پی سی بی کی ٹیم میں گروپنگ کی خبروں کی تردید

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم میں اختلافات اور گروپنگ کی خبروں کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ترجمان پی سی بی کے مطابق اختلافات سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔’تمام کھلاڑی سرفراز احمد کی قیادت میں متحد اور آئندہ میچوں میں بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے تیار ہیں۔‘دوسری جانب قومی ٹیم مانچسٹر سے لندن پہنچ گئی تاہم ٹیم انتظامیہ نے کھلاڑیوں کی نقل وحرکت محدود کردی ہے۔کرکٹرز لندن میں دو دن کو آرام کے بعد جمعرات کو لارڈز میں اپنا پریکٹس سیشن کرے گی۔پاکستان ورلڈ کپ میں اپنا چھٹا میچ اتوار کو جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز ٹیم میں گروپنگ سے متعلق خبریں منظر عام پر آئی تھیں۔ذرائع کے مطابق کپتان سرفراز احمد نے وہاب ریاض، امام الحق اور عماد وسیم پر گروپنگ کا الزام لگایا تھا۔دو روز قبل اولڈ ٹریفرڈ کے میدان پر بھارت کے خلاف میچ کے دوران جب سرفراز آﺅٹ ہوکر پویلین لوٹے تو غصے سے بولے کہ ٹیم میں گروپنگ چل رہی ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ میچ ختم ہونے سے پہلے ہی کپتان کھلاڑیوں پر چڑھ دوڑے اور کہا کہ مجھے سب پتہ ہے کون کون گروپنگ کررہا ہے۔

چنیوٹ مائنز اینڈ منرلز کیس میں نیب لاہور کی بڑی پیش رفت۔۔۔

لاہور(صدف نعیم سے)صوبائی وزیر ملزم سبطین خان کے بعد 3 دیگر شریک ملزمان بھی غیرقانونی ٹھیکہ فراہمی میں معاونت کے الزام میں گرفتار،گرفتار ملزمان میں سابقہ سیکرٹری مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ ملزم امتیاز احمد چیمہ شامل دیگر شریک ملزمان میں سابقہ جنرل مینجر ملزم محمد اسلم اور چیف انسپکٹر مائنز پنجاب ملزم عبدالستار بھی گرفتار ،ملزمان نے آپس کی ملی بھگت سے اربوں روپے مالیت کے چنیوٹ آئرن عور کی کان کنی کا ٹھیکہ مبینہ من پسند اور معمولی نوعیت کی کمپنی کو نوازا،ملزم سابقہ سیکرٹری امتیاز احمد چیمہ نے مرکزی ملزم سبطین خان کے کہنے پر ٹھیکہ منظور کیلئے ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی،کمیٹی میں ملزمان محمد اسلم اور عبدالستار کو ممبران کمیٹی کے طور پر تعینات کروایا گیا، ملزم چیف انسپکٹر مائنز پنجاب عبدالستار کیجانب سے غیرقانونی ٹھیکہ کی منظوری کیلئے مائنز کا جعلی سروے ٹیکنیکل کمیٹی کو فراہم کیا گیا،جبکہ مائنز ڈیپارٹمنٹ کے جی ایم آپریشنز ملزم محمد اسلم نے جعلی مالی اور تکنیکی اعدادوشمار کمیٹی کو فراہم کیا، ملزمان نے آپس کی ملی بھگت سے ٹیکنیکل کمیٹی کے ذریعے یہ ٹھیکہ ای آر پی ایل نامی کمپنی کو جوائنٹ وینچر کے تحت منظور کروایا،نیب لاہور کیجانب سے اسی کیس کی تحقیقات میں مرکزی ملزم صوبائی وزیر سبطین کو 14 جون کو لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔
تحقیقات میں ہونیوالے انکشافات۔۔۔
ملزمان پر چنیوٹ اور راجوہ میں اربوں روپے مالیت کے 500 میٹرک ٹن آئرن عور کے غیرقانونی ٹھیکہ دینے کے الزام پر تحقیقات جاری،ملزمان کیجانب سے جولائی 2007 میں میسرز ارتھ ریسورس پرائیویٹ لمیٹڈ نامی کمپنی کو اربوں روپے مالیت کا ٹھیکہ غیرقانونی طور پر فراہم کرنیکے اقدامات اٹھائے، لاہور ہائی کورٹ کی نشاندہی پر نیب لاہور حرکت میں آیا اور تحقیقات کا آغاز کیا گیا، ای آر پی ایل نامی کمپنی کے پاس کان کنی کا تجربہ نہیں تھا پھر بھی ملزمان کی ملی بھگت سے اسے کنٹریکٹ فراہم کر دیا گیا،پنجاب مائنز ڈیپارٹمنٹ کیجانب سے ٹھیکہ کی بڈنگ کے مراحل میں کسی دوسری کمپٹیٹر کمپنی کو شامل ہی نہ کیا گیا،جبکہ پنجاب مائنز نے مبی ہ طور پر صرف% 20 کی شراکت داری پر رضامندی ظاہر کی اسطرح یہ جائنٹ وینچر سرعی طور پر غیر قانونی تھا،ملزمان کیجانب سے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن کو منصوبہ کی تفصیلات کبھی فراہم ہی نہ کی گئیں تاہم اس دوران منصوبہ پر کام بھی جاری رکھا گیا، نیب لاہور حکام تینوں ملزمان کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کیلئے کل احتساب عدالت لاہورکے روبرو پیش کرینگے۔

