کرکٹ ورلڈکپ، بنگلادیش اور سری لنکا کا میچ بارش کے باعث منسوخ

برسٹل(ویب ڈیسک) بنگلادیش اور سری لنکا کے درمیان میچ بھی بارش کے باعث منسوخ کردیا گیا ہے اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ مل گیا ہے۔کرکٹ ورلڈکپ کے سنسنی خیز مقابلوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم بارش کے باعث اب تک ایونٹ کے 2 میچز متاثر ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے شائقین کو کافی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا، آج ایونٹ کا سولہواں میچ برسٹل میں بنگلادیش اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جانا تھا تاہم میچ ایک بار پھر بارش کے باعث منسوخ کردیا گیا اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ مل گیا ہے۔ برسٹل کا کاﺅنٹی گراﺅنڈ گیلا ہونے کی وجہ سے بنگلا دیش اور سری لنکا کے میچ کا ٹاس بھی نہ ہوسکا ہے، میچ کے لیے پہلے 30 منٹ بعد امپائرز کو میدان کا معائنہ کرنا تھا تاہم بارش کی وجہ سے معائنہ نہیں کیا جاسکا، مزید 45 منٹ انتظار کے بعد امپائرز ایک بار پھر گراﺅنڈ کا معائنہ کرنا تھا تاہم مسلسل بارش کے باعث میچ دوبارہ شروع نہ ہوسکا۔

امیتابھ بچن کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ ہیک، وزیراعظم عمران خان کی تصویر لگادی

بالی وڈ (ویب ڈیسک)بالی وڈ کے میگا اسٹار امیتابھ بچن کا آفیشل ٹوئٹر اکاﺅنٹ ہیک کرلیا گیا اور ہیکرز نے پروفائل پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی تصویر لگادی۔امیتابھ بچن بھارتی سنیما کے ا±ن چند اداکاروں میں شامل ہیں جو سوشل میڈیا پر فعال رہتے ہیں اور اپنی مصروفیات سے مداحوں کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔بالی وڈ میگا اسٹار کے ٹوئٹر پر 3 کروڑ 73 لاکھ سے زائد فالورز ہیں لیکن اب اس آفیشل اکاﺅنٹ کو ہیکرز نے ہیک کرلیا ہے۔ہیکرز نے

امیتابھ بچن کا اکاﺅنٹ ہیک کرکے وزیراعظم عمران خان کی تصویر لگادی ہے اور ساتھ ہی چند پیغامات بھی ٹوئٹ کیے ہیں۔بگ بی کے اکاﺅنٹ سے پاکستان اور ترکی کے پرچم والی تصویر بھی شیئر کی گئی اور ساتھ ہی پیغام بھی دیا گیا۔ ایک اور ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران

خان کی تصویر بھی شیئر کی گئی اور ساتھ ہی پاکستان سے محبت کا پیغام دیا گیا ہے۔میگا اسٹار کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ تقریباً نصف گھنٹہ ہیک رہنے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے دوبارہ بحال کیا گیا اور ٹوئٹس بھی ہٹادیں۔

حکومت نے بجٹ 2019-2020 پیش کردیا

 اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مالی سال 2019-20 کا بجٹ پیش کردیا جس کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے جو کہ گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد ہے۔اجلاس میں وزیراعظم عمران خان بھی موجود تھے جب کہ وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر بجٹ پیش کیا، اس دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی۔حماد اظہر نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہماری حکومت آئی تو مالیاتی خسارہ 2260ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، مجموعی قرضے 31ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے تھے، ہم نے تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر کم کیا اور اب بجلی کے گردشی قرضوں میں12 ارب روپے کی کمی آئی ہے۔
بجٹ کا حجم 7 ہزار 22 ارب روپے
بجٹ 20۔2019 کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے جو کہ گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد ہے،ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 555 ارب روپے رکھا گیا ہے، جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا تناسب 12 اعشاریہ 6 فیصد ہے، مالی خسارے کا تخمینہ 3 ہزار 137 ارب روپے ہے۔
کولڈرنکس ، چینی ،تیل، زیورات مہنگے
کولڈڈرنکس پرڈیوٹی 11.5سے بڑھاکر 13 فیصد جب کہ مشروبات پر ڈیوٹی 11.25سے بڑھا کر 14فیصد کردی گئی، چینی پرسیلزٹیکس 8سے بڑھاکر 13 فیصدکردیاگیا جس سے چینی کی قیمت ساڑھے 3 روپےفی کلوبڑھےگی، خوردنی تیل اور گھی پر بھی 14فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، سونے، چاندی، ہیرے کے زیورات پرسیلزٹیکس بڑھانےکافیصلہ کیا گیا ہے۔
چکن،مٹن، بیف اورمچھلی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس
بجٹ میں سنگ مرمر کی صنعت پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے، سیمی پراسس اورپکے ہوئے چکن،مٹن، بیف اورمچھلی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
کم از کم تنخواہ
وفاقی حکومت نے کم ازکم تنخواہ 17 ہزار 500 مقرر کرتے ہوئے بتایا کہ اضافہ 2017 سے جاری تنخواہ پر ہوگا۔
گاڑیوں پر ڈیوٹی
ایک ہزار ایک سی سی سے 2 ہزار سی سی تک گاڑیوں پر پانچ فیصد جب کہ 2 ہزار سی سی سے زائد کی گاڑی پر ڈیوٹی ساڑھے سات فیصد عائد کی گئی ہے۔
تنخواہ دار اورغیر تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں اضافہ
بجٹ میں تنخواہ دار اورغیر تنخواہ دارافراد کے لیے ٹیکس شرح میں اضافہ اور تنخواہ دار ملازمین کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کی حد 12لاکھ سے کم کرکے 6 لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جب کہ غیر تنخواہ دار انفرادی ٹیکس دہندگان کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کہ حد کم کرکے چار لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، غیر تنخواہ دار طبقے کو سالانہ چار لاکھ آمدن پر ٹیکس دینا ہو گا۔
آئی ایم ایف معاہدہ
حماد اظہر نے کہا کہ آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالرکے معاہدہ ہوگیا ہے، چین سے313 اشیاکا ڈیوٹی فری برآمدات کافیصلہ کیاگیا جب کہ 95 منصوبے شروع کرنے کیلئے فنڈزجاری کئے گئے۔
دفاعی بجٹ
وزیرمملکت نے بتایا کہ دفاع اورقومی خودمختاری ہرچیزسے مقدم ہے، سول اور عسکری حکام نے اپنے بجٹ میں مثالی کمی کی ہے تاہم دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے پربرقرار رہے گا، حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کردیے ہیں، ملک میں صرف380کمپنیاں کل ٹیکس کااسی فیصد دیتے ہیں جب کہ 31لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں اس لیے ہمیں تنخواہوں کیلئے بھی قرض لیناپڑتاہے، قرضوں اور ایڈوانسز کی بازیابی کا نظر ثانی میزانیہ 183.520ہدف رکھاگیا۔
نجکاری پروگرام
بجٹ تقریر کے مطابق قومی ترقیاتی پروگرام کیلیے1800 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جب کہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 894 ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، بیرونی ذرائع سے حاصل ہونیوالی وصولیوں کا ہدف 1828 ارب 80کروڑ روپے جب کہ نجکاری پروگرام سے 150ارب روپے حاصل ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس طرح کل دستیاب وسائل کا تخمینہ 7036ارب 30 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔
کراچی و بلوچستان کی ترقی
حماد اظہر نے کہا کہ کراچی کے ترقیاتی بجٹ کے لیے45.5ارب روپے رکھے جارہے ہیں، جب کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے 10.4ارب روپے رکھے جارہے ہیں، سکھر ،ملتان سیکشن کے لیے 19ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، توانائی کے لیے 80ارب روپے اور انسانی ترقی کے لیے 60 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
تعلیم
بجٹ میں ہائرایجوکیشن کمیشن کے لیے 59 ارب 10 کروڑ جب کہ وفاقی وزارت تعلیم کے لیے 13 ارب 70 کروڑ 90 لاکھ مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے،مقبوضہ کشمیر کے طلباءکے لیے اسکالرشپ کی مد میں 10 کروڑ 56 لاکھ روپے اور کمیونٹی اسکولز 20 کروڑ35 لاکھ مختص کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔ وفاقی وزارت تعلیم کے لیے 4ارب،79کروڑ67لاکھ کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے،نیشنل کمیشن فارہیومین ڈویلپمنٹ کے لیے بجٹ میں 11کروڑ10لاکھ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
آبی وسائل و غیر ترقیاتی اخراجات
وزیر مملکت نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ آبی وسائل کیلیے70 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں،غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 6192ارب 90 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، پنشن کی مد میں اخراجات کا تخمینہ 421ارب روپے رکھا گیا ہے،سود کی ادائیگیوں کے لیے2891ارب 40 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں اور آیندہ سال کے دوران سبسڈی کیلئے271ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجلی و گیس پر سبسڈی
وزیرمملکت نے کہا کہ بجلی چوری کے خلاف منظم مہم شروع کی ہے،بجلی اور گیس کے لیے 40ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے جب کہ گیس کا گردشی قرضہ 150ارب روپے ہےاور اگلے 24ماہ میں گردشی قرضوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ 44.8ارب روپے گندم اور چاول کی پیدوار بڑھانے کے لیے مختص کیے گئے اور فاٹا کے علاقوں کے لیے 152ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
تنخواہوں میں اضافہ
وزیرمملکت نے وفاقی سرکاری ملازمیں کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ گریڈ 17 تک کے ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، گریڈ17سے21 تک کےملازمیں کیلئے پانچ فیصد اضافہ کیاگیا ہے جب کہ وفاقی کابینہ کے وزرانے اپنی تنخواہوں میں دس فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔
ریسٹورنٹ اور بیکری کی اشیا پر سیلز ٹیکس میں کمی
کاغذ کی پیداوار کے لیے خام مال کوکسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ، ادویات کی پیداوارکے خام مال کی 19 بنیادی اشیا کو 3 فیصد امپورٹ ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کی تجویز دی گئی ہے، اسی طرح ریسٹورنٹ اوربیکری کیلئے چیزوں میں سیلزٹیکس 17 سے کم کرکے 7.5 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

