا گیا۔واضح رہے کہ یہ وہی فرانسیسی ماہرین ہیں جنہوں نے کچھ عرصہ قبل زندہ خلیوں پر مشتمل حیاتی مادّے (بایومٹیریل) کی پتلی چادریں تیار کی تھیں جنہیں لپیٹ کر خون کی مصنوعی نالیوں کی شکل دی گئی تھی۔

شریف فیملی فلموں میں ہوتی توہرفرد بڑے بڑے ایوارڈ جیت چکا ہوتا، فواد چوہدری

(ویب ڈسک )وفاقی وزیربرائے سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ شریف فیملی فلموں میں ہوتی توہرفردایکٹنگ کے بڑے بڑے ایوارڈ جیت چکا ہوتا۔وفاقی وزیربرائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا مزید کہنا ہے کہ دادا شریف نے بچوں کو سیاست میں لا کر بڑا ٹیلنٹ ضائع کیا، شریف فیملی آج فلموں میں ہوتی توہرفردایکٹنگ کے بڑے بڑے ایوارڈ جیت چکا ہوتا۔گزشتہ روزبھی فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ اس ماحول میں مریم نواز کا باہر جانا احتساب کے بیانیے کے تابوت میں آخری کیل ہوگی، اگر مریم نواز پلی بارگین کے بغیر باہر جاتی ہیں تو پاکستان میں جیلوں کے دروازے کھول دینے چاہیئں۔

بچے سے بدفعلی کے الزام میں نوجوان امام مسجد کے خلاف مقدمہ درج

(ویب ڈسک )گجرات: پولیس نے بچے سے بدفعلی کے الزام میں نوجوان امام مسجد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔پنجاب کے شہر جلالپور جٹاں میں بچے کے ساتھ مبینہ طور پر بدفعلی کی کوشش کے الزام میں مقامی افراد نے اپنی عدالت لگالی۔ مشتعل افراد نے قاری صبغت اللہ کے سر کے بال، مونچھیں اور داڑھی مونڈ کر سیاہی سے منہ کالا کر ڈالا۔مقامی افراد صبغت اللہ کا منہ کالا کر کے علاقے میں گھماتے رہے۔ صبغت کی سر عام تشدد کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔مقامی افراد نے صبغت اللہ پر 2 کمسن بچوں سے زیادتی کا الزام لگایا ہے اور مقدمہ بھی درج کرادیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزم نے 8 سالہ بچے کو کھیتوں میں لیجا کر زیادتی کی کوشش کی تو اس نے شور مچا دیا جس پر اہل محلہ اکھٹے ہو گئے اور قاری صبغت کی درگت بنا ڈالی۔پولیس کے مطابق ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اس کی گرفتاری کے لیے کارروائی کررہے ہیں۔ بچوں اور ملزم کا طبی معائنے کرایا گیا ہے جس کے بعد اصل حقیقت سامنے آئے گی۔

