عالمی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے مقابلے میں پاکستان کمپنی کے لیے خصوصی ایوارڈ

ہیگ(ویب ڈیسک) صحت کے شعبے میں اہم خدمات انجام دینے والی پاکستانی اسٹارٹ اپ کمپنی ’آزاد ہیلتھ‘ کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے منعقدہ جی آئی ایس ٹی کیٹیلِسٹ مقابلوں میں ’ابھرتی ہوئی معیشت میں بہترین اینٹروپرونیئر‘ کا خصوصی ایوارڈ دیا گیا ہے۔ تاہم یہ مقابلہ ’عالمی ایںٹرپرونیئر سمٹ (جی ای ایس) کے نام سے ہالینڈ کے شہر ہیگ میں منعقد ہوا تھا۔جون کے پہلے ہفتے میں منعقد ہونے والے اس مقابلے میں آزاد ہیلتھ کے روحِ رواں سید ابرار ان 30 فائنلسٹ میں شامل تھے جو 18 مختلف ممالک سے شریک ہوئے تھے۔ اس سمٹ میں غذا اور زراعت، روابط، توانائی، صحت اور پانی جیسے پانچ موضوعات پر ایوارڈ دیئے گئے اور صحت کے شعبے میں ایوارڈ پاکستان کے نام رہا۔جی آئی ایس ٹی کیٹے لسٹ کمپیٹیشن سائنس اور ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے نئے ماہرین کو عالمی سطح پر ان کے نئے خیالات اور کاروباری ماڈل کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ جی آئی ایس ٹی مقابلے لیے اس سال 4 ہزار افراد نے درخواست دی تھی جس میں 650,000 ڈالر کے انعامات تھے۔ اس کے انعقاد میں ایمیزون، گوگل، مائیکروسوفٹ، فلپس اور سلیکن ویلی بینک نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ہر جی ای ایس زمرے میں پانچ پانچ افراد کو حتمی طور پر منتخب کرکے جی ای ایس ہالینڈ میں بھیجا گیا تھا۔آزاد ہیلتھ بلاک چین کی طرز پر بنایا جانے والا ہیلتھ ڈیٹا کا پلیٹ فارم ہے جس میں عالمی سطح پر موجود مریض اپنے طور پر اپنی صحت اور بیماری کا ڈیٹا ریکارڈ کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔ خواہ وہ ہسپتالوں، دیگر مراکز اور صحت کے آلات میں ہی کیوں نہ موجود ہو۔اس سہولت سے وہ خاندان فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کے پیارے دیرینہ، لاعلاج یا جان لیوا امراض کے شکار ہیں۔ ابرار نے اس کی بنیاد 2016 میں اس وقت رکھی جب وہ خود میڈیکل ریکارڈز کی عدم دستیابی سے گزرے اور شدید نقصان اٹھایا۔ اس کے بعد سید ابرار نے کراچی میں واقع نیسٹ آئی او سے اس خیال کو ایک باقاعدہ اسٹارٹ اپ میں تبدیل کرنے کے لیے رابطہ کیا جہاں نیسٹ کے ماہرین نے انہیں ہر طرح کی سہولت اور تربیت فراہم کی جس کی بدولت اور اپنی محنت کے بعد آزاد ہیلتھ کی گونج عالمی پلیٹ فارم تک پہنچی اور اب وہ پاکستان کے لیے ایک اہم اعزاز بھی حاصل کرچکی ہے۔اس موقع پر نیسٹ آئی او کی روحِ رواں اور پاکستان سافٹ ویئر ہاو¿س ایسوسی ایشن کی سابقہ صدر جہاں آرا نے اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سید ابرار کی عالمی پذیرائی اس کی محنتوں کا ثمر ہے۔ جہاں آرا نے توقع ظاہر کی کہ آزاد ہیلتھ اسٹارٹ اپ ہزاروں لاکھوں افراد کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب کرے گی۔5 جون کو ہالینڈ کے وزیر برائے بین الاقوامی تجارت و ترقی سگرڈ کاگ نے سید ابرار کو یہ ایوارڈ دیا جبکہ پی او ٹی یو ایس کی مشیر ایوانکا ٹرمپ، اور ہالینڈ کے شاہ کونسٹینٹن بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس کے علاوہ سید ابرار کو گوگل کلاﺅڈ کمپیوٹنگ پر 25 ہزار ڈالر مالیت کے کمپیوٹنگ کریڈٹس، کنزیومر ٹیکنالوجی ایسوسی ایشن کی جانب سے یوریکا پارک سی ای ایس 2020 میں مفت اسٹال، اورسلیکن ویلی بینک کی جانب سے مینٹر شپ اور امریکہ میں چھ ہفتوں کی تربیت کے مواقع بھی فراہم کئے گئے ہیں۔