نیب کیسزنئے نہیں ہیں، گزشتہ حکومتوں کے بنائے ہوئے ہیں، صوبائی وزیراطلاعات

لاہور(ویب ڈیسک)صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات پنجاب صمصام بخاری نے کہا ہے کہ حکومت کا گرفتاریوں سے کوئی تعلق نہیں۔مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنما اب کہتے ہیں کہ انھیں نیب میں اصلاحات کرنی تھیں۔نیب کے کیسز نئے نہیں ہیں یہ گزشتہ حکومتوں کے بنائے ہوئے ہیں۔ن لیگ کے دو ادوار میں زرداری صاحب کو جیل میں ڈالا گیا کیا وہ پی ٹی آئی نے ڈالا تھا؟اپوزیشن کو اتحاد چارٹر آف پروٹکشن آف کرپشن ہے۔اگر کسی پی ٹی آئی رہنما پر چارج آتا ہے تو وزیراعظم عمران خان کسی کے ساتھ نہیں کھڑے ہیں۔ہم کسی انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔انکے اکاﺅنٹس دیکھیں کوئی فالودے والا ہے تو کوئی ریڑھی والا۔زرداری صاحب کہتے ہیں کہ میرے وقت میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا۔ہم یہی بتا رہیں ہیں کہ سیاسی قیدی کوئی نہیں انھوں نے وائٹ کالر کرائم کیے ہیں۔ہمارا عوام کے ساتھ وعدہ یہ ہے کہ ہم احتساب کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔قومی اور صوبائی اسمبلی میں سپیکر کا استحقاق ہے کہ کسی کو پروڈکشن آرڈرز جاری کریں۔

ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین لندن میں گرفتار

لندن(ویب ڈیسک) برطانوی پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کو لندن میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے صبح سویرے الطاف حسین کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔برطانوی پولیس نے بانی ایم کیوایم الطاف حسین کومقامی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا ہے جہاں ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی جب کہ اس وقت ان کے گھر کی تلاشی لی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق شمالی لندن میں ان کے گھر پر چھاپے میں 15 پولیس افسران نے حصہ لیا۔الطاف حسین کو 2016 میں نفرت انگیز تقاریرکے مقدمات میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے حوالے سے پاکستانی حکومت نے تفصیلات برطانیہ کو فراہم کی تھیں اورلندن پولیس اپنے قانون کے مطابق الطاف حسین سے تحقیقات کرے گی۔میٹروپولیٹن پولیس نے الطاف حسین کا نام لیے بغیر اپنے بیان میں کہا کہ منگل کے روز شمال مغربی لندن میں ایم کیو ایم کے ایک شخص کو گھر سے گرفتار کیا گیا ہے جس کی عمر 60 سال ہے، اس کی گرفتاری برطانوی قانون کی سیکشن 44 کی خلاف ورزی کے تحت عمل میں آئی اور اس کے خلاف جان بوجھ کر جرم کی مدد اور حوصلہ افزائی کا الزام ہے۔میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق مذکورہ شخص کواگست 2016 اور اس سے پہلے کی اشتعال انگیز تقاریر کے تناظر میں گرفتار کیا گیا، جبکہ پاکستانی حکام کے ساتھ مل کراس کیس کی تحقیقات کی گئیں اوراب 2 مقامات کی تلاشی لی جارہی ہے۔ذرائع کے مطابق بانی ایم کیوایم کے وکلا کی جانب سے ضمانت کیلیے درخواست بھی دائرکردی گئی ہے۔ دوسری جانب ایف آئی اے کی طرف سے برطانوی وکیل ٹوبی کیڈمین الطاف حسین کے خلاف کیس میں پیش ہوں گے جب کہ جے آئی ٹی سربراہ مظہرالحق کاکا خیل کچھ دنوں میں کیس کی پیروی کیلیے لندن جائیں گے۔واضح رہے کہ الطاف حسین پاکستان میں قتل و غارت، دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے متعدد مقدمات میں مطلوب اور اشتہاری ہیں۔

