گلابی پاکستانی نمک کی بھارت میں پیکنگ ، یورپ میں مہنگا فروخت

اسلام آبادوقائع نگار خصوصی)وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے سماجی ربطے کی ویب سائٹس ٹوئیٹر پر پاکستان کے گلابی نمک کی بھارتی میں پیکنگ کے بعد یورپ میں مہنگے داموں فروخت کے خلاف چلنے والی مہم پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے،سوشل یڈیا میں بھارت پر الزام ہے کہ وہ پاکستان سے دو روپے کلو نمک خرید کر یورپی منڈی میں پچیس یورو کا فروخت کرتاہے ،فواد چودھری کہتے ہیں اگرچہ یہ مبالغہ ا?رائی لگتی ہے تاہم تحقیقات کریں گے۔تفصیلات کے مطابق رواں سال فروری میں ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے بعد بھارت نے پاکستانی مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ کیا تو سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ کھیوڑہ کی کان سے نکلنے والے نمک کی بھارت کو برا?مد بند کی جائے کیونکہ بھارت پاکستان سے یہ نمک ایک سے 2 روپے فی کلو میں خرید کر یورپی ممالک میں 20 سے 25 پاونڈ فی کلو کے حساب سے فروخت کر رہا ہے۔اس حوالے سے مطالبہ زور پکڑنے پر گزشتہ روز اپنے ٹوئیٹر پیغام پر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بظاہر تو یہ مہم مبالغہ ا?رائی پر مبنی لگتی ہے لیکن وہ اس بارے میں حتمی رائے اسی وقت دیں گے جب انہیں حقائق کا علم ہوگا۔انہو ں نے بتایاکہ وہ اس معاملے کی حقیقت جاننے کیلئے ہی تحقیقات کا حکم دے چکے ہیں،چند روز میں یہ رپورٹ قوم کے سامنے لے ا?ئیں گے۔سوشل میڈیا پر بتایا جارہاہے کہ بھارت کھیوڑا پاکستان میں قائم نمک کی کانوں سے حاصل کردہ نمک دوسرے ملکوں کو اپنی مہر کے ساتھ بیچ بھی رہا ہے۔ پاکستانی نمک بھارت سے ہو کراسرائیل جاتا ہے جہاں سے اسے پیک کر کے پوری دنیا میں بیچا جاتا ہے جس سے بھارت اربوں روپے کما رہا ہے

سرفراز احمد کی بھارتی ٹیم کیخلاف جشن منانے کی درخواست مسترد

لاہور ( آن لائن ) ذرائع کے مطابق قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد بھارت کیخلاف میچ میں وکٹوں کے حصول پر مختلف انداز سے جشن منانا چاہتے تھے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے قومی کپتان سرفراز احمد کی درخواست مسترد کر دی گئی جو 16 جون کو مانچسٹر میں ورلڈ کپ میچ کے دوران بھارت کیخلاف وکٹوں کے حصول پر مختلف انداز سے جشن منانے کی خواہش رکھتے تھے تا کہ بھارتی ٹیم کو موثر جواب دیا جائے جس نے رواں برس مارچ میں آسٹریلیا کیخلاف رانچی میں فوجی کیپس پہن کر شرکت کی تھی۔ذرائع کے مطابق پی سی بی نے پاکستانی ٹیم کی جانب سے کی جانے والی حالیہ درخواست مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ان معاملات کے بجائے کرکٹ پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔ذرائع کے مطابق پی سی بی حکام نہیں چاہتے کہ پڑوسی ملک سے تعلقات مزید خراب ہوں جو حالیہ برسوں میں کافی کشیدہ رہے ہیں۔

آئی سی سی نے ٹویٹ میں ویرات کوہلی کوکرکٹ کا بادشاہ قرار دے دیا

دبئی (آئی این پی) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹویٹ میں ویرات کوہلی کو کرکٹ کا بادشاہ قرار دے دیا۔ آئی سی سی کا بھارت دوستی کا ایک اور منہ بولتا ثبوت سامنے آگیا۔ آئی سی سی نے ویرات کوہلی کی کرکٹ کے بادشاہ کے روپ میں تصویر جاری کر دی۔ تصویر سے واضح ہوتا ہے کہ آئی سی سی ویرات کوہلی کو کرکٹ کا بادشاہ قرار دے رہا ہو۔ تصویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہوتے ہی تبصروں کی بھرمار شروع ہوگئی۔ انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے آئی سی سی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی سی سی نے جانبداری کا مظاہرہ کیا۔ آئی سی سی نے مائیکل وان کے ٹویٹ کے جواب میں رینکنگ گراف لگاتے ہوئے کہا کہ ویرات کوہلی نمبر ون بلے باز ہیں۔ آئی سی سی اور مائیکل وان کے ٹویٹ پر سوشل میڈیا پر بھارتی شائقین مائیکل وان پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔

پاکستانیوں کے بیرون ملک 12 ارب ڈالر کے اثاثوں کا سراغ لگا لیا

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کے بیرون ملک 12 ارب ڈالرز کے اثاثوں کا پتاچلا لیا گیا ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شہزاد اکبر نے کہا کہ پاکستان کی گرے اکنامی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے حکومت ہرممکن اقدامات اٹھارہی ہے،ہمیں 26 ممالک سے ڈیڑھ لاکھ اکاونٹس کا ڈیٹا موصول ہو چکا ہے، پاکستانیوں کے بیرون ملک 12 ارب ڈالرزکے اثاثوں کا پتاچلا لیا گیا ہے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ بےنامی ایکٹ قانون کا نفاذ بہت ضروری ہے، جتنے بے نامی اثاثے ہوں گے انہیں ضبط کیا جائے گا، پاکستان نے برطانیہ کے ساتھ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے ہیں، جس سے دونوں ملک شہریوں کی بینکنگ معلومات کا تبادلہ کرسکیں گے۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ شہباز شریف کے دور حکومت میں سلمان شہباز کے اثاثے 85 فیصد بڑھے، شہبازشریف کے ایک صاحبزادے کو ایک ارب 30 کروڑ روپے براہ راست موصول ہوئے مگر شہباز شریف کسی سوال کا جواب نہیں دے رہے، شاید شہبازشریف اثاثوں سے متعلق لندن سے جواب لے کر آئے ہوں۔فیصل واوڈا کے خلاف تحقیقات سے متعلق شہزاد اکبر نے کہا کہ فیصل واوڈا اور خسرو بختیار کے خلاف شکایات نیب میں تصدیق کے مرحلے پر ہیں تاہم فیصل واوڈا کے جو اثاثے بتائے جا رہے ہیں میرے خیال میں وہ ظاہر شدہ ہیں۔

وفاقی بجٹ کا کھربوں کا خسارہ متوقع ، سگریٹ ، مشروبات مہنگے کرنیکا فیصلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بجٹ 11جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، کابینہ 6ہزار 800ارب روپے سے زائد کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے گی جس میں سے 3 ہزار ارب روپے کا خسارہ متوقع ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 2500ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، وفاق کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 925ارب روپے مختص ہوں گے۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5ہزار 5سو 50ارب روپے رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ 14سو ارب روپے کے قریب ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا جائے گا،چینی پر سیلز ٹیکس 8 سے بڑھا کر 17فیصد کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے، پولٹری مصنوعات، الیکٹرونک مصنوعات سمیت درجنوں اشیا پر ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں اضافے، لگڑری اشیا کی درآمد پر 2فیصد اضافی ڈیوٹی کو بڑھا کر 3فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ وفاقی بجٹ میں پانچ برآمدی شعبوں کیلئے زیرو ریٹنگ ختم کرنے کی بھی تجویز ہے، کھادوں کی قیمتوں میں کمی کی منظوری بھی متوقع ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 10سے 15 فیصد اضافے کی تجاویز زیرغور آئیں گی۔تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی حتمی منظوری کابینہ منگل کو دے گی جبکہ تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس چھوٹ میں بھی ردو بدل کیا جائے گا۔۔کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔حکومت پاکستان نے نئے مالی سال میں 5 ہزار 550 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کا فارمولا طے کر لیا۔ذرائع کے مطابق نئے مالی سال 20-2019 کے بجٹ کی ترجیحات کا تعین کر لیا گیا، نئے مالی سال میں ایک ہزار 400 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کالا دھن رکھنے والوں سے کی جائےگی۔نجی ٹی وی کے مطابق امرائ پر ٹیکس بڑھانے اور اورموجودہ ٹیکس گزاروں کو ریلیف فراہم کرنے کی بھی حکمت عملی بھی طے کر لی گئی ہے، بجٹ میں پسماندہ اور غریب طبقات کی فلاح بہبود پر بھرپور توجہ دینے کا ویڑن بھی شامل کیا گیا ہے اور اس ضمن میں احساس پروگرام کے لیے مختص رقم 100 ارب روپے سے بڑھا کر180 ارب روپے کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق 85 فیصد بجلی کے چھوٹے صارفین اور 40 فیصد چھوٹے گیس صارفین کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔آئندہ مالی سال میں 200 سے 250 ارب روپے کی سبسڈی بھی دی جائے گی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھنے کے لیے ٹیکس اور لیوی میں ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ اسی طرح بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو درست کرنے کے لیے درآمدات کی حوصلہ شکنی بھی کی جائے گی اور غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لیے ان پر اضافی ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔نجی شعبے میں درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لیے ان کے زرمبادلہ میں کیش مارجن کی شرح بڑھانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔حکومت نے مالی سال 2019-20ئ کے بجٹ میں تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ اور کاربونیٹڈ ڈرنکس (مشروبات)پر ہیلتھ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دے دی۔ میڈیا رپورٹ میں دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سگریٹ کے فی پیکٹ پر 10روپے جبکہ کاربونیٹڈ ڈرنکس (مشروبات)کی 250ملی لیٹر کی بوتل پر ایک روپے ہیلتھ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔دستاویزات کے مطابق ہیلتھ ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم صحت کے شعبے کی ترقی پر خرچ کی جائے گی جبکہ بجٹ میں سگریٹ کی غیرقانونی تجارت کے خلاف اقدامات کی تجویز بھی زیر غور ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ سگریٹ اور دیگر مصنوعات کی غیر قانونی پیداوار اور تجارت کی مانیٹرنگ بھی کی جائے گی اور اس سلسلے میں وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز اینڈ ریگولیشنز مجوزہ اقدامات کا مسودہ پیش کرے گی۔ خیال رہے کہ پاکستان میں سالانہ 143ارب 21کروڑ روپے کی تمباکو نوشی کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ 60ہزار افراد تمباکو نوشی کے باعث ہلاک ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کے ترجمان برائے انسداد تمباکو نوشی بابر بن عطا ئ نے تصدیق کی ہے کہ حکومت کی جانب سے ہیلتھ ٹیکس کی منظور دے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 20روپے والے سگریٹ کے پیکٹ پر 10روپے اور مشروبات پر بھی ہیلتھ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ہیلتھ ٹیکس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم صحت کارڈ کے ذریعے غریبوں پر خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے ٹیکس لگائے جارہے ہیں جس سے 40سے 50ارب روپے کے وسائل حاصل ہوں گے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ اس قدر جرات مندانہ فیصلہ کیا گیا اور دعوی کیا کہ موت کے سودا گروں کے دبا ?میں نہیں آئیں گے۔ حکومت نے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر ترجمانوں کے اجلاس میں مشاورت کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آج بنی گالہ میں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ ترجمانوں کے اجلاس میں آیندہ بجٹ کی تیاری اور خدوخال پر بھی مشاورت کی گئی، اس اجلاس میں حکومت کی معاشی ٹیم کے ارکان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔اجلاس میں بجٹ کی تیاری سے متعلق حکومتی ترجمانوں کو آگاہ کیا گیا، اور اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور شور شرابے سے نمٹنے کے لیے حکومتی حکمت عملی بنائی گئی۔دریں اثنا، وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بجٹ میں پس ماندہ علاقوں کی ترقی اور کم زور طبقات کی معاونت پر توجہ دی جا رہی ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انضمام شدہ علاقوں کے عوام نے ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دیں ہیں، ان علاقوں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ یہ اپنی صلاحیتوں کو برو¿ے کار لا سکیں۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم ہدایت کر چکے ہیں کہ بجٹ میں اخراجات میں ممکنہ حدتک کفایت شعاری اختیار کی جائے۔

