ڈمی اخبارات کروڑوںکے اشتہارات کھا گے

اسلام آباد (اے پی پی) وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ ماضی میں باریاں لگانے والی ماعتوں نے ملک و قوم کے لئے خساروں اور قرضوں کا ورثہ چھوڑا اور اخلاقی قدریں تباہ کیں‘ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت معیشت‘ نظام حکومت‘ تعلیم و صحت اور اخلاقی قدروں کو بہتر بنائے گی‘ ملک جلد ترقی کی منازل طے کرے گا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2019-20ءپر بحث میں حصہ لیتے ہوئے شفقت محمود نے کہا کہ دونوں جماعتوں نے باریاں لگا رکھی تھیں‘ یہ ہر بات کریں گے لیکن جو بوجھ چھوڑ کر گئے ہیں اس پر بات نہیں کرتے، دس سالوں میں 24 ہزار ارب قرضے چھوڑے ہیں‘ اس کی ادائیگی کے لئے ہم قرضے لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے اور سٹیل ملز جیسے سرکاری اداروں کے خسارے دے کر گئے جبکہ اخلاقی قدریں بھی انہوں نے ہی تباہ کیں، باریاں لینے والوں کے لیڈر کرپشن کے الزامات میں گرفتار ہیں، ایک پارٹی کے لیڈر کو سزا ہوگئی ہے جبکہ دوسرا حراست میں ہے، اتنے سنگین الزامات ہیں اور جب باہر آتے ہیں تو اپنے اوپر پھول نچھاور کراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے فاشزم کی بات کی تو اس کی مثالیں میں پیش کرتا ہوں، یہ ہمیں فاشزم کی باتیں سناتے ہیں‘ ان کے دامن پر خون کے دھبے ہیں۔ ماڈل ٹاﺅن کا واقعہ ٹی وی پر لوگوں نے دیکھا جہاں سیدھی گولیاں ماری گئیں یہ فاشزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے جس جماعت نے عدلیہ پر باضابطہ حملہ کیا وہ مسلم لیگ (ن) ہی تھی۔ ان کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو عدالت پر حملہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کا حملہ نہیں ہوا اور یہ درس جمہوریت کا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں خرید و فروخت کا سلسلہ بھی مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں نے شروع کیا، سرکاری پیسے کے ساتھ 76 کروڑ کی جاتی امراءکی دیوار بنائی گئی جبکہ ہمارے لیڈر نے اپنی رہائش گاہ کے لئے دیوار اور سڑک اپنی جیب سے تعمیر کی۔ شفقت محمود نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ لفافہ جرنلزم کی اصطلاع بھی انہی کے دور میں آئی۔ اپوزیشن لیڈر جس چینل کو اپنے خلاف سمجھتے تھے پانچ سالوں میں اسے ایک کروڑ 37 لاکھ کے اشتہار دیئے جبکہ جس چینل کو اپنے حق میں سمجھتے تھے اسے 86 کروڑ کے اشتہارات دیئے گئے۔ انہوں کہا کہ اپنے پسندیدہ چینلز کو نوازنے کے لئے اشتہارات دینا اور دوسروں کے لئے اشتہارات روک دینا فاشزم کی مثال ہے۔ اس موقع پر انہوں نے گزشتہ دور حکومت میں میڈیا کو جاری کئے گئے اشتہارات کی فہرست پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران اخبارات میں پانچ ارب روپے بانٹے گئے جن میں کچھ تو بڑے اخبارات شامل ہیں تاہم بڑی تعداد ڈمی اخبارات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فہرست میں ایسے اخبارات بھی شامل ہیں جن کا کسی نے نام تک نہیں سنا۔ ڈیلی غریب کو اڑھائی کروڑ روپے‘ ڈیلی لیڈر کو چار کروڑ روپے‘ ڈیلی حیرت کو اڑھائی کروڑ روپے دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 30 سال حکومت کرنے کے باوجود پنجاب میں ایک ہسپتال ایسا نہیں بنایا جہاں ان کا یا ان کے خاندان کا علاج ہو سکے، دو کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ شرح خواندگی کم ترین سطح پر ہے، قوم کے ذہنوں کو یکجا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی، ملک میں بے یک وقت تین نظام تعلیم رائج ہیں۔ انہوں نے ملک میں تین طبقات کو جنم دیا اور ذہن تقسیم کردیئے، یہ ان کا ورثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اب جو پارلیمنٹ کے ساتھ کر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔ پروڈکشن آرڈر جاری ہونا چاہیے لیکن اسے ڈھال نہ بنائیں۔ انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ انہوں نے قوم کو کیا دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں ملکی معیشت‘ نظام حکومت‘ تعلیم و صحت اور اخلاقی قدروں کو درست کرنا ہے۔ پاکستان جلد ترقی کی منازل طے کرے گا۔

پہلا وار ناکام ٹرمپ تلملا اُٹھا

تہران، واشنگٹن (نیٹ نیوز) ایران نے اپنی فضائی حدود میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعوی کیا ہے جس کی امریکا نے بھی تصدیق کی ہے۔ امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی ڈرون صوبہ ہرمزگان کے علاقے کوہ مبارک میں گرایا گیا ب کہ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فضائی حدود میں گرایا گیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق گرائے گئے امریکی ڈرون کا ماڈل آر کیو 4 گلوبل ہاک ہے۔امریکی حکام نے بھی ڈرون گرانے کی تصدیق کی ہے لیکن دعوی کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی فضائی حدود میں ایرانی میزائل سے امریکی فوجی ڈرون گرایا گیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرانے کے رد عمل میں کہا ہے کہ ایران نے بہت بڑی غلطی کی۔خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ ایران نے بہت بڑی غلطی کی۔وائٹ ہاس میں ڈرون گرائے جانے کے واقعے سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میرے لیے یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ حملہ دانستہ طور پر کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ کسی سے غلطی ہوئی جسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بارہا کہا گیا ہے کہ امریکا مشرق وسطی میں جنگ نہیں چاہتا، امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ(سینٹ کام)نے تصدیق کی ایرانی فورسز نے نگرانی پر مامور امریکی نیوی کے ڈرون آر کیو-4 گلوبل ہاک مار گرایا تاہم ان کا کا اصرار ہے ڈرون کو بین الاقوامی فضائی حدود میں بلاوجہ نشانہ بنایا گیا۔سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نیوی کیپٹن بل اربن نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی فضائی حدود میں موجود ڈرون کو نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ گزشتہ شب 11 بج کر 35 منٹ پر پیش آیا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے تعلقات عامہ کے شعبے نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ پاسداران کے زیرانتظام فضائی دفاعی فورسز جمعرات کی صبح ہرمز جان صوبے میں ایک امریکی جاسوس ڈرون طیارہ مار گرانے میں کامیاب رہی ہیں۔ بعدازاں ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی نے کہا کہ ڈرون طیارہ مار گرانا امریکا کیلئے ایک واضح پیغام ہے انہوں نے کہا کہ تہران سرخ لکیر سے تجاوز کرنے والی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا۔ پاسداران کے کمانڈر نے واضح کیا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے مگر اپنے دفاع کیلئے تیار ہیں۔

