بانی متحدہ کی گرفتاری ایم آئی 6 کی سازش بھی ہوسکتی ہے : اظہر صدیق، کرپشن کرنیوالے تمام افراد کا نام احتساب کیلئے کیوں نہیں لیا جاتا : امجد اقبال ، بجٹ کا مقصد عوام کو فائدہ دینا اور معیشت کی بہتری ہونا چاہیے: ضمیر آفاقی ، میٹرو ، اورنج ٹرین منصوبہ پر 300 ارب ضائع کیے گئے: فرحان شہزاد، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کاراظہر صدیق نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کبھی نیچے جاتی نہیں دیکھی۔ اسحاق ڈالر 1200ارب سرکلر ڈیبٹ چھوڑ کر گئے۔ 2014ئ میں ڈالر 80روپے اور پیٹرول 114روپے لیٹر تھا، اسحاق ڈار پیٹرولیم میں 52فیصد تک سیلز ٹیکس لائے۔ موجودہ حکومت پیٹرولیم سیلز ٹیکس 17فیصد پر واپس لائی ہے۔ لبرلز کیوجہ سے فوج کا بجٹ کم کر کے زیادتی کی گئی ہے، فوج بڑی لڑائی لڑ رہی ہے۔ موجودہ حکومت 9مہینوں کا حساب دے کیوںآئی ایم ایف کے پاس نہیں گئی اور ملک پر ظلم کیا۔ حکومت ایمنسٹی کے بعد 5000کا نوٹ ختم کردے تاکہ چھپا ہوا پیسہ باہر آئے۔ یہ آخری ایمنسٹی اسکیم نہیں ہوگی۔ پاکستان کے ساتھ ظلم ہوتا رہاہے کہ دنیا پاکستان سے اپنے مجرم نکال کر لیجاتی ہے اور پاکستان مخالف مجرم پاکستان کے حوالے نہیں کیے جاتے۔الطاف حسین کی گرفتاری ایم آئی 6کی سازش بھی ہوسکتی ہے کہ پاکستان میں زرداری اور حمزہ کی گرفتاریوں کے دن ہی الطاف حسین کو گرفتار کیا گیا۔ نیب کی گرفتاریوں کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ احتساب عمل میںلوٹ مار کرنے والے چند چند خاندان، گاڈ فادر، سیسیلین مافیاعذاب بنے ہوئے ہیں۔ میزبان تجزیہ کار امجد اقبال نے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ میں حکومتی اخراجات میں کمی نہیں کی گئی۔ چیئرمین ایف بی آر کہتے ہیں کہ کوئی بندہ ٹیکس دینے کو تیار نہیں۔مخالفین کی بجائے کرپشن کرنے والے تمام افراد کا نام احتساب کے لیے کیوں نہیں لیا جاتا؟لاہور کے مختلف علاقوں میں پولیو وائرس کی موجودگی پران علاقوں میں بینرز لگائے گئے ہیں کہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں کیونکہ پولیو کے دو قطرے آپکے بچے کو مستقل معذوری سے بچا سکتا ہے۔تجزیہ کارضمیر آفاقی کا کہنا تھا کہ بجٹ کا مقصد عوام کا فائدہ اور معیشت کی بہتری ہونا چاہیئے۔پاکستان میں بجٹ کا فائدہ اشرافیہ کو دیا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت راشن کارڈ کے ذریعے قوم کو بھکاری بنانا چاہ رہی ہے ، حکومت کا کام روزگار دینا ہے مگر حکومت کارکردگی میں اب تک صفر ہے۔بجٹ سے عام آدمی کوکوئی فائدہ نہیںہوگا۔ الطاف حسین کا کیس 2016ئ سے دائر ہے، پاکستان کو اس کیس کی مکمل پیروی کرنی چاہیئے۔احتساب ڈرامہ ہے عوام کو اسکا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔موجودہ حکومت نے عوام بجلی پانی جیسے عام عوامی مسائل کو دفن کر دیا ہے اور صرف حمزہ ، زرداری کی گرفتاری پر توجہ دی جارہی ہے۔ کالم نگارفرحان شہزاد نے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ سے نئے پاکستان کی کوئی نوید نظر نہیں آئی ، ہمیشہ کی طرح غریب کو پیسا گیا ہے۔ عمران خان کا انقلاب کہیں کھو گیا ہے۔موجودہ بجٹ میں گفٹ منی بھی ٹیکس ڈاکومینٹس میں روک دی گئی جس سے بلیک منی کا رجحان بڑھے گا۔ میٹرو اور اورنج ٹرین منصوبہ پر 300ارب ضائع کیے گئے اتنا پورے بلوچستان کا بجٹ ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے ادارے میں ایک ریفارم نہیں کی، کرپشن پر ادارے کے کسی ایک شخص کوسزا دیکر مثال نہیں بنایا، لوگ ٹیکس کیسے دیں۔ ایف بی آر ختم کر دی جائے تو 5ہزار 555ارب روپے کا ٹارگٹ گھر بیٹھے پوراہوسکتا ہے اگرنیشنل ٹیکس ایجنسی ڈیپارٹمنٹ فعال کر لیں۔کہا جارہا ہے کہ الطاف حسین کو تفتیش کے بعد چھوڑ دیا جائے گا۔نیب میں ضمانت کی کوئی گنجائش نہیں ، حمزہ شہباز کاحفاظتی ضمانت واپس لینا صرف حکومت کے خلاف خبر بنانا تھا۔ اگلے دنوں میں جیل کابینہ کی تعداد بڑھتی نظر آئے گی۔