نیب نے حمزہ شہباز کو گرفتار کرلیا

لاہور (ویب ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت خارج کردی جس کے بعد نیب نے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے آمدن سے زائد اثاثے اور رمضان شوگر ملز کیس میں حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت کی سماعت کی۔ حمزہ شہباز اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔نیب نے اپنے موقف میں کہا کہ حمزہ شہباز کی رمضان شوگر ملز میں درخواست ضمانت ناقابل سماعت ہے، جو مسترد کرکے ان پر جرمانہ عائد کیا جائے، ان کے نیب پر الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں، انہوں نے 2015 میں 36 کروڑ روپے سے مقامی آبادیوں کے نام پر رمضان شوگر ملز کیلئے نالہ تعمیر کیا۔نیب وکیل نے بتایا کہ حمزہ شہباز شریف کو 7 نوٹسز بھیجے گئے لیکن وہ پیش نہیں ہوئے، حمزہ نے منی لانڈرنگ بھی کی اور مشکوک اکاﺅنٹ کا انکشاف ہوا، ان کی رقوم منتقل کرنے میں پاکستان سے دو کمپنیاں ملوث ہیں جبکہ بیرون ملک بھی کمپنیاں ملوث ہیں۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیے کہ سو فیصد قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا، باہر کیا باتیں ہو رہی ہے ہمیں کسی سے غرض نہیں، ہم صرف اللہ کو جواب دہ ہیں۔حمزہ شہباز نے عدالت سے استدعا کی کہ ضمانت میں توسیع کی درخواست کو منظور کیا جائے جس پر عدالت نے کہا کہ یہ ایک آئینی درخواست ہے جس میں توسیع کا اختیار احتساب عدالت کے پاس ہے۔ اس پر حمزہ شہباز نے ضمانت کی دونوں درخواستیں واپس لے لیں۔ عدالت نے سماعت کے بعد حمزہ شہباز کی درخواستیں خارج کردی جس کے بعد نیب کی ٹیم نے انہیں گرفتار کرلیا۔سماعت کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور پولیس کی بھاری نفری موجود رہی۔

وزیر قانون وبلدیات راجہ بشارت کا حمزہ شہباز کی گرفتاری پر تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک )حمزہ کی گرفتاری کرپشن کے مقدمات میں عدالتی کارروائی کا حصہ ہے ۔حکومت کرپشن کے خاتمے اورلوٹی گئی قومی دولت کی واپسی کے لیے پرعزم ہے ۔ بلا تفریق اوربے لاگ احتساب تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے۔وکلا ءآئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور کرپشن کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات کی تائید کریں۔ آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور کرپشن کے خاتمے کے لیے وکلاءکی جدوجہد قابل تحسین ہے۔

تحریک انصاف حکومت عوام کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچنے دے گی

لاہور (ویب ڈیسک )وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت عوام کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچنے دے گی۔ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کیلئے نیا بلدیاتی نظام ممددومعاون ثابت ہوگا۔ اپنے مسائل کے حل کیلئے عوام کو اہل اقتدار کے ایوانوں کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ یہی وہ تبدیلی ہے جس کیلئے عوام نے تحریک انصا ف کو ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں پہنچایا ہے۔ ہم سب عوام کو جواب دہ ہیں۔ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر، غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔عوام کو اچھی خدمات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔یہ وقت محنت کر کے عوام کو ڈلیور کرنے کا ہے۔پولیس اور انتظامیہ کو مشترکہ اور مربوط کاوشو ں سے گورننس کو بہتر بناناہے۔ عام آدمی کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کیلئے انفرادیت اور جدت کے ساتھ کام کیا جائے گا۔ عوامی خدمت کے مشن میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایم کیو ایم لندن کے بانی الطاف حسین گرفتار

لندن(ویب ڈیسک)اسکاٹ لینڈ یارڈ نے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو لندن میں گرفتار کرلیا۔اسکاٹ لینڈ یارڈ نے صبح سویرے بانی ایم کیوایم کےگھر پر چھاپا مارا جس کے بعد انہیں مقامی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔اسکاٹ لینڈ یارڈ کے شمالی لندن میں چھاپے میں 15 پولیس افسران نے حصہ لیا اور اس وقت الطاف حسین کے گھر کی تلاشی لی جارہی ہے۔اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم ایم کیو ایم سیکرٹریٹ بھی پہنچ گئی اور وہاں موجود ریکارڈ کی چھان بین شروع کردی۔بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری ممکنہ طور پر 2016 کی نفرت انگیز تقریر پر کی گئی ہے۔