پیپلز پارٹی کا زرداری کی ممکنہ گرفتاری پر آج ڈی چوک میں احتجاج کا فیصلہ

اسلام آباد، کراچی، لاہور (کرائم رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) اسلام آباد ہائیکورٹ آج آصف زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت پر فیصلہ کرے گی۔ گیارہ جون کو نوازشریف کی ضمانت درخواست پر سماعت ہوگی۔نیب نے بلاول بھٹو زرداری سے اوپل 225 منصوبے میں دس جون تک جواب طلب کر رکھا ہے، شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی کیس کی تحقیقات بھی آخری مرحلے میں ہے۔ چیئرمین نیب نے قائم علی شاہ اور مراد علی شاہ کے خلاف ٹھٹھہ اور دادو شوگر ملز کیس کی انکوائریز کو باقاعدہ تحقیقات میں منتقل کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ ذرائع کے مطابق بات ان کی گرفتاری تک جا سکتی ہے۔عید کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک کے خلاف مالم جبہ کیس میں بھی اہم گرفتاریوں کا فیصلہ ہوگا جبکہ ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کردیا جائے گا۔ سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری پر پیپلز پارٹی نے لاہور میں بھرپور احتجاج کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پیپلزپارٹی قیادت نے کارکنوں کو گرفتاری پر اسلام آباد ڈی چوک پہنچنے کی ہدایت کردی سابق صدر کی گرفتاری کی صورت میں صوبائی دارالحکومت لاہور میں اہم شاہروں پر جیالے احتجاج کریں گے جبکہ صوبے کے دیگر شہروں میں بھی مظاہرے کئے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی لاہور کا اجلاس گزشتہ روز صدر حاجی عزیز الرحمن چن کی صدارت میں ہوا جس میں سابق صدر کی گرفتاری کی صورت میں احتجاج کی حکمت عملی تیار کی گئی۔اجلاس میں آصف زرداری کی گرفتاری کی صورت میں احتجاج کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔اگر سابق صدر کو نیب کی جانب سے گرفتار کیا گیا تو جیالے سڑکوں پر نکلیں گے اور زبردستی سڑکیں بند کردی جائیں گے۔اور اگر حکومت نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی یا طاقت کا استعمال کیا تو اس کے لئے بھرپور مذاحمت کی جائے گی۔پیپلز پارٹی لاہور کے صدر حاجی عزیز الرحمن چن کے مطابق اگر آصف زرداری گرفتار ہوئے تو شدید احتجاج کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کی گرفتاری حکومت کو مہنگی پڑے گی، عزیز الرحمان چن نے کہا کہ ہم اپنی حکمت عملی ابھی نہیں بتائیں گے مگر احتجاج بھرپور ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل میر نے کہا کہ اگر عمران خان نیب گردی کے ذریعے کل صدر آصف علی زرداری کو گرفتار کروانے میں کامیاب ہو گئے تو عمران خان کل اپنے ہاتھوں سے اپنی حکومت کے جلد از جلد خاتمے کی بنیاد رکھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کی گرفتاری کی صورت میں لاہورمیں احتجاجی مظاہروں کا آغاز کر کے اس تحریک کی بنیاد رکھ دے گی جس کے ذریعے بعد میں تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر عمران خان کی حکومت کو مہنگائی اور اس کے ظلم سے نجات دلوانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاری سے آصف زرداری کو تو فرق نہیں پڑے گا لیکن عمران خان اور اس کی حکومت ہل جائے گا۔گرفتاری اور جیل آصف زرداری کیلئے نئی بات نہیں ہیں۔جیالے ایسا احتجاج کریں گے کہ عمران خان سنبھل نہیں پائیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابقہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے تیسرے روز بھی نوڈیرو ہا?س میں پارٹی رہنما?ں، ایم این ایز، ایم پی ایز، کارکنان سے ملاقاتیں کیں، اور ملکی صورتحال پر اظہار خیال کیا، اتوار کے روز بھی ملاقات کرنے والوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ مہنگائی کے خلاف تحریک چلے گی، بلاول کی رہنمائی میں ملک ترقی کرے گا، منی لانڈرنگ اور دیگر مقدمات میں صداقت نہیں ہے، ہم نے ملک کو بچایا، منتشر افراد کو ملک کی حمایت پر آمادہ کیا، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا انداز بتاتا ہے کہ یہ چل نہیں سکتی ہے، موجودہ حکومت کا کوئی مستقل نہیں ہے، ہمارے مقاصد حکومت کو گرانا نہیں بلکہ مختلف اہداف ہیں، حکمران کنٹینرز پر آنے والوں کو کیا خوراک دیں گے، زرداری نے کہا کہ میں اپنی بات پر قائم ہوں کہ ملک میں یا تو نیب چلے گی یا معیشیت چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی غلط پالیسیوں کی سزا عوامکو دے رہی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی ایک عوامی جماعت ہے، اور پارٹی کے ورکر جماعت کا سرمایہ ہیں، اس لیے ورکرز عوامی مسائل حل کرائیں، اور عوام سے روابط میں رہیں، آصف زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت زیادہ وقت نہیں چل سکتی،حکومت کے خلاف تحریک چلانے کیلئے اپوزیشن پارٹیوں کو متفق ہونا پڑے گا،عمران خان سیاستدان ہیں نہ زمیندار اور نہ ہی تاجر ہیں ، اس لیے مسائل کو سمجھ نہیں سکتے۔ اتوار کو سابق صدر آصف علی زرداری نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کیلئے اپوزیشن پارٹیوں کو متفق ہونا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت زیادہ وقت نہیں چل سکتی ہے وفاقی حکومت کی ناکام پالیسیوں کے باعث عوام عذاب میں مبتلا ہیں۔آصف زرداری نے کہا کہ عمران خان سیاستدان ہیں نہ زمیندار اور نہ ہی تاجر ہیں ، اس لیے مسائل کو سمجھ نہیں سکتے۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس ، وکلا ءتحریک ، اپوزیشن کے احتجاج سے نمٹنے کا فیصلہ

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم کو غریب طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ عوام دوست اور معاشی استحکام کے پیش نظر بنایا جائے۔ اتوار کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت بنی گالا میں وفاقی بجٹ پر غور کے لیے اجلاس ہوا جس میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور اقتصادی ماہرین نے شرکت کی۔معاشی ٹیم نے وزیراعظم کو آئندہ بجٹ سے متعلق تجاویز پر بریفنگ دی اور انہیں بجٹ میں ٹیکس کے نفاذ اور اہداف سے متعلق آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے بجٹ تیاری اور ممکنہ حجم سے متعلق معاشی معاہرین سے مشاورت کی جبکہ مشیر خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئر مین ایف بی آر نے وزیراعظم کو تجاویز پیش کیں۔وزیر اعظم نے اپنی معاشی ٹیم کو غریب طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ عوام دوست اور معاشی استحکام کے پیش نظر بنایا جائے۔وزیراعظم عمران خان نے سول اداروں کے اخراجات کم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوج اپنے اخراجات کم کر سکتی ہے تو سول ادارے کیوں نہیں کر سکتے؟ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے حوالے سے اسلام آباد میں اجلاس منعقد ہوا جس میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق دا?د، وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں مالی سال 2019-20ئ کی بجٹ تجاویز زیر غور آئیں ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم نے بجٹ میں سول اخراجات میں بھاری کٹوتی کی ہدایت کر دی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تمام سول ادارے اپنے اخراجات کم کریں اگر فوج اپنے اخراجات کم کر سکتی ہے تو سول ادارے کیوں نہیں؟ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ حکومت کفایت شعاری پر سختی سے عمل کرے اور بجٹ میں غریبوں پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔حکومت نے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر ترجمانوں کے اجلاس میں مشاورت کی۔ذرائع کے مطابق اتوار کو بنی گالہ میں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ترجمانوں کے اجلاس میں آیندہ بجٹ کی تیاری اور خدوخال پر بھی مشاورت کی گئی، اس اجلاس میں حکومت کی معاشی ٹیم کے ارکان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔اجلاس میں بجٹ کی تیاری سے متعلق حکومتی ترجمانوں کو آگاہ کیا گیا، اور اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور شور شرابے سے نمٹنے کے لیے حکومتی حکمت عملی بنائی گئی۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بجٹ میں پس ماندہ علاقوں کی ترقی اور کم زور طبقات کی معاونت پر توجہ دی جا رہی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ انضمام شدہ علاقوں کے عوام نے ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دیں ہیں، ان علاقوں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ یہ اپنی صلاحیتوں کو برو¿ے کار لا سکیں۔حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ترجمانوں کے اجلاس میں آیندہ بجٹ کی تیاری اور خدوخال پر بھی مشاورت کی گئی، اس اجلاس میں حکومت کی معاشی ٹیم کے ارکان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔اجلاس میں بجٹ کی تیاری سے متعلق حکومتی ترجمانوں کو آگاہ کیا گیا، اور اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور شور شرابے سے نمٹنے کے لیے حکومتی حکمت عملی بنائی گئی۔

