بحیرہ عرب میں بننے والا سمندری طوفان کراچی سے 1150 کلومیٹر دور

کراچی(ویب ڈیسک) محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب میں بننے والا سمندری طوفان کراچی کے جنوب میں 1150 کلومیٹر دور ہے اور بھارت کی جانب بڑھ رہا ہے۔چیف میٹرولوجسٹ عبدالرشید کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان 13 جون کو بھارتی ساحلی علاقے گجرات سے ٹکرائے گا، جب کہ اگلے ایک دو روز کے دوران سمندری ٹریک میں تبدیلی کا بھی امکان ہے۔چیف میٹرولوجسٹ عبدالرشید کے مطابق سمندری طوفان سے کراچی سمیت پاکستان کے کسی ساحلی علاقے کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے سمندر میں ہونے والی غیر معمولی سرگرمی کا مستقل بنیادوں پر 24 گھنٹے مشاہدہ کیا جارہا ہے، تاہم سمندری طوفان بننے اور پاکستانی ساحلی مقامات کے قریب آنے پر شہرمیں شدید گرمی اور بارشوں کی شکل میں اثرات نمایاں ہوسکتے ہیں۔عبدالرشید نے کہا کہ اگر یہ طوفان پاکستانی ساحلی مقامات کے قریب سے گزرا توبھی بارشوں کا سبب بنے گا اور کسی پاکستانی ساحلی مقام کے انتہائی قریب سے گزرنے یا ٹکراوﺅکے نتیجے میں زیادہ شدت کی ہواﺅں اور بارش کا سبب بن سکتا ہے۔

ویسٹ انڈیز جارحانہ کھیلتی ہے اب یہ پرانی والی ٹیم نہیں ہے: طاہر شاہ ، ہاشم آملہ جیسے کھلاڑی کا بلابھی نہیں چل رہا: چودھری اشرف کی گگلی میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ دنیا کا سب سے بڑا ایونٹ ہے اس کے لئے تمام ٹیمیں پوری تیاری سے آتی ہیں ہاشم آملہ پرفارم نہیں کر سکے حالانکہ وہ اچھے بیٹسمین ہیں لیکن اگر فارم میں نہیں تو زبردستی نہیں کھلانا چاہئے باہر بٹھا دینا چاہئے ویسٹ انڈیز کی ٹیم کافی مضبوط ہے جنوبی افریقہ کے خلاف اس کا پلڑا بھاری ہے۔ چینل فائیو کے پروگرام گ±گلی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں شک نہیں جب پوری دنیا میچ دیکھ رہی ہو تو مشکل صورتحال میں کھلاڑی دبا? میں آ جاتے ہیں بہرحال اعصاب کو مضبوط رکھنا چاہئے۔ ویسٹ انڈیز ٹیم چیتے کی طرح لڑتی ہے بیٹنگ بہت اچھی ہے۔ اس بار کی ویسٹ انڈیز ٹیم پچھلے ایونٹ والی نہیں یعنی آسان ٹیم نہیں۔ سپورٹ جرنلسٹ چوہدری اشرف نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے پاس بڑے بلے باز اور با?لرز بھی موجود ہیں لیکن ان کے بلے باز ویسا سکور نہیں کر پائے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ ہاشم آملہ تو بالکل بھی فارم میں نہیں بلیک لسٹ نظر آئے۔ موسم خاصا بارش والا تھا۔ جنوبی افریقہ کا مقابلہ آئندہ بھی مضبوط ٹیموں سے ہے اگر کوئی آسان ٹیم ہے تو وہ افغانستان ہے۔ پہلے دس اوورز کا میچ اہم ہوتا ہے کیونکہ بال نیا ہوتا ہے۔ کھلاڑیوں کو کوشش کرنی چاہئے پچ پر رک کر کھیلیں وکٹ نہ گنوائیں تاکہ مخالف ٹیم دبا? میں رہے۔