حکومت مارتی ہے اور رونے بھی نہیں دیتی ، عوام کی خاطر لڑیں گے : بلاول بھٹو

اسلام آباد (آن لائن، آئی این پی) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت مارتی ہے اور رونے بھی نہیں دیتی جو رویہ حکومت نے اپنایا ہے ایسا تو ڈکٹیٹرز کے دور میں بھی نہ تھا ، موجودہ حکومت سلیکٹڈ عدلیہ ، سلیکٹڈ میڈیا اور سلیکٹڈ اپوزیشن چاہتی ہے ، آج فاٹا ، سندھ اور بلوچستان سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ نیا پاکستان نہ کھپے ، آج اسٹیبلشمنٹ سب کچھ چلا رہی ہے لیکن ہماری کوشش ہے کہ جمہوریت چلے ، فوج بارڈر ، بیرک اور میدان جنگ میں ہوتی ہے وہی اچھی لگتی ہے ، آصف زرداری نے بطور احتجاج گرفتاری دی، نیب ٹیم بغیر آرڈر زرداری کو گرفتارکرنے پہنچی تھی، آج ہمارے منصفانہ ٹرائل کا حق مجروح کیا گیا، علیمہ خان کو ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے کلین چٹ دی گئی، اپوزیشن کا احتساب سیاسی انتقام ہے،مشرف،ضیائ اور عمران خان کے پاکستان میں کوئی فرق نہیں،پاکستان ڈکٹیٹرشپ کا شکار رہ چکا ہے، ہمیں جمہوریت کو مضبوط کرنے میں ٹائم لگے گا،مجھے امید ہے کہ پارلیمان اپنی مدت پوری کرے گی، نیب کا قانون کالا قانون ہے ہم ڈرنے والے نہیں پاکستان کے عوام کی خاطر لڑیں گے ہم نے اپنی دو نسلیں قربان کی ہیں۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایوان ڈپٹی اسپیکر کا رویہ قابل مذمت ہے ، انہیں فوری استعفیٰ دینا چاہیے۔حکومت کا رویہ ہے کہ مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے۔یہ حکومت سلیکٹڈ میڈیا، سلیکٹڈعدلیہ اور سلیکٹڈ عدلیہ چاہتی ہے، عدلیہ پر بھی حملہ کیا گیا۔بلاول نے کہا کہ اس نئے پاکستان میں مشرف ، ایوب یا پھر ضیائ کے پاکستان میں کیا فرق ہے؟ تب بھی بولنے کی اجازت نہیں تھی ، آج بھی نہیں ہے۔تب بھی چیف جسٹس کو کورٹ سے نکالنے کی سازش کرتے تھے آج بھی سلسلہ جاری ہے۔مجھ پر فرض ہے اس جمہوریت ، انسانی حقوق ، غریبوں کے معاشی حقوق کیلئے جدوجہد کرنا مجھ پر قرض ہے۔میں نے اسپیکر سے پوچھنا تھا کہ آپ دھمکیوں سے اس بچے کو کیسے ڈرائیں گے؟ جس کے نانا کوآپ نے پھانسی پر چڑھا دیا، جس کی والدہ کو بم دھماکے میں شہید کروا دیا، ایک ماماکو زہر اور دوسرے کو ٹارگٹ کلنگ میں مروا دیا۔جنہیں پھانسی گھاٹ اور بم دھماکوں سے نہیں ڈرایا جاسکا، بی بی شہید کے بچے کو جیل اور گرفتاریوں سے نہیں ڈرایا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارے منصفانہ ٹرائل کا حق مجروح کیا گیا۔نیب ٹیم بغیر آرڈر زرداری کو گرفتارکرنے پہنچی۔آصف زرداری نے آج بطور احتجاج گرفتاری دی۔انہوں نے کہا کہ جو بزدل حکومت ہوتی ہے ، وہ خواتین پر تشدد کرتی ہے،عدلیہ کا مقابلہ نہیں کرسکتی ، توپھر ججز کو ہٹانے کی کوشش کرتی ہے، بزدل حکومت بلاول بھٹو، شہبازشریف، منظور پشتین، اسفند یار ولی کسی کی تنقید برداشت نہیں کرسکتی۔یہ بہت خوفزدہ ہیں،یہ حکومت بجٹ میں مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان لایا جایا رہا ہے۔لگتا ہے یہ نہیں چاہتے پارلیمنٹ چلے۔ہمارا قومی اسمبلی کا سیشن چل رہا ہے، کل سے بجٹ پیش ہونا ہے، عوامی مسائل پرباتیں ہوئیں۔امیروں اور علیمہ خان کیلئے ایمنسٹی اسکیم جبکہ غریبوں کیلئے مہنگائی ہے۔علیمہ خان کو کلین چٹ مل گئی ہے۔جہانگیرترین کو کوئی نہیں پوچھے گا، وہ ڈیفیکٹو وزیراعظم ہوگا،علیمہ خان کا احتساب کہاں ہے؟ صرف اپوزیشن کا احتساب ہونا سیاسی انتقام کہلاتا ہے۔یہ دوغلانظام ہے۔خان نے کہا تھا کہ دو نہیں ایک پاکستان، لیکن سب کے سامنے ہے ایک نہیں دوپاکستان ہے۔نیب کا قانون کالا قانون ہے۔میں نے عید سے قبل اعلان کیا تھا کہ ہم مہنگائی کیخلاف احتجاجی تحریک چلائیں گے۔پیپلزپارٹی نے حکومت ہٹانے کیلئے ہمیشہ جمہوری حق کی بات کی ہے،یہ جوپارلیمان اپنی مدت پوری کرے،ہم نے ہمیشہ کوشش کی۔ہماری حکومت نے پہلی بار پارلیمان کی مدت کو مکمل کیا۔لیکن حکومت کو چلانا حکومت کی ذمہ داری ہے ، ان کے پاس حکومت چلانے کیلئے کوئی پالیسی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ زرداری اور نوازشریف کو جیل میں کردیا،کرپٹ تواب جیل میں ہیں لیکن ان شفاف حکومت نے جوپیسا بچایا وہ کہاں ہے؟انہوں نے کہا کہ ہماری دونسلیں شہید ہوئیں، لیکن ان کوابھی بھی پتا نہیں چلا کہ ہم ڈرنے والے لوگ نہیں ہیں۔انہوں نے جوظلم کرنا ہے کرلیں۔بلاول بھٹو نے ایک سوال پر کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بڑا معصومانہ سوال ہے کہ اگر میں اس کا جواب دے دوں توآپ کا نہ ٹی وی شو ہے، آپ کا توبلاگ ہی چلے گا۔لیکن اتنا آسان سوال ہے کہ یہ حکومت انہی نے توبنایا ہے۔سچ تویہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہی سب کچھ چلا رہی ہے۔لیکن پیپلزپارٹی کی کوشش ہے کہ ان کوقائل کیا جائے کہ جمہوری ملکوں میں فوج تین جگہوں پر ہوتی ہے۔پاکستان ڈکٹیٹرشپ کا شکار رہ چکا ہے، ہمیں جمہوریت کو مضبوط کرنے میں ٹائم لگے گا۔مجھے امید ہے کہ پارلیمان اپنی مدت پوری کرے گی۔ بلاول نے کہا کہ نیب کا قانون کالا قانون ہے ہم ڈرنے والے نہیں پاکستان کے عوام کی خاطر لڑیں گے ہم نے اپنی دو نسلیں قربان کی ہیں۔

ڈالر 3 روپے مہنگا ، سٹاک مارکیٹ میں مندی

کراچی (آن لائن، اے این این) پاکستانی روپے کے مقابلے میں تیزی سے اڑان بھرنے والے امریکی ڈالر نے آج پھر پاکستانی روپے کو مات دی ہے۔ انٹر بینک میں آج امریکی ڈالر 2 روپے 15 پیسے مہنگا ہوگیا، قدر میں 2 روپے 15 پیسے اضافے کے بعد ڈالر کی قیمت ِ فروخت انٹر بینک میں 150روپے 75 پیسے ہو گئی، انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 75پیسے بڑھ گئی، انٹر بینک میں ڈالر کی قیمتِ خرید 150 روپے 50 پیسے ہوگئی ہے۔ دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی کاروبار کے آغاز میں مندی چھائی ہوئی ہے۔ کاروبار کے دوران 100 انڈیکس 670 پوائنٹس کمی سے 34827 کی سطح پر آ گیا، 100 انڈیکس 35 ہزار پوائنٹس کی اپنی حد برقرار نہیں رکھ سکا۔ اس سے پہلے گزشتہ ہفتے انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 75 پیسے بڑھ گئی تھی اور ڈالر کی قیمت خرید 147 روپے 85 پیسے سے بڑھ کر 148 روپے60 پیسے جبکہ قیمت فروخت 148 سے بڑھ کر 148 روپے 90 پیسے ہو گئی تھی۔اسی روز اوپن مارکیٹ میںروپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 20 پیسے کم ہو ئی تھی اور قیمت فروخت 148 سے کم ہو کر 147 روپے 80 پیسے جبکہ قیمت فروخت 149 سے کم ہو کر 148 روپے 80 پیسے ہو گئی تھی۔ انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 2 روپے 40 پیسے اور اوپن مارکیٹ میں 3 روپے مہنگا ہو گیا دوسری جانب سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان رہا اور 700 پوائنٹس سے زائد کی کمی دیکھنے میں آئی۔معاشی بدحالی کے اثرات کھل کر سامنے آنے لگے جس کے سبب روپیہ پھر لڑکھڑا گیا اور امریکی کرنسی کی قدر میں 3 روپے تک اضافہ ہو گیا۔ انٹر بینک مارکیٹ میں 2 روپیہ 40 پیسے ریٹ بڑھنے کے بعد ڈالر 151 روپے پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ یاد رہے کہ عید تعطیلات سے پہلے ڈالر انٹربینک میں 148 روپے 60 پیسے پر بند ہوا تھا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 3 روپے مہنگا ہوا اور 151 کے ریٹ پر ہی فروخت ہوا۔دوسری جانب سٹاک مارکیٹ میں مندی کے سبب 700 سے زائد پوائنٹس کی کمی ہوئی جس کے بعد 100 انڈیکس 35 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد برقرار نہ رکھ سکا۔ 409 پوائنٹس کی کمی سے انڈیکس 35 ہزار 95 پوائنٹس کی سطح پر آگیا جب کہ کچھ ہی دیر بعد 100 انڈیکس میں 758 پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی اور انڈیکس 34700 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔

ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا لیں ، 30 جون کے بعد موقع نہیں ملیگا : عمران خان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی ہے کہ عوام ایمنسٹی اسکیم میں شریک ہوں اور اپنے اثاثے ظاہر کریں، 30جون کے بعد موقع نہیں ملے گا ، جب تک ہم ٹیکس نہیں دیںگے ہمارا ملک اوپر نہیں اٹھ سکے گا،عظیم قوم بننے کیلئے ہمیں اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہوگا، پچھلے دس سال میں پاکستان کا قرضہ 6 سے 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا، سالانہ ہم 4 ہزار ارب ٹیکس اکھٹا کرتے ہیں جس میں سے آدھی رقم پچھلی حکومتوں کےلئے گئے قرضوں کی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے ،بچ جانے والے پیسے سے ملک کے خرچے پورے نہیں ہوسکتے،ہمارے اندر جذبہ آگیا تو ہم سالانہ دس ہزار ارب روپے تک بھی ٹیکس جمع کر سکتے ہیں۔ پیر کو پاکستان ٹیلی ویڑن اور ریڈیو پر قوم کے نام اہم پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پچھلے دس سال میں پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 30 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا اس کا عوام کو یہ نقصان ہوا ہے کہ ہم سالانہ چار ہزار ارب روپے جو ٹیکس جمع کرتے ہیں اس میں سے آدھا یعنی دو ہزار ارب روپے ان قرضوں کی اقساط ادا کرنے پر خرچ ہو جاتا ہے اور باقی بچ جانے والی رقم سے ملک کے خرچے پورے نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی وہ قوم ہیں جو بد قسمتی سے سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں لیکن خیرات سب سے زیادہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اندر جذبہ آگیا تو ہم سالانہ دس ہزار ارب روپے تک بھی ٹیکس جمع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم ٹیکس نہیں دیںگے ہمارا ملک اوپر نہیں اٹھ سکے گا۔ بے نامی اثاثے ، بینک اکا?نٹس اور باہر پڑا پیسہ ظاہر کرنے کا 30جون تک وقت ہے۔ انہوںنے کہاکہ سب سے اپیل ہے کہ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم میں شرکت کریں۔انہوںنے کہاکہ بے نامی اکا?نٹس اور بے نامی اثاثوں اور بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں کی معلومات آ رہی ہیں اور اس سلسلے میں معاہدے بھی ہوئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہماری حکومت کے پاس وہ معلومات ہیں جو پہلے کسی حکومت کے پاس نہیں تھیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جب تک کوئی قوم خود کوشش نہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی حالت نہیں بدلتا ، اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم سے فائدہ اٹھائیں اور ملک کو فائدہ دیں اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوط بنائیں، موقع دیں کے ہم ملک کو پا?ں پر کھڑا کریں اور لوگوں کو غربت سے نکالیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کفایت شعاری کا آغاز صاحب اختیار افراد سے کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا. اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر، وزیر خزانہ پنجاب، عاطف خان اور سینئرحکام نے شرکت کی. اس موقع وزیر منصوبہ بندی، مشیر اسٹیبلشمنٹ، سیکرٹری خزانہ اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کو صوبہ خیبر پختونخوا کے سالانہ بجٹ پربریفنگ دی گئی اور سالانہ بجٹ کے بنیادی خدوخال سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں صحت، تعلیم، پانی، مواصلات کے منصوبوں پربجٹ کی تقسیم پرمشاورت ہوئی، سیاحت، ماحولیات، زراعت، شہری ترقی کےمنصوبوں پر تبادلہ خیال ہوا. انفارمیشن ٹیکنالوجی اورانڈسٹری بجٹ کی ترجیحات بھی ایجنڈے میں شامل تھے۔اس موقع پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی کہ انضمام شدہ علاقوں کی تعمیربجٹ میں اہم ترجیح ہے، بجٹ میں صوبےکے مالیاتی وسائل بڑھانے پر توجہ دی جارہی ہے۔اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ معاشی حالات کے پیش نظر کفایت شعاری اختیارکی جائے، انضمام شدہ علاقوں کی تعمیر سے متعلق عمل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ کفایت شعاری کا آغاز صاحب اختیار افراد سے کیا جائے، عوام کے سامنے کفایت شعاری کی مثال قائم کریں، بچت کو پس ماندہ علاقوں کی تعمیروترقی پرخرچ کیا جائے گا۔وزیراعظم نےپی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کااجلاس طلب کرلیا۔وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل سہ پہرپارلیمنٹ ہاو¿س میں طلب کر لیا۔پارٹی ذرائع کے مطابق حکومت واتحادی جماعتوں کےارکان اجلاس میں شریک ہوں گے، بجٹ سے متعلق تجاویز پرارکان اسمبلی کواعتماد میں لیا جائے گا۔اس اہم اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اوراپوزیشن کے خلاف حکمت عملی بھی طے کی جائے گی۔