پابندی کے باجود گندم اور آٹے کی برآمد معمہ بن گئی

(ویب ڈسک )جولائی میں عائد کردہ پابندی کے باجود اکتوبر کے اختتام تک ا?ٹے اور گندم کی برآمدات ایک معما بنی ہوئی ہے اور متعلقہ وزارتیں اس بارے میں کوئی وضاحت دینے سے گریزاں ہیں۔کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے گزشتہ برس جون میں اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ ملک میں آٹے اور گندم کی فراہمی میں کمی ہوجائے گی لیکن اس مسئلے کو پس پشت ڈالتے ہوئے نہ تو اس کی برآمد رکی اور نہ ہی آٹے سے دیگر اشیا مثلاً سوجی اور میدہ تیار کرنے کا سلسلہ رکا۔ جولائی کے اواخر سے نومبر کے پہلے ہفتے تک وزارت تحفظ خوراک اور وزارت تجارت کی جانب سے ان اشیا کی برآمدات روکنے کے متعدد نوٹیفکیشن جاری کیے گئے لیکن کسی حد تک انہیں پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) کے مرتب کردہ اعداد و شمار میں رپورٹ کیا گیا۔مقامی منڈیوں میں آٹے اور گندم کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ای سی سی نے 17 جولائی 2019 کو گندم اور آٹے کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے عمل میں مزید 13 دن لگ گئے اور 30 جولائی کو نوٹیفکیشن جاری ہوا۔اس کے ایک ہفتے بعد وزارت تحفظ خوراک نے ایک وضاحت جاری کی کہ گندم سے تیار کی جانے والی دیگر اشیا مثلاً فائن آٹا، میدہ اور سوجی اس پابندی سے مستثنٰی ہیں، پابندی سے اس استثنٰی اور نرمی نے ان اشیا کی برآمد کی راہ ہموار کردی۔پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2019 میں 2 ہزار 60 ٹن گندم جبکہ اکتوبر میں ایک ہزار 887 ٹن گندم برآمد کی گئی تاہم اگست میں گندم کی کوئی برآمد نہیں ہوئی۔دوسری جانب پاکستان سے جون اور جولائی میں میں 89 ہزار 237 ٹن گندم برآمد کی گئی تاہم پی بی ایس کی ویب سائٹ پر دیے گئے اعداد و شمار میں آٹے اور گندم کی برآمد کو علیحدہ علیحدہ ظاہر نہیں کیا گیا۔جولائی میں 53 ہزار 393 ٹن، اگست میں ایک ہزار 179 ٹن، ستمبر میں ایک ہزار 36 ٹن اور اکتوبر میں 23 ہزار 991 ٹن آٹا برآمد کیا گیا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے محکمہ کسٹم نے اس بات کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے کہ پابندی کے باوجود یہ اشیا کس طرح برآمد کی گئیں۔اس ضمن میں سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وزارت تجارت نے یہ معاملہ ایف بی آر کے ساتھ اٹھایا تھا لیکن ادارہ وزارت کو برآمدات کے اعداد و شمار فراہم کرنے سے گریزاں تھا جس میں کچھ ’خصوصی کمپنیاں‘ ملوث ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ محکمہ کسٹم پابندی کے باوجود گندم براامد کرنے والی کمپنیوں کی تفصیلات دینے کے لیے تیار نہیں تاہم شاید یہ معلومات وزیراعظم سیکریٹریٹ کو فراہم کردی گئی ہیںجولائی سے اکتوبر تک جاری رہنے والی یہ برآمدات انڈونیشیا، سری لنکا اور افغانستان کو کی گئیں۔محکمہ کسٹم کے پاس گندم کی دیگر اشیا مثلاً فائن آٹا، میدہ اور سوجی کی برآمدات کے اعداد و شمار موجود ہیں تاہم وہ کسی کو فراہم نہیں کیے گئے جبکہ پی بی ایس کے اعداد و شمار میں ان اشیا کی برآمدات کو علیحدہ علیحدہ نہیں درج کیا گیا۔دوسری جانب محکمہ تحفظ نباتات (ڈی پی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2019 سے 19 اکتوبر 2019 تک جب وزارت تحفظ خوراک نے برآمد کرنے کی اجازت دی تو 5 ہزار 928 ٹن میدہ برآمد کیا گیا جبکہ ستمبر سے اکتوبر کے درمیان سوجی کی برآمدات 92 ٹن ریکارڈ کی گئی۔ڈی پی پی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے گندم کی ڈالیاں، پراٹھے اور سویاں بھی برآمد کیں۔جنوری 2019 سے جنوری 2020 تک 2 لاکھ 47 ہزار 366 ٹن گندم کی ڈالیاں، ایک ہزار 571 ٹن پراٹھے اور 4 ہزار 233 ٹن سویاں برآمد کی گئیں، واضح رہے کہ ان اشیا کی برآمدات پر پابندی نہیں ہے۔