الطاف کی گرفتاری بڑی خبر ، محب وطن پاکستانیوں نے سکھ کا سانس لیا : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں نے جن گرفتاریوں کا ذکر کیا تھا وہ عمران خان کے نشری خطاب کے حوالے سے تھا کہ انہوں نے کہا تھا جو لوگ اپنے اثاثے رکھتے ہیں مگر انہوں نے وہ اثاثے ڈکلیئر نہیں کئے ہوئے اگر وہ مقررہ تاریخ تک انہوں نے ایمنسٹی سکیم میں اپنے آپ کو شو نہ کیا تو پھر ہم ان کو گرفتار کریں گے اب یہ لسٹ جو ہے سینکڑوں میں ہے اور بڑی آسانی سے جو ملک بھر میں گرفتاریاں ہو سکتی ہیں وہ کوئی اتنی بڑے پیمانے پر ذاتی طور پر شخصی طور پر اتنی کوئی پاور فل شخصیات بھی نہیں ہوں گی کہ ان کے لئے لوگ سڑکوں پر نکل آئیں بلکہ یہ لوگ یہ محسوس کریں گے کہ یہ شخص واقعی اپنی پراپرٹی چھپائے ہوا بیٹھا تھا میں یہ سمجھتا ہوں کہ جہاں تک تعلق ہے الطاف حسین کی گرفتاری کا تو اگرچہ ہمیں بات کرنی چاہئے وہاں کے نمائندوں سے کیونکہ مجھے بھی صبح سے لندن آفس سے جتنی بار رابطہ ہوا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ کہا گیا ہے کہ یہ نفرت انگیز تقریروں کی وجہ سے لیکن دراصل نفرت انگیز تقریر کی وجہ سے نہیں بلکہ عمرا فاروق کے قتل کیس اور دوسرا الطاف حسین کی اپنی منی لانڈرنگ پر بھی وجوہات ہو سکتی ہیں ان کی گرفتاری کیونکہ طریقہ ہوتا ہے کہ پولیس کسی بھی الزام میں گرفتار کر لیتی ہے پھر الزامات میں اضافہ کرتی چلی جاتی ہے۔ البتہ جہاں تک حمزہ شہباز کا تعلق ہے یہ ساری بحث یہی ہو رہی ہے کہ ان کے وکیل نے جان بوجھ کر درخواست واپس لی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ سوچ رہے ہوں کہ آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد سیاسی سرگرمی ہے وہ پیپلزپارٹی کی طرف مڑ گئی ہے لہٰذا مسلم لیگ کہیں پیچھے نہ رہ جائے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے حکمت عملی کے طور پر اپنے لئے دو آپشن چھوڑتے ہوئے یہ اقدام کیا ہو بہرحال یہ بات ظاہر ہے کہ حمزہ شہباز کو ازخود ایک طرح سے پیش کیا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ دنوں برطانوی حکومت سے ایم او یو سائن کیا تھا کیا الطاف حسین کو پاکستان لانے کے لئے کوئی عملی اقدام اٹھایا جا سکے گا۔ اس سوال کے جواب میں ضیا شاہد نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ جس طرح پولیس نے لندن کی اپنے ہینڈ آ?ٹ میں کہا ہے کہ وہ یہی ہے کہ نفرت انگیز تقریر کی وجہ سے ہوا ہے تو نفرت انگیز تقریر پر زیادہ سے زیادہ سزا جو ہے وہ پاکستان لانا یا بھیجنا نہیں ہے بلکہ وہ زیادہ سے زیادہ سزا 3 سال قید ہے یہ بھی زیادہ سے زیادہ لہٰدا میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی بنیاد پر ان کو ڈی پوٹ کیا جائے اور پاکستان بھیجا جائے۔ حمزہ شہباز کی جو گرفتاری ہے وہ میرے خیال میں ن لیگ کی حکمت عملی کا حصہ ہے اور یہ پیپلزپارٹی اور ن کے درمیان جو سیاسی محاذ آرائی رہی ہے اس کے لحاظ سے فیصلہ کیا گیا ہے۔ضیا شاہد نے کہا ہے کہ آصف زرداری کی گرفتاری پر پاور شو فلاپ ہونے کی ایک بڑی وجہ گرمی ہے اور یہ موسم قطعی طور پر کسی جلسے جلوس مظاہرے کے لئے موزوں نہیں ہے پہلے آدمی لڑ۔ تے مرتے پھر رہے ہیں آپس میں گرمی کی وجہ سے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ کل جو فرسٹ رسپانس تھا ایک چینل کے خبر نشر کرنے کے باوجود کہ اتنے مقامات پر مظاہرے ہوں گے لیکن آپ نے دیکھا کہ مظاہرین کی تعداد کسی بھی جگہ پر 20,10 افراد سے زیادہ نہیں تھی اور پھر کل جو انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں یوم احتجاج منایا جائے گا صبح سے لے کر شام تک بالکل کوئی یوم کوئی احتجاج نظر نہیں آیا۔ لہٰذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر یہ کسی کی حکومت عملی تھی بھی تو یہ فیل ہو گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو چونکہ کل بجٹ تھا اور اگرچہ وہ اسمبلی میں نہیں ہیں پھر بھی اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز تھا وہاں ہونا چاہئے تھا وہ ملتان میں بیٹھے ہوئے ہیں کم از کم فاصلہ جو ہے اگر براہ راست جانا ہو تو اور اگر لاہور آ کر اسلام آباد پہنچنا ہو تو یہ کم از کم 9 گھنٹے کا فاصلہ ہے۔ اسلام آباد سے 9 گھنٹے کے فاصلے پر بیٹھ کر وہ کیا تحریک چلائیں گے لگتا ہے عید کے بعد جو بڑے پیمانے پر مولانا فضل الرحمن کی زیر سرکردگی عوامی تحریک کی معلوم ہوتا ہے کہ فی الحال اس کی کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی۔ معیشت کے حوالے سے کوئی بات کرنا بیکار ہو گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ سخت بحران کے وقت یہ بجٹ بنا ہے لیکن جہاں تک بجٹ میں جگہ جگہ کوشش کی گئی ہے۔ بڑی گاڑیوں پر ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ مشروبات پر ٹیکسز لگائے گئے ہیں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اس کے علاوہ بہت سارے طبقات پر اور ٹیکس لگائے ہیں جن پر پہلے ٹیکس نہیں تھے البتہ دو تین دن پہلے خبر چھپی تھی کہ بڑے ڈاکٹرز پر بھی ٹیکس لگیں گے لیکن بجٹ میں اس کا ذکر دکھائی نہیں دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ آئیڈیا ڈراپ ہو گیا یا ڈاکٹر حضرات کو چھوٹ دے دی گئی ہے البتہ پراپرٹی اور ڈاکٹرز یہ دو طبقات ایسے تھے جن کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا تھا یہ ٹکس نیٹ سے باہر ہیں شاید کسی اگلے مرحلے میں اس کے بارے میں سوچا جائے فی الحال تو ان کو سپیئر کر دیا گیا ہے بلکہ جو ایک فضا تھی کہ جس میں 50 لاکھ سے زیادہ کی پراپرٹی خریدنے سے ڈکلیئر کرنے پڑتے تھے اپنے اثاثہ جات وہ بھی تقریباً ختم کر دی گئی۔ چنانچہ اب پراپرٹی کی خریدوفروخت پر جو پابندیاں تھیں وہ ختم ہو گئے ہیں۔ کل کی سب سے بڑی خبر تو الطاف حسین کی گرفتاری ہے اگرچہ وہ کوئی بڑی مدت کے لئے نظر نہیں آتی اور نفرت انگیز تقریر کی بنیاد پر پولیس ہینڈ آ?ٹ یہی کہتا ہے مگر جو میں نے لندن آفس سے بات کی تھی تو ہمارے لندن کے دو نمائندگان کا یہ کہنا ہے کہ لندن کا جو قانون ہے اس میں نفرت انگیز تقریر پر نہ اس کی بنیاد پر الطاف حسین کو ڈی پوٹ کر کے پاکستان بھیجا جا سکتا اور نہ ہی کوئی بہت بڑی اس کی سزا ہے زیادہ سے زیادہ اس کی سزا 3 سال ہو سکتی ہے اگر الزام ثابت ہو جائے وہ پراسس ابھی اگر مگر کا معاملہ شامل ہے اس کے باوجود ایک چیز جو ہے وہ بہت واضح ہے کہ الطاف جو بانی ایم کیو ایم جو ایک گلیمر تھا پاکستان کی حد تک وہ بالکل واش آ?ٹ ہو چکا ہے ایک زمانے میں کہا جاتا تھا کہ ان کو کوئی انگلی لگا کر دیکھے پاکستان کے اندر سڑکیں وہ بھر جائیں گی اور لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے مظاہرہ کرتے ہوئے اب کل سے لے کر اب تک میرا خیال ہے اس قسم کی کوئی چیز نظر نہیں آئی اور مصطفی کمال کی پریس کانفرنس سے زیادہ واضح ہے جو وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ جو شخص وہاں بیٹھ کر فیصلے کرتا تھا اور لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی تھیں وہ اب شکل نہیں رہی۔ کراچی کی سڑکوں میں کبھی جس کا راج تھا اور طوطی بولتا تھا الطاف کا اب ختم ہو چکا ہے۔سندھ میں گورنر راج لگانے کے امکانات نہیں ہیں کیونکہ وہاں تو کوئی بڑا ردعمل یا احتجاج سامنے ہی نہیں آیا، بلاول بھٹو نے احتجاج کی کال دی تاہم ملک بھر میں کبھی کوئی نمایاں احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔ میڈیا نے اس حوالے سے ایک بڑی جنگ جیتی ہے کیونکہ نیب کی ہر رپورٹ پر خبر میڈیا چلاتا رہا جس سے عوام کی بڑی اکثریت نے ذہنی طور پر تسلیم کر لیا کہ یہ سارے جرائم ہوئے ہیں اسی باعث کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ وزیرمملکت حماد اظہر جو سابق گورنر میاں اظہر کے صاحبزادے ہیں نے بڑے اعتماد کے ساتھ بجٹ تقریر کی اور اپوزیشن کے شور شرابے سے مطلق نہ گھبرائے۔ ایمنسٹی سکیم کا کیا نتیجہ نکلتا ہے 30 جون کے بعد سامنے آئے گا پتہ چل جائے گا کہ کتنے لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا اور باقی کے خلاف حکومت کیا کارروائی کرتی ہے۔ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی وزرائ کی تنخواہوں میں کمی اچھی پیش رفت ہے ورنہ پنجاب اسمبلی نے تو اپنی تنخواہوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا تھا جسے عمران خان نے روکا۔ حکومت اپنے غیر ضروری اخراجات کم کر رہی ہے جو اچھی بات ہے۔ الطاف حسین کی گرفتاری پر پاکستان اور برطانیہ میں سکھ کا سانس لیا گیا ہے پاکستانیوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

