جنسی ہراسگی: گلوکارہ میشا شفیع کا ایک بار پھر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

لاہور(ویب ڈیسک)جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے معاملے پر گوکارہ میشا شفیع نے ایک بار پھر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیاہے۔گلوکارہ میشاشفیع نے گورنرپنجاب کی جانب سے اداکارعلی ظفر کے خلاف جنسی ہراسگی کی اپیل مستردکرنےکااقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے۔میشاشفیع نے بیرسٹراحمدپنسوتہ اورثاقب جیلانی کے ذریعے ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے میشاءشفیع کی درخواست پر سماعت کی ہے۔عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد آئندہ سماعت پرفریقین کے وکلاءکودلائل کیلئے طلب کرلیا ہے۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ گورنرپنجاب نے جنسی ہراسگی کیخلاف دائرکی گئی اپیل خارج کی،صوبائی محتسب کواپیل کیلئے مناسب فورم قرارنہ دیتے ہو ئے درخواست مستردکی گئی۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ جنسی ہراسگی کے معاملے میں مالک اورملازم ہوناضروری نہیں ہے۔ کام کی جگہ پرجنسی ہراسگی کیخلاف صوبائی محتسب سے رجوع کیاجاسکتاہے۔عدالت گورنرپنجاب کی جانب سے اپیل مستردکرنےکااقدام کالعدم قراردے۔واضح رہے کہ لاہور کی مقامی عدالت میں گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کیس میں اداکارعلی ظفر کے لگ بھگ 9گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل ہوگئی ہے۔لاہور کی مقامی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج امجد علی شاہ کیس کی سماعت کررہے ہیں۔گواہان کا کہنا تھا وہ ریہرسل سیشن میں موجود تھے ، میشا شفیع کے ساتھ ہراسانی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔یاد رہے 14 مئی کو گلوکارہ میشا شفیع ،اداکار علی ظفر کی طرف سے دائر ہتک عزت کے دعوی سے متعلق درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھیں اور عدالت نے گواہوں کے بیانات اور جرح ایک ساتھ کرنے کی اجازت دی تھی۔سپریم کورٹ نے گواہان پر بیان کے فوری بعد جرح کرنے کا ڈسٹرکٹ کورٹ کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا تھا۔عدالت نے علی ظفر کے وکیل کو ایک ہفتے میں گواہوں کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا تھا اور میشا شفیع کے وکیل نے گواہان پر جرح کرنے کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا تھا۔

بھارتی گلوکارہ نے سلمان خان کو ”کاغذی شیر“ قرار دیدیا

ممبئی(ویب ڈیسک) گلوکارہ سونا موہاپترا نے بالی ووڈ کنگ سلمان خان کو ”کاغذی شیر“ قرار دے دیا۔سوناموہاپترا نے سلمان خان کی نئی فلم ”بھارت“ کو باکس آفس پر دوسرے ہفتے بھی کم پذیرائی ملنے پرآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایک بار پھر تنقیدکا نشانہ بنایا ہے۔ہفتہ کے روز سوناموہاپترا نے ٹویٹ کیا کہ ”سوال: آپ ایسے فلمی سپراسٹارز کے بارے میں کیا کہیں گے جو تمام تر پروموشن، پوسٹنگ اور ہائپ کے باوجود عوامی ڈومین میں ایک ہفتہ بھی ریٹرن نہیں دے سکتے؟ جواب: کاغذی شیر۔ (پلیز انڈیا ان کاغذی شیروں کو پوجنا بند کردو اور حقیقی ہیروز تلاش کرو۔“واضح رہے اس سے قبل بھی سوناموہاپترا سلمان خان کو پریانکاچوپڑا پر تبصرہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناچکی ہیں۔