بھارت اور نیوزی لینڈ کا میچ بھی بارش کی نذر ہو گیا

ناٹنگھم(ویب ڈیسک) بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان ورلڈکپ کا آج کھیلا جانے والا اٹھارواں میچ بارش کے باعث منسوخ ہو گیا۔ ناٹنگھم کے ٹرینٹ برج گراﺅنڈ میں دونوں ٹیموں کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے آمنے سامنے آنا تھا تاہم بارش نے ایسا نہ ہونے دیا اور میچ کا ٹاس تک نہ ہو سکا۔میچ منسوخ ہونے کے باعث دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ مل گیا، ایونٹ میں اب تک دونوں ٹیمیں ناقابل شکست ہیں۔ویرات کوہلی کی قیادت میں بھارتی ٹیم 2 اور کین ولیمسن کی قیادت کی کیویز ٹیم 3 میچز میں کامیابی حاصل کر چکی ہے۔پوائنٹس ٹیبل پر نیوزی لینڈ 7 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ بھارت 5 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔

سپریم کورٹ نے محسن داوڑ کو نوٹس جاری کردیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) محسن داوڑ کی کامیابی جے یو آئی (ف) کے مفتی مصباح الدین نے چیلنج کی ہے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی ایم کے رہنما اور ایم این اے محسن داوڑ کی الیکشن میں کامیابی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل پرسماعت ہوئی۔ محسن داوڑ کی کامیابی جے یو آئی (ف) کے مفتی مصباح الدین نے چیلنج کی ہے۔مفتی مصباح الدین کے وکیل کامران مرتضیٰ نے مﺅقف پیش کیا کہ حلقہ میں خواتین کے ووٹ 10 فیصد سے کم پول ہوئے، حلقہ میں دوبارہ گنتی ہو توبھی نتائج بدل جائیں گے۔ جس پر سپریم کورٹ نے محسن داوڑ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور کیس کی سماعت ملتوی کردی۔واضح رہے کہ 2018 کے انتخابات میں محسن داوڑ نے 16496 ووٹ لے کر متحدہ مجلس عمل کے امیدوار مصباح الدین کو شکست دی تھی۔ ایم ایم اے کے مفتی مصباح الدین کو 1495 ووٹ ملے تھے۔

ایک ہفتے فلپ فون استعمال کریں اور ایک ہزار ڈالر جیتیں

یوٹاہ (ویب ڈیسک)امریکا کی ریاست یوٹاہ میں ’فلپ فون چیلینج‘ نامی ایک منفرد مقابلہ کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت ایک ہفتہ تک پرانا فلپ فون استعمال کرکے ایک ہزار ڈالر جیتے جاسکتے ہیں۔فلپ فون کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پریوٹاہ کی انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی فرنٹیئر کمیونیکیشن کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص جدید موبائل چھوڑ کر ایک ہفتے کے لیے پرانا فلپ فون استعمال کرے گا اسے ایک ہزار ڈالر کی رقم انعام میں دی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق اس چیلنج میں پسندیدہ امیدوار وہ ہوگا جو اسمارٹ فون کا عادی ہواور سوشل میڈیا زیادہ استعمال کرتا ہو، وی۔لوگربھی ہوتو زیادہ بہتر ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ کمپنی کو ایسے بہادر شخص کی ضرورت ہے جو اپنی خوشی سے اسمارٹ فون کمپنی کے حوالے کرے اور ہمارا دیا ہوا فلپ فون استعمال کرے، امیدوار کو اس ضمن سے ای میل بھیجنے اور ایس ایم ایس کا ریکارڈ رکھنا ہوگا، اپنی نیند کے متعلق بھی کمپنی کو آگاہ کرنا ہوگا۔ادارے کا کہنا ہے کہ اس چیلنج کے ذریعہ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جدید موبائل فونز نیند اور کارکردگی پر کتنا اثرانداز ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس دلچسپ مقابلے سے یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آج کے دور میں اسمارٹ فون کے بغیر کیسا محسوس کیا جاتا ہے۔ادارے کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ اب تک 30 ہزار افراد اس مقابلے میں حصہ لے چکے ہیں جن میں سے ایک خوش نصیب شخص فاتح ہوگا۔ یہ دلچسپ مقابلہ جاری ہے جس کے لکی ونر کے نام کا اعلان 7 جولائی کو کیا جائے گا، جیتنے والا امیدوار نا صرف 1000 ڈالر بلکہ اس کے ساتھ ساتھ طبی امداد کی کٹ اور 1990 میں استعمال ہونے والی سی ڈی بھی وصول کرے گا، پاکٹ فون بک، نوٹ پیڈ بھی فاتح شخص کو دیے جائیں گے۔