کس سے محبت کرتی ہوں معلوم کرنا ہے تو ’گوگل‘ کریں، ریانا

بارباڈوس(ویب ڈیسک)شمالی امریکی کیریبین ملک بارباڈوس نژاد امریکی گلوکارہ ریانا نے حال ہی میں دنیا کی امیر ترین گلوکارہ کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ریانا کی مجموعی دولت 60 کروڑ امریکی ڈالر ہے جو پاکستانی 70 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ریانا کی کمائی میں اضافہ نہ صرف گلوکاری کی وجہ سے ہوا بلکہ ان کی جانب سے میک اپ، خواتین کے زیر جامہ، گارمنٹ اور فیشن برانڈز میں سرمایہ سے بھی ان کی کمائی میں اضافہ ہوا۔دنیا کی امیر ترین گلوکارہ بننے سے قبل بھی وہ میڈیا میں دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے عرب ارب پتی سے تعلقات کی وجہ سے خبروں میں رہتی تھیں۔ریانا سعودی عرب کے کاروباری شخص حسن جمیل سے تعلقات کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں، جن سے ان کے 2017 سے تعلقات ہیں۔دونوں کے درمیان جون 2018 میں اختلافات بھی سامنے آئے تھے اور رپورٹس تھیں کہ دونوں الگ ہوگئے ہیں، تاہم ایک بار پھر رواں برس مارچ میں دونوں کے درمیان صلح ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔دونوں کے درمیان صلح کی خبریں سامنے آنے کے بعد انہیں ملتے ہوئے بھی دیکھا گیا، تاہم دونوں کو کبھی بھی سرعام ایک ساتھ نہیں دیکھا گیا۔ماضی میں ریانا سعودی نوجوان حسن جمیل کی شخصیت سے متعلق یہ اقرار کر چکی ہیں کہ وہ ماضی میں ان کے رہنے والے تمام مرد دوستوں سے بہتر اور سنجیدہ ہیں۔اور اب گلوکارہ نے تازہ انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ یہ سچ ہے کہ وہ کسی سے محبت کرتی ہیں۔’انٹرویو میگزین‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ریانا نے اعتراف کیا کہ وہ محبت کرتی ہیں، تاہم انہوں نے اس شخص کا نام نہیں بتایا جن سے وہ محبت کرتی ہیں۔گلوکارہ سے جب اس شخص کا نام پوچھا گیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ’وہ کس سے محبت کرتی ہیں یہ معلوم کرنے کے لیے لوگوں کو ’گوگل‘ کا سہارا لینا پڑے گا‘۔ریانا نے شادی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کوئی جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں جلد سے جلد ماں بننے کی جلدی ہے۔ریانا کا کہنا تھا کہ ان کے لیے ماں بننا دیگر کاموں سے زیادہ اہم ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کب تک اور کس کے بچوں کی ماں بنیں گی؟۔گلوکارہ کی جانب سے تازہ انٹرویو میں محبت کے اعتراف اور محبت کرنے والے شخص سے متعلق ’گوگل‘ سے مدد لینے کی بات کیے جانے کے امریکی و برطانوی میڈیا میں چہ مگوئیاں ہیں کہ انہوں نے عرب نوجوان حسن جمیل کا حوالہ دیا۔کیوں کہ ’گوگل‘ پر اگر گلوکارہ ریانا کے تعلقات کے حوالے سے کوئی چیز تلاش کی جاتی ہے تو سب سے نمایاں خبریں ان کے اور حسن جمیل کے درمیان تعلقات کی آتی ہیں۔خیال رہے کہ حسن جمیل سے سے قبل ریانا کے تعلقات ہولی وڈ اداکار کرس براﺅن سے تھے، تاہم دونوں کے درمیان 2015 میں اختلافات ہوگئے اور بعد ازاں گلوکارہ 2017 کے آغاز میں عرب نوجوان کے قریب ہوئیں۔ریانا سے قبل عرب نوجوان حسن جمیل کے تعلقات برطانوی سپر ماڈل ناﺅمی کامپبیل سے بھی رہے۔حسن جمیل اور ناﺅمی کامپبیل کے درمیان بھی کافی وقت تک قربتیں قائم رہیں، ان دونوں کے درمیان اس وقت تعلقات ٹوٹے جب مبینہ طور پر گلوکارہ ریانا نے ارب پتی سعودی نوجوان سے تعلقات بڑھائے۔ہارپر بازار میگزین کے مطابق حسن جمیل کا خاندان امیر ترین عرب خاندانوں میں سے ایک ہے اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی مالیت ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد ہے۔حسن جمیل کا خاندان 12 واں امیر ترین عرب خاندان ہے اور ان کا خاندان سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ میں ٹویوٹا کمپنی کی گاڑیوں کی تقسیم کا کاروبار بھی کرتا ہے۔علاوہ ازیں ان کے خاندان نے مشرق وسطیٰ میں متعدد فلاحی منصوبے بھی شروع کر رکھے ہیں۔حسن جمیل کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں فٹ بال لیگ بھی منعقد کرائی جاتی ہے، جس میں شامل تمام 14 ٹیمیں ان کی ملکیت ہیں۔