نیب نے حمزہ شہباز کو لاہور ہائیکورٹ سے گرفتار کرلیا

لاہور(ویب ڈیسک )نیب نے ہائیکورٹ کی جانب سے عبوری ضمانت میں توسیع مسترد ہونے کے بعد حمزہ شہباز کو گرفتار کرلیا۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز آمدن سے زائد اثاثے، رمضان شوگر ملز اور منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست پر سماعت کے سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔اس موقع پر لاہور ہائیکورٹ کے باہر لیگی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی، حمزہ شہباز عبوری ضمانت میں توسیع کے لیے عدالت پہنچے تو کارکنان نے ان کی گاڑی کو گھیر لیا اور نعرے بازی کی۔ لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی ضمانت میں توسیع کی درخواستوں پر سماعت کی تو نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ نے مو¿قف اپنایا کہ حمزہ شہباز کے اثاثے آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے، حمزہ اور ان کی فیملی نے منی لانڈرنگ کی۔عدالت نے نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں مزید توسیع کی درخواست مسترد کردی۔دورانِ سماعت نیب کی ایک ٹیم عدالت میں موجود رہی جس نے حمزہ شہباز کی ضمانت مسترد ہونے کے بعد ان کی گرفتاری کے لیے پوزیشن لی اور تھوڑی ہی دیر بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

اگر ملک کے حالات خراب ہوئے تو ایمرجنسی لگ سکتی ہے: میاں حبیب ، زرداری کی گرفتاری پر ری ایکشن سندھ سے آنا چاہیے : آغا باقر ، زرداری بڑی فنکار شخصیت ہیں خبریں لیتے بھی ہیں اور دیتے بھی :سیف الرحمان ، اللہ کو آصف زرداری کی بات پسند نہیں آئی کہ نیب چیئرمین کی کیا اوقات ہے:طارق ممتاز ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کارمیاں حبیب نے کہا ہے کہ آصف زرداری کی گرفتاری کی ٹائمنگ انتہائی اہم ہے، وہ گرفتاری کے لیے بالکل تیار تھے۔آج شہباز شریف اور حمزہ ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد گرفتار ہوگئے تو اپوزیشن تحریک کا دم خم ختم ہوجائےگا تاہم اگر ملک کے حالات خراب ہوئے تو ایمرجنسی لگ سکتی ہے اور ملک میں نیا سسٹم لانے کی کوشش کی جائے گی۔ اپوزیشن نہیں چاہتی کہ سسٹم ڈی ریل ہو۔حکومت نہیں ریاست نے واضح پیغام دیا ہے کہ ججز اور جرنیلوں کا احتساب ہو سکتا ہے تو کسی کا بھی ہوسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک ہوچکی ہے۔ پاکستان پر بیرونی قوتوں کا یلغار ہے جو اپنے مقاصد کے لیے یہاں کے لوگوں کو استعمال کر کے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایوب خان اور بھٹو کیخلاف تحریک کے پیچھے بھی ڈالر تھا۔ پاکستان کسی بھی ایسی تحریک کا متحمل نہیں ہوسکتا جسکے نتیجے میں پاکستان کا سسٹم گرے۔میزبان تجزیہ کار آغا باقر کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی گرفتاری سے پاکستان کی سیاست میں تہلکہ اپنی انتہا کو پہنچ چکا۔ لاہور کے 9مقامات پر لوگوں نے دھرنے دیکر روڈ بلا ک کر دئیے ، میٹرو سروس بند ہونے کیساتھ لاہور کے مختلف علاقوں میں دوکانیں بند کروائی گئیں۔ آصف زرداری کی گرفتاری پر ری ایکشن سندھ سے آنا چاہیئے مگر پنجاب سے آرہا ہے۔ تحریکوں کے نتیجے میں ہمیشہ مارشل لائ آئے ہیں۔تجزیہ کارطارق ممتازنے کہا ہے کہ اللہ کو آصف زرداری کی بات پسند نہیں آئی کہ نیب چیئرمین کی کیا اوقات ہے کہ مجھے گرفتار کرے۔ جس ملک میں بھٹو گرفتار ہو سکتا ہے زرداری کی کیا اوقات ہے۔ آصف زرداری بے وقوف بن گئے ہیں یا کسی کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جو فوج کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ اپوزیشن کوئی دھرنا یا تحریک نہیں چلا سکتی۔ گرمی کیوجہ سے اپوزیشن کیساتھ عام آدمی باہر نہیں نکلے گا، خریدے گئے لوگ اور اپوزیشن کے ملازمین ہی حکومت مخالف تحریک میں نظر آئیں گے۔ زرداری کی گرفتاری کے بعد لاہور میں احتجاج ن لیگ کروارہی ہے۔ عمران خان احتساب کے نعرے پر آئے اور ڈٹ گئے ہیں۔ اپوزیشن کی دونوں جماعتوں کا نظریہ ابا بچا? مہم ہے۔ حکومت ڈی ریل ہوئی تو پاکستان میں مارشل لائ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔کالم نگارمیاں سیف الرحمان نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں تیلی لگانا بہت آسان رہا ہے۔ آصف زرداری بہت آرٹسٹک شخصیت ہیں، خبریں لیتے بھی ہیں اور دیتے بھی ہیں۔ اپوزیشن کی تحریک کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی۔