شریف خاندان نے نشان عبرت بن کر بھی کچھ نہیں سیکھا، فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ سابق حکمران خاندان کو اقتدار کا غرور لے ڈوبا اور شریف خاندان نے نشان عبرت بن کر بھی کچھ نہیں سیکھا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عمران خان گلےسڑے نظام سے عوام کو چٹکارا دلانے کا نعرہ لگا کر آئے ہیں، وقت ثابت کرے گاعمران خان کا بیانیہ سچا تھا جب کہ وزیراعظم کے اقدامات سے سیاسی گند ایک طرف ہورہا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ سابق حکمران خاندان کو اقتدار کا غرور لے ڈوبا، شریف خاندان نے نشان عبرت بن کر بھی کچھ نہیں سیکھا، نوازشریف کو قوم نے تین بار وزیراعظم بنایا لیکن وہ بیرون ملک جائیدادیں بنانے میں مصروف رہے، زرداری کو کرپٹ کہنے والے آج انہیں سیاسی قیدی کہتے ہیں۔فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ عوام نے عمران خان کو احتساب کے لیے ووٹ دیا، وزیراعظم نے انکوائری کمیشن کا اعلان کیا ہے جس کے لیے ٹی او آرز طے کیے جارہے ہیں اور کمیشن کے سربراہ کا اعلان اگلے ہفتے کیا جائے گا۔مریم نواز کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کل ایک راجکماری نے کنیزوں کے جھرمٹ میں غرور والے لب و لہجے میں بات کی، مریم کے لب و لہجے میں غرور اور تکبر سے ثابت ہوا کہ شریف خاندان نے نشان عبرت بن کر بھی کچھ نہیں سیکھا۔بجٹ کو عوامی امنگوں کا ترجمان قرار دیتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم نے عوام کااحساس کرتے ہوئے بجٹ میں ترجیحات شامل کیں، بجٹ کی کڑوی گولی کو شوگر کوٹیڈ کرکے دے رہے ہیں جس سے مستقبل کی معاشی بیماریوں کا علاج ہوگا۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم نے زرعی شعبہ پر خصوصی توجہ دی ہے،موجودہ حکومت کسانوں کو انکی محنت کا پھل دی رہی ہے اور کسانوں کو فصل کی اچھی قیمت دے رہی ہے جب کہ چین کے ساتھ ملکر گوشت کی برآمد بڑھانے پر کام کررہے ہیں، صرف گوشت برآمد کرنے کی اجازت ہے اور زندہ جانور کی برآمد پر پابندی عائد ہے۔

سپریم کورٹ کا ڈیمز فنڈ میں موجود رقم کی سرمایہ کاری کا فیصلہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے ڈیمز فنڈ میں موجود رقم کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔سپریم کورٹ نے ڈیمز فنڈ میں موجود رقم کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے، عدالت نے اسٹیٹ بنک کو فنڈ میں موجود 10 ارب 60 کروڑ روپے نیشنل بنک کو منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے مطابق 19 جون کو ٹی بلز کی نئی بولی کے بعد منافع کی شرح کا اعلان ہوگا، نیشنل بنک سپریم کورٹ کی جانب سے بولی میں حصہ لے گا جب کہ طے شدہ شرح منافع پر ڈیمز فنڈ کی ٹی بلز میں 3 ماہ کے لیے سرمایہ کاری ہوگی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے حکم جاری ہونے کے بعد وفاقی حکومت نے دو ڈیمز دیامیربھاشا اورمہمند کی تعمیرکے لیے فنڈز قائم کیے تھے جس میں پاک فوج، سرکاری ملازمین، قومی کھلاڑیوں، اداکاروں اور سماجی شخصیات سمیت عام افراد نے پیسے جمع کرائے تھے۔