سنی دیول نے شاہ رخ خان سے 16 سالہ ناراضی پر خاموشی توڑ دی

ممبئی(ویب ڈیسک) بھارتی اداکار سنی دیول نے بالی ووڈ کنگ شاہ رخ سے 16 سالہ ناراضی پر خاموشی توڑ دی۔بھارتی میڈیا کے مطابق سنی دیول نے انٹرویو میں شاہ رخ خان اور فلم ساز یش راج سے رنجشوں پر لب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ 1993ءمیں فلم ’ڈر‘ کی شوٹنگ جاری تھی جہاں ایک سین میں شاہ رخ خان کو مجھے چاقو مارنا تھا اس سین پر مجھے اعتراض تھا اور میں نے اپنا یہ اعتراض یش راج جی کے سامنے بھی رکھا اور انہیں بتایا کہ میں فلم میں کمانڈو ا?فیسر کا کردار ادا کر رہا ہوں جوکہ ایک انتہائی فٹ شخص ہوتا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ ایک عام شخص باآسانی کمانڈو پر وار کردے۔سنی دیول نے یہ بھی کہا کہ وہ شخص مجھے تب پیٹ سکتا ہے جب میں اسے دیکھ نہ پا رہا ہوں یا میری توجہ کہیں اور ہو اور میری تمام تر توجہ اس پر ہونے کے باوجود وہ پھر بھی مجھے چاقو سے وار کردے تو میں اپنے آپ کو کمانڈو کیسے کہوں؟اداکار نے یہ بھی کہا کہ یش راج کو تمام صورتحال بتانے کے دوران میں بہت غصے میں تھا میں نے انہیں اور کچھ نہیں کہا کیوں کہ میں ا±ن کی عزت کرتا ہوں، ا±س دوران غصے میں ہونے کی وجہ سے میں نے اپنا ہاتھ جیب میں رکھا ہوا تھا شدید غصے میں ہونے کی وجہ سے مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ میرے ہاتھوں کی وجہ سے پینٹ کی جیب پھٹ گئی تھی۔سنی دیول سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا وہ 16 سال سے اسی وجہ سے شاہ رخ خان سے ناراض ہیں اور بات نہیں کر رہے جس پر سنی نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وجہ نہیں ہے بلکہ میں نے خود ہی کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ سچ بات تو یہ بھی ہے کہ میں کسی سے ملتا جلتا نہیں ہوں۔واضح رہے کہ 1993ءمیں بننے والی مقبول ترین فلم ’ڈر‘ میں شاہ رخ خان کا کردار آج بھی ا±ن کے مداحوں کو یاد ہے۔ فلم میں شاہ رخ کے ساتھ سنی دیول اور جوہی چاولہ نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