10 سالہ ملازمہ پر بیہمانہ تشدد ، حادثہ ظاہر کرنے کیلئے چھت سے گرا دیا

گوجرانوالہ (بیورو رپورٹ) گوجرانوالہ میں مالکن کے بد ترین تشدد سے گھریلو ملازمہ بچی جاں بحق ہوگئی، ورثا نے لاہور روڑ بلاک کر کے پولیس اور ملزمان کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق بدترین تشدد کا یہ واقع گوجرانوالہ کے علاقہ راہوالی میں پیش آیا جہاں ظالم مالکن نے شیخوپورہ کی رہاشی 10 سالہ ملازمہ بچی نیلم کو گھر کا کام نہ کرنے پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر اسے حادثہ ظاہر کرنے کے لئے گھر کی چھت سے دھکا دے دیا۔ بچی کے بے ہوش ہونے پر اسے خود ہی ہسپتالوں میں لے کر جاتے رہے جہاں بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔بچی کے جاں بحق ہونے پر اس کی والدہ کو اطلاع دی گئی۔ واقعہ کے خلاف بچی کے والدین اور اہل علاقہ نے شیخوپورہ لاہور روڑ پر احتجاج کیا جہاں پولیس تھانہ ہا? سنگ کالونی کے ایس ایچ او نے معاملہ کو نمٹانے کے بجائے مظاہرین کو دھمکیاں دیں اور گالیاں نکالیں جس پر مظاہرین مشتعل ہوگئے اور پولیس کے خلاف احتجاج کرتے رہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ بچی کو تشدد کرنے والی ظالم مالکن کو فوری گرفتار کیا جائے۔