کراچی میں ہیٹ ویو کے باعث شدید گرمی، ایک شخص ہلاک

کراچی(ویب ڈیسک) شہر قائد میں ہیٹ ویو کے باعث شدید گرمی کی لہر جاری ہے جب کہ گرمی نے ایک شخص کی جان لے لی۔ذرائع کے مطابق بلدیہ مدینہ کالونی 7 نمبر میں 30 سالہ نامعلوم شخص گرمی کے باعث پیدل چلتے ہوئے گر کر ہلاک ہوگیا۔ پولیس کے مطابق ہلاک شخص ہیٹ اسٹروک کا متاثر لگ رہا ہے۔ ہلاک ہونے والے شخص کو سول اسپتال منتقل کرکے اس کے ورثا کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔دوسری جانب محکمہ موسمیات کی جانب سے کراچی میں آج سے 3 دن کے لیے ہیٹ ویو الرٹ جاری کیا گیا ہے، ہیٹ ویو کے اثرات صبح سے ہی نظر آنا شروع ہوگئے ہیں، شہر میں سمندری ہوائیں بند ہونے اور نمی کا تناسب بڑھنے کے سبب شدید گرمی محسوس کی جارہی ہے، محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ دن بھر لو کے تھپیڑے چلیں گے جب کہ درجہ حرارت 42 ڈگری تک جانے کا امکان ہے تاہم گرمی کی شدت 50 ڈگری کے برابر محسوس ہوگی۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں گرمی کی غیر معمولی لہر کی وجہ بحیرہ عرب میں بننے والا سمندری طوفان ہے، سمندری طوفان وائیو آج رات گئے بھارتی گجرات کے ساحل سے ٹکرائے گا، طوفان کے باعث آج شام کو شہر میں آندھی جب کہ ہلکی بارش کا بھی امکان ہے۔شدید گرمی کے پیش نظر طبی ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ دن کے وقت غیر ضروری طو پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، پانی اور ٹھنڈے مشروبات کا استعمال بڑھادیں اوراگر باہر نکلنا پڑے تو سر ڈھانپ کر یاسر پر گیلا کپڑا رکھ کر باہر نکلیں۔

انٹربینک میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح 152.90 پر پہنچ گیا

کراچی(ویب ڈیسک) انٹربینک میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جب کہ اوپن مارکیٹ میں بھی اس کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔جمعرات کو کاروبار کے آغاز پر انٹربینک میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک بار پھر کمزور ہوگیا اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوگیا جس سے ڈالر 151.90 روپے کا ہوگیا۔کاروبار کے دوران ڈالر کی قدر مزید مستحکم ہوگئی اور اس میں 54 پیسے کا اضافہ ہوگیا جس سے ڈالر 152.10 روپے کا ہوکر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔انٹر بینک میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر رہا اور اس کی قیمت میں 1.33 روپے اضافہ ہوا جس سے ڈالر 152.90 پر بند ہوا۔انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافے کے بعد اوپن مارکیٹ میں بھی اس کی قیمت میں اضافہ ہوگیا اور ڈالر 153.50 روپے کا ہوگیا ہے۔عید کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 4.20 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

ورلڈکپ، پاک بھارت میچ بارش سے متاثر ہونے کا خدشہ

مانچسٹر(ویب ڈیسک) روایتی حریف پاکستان اور بھارت کا ورلڈکپ میں 16 جون کو ہونے والا میچ بارش سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ اسٹیڈیم میں 16 جون بروز اتوار کو پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی جس کے لیے کرکٹ شائقین کو بے صبری سے انتظار ہے۔پاکستان اور بھارت کا میچ دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے شائقین کی مانچسٹر آمد متوقع ہے اور ٹکٹ چار گ±نا اضافی قیمتوں میں فروخت ہو رہا ہے۔اس وقت مانچسٹر میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور برطانوی محکمہ موسمیات نے 16 جون کو بارش کی پیشگوئی کی ہے۔برطانوی محکمہ موسمیات کے مطابق 16 جون اتوار کو مانچسٹر میں صبح 10 بجے سے بارش کے 50 فیصد امکان ہیں۔ ایسے میں محکمہ موسمیات نے پاک بھارت میچ بھی بارش سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ایونٹ میں بھارت اب تک جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے خلاف دو میچز میں کامیابی حاصل کرچکا ہے جب کہ آج بھارت اور نیوزی لینڈ مدمقابل ہیں۔دوسری جانب ایونٹ میں پاکستان کو اپنے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز سے شکست کا سامنا ہوا اور دوسرے میں انگلینڈ کے خلاف زبردست کامیابی حاصل کی۔جب کہ 7 جون کو برسٹل کے کاﺅنٹی گراﺅنڈ میں سری لنکا کے خلاف کھیلے جانے والا میچ بارش کے باعث منسوخ ہوگیا تھا اور چوتھے میچ میں قومی ٹیم آسٹریلیا سے شکست کھاگئی۔