بلاول،شہباز ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) کے لئے 25 یا 26 جون کی تاریخوں پر غور کیا گیا اور اس کے مقاصد اور ایجنڈے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔دونوں رہنماﺅں نے بجٹ منظوری روکنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کیا، یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ن لیگ حتمی تاریخ کا فیصلہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے مشاورت کے بعد کرے گی۔ملاقات میں طے کیا گیا کہ 20 جون کو اے پی سی کے ایجنڈے اور بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیل سے نواز شریف کو آگاہ کیا جائے گا۔اس سے قبل چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہبازشریف سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی، خواجہ آصف، خورشید شاہ اور راجا پرویز اشرف بھی ملاقات میں شریک تھے۔ملاقات کے بعد بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کی، چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ چاروں اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کر کے نوابشاہ، لاہور اور وزیرستان کے عوام کو حق نمائندگی سے محروم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر پر حکومت کا رویہ غیر قانونی ہے، ہم چاروں اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لئے نیا خط جاری کر رہے ہیں، حکومتی اتحادی ایم کیو ایم نے بھی خط پر دستخط کر دیے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے انکشاف کیا کہ مسلم لیگ ق نے بھی پروڈکشن آرڈر کی حد تک ہماری حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے، ان کی جانب سے مونس الہی دستخط کریں گے۔اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم حقائق کے ساتھ بجٹ پر بات کریں گے اور حکومت کو بتائیں گے کہ یہ عوام اور غریب دشمن بجٹ ہے۔واضح رہے کہ عید کے بعد سے جمیعت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں اور مختلف قائدین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔قومی اسمبلی میں بھی حزب اختلاف مسلسل احتجاج کر رہی ہے جس کے باعث اسپیکر کو ایوان کی کارروائی چلانا مشکل ہو رہا ہے۔حزب اختلاف کے رہنماﺅں کا مطالبہ ہے کہ آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں جبکہ اسپیکر کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ اجلاس ہے اس لیے بحث کا مرکز بھی میزانیہ ہی ہونا چاہیئے۔

سونے کی قیمت میں ایک بار پھر ہوشربا اضافہ

کراچی(ویب ڈیسک) سونے کی قیمت 500 روپے اضافے کے ساتھ 75 ہزار 500 روپے فی تولہ کی سطح پر آگئی ہے۔ذرائع کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری ہے اور ہر روز ڈالر ملکی تاریخ کی نئی سطح پر پہنچ رہا ہے، روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمت کو بھی پر لگ گئے ہیں اور آئے روز سونے کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کو عبور کررہا ہے۔عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں 15 ڈالرزکا اضافہ ہوا اور سونے کی فی اونس قیمت 1350 ڈالرز کی سطح پر پہنچ گئی، عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخوں میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا اور فی تولہ اور دس گرام سونے کی قیمت میں بالترتیب 500 اور 430 روپے کا اضافہ ہوگیا۔عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کے اضافے کے بعد کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر 75 ہزار 500 روپے اور دس گرام سونے کی قیمت اضافے کے بعد 64 ہزار 730 روپے ہوگئی۔

وزیراعظم کی سربراہی میں قومی ترقیاتی کونسل تشکیل، آرمی چیف بھی شامل

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل (این ڈی سی) تشکیل دے دی ہے جس کی سربراہی وزیراعظم عمران خان کریں گے۔ذرائع کے مطابق قومی ترقیاتی کونسل 13 ارکان پر مشتمل ہوگی جن میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت وزیر خارجہ، مشیر خزانہ، وزیرمنصوبہ بندی، مشیر تجارت، وزیراعظم کے سیکرٹری و ایڈیشنل سیکرٹری، سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری منصوبہ بندی اور سیکرٹری خزانہ شامل ہیں۔کونسل کے اجلاسوں میں وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ، وزراءاور دیگر کو شرکت کے لیے بوقت ضرورت دعوت دی جائے گی۔وزیراعظم کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن نے نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل کے قیام کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل قومی ترقی کے لیے پالیسیاں اور حکمت عملی تشکیل دے گی جب کہ قومی اور علاقائی تعاون کے لیے بھی گائیڈ لائنز (ہدایات) دے گی۔