کرکٹ ورلڈ کپ:بنگال ٹائیگرز نے کالی آندھی کو 7 وکٹ سے شکست دیدی

ٹاو¿نٹن(ویب ڈیسک) کرکٹ ورلڈ کپ کے 23ویں میچ میں ویسٹ انڈیز نے بنگلا دیش کو جیت کے لیے 322 رنز کا ہدف دیا تھا۔کرکٹ ورلڈکپ کے 23ویں میچ میں بنگلا دیش نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے جس کے جواب میں ویسٹ انڈیز کی جانب سے اننگز کا آغاز کرس گیل اور ایون لیوس نے کیا، تاہم کرس گیل صرف 6 کے مجموعی اسکور پر بغیر کوئی رن بنائے آﺅٹ ہوگئے، ون ڈاﺅن آنے والے شائی ہوپ نے اوپنر ایون لیوس کے ساتھ مل کر 122 رنز کی شراکت قائم کی جس کے بعد ایون لیوس 70 رنز بناکر آﺅٹ ہوگئے۔ویسٹ انڈیز کی جانب سے پانچویں نمبر پر آنے والے شمرون ہیٹمیر نے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور صرف 26 گیندوں پر 50 رنز بنائے اور آﺅٹ ہوگئے، آندرے رسل بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس لوٹ گئے۔ جیسن ہولڈر نے بھی جارحانہ انداز اپنایا اور 15 گیندوں پر 33 رنز بنائے تاہم 282 کے مجموعی اسکور پر وہ بھی پویلین واپس لوٹ گئے۔اوپننگ کے لیے آنے والے شائی ہوپ نے زبردست کھیل کا مظاہرہ کیا اور 96 رنز کی اننگز کھیلی لیکن بدقسمتی سے وہ اپنی سنچری مکمل نہ کرسکے اور آﺅٹ ہوگئے، ویسٹ انڈیز کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 8وکٹوں کے نقصان پر 321 رنز بناسکی۔بنگلہ دیش کی جانب سے اننگز کا آغاز تمیم اقبال اور سومیا سرکار نے کیا، تاہم سومیا سرکار ویسٹ انڈین بولر رسل کی گیند پر کرس گیل کو کیچ تھما بیٹھے، اور 29 کے انفرادی اسکور پر پویلین واپس لوٹ گئے۔ تمیم اقبال کا ساتھ دینے کے لئے مایہ ناز آل راﺅنڈر شکیب الحسن آئے، اور دونوں نے اننگز کو آگے بڑھایا تاہم تمیم اقبال بھی 48 رنز بنا کر شکیب الحسن کو کریز پر چھوڑ کر چلے گئے، مشفیق بھی زیادہ دیر مزاحمت نہ کرپائے اور صرف 1 رن بنا کر چلتے بنے، اس کے بعد شکیب الحسن کا ساتھ دینے لٹن داس آئے اور دونوں نے مل کر اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کرادیا۔شکیب الحسن نے شاندار سینچری اسکور کی اور اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے 124 رنز کی بہترین اور ناقابل شکست اننگ کھیلی، جب کہ لاٹن داس نے بھی 94 رنز کی ناقابل شکست اننگ اور ٹیم کی کامیابی کے ساتھ میدان سے باہر آئے۔ شکیب الحسن کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔واضح رہے کہ دونوں ٹیموں نے اب تک ایونٹ میں 4،4 میچز کھیلے ہیں جس میں دونوں ٹیموں کو 2،2 میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، ایک میچ میں کامیابی حاصل کی اور ایک میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا۔

سرفراز کا سنسنی خیز بیان، قوم کو پھرگولی دے دی

مینچسڑ:(ویب ڈسک) کرکٹ ورلڈ کپ میں بدترین کارکردگی دکھانے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے سے شکست کے بعد پہلے فیلڈنگ کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ بولرز نے رائٹ ایریا میں بولنگ نہیں کی، ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ اچھا تھا۔ورلڈکپ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کی روایت برقرار، پاکستان 89 رنز سے ہارگیاقومی کرکٹ ٹیم کے کپتان نے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ اب پاکستان کیلئے ٹورنامنٹ مشکل ہوگیا ہے تاہم انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ابھی چار میچز باقی ہیں اچھا سے اچھا کرنے کی کوشش کریں گے۔بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد پریس کانفرنس میں سرفراز احمد نے شکست کی ذمے داری پوری ٹیم پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہم بولنگ اچھی نہیں کررہے، بیٹنگ میں توقعات پوری نہیں کررہے، فیلڈنگ میں فاش غلطیاں کررہے ہیں، دباو¿ برداشت نہیں کررہے، جلد وکٹیں نہ لے سکے، گری ہوئی ٹیم کو یہاں سے اٹھانے کی ضرورت ہے اور یہ کارکردگی ورلڈ کپ جیسے ٹورنامنٹ کے لئے ناکافی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کے حوصلے ضرور گرے ہیں لیکن ٹیم نہیں گری، یہ ٹیم اب بھی کم بیک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ابھی ہمارا ورلڈ کپ ختم نہیں ہوا، ٹورنامنٹ میں واپس آنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اپنی کارکردگی کو بہتر کرنے اور غلطیاں کم سے کم کرنے کی ضرورت ہے۔کپتان نے مزید کہا کہ سینئر کھلاڑیوں سے اختلافات اور ڈریسنگ روم کے ماحول کی باتیں بکواس اور جھوٹ کا پلندہ ہیں، ٹیم خراب ضرور کھیل رہی ہے لیکن کھلاڑی متحد ہیں۔انہوں نے کہا کہ فیلڈنگ میں کمی رہ گئی، روہت شرما کا رن آو¿ٹ چھوڑنا برا ثابت ہوا، کھلاڑیوں کا مورال گرا ہوا نہیں ہے، ابھی بھی پاکستان کے پاس موقع ہے، کھلاڑیوں کو آگے دیکھنا چاہیے۔سرفراز نے کہا کہ ویرات کوہلی بھی پہلے بولنگ کرنا چاہتے تھے۔ مسلسل بارش کے بعد پہلے بولنگ ہی بنتی ہے، ٹیم میں سب کھلاڑی ایک دوسرے کے ساتھ ہیں کوئی جھگڑا نہیں، پاکستان کیلئے ورلڈ کپ ختم نہیں ہوا۔ورلڈکپ میں پاکستان کی بھارت سے شکست کے بعد اگر مگر کا کھیل شروع ہوگیادوسری جانب فاتح بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے کہا کہ بولنگ پلان کے مطابق کی جائے تو میچ آسان ہوجاتاہے۔ویرات کوہلی نے کہا کہ اچھی اوپننگ پارٹنرشپ کی وجہ سے بڑا اسکور بنانے میں کامیاب ہوئے، ہم نے سوائے چیمپئنز ٹرافی فائنل کے پاکستان کیخلاف اچھی کرکٹ کھیلی۔خیال رہے کہ ورلڈکپ کے میچ میں بھارت نے ڈک ورتھ لوئس سسٹم کے تحت 89 رنز سے شکست دی۔ ٹورنامنٹ میں پاکستان کے 4 میچز باقی ہیں اور قومی ٹیم کی سیمی فائنل میں رسائی کی امیدیں دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔

کیا ثانیہ مرزا اور شعیب ملک ٹیم کو لے ڈوبے ؟

لاہور(ویب ڈیسک )بھارت سے میچ سے پہلے قومی کھلاڑیوں کی رات گئے شیشہ کیفے میں موجودگی کی ویڈیو نے جہاں کرکٹرز کے نظم و ضبط کی قلعی کھول دی ہے وہیں شعیب ملک اور ثانیہ مرزا پر قانونی کارروائی کا خطرہ بھی منڈلانے لگا ہے۔ورلڈ کپ کے دوران پی سی بی نے کھلاڑیوں کے لیے رات گیارہ بجے کرفیو ٹائم مقرر کررکھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تمام کھلاڑی اس وقت سے پہلے لازمی ہوٹل پہنچ جائیں لیکن وائرل ہونے والی تصویر اور ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شعیب ملک کے ساتھ امام الحق، وہاب ریاض اور ثانیہ مرزا رات گئے شیشہ بار میں موجود ہیں۔ بھارت کےخلاف پاکستانی ٹیم اگر یہ میچ جیت جاتی تو پھر شاید اس ویڈیو کو نظر انداز کردیا جاتا لیکن اب اس ویڈیو پر کھل کر تنقید ہورہی ہے۔شعیب ملک اور دوسرے 2 کرکٹرز کی ثانیہ مرزا کے ساتھ شیشہ بار کی وائرل ہونے والی ویڈیو نے شعیب ملک فیملی کے لیے بھی مشکلات پیدا کردی ہیں۔۔ثانیہ کا کہنا ہے کہ بغیر اجازت ویڈیو بنانا نجی زندگی میں مداخلت ہے جب کہ ماہرین کے مطابق کم سن بچے کو شیشہ کیفے میں لے جانے پر شعیب ملک فیملی کو قانونی کارروائی کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

سنت نبوی پر عمل کریں میڈیکل سائنس نے ثبوت دے دیا

ناروے: (وےب ڈیسک)بعض ناقابلِ تردید شواہد سے یہ بات سامنے ا?ئی ہے کہ منہ کی صحت اور دماغی امراض کے درمیان ایک تعلق پایا جاتا ہے۔ اب اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ روزانہ باقاعدگی سے دانتوں کو صاف رکھنے سے الزائیمر اور دیگر دماغی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔ناروے کی یونیورسٹی آف برجن کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ روزانہ دانتوں کو صاف رکھتے ہوئے نہ صرف ا?پ اپنے دانت بچاسکتے ہیں بلکہ خود کو الزائیمر سمیت کئی امراض سے بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مسوڑھوں کی سوزش (جنجی وائٹس) اور الزائیمر کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ اس کا ثبوت دیتے ہوئے یونیورسٹی کے شعبہ کلینکل علوم کے ماہر پائٹرمائڈل اور ان کے ساتھیوں نے خاص بیکٹیریا کے ڈی این اے پیش کئے ہیں۔ مسوڑھوں کی سوزش میں جو بیکٹیریا سرگرم ہوتے ہیں وہ منہ کے ذریعے دماغ تک جاتے ہیں اور یوں الزائیمر کی وجہ بنتے ہیں۔یہ بیکٹیریا دماغ میں جاکر ایک ایسا پروٹین بناتے ہیں جو دماغی خلیات یعنی عصبیوں (نیورونز) کو تباہ کرتا ہے اور انسانی یادداشت کم ہوتی رہتی ہے اور آخرکار وہ الزائیمر کی جانب پہنچ جاتا ہے۔ پروفیسر مائڈل کہتے ہیں کہ یہ بیکٹیریا الزائیمر کی براہِ راست وجہ نہیں بلکہ یہ الزائیمر کو بڑھاتا ہے۔ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ دانتوں کو برش کرنے اور دھاگے سے فلاسنگ کی بدولت اس خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔پروفیسر مائڈن کہتے ہیں کہ اگر آپ کے خاندان میں کوئی اس مرض میں مبتلا ہوا ہے اور ا?پ مسوڑھوں کی سوزش میں مبتلا ہے تو اپنے ماہرِ دنداں سے رابطہ کرکے اس مرض کو ختم کرنے کی کوشش کیجئے۔ڈاکٹر مائڈن اور ان کی ٹیم نے الزائمر کے 53 مریضوں کا جائزہ لیا ہے جن میں یہ بیکٹیریا اور اس سے وابستہ اینزائم دیکھے گئے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اس عمل کو روکنے والی ایک دوا بھی بنائی ہے جو اس سال کے آخر تک آزمائشی عمل سے گزرے گی۔