اپوزیشن بجٹ کے نام پر تحریک نہیں چلا سکتی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اعجاز حفیظ خان نے کہا ہے کہ حکومت نے بدترین معاشی حالات میں بہتر بجٹ پیش کیا اپوزیشن بجٹ کے نام پر تحریک نہیں چلاسکتی۔ اپوزیشن تحریک صرف اپنے قائدین کو بچانے کیلئے چلانا چاہتی ے۔ تاہم اس میں ناکام رہے گی۔ پروڈکشن آرڈر کے نام پر جاری ڈرامہ بند ہونا چاہیے اس قانون پر نظرثانی کی جانی چاہیے جو صرف سپریم کورٹ ہی کرسکتی ہے اس قانون سے فائدہ اٹھاکر شہبازشریف صرف 3 دن جیل میں رہے۔ مکے لہرا کر بات کرنے والا مشرف بزدل نکلا اسے عدالت میں پیش ہونا چاہیے اور اس سے پہلے ملک و قوم کو اصل میں برباد کرنے والے ضیا الحق کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے کہ دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ مرنے کے بعد ٹرائل ہوا شیخ رشید نے تحریک انصاف کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ سینئر تجزیہ کار اشرف عاصمی نے کہا کہ حکمران اشرافیہ کی معاشی دہشتگردی نے زندگی اجیرن کردی۔ اپوزیشن میں تحریک چلانے کی سکت نہیں ہے بڑے بڑے نام والے جیلوں میں بند ہیں مزید پکڑے جارہے ہیں ان سے قوم کی لوٹی دولت واپس لینے میں کامیابی کا امکان نظر آتا ہے معاملات اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں نیب اور عدلیہ کو کسی دباﺅ میں آئے بغیر لوٹی دولت نکلوانی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان بھی جلد گرفتار ہوجائینگے۔ عمران خان روایتی سیاستدانوں کی طرح منافق نہیں ہے اگر وہ ناکام ہوجاتا ہے تو پورا نظام لپیٹ دیا جائے گا۔ تجزیہ کار راجہ وحید نے کہا کہ احتساب پوری قوم کی خواہش ہے۔ عمران خان نے اعلیٰ سطحی کمیشن بنانے کا بہت اچھا فیصلہ کیا یہ کمیشن پہلے ہی بنادینا چاہیے تھا۔ کوئی شک نہیں کہ بیرون ملک سے بھاری قرضہ لیا گیا اور اسے ہڑپ کرلیا گیا۔ اپوزیشن چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ نہ چل سکے۔ اپوزیشن کوئی تحریک چلانے کے قابل نہیں ہے۔ پرویز مشرف کی حالت ایسی نہیں ہے کہ واپسی آکر عدالت میں پیش ہوسکیں۔ سینئر تجزیہ کار عبدالباسط خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے تقریر میں اپوزیشن کو خوب لتاڑا اور 24ہزار ارب قرضہ لینے کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا جو خو ش آئند ہے پروڈکشن آرڈر کا ناجائز استعمال کیا جارہا ہے سیاستدان ابھی جیل بھی نہیں پہنچتے اوراس کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں پارلیمنٹ سب سے برتر ہے تاہم یہ برتری تب ہوتی ہے جب وہاں موجود لوگ ضمیر کے مطابق بات کریں اور مفادات کی سیاست نہ کریں۔

عمران خان ایماندار ہیں لیکن مہنگائی کو کنٹرول کرنا چاہئے: شہریوں کی رائے

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت کی طرف سے پیش کردہ بجٹ پر عوامی رائے جاننے کے لئے چینل فائیوے پروگرام نیوز ایٹ سیون کی ٹیم تاجروں اور عام آدمی کے پاس پہنچ گئی۔بجٹ پر مختلف طبقہ ہائے کے لوگوں نے اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کیا کچھ نے بجٹ کو عوام دوست جبکہ کچھ نے محض اشرافیہ کو نوازنے کا ذریعہ قرار دیا ۔چھوٹے تاجروں نے کہا غریب کے لئے کچھ بھی نہیں ہم مزید پس جائیں گے آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔چند شہریوں نے بجٹ سے بالکل ہی لاتعلقی کا اظہار کر دیا کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں۔شہریوں نے کہا پٹرول کی قیمت سمیت مہنگائی کم ہونی چاہئے پٹرول مہنگا ہونے سے دیگر اشیاءکی بھی مہنگی ہوں گی۔سب کہتے ہیں فلاں نے لوٹا فلاں پیسہ باہر لے گیا جو ہونا تھا ہو چکا اب ہمیں ریلیف دیا جائے۔شہریوں نے کہا وزیراعظم عمران خان کی نیت پر شک نہیں وہ بہت ایماندار ہیں لیکن مہنگائی بڑھی ہے قابو پانا چاہئے دیہاڑی دار آدمی کے مسائل حل کئے جائیں ٹیکسز ضرور لگائیں لیکن غریب آدمی سے ٹیکس نہ لیا جائے۔ایک شہری نے کہا بجٹ پہلے بجٹ سے ہٹ کر ہے لگژری اشیاءپر ٹیکس خوش آئند ہے۔ایک شہری نے کہا پھلوں کی ریڑھی لگاتا ہوں سونا مہنگا ہونے سے میری تو شادی خطرے میں پڑ گئی ۔کچھ شہریوں نے کہا دکاندار اپنے طور پر چیزوں کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں حکومت نوٹس لے۔ایک شہری نے کہا حکومت کو چاہئے عوام کو روزگار فراہم کرے جب تک مجموعی بہتری نہیں آتی معیار زندگی بہتر نہیں ہو گا۔ایک شہری نے کہا ادویات سستی ہونی چاہئیں مجموعی طور پر بجٹ ٹھیک ہے۔کرپشن کا پیسہ واپس آجائے تو ہی بجٹ بنانے میں آسانی ہو گی۔ایک شہری نے کہا لوگوں کو انتظار کرنا چاہئے حالات بہتر ہونگے۔