امریکا کا مشرق وسطیٰ میں مزید 1 ہزار فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکا نے تیل بردار بحری جہازوں پر تازہ حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں اپنے مزید ایک ہزار فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق خلیج عمان میں جمعرات کو 2 تیل بردار ٹینکروں پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے جس کے بعد امریکا نے اپنے مزید ایک ہزار فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔قبل ازیں امریکا نے ایران پر جوہری توانائی کے عالمی معاہدے سے روگردانی کرکے ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا الزام عائد کرکے قطر میں اپنی فوجی بیس میں فائٹر طیارے بھیج کر جنگ کا پیغام دیا تھا۔اس صورت حال میں مزید تلخی اس وقت پیدا ہوئی جب خلیج عمان میں سعودی عرب سے امریکا کو تیل کی فراہمی پر مامور بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا، سعودیہ اور امریکا نے اس کا ذمہ دار ایران کو ٹہرایا جس کے بعد یہاں امریکا نے اپنا طیارہ بردار بحری بیڑہ تعینات کردیا۔تاہم اس کے باوجود ایک مرتبہ پھر 2 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا، امریکی بحریہ نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کو حملے کا شکار بننے والے آئل ٹینکرز کے نزدیک دکھایا گیا تھا۔دوسری جانب ایران نے اعلان کیا تھا کہ اگر یورپی ممالک نے اسے امریکی اقتصادی پابندیوں سے بچانے کے لیے کوئی عملی اقدام نہ کیا تو وہ 27 جون کو افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی کرے گا۔

ملک میں پراپرٹی کی قیمتیں کم ہونے والی ہیں، چیئرمین ایف بی آر

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک میں پراپرٹی کی قیمتیں کم ہونے والی ہیں۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں اسد عمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں سود سے پاک معاشی نظام اور اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سود سے پاک نظام کی طرف بتدریج پیش رفت کی جائے اور تمام سرکاری اداروں کے اکاﺅنٹ اسلامی بینکوں میں رکھے جائیں، یہ سود سے پاک نظام کی جانب پہلا بڑا قدم ہوگا۔ ایم ایم اے کے مولانا اکبرچترالی کاکہنا تھا کہ ملک میں سودی بنکاری کا خاتمہ کیا جائے۔ قائمہ کمیٹی نے اسٹیٹ بینک سے سود سے پاک نظام کے لیے گیم پلان طلب کر لیا۔ سابق وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا کہ گورنر اسٹیٹ بینک اس حوالے سے سفارشات پیش کرے۔چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے رقم کا حصول مقصد نہیں، پہلے آمدن کے ذرائع نہیں پوچھ سکتے تھے، اب بیرون ملک سے جو بھی 50 لاکھ سے زیادہ پاکستان بھیجے گا اس آمدن کے زرائع پوچھے جاسکیں گے، پوچھ گچھ کے لئے حد کو ایک کروڑ سے کم کرکے 50لاکھ کردیا ہے۔شبر زیدی نے کہا کہ سفید دھن سے پراپرٹی کے خریدار کم ہوجائیں گے اور ملک میں پراپرٹی کی قیمتیں کم ہو جائیں گی، جب پراپرٹی کی قیمتیں کم ہوں گی تو بیچنے والے بھی کم ہوجائیں گے، پراپرٹی کی قیمتیں مارکیٹ ویلیو کے قریب لاچکے ہیں۔قبل ازیں فاروق نائیک کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بھی چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے فنانس بل 2019-20 پر بریفنگ دی اور بتایا کہ گزشتہ 40 سال میں 40 ارب ڈالرز کی منی لانڈرنگ ہوئی، فارن کرنسی سے متعلق قوانین میں سہولت کی وجہ سے پیسہ بیرون ملک منتقل ہوا، منی چینجرز اور ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے بھی پیسہ بیرون ملک گیا۔چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ 2001 میں مشرف دور میں قوانین میں نرمی کی گئی تاہم 2018 میں ترمیم کرکے نان فائلرز کیلئے سختی کر دی گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں نے گھروں میں غیرملکی کرنسی رکھی ہے، گھروں میں فارنسی کرنسی کی روک تھام کے لئے فورس بنا رہے ہیں جس میں خواتین بھی شامل ہوں گی تاہم گھروں پر چھاپے مارنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