زرداری کی گرفتاری ، بلاول کا اصل امتحان اب شروع ہو ا ہے : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ جن قوتوں نے، جن طاقتوں نے یہ فیصلہ کیا کہ آج کے دن جبکہ بجٹ پیش ہونے جا رہا ہے قومی اسمبلی میں اور آج ہی دن ایک شام پہلے آصف زرداری گرفتار کر لیا جائے یہ بلاوجہ نہیں ہے اور محسوس یہ ہوتا ہے کہ کچھ طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ اس سلسلے میں انتہا کی محاذ آرائی وہ سامنے آئے جس کو کہتے ہیں کہ ہو جائے پھر جو ہونا ہے ورنہ آصف علی زرداری کی یہ گرفتاری کل بھی ہو سکتی تھی ایک دن پہلے بھی ہو سکتی تھی اور یہ گرفتاری سال ڈیڑھ سال سے متوقع تھی لیکن کس طرح سے اس کی ٹائمنگ کو قومی اسمبلی میں قومی بجٹ کے سامنے آنے پر اس کے ساتھ ملایا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ طاقتیں چاہتی ہیں کہ ملک میں جو موجود محاذ آرائی ہے حکومت یہ چاہتی ہے کہ جن دو پارٹیو ںکی حکومتوں نے کچھ نہیں کیا قرضے لیتے چلے گئے اور بہت زیادہ ملک کو قرضوں کے تلے ملک کو دبا دیا۔ ایکسپورٹ پر بالکل توجہ نہیں کی اور اس طرح امپورٹ بے تحاشا بڑھتی چلی گئی اور خسارے کا بجٹ جو تعاون ہمارا مقدر بن گیا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو کچھ ہوتا ہے ہونے دو اس شکل میں جو انتہا پسندی کی پالیسیاں سامنے آ رہی ہیں جس طرح سے آج بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ مجھے قومی اسمبلی میں بولنے نہیں دیا گیا۔ شیخ رشید صاحب کہتے ہیں مجھے نہیں بولنے دیا گیا فواد چودھری کہتے ہیں کہ ان کو نہیں بولنے دیا گیا پھر بولنے کس کو دیا گیا۔ لگتا ہے کل کا دن بھی ہنگامہ خیز گزرے گا اور پروڈکشن آرڈر کے لئے آصف علی زرداری صاحب کے لئے لیکن اس سے پہلے خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر کے بارے میں جو اب تک نہیں ہوسکے تھے اس کا مطلب ہے اس کی بھی مثالیں موجود ہیں کہ اگر کسی کا پروڈکشن آرڈر مانا جائے تو سپیکر قومی اسمبلی جو ہیں یا ڈپٹی سپیکر جو ان کی جگہ عہدہ سنبھالتے ہیں یہ اس کی صوابدید ہے کہ وہ استدعا منظور کرے یا نہ کرے لہٰذا یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ استدعا منظور کر لی جائے لیکن اگر یہ استدعا منظور بھی کر لے گی اور آصف زرداری صاحب کو پروڈکشن آرڈر پر قومی اسمبلی میں بھیج بھی دیا گیا تو بھی میرا نہیں خیال کہ آئندہ دس دن میں اسمبلی کی فضا جو ہے بجٹ کی دقیق معاملات پر ان پر بحث مباحثہ کے لئے موزوں رہے گی اور یقینا دونوں طرف سے ایسی ہی دھواں دار تقریریں ہوں گی جو شاید ہونے بھی نہ دی جائیں۔ میں صرف اتنا پوچھتا ہوں کہ اتنی مرتبہ آصف زرداری کی ضمانت پر توسیع ہوتی رہی ہے اور ا??ج ایک اور دفعہ ہو جاتی تا کہ بجٹ سیشن گو گزارنے دیا جاتا۔ لیکن میں نے جیسے کہا ہے پھر ہو جائے جو ہونا ہے یہ سوچ پرویل کر گئی، اور اب یہ صورت حال کل سے ایک نئی شکل میں دکھائی دے رہی ہے۔ جہاں تک ملک گیر احتجاج کی جو کال اپوزیشن دے رہی تھی ایک تو مشکل یہ ہے کہ جو احتجاج میں اضافہ ہو اور اس میں اور لوگ اور جماعتیں بھی شامل ہو جائیں جس طرح کہا جا رہا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں مل بیٹھیں لیکن آج جناب شہباز شریف صاحب کی جو تقریر قومی اسمبلی میں ہوئی ہے اس تقریر سے یہ ظاہر ہوتا ہےکہ شاید وہ کوئی مجموعی طور پر بڑی اپوزیشن کی تحریک چلانے کے پرجوش نہیں ہیں وگرنہ آج وہ اپنا وزن اس طرف ڈال دیتے اور دوسرا یہ بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کاجو دیکھا تو اک قطرہ خون نہ نکلابات یہ ہے کہ بڑا شور مچا ہوا تھا کہ مولانا فضل الرحمن میدان میں آ گئے وہ مولانا فضل الرحمن تو آج کہیں دور دراز تک دکھائی نہیں دیئے۔ نہ ان کی پارٹی دکھائی دی۔ نہ ان کی کوئی آنیاں جانیاں ہمیں دکھائی دیں لہٰذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ بہت کچھ سٹیک پر لگا ہوا اس وقت لوگوں کا اور آنے والے دو تین دن میں معاملات کی نوعیت پتہ چل جائے گی کیا پیپلزپارٹی اتنی بڑی جدوجہد کر سکے گی کہ گرفتاریوں کا سلسلہ رکوا سکے کیا باقی ساری سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر وہ ایک زیادہ بڑی تحریک چلانے کی پوزیشن میں ہو گی میرا خیال ہے کہ اس کا فوری فیصلہ نہیں کیا جا سکتا آنے والے تین چار دن اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کر دیں گے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ن لیگ کوئی زیادہ بڑی تحریک چلانے کے موڈ میں نہیں ہے اور اس ضمن میں شیخ رشید صاحب زیادہ پیش گوئیاں کرتے رہتے ہیں تو ان کی پیش گوئی دیکھ لینی چاہئے انہوں نے کل بھی پرسوں بھی کہا تھا کہ شہباز شریف صاحب کی واپسی کے بارے میں شہباز شریف جو ہیں وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں لگتا یہ ہے کہ یہ بھی دعویٰ شیخ رشید ہی کا تھا کہ وہ کسی انڈرسٹینڈنگ ہی حکومتی طاقتوں کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ کے تحت ہی باہر گئے تھے اور اس انڈرسٹینڈنگ کے تحت ہی واپس آئے ہیں اور غالباً اب بڑے پیمانے پر اپوزیشن شاید فوری طور پر دکھائی نہ دے۔ میرا خیال ہے کہ آج چونکہ پروڈکشن آرڈر کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اس لئے اگر پروڈکشن آرڈر پر عمل ہوتا ہے اور آصف زرداری صاحب کو کم از کم بجٹ اجلاس کے دوران قومی اسمبلی میں آنے دیا جاتا ہے تو پھر تو یہ تحریک ابھی فوری طوور پر دیکھ لیجئے گا کہ (منزل آ?ٹ) بکھر جائے گا لیکن اگر ان کو پروڈکشن اارڈر نہ ملا اور وہ قومی اسمبلی نہ آ سکے اور جس طرح خواجہ سعد رفیق کے بارے میں سپیکر نے بات مسلم لیگ ن والوں کی بات نہیں مانی اسی طرح سے آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر کے سلسلے میں اور ان کو قومی اسمبلی میں آ کر اپنا رول ادا کرنے کے سلسلے میں ان کو اجازت نہ دی گئی تو لگتا ہے کہ یہ موومنٹ بھی کافی حد تک بکھر جائے گا کیونکہ ایک لیمٹیشن ہوتی ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ میں تو یقینا اس پوزیشن میں ہے وہاں ان کی حکومت ہے۔ سندھ میں ان کی اکثریت ہے ایم پی اے اور ایم این اے بھی بہت زیادہ ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پنجاب میں بلوچستان میں خیبرپختونخوا میں بہرحال ان کی وہ پوزیشن نہیں ہے جو سندھ میں ہے لہٰذا جس طرح سے کل جو واقع ہونا تھا وہ تو ہو چکا ہے اب رات کو بیٹھ کر وہ جو بھی مشورہ کریں گے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس کا تعلق پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد کروانے سے ہے اور اگر پروڈکشن پر عملدرآمد ہو گیا تو پھر بظاہر یہ جو موومنٹ ہے یہ بھی ٹھنڈی پڑ جائے گی۔ میرا خیال ہے اگلی بڑی گرفتاری حمزہ شہباز کی بھی ہو سکتی ہے لیکن جو فورسز کہہ رہی ہیں خاص طور پر جس طرح شیخ رشید وغیرہ کہ شہباز شریف وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں اور وہ حکومت کے ایک حصے کے ساتھ بہت موثر طبقے کے ساتھ اپنی انڈر سٹینڈنگ کے ساتھ باہر گئے تھے اس سے لگتا ہے کہ شاید حمزہ شریف کی گرفتاری کی باری نہ آئے۔ یہ ایک ٹیسٹ کیس بھی ہے کیونکہ حمزہ شہباز شریف کے بارے میں سارے دلائل اور ثبوت موجود ہیں اور وہ بار بار اس پر کہہ بھی چکی ہے اگر انہوں نے ان کو گرفتار نہ کیا تو لگے گا وہ کسی انڈسرسٹینڈنگ کے تحت ایسے نہیں کر رہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کل صبح آصف زرداری کی گرفتاری نے تمام خبروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ورنہ عمران خان کی جو کل کا مختصر خطاب تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 30 جون تک لوگ اپنے اثاثے ڈکلیئر کر دیں اور ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھائیں ورنہ پھر ان کا دعویٰ ہے کہ ہمارے پاس سارے ثبوت موجود ہیں کہ کتنے لوگوں کے پاس ایسے اثاثہ جات موجود ہیں جو خفیہ رکھے گئے ہیں اگر وہ ڈکلیئر نہیں کریں گے تو ان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس ضمن میں گرفتاریوں کا بڑے پیمانے پر جھکڑ چلنے والا ہے اور گورنمنٹ اس کوو برداشت کر پائے گی یا نہیں اس پر تو بحث ہو سکتی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب وزیراعظم ایک بات کہہ چکے ہیں کہ وہ اس بات پر مصر ہیں کہ فلاں تاریخ تک یہ کر دیں ورنہ اب ورنہ کے بعد اگر وہ خاموش رہتے ہیں اور کوئی ایکشن نہیں لیتے تو بھی حکومت کی بڑی سبکی ہوتی ہے کہ کیا کر لیا کچھ بھی نہیں کر لیا۔ دوسری طرف اگر وہ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کرتے ہیں پھر متوقع ری ایکشن کے سلسلے میں ایک ملک میں فضا پیدا ہو جائے گی کہ بہت سارے لوگ اس میں شامل ہو سکیں گے۔اگلی بڑی گرفتاری حمزہ شہباز کی ہو سکتی ہے تاہم بقول شیخ رشید شہباز شریف وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے ہیں اور انڈرسٹینڈنگ کے تحت واپس آئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ شاید ابھی حمزہ کو گرفتار نہ کیا جائے۔ یہ ایک ٹیسٹ کیس بھی ہو گا کیونکہ حمزہ کے خلاف نیب کے پاس بڑے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ اگر 30 جون تک ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا لیں حکومت کے پاس جائیدادوں کی تمام تفصیلات موجود ہیں۔ اس ضمن میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا جھکڑ چلنے والا ہے اہم بات یہ ہے کہ کیا حکومت ایسا کرنے کی متحمل ہو سکتی ہے کیونکہ بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا ردعمل تو سامنے آئے گا۔ وزیراعظم ایمنسٹی سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کے لئے سخت الفاظ کا استعمال کیا ہے اب اگر خاموشی اختیار کی جاتی ہے اور کوئی کارروائی نہیں کی جاتی تو حکومت کی بڑی سبکی ہو گی۔آصف زرداری کی گرفتاری پر امکان تھا کہ حمزہ شہباز کے واقعہ کی طرح مزاحمت کی جائے گی تاہم اس گرفتاری کے سلسلے میں اداروں کی تیاریاں اتنی مکمل تھیں کہ رہائش گاہ کے باہر حمع ہونے والے کارکن کچھ نہ کر سکے۔ آصف زرداری نے بھی بڑی ہمت اور بہادری کے ساتھ گرفتاری دی ان کے بچوں نے خود انہیں رخصت کیا۔ آصفہ بھٹو اب سیاست میں فعال ہیں وہ آبائی سیٹ سے منتخب ہو کر اسمبلی آسانی سے پہنچ سکتی ہیں بلاول بھٹو کی سیاست کا اول امتحان اب شروع ہو گا، زرداری کی گرفتاری کے بعد اب وہ مکمل طور پر خود مختار ہیں اب ان کی بیدار مغزی کا پتہ چلے گا۔