میرا فیصلہ ڈرست تھاسرفرازکی ہٹ دھرمی

مانچسٹر: (ویبڈیسک)قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ ٹھیک تھا لیکن اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکے۔بھارت سے شکست کے بعد قومی ٹیم کے کپتان سرفرازاحمد نے کہا کہ ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ ٹھیک تھا لیکن اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکے، بولرز نے رائٹ ایریا میں بولنگ نہیں کی جب کہ فخر اور بابر کی اچھی پارٹنر شپ تھی۔سرفرازا حمد کا کہنا ہے کہ شکست کے بعد پاکستان کے لیے ٹورنامنٹ اب مشکل ہوگیا ہے، لیکن ابھی چار میچز باقی ہیں اچھا سے اچھا کرنے کی کوشش کریں گے۔واضح رہے بارش سے متاثرہ میچ میں ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت بھارت کے 302 رنز کے جواب میں پاکستانی ٹیم مقررہ 40 اوورز میں 6 وکٹوں پر 212 رنز ہی بنا سکی اور بھارت نے ورلڈکپ میں پاکستان کے خلاف جیت کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے گرین شرٹس کو 89 سے شکست دے دی۔

کیاآفریدی کو میچ کا اختتام پہلے سے معلوم تھا؟

مینچسڑ(ویب ڈیسک)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے پاک بھارت میچ ختم ہونے سے قبل ہی شکست تسلیم کرلی۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری پیغام میں آفریدی نے کہا کہ ‘آج کی جیت پر بھارتی کرکٹ بورڈ کو بہت مبارکباد، وہ اس کے مستحق تھے۔پاک بھارت میچ بارش سے متاثر، ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت بھارت کو برتریآفریدی نے مزید کہا کہ اس میچ میں مقابلے کا معیار انتہائی بلند رہا اور اس کا کریڈٹ انڈین پریمیئر لیگ کو جاتا ہے جس نے نہ صرف نئے ٹیلنٹ کو ڈھونڈا اور انہیں نکھارا بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کو دباو¿ کو ہینڈل کرنے کے طریقوں سے بھی روشناس کرایا۔خیال رہے آفریدی کا ٹوئٹ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان اور بھارت کا میچ بارش کی وجہ سے رکا ہوا تھا، ڈک ورتھ لوئس سسٹم کے تحت بھارت کو پاکستان پر 86 رنز کی برتری حاصل تھی۔

بھارت ناقابل شکست ،پاکستان کی لگاتار کتنی بار شکست؟

مینچسٹر(ویبڈیسک)ورلڈکپ کے اہم ترین میچ میں روایتی حریف بھارت نے پاکستان کو 89رنز سے شکست دے کر پاکستان کے خلاف ورلڈ کپ میچوں میں ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ برقرار رکھا۔مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلے گئے میچ میں پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی لیکن ان کا یہ فیصلہ تباہ کن ثابت ہوا۔بھارتی بلے باز روہت شرما اور لوکیش راہول نے پراعتماد انداز میں بیٹنگ کا آغاز کیا اور ٹیم کے لیے سنچری پارٹنر شپ قائم کی۔دونوں بلے بازوں نے اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں، تاہم وہاب ریاض نے اپنے دوسرے اسپیل میں 57 رنز بنانے والے لوکیش راہل کو 136 کے مجموعی اسکور پر آو¿ٹ کردیا۔تاہم وکٹ کی دوسری جانب روہت شرما نے اپنا روایتی کھیل جاری رکھا اور اپنی سنچری مکمل کی۔پاکستانی فاسٹ باو¿لر حسن علی نے 140 رنز بنانے والے روہت شرما کی اننگز کا 234 کے مجموعے پر خاتمہ کیا، تاہم دوسرے اینڈ سے ویرات کوہلی نے تیزی سے رنز بنانے کی ذمے داری سنبھال لی۔بھارت نے تیزی سے رنز بنانے کے لیے ہردک پانڈیا کو وکٹ پر بھیجا جنہوں نے 19گیندوں پر 26رنز بنائے لیکن پھر محمد عامر کی گیند پر بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔مہندرا سنگھ دھونی کا وکٹ پر قیام انتہائی مختصر رہا اور وہ بھی عامر کو وکٹ دے بیٹھے۔اس کے بعد وجے شنکر وکٹ پر آئے لیکن میچ میں بارش نے مداخلت کردی اور تقریباً آدھے گھنٹے کی تاخیر کے بعد میچ دوبارہ شروع ہوا۔میچ شروع ہوا تو محمد عامر نے ایک اور وکٹ لیتے ہوئے ویرات کوہلی کی 77رنز کی شاندار اننگز کا بھی خاتمہ کردیا۔بھارتی ٹیم نے مقررہ اوورز میں 5وکٹوں کے نقصان پر 336رنز بنائے، پاکستانی کی جانب سے محمد عامر 3 وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باو¿لر رہے۔ہدف کے تعاقب میں امام الحق اور فخر زمان نے ابتدائی اوورز میں محتاظ انداز اپنایا لیکن 13 کے مجموعی اسکور پر وجے شنکر کی گیند پر امام الحق وکٹوں کے سامنے پیڈ لانے کی پاداش میں آو¿ٹ قرار دیے گئے۔اس کے بعد فخر زمان اور بابر اعظم نے محتاط انداز اپنایا اور بتدریج اسکور کو آگے بڑھاتے ہوئے تمام بھارتی باو¿لرز کا ڈٹ کر سامنا کیا۔فخر زمان نے اپنی نصف سنچری مکمل کی جبکہ بابر اعظم نے عمدہ بیٹنگ کی لیکن 48کے اسکور پر کلدپ یادو نے بابر اعظم کی وکٹیں بکھیر دیں۔فخر زمان اور بابر اعظم نے دوسری وکٹ کے لیے 104رنز کی شراکت قائم کی۔فخر سے اپنے ساتھی کی جدائی برداشت نہ ہوئی اور وہ بھی 62رنز بنانے کے بعد کلدیپ کو وکٹ دے بیٹھے اور صرف 3 رنز کے اضافے کے بعد محمد حفیظ بھی آو¿ٹ ہوگئے۔شعیب ملک کی تجربہ کاری ایک مرتبہ پھر ٹیم کے لیے سود مند ثابت نہ ہوسکی اور بغیر کوئی رن بنائے پانڈیا کی دوسری وکٹ بن گئے۔کپتان سرفراز احمد اور عماد وسیم نے اسکور 165 تک پہنچایا لیکن اس مرحلے پر سرفراز وجے شنکر کی گیند پر اپنی وکٹیں محفوظ نہ رکھ سکے۔اس کے بعد میچ میں دوبارہ بارش نے مداخلت کردی اور تقریباً آدھے گھنٹے تک میچ شروع نہ ہو سکا۔بارش رکنے کے بعد میچ کو 40اوورز تک محدود کرتے ہوئے پاکستان کو 302رنز کا نظرثانی شدہ ہدف دیا گیا