دلہن نے شادی کا دعوت نامہ غلط پتے پر بھجوایا اور تحفہ بھی پایا

اوریگن(ویب ڈیسک)بن بلایا مہمان تو آپ نے سنا ہی ہوگا لیکن بن بلایا جواب اور تحفہ بھی ہوتے ہیں۔امریکی ریاست اوریگن سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ کسینڈرا وارن اپنی شادی کی تیاریوں میں مشغول تھیں، انہیں اپنی شادی میں 200 کے قریب مہمان مدعو کرنے تھے اور اسی سلسلے میں وہ سب کو دعوت نامے بھیج رہی تھیں۔ جلد بازی میں وہ ایک غلطی کر بیٹھیں کہ یوگینی، اوریگون میں رہنے والی اپنی ایک رشتے دار کو خط لکھتے ہوئے اس پر غلط پتا لکھ بیٹھیں، انہیں اندازہ نہیں ہو سکا کہ وہ کیا غلطی کر بیٹھی ہیں جب تک انہیں جوابی خط موصول نہیں ہوگیا۔دعوت نامے میں موجود جوابی خط میں ہاتھ سے تحریر کردہ ایک پیغام درج تھا۔لکھا ہوا تھا کہ’ میری خواہش تھی کہ میں تمہیں جانتا، خیر مبارک ہو، میری طرف سے اچھا سا ڈنر کر لو، میری شادی کو 40 سال گزر چکے ہیں اور یہ رشتہ بڑھتی عمر کے ساتھ بہتر ہوتا چلا جاتا ہے۔اس پیغام کے ساتھ ہی 20 ڈالر کا ایک ایڈوانس بل منسلک تھا، لفافے پر لمبی عمر اور آباد رہنے کی دعا بھی تحریر تھی۔کسینڈرا نے اسے بہترین اتفاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ واقعی بہت شکر گزار ہیں۔کیسنڈرا اور ان کا منگیتر دونوں ہی جوابی خط لکھنے والے سے بے خبر ہیں۔تاہم دونوں اسی رات ڈنر پر چلے گئے اور 20 ڈالر کا ایڈوانس بل استعمال کر لیا۔واپسی پر کیسینڈرا نے شکریہ کا کارڈ خریدا اور دوبارہ اسی غلط پتے پر بھیج دیا اور اس پر مہربان اجنبی لکھا۔خط میں اس نے مہربان اجنبی سے مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ پیغام کے لیے اور اسے لکھنے کے لیے وقت نکالنے پر شکریہ۔ہر کوئی یہ نہیں کر سکتا،میں شکر گزار ہوں کہ آپ جیسے لوگ ابھی بھی اس دنیا میں موجود ہیں۔اب آپ بھی کسی غلط پتے پر پیغام بھیج کر ایسی ہی کسی مہربانی کے بارے میں تو نہیں سوچ رہے؟

احد رضا میربین الاقوامی ایوارڈ کیلئے نامزد

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان کے باصلاحیت اداکار احد رضا میرکومقبول ترین تھیٹر ڈرامے ”ہیملیٹ“ میں بہترین اداکاری کرنے پربین الاقوامی ’بیٹی مچل ایوارڈ‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ڈراما سیریل ”یقین کا سفر“ سے شہرت حاصل کرنے والے اداکار احد رضا میر نا صرف پاکستانی شوبزمیں اپنے فن کا لوہا منوارہے ہیں، بلکہ بیرون ممالک بھی اپنی صلاحیتوں سے پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں۔ احد کو حال ہی میں ڈرامے ”ہیملیٹ، اے گھوسٹ اسٹوری“ میں بہترین اداکاری کرنے پر ’بیٹی مچل ایوارڈ‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔”ہیملیٹ“ میں ادا کیے گئے اپنے کردارکے بارے میں احد کا کہنا تھا کہ میری والدہ یہ ڈراما دیکھنے تھیٹر آئی تھیں، میری پرفارمنس دیکھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ مجھے پہچان نہیں سکیں اورمجھے یہ کردارادا کرتے ہوئے دیکھ کرانہیں خوف محسوس ہوا۔ اس وقت میں نے سوچا کہ میں نے اچھی اداکاری کی ہے۔واضح رہے کہ 22 ویں بیٹی مچل ایوارڈ کی تقریب رواں ماہ 24 جون کو منعقد کی جائے گی۔