عمران خان کا فیصلہ دلیرانہ کہ جان بھی چلی جائے کرپٹ افراد کو نہیں چھوڑوں گا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں نے وزیراعظم عمران خان کا خطاب سنا ہے اور اس میں ریکارڈنگ کی کوئی خرابی بھی تھی۔ کوئی ٹیکنیکل خرابی تھی یا کسی نے شرارت کی کہ وزیراعظم کی تقریر کا یہ حشر کیا جائے دو تین دفعہاس میں رکاوٹ بھی تھی ایک مرتبہ تو سکرین پر تصویر ہی ختم ہو گئی بہرحال اس بارے میں معلوم ہوا ہے اس کی انکوائری کا آرڈر کر دیا گیا ہے دیکھیں کیا نکلتا ہے کہ غیر ذمہ داری دکھائی گئی یا فنی خرابی ہے۔ جو کچھ انہوں نے کیا ان کا بہت سخت لہجہ تھا اور انہوں نے کہا چاہے کچھ بھی ہو جائے چاہے مجھے کتنی ہی تکلیف اٹھانی پڑے میں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ ان لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے میں کبھی اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا اس سے لگتا ہے کہ پچھلے دنوں بعض چیزیں چل رہی تھیں کہ حکومت کوئی سافٹ کارنر رکھ رہی ہے یا کوئی این آر او کی طرف بات جا رہی ہے حالانکہ وزیراعظم عمران خان کہہ بھی رہے ہیں کہ میرا کوئی اس قسم کا پروگرام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کے باوجود یہ جو بجٹ کے بعد نیا دور شروع ہوا ہے اور خاص طور پر نواز شریف صاحب واپس جیل چلے گئے حملہ شہباز شریف کو گرفتار کر لیا گیا اور پھر یہ الطاف حسین کو لندن میں گرفتار کر لیا گیا اور اب اگلی شاہد خاقان عباسی کی افوا پھیلی ہوئی ہے۔ معلوم نہیں کس حد تک صحیح ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ اب ان کی باری ہے کچھ اخبارات میں اس بارے خبریں بھی لگ گئی ہیں میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاید حکومت کا موقف کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہو گیا ہے۔ جہاں تک تقریر کے دوران جو کچھ ہوا ہے جو بھی حقائق سامنے آئے ہیں ان میں پرویز مشرف کی بات بھی شامل کر لیجئے گا کہ ان کے وکیل کو بولنے نہیں دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ آپ کا حق جو ہے سپریم کورٹ ختم کر چکا ہے اب آپ کو صفائی میں کچھ کہنے کا حق بھی حاصل نہیں ہے کافی تناﺅ بڑھ رہا ہے کچھ چیزوں کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت بھی فیصلہ کر چکی ہے۔ میں کل بھی بات کر رہا ہے کہ اس کا فیصلہ تو 30 تاریخ کو ہو گا لیکن ایک ہی آ گئی ہے کہ 5 ہزار لوگوں نے ایمنسٹی کے لئے درخواست دی ہے اور اسکا مطلب ہے کہ لوگوں کی تعداد کافی ہے اور رقم کتنی ہے اس میں یہ تو 30جون کو پتہ چلے گا۔ محسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے۔ بجٹ کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ آنے والے چند روز کچھ اور بڑی چیزیں کلیئر ہو کر سامنے آ جائیں گی اور خاص طور پر 30 جون سے پہلے ہی بہت کچھ ہونے والا ہے اور 30 کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی ہونے والی ہیں جو لوگ تعاون نہیں کریں گے اور جن کے اعداد و شمار حکومت کے پاس موجود ہیں عمران خان صاحب کے دعوے کے مطابق تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اگر میں اپوزیشن کی بڑی عزت کرتا ہوں اپوزیشن جمہوریت کے لئے بڑی ضروری چیز ہے جب تک اپوزیشن مضبوط نہ ہو تو حکومت کبھی صحیح راستے پر نہیں چل سکتی یہ ایک لازمی جزو ہے جمہوریت کا لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ عید کے بعد یہ ہو جائے گا اور وہ ہو جائے گا اور فضل الرحمن نے یہ کہہ دیا آصف زرداری نے 10 کو لوگوں کو اسلام آباد پہنچنے کا پیغام دے دیا۔ مجھے ان ساری باتوں میں جان نظر نہیں آتی اس لئے کہ جو حقیقت ہے یعنی بلاول بھٹو کا یہ اعلان کہ آج یوم احتجاج منایا جائے گا آپ نے دیکھا کہ پورا ملک جو ہے اس میں ہمیں کوئی بڑے پیمانے پر یوم احتجاج کی کوئی جھلک نظر نہیں آئی۔ سندھ اسمبلی میں زرداری کی گرفتاری پر سندھ اسمبلی کے اندر متفقہ قرارداد منظور ہونے بارے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ قراردادوں سے بات بہت آگے نکل گئی ہے جب آپ پکڑ دھکڑ پر آ جائیں تو پھر قراردادیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ الطاف اور زرداری کی گرفتاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ میں سمجھتا ہو ںکہ یہ ساری چیزیں 30 جون تک بہت ساری باتیں کھل کر سامنے آ جائیں گی۔ بلاول بھٹو کی کریڈیبلٹی پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ اپوزیشن کا ایک جگہ پر جمع نہ ہونا ہے کیونکہ رمضان کے دوران جتنی بھی باتیں تھیں کہ عید کے بعد بہت بڑے پیمانے پر احتجاجی مہم چل نکلے گی جس میں ساری اپوزیشن پارٹیاں جمع ہو گئی ہیں کوئی ایسی چیز ابھی تک تو نظر نہیں آئی۔ لگتا ہے یہ کوئی بظاہر مستقبل قریب میں کوئی بظاہر نظر بھی نہیں آ رہی۔ کسی وقت سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے تاہم فی الحال اس بات کا بڑا امکان ہر گز دکھائی نہیں دے رہا کہ کسی بڑے پیمانے پر ری ایکشن کا۔ حالانکہ بجٹ میں جو جھٹکے لگتے ہیں عوام کو ظاہر ہے مہنگائی ہوتی ہے ٹیکس نئے آتے ہیں اس کے باوجود اس میں لوگوں کا کوئی فوری ری ایکشن دکھائی نہیں دیتا اس میں گرمی کا موسم بھی ہے۔ یہ کوئی جلسے جلوسوں کا موسم بھی نہیں ہے۔ جہاں تک مریم نواز کے کل کے خطاب کا تعلق ہے باوجود اس کے کہ بہت امید بھی کی جا رہی تھی کوئی آپس میں مذاکرات بھی کئے جا رہے تھے کہ مختلف جماعتوں کے لیکن کسی نہ کسی وجہ سے بات کسی نتیجے پر پہنچ نہیں سکی۔ حتیٰ کہ مولانا فضل الرحمن ملتان چلے گئے اور جو سب سے زیادہ سرفہرست تھے کہ ان کی وجہ سے بہت سارے مختلف الخیال لوگوں کے درمیان بھی اشتراک عمل کی کوئی شکل پیدا ہو جائے گی وہ بھی نہیں ہو گی اور خود انہوں نے بھی زیادہ دلچسپی نہیں لی شاید وہ مایوس ہو گئے یا کسی نئے لائحہ عمل کے انتظار میں ابھی بھی کوئی منتظر ہیں کہ کوئی نئی شکل سامنے آ جائے کیونکہ اب تک کی تیاری توجو تھی تو رائیگاں گئی ہے۔ بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ الطاف حسین کافی دنوں سے بیمار تھے اور جو لوگ ان کو مختلف تقریبات میں دیکھتے بھی رہتے تھے اور پریس کانفرنسوں میں تو ان کا سہارا دے کر چلانا پڑتا تھا اب ان کی 12 گھنٹے کی پوچھ گچھ کی گئی ہو گی اور لگتا ہے کہ جس طرح کہ ان کو منتقل کرنا پڑا ان کی طبیعت خراب ہوئی ہے۔ میں نے ان کی ایسی پریس کانفرنسیں بھی دیکھی ہے کہ ان کو دو دو لوگوں نے ان کو سہارا دے کر بٹھایا ہے۔ اس سے تو لگتا ہے کہ ان کی طبیعت تو پہلے ہی خراب تھی اب پوچھ گچھ سے مزید خراب ہو گئی ہو گی۔
الطاف حسین کی سوالات کے جواب دینا ہی پڑیں گے، حکومت کی جانب سے بھی کوئی پیغام برطانیہ ضرور جائے گا، پاکستان کی جانب سے اس معاملہ پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی کیونکہ ملک کے خلاف تقاریر کی گئی تھی۔ مشرف کیس میں سپریم کورٹ اور حکومتی حلقوں نے سختی سے کام لینے کا فیصلہ کر لیا ہے، حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے کہ مشرف عدالت میں پیش ہوں تاہم دوسری طرف سے کہا جا رہا ہے کہ مشرف کی طبیعت ناساز ہے میرے خیال میں پرویز مشرف واپس نہیں آئیں گے اور ان کی غیر موجودگی میں ہی کیس چلایا جائے گا۔ ملزم کی عدم موجودگی میں کیسز چلنے کی مثالیں موجود ہیں سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔ مشرف نے شاید واپس نہ آنے کا فیصلہ کر لیا ہے وہ وہیں رہ کر علاج کرائیں گے اور کیس کا جو بھی نتیجہ سامنے آئے اسے بھگتیں گے۔ کسان اتحاد کے اشتہار دیکھ کر تو لگتا ہے کہ انہوں نے بجٹ کو سراہا ہے اور اس سے مطمئن ہیں ابھی دوسرے فریق محمد انور کا موقف سامنے نہیں آیا۔ بجٹ کا عوام پر بوجھ تو پڑے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لئے اسے 8 ماہ مزید چاہئیں۔ ایمنسٹی سکیم میں اگر واقعی 5 ہزار لوگوں نے اپلائی کیا ہے تو اس سے بھی بڑا فرق پڑے گا۔ سابق ادوار میں حکومتیں سیاسی بھرتیاں کرتی رہی ہیں اس لئے ان کے وفادار سرکاری ملازم موجود ہیں۔ وزیراعظم کی تقریر کے دوران جو مسئلہ سامنے آیا وہ کسی کی شرارت بھی ہو سکتی ہے تاہم عموماً تکنیکی خرابی بھی ہو جاتی ہے اور میرے خیال میں ایسا ہی ہوا ہے۔ واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے حقیقت سامنے آ جائے گی۔