زرداری گرفتار ، نیب حوالات میں بند

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی، کرائم رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی جعلی بینک اکاو¿نٹس کیس میں درخواست ضمانت مسترد کردی، جس پر بعدازاں نیب نے سابق صدر آصف علی زرداری کو اسلام آباد میں واقع زرداری ہا?س سے گرفتار کرکے نیب ہیڈ کوارٹر منتقل کردیا جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا، آج منگل کو آصف زرداری کو جسمانی ریمانڈ کے لیے احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا، آصف علی زرداری کی گرفتاری کے موقع پر پیپلز پارٹی کے قائدین اور کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی اور دھکم پیل ہوئی، جس سے پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ زمین پر گر گئے تاہم انہوں نے کارکنان اور پولیس کے درمیان مزید تصادم نہ ہونے دیا ،گرفتاری کے موقع پر سابق صدر نے گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اپنی بیٹی آصفہ زرداری کو گلے لگایا ، بلاول بھٹو بھی موقع پر موجود تھے ،قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے جعلی اکاو¿نٹس کیس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت پر سماعت کی،سماعت کے دوران سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے ضمانتی مچلکے منظور کرنے کا احتساب عدالت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا اور بتایا کہ احتساب عدالت نے پہلی مرتبہ مچلکے منظور کیے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کراچی کی بینکنگ کورٹ نے بھی مچلکے منظور کیے تھے جس پر فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متعلقہ ٹرائل کورٹ نے مچلکے منظور کرکے حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا تھا،جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے مچلکے منظور کرلیے ہیں جس پر فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ کورٹ کے جج کا اختیار ہے کہ وہ وارنٹ جاری کرسکتا ہے، تاہم ابھی تک متعلقہ عدالت نے چارج بھی فریم نہیں کیا،سابق صدر کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں چیئرمین نیب کی جانب سے ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، ریفرنس جب احتساب عدالت کو منتقل ہوگیا تو تفتیشی رپورٹ بھی اس کے ساتھ منتقل ہوگئی،فاروق ایچ نائیک نے چیئرمین نیب کے خط کے حوالے سے عدالت کو بتایاکہ ’چیئرمین نیب نے بینکنگ کورٹ سے درخواست کی تھی کہ یہ نیب کا کیس ہے اسے احتساب عدالت منتقل کیا جائے اس کیس میں کافی مواد موجود ہے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ضمانت کی درخواست کو درخواست ہی رہنے دیں، اسے ٹرائل نہ بنائیں آپ پہلے ہی اپنے دلائل دے چکے ہیں، اگر کوئی چیز رہ گئی ہے تو صرف اسے بتائیں،ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ساڑھے 4 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا معاملہ ہے، اس حوالے سے تمام فہرست مہیا کر دی گئی ہے کہ کتنی رقم اکاو¿نٹ میں آئی اور کتنی استعمال ہوئی،جہانزیب بھروانہ نے عدالت کو بتایا کہ اے ون انٹرنیشنل اور عمیر ایسوسی ایٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی، ان اکا?نٹس کے ساتھ زرداری گروپ اور پارتھینون کمپنیوں کی ٹرانزیکشن ہوئی،نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ یہ صرف ایک اکاو¿نٹ کی ٹرانزیکشن ہے جبکہ 29 میں سے 28 اکاو¿نٹس کی تفتیش جاری ہے،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے ان کی درخوستیں مسترد کردیںکیس کا پس منظر2015 کے جعلی اکاو¿نٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں،یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاو¿نٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی،اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاو¿نٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا،7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاو¿نٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی،اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا،آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا،بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیاتھا،بعدازاں نیب نے جعلی اکاو¿نٹس کیس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سیکریٹری آفتاب میمن، شبیر بمباٹ، حسن میمن اور جبار میمن کو گرفتار کر کے 14 روزہ ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا، ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ان ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا،اس سلسلے میں 20 مارچ کو آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے پارک لین اسٹیٹ کرپشن کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیانات قلم بند کرائے تھے،واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے،15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاو¿نٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی اور ساتھ ہی آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور و دیگر ملزمان کی ضمانتیں واپس لیتے ہوئے زر ضمانت خارج کرنے کا حکم دے دیا تھا،جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے اس کیس میں نامزد آٹھوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کی تھی اور 9 اپریل کو احتساب عدالت نے باقاعدہ طور پر جعلی بینک اکاو¿نٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کا آغاز کیا،احتساب عدالت کے رجسٹرار نے بینکنگ کورٹ سے منتقل کئے جانے والے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد اسے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کی عدالت میں منتقل کیا تھا۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے جعلی بینک اکا?نٹس کیس میں ضمانت مسترد ہونے کے باوجود سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو فی الحال گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ آصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری تعمیل کی جائے گی،خیال رہے کہ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کے ہمراہ آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویڑن بینچ نے جعلی بینک اکاو¿نٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی جعلی اکا?نٹس کیس میں گرفتاری کے فوری بعد طبی معائنہ کیا گیا ہے، ذرایع کا کہنا ہے کہ میڈیکل بورڈ نے آصف زرداری کو صحت مند قرار دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا طبی معائنہ پولی کلینک کے 3 رکنی میڈیکل بورڈ نے کیا، طبی معائنہ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا، جس کے بعد بورڈ نے انھیں صحت مند قرار دے دیا۔میڈیکل بورڈ نے معائنے کے بعد آصف زرداری کا میڈیکل سرٹیفکیٹ نیب حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ذرایع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کا شوگر لیول 170، نبض کی رفتار 88 فی منٹ تھی، بلڈ پریشر کا لیول 170/80 ریکارڈ ہوا، آصف زرداری نے مطمین انداز میں ڈاکٹرز کے سوالات کے جوابات دیے۔سابق صدر کی میڈیکل ہسٹری میں عارضہ? قلب، کمر درد، ذیابیطس کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔طبی معائنہ کرنے والے میڈیکل بورڈ کے سربراہ کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر آصف عرفان تھے، ڈاکٹر حامد اقبال، نیب سرجن ڈاکٹر امتیاز احمد بورڈ کا حصہ ہیں، یہ خصوصی میڈیکل بورڈ نیب کی درخواست پر تشکیل دیا گیا۔