جسٹن بیبر کا ٹام کروز کو فائٹ کا چیلنج

ہالی وڈ(ویب ڈیسک)اپنی فلموں میں ایکشن اسٹنٹ کرنے کے لیے مشہور ٹام کروز کبھی محو پرواز جہاز سے لٹکتے دکھائی دیتے ہیں، تو کبھی دنیا کی سب سے اونچی عمارت برج خلیفہ سے چھلانگ لگائی دیتے ہیں، اب ایسے دلیر انسان کو لڑنے کا چیلنج کون دے سکتا ہے؟تاہم یہ چیلنج کینیڈین گلوکار جسٹن بیبر نے انہیں دیا ہے، کینیڈا سے تعلق رکھنے والے نوجوان گلوکار جسٹن بیبر نے 56 سالہ ہالی ووڈ اداکار ٹام کروز کو ایم ایم اے فائٹ کا چیلنج دے دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے جسٹن بیبر نے کہا کہ میں ٹام کروز کو اوکٹا گون میں فائٹ کا چیلنج کرنا چاہتا ہوں، ٹام اگر تم یہ چیلنج قبول نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے تم خوفزدہ ہو اور اس پر کبھی قابو نہیں پاسکو گے۔جسٹن بیبر نے ایم ایم اے کی سب سے بڑی تنظیم یو ایف سی کے مالک ڈانا وائٹ کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ اس مقابلے پر کون کون پیسے لگانا چاہتا ہے؟جسٹن بیبر کی جانب سے ٹام کروز کو کیے جانے والے چیلنج کے باعث پوری دنیا میں دونوں کے مداح حیرانی میں مبتلا ہیں اور سب کی زبان پر یہی سوال ہے کہ آخر 25 سالہ جسٹن بیبر نے 56 سالہ ٹام کروز کو فائٹ کا چیلنج کیوں دیا۔

نیویارک میں ہیلی کاپٹرکی 54 منزلہ عمارت کی چھت پر ہنگامی لینڈنگ، پائلٹ ہلاک

نیویارک(ویب ڈیسک)نیویارک میں ایک کثیرالمنزلہ عمارت کی چھت پر ہیلی کاپٹر نے ہنگامی لینڈنگ کی جس کے نتیجے میں پائلٹ ہلاک ہوگیا جب کہ چھت پر آگ بھڑک ا±ٹھی۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کےمطابق نیویارک میں آسمان کو چھوتی بلند و بالا عمارت کی چھت پر اچانک ایک ہیلی کاپٹر نے ہنگامی لینڈنگ کی جس کے نتیجے میں پائلٹ ہلاک ہوگیا جب کہ ہیلی کاپٹر کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔عمارت کی چھت پر ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ سے عمارت کے اوپری منزلیں لرز گئیں اور عمارت کا سیکیورٹی الارم بجنے لگا، صورت حال سے بے خبر رہائشی اس اچانک افتاد پر عمارت سے باہر نکل آئے، عمارت اور رہائشی مکمل طور محفوظ ہیں۔نیویارک پولیس نے جائے وقوعہ کا گھیراﺅ کرکے سڑک کو آمد و رفت کے لیے بند کردیا جب کہ امدادی کام کے لیے ریسکیو اداروں اور فائر بریگیڈ کو طلب کرلیا گیا۔ ہیلی کاپٹر کی جانچ پڑتال کے لیے ماہرین کی ٹیم پہنچ گئی۔ شہریوں کو لینڈنگ سے قبل سائرن کی آوازیں سنائی دی تھیں۔ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، تاحال ہیلی کاپٹر میں سوار افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور نا ہی ہیلی کاپٹر کی ملکیت کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم کی گئی ہے۔

وزیر اعظم آج رات قوم سے خطاب کریں گے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم پاکستان آج رات وزیراعظم آج رات ساڑھے 10بجے قوم سے خطاب کریں گے۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان قوم سے خطاب میں سیاسی اور معاشی صورت حال پر اعتماد میں لیں گے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے تصدیق کر دی۔توقع کی جارہی ہے کہ اس خطاب میں وزیر اعظم عوام کو اپنے حالیہ اقدامات سے متعلق اعتماد میں لیں گے۔ خیال رہے کہ آج پی ٹی آئی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ کا حجم 7.22 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ ترقیاتی کاموں کے لیے 1800 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 550 ارب رکھا گیا ہے۔ وفاقی بجٹ کا خسارہ 3560ارب روپے ہوگا۔بجٹ میں وفاقی وزرا کی تنخواو?ں میں 10 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ گریڈ 21 اور 22 کے سرکاری افسران کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ چارلاکھ سالانہ آمدن والوں کو انکم ٹیکس دینا ہوگا۔وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر بجٹ پیش کیا، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان بھی ایوان میں موجود تھے۔بجٹ ارکان کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور مسلسل نعرے بازی کرتی رہی۔