وزیراعظم نیوزی لینڈ کا عراق سے فوج واپس بلانے کا فیصلہ

ویلنگٹن (ویب ڈیسک) نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے عراق میں فوجی مشن ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا افغانستان میں تعینات فوجیوں کی تعداد بھی کم کی جائے گی ، یہ مشن 2020تک جاری رہے گا۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے پریس کانفرنس میں عراق میں تعینات اپنے فوجی آئندہ برس تک واپس بلا لینے کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ آئندہ ایک برس کے دوران یہ مشن اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔اس موقع پر جیسنڈا آرڈرن نے مزید بتایا افغانستان میں تعینات فوجیوں کی تعداد بھی کم کی جا رہی ہیں تاہم وہاں فوجی مشن کم از کم بھی دسمبر سن 2020 تک جاری رہے گا۔عراق میں تعینات پچانوے کیوی فوجی داعش کے خلاف برسرپیکار عراقی فوجی دستوں کو تربیت فراہم کرنے کا کام سر انجام دیتے ہیں۔یاد رہے جون 2016 میں نیو زی لینڈ نے عراق میں اپنے فوجیوں کے قیام کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے کہا تھا عراقی فروسز کی ٹریننگ کو جاری رکھنے کے لیے نیوزی لینڈ کے فوجی مزید 18 ماہ تک عراق میں قیام کریں گے۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے 2014 ئ سے عراقی فوجیوں کو ٹریننگ فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

کھڑے ہوکر کھانا کھانے کے وہ نقصانات جن سے آپ لاعلم ہیں

لاہور(ویب ڈیسک)ہمیں اکثر اس بات کا خیال نہیں ہوتا کہ ہم کھڑے ہوکر کھانا کھا رہے ہیں اور نہ ہی ہم کبھی سوچتے ہیں کہ اس سے کیا نقصانات ہوسکتے ہیں لیکن اب کھڑے ہوکے کھانا کھانے والے افراد ہوشیار ہوجائیں اور اپنی اس عادت کو ختم کریں۔جرنل آف کنزیومر ریسرچ کی حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو افراد کھڑے ہو کے کھانا کھاتے ہیں ان میں جسمانی تناﺅ پیدا ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی وہ افراد ذائقے کو محسوس کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کھانا کھاتے ہوئے انسان کے جسم کی پوزیشن بہت اہمیت کی حامل ہے کہ وہ کس پوزیشن میں کھانا کھا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سکون سے بیٹھ کر کھانے والے افراد بہ نسبت کھڑ ہوکر کھانے والوں سے ذائقے کو بہتر محسوس کرتے ہیں، کھڑے ہوکے کھانا کھانے سے جسم کے سینسز متاثر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انسان میں جسمانی اور ذہنی تناﺅ بھی پیدا ہوجاتا ہے۔اس ریسرچ میں 350 لوگوں میں سے کچھ کو کھڑے ہوکر کھانا کھلایا گیا جب کہ کچھ افرد کو بیٹھ کر کھانے کو کہا گیا، ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی کہ جنہوں نے کھانا کھڑے ہوکے کر کھایا تھا ان کو اس کھانے کا ذائقہ محسوس نہیں ہوا جتنا بیٹھ کے کھانے والوں کو محسوس ہوا۔ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ جب انسان کھڑے ہوکر کھانا کھاتا ہے تو کشش ثقل کی وجہ سے دل کو خون پورے جسم تک پہچانے میں مشکل ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کے جسم میں اسٹریس ہارمونس نکلتے ہیں اور اس سے ذائقے کی حس بھی متاثر ہوتی ہے۔