کراچی‘ اسلام آباد، لاہور، حیدر آباد‘ لاڑکانہ‘ سکھر‘ قمبر‘ سانگھڑ‘ خیرپور‘ محراب پور‘ میرپور ماتھیلو‘ قاضی احمد‘ بدین (نمائندہ خصوصی‘ نمائندگان خبریں) میگا منی سکینڈل میں نیب کے ہاتھوں سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد کراچی سمیت سندھ بھر میں جیالے سڑکوں پر نکل آئے ٹائر نذر آتش کرکے مظاہروں میں حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے اندرون سندھ مختلف شہروں میں عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ شہر قائد میں لوگ دفاتر سے جلدی گھروں کیلئے نکلنے پر شہر میں شدید ٹریفک جام ہوگیا جبکہ اندرون سندھ مختلف شہروں میں ہنگامہ آرائی ہوتی رہی۔ تفصیلات کے مطابق سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری کی گزشتہ روز ضمانت مسترد ہونے کے بعد زرداری ہا?س اسلام آباد سے گرفتاری کے بعد کراچی سمیت سندھ بھر میں جیالے سڑکوں پر نکل آئے۔ کچھ شہروں میں جیالوں نے زبردستی دکانیں بند کرائیں جبکہ لاڑکانہ اور نواب شاہ میں عوام نے خوف و ہراس ذاتی اور مالی نقصانات سے بچنے کیلئے خود ہی کاروبار بند کر دیئے۔ سابق صدرکی گرفتاری کے بعد کراچی سمیت سندھ بھر میں جیالے متحرک ہوگئے۔ شہر قائد میں غیر یقینی صورتحال،شہری حلقوںمیں ہر طرف گرفتاری سے متعلق چہ مگوئیاں۔ ایم پی ایز،پی پی صوبائی صدر،جنرل سیکرٹری سمیت جیالوں کی بڑی تعدا د کراچی پریس کلب پہنچ گئے۔ ڈویزنل عہدیداروں کو مقامی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کرنے کی ہدایت۔ ٹائر نذ رآتش۔آج 11 جون کو یوم سیاہ منانے کا اعلان گیا۔ پی پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف سندھ بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں کارکنان بازو¿ں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر پرامن احتجاج کرینگے۔ نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ متنازعہ عدالتی فیصلوں کے ذریعے پیپلز پارٹی کو جھکایا نہیں جا سکتا۔ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں مگر متنازعہ فیصلوں پر پرامن احتجاج کا بھی حق رکھتے ہیں۔ موجودہ وفاقی حکومت اپوزیشن کے قائدین کے خلاف کار روائیاں کرواکر اپنی نااہلی نہیں چھپا سکتی۔ مظاہرین میں پی پی پی سندھ جنرل سیکریٹری وقار مہدی ،جاوید ناگوری، سینیٹر انور لعل ڈین، خلیل ہوت، نجمی عالم، وقاص شوکت، سردار خان، جان محمد بلوچ ، لالہ رحیم، اقبال ساند، عمران بلوچ سمیت جیالے بڑی تعدادمیں شریک تھے۔ دوسری جانب آصف علی کی گرفتاری کے بعد کراچی کے سرکاری اداروں میںملازمین 4بجے سے قبل دفاتر سے غائب ہوگئے جہاں سناٹے کے بادل چھا گئے۔شہریوں میں کچھ گھنٹوں کیلئے گہماگہمی پھیل گئی بعدازیں پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کی جانب سے پرامن اور اشتعال میں نہ آنے کے بیان سامنے کے بعد حالات میں بہتری آئی۔سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آبادمیں کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ مارکٹیں کھلی رہیں قاسم آباد کے مختلف علاقوں میں جیالوں کا رد عمل سامنے آیا جہاں درجنوں جیالوں نے سڑکوں پر نکل کر دکانیں اور بازار زبردستی بند کرادیئے گئے۔ سکھر میں پیپلزپارٹی کارکنان کی جانب سے آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرکے دوکانیں بند کرادیں، اس موقع پر پیپلزپارٹی کے کارکنان کا کہنا تھا کہ ہماری قیادت مقدمات اور جیلوں سے ڈرنے والی نہیں، آصف علی زرداری کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، انہیں فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو بھرپور احتجاجی سلسلہ شروع کیا جائے گا۔دوسری جانب روہڑی ، صالح پٹ، کندھرا، پنوعاقل سمیت مختلف علاقوں میں پی پی کارکنوں کی جانب سے احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ اس موقع پر کارکنان نے سابق صدر آصف زرداری کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ جبکہ سکھر شہر کے مختلف شاہراہوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس گشت کرتی رہی۔نواب شاہ (بینظیر آباد سے )نمائندے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف نواب شاہ میں پیپلز پارٹی کارکنوں نے سخت احتجاج کیا,پیپلز پارٹی,پیپلز یوتھ اور پی ایس ایف کے کارکنوں نے علیحدہ علیحدہ پیر کی شام نواب شاہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کئِے اور ٹائر نذر آتش کرکے ٹریفک معطل کیا اور مشتعل کارکن وزیراعظم عمران خان کے خلاف سخت نعرے بازی کرتے رہے ,پیپلز پارٹی کے احتجاجی مظاہرے سے ضلعی صدر علی اکبر جمالی,سٹی کے صدر عظیم مغل,عاشق حسین گورچانی,راشد چانڈیو,منظور سیال,مسرور رند,پی ایس ایف کے احمد خان رند,پیپلز یوتھ کے اختر رند و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری کی گرفتاری کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نیب حکومت کی ایمائ پر پیپلز پارٹی کے خلاف انتقامی کاروائی کر رہی ہے اور آصف علی زرداری کی گرفتاری اس انتقامی کاروائی کی مثال ہے حکومتی اراکین اسمبلی و وفاقی اور صوبائی وزرائ نیب زدہ ہونے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر رہی ہے نیب کے ریڈار پر صرف اپوزیشن ہے ,انہونے مطالبہ کیا کہ کہ نیب ہیلی کاپٹر کیس میں وزیراعظم عمران خان,علیمہ باجی,وفاقی وزیر پرویز خٹک سمیت دیگر حکومتی وزرائ و اراکین قومی اسمبلی کو بھی گرفتار کرکے دکھائے یکطرفہ کاروائی کسی صورت قبول نہیں ہے,ملک بھر میں مزید سخت احتجاج ہوگا اس موقع پر احتجاجی مظاہرے میں شامل کارکن شدید نعرے بازی کرتے رہے۔ پیپلز پارٹی کا سیاسی قبلہ اور گڑھ لاڑکانہ مکمل طورپر بند رہا جس میں شہر کے مختلف علاقوں میں مشتعل جیالے احتجاج کرتے رہے احتجاج کے بعد مشتعل جیالوں نے جناح باغ چوک پر احتجاجی دھرنا دیا جو مغرب کے بعد ختم کردیا گیا جس کے بعد جیالوں نے شہر بھر میں احتجاجی ریلی نکالی۔شہدادپورسے نمائندہ خبریں کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد شہدادپور اور اس کے مضافاتی علاقوں میں جہاں پیپلز پارٹی کے جیالوں کی اکثریت ہے فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا جبکہ پیپلز پارٹی کے ایم پی اے شاہد تھیم کا فون مسلسل بند جارہا تھا جبکہ پارٹی کے دیگر ذمہ داروں نے بھی فون اٹینڈ نہیں کیا رات گئے پیپلز پارٹی شہدادپور کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک خبر چلائی گئی ہے جس میں منگل کے روز آصف زرداری کی گرفتاری کے خلاف ایم پی اے شاہد تھیم کی قیادت میں پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی دوسری جانب ضلعی انتظامیہ ودیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد کسی بھی قسم کی گڑ بڑ کو روکنے اور امن و امان قائم رکھنے کے لئے شہدادپور شہر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ شہدادپور ، جلال مری، لنڈو، سرہاری، ریلوے اسٹیشنوں پر ریلوے پولیس کے علاوہ ضلعی پولیس کی نفری تعینات کی گئی ہے تعلقہ شہدادپور کی اہم سرکاری تنصیبات پر پولیس کے جوان تعینات کئے گئے ہیں۔کندہ کوٹ سے نمائندہ خبریں کے مطابق کندہ کوٹ پیپلز پارٹی کے کوچیئرمین آصف زرداری کی گرفتاری کے خلاف پی پی کارکنان سڑکوں پر نکل آئے۔پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا سٹی آفس سے لیکر پریس کلب تک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرے کی قیادت پیپلز یوتھ ونگ سندھ کے صوبائی رہنما شفقت حسین میرانی،شہزادو خان کھوسہ، غفران ملک، ڈاڈو خان جکھرانی،ذوالفقار علی بھٹو عبدالرحمان بھنگوار، ارشاد میرانی، مختیار میرانی عبدالفھیم چاچڑ،غلام رسول میرانی،زاہد حسین میرانی، قربان بھنگوار،شمن باجکانی اور دیگر نے کی۔مظاہرے کے شرکائ کی وزیر اعظم عمران خان اور نیب چیئرمین کے خلاف شدید نعرے بازی۔سلیکٹید وزیراعظم کی حکومت میں اپوزیشن رہنما¶ں کے خلاف انتقامی کاروائیاں کی جا رہی ہیں. پی پی رہنما۔آصف علی زرداری کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں پی پی رہنما۔