آئل ٹینکر اغوا اور تیل چوری کے الزام میں جمشید دستی گرفتار

(ویب ڈسک )سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو آئل ٹینکر کے عملے کو اغوا اور تیل چوری کرنے کے الزام میں ملتان سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔جمشید دستی جمعرات کو مقدمے میں ضمانت کے لیے ہائی کورٹ جا رہے تھے کہ ملتان پولیس نے ہائی کورٹ کے قریب کینٹ کے علاقے سے انہیں گرفتار کر لیا۔مقدمے میں نامزد جمشید دستی کے ساتھیوں چند دن قبل گرفتار کیا گیا تھا اور اب انہیں بھی گرفتار کرنے کے بعد مظفرگڑھ منتقل کردیا گیا ہے۔
مقدمے میں جمشید دستی کے 2سابقہ گن مین، پولیس اہلکار اور 5دیگر ساتھی بھی نامزد ہیں۔ مظفرگڑھ کی چوک قریشی پولیس نے نے سابق رکن اسمبلی جمشید دستی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف آئل ٹینکرز کے ڈرائیور اور ہیلپر کے اغوا اور لاکھوں روپے مالیت تیل چوری کرنے کا مقدمہ درج کیا تھا۔پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 395، 365، 170 اور 171 کے تحت جمشید دستی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے تین افراد کو گرفتار کیا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق 24دسمبر کی رات ڈیرہ غازی خان سے ملتان جانے والے آئل ٹینکر کو پولیس وین نے مظفرگڑھ کے قریب روکا۔ٹینکر روکنے کے بعد ایلیٹ فورس کی وردی میں ملبوس افراد ڈرائیور اور ہیلپر سمیت ٹینکر کو نامعلوم مقام پر لے گئے جہاں دونوں افراد کو باندھنے کے بعد 40لاکھ روپے مالیت کے تیل کو دوسرے ٹینکر میں منتقل کردیا گیا۔ملزمان نے ڈرائیور اور ہیلپر کو دو دن تک حبس بے جا میں رکھا جس کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔واقعے کے تین دن بعد آئل ٹینکر کے مالک ڈرائیور کے ہمراہ ضلعی پولیس کے افسر ندیم عباس کے پاس پہنچے اور انہیں واقعے سے آگاہ کیا۔ڈی پی او نے شہر کے ڈی ایس پی عظمت گرومانی کی زیر سربراہی ایک ٹیم تشکیل دی جس نے تحقیقات کے بعد ایلیٹ فورس کے اہلکار فرخ شہزاد کو گرفتار کیا جس نے اقبال جرم کر لیا۔تحقیقات کے دوران مشتبہ ملزم نے پولیس کو بتایا کہ سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی اور ان کے ساتھی اس جرم میں ایک عرصے سے مصروف ہیں۔