نکاح پر نکاح جھوٹا مقدمہ ، چینل ۵ کی خبر پر آئی جی کا نوٹس

قصور (بیورو رپورٹ) چینل ۵کے پروگرام ہیومن رائٹس واچ میں چیف ایڈیٹر خبریں گروپ آف نیوز پیپرز ضیا شاہد اور قانونی ماہر ایڈووکیٹ اشرف عاصمی کی طرف سے قصور میں غیر شرعی اور غیرقانونی طور پر لڑکی کی شادی ہونے کے باوجود دوسرا نکاح کر دیے جانے کے واقعہ کی نشاندہی پر آئی جی پنجاب کیپٹن (ر)عارف نواز خاں نے نوٹس لے لیا جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چوہدری منظور احمد نے اس پروگرام میں قصور پولیس کی دانستہ جانبداری پر کڑی نقطہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب پولیس کی لاقانونیت کے متعلق قومی اسمبلی میں آواز اٹھائے گی تفصیلات کے مطابق چینل ۵ کے پروگرام ہیومن رائٹس واچ میں پیرو والا قصور کے بلال احمد کی پسند کی شادی کے بعد پولیس کی طر ف سے بلال کے خاندان کےخلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے اور اس کی اہلیہ کی دوسری شادی کرانے میں مبینہ طور پر اہم کردار ادا کرنیوالے قصور پولیس کے ملازمین کے منفی کردار کی نشاندہی کی گئی تھی جس کی تفصیلات روزنامہ خبریںنے اتوار کے روز تفصیلی طور پر شائع کی جس پر آئی جی پنجاب نے ڈی پی او قصور کو ہدایت کی کہ اس سلسلہ میں ازسر نوتحقیقات کرائی جائیںاور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ محکمانہ اور مجرمانہ طور پر ملزمان کا ساتھ دینے والے پولیس ملازمین کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے بتایا گیا ہے کہ ڈی پی او قصور عبدالغفار قیصرانی نے اس سلسلہ میں ڈی ایس پی صدر سرکل عالم شیر کو بلال کیس کی از سر نو انکوائری کا حکم صادر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تین دن کے اندر اندر حقیقی رپورٹ پیش کریں ڈی پی او قصور کی طرف سے بلال احمد اور اس کے خاندان کو اس امر کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ انہیں ہر صورت انصاف مہیا کیاجائے گا جبکہ جھوٹا مقدمہ درج کرنے اور جعلی نکاح نامہ وطلاق کے ساتھ ساتھ بوگس دستاویزات بنانے والے تمام ملزمان کے خلاف بھی کاروائی کی ہدایت کر دی گئی ہے دریں اثنائ پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چوہدری منظور احمد ایڈووکیٹ نے اس سلسلہ میں خبریں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ روزنامہ خبریںنے پیرو والا روڈ کے بلال احمد کے ساتھ ہونیوالے جس ظلم کی نشاندہی کی ہے وہ قابل ستائش ہے انہوںنے کہاکہ پنجاب کے اندر ہر ضلع سے پولیس کے متعلق ایسی ہی شکایات آرہی ہیں ابھی چاند روز کی رات حکومتی پارٹی کے ایک اہم پارٹی عہدادار کے بھائی نے جس طرح لاقانونیت کا مظاہرہ کیا اور پولیس نے دانستہ طو رپر اس سے ناصرف چشم پوشی کی بلکہ الٹا متاثرین کو دھمکیاںدی گئیں کہ اگر انہوںنے زبان کھولی تو ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی یہ انتہائی قابل مذمت صورتحال ہے اور روزنامہ خبریں کے پروگرام میں قصور میں ہونے والے واقعہ کے بعد پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملہ کو قومی اسمبلی میں اٹھایاجائے گا دوسری طرف ڈسٹرکٹ بار قصور ایسوسی ایشن کے سابق صدر مرزانسیم الحسن ایڈووکیٹ نے چینل ۵کے پروگرام میں بیان کی جانیوالی پولیس گردی اور روزنامہ خبریں میں اس کی تفصیلی اشاعت پڑھنے کے بعد کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں بلال احمد کے خاندان کو بلا معاوضہ قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں انہوںنے کہاکہ ہم خبریں گروپ کے ذریعے بلال احمد کے خاندان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہم سے رابطہ کریں ہمارے وکلائ انہیں ہر طرح کی معاونت اور مدد فراہم کریںگے۔