خود کو اُچکوں سے بچانے والا موبائل

سوئزرلینڈ(ویب ڈیسک)اگر آپ موبائل فون کی چوری سے پریشان ہیں تو جان لیجئے کہ یہ وبا پوری دنیا میں عام ہے۔ تاہم جنوبی ایشیا کی طرح موبائل چھینے نہیں جاتے بلکہ جیب یا پرس وغیرہ سے نکال لیے جاتے ہیں۔ اسی پریشانی کو دیکھتے ہوئے ایرکسن کمپنی نے ایک نیا سسٹم بنایا ہے جس میں فون خود کو کسی اُچکے سے بچانے کی کوشش کرے گا۔اس میں نصب سینسر گھبرائے ہوئے چور کے دل کی دھڑکن نوٹ کرتے ہوئے احساس کرسکے گا کہ اٹھانے والا اس کا مالک ہے یا کوئی اٹھائی گیرا آن پہنچا ہے۔سویڈن کی ایرکسن کمپنی نے اسمارٹ فون کے لیے ایک نظام کی پیٹنٹ حاصل کی ہے جس میں فون کسی غیر کو محسوس کرتے ہی ایک طرح کی ’مزاحمتی کیفیت‘ یعنی ہائی فرکشن موڈ میں آجاتا ہے۔ اس موڈ میں ایک جانب تو وہ چور کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف موبائل فون اتنی تیزی سے تھرتھراتا ہے کہ اسے گرفت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔لیکن جب فون اپنے اصل مالک کے پاس ہوگا تو یہی ٹیکنالوجی ایڈاپٹوو فرکشن میں تبدیل ہوجائے گی اور فون ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرنے سے بچ جائے گا جس سے قیمتی فون محفوظ رہے گا۔ کمپنی کے مطابق اگر فرکشن موڈ کو آخری حد تک بڑھادیا جائے تو استعمال کرنے والے کی انگلیوں سے اس کے پھسلنے کے امکانات کم ہوجائیں گے۔ایرکسن کے مطابق فون شاید یہ پہچاننے کے قابل بھی ہوگا کہ وہ کسی کے ہاتھ میں ہے یا جیب میں رکھا ہے اورجیسے ہی کوئی اسے جیب سے نکالے گا تو وہ اس عمل کو بھانپنے کی کوشش بھی کرے گا، لیکن جیب میں رکھتے ہوئے فون کے وائبریشن موڈ کی شدت آپ کو خود طے کرنا ہوگی۔تاہم کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ ایسا فون حقیقت کا روپ کب اختیار کرے گا۔

ورلڈ بینک سے پاکستان کو 918 ملین ڈالر قرض کا معاہدہ طے پاگیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) عالمی بینک اور پاکستان کے درمیان قرض کی فراہمی کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عالمی بینک پاکستان کو 91 کروڑ80 لاکھ ڈالرکاقرضہ فراہم کرے گا۔ اس حوالے سے معاہدہ طے پاگیا ہے جس پر پاکستان کی جانب سے سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن نور احمد جب کہ عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر پیچاماہتو ایلنگوان نے دستخط کئے ہیں۔عالمی بینک سے ملنے والے 40 کروڑ ڈالر ریونیو بڑھانے کے پروگرام کے لئے ہوں گے، ٹیکس بیس بڑھائی جائے گی اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کی جائیں گی اور اصلاحاتی پروگرام کے تحت ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھا کر17 فیصد تک لے جائی جائے گی۔عالمی بینک سے ملنے والے قرض میں سے 40 کروڑ ڈالر ملک میں اعلی تعلیم کی ترقی پر خرچ ہوں گے، جب کہ دیگر 11 کروڑ 80 لاکھ ڈالر خیبر پختونخوا ریونیو موبلائزیشن اینڈ ریسورس مینجمنٹ پروگرام کیلئے خرچ ہوں گے، جس کے تحت خیبر پختونخوا میں ریونیو کلیکشن میں اضافہ، پبلک ریسورس مینجمنٹ اور پبلک ریسورس مینجمنٹ میں بہتری لائی جائے گی۔