کچھ بھی ہو کوئی رہائی نہیں

اسلام آباد (کرائم رپورٹر)اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب ریفر نس میں سزایا فتہ مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد اورسابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضما نت مسترد کردی ، نواز شر یف کے وکیل خوا جہ حارث نے عدا لت کو اپنے مﺅ کل کی مید یکل ر پو رٹس د لا ئل دیئے اور عدا لت کو بتا یا کہ نواز شر یف کا علا ج پا کستان میں نہیں بیرو ن ملک ہو نا ضروری ہے ، دوران سما عت فا ضل ججز نے ریما رکس دئے کہ طبی بنیا دو ں پر ضما نت سے متعلق سپر یم کو رٹ کے وا ضح ا حکا ما ت مو جو د ہیں، نیب پرا سیکیو ٹر نے در خوا ست ضما نت کی مخا لفت کی،جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس محسن اختر کیانی نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سے کہا طبی اصطلاحات (میڈیکل ٹرمینالوجیز)نہ بتائیں بلکہ رپورٹس کی حتمی تجویزدیں۔خواجہ حارث نے کہا نواز شریف کی حالت 60 فیصد سے زائد خطرے کی حالت میں ہے،انجیو گرافی کے بعد نواز شریف کو مزید علاج کی ضرورت ہے۔ذہنی تناو کے خاتمے کے لیے بھی علاج ضروری ہے۔جسٹس محسن اختر نے کہا مطلب یہ کہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نواز شریف کاعلاج ممکن نہیں؟اس پر خواجہ حارث نے کہا جی دو وجوہات کی بنیاد پر علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے۔ نواز شریف کو دل کی تکلیف ہے شریانوں میں بلاکیج بھی بڑھ رہی ہے،نواز شریف کا شوگر لیول برقرار رکھنے کے لیے ان کے پاس ہر وقت ایک مددگارہونا چاہیے۔نواز شریف کے وکیل نے کہا نواز شریف ذہنی تناو کا شکار ہیں جیسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے،طبی ماہرین نے تجویز دی ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک علاج کی ضرورت ہے۔ نواز شریف کی نئی رپورٹس الرازی لیب کی ہیں جو تصدیق شدہ ہیں۔خواجہ حارث نے معزز عدالت کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ نے کل پوچھا تھا کہ جب ریلیف ملا تو علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟اب ہم تمام ٹسٹ کروا چکے ہیں بیماریوں کی تشخیص ہوچکی ہے اب ہمیں علاج کروانا ہے۔ ڈاکٹر ہارون کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف کو دل کے دورے سے بچانے کے لیے اسٹنٹس ڈالنے ضروری ہیں۔انہوں نے کہا اسٹنٹ ڈالنے کے بعد نواز شریف کے خون کی ترسیل میں بندش ختم ہو سکتی ہے،ڈاکٹر نے ہدایت دی کہ نواز شریف کا علاج وہی ڈاکٹر کریں جنہوں نے پہلے علاج کیا۔ عموما بھی یہی ہوتا ہے کہ ایسی میڈیکل ہسٹری والا مریض علاج اپنے ڈاکٹر سے ہی کراتا ہے۔جسٹس محسن اختر نے کہا لگ رہا ہے کہ ڈاکٹرز ذمہ داری نہیں لینا چاہ رہے؟مریض کی مرضی تو ہے لیکن ڈاکٹرز ذمہ داری نہیں لینا چاہ رہے۔پاکستان میں بہت اچھے ڈاکٹرز موجود ہیں پاکستانی ڈاکٹرز باہر کام کر رہے ہیں۔خواجہ حارث نے کہا یہ وہ ہی بات ہے جس پاکستان کا میچ انڈیا سے ہو تا ہے تو پریشر ہوتا ہے جب کسی اور ٹیم سے ہوتا ہے تو کھل کر کھیلتے ہیں۔ خواجہ حارث نے پاک بھارت میچ کی مثال دے دی۔نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ہر کیس میں صورتحال مختلف ہوتی ہے،نواز شریف سال 2000 سے مریض ہیں اور کوئی اس بات کو جھٹلا نہیں سکتا۔جسٹس عمر فاروق نے کہا کوئی اختلاف نہیں کہ نواز شریف امراض میں مبتلا ہیں۔خواجہ حارث نے کہا ہم نے ماہرین کی رائے کے لیے نواز شریف کی رپورٹس مختلف طبی ماہرین کو بھیجی۔جنرل ر اظہر محمود کیانی سمیت 18 ڈاکٹروں کے تصدیق شدہ خطوط اور رپورٹس موجود ہیں۔ اپنے شعبوں کے ماہرین 18 ڈاکٹروں میں بیرون ملک کے ڈاکٹرز کے خطوط بھی موجود ہیں۔نواز شریف کے وکیل نے کہا سوئٹزرلینڈ کے ماہر امراض قلب ایم وائے سندھو نے نوازشریف کو 13مہلک بیماریاں ہونے کی نشاندہی کی ہے۔علاج میں تاخیر ہوئی تو نواز شریف کی جان کو دوران علاج بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا پاکستانی ڈاکٹرز نے بھی تو نواز شریف کے ٹیسٹ کیے ہیں ان کی رپورٹس کی زیادہ اہمیت ہوگی۔خواجہ حارث نے نواز شریف کی حالت کو پرانی گاڑی سے تشبہیہ دے دی اور کہا پرانی گاڑی جب ورکشاپ جاتی ہے تو سب کچھ خراب ہونے پر بدلنا پڑتا ہے۔اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ کوئی ایسا علاج ہے جس سے دل دوبارہ جوان ہو جائے؟جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔خواجہ حارث نے جواب دیا ایسا تو نہیں ہو سکتا لیکن انسان جان کے لیے جنگ تو لڑتا ہے۔ نواز شریف کے وکیل نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ رپورٹس کے مطابق نوازشریف کی جان کو خطرات موجود ہیں۔جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ کیس پہلے والے کیس سے کتنا مختلف ہے؟خواجہ حارث نے بتایا کہ پہلی درخواست ضمانت میں زندگی کو خطرے والی علامات رپورٹس میں نہیں ائی تھیں۔خواجہ حارث نے عارضہ قلب میں طبی بنیادوں پر ریلیف حاصل کرنے والے میاں منظور وٹو اور ذاکر خان محسود کیس کے حوالے عدالت میں پیش کیے۔خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر عاصم کیس میں میڈیکل گراونڈ پر ضمانت ملی،علاج کے لیے ڈاکٹر عاصم کا نام ای سی ایل سے بھی نکالا گیا،خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں پرویز مشرف کیس کا حوالہ بھی پیش کردیا۔نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ پرویز مشرف کا نام بیرون ملک علاج کے لیے ای سی ایل سے نکالا گیا۔جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کیا نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ہے؟اس پر خواجہ حارث نے کہا میرا خیال ہے جب برطانیہ سے واپس آئے تو اس دوران انکا نام ای سی ایل پر ڈالا گیا۔ ای سی ایل سے نام نکلوانے کے لیے تو الگ سے سماعت ہوگی ابھی عدالت کے سامنے نہیں ہے۔جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اگر کسی ملزم کو ناقابل علاج مرض لگ جائے تو اس کی طبی بنیادوں پر ضمانت دی جا سکتی ہے؟بنیادی آئینی حقوق کے مطابق جب کسی ملزم کو ناقابل علاج بیماری ہو تو اسے رہا کر دینا چاہیے، خواجہ حارثخواجہ حارث نے کہا اگر ملزم کو کینسر ہو جائے تو اس کو جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔عدالت کی طرف سے ریمارکس آئے کہ نواز شریف کی کسی میڈیکل رپورٹ میں ایسا کچھ نہیں لکھا، صرف سمجھنا چاہ رہے ہیں۔خواجہ حارث نے کہا جان کی حفاظت اور علاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ نواز شریف کو سات سال کی سزا سنائی گئی ہے کوئی سزائے موت نہیں۔ عدالتی نظیریں موجود ہیں کہ سزائے موت کا قیدی بھی لاعلاج مرض میں مبتلاہوجائے تو اس کا علاج کروایا جاتا ہے۔خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ نواز شریف کو ضمانت دے کر بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔جسٹس عامر فاروق نے پوچھا آپ کی درخواست میں بیرون ملک جانے کی کوئی استدعا نہیں ہے۔ ای سی ایل کا معاملہ چھوڑ دیں، سزا معطلی پر دلائل دیں۔خواجہ حارث نے کہا ہماری درخواست صرف سزا معطل کرتے ہوئے ضمانت پر رہائی کی ہے۔ خواجہ حارث نے انہی الفاظ کے ساتھ اپنے دلائل مکمل کرلیے۔نیب پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا نوازشریف کو چھ ہفتوں کی ضمانت دے کر علاج کی سہولت دی گئی،نواز شریف چھ ہفتوں کے دوران اپنی مرضی سے علاج کرا سکتے تھے،چھ ہفتے کی ضمانت صرف ٹیسٹ کے لیے نہیں علاج کے لیے تھی۔ چار پانچ میڈیکل بورڈز کی رپورٹس گزشتہ سماعت پرسامنے تھیں۔نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے کہا سپریم کورٹ میں جو نظرثانی اپیل دائر ہوئی وہی یہاں دائر ہوئی ہے صرف کٹ پیسٹ کیا گیا۔صرف ایک رپورٹ الرازی ہیلتھ کئیر لاہور کی نئی سامنے لائی گئی ہے۔جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ وہ درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں گے۔ ریکارڈ یہ نہیں کہتا کہ نواز شریف کو فوری علاج کی ضرورت ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا اگر یہ یہی بات کررہے ہوں جو سپریم کورٹ میں کررہے تھے تو کیا ضمانت مسترد کردی جائے؟ سپریم کورٹ نے ایک سٹینڈرڈ قائم کیا کہ مجرم کی میڈیکل رپورٹس میں حالت خراب ہو تو ضمانت ہوسکتی ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا زندگی بچانا ہے ،یہ بھی ہمیں دیکھنا ہے،ہفتے دو تین یا چار ہفتے کیا طبی بنیادوں پر ضمانت دی جاسکتی ہے؟نیب پراسیکیوٹر نے کہا جیل میں نوازشریف کا علاج اچھا ہو رہا ہے۔تو پھر کیا جیل میں علاج اچھا ہے اور باہر ٹھیک نہیں، یہ کہنا چاہتے ہیں؟ ۔

نواز شریف نے بلٹ ٹرین کے دعوے کیے ریلوے نظام بہتر نہ کر سکے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار عبدالباسط خان نے کہا ہے کہ نواز شریف چاہتے ہیں کہ عدالت سے دوبارہ ضمانت ملے اور وہ برطانیہ چلے جائیں۔ نواز شریف شکر کریں انہیں جیل میں آسائشیں مہیا ہیں، نواز شریف کی جیل میں 00سے زائد ملاقاتیوں سے ملاقات انکی طبیعت ناساز کرتی ہے۔ انگریز جوپٹڑی چھوڑ گئے اسکے بعد ریلوے ایک انچ ترقی نہ کرسکی۔ سی پیک کے تحت ڈبل ٹریک کی تعمیر حادثات کی روک تھام میں مدد دے گی۔ عمران خان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے کے بیان سے اسپیکر پر دباﺅ آیا اور انہیںغیر متنازعہ رہنے کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کرنا پڑا۔ خوردنی تیل ، چینی وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ کی نشاندہی اپوزیشن کا اچھا اقدام ہے۔ بھارت کا پاکستان کو مذاکراتی چٹھی کا جواب دینا ڈپلومیسی ہے تاکہ دنیا کو بتایا جائے کہ بھارت امن چاہتا ہے۔ میزبان تجزیہ کار آغا باقر نے کہا ہے کہ بھارت سے پاکستان کو مذاکرات کی جوابی چٹھی آنا خوش آئند ہے۔ حیددر آباد میں جناح ایکسپریس کا مال گاڑی سے ٹکرانا ریلوے نظام کی ناکامی ہے۔ اسد قیصر کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ تحریک انصاف کیخلاف دھڑا بنا کر لوگوں کو ریلیف دے رہے ہیں۔ تجزیہ کار ناصر علی خان نے کہا کہ 3مرتبہ وزیراعظم رہنے والے پر قانون مزیدسخت ہونا چاہیئے ، نواز شریف نے امانت میں خیانت کی۔ سیاستدانوں کے پاس جیل میں فائیو اسٹار ہوٹل سے زیادہ آسائشیں ہیں ، لائبریری، سنگ مرمر کے واش روم، بغل بیڈ اور اے سی مہیا ہوتا ہے۔ نواز شریف مظلوم بن کر عوام کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور عدالت میں اپیلیں کر کے خبروں میں رہنا چاہتے ہیں۔ نواز شریف اپنے ملاقاتیوں کی فہرست خود ترتیب دیتے ہیں، حکومت نے سیاسی ملاقاتوں پر پابندی نہیں لگائی۔ حیدر آباد میں ٹرین حادثہ سیاسی بھرتیوں کا نتیجہ ہے۔ ریلوے پاکستان کا نظام کمزور، ٹیکنالوجی میں بھارت سے بہت پیچھے ہے۔ زرداری اور سعد رفیق کا پروڈکشن آرڈر جاری ہونا امیر اور غریب کا الگ پاکستان ہونے کی نشاندہی ہے۔ سیاستدانوں نے آئین اپنے مفاد کے لیے بنایا ہوا ہے۔ اگر پروڈکشن آرڈر جاری ہونے تھے تو عمران خان نے اسپیکر کو پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے کی ہدایت کیوں کی؟ جبکہ وزیراعظم اسپیکر کو سرعام ہدایت نہیں دے سکتے۔ اسد عمر نے وزارت خزانہ رکھتے ہوئے کہا تھا کہ عوام کی چیخیں نکلیں گی اور وزارت سے ہاتھ دھونے کے بعد اسد عمر کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ تجزیہ کارنعیم اقبال کا کہنا تھا کہ تین مرتبہ وزیراعظم رہ کر نواز شریف کو کیا سرخاب کے پر لگ گئے ہیں کہ انہیں دل کا دورہ نہیں پر سکتا، جیلوں میں کتنے ہی لوگ بیمار ہیں۔ نواز شریف کو جیل میں بہترین سہولتیں دی جارہی ہیں۔ نواز شریف کو ایسی کوئی بیماری نہیں جسکی بنیاد پر انہیں ضمانت دیکر لندن بھیجا جائے۔ نواز شریف نے اپنی فیملی کے علاوہ دوسرے لوگوں سے ملنے سے خود منع کیا ہے۔ ضمانت منسوخ ہونے پر اب نواز شریف ڈیل کی طرف آئیں گے۔ نواز شریف نے بلٹ ٹرین چلانے کے دعوے کیے مگر ریلوے کا نظام تک نہ بہتر کر سکے۔ وزیراعظم عمران خان نے آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے کا کوئی بیان نہیں دیا۔

اسلام آباد میں پانی بحران شدید، ٹینکرز مافیا کا راج، شہری پریشان متعدد سیکٹروں میں پانی کی شدید قلت ، رابطہ کرنے پر مئیر اسلام آباد نے فون اٹینڈ نہ کیا سی ڈی اہلکار پانی بیچتے ہیں، ٹینکرز کی تعداد بڑھائی جائے ، نیوز ایٹ 7میں شہری پھٹ پڑے

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ سیون میں شہر اقتدار یعنی اسلام آباد کے باسیوں کو درپیش پانی کا مسئلہ اٹھایا گیا۔ وفاقی دارلحکومت میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا،سیکٹر جی نائن جی ٹین ، آئی نائن اور آئی ٹین کے علاوہ دیگر سیکٹر میں بھی پانی کی شدید قلت ہے تبدیلی کے دعوے کرنے والی حکومت کے دعوے دھرے رہ گئے رابطہ کرنے پر میئر نے فون اٹینڈ نہیں کیا ۔ اس حوالے سے شہریوں سے گفتًگو کی گئی شہریوں نے بتایا پانی کے مسئلے نے زندگی اجیرن کر دی ہے ٹینکر مافیا کا راج ہے۔گھروں تک پانی نہیں آتا سارا دن پانی کے لئے لائن میں کھڑے رہتے ہیں۔ایک آدھ ٹینکر ہی ہے جائیں تو کہاں جائیں چیئرمین سی ڈی اے صرف لارے دیتے رہتے ہیں اسد عمر نے کبھی نہیں پوچھا پانی کا مسئلہ حل ہوا یا نہیں۔بچوں سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا پانی نہ ہو تو بڑا غصہ آتا ہے سارا دن موڈ آف رہتا ہے۔