3 سالہ بچی کا قاتل آزاد گھوم رہا ہے ، پولیس کی بے حسی کی انتہا : ضیا شاہد ، چچانے بچی کو محض اس لئے قتل کیا کہ اس کی اپنی بیٹی کو ناراض بیوی کے پاس میکے بھیج دیا گیا تھا: اشرف عاصمی کی چینل ۵ کے پروگرام ” ہیومین رائٹس “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لیگل ایڈوائزر اشرف عاصمی نے کہا ہے کہ معاشرے میں رشتوں کی پامالی ہو رہی ہے، پاکپتن میں ساڑھے تین سالہ بھتیجی سعدیہ کو اس کے چچا ظہور نے محض اس لئے قتل کر کے لاش گٹر میں پھینک دی کیونکہ اس کی اپنی بیٹی کو اس کی ناراض بیوی کے پاس میکے بھیج دیا گیا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے ہم اخلاقی طور پر بڑی گھمبیر صورتحال میں گھر گئے ہیں حالانکہ چچا تو باپ کے برابر ہوتا ہے۔ چینل فائیو کے پروگرام ہیومین رائٹس واچ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے مقتولہ بچی کی تصویر دیکھی تو میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ایسے کیسر میں عام طور پر ملزم اکیلا نہیں ہوتا اس سے منسلک لوگ اسے بچانے میں لگ جاتے ہیں انہیں بھی کیفر کردار تک پہنچایا جائے مقتولہ سعدیہ پوری قوم کی بیٹی ہے۔ارباب اختیار سیف سٹی بناتے پھرتے ہیں پولیس کی ترکی سے ٹریننگ کرائی جا رہی ہے بھاری بھرکم تنخواہیں ہیں لیکن پولیس کا بیڑا غرق ہوتا جا رہا ہے جس علاقے میں جرم ہوتا ہے ایس ایچ او ذمہ دار ہے جب تک جزائ و سزا کا عمل نہیں ہو گا نتیجہ نہیں نکلے گا اللہ سے دوری ،رزق حلال نہ ہونا قناعت نہ ہونا ایسے جرائم کی جڑہیں۔ایسے ملزم کو فوری لٹکا نا چاہئے لیکن پہلے ٹرائل ہو گا پھر شک کا فائدہ مل جاتا ہے تفتیش کو تروڑا مڑوڑا جاتا ہے۔سپیڈی ٹرائل اور گواہوں کو تحفظ ملنا چاہئے وگرنہ وہ ڈر جاتا ہے۔معاشرہ اس رخ جا رہا ہے کہ خیر کی توقع نہیں۔ایسے واقعات میں وزیر اعلی پنجاب ،آئی جی،علاقہ ڈی پی او سب ذمہ دار ہیں فوری ایکشن ہو تو جرم کم ہو جائے گا۔ ایسے جرائم کے پیچھے معاشی و نفسیاتی عناصر ہوتے ہیں،نفسیاتی مریضوں کو بغیر رشوت ہسپتالوں میں داخلہ نہیں ملتا۔عمران خا ن سے لوگوں کو بڑی امیدیں تھیں لیکن پولیس میں تبدیلی نہیں آرہی حکومت کو چاہئے پاکپتن کیس میں فوری ایکشن لے پراسیکیوشن کو بھی دیکھا جائے۔میرے ایک دوست نے کینیڈا سے فون پر کہاں ہیومین رائٹس کے چکر میں مت پڑو تمہارے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں میں نے کہا دوسرے بھی تو میرے بچوں کی طرح ہیں۔سب اشرافیہ آپس میں ملی ہوئی ہے غریب کا کوئی پرسان حال نہیں اس لئے غریب صلح کی طرف آتا ہے۔پولیس بھی استعمال ہوتی ہے۔سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا اس میں ہم سب ہی قصور وار ہیں ظاہر ہے بچی پر تشدد کیا ہوگا پھر گلا گھونٹا یہ کیسے ممکن ہے بچی کے گھر والوں کو تشدد کا پتہ نہ چلا ہو پھر کہا جاتا ہے ملزم مل نہیں رہا حالانکہ وہ کہیں قریب ہی ہوتا ہے اسے چھپانے والا خود بڑا ملزم ہوتا ہے کتنا بڑا ظلم ہے تین سالہ بچی کے قتل اور گٹرمیں پھینکنے کے بعد ملزم آزاد پھر رہا ہے کتنا بے حس شخص ہے۔