آصف علی زرداری کے خلاف جھوٹے مقدمات ختم کر کے ان کو فوری رہا کیا جائے۔سانگھڑسے ڈسٹرکٹ رپورٹر کے مطابق پیپلزپارٹی کے کو چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف چانڈیو ہاو¿س سے پریس کلب تک ریلی نکالی گئی اور پریس کلب سانگھڑ کے سامنے احتجاج کیا کارکنوں نے بازو¿ں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی اس موقع پر پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے پیپلز یوتھ ونگ کے صدر عدنان نظامانی، اویس چانڈیو، پیپلز پارٹی سٹی سانگھڑ کے صدر غلام قادر پنھور،زیشان وسان، شیر محمد رند،راشد راجپوت،اسلام قریشی ودیگر نے کہا ہے کہ سابق صدر نے جھوٹے کیس میں 13 سال کی سزا کاٹی ہے اور تمام کیسوں میں سرخرو ہوئے سابق صدر بےگناہ ہے اس کو فوری طور پر رہا کیا جائے موجودہ حکومت پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ تشدد کرکے امتناعی سلوک کررہی ہے آج ہماری پر امن ریلی ہے ہر کارکن اپنے قائد کے لئے گرفتار ہونے کے لئے تیار ہے دوسری جانب شہر بھر میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔خیرپور سے نمائندہ خبریں کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنمائ و سابق صوبائی وزیر منظور وسان کے صاحبزادے بیرسٹر ھالار خان وسان نے سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتار کو انتقام کی بدترین کاروائی قرار دیتے ہوئے گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری کی گرفتاری جیسے اوچھے ہتھکنڈوں سے اپوزیشن کو مرعوب نہیں کیا جا سکتا ہے آصف زرداری نے ہمیشہ بہادری سے کیسز کا سامنا کیا ہے پیپلزپارٹی اپنے ایجنڈے سے پیچھے نہیں ہٹے گی پاکستان پیپلزپارٹی سیاسی انتقامی کاروائیوں سے نہ کبھی کمزو ر ہوئی ہے اور نہ اب ہوگی ، یہ سب ہماری قیادت کے لیے نیا نہیںہے آصف علی زرداری نے پہلے بھی 12 سال جیل کاٹ چکے ہیں،بیرسٹر ھالار خان وسان نے کہا ہے کہ سب جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی سلیکٹیڈ حکومت اس بدترین انتقام کی زمہ دار ہے،نااہل حکومت اپنی نااہلی کا ملبہ آصف علی زرداری اور اپوزیشن پر نہ ڈالیں آج جو سلوک وہ مخالفین کے ساتھ روا رکھیں گے کل اس کے لئے انہیں بھی تیار رہنا چاہیے۔نوشہروفیروز سے نمائندے کے مطابقپاکستان پیپلزپارٹی کے ممبر قومی اسمبلی سید ابرار علی شاہ، ممبر سندھ اسمبلی ممتاز چانڈیو اور پی پی پی نوشہروفیروز کے ضلعی صدر فیروزخان جمالی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی آصف علی زرداری اور فریال تاپور کو گرفتاری کی جاری کوششوں کی مذمت کرتے ہیں ایسے ہتکنڈوں سے پی پی پی کی عوامی مقبولیت کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے میگا منی لانڈرنگ کیس میں آصف علی زرداری اور فریال تاپور کی امکانی گرفتاری پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہیں ،آج پاکستان پیپلز پارٹی ضلع نوشہروفیروزکے ضلعی صدر فیروز خان جمالی نے اسپتال کے اچانک دورہ کے موقع پر اسپتال کے تین مریضوں کا اپنے ذاتی خرچ پر علاج کرانے کا اعلان بھی کیا،سول اسپتال نوشہروفیروز میں رکھی ہوئی دس ڈیلاسزمیشنوں ایک ہفتہ تک ڈیلاسز کے مریضوں کےلئے چلادیا جائے گا انہوں نے سول اسپتال کے جلے ٹرانسفارمر کی مرمت کےلئے سیپکو افسران سے بات کی اور اسپتال کےلئے سولر پلیٹیں دینے کا اعلان بھی کیا تاکہ بجلی مسائل سے اسپتال میں زیر علاج مریضوں کو تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ قمبر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کوچیئرمین اور سابقہ صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کیخلاف پیپلز پارٹی رہنماوں حاجی محمد پنھل سومرو، قمرالدین گوپانگ،شاہ غازی مغیری، اصغر علی سومرو، لیاقت علی گوپانگ سمیت دیگر کارکناں و جیالوں کا رد عمل سامنے آگیا اور رہنماوں کارکناں سمیت جیالوں نے شدید مزمت کرتے ہوئے کہاکہ پارٹی قیادت کے ہر فیصلے کو لبیک کرتے ہیں پر امن ہمارے احتجاج ہمارا حق ہے کارکنان کریں پیپلزپارٹی پھلے بھی ایسے مرحلوں سے گذر چکی ہے اب تیار ہیں پیپلزپارٹی ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے، آصف زرداری ملک کا بڑا لیڈر ہے پیپلزپارٹی کارکنان قیادت کے ساتھ ہیں پیپلزپارٹی کو دیواروں سے لگانے والے کوشش ناکام ہو گی تبدیلی سرکار ملک میں بڑہتی ہوئی مہنگائی پر تو قابو نہ پاسکی مگر سیاسی انتقامی کاروائیوں ضرور کیں آصف علی زرداری کو فوری طور آزاد کیا جائے بصورت احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائیگا۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے لاہور کے مختلف نو مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے۔ فیروزپور روڈ پر پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل میر کی قیادت میں کارکنوں نے نے میٹرو بس کا ٹریک بند کردیا اور ٹائر ٹائروں کو آگ لگا کر احتجاجی مظاہرہ کیا جس سے فیروز پور روڈ پر ٹریفک معطل رہی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل میر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی بڑی پرانی خواہش تھی کہ وہ آصف علی زرداری کو گرفتار کروائیں نیب کے ذریعے ان کی گرفتاری نے حکومت کے لئے مشکلات کا آغاز کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کے خلاف پہلے بھی جھوٹے مقدمات بنتے رہے اور وہ متعدد بار پہلے بھی جیل جا چکے ہیں لیکن کوئی الزام ثابت نہیں ہوا اور وہ بری ہوتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کی گرفتاری کی وجہ سے پیپلزپارٹی کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے احتجاج کی کوئی کال نہیں دی گئی کارکن اپنے طور پر سڑکوں پر نکلے ہیں تاکہ اپنے لیڈر کے ساتھ اظہار یکجہتی کر سکیں۔اسی طرح سے پیپلز پارٹی کی شعبہ خواتین لاہور کی صدر نرگس خان اور جنرل سیکرٹری لاہور سونیا خان کی قیادت میں خواتین نے بھٹہ چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا ان خواتین نے بھی بھٹہ چوک کو ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بند کردیا جس سے ےہاں پر ایک بھرپور احتجاجی مظاہرے کا ماحول بنا رہا۔اس موقع پر نرگس خان اور سونیا خان نے کہا کہ آصف زرداری چار دہائیوں سے احتساب کے نام پر انتقام کا سامنہ کر رہے ہیں آصف زرداری کو قانون کے مطابق نہیں گرفتار کیا جا رہا آصف زرداری کی گرفتاری عمران خان کی فرمائش پر ہو رہی ہے۔اسی طرح سے گڑھی شاہو لاہور میں افتخار شاہد ‘ شہباز محمود بھٹی ‘ شاہدہ جبین اور شہناز کنول نے مظاہرہ کیا اور روڈ کو ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بلاک کردیا۔شالا مار چوک ‘ شاہدرہ چوک ‘ داتا دربار چوک ‘ چیئرنگ کراس اور ملتان چونگی میں بھی احتجاج کیا گیا اور ٹائروں کو جلا کر روڈز کو مکمل طور پر ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ انہیں رہا کیا جائے۔گوجرانوالہ میں آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف پیپلز پارٹی نے احتجاج کیا، جیالوں نے مینر چوک سے ڈی سی آفس تک ریلی نکالی، احتجاج میں شریک کارکنوں نے ہاتھوں میں کتبے اور پارٹی کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے، جیالوں نے نیب اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی، اس دوران جیالوں نے ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے لگائے۔حیدر آباد میں سابق صدر آصیف علی زرداری اور فریال تالپورکی ہائی کورٹ سے ضمانت مسترد اور زرداری کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ حیدرآباد پی پی یوتھ ونگ کے جیالے ڈسڑکٹ کونسل کے سامنے جمع ہو گیے، پارٹی پرچم اٹھائے جیالوں کی حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی، اس دوران جیالوں کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب قدم بڑھا? ہم تمہارے ساتھ ہیں۔