دپیکا نے رنویر کی بلے سے دھلائی کردی

ممبئی(ویب ڈیسک) معروف بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ کی اہلیہ دپیکا پڈوکون کے ہاتھوں بلے سے مار کھانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق رنویر سنگھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ دپیکا کے ہاتھوں مار کھا رہے ہیں دراصل یہ حقیقی مار نہیں بلکہ مذاق کے طور پر بنایا ایک کلپ ہے جسے انہوں نے اپنی نئی آنے والی کرکٹ کی کہانی پر مبنی فلم ”83“ میں شامل ہونے کے موقع پر بنایا ہے۔ جب کہ ویڈیو کے ساتھ رنویر سنگھ نے یہ بھی کہا کہ یہ میری حقیقی اور فلمی زندگی کی کہانی ہے۔دپیکا پڈوکونفلم ”83“ میں بھی رنویر سنگھ کی اہلیہ کا کردار ادا کریں گی جس کی شوٹنگ میں شرکت کرنے کے لئے دپیکا لندن بھی پہنچ گئی ہیں جہاں وہ رنویر سنگھ کے ساتھ بڑی اسکرین پراداکاری کے جوہر دکھاتی نظر آئیں گی۔دپیکا پڈوکون نے فلم ”83“ میں شامل ہونے کے حوالے سے کہا کہ میں ہدایتکار کبیر خان کی شکر گزار جنہوں نے مجھے اس فلم میں شامل کیا، سچ تو یہ ہے کہ فلم میں شامل کرنے کا فیصلہ دو ماہ قبل ہو گیا تھا تاہم دوسری فلم کی شوٹنگ کی وجہ سے اعلان نہیں کیا گیا تھا کیوں کہ ہمیں اعلان کرنے کے لئے صحیح وقت کا انتظار تھا۔واضح رہے کہ بھارتی لیجنڈ کرکٹر سنیل گواسکر کی سوانح حیات پر مبنی فلم ”83“ میں رنویر سنگھ مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ فلم 10 اپریل 2020 میں سنیما گھروں کی زینت بنے گی۔