ایسے کیسز میں قانون کے ہاتھ لمبے ہونے چاہئیں۔میرے خیال میں پولیس کو کسی نے پیسے کھلا دیے جو پولیس دلچسپی نہیں لیتی۔پولیس پیسے کے بغیر کام نہیںکرتی۔جب کیس میڈیا پر آ جائے تو دبا? ہوتا ہے کہ معاملہ پھیل گیا ہے کام نہ کیا توہم سے بھی باز پرس ہو گی۔لڑکی کے چچا کا غائب ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خود مجرم ہے۔ملزم جہاں بھی چھپا ہے اس کے رشتے داروں کو پتہ نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے وہ کوئی اتنا امیر تو ہے نہیں کہ فائیو سٹار ہوٹل میں کمرہ بک کرایا ہو کسی کے گھر چھپا ہو گا۔صحافت کے دوران میں نے بارہا گرفتاریاں دیکھیں عدالتیں دیکھیں جیلوں میں بھی رہا۔قاتل کے سر پر کوئی سینگ نہیں ہوتے اگر اس کے پاس چار پیسے ہوں جیل میںسہولتیں مل جاتی ہیں مشقتی بھی مل جاتے ہیں ایسے لوگوں کو جیل ناشتے میں تین انڈے بھی ملتے ہیں میں نے اس نظام کو بڑے قریب سے دیکھا ہے۔مجرم بڑے فخر سے کہتے ہیں بارہ گواہ تھے چار بٹھا دیے باقی چار رہ گئے۔کچھ کو پیسے دے کر ڈرا کر بٹھا دیا جاتا ہے۔جب تک یہ خوف پیدا نہیں ہو گا کہ کسی کی جان لے کر بچ نہیں سکتے قانون حرکت میں آئے گا اسی دن پچاس فیصد نظام ٹھیک ہو جائے گا۔مشہور واقعہ ہے ایک میجر نے سالی سے شادی کرنے کے لئے بیوی قتل کر دی وہ پکڑا گیا وہ کہتا تھا اچھرا بازار میں کسی کوقتل کر کے دوبارہ جیل آ جائیں۔لوگ جیلوں میں انتظامیہ سے مل کر جیل سے باہر قتل کر کے رات سے پہلے جیل آ جاتے ہیں جیل کا ریکارڈ کہتا ہے یہ تو جیل میں تھاکوئی کچھ نہیں کر سکتا وہ رہا ہو جاتا ہے،قانون میں بڑے چور دروازے ہیں پھر گواہی سسٹم میں بڑی خامیاں ہیں۔ لوگوں سے پوچھا جائے کہ اگر انہیں جرم کا علم تھا تو روکا کیوں نہیں لیکن سب کو اپنی اپنی پڑی ہے لوگ کہتے ہیں خوامخواہ دوسروں کے پھڈے میں پڑو گے تو پکڑے جا?گے۔ایسے کیسز سوشل میڈیا کے باعث بھی سامنے آتے ہیں ہمارے پاس تو تمام کیسز کی ویڈیو موجود ہے جو کسی نے تو بنائی ہیں۔آگاہی ہونا اصلاح کے مترادف ہے اس سے پچاس فیصد مسائل حل ہوتے ہیں۔ ورنہ سڑک پر چھ قتل ہو جائیں تو کوئی گواہی دینے کو تیار نہیں ہوتا۔چیف جسٹس صاحب ٹھیک کہتے ہیں سچی گواہی ملنے لگے جھوٹی گواہی سے بچا جائے بہت سے مسائل حل ہو جائیں۔ میں نے بہت سے لوگوں سے پوچھا گواہی کیوں نہیں دیتے لیکن لوگوں میں تاثر ہے جو ہونا تھا ہو گیا۔ ہم سب کا فرض ہے صرف یہاں بیٹھ کر تقریر نہ کریں بلکہ گواہوں کو بلائیں مثبت کردار بھی ادا کریں،چھانگا مانگا کیس میں ہم نے مظلوموں کو بلایا ان کی پولیس افسران سے بات کرائی اس کا کوئی بدلہ یا معاوضہ نہیں ملتا بلکہ ضمیر کی آواز پر ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہیومین رائٹس پر کئی پروگرام کر چکے لوگوں نے کہا آپ کی طرف سے مسئلہ اٹھانے سے ہماری شنوائی ہوئی۔