مالی کے گاﺅں میں مسلح افراد کا حملہ، 95 افراد ہلاک اور 19 لاپتا

باماکو(ویب ڈیسک) افریقی ملک مالی کے ایک گاﺅں میں مسلح گروہ کے حملے میں اب تک 95 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ 19 لاپتا ہیں۔مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اس نسل پرستانہ حملے میں مرکزی مالی میں واقع ڈوگون گاﺅں میں کم سے کم 95 افراد مارے گئے اور اسی کے ساتھ واقع سوبانِ کوہ نامی ایک گاﺅں سے 19 افراد بھی لاپتا ہیں۔ یہ حملہ پیر کی صبح کیا گیا تھا۔حملہ آوروں نے مکانات کو بھی آگ لگادی اور مویشیوں کو بھی ہلاک کردیا جبکہ حکومت نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی۔ اب تک کسی نے بھی واقعے کی ذمے داری نہیں قبول نہیں کی، چونکہ ایک عرصے سے دو نسلی گروہوں کے درمیان کشیدگی جاری تھی اور مارچ میں ڈوگون گاﺅں کی ملیشیا نے فولانی گاﺅں میں ایک بڑا قتلِ عام کیا تھا اس لیے امکان ہے کہ آج کا حملہ اس کا ردِ عمل ہوسکتا ہے۔اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے قریبی شہر بانکاس کے میئر نے کہا ہے کہ فولانی قبیلے کے لوگوں نے رات کے کسی پہر دیہات پر دھاوا بولا ہے دیگرمقامی لوگوں نے 95 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جو سوختہ ہوچکی ہیں۔اس گاﺅں میں 300 سے زائد افراد رہائش پذیر تھے اور لاپتا ہونے والوں کی بھی تلاش جاری ہے۔ اب اس گاﺅں اور دیگر علاقوں میں فوج کا گشت جاری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جاسکے۔واضح رہہے کہ ڈوگون اور فولانی قبائل کے درمیان ایک عرصے سے اس نیم صحرائی خطے میں چپقلش جاری ہے۔ یہاں القاعدہ اور داعش کے گڑھ بھی موجود ہیں اور اس طرح تجارت اور مویشی پالنے والے فولانی اور کھیتی باڑی کرنے والے ڈوگون اب جنگجو بن چکے ہیں۔

ڈالر کی ایک بار پھر اونچی اڑان، اوپن مارکیٹ میں 3 روپے کا اضافہ

کراچی(ویب ڈیسک) اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے بعد ڈالر کی قیمت 151 تک پہنچ گئی ہے۔ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اوپن مارکیٹ میں 3روپے اضافے کے بعد ڈالر کی قیمتِ فروخت 151 روپے تک پہنچ گئی ہے جب کہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 2.40 روپے مہنگا ہوگیا ہے۔دوسری جانب عید تعطیلات کے بعد کاروباری ہفتے کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی دیکھنے میں آئی اور 409 پوائنٹس کی کمی سے انڈیکس 35 ہزار 95 پوائنٹس کی سطح پر آگیا جب کہ کچھ ہی دیر بعد 100 انڈیکس میں 758 پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی اور انڈیکس 34700 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔

سابق کرکٹر اختر سرفراز انتقال کرگئے

پشاور(ویب ڈیسک) قومی ٹیم کے سابق کرکٹر اختر سرفراز 43 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔سابق کرکٹر اختر سرفراز 20 فروری 1976 کو پشاور میں پیدا ہوئے اور انہوں نے صرف 4 ایک روزہ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی تاہم انہوں نے قومی ٹیم کی جانب سے 118 فرسٹ کلاس میچز کھیلے۔ اختر سرفراز نے شارجہ کے میدان میں دسمبر 1997 میں ویسٹ انڈیز کیخلاف ون ڈے ڈیبیو کیا۔