بے بنیاد اور یکطرفہ خبروں پر پاکستان کا بی بی سی سے احتجاج، معافی کا مطالبہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) حکومت پاکستان کی جانب سے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی 2 جون کی یک طرفہ خبرپرباضابطہ احتجاج کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت اطلاعات کی جانب سے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی 2 جون کی بے بنیاد اوریکطرفہ خبروں پر19 صفحات پر مشتمل احتجاجی ڈوزیئر بی بی سی کے نمائندے کے حوالے کردیا گیا ہے۔حکومت پاکستان نے موقف اختیارکیا کہ بی بی سی کی خبر میں فریقین کا موقف نہیں لیا گیا جوکہ بی بی سی کی ادارتی پالیسی کے خلاف ہے، تجزیئے سے واضح ہوتا ہے کہ خبرمیں جانبداری کا مظاہرہ کیا گیا اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ڈوزیئرمیں مزید کہا گیا کہ خبرکا تفصیلی تجزیہ علیحدہ مراسلے میں ارسال کیا جارہا ہے، خبر میں حتمی نتائج کا اخذ کرنا غیرجانبدار اور معروضی صحافت کیخلاف ہے، بی بی سی معافی مانگ کرمتعلقہ خبر اپنی ویب سائٹ سے ہٹائے، امید ہے کہ آئندہ پاکستان مخالف جعلی خبروں کی اشاعت سے اجتناب کیا جائے گا اور خبر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ڈوزیئرمیں کہا گیا کہ اگر بی بی سی نے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن نہ لیا تو پاکستان اور برطانیہ میں تمام قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں، برطانیہ میں پریس اتاشی معاملہ آفس آف کمیونیکیشن اور بی بی سی کے سامنے اٹھائیں گے جبکہ احتجاجی مراسلہ برطانیہ میں میڈیا کے ریگولیٹری ادارے کو بھی بھجوایا جائے گا۔ڈوزیئرکے مطابق ریاسی اداروں کے جائز آپریشن کو دہشت گردی کے مساوی قرار دینا گمراہ کن ہے، صحافی نے خبر میں پاکستان کے فضائی حملوں کا ذکر کیا مگر ڈرون حملوں کا نہیں، خبر کا مقصد حقائق جاننا نہیں بلکہ پاک فوج کے خلاف ایجنڈے کا فروغ تھا، صحافی کی جانبداری اس کے سوشل میڈیا اکاو¿نٹ سے واضح ہے جب کہ خبر شائع کرنے والے رپورٹر نے کبھی بھی وزیرستان جانے کی درخواست نہیں دی تاہم بی بی سی کے مختلف نمائندوں نے 14 مرتبہ قبائلی علاقوں کا دورہ کیا۔اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آرکی جانب سے بھی بی بی سی کی پاکستان کے حوالے سے شائع ہونے والی خبرکو جھوٹ کا پلندہ اور حقائق کے منافی قرار دیا گیا تھا۔

وفاقی بجٹ غریب مار بجٹ اور عوام کے لئے لمحہ فکریہ ہے، چیئرمین برابری پارٹی

لاہور (ویب ڈیسک) چیئرمین برابری پارٹی پاکستان جواد احمد نے کہا ہے کہ صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت کا مہنگائی بڑھنے کا اعتراف دراصل عوام کے مزید استحصال کا اعلان ہے جسے مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا، صوبائی اور وفاقی بجٹ غریب مار بجٹ اور عوام کے لئے لمحہ فکریہ ہیں ان باتوں کا اظہار انھوں نے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین سے پوسٹ بجٹ اثرات کے حوالے گفتگو میں کیا اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی بجٹ میں پنجاب کے بڑے شہروں میں ہسپتالوں کی تعمیر کا اعلان کیا گیا ہے مگر صوبے کے دارالحکومت لاہور کے سروسز ہسپتال کی حالت یہ ہے کہ وہاں مریضوں کو ادویات اور ڈرپ سیٹس میسر نہیں صوبائی وزیر صحت کو اس طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے کیونکہ مہزب اور جمہوری معاشروں میں عوام تک صحت کی سہولیات پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور یہی وجہ ہے کہ برابری پارٹی اپنے موقف پر قائم ہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں وسائل کے تحت منصوبے نہیں بنائے گئے بلکہ پکڑ دھکڑ کر کام چلایا جارہا ہے ایک طرف تو تحریک انصاف کی حکومت سادگی مہم کا پرچار کرتی ہے تو دوسری جانب بجٹ میں گورنر ہاو¿س اور سیکرٹیریٹ کے سالانہ بجٹ کو 46 کڑور بڑھاکر 49 کڑور کرنے کی تجویز دی جاتی ہے ایک طرف تو عوام کے لئے ہسپتالوں کی او پی ڈیز میں ٹیسٹوں اور بیڈ چارجز کی مد میں اضافہ کیا جاتا ہے تو دوسری جانب ایوان وزیر اعلی کے فنڈز کو 60کڑور سے بڑھا کر 78کڑور 80لاکھ تک کردیا جاتا ہے مگر غریب اور محکوم طبقات کی فلاح بہبود اور مہنگائی میں اضافہ روکنے کے لئے اس بجٹ میں آہوں اور سسکیوں کے سوا کچھ نہیں.