پاک فوج میں تقرر و تبادلے ، لیفٹیننٹ جنرلز کی اہم عہدوں پر ترقی

راولپنڈی (آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج میں متعدد لیفٹیننٹ جنرلز کے تقرر و تبادلے کردیئے گئے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا ہے۔اتوار کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پاک فوج میں متعدد لیفٹیننٹ جنرلر کے تقرو و تبادلے کردیئے گئے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کوکو ر کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کردیا گیاہے ، لیفٹیننٹ جنرل عامر عباسی کو کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات جبکہ لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز کوجی ایچ کیومیں انجینئران چیف تعینات کیا گیاہے۔ بیان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ساحرشمشاد مرزا جی ایچ کیو میں ایڈجوٹینٹ جنرل تعینات جبکہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کردیا گیا ہے۔ پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج میں اعلیٰ سطح پر معمول کے تبادلے کیے گئے ہیں جن کے تحت لیفٹیننٹ جزل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی کی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ میجر جنرل فیض حمید اس سے قبل آئی ایس آئی کے کا?نٹر انٹیلی جنس ونگ کے سربراہ کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دے چکے ہیں، انہیں اپریل میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عامر عباسی کو جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات کیا گیا ہے جب کہ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا اب جی ایچ کیو میں ایڈجوٹیننٹ جنرل کے فرائض انجام دیں گے، لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز کو جی ایچ کیو میں انجینئر ان چیف اور لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو کمانڈر گوجرانوالہ کور تعینات کیا گیا ہے۔