وزیر ریلوے شیخ رشید نے لاہور ریلوے اسٹیشن پرنئے تعمیر شدہ ویٹنگ ہال کا افتتاح کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے عوام کی سہولت کے لیے لاہور ریلوے اسٹیشن پر نئے تعمیر شدہ ویٹنگ ہال کا افتتاح کر دیا۔ 3000 مربع فٹ پر تعمیر کیے گئے اس ویٹننگ ہال میں 250 مسافروں کی گنجائش ہے۔ ویٹنگ ہال میں پنکھے، لائٹیں اور مردوں اور عورتوں کے کے لیے الگ واش روم، LEDs کی سہولت ہے۔

افغانستان میں پاکستانی سفارت خانے پر مشتعل ہجوم کا دھاوا

کابل(ویب ڈیسک) افغانستان میں مشتعل ہجوم نے پاکستانی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع پاکستانی سفارت خانے پر پاکستان آنے کے خواہش مند مشتعل افغان شہریوں نے دھاوا بول دیا، سفارت خانے کے باہر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے صورت حال کو قابو میں کرلیا۔سفارت خانے پر دھاوا بولنے والے افراد جلد اور فوری ویزہ جاری کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، مشتعل افراد کے حملے میں سفارت خانے کی عمارت یا عملے کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ افغان سیکیورٹی فورسز نے مشتعل افراد کو منتشر کردیا۔پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے افغانستان کے حکام کو کابل میں پاکستانی سفارتخانے کے عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے جب کہ افغان حکام نے بھی ایسے واقعات کے تدارک کی یقین دہانی کرائی ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق کابل میں پاکستانی سفارت خانہ روزانہ کی بنیاد پر 2 ہزار ویزے جاری کرتا ہے جس کے لیے سفارتی عملہ دن و رات تندہی سے کام کرتا ہے اس لیے ویزہ ملنے میں تاخیر کا بہانہ بنا کر سفارت خانے میں دھاوا بولنا قابل مذمت ہے۔

11 فٹ لمبا مگرمچھ کھڑکی توڑ کر باورچی خانے میں داخل

فلوریڈا(ویب ڈیسک) امریکا میں باورچی خانے کی کھڑکی کو توڑ کر گھر میں داخل ہونے والے 11 فٹ لمبے مگر مچھ کو 2 ریسکیو اور 10 پولیس اہلکاروں کے مشترکہ آپریشن میں 2 گھنٹے کی مشقت کے بعد پکڑ لیا گیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست فلوریڈا میں بھوک سے نڈھال ایک 11 فٹ لمبا مگر مچھ خوراک کی تلاش میں اکیلے رہنے والی خاتون کے کچن کی کھڑکی توڑ کر اندر داخل ہوگیا۔مگر مچھ نے باورچی خانے کی ہر چیز کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور خوراک نہ ملنے کی وجہ سے وہ خاتون خانہ کی جانب بڑھا جو اس وقت کمپیوٹر پر گیم کھیل رہی تھیں۔خوش قسمتی سے خاتون کو مگر مچھ کی موجودگی کا جلد ہی پتہ چل گیا اور انہوں نے خود کو بیڈ روم میں قید کرکے پولیس کو فون کیا، جانوروں کے تحفظ کے محکمے کے 2 اور 10 پولیس اہلکاروں نے مشترکہ آپریشن میں حصہ لیا۔اس علاقے میں عمومی طور پر نہروں میں مگرمچھ آتے رہتے ہیں تاہم چند دنوں سے یہ مگر مچھ رہائشی علاقوں میں بھی داخل ہورہے ہیں اس واقعے کے بعد بھی ایک 9 فٹ لمبے مگر مچھ کو ایک مکان میں داخل ہوتے دیکھا گیا تھا۔

”رانگ نمبر 2 “ نے عید الفطر کا میلہ لوٹ لیا

کراچی(ویب ڈیسک) عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی کامیڈی فلم”رانگ نمبر 2“ نے ریلیز کے 3 دنوں میں 6 کروڑ 75 لاکھ روپے سے زائد کا بزنس کرلیا۔ہدایت کار یاسر نواز کی کامیڈی سے بھرپور فلم ”رانگ نمبر2“ شائقین کو متاثر کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ فلم میں اداکارہ نیلم منیر اور سمیع خان کی جوڑی کو بے حد پسند کیاجارہا ہے۔ فلم کی کہانی میں مزاح اور جذبات کا تڑکہ لگایا گیا ہے جب کہ فلم میں شامل گانوں اورڈانس بھی فلم کی کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔”رانگ نمبر2“میں نیلم منیر ہمیشہ کی طرح بے حد خوبصورت نظر آئی ہیں لہٰذا فلموں کے شائقین کے لیے یہ مکمل طور پر ایک مصالحہ فلم ہے یہی وجہ ہے کہ عیدالفطر پر یہ فلم شائقین کی بڑی تعداد کو سینما تک کھینچ لانے میں کامیاب رہی ہے۔فلم کے ہدایت کار یاسر نواز نے سوشل میڈیا پر فلم کا بزنس شیئر کرایا ہے جس کے مطابق فلم ریلیز کے تین دنوں میں 6 کروڑ 75 لاکھ کا بزنس کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ عید کی چھٹیوں کے فوراً بعد ویک اینڈ کی چھٹیوں کا فائدہ عیدالفطر پر ریلیز ہونے والی فلموں کو ہوا ہے لہٰذا توقع کی جارہی ہے کہ ویک اینڈ پر یہ فلم مزید اچھا بزنس کرسکتی ہے۔