روسی گاﺅں پر سیاہ مکھیوں کا ہولناک حملہ

ماسکو(ویب ڈیسک) روسی خطے اورل کے ایک دیہات لیزوریوی کے باشندے سیاہ مکھیوں کے حملے سے شدید پریشان ہیں۔ یہ مکھیاں کسی آفت کی طرح ہر جگہ موجود ہیں۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک مقامی کسان نے اپنے کھیت میں قدرتی کھاد کے طور پر مرغیوں کی بیٹ پھیلادی اور اس کے چند گھنٹوں بعد مکھیوں نے وہاں ڈیرہ بسالیا۔ اس کے بعد گویا مکھیاں آسمان سے ٹپکنے لگیں کیونکہ مکھیوں کی بیٹ سے بھرا کھیت ان کے لیے ایک بہترین مسکن بن گیا تھا۔ یہاں انہوں نے اس جگہ اپنی نسل بھی بڑھانا شروع کردی۔اب یہ حال ہوگیا ہے کہ گاو¿ں کی سڑکیں، مکانات اور صحن وغیرہ سیاہ مکھیوں سے بھر چکے ہیں۔ ہر طرف سیاہ چادر کی صورت میں مکھیاں اڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ اب لوگ ہر روز بالٹیاں بھر بھر کر مکھیاں اپنے گھروں سے نکال کر پھینک رہے ہیں اور اس صورتحال میں لوگوں کا اٹھنا بیٹھنا بھی محال ہوگیا ہے۔بعض افراد نے اسے بھیانک خواب قرار دیا ہے کیونکہ مکھیاں تیزی سے اپنی نسل بڑھا رہی ہیں اور یوں جتنی مرتی ہیں اتنی ہی دوبارہ پیدا ہوجاتی ہیں۔ ایک خاتون نے کہا کہ یہ سب کچھ ناقابلِ برداشت ہوکر رہ گیا ہے۔ ہم ہر روز مکھیوں کو مارنے کے لیے دن میں کئی

مرتبہ اسپرے کررہے ہیں جس سے چھوٹے بچے بھی متاثر ہورہے ہیں۔گاﺅں میں طرح طرح کی باتیں کی جارہی ہیں اور افواہیں گرم ہیں۔ تاہم چند کسانوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی فصل بہتر بنانے کے لیے پرندوں (بالخصوص مرغیوں کا) فضلہ ڈالا ہے جو باقاعدہ ایک صنعت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ کسانوں کا اصرار ہے کہ یہ ایک عام طریقہ ہے جس سے کبھی نقصان نہیں پہنچا البتہ مکھیوں کا حالیہ حملے کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔بعض لوگوں نے مکھیوں کے حملے کو موسمیاتی تبدیلیوں کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ لیکن اس کا نوٹس لیتے ہوئے مجاز اداروں نے کسانوں کے کھیتوں کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور دوسری جانب مکھیوں سے چھٹکارے کے لیے کئی طریقوں پر غور ہورہا ہے۔پہلے مرحلے میں بلدیاتی اداروں نے اسپرے کیا تو صرف دو دن تک مکھیاں غائب رہیں اور اس کے بعد اسی شدت سے ان کا حملہ شروع ہوگیا۔آخر اطلاعات تک مکھیوں نے دیہات کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