بلاول ، مریم ملاقات ، حکومت مخالف تحریک کا فیصلہ

لاہور (خبرنگار) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی دعوت پر جاتی امرا فارم ہا?س رائے ونڈ گئے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے میثاق جمہوریت کی روح کے مطابق آگے بڑھنے ، اسے دور حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے ،مستقبل میں بھی رابطے جاری رکھنے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے موقع پر د یگر اپوزیشن جماعتوں سے مل کر مشترکہ حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا ہے۔دونوں رہنما?ں نے قرار دیا کہ وفاق پاکستان کی وحدت، اکائیوں کے اتحادویکجہتی اور اعتماد کی ضمانت صرف آئین ہے ،آئین کی سربلندی اور جمہوریت ہی ملک کو آگے لے جاسکتی ہے،اپوزیشن قائدین پر الزامات عوام کو سیاسی قیادت سے محروم کرنے کی سازش کا حصہ ہیں ، قوم اپوزیشن کی طرف دیکھ رہی ہے جسے مایوس نہیں کریں گے۔آئی ایم ایف بجٹ عوام اور ملک دشمن ہے جسے منظور نہیں ہونے دیں گے۔تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وفد کے ہمراہ اتوار کے روز جاتی امرا پہنچے تو ن لیگ کی نائب صدرمریم نواز اور دیگر نے بلاول بھٹو کا استقبال کیا،ملاقات میں دونوں جماعتوں کے قریبی رفقا نے بھی شرکت کی۔ پیپلز پارٹی چیئرمین کے ساتھ دیگر رہنما?ں میں صوبائی صدر قمر زمان کائرہ، سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر، سید حسن مرتضی، چوہدری منظوراحمد ، ڈاکٹر جمیل سومرو اور دیگر شامل تھے جبکہ مریم نوازکی معاونت رانا ثناللہ، سردار ایاز صادق ،پرویز رشید ،کیپٹن (ر)صفدر ،محمد زبیر ،مریم اورنگزیب اور دیگر نے کی۔مریم نواز کی جانب سے بلاول بھٹو کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیا۔ جبکہ دونوں جماعتوں کے رہنما?ں کی ملاقات کے بعد مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری نے ون آن ون ملاقات بھی کی۔ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال ، اپوزیشن کی مجوزہ اے پی سی ، نیب کی جانب سے اپوزیشن کی گرفتاریوں ، ججز کے خلاف ریفرنس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے رہنما?ں کے درمیان ہونے والی ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ اس موقع پر حکومت کی پالیسیوں اور حالیہ بجٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اپوزیشن جماعتیں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گی اور ان کی آواز بنیں گی۔ ملاقات میں اپوزیشن کی مجوزہ اے پی سی اور اپوزیشن سے رابطوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور طے پایا کہ بجٹ کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن مشترکہ حکمت عملی اپنائے گی۔ ملاقات کے دوران نیب کی جانب سے اپوزیشن کی قیادت اور رہنما?ں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرح کے ہتھکنڈے عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ اس موقع پر دونوں رہنما?ں کا کہنا تھاکہ وفاق پاکستان کی وحدت، اکائیوں کے اتحادویکجہتی اور اعتماد کی ضمانت صرف آئین ہے ،قوم کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو باہمی اعتماد اور اتحاد کا باعث ہو ،آئین کی سربلندی اور جمہوریت ہی ملک کو آگے لیجاسکتی ہے۔ دونوں جماعتوں نے میثاق جمہوریت کی روح کے مطابق آگے بڑھنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ حکمران آئین، پارلیمان، عوام، اپوزیشن، عدلیہ، میڈیا سمیت ہر اختلافی آواز پر حملہ آور ہیں،نئے پاکستان کے نام پر ہونے والا فراڈ قوم کو مزید برداشت نہیں اورقوم اپوزیشن کی طرف دیکھ رہی ہے جسے مایوس نہیں کریں گے۔آئی ایم ایف بجٹ عوام اور ملک دشمن ہے جسے منظور نہیں ہونے دیں گے اور اس کے اپوزیشن جماعتیں مل کر حکمت عملی بنائیں گی۔ رہنما?ں نے کہاکہ موجودہ حکومتی مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے۔مقبول سیاسی جماعتیں ہی قوم کو نیا اعتماد، مسائل سے نکلنے کا لائحہ عمل اور متحد کرسکتی ہیں۔ اپوزیشن قائدین پر الزامات عوام کو سیاسی قیادت سے محروم کرنے کی سازش کا حصہ ہیں ،مقبول سیاسی رہنماوں کو بہانوں سے راستے سے ہٹایا گیا، کٹھ پتلی کو بٹھایا گیا،سیاسی جماعتیں ملک و قوم کے مفاد کے خلاف اقدام نہیں اٹھا سکتیں اسی لیے کٹھ پتلیوں کو لایا گیا،ملک سے مقبول عوامی سیاسی قیادت جب بھی چھینی گئی ملک وقوم کو نقصان پہنچا اور حادثہ ہوا۔ذرائع کے مطابق مریم نواز کا کہنا تھاکہ دونوں جماعتوں نے جمہوریت کی بالا دستی کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ملک میں معاشی بحران ناقابل برداشت صورت حال اختیار کرچکا ہے۔ نالائق او رجھوٹوں کی حکومت نے آزاد عدلیہ کے اوپر بھی حملہ کر دیا ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ووٹ چور اورکٹھ پتلی حکومت عوام کی ترجمانی نہیں کرسکتی۔جیلیں دیکھنے والی جماعتوں کو سلیکٹڈ حکومت خوفزدہ نہیں کر سکتی۔اپوزیشن جماعتیں اپنے طور پر بھی رابطہ عوام مہم شروع کر چکی ہیںتاہم اے پی سی میں جو فیصلے کئے جائیں گے ان پر عمل کیا جائے گا۔ملاقات کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے حکومت کو بہت مواقع دیے کہ وہ عوام دوست بجٹ پیش کرے، اب حکومت جاتی ہے تو جائے، عوام دشمن بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے۔ عوام اور جمہوریت کی خاطر آواز اٹھائیں گے، مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے اور 21 جون کو نواب شاہ جلسے سے مہم شروع کروں گا۔اس سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی پی پی کے رہنما چوہدری منظور نے کہا کہ اپوزیشن رہنماں کی ملاقاتوں سے حکومت حواس باختہ ہوچکی ہے اور اپوزیشن کی ممکنہ احتجاجی تحریک کی وجہ سے حکومت گرفتاریاں کررہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ملاقاتیں اپوزیشن کی سیاسی روایات کا ایک حصہ ہیں، پی پی سمجھتی ہے اپوزیشن جماعتوں کو مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔۔اس سے قبل ن لیگ کے رہنما پرویز رشید کا کہنا تھا کہ حکومت دو لوگوں کے مل بیٹھنے پر بہت پریشان ہے ، جب یہ دونوں مل کر نکلیں گے تو حکومت کا کیا حال ہوگا۔علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) میڈیا سیل کی جانب سے ملاقات کا اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ دونوں رہنما?ں کے درمیان طویل مشاورت ہوئی جس میں دونوں جماعتوں کے دیگررہنمابھی شریک ہوئے۔ ملاقات میں موجودہ ملکی صورت حال پر تفصیل سے غور کےا گےا۔ اس امر پر اتفا ق پاےا گےا کہ ملک ہر شعبہ زندگی میں زوال کا شکار ہے اور ا±سے اقتصادی تباہ حالی کی گہری دلدل میں دھکیل دےا گےا ہے۔ معیشت کے تمام اعشا رئےے شدید بحران کی طرف جا رہے ہےں۔ پاکستان کو عالمی ساہو کا روں کے پاس گروی رکھ دےنے اور قومی ادارے غیروں کے سپر د کر دےنے کے باوجود صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قیمت ،افراطِ زر (مہنگائی) کی بڑھتی ہوئی شرح، دس ماہ میں ریکارڈ قرضوں کے باوجود زرمبادلہ کے کمزور ہوتے ذخائر، سٹاک ایکسچےنج کی بحرانی صورت حال ، قومی شرح نمود (جی ڈی پی) کانصف رہ جانا،بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری کا ر±ک جانا، ترقیاتی منصوبوں پر کام کا خاتمہ ، سی پیک کی س±ست رفتاری ، حکومتی دعووں اور قومی سطح پر چھائی مایوسی و بے ےقینی نے پاکستان کو بحران میں مبتلا کر دےا ہے کہ بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ دس ماہ میں دو منی بجٹ دینے کے بعد حکومت کے پہلے قومی بجٹ نے نہ صرف معیشت کے سنبھلنے کے تمام امکانات ختم کر دئےے ہےں بلکہ عام آدمی پر ٹیکسوں اور مہنگا ئی کا نا قابل برداشت بوجھ لاد دےا ہے۔ غر یب کم آمدنی اور متوسط طبقے کے لوگ ، مزدور ، محنت کش ، کسان اور ملازمت پیشہ افراد کےلئے زندگی مشکل بنا دی گئی ہے۔ بجلی ، گیس، پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دی گئی ہےں۔ ملاقات کے دوران چئیرمین ، نیب کی یک طرفہ انتقامی کاروائیوں اور حکومتی ملی بھگت کے ساتھ اپوزیشن کے ساتھ ٹارگیٹڈ سلوک پر بھی غور کیا گےا۔ نیب کے جعلی ، بے بنیاد اور من گھڑت مقدمات کے حوالے سے عدالتوں کا طرز عمل بھی زیر غور آیا۔ ملاقات میں مولانا فضل الرحمن کی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس اور دونوں جماعتوں کے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی بات ہوئی۔ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز نے اتفاق کےا کہ موجودہ غیر نمائندہ حکومت عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی ترجمانی نہیں کرتی۔ دونوں قومی جماعتوں نے ملک کے وسیع تر مفاد میں دھاندلی زدہ انتخابات کے جعلی نتائج کو نظر انداز کرتے ہوتے مثبت طرز عمل اپنایا لیکن دس ماہ کے دوران حکومت کی نااہلیت نے نہ صرف معیشت بلکہ قومی سیاست و انتظامی کارکردگی کو بھی تما شا بنا دےا ہے۔ حکومتی رویے نے پارلیمنٹ کو بھی مفلوج کر کے رکھ دےا ہے۔ قانون سازی کا عمل ر±ک گےا ہے۔ ا±ن کے منصب کے منافی ہے۔سلیکٹڈ وزیر اعظم اور نالائق حکومت کے طرز عمل سے عالمی سفارتی سطح پر بھی ملک کی رسوائی ہو رہی ہے۔ ملاقات میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان 2006 میں طے پانے والے میثاق جمہوریت کا ذکر بھی آیا۔ دونوں رہنما?ں نے اسے ایک اہم دستاویز قرار دیتے ہوئے اسے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ انہوں نے عوام کی مشکلات اور نااہل حکومت کی عوام دشمن سرگرمیوں کے حوالے سے احتجاجی تحریک کی پارلیمان کے اندر اور باہر مشترکہ حکمت عملی پر بھی بات ہو ئی۔ بنیا دی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں ، میڈےا کی آزادی سلب کرنے ، صحافیوں پر حملوں، اپوزیشن کی آواز دبانے کےلئے سخت گیر ہتھکنڈوں اور سنسر شپ کی مذمت کی گئی۔ اس امر پر اتفاق پاےا گےا کہ موجودہ نااہل اور غیر نمائندہ حکومت کا جاری رہنا عوام اور ملک کو تباہی و بربادی اور اےسے المیے سے دو چار کر سکتا ہے جس کی تلافی ممکن نہےں رہے گی۔ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف نے اتفاق کیا کہ آج کی ملاقات کے دوران سامنے آنے والی تجاویز دونوں جماعتوں کے رہنما?ںسے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔ دونوں راہنما?ں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اپوزیشن کے ایک مشترکہ لائحہ عمل کےلئے تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے بات کی جائے گی اور ا±ن جماعتوں کو پوری طرح اعتماد میں لیا جائے گا۔ مشترکہ حکمت عملی کا دائرہ ا±ن سیاسی جماعتوں تک بھی پھیلایا جائے گا۔ جنہوں نے پی۔ٹی۔آئی حکومت کے قیام میںا±سے ووٹ دیا تھا یا ا±س کی کو لیشن میں شامل ہے۔ لیکن وہ بھی حکومتی پالیسوں سے اتفاق نہےں کررہے۔ ملاقات میں دونوں رہنما?ں نے اعلی عدلیہ کے معزز جج صاحبان کے خلاف حکومت کی جانب سے ریفرنس دائر کرنے کی شدید مذمت کی اور حکومتی ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے قرار دیا کہ اعلی عدلیہ کے جج صاحبان کے خلاف ریفرنس بد نیتی پر مبنی اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔ دونوں جماعتوں نے عدلیہ کی آزادی اورخود مختاری کےلئے بھر پور جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔دونوں رہنما?ں نے سپیکر قومی اسمبلی سے گرفتار ارکانِ قومی اسمبلی کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی جانبدارانہ رویہ ترک کریں۔ قواعد و ضوابط اور پارلیمانی رواےت کے مطابق تمام پابند سلاسل قومی اسمبلی کے ممبران کے فوری طور پر پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائےں۔ تاکہ وہ عوام دشمن بجٹ پر اپنے اپنے حلقوں کی نمائندگی کر سکےں اور اپنی رائے دے سکےں۔ بلاول بھٹو زرداری نے ظہرانے کی دعوت پر مریم نواز کا شکرےہ ادا کےا۔ مریم نواز نے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی آمد ، بالخصوص جیل میں محمد نواز شریف کی مزاج پر±سی کےلئے جانے پر ا± ن کا شکرےہ ادا کیا۔واضح رہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے رمضان المبارک میں اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کو دعوت افطار پر مدعو کیا تھا، جس میں مریم نواز بھی شریک ہوئی تھیں، یہ دونوں سیاسی رہنماں کے درمیان پہلی باضابطہ سیاسی ملاقات تھی۔ مریم نواز نے گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری کو ملاقات کی دعوت دی تھی جسے بلاول نے قبول کیا تھا۔