تحریک انصاف میں موجود چور اور ڈاکو حکومت کو لے ڈوبیں گے، خواجہ آصف

(ویب ڈسک )مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر کمیٹی کے قیام اور ذمے داران کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا کہ تحریک انصاف کی صفوں میں موجود چور اور ڈاکو انہیں لے ڈوبیں گے۔قومی اسمبلی کے جمعرات کو منعقد ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے کورونا وائرس پر چین میں پھنسے پاکستانیوں کے حوالے سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک نے چین سے اپنے شہریوں کو نکال لیا ہے اور کچھ ملکوں نے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے خصوصی طور پر طیارے بھی بھیجے ہیں لیکن ہمارے بچے وہاں کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چینی حکومت بیمار بچوں کی بھرپور دیکھ بھال کر رہی ہے لیکن یہاں ان بچوں کے والدین بہت مضطرب میں ہیں اور میڈیکل ٹیسٹ کرانے کے بعد جو لوگ وائرس سے متاثر نہیں ہیں انہیں پاکستان لے آنا چاہیے تاکہ ان کے اہلخانہ کا اضطراب کم ہو سکے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے شہریوں کو بے سروسامانی کی حالت میں نہیں چھوڑنا چاہیے، یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ انہیں حوصلہ دے کہ ہم انہیں وہاں سے نکال رہے ہیں کیونکہ اگر باقی ممالک وہاں سے اپنے لوگوں کو نکال سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں نکال سکتے۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پنجاب سے پشاور اور پھر جلال آباد آٹا بڑی تعداد میں جانے سے ٹرالر کا کرائے کا ریٹ 25 ہزار روپے بڑھ گیا ہے، اسے وہاں ذخیرہ کیا جا رہا ہے اور ہمارے ملک میں لوگ آٹے کو ترس رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے خود کہا کہ مجھے مافیا نے گھیرا ہوا ہے، جو بھی مافیا آٹے، چینی، مہنگائی اور بھوک کے ذریعے لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ان کو سامنے لایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘وزیر اعظم کو چور ڈاکو صرف ہماری صف میں نظر آتے ہیں، باقی ان کے ساتھ موجود سارے لوگ دودھ کے نہائے ہوئے ہیں؟، 45 فیصد چینی کی پیداوار پی ٹی آئی کی صفوں میں موجود لوگوں کے ذریعے ہوتی ہے، زرداری، نواز شریف اور شہباز شریف کی ملیں تو بند ہیں، اس مہنگائی سے کون پیسہ کما رہا ہے؟’خواجہ آصف نے کہا کہ چیزیں کون مہنگی کر رہا ہے یہ معلوم ہونا پاکستان کے عوام کا حق ہے، کون لوگ انہیں لوٹ رہے ہیں، کون لوگ حکومت کی چھتری کے نیچے بیٹھ کر اربوں روپے بنا رہے ہیں، شاہ زیب خانزادہ نے مہنگائی کے سب سے بڑے ڈان کو بے نقاب کیا لیکن ان کو کوئی نہیں پوچھتا۔قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ یہ دیکھنا چاہیے کہ گزشتہ 6ماہ کے دوران آٹے اور چینی کی قیمتیں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہیں اور اس سلسلے میں ایوان کو بااختیار بناتے ہوئے ایک کمیٹی بنائی جائے تاکہ وہ اس بات کی تحقیقات کرے کہ پاکستانی عوام کو کون لوٹ رہا ہے۔اس موقع پر انہوں نے اپوزیشن کی صفوں سے آصف علی زرداری، شاہد خاقان عباسی اور دیگر رہنماو¿ں کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا کہ یہ پھندا سیاستدانوں خصوصاً حکمرانوں کے گلے میں بھی پڑے گا، آج اگر ہماری باری ہے تو کل باری آپ کی بھی آئے گی۔ان کا کہنا تھا کہ 72سالوں میں عوام سے بڑی بڑی زیادتیاں ہوئی ہیں جس کی حکمران اشرافیہ ذمے دار ہے لیکن لوگوں کو چور کہنا اور اپنے بغل میں چور لے کر بیٹھے رہنا، یہ کیا سلسلہ ہے، لوگ چوروں کے چہرے شناخت کر گئے ہیں اور آپ کی پارٹی کی صفوں میں موجود ڈاکو اور چور آپ کو لے بیٹھیں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کی سرپرستی میں اربوں اور کھربوں روپے چوری کرنے والوں کا احتساب کیا جائے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو عوام سب کا احتساب کریں گے۔اسمبلی کے اجلاس کے دوران فوجداری قوانین بل 2020 قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جس میں قبرستانوں میں جادو ٹونے کے لیے انسانی ہڈیاں نکالے جانے پر سزا بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا۔مسلم لیگ (ن) کے رکن چوہدری فقیر احمد نے نجی بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ قبرستانوں سے بچیوں کی میتیں نکال کر ان کے ساتھ ریپ کے واقعات سامنے آتے ہیں اور مردہ بچیوں کے ساتھ زیادتی کی سزا زیادہ سے زیادہ ایک سال ہے۔چوہدری فقیر احمد نے بل میں مطالبہ کیا کہ اس سزا کو بڑھا کر کم از کم 7سال اور زیادہ سے زیادہ 10سال کی سزا تجویز کی جائے۔حکومت نے قبرستانوں میں مردوں کی توہین پر مسلم لیگ (ن) کے رکن کے بل کی حمایت کردی اور نجی بل قائمہ کمیٹی کو مزید غور کے لیے بھجوا دیا گیا۔فوجداری قوانین بل 2020 میں ترمیم کے لیے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے بل پیش کردیا جس میں رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ نے کہا کہ فوجداری قوانین 1860کے ہیں اور 160سال پرانے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے افسران نے غریبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا لہٰذا اس سلسلے میں عمر قید یا 10 سال قید کی سزا دی جائے جبکہ ترمیم میں اضافہ کر کے غبن کی گئی رقم کا 10گنا وصول کیا جائے۔حکومت نے ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی کی جانب سے پیش کردہ اس بل کی حمایت کردی لیکن پیپلز پارٹی کے رکن عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ نئے قوانین بنانے سے بہتر ہے پہلے سے موجود قوانین پر عمل کیا جائے۔حکومت نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے دورہ پاکستان کے پیش نظر 14فروری کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے جس سے ترک صدر بھی خطاب کریں گے۔

ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک ناکام، تمام الزامات سے بری

(ویب ڈسک )واشنگٹن: امریکی سینیٹ میں صدرڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک ناکام ہوگئی ہے اورانہیں لگائے گئے تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی سینیٹ نے دونوں الزامات، اختیارات کے غلط استعمال اورکانگریس کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے، سے بری کردیا جس کے بعد ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک اختتام پذیر ہوگئی۔: ٹرمپ نے اپنے مواخذے کی کارروائی کوبغاوت قراردے دیابرطانوی میڈیا کے مطابق طاقت کے اختیارات کے غلط استعمال کے الزام کی حمایت میں 48 جبکہ مخالفت میں 52 ووٹ پڑے جبکہ ایوانِ نمائندگان کے کام میں مداخلت کرنے کے الزام کی حمایت میں 47 جبکہ مخالفت میں 53 ووٹ آئے۔اس سے قبل دوامریکی صدوراینڈریوجانسن اوربل کلنٹن کو بھی مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔دوسری جانب مواخذے کی ناکامی پر ٹرمپ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ مواخذے کے خلاف اس فتح پر کل بیان جاری کروں گا۔واضح رہے کہ امریکی صدرنے اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو بغاوت قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ مواخذے کا عمل امریکی تاریخ کی خطرناک ترین کارروائی ہے۔