خراب نیند کی وجہ جسم میں غذائی اجزا کی کمی بھی ہوسکتی ہے

واشنگٹن(ویب ڈیسک)نیند کی کمی یا خراب نیند کی بہت سی وجوہ ہوسکتی ہیں اور اب ان میں معدنیات اور وٹامنز کی کمی کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ماہرین نے بتایا ہے کہ بالخصوص خواتین میں بے آرام یا ناکافی نیند کی وجہ ان کے جسم میں اہم معدنیاتی اجزا اور وٹامن کا فقدان بھی ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے نیند کی بہتری کے لیے خوراک پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔امریکا میں نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزامنیشن سروے (این ایچ اے این ای ایس) نے ڈیٹا پر مبنی یہ تحقیق کی ہے کہ خواتین اپنی غذا میں بعض اہم وٹامن اور اجزا کو ضرور شامل کریں۔ سروے سے معلوم ہوا کہ 19 سال سے زیادہ عمر کے 47 فیصد افراد نے خراب اور ناکافی نیند کا اعتراف کیا اور ان کی غذاو¿ں میں میگنیشیئم، نیاسِن، وٹامن ڈی، کیلشیئم اور فائبر(ریشے دار خوراک) کی کمی بھی دیکھی گئی۔ اس طرح غذائی اجزا میں کمی اور نیند کی خرابی کے درمیان ایک تعلق ابھر کر سامنے آیا۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خواتین اس کیفیت سے زیادہ متاثر ہورہی ہیں اور ضروری ہے کہ وہ اپنی غذا میں وٹامن، ضروری معدنیات اور دیگر خردغذائی اجزا (مائیکرونیوٹرینٹس) کا ضرور خیال رکھیں۔ غوروفکر سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان اجزا کی کمی سونے میں مشکل، کچی نیند اور کم مدت کی نیند کی وجہ بھی ہے۔اگرچہ انسانی جسم میں ان غذائی اجزا کی بہت کم مقدار ہوتی ہے لیکن ان کا اثر بہت ہی گہرا ہوتا ہے۔ اسی طرح جسم کو فولاد، آئیوڈین اور وٹامن اے کی معمولی مقدار درکار ہوتی ہے لیکن ان کے اثرات ہولناک بیماریوں کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔

سابق آئی سی سی ٹیسٹ امپائر ریاض الدین انتقال کرگئے

کراچی(ویب ڈیسک) آئی سی سی کے سابق ٹیسٹ امپائر ریاض الدین حرکت قبل بند ہونے کے سبب انتقال کر گئے۔61 سالہ ریاض الدین کو گھر میں طبیعت خرا ب ہونے پر کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارڈ ڈسیز لے جایا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے اور خالق حقیقی سے جا ملے، ریاض الدین کو پاکستان کے سب سے کم عمر ٹیسٹ امپائر ہونے کا اعزاز حاصل تھا جبکہ انہوں نے سب سے زیادہ فرسٹ کلاس میچز میں امپائرنگ کا بھی ریکارڈ اپنے نام کیا تھا۔انہوں نے 1990 سے 2002 کے دوران مجموعی طور پر 12 ٹیسٹ میچز اور اتنے ہی ایک روزہ انٹرنیشنل میچز میں امپائرنگ کی،15 دسمبر 1958 کو پیدا ہونے والے ریاض الدین 15 دسمبر2018 کو ریٹائرڈ ہوگئے تھے، وہ کراچی کرکٹ کی سیاست میں بہت زیادہ فعال تھے، زون ایک سے تعلق رکھنے والے ریاض الدین کے سی سی اے میں ہم خیال گروپ کے قائد تصور کیے جاتے تھے۔دریں اثنا کے سی سی اے کے صدر ندیم عمر اور زون ون کے صدر جلال الدین و دیگر نے ریاض الدین کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی ہے۔

موقع ملا تو پاکستان جا کر ضرور کھیلوں گا: آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ

ٹاﺅنٹن(ویب ڈیسک)آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ نے کہا ہے کہ آسٹریلین ٹیم کے دورہ پاکستان کے حوالے سے فیصلہ ان کو نہیں بلکہ کرکٹ بورڈ نے کرنا ہے لیکن انہیں جب بھی موقع ملا وہ پاکستان جا کر ضرور کھیلنا چاہیں گے۔ ٹاﺅنٹن میں پاکستان سے میچ سے ایک روز قبل میڈیا سے گفتگو آسٹریلوی ٹیم کے کپتان نے پاکستان کو ایک خطرناک ٹیم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو آسان نہیں لیا جا سکتا وہ آئی سی سی ایونٹس میں ہمیشہ ایک مشکل حریف ثابت ہوئی ہے۔ایرون فنچ نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ آسٹریلیا نے امارات میں پاکستان کو شکست دی لیکن اس ٹیم میں وہاب ریاض، حسن علی اور شاداب خان نہیں تھے۔ آسٹریلوی کپتان کا کہنا تھا کہ محمد عامر بھی اب فارم میں آگئے ہیں جبکہ نمبر تین پر بابر اعظم بھی اچھا کھیل رہے ہیں۔ٹاﺅنٹن میں کل پاکستان اور آسٹریلیا کا میچ بارش سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔اس حوالے سے دائیں ہاتھ کے اوپنر نے مزید کہا کہ ان کی ٹیم نے میچ کے لیے پچاس اوورز کے مقابلے کے حساب سے ہی تیاری کی ہے لیکن اگر بارش ہوئی تو وہ اسی کے حساب سے منصوبہ بندی کریں گے۔ڈیوڈ وارنر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں آسٹریلوی کپتان کا کہنا تھا کہ ڈیوڈ وارنر 14 ماہ بعد کرکٹ میں واپس آئے ہیں، ان کو اپنا ردھم واپس لانے میں تھوڑا وقت درکار ہوگا۔آسٹریلین ٹیم کے دورہ پاکستان سے متعلق سوال کے جواب میں کپتان ایرون فنچ کا کہنا تھا کہ آسٹریلین ٹیم کے دورہ پاکستان کے حوالے سے فیصلہ ان کو نہیں بلکہ کرکٹ بورڈ نے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کا بے پناہ جنون ہے اور وہ پی ایس ایل میچز میں نظر بھی آیا جب کہ جو کرکٹرز پاکستان گئے انہوں نے وہاں کی تعریف کی۔ فنچ کا کہنا تھا انہیں جب بھی موقع ملا وہ پاکستان جا کر ضرور کھیلنا چاہیں گے۔

پاکستانی فنکاروں پرپابندی سے بھارت اپنا بھیانک چہرہ دکھا رہا ہے، دیا مرزا

ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی فنکاروں پرپابندی کے خلاف پھٹ پڑیں۔تفصیلات کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی فنکاروں پر پابندی کو کئی ماہ بیت گئے اور اب بھارتی اداکار کھل کراس پابندی کے خلاف آواز اٹھانے لگے ہیں۔اداکارہ دیا مرزا نے اپنی نئی ویب سیریز ”کافر“ کی لانچنگ تقریب کے دوران پاکستانی فنکاروں پرلگائی جانے والی پابندی کے خلاف آواز اٹھائی ہے اوراس پابندی کو دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پابندی سے ہم دنیا کو یہ بتارہے ہیں کہ بھارت کتنا خوفناک ہے۔دیا مرزا نے پاکستانی فنکاروں پر پابندی لگانے پر بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ فن ہمیشہ خوف کے ہاتھوں متاثرہوتا ہے اوراسے خوف سے نقصان پہنچتا ہے لیکن خوف ہی کی وجہ سے آرٹ دوبارہ متحد وتوانا ہوتی ہے۔بھارتی اداکارہ نے کہا کہ مجھے یقین ہے ہم پر تھوپے گئے تعصبات صرف ہمیں ہی اپنے ہمسایوں سے دور نہیں کریں گے بلکہ ہمارے ہمسایوں کو بھی ہم سے دور کردیں گے۔دیا مرزا نے کہا کہ ہم نے خود کو رابطے اور تبادلے کے موقع سے محروم کردیا ہے، ہم دنیا کو صرف یہ دکھا رہے ہیں کہ ہم کتنے بھیانک ہیں۔واضح رہے کہ دیا مرزا اپنی نئی ویب سیریز”کافر“ میں ایک پاکستانی خاتون کا کردار ادا کررہی ہیں جسے اس کے بچے کے ساتھ قیدی بنا لیا جاتا ہے تاہم اس قید سے رہائی حاصل کرنے میں ایک صحافی ان کی مدد کرتا ہے۔

پاک آسٹریلیا میچ بھی بارش کی نذر ہونے کا امکان

ٹونٹن (ویب ڈیسک)پاکستان سری لنکا میچ منسوخ ہونے کے بعد خراب موسم نے آسٹریلیا کے خلاف قومی ٹیم کے میچ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا۔محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق بدھ کو ٹونٹن میں ہونے والا پاک آسٹریلیا میچ کے بھی بارش کے باعث منسوخ ہونے کا امکان ہے۔پاکستان کو سری لنکا جیسی کمزور ٹیم کے خلاف بھی جیت نصیب نہیں ہوئی اور بارش کی وجہ سے میچ منسوخ کر کے دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دیا گیا۔ویسٹ انڈیز سے بری طرح شکست کھانے کے بعد قومی ٹیم کو رن ریٹ میں کمی کا سامنا ہے اور وہ تین میچ کھیل کر بھی صرف تین پوائنٹ حاصل کر پائی ہے۔پاکستان اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر چوتھے نمبر پر ہے جبکہ آسٹریلیا اپنے دونوں میچ جیت کر دوسری پوزیشن حاصل کر چکا ہے۔