ن لیگ میں دھڑے بندی ، مریم نواز نے پارٹی قیادت سنبھال لی

لاہور(خبر نگار) مسلم لیگ ن میں دھڑے بندی کھل کر سامنے اگئی۔نواز شریف کی ایما پر مریم نواز نے ن لیگ جماعت کا قلعہ سنبھال لیا ، صدر مسلم لیگ ن میاں شہباز شریف کو مریم ،بلاول ملاقات میں مدعو نہیں کیا گیا ذرائع۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں شہباز شریف شریک نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کو مدعو کیا گیا اور نہ ہی شہباز شریف کے حامی گروپ نے اس ملاقات میں شرکت کی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نہیں چاہتے کہ موجودہ وقت میں کوئی احتجاج کیا جائے کیونکہ ان کی پارٹی اور اس کی قیادت کو مختلف مقدمات کا سامنا ہے ہمیں کسی سیاسی پارٹی کا ہراول دستہ نہیں بننا چاہیے اور کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے ہمارے کیسز پر اثر پڑے لیکن اس کے برعکس مریم نواز شریف اس بیانیہ پر عمل نہیں کرنا چاہتیں وہ جارہانہ پالیسی کو اپنانا چاہیتی ہیں اس لیے اس نے گزشتہ ظفر وال جلسے میں جارہانہ خطاب کیا اور موجودہ حکومت پر خوب تنقید کی ذرائع کے مطابق اس حوالے شہباز شریف نے نواز شریف کو بھی یہی کہا ہے کہ ابھی ایسا کچھ نہ کیا جائے لیکن مریم نواز شریف ایسا کر نے کےلئے تیار نہیں ہیں۔

حسن علی ،بہترین کے بعد بد تری، کونسا ریکارڈ اپنے نام کیا

(ویب ڈیسک)ورلڈ کپ 2019 میں بھارت کے خلاف میچ میں حسن علی نے پاکستان کی جانب سے عالمی کپ کا بدترین ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔بھارت کے خلاف ورلڈ کپ کے اہم میچ میں حسن علی بھارتی بلے بازوں کا مرکزی ہدف رہے اور تمام ہی بلے بازوں نے ان کے خلاف دل کھول کر رنز بٹورے۔حسن نے میچ میں اپنے کوٹے کے 10 اوورز بھی مکمل نہ کیے اور 9 اوورز میں سب سے زیادہ 84 رنز دیے جس کے ساتھ ہی وہ ورلڈ کپ کے کسی بھی میچ میں سب سے زیادہ رنز دینے والے پاکستانی باو¿لر بن گئے ہیں۔حسن علی کی ناقص فارم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اب تک ورلڈ کپ میں کرائے گئے 33 اوورز میں 256 رنز دے چکے ہیں اور صرف 2 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے ہیں۔اب تک اس ورلڈکپ میں کسی بھی باو¿لر نے اتنے زیادہ رنز نہیں دیے۔