مرغ کی زوردار بانگ نے پڑوسیوں میں قانونی جنگ چھیڑدی

پیرس(ویب ڈیسک) شمال کے جنوب مغرب میں واقع ایک دیہی علاقے سینٹ پیری ڈی اولیرون میں مورِس نامی مرغے نے راتوں رات شہرت حاصل کرلی ہے۔ لیکن اس کی وجہ مرغ کی زوردار بانگ ہے جو پڑوسیوں کو بھی متاثر کررہی ہے۔سینٹ پیری ڈی اولیرون کے ایک خاندان نے کہا ہےکہ پڑوسی کا مرغ صبح اتنی زوردار بانگ دیتا ہے کہ اس سے بعض پڑوسی شدید پریشان ہیں اور وہ بغیر رکے صبح کے ساڑھے آٹھ بجے تک اذان دیتا رہتا ہے۔ جبکہ مرغے کے مالک نے کہا ہے کہ یہ ایک دیہی علاقہ ہے جہاں پرندوں کی آوازیں اور مرغ کی پکار ایک عام بات ہے۔لیکن یہاں سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں جو کچھ پل سکون کے گزارنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے پڑوسیوں نے مقامی عدالت میں ایک شوردار مرغ کے خلاف ایک درخواست جمع کرائی ہے۔2017 میں مرغ کی مالکن کورائن فیسیو کو ایک نوٹس ملا جس میں ’ پڑوس میں گڑبڑ پھیلانے‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے مرغے کے ڈربے کو ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔اس کے بعد مرغے کی مالکن نے اسے دیر تک دڑبے میں ہی محصور رکھا لیکن پڑوسیوں کی تسلی نہ ہوئی اور اپریل 2018 میں ایک درخواست گزار اس کے گھر آیا اور مرغ کی بانگ کے ثبوت ریکارڈ کرکے لے گیا اور چند ماہ بعد مرغ کے مالک پر ایک باقاعدہ مقدمہ دائر کردیا گیا۔کورائن فیسیو کہتی ہیں کہ یہ دیہی علاقہ ہے جہاں کل کو کوئی گدھا یا مینڈک بھی شور مچاسکتے ہیں۔ سیاح اور چھٹیاں گزارنے والے یہاں ضرورآئیں لیکن اپنی شرائط نہ تھوپیں۔اس کے بعد یہ معاملہ علاقے کے میئر تک چلاگیا اور انہوں نے دونوں فریقین کے درمیان مصالحت کی کوشش کی اور اب تک یہ معاملہ حل نہیں ہوسکا اور عدالت میں ہی زیرِ سماعت ہے۔

ورلڈکپ 2019: ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقا کا میچ بارش کے باعث منسوخ

لندن(ویب ڈیسک) جنوبی افریقا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ورلڈ کپ کا 15واں میچ بارش کے باعث منسوخ کردیا گیا اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ مل گیا۔جنوبی افریقا نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 7.3 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 29 رنز بنائے تھے کہ بارش کے باعث میچ روک دیا گیا۔ ساﺅتھمپٹن کے روز باﺅل گراﺅنڈ میں ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تو پروٹیز اوپنرز کوئنٹن ڈی کوک اور ہاشم آملہ نے اننگز کا آغاز کیا۔ جنوبی افریقا کا مجموعی اسکور 11 تھا تو ہاشم آملہ کوٹریل کا شکار بن گئے اور کرس گیل کو کیچ دے بیٹھے جس کے بعد دوسری وکٹ پر ایڈن مارکرم میدان میں اترے اور 5 رنز بنانے کے بعد میدان بدر ہوگئے۔ویسٹ انڈیز کی جانب سے دونوں وکٹیں شیلڈن کوٹریل نے حاصل کیں۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ون ڈے سیریز میں اسی میدان پر انگلینڈ اور پاکستان نے 373 اور 361 رنز بنائے تھے اور آج کا میچ بھی ہائی اسکورنگ ہونے کا امکان تھا۔دونوں ٹیموں میں دو دو تبدیلیاں کی گئی تھیں، جنوبی افریقی ٹیم میں جے پی ڈومنی اور تیریز شمسی کی جگہ ایڈن مارکرم اور بیرون ہیڈرکس کو شامل کیا گیا جب کہ ویسٹ انڈیز نے آندرے رسل اور این لیوس کی جگہ ڈیرن براوو اور کیمار روچ کو شامل کیا تھا۔