ایک شہری نے بتایا سی ڈی اے اہلکار پانی بیچتے ہیں کسی حکومت نے مسئلے کے حل کے لئے کام نہیں کیا ٹینکرز کی تعداد بڑھائی جائے آئی ٹین کے لئے تین ٹیوب ویلز ضروری ہیں صرف پینتالیس منٹ پانی کی سپلائی دی جاتی ہے پانی صرف پینا نہیں ہوتا دیگر ضروریات بھی ہیں حکومت کو مسائل حل کرنا پڑیں گے ورنہ احتجاج کریں گے کوئی نیا ٹیوب ویل گزشتہ حکومتوں نے نہیں لگائے ۔اسد عمر کہتے ہیں فنڈز نہیں ہیں۔ ڈپٹی میئر ذیشا ن نقوی نے بتایا کہ بدقسمتی سے سی ڈی اے اور پانی کے متعلقہ ادارے تناﺅ کا شکار ہیں جس کے باعث مسائل حل نہیں ہوئے، سی ڈی اے نے اب تک کوئی فنڈز نہیں دیے ٹیوب ویلز اور ٹینکرز بھی خراب ہیں۔

نواز شریف ثابت نہیں کر سکے کہ انکا علاج صرف بیرون ملک ہی ممکن ہے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پہلی دفعہ جب نوازشریف کو 6 ہفتے کی ضمانت ملی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ میاں نوازشریف اس خیال سے وہ باہر جانا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے یہاں نہ انجیو گرافی کرائی نہ کوئی سنجیدگی سے اپنا کوئعلاج کرایا اور وہ انتظار کرتے رہے اس بات کا کہ انہیں باہر جانے کی اجازت مل جائے اب وہی بات ان کے خلاف گئی چنانچہ آج ہائی کورٹ نے کہا کہ جب انہیں 6 ہفتے کی ضمانت ملی اور موقع دیا گیا تو انہوں نے اپنے علاج کے سلسلے میں کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کا یہ اقدام کہ انجیو گرافی تک نہیں کرائی تھی انتظار کرتے رہے کہ باہر جانے کا موقع مل جائے۔ یہ چیز ان کے خلاف گئی اور کل ہائی کورٹ نے اس کی بنیاد پر درخواست مسترد کر دی۔ افسوسناک ہے لیکن بہرحال یہ ان کی حکمت عملی غلط تھی جو آج سامنے آ گئی، نوازشریف کو ثابت کرنا پڑے گا کہ کس وجہ سے ان کا پاکستان میںعلاج نہیں ہو سکتا۔ اور کس وجہ سے ان کی حالت اتنی خرراب ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان کو اپنے معاملے میں اب کافی کیس ان کا مشکل ہے لگتا نہیں ہے کہ کسی معقول وجہ کے بغیر جس کو ثابت کرنا مشکل ہو گا کہ ان کو واقعی کوئی ایسی دل کی تکلیف ہے جس کا علاج پورے پاکستان میں نہیں ہو سکتا۔ دیکھئے پاکستان کی آبادی اتنی زیادہ ہے اور اتنے لوگ بہرحال پاکستان میں ہی علاج کرواتے ہیں۔ نوازشریف کے ذاتی ڈاکٹر عرفان کے حوالہ سے ٹویٹ سامنے آتے رہے ہیں کہ ان کو مستقل نگہداشت اور مستقل علاج کی ضروررت ہے جو بیرون ملک ہی ہو سکتا ہے اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ ان کا نقطہ نظر ہے لیکن بہت سے دوسرے ڈاکروں کا نقطہ نظر اس سے برعکس ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اتفاق کس بات پر ہے۔ ابھی تک تو یہ ہے کہ پاکستان میں ان کا علاج ہو سکتا ہے اچھے سے اچھے ڈاکٹر موجود ہیں اچھے ہسپتال موجود ہیں، آرمی کا میڈیکل شعبہ ہے دل کے امراض سے متعلق اس کی بہت اچھی شہرت ہے جناب نوازشریف، ان کی صاحبزادی، ان کے گھر والوں کو خوامخوا ضد سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ فوراً ان کا علاج شروع کر دینا چاہئے۔ سیاسی طور پر اپنی بیماریوں کو بڑھا چڑھا کر بہانا کرنا عام طور پر سیاستدانوں میں پایا جاتا ہے مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ ایک زمانے میں کہا جاتا تھا کہ جونہی کوئی لیڈر گرفتار ہوتا تھا وہ فوری طور پر اگلے دن ہی اس کی طبیعت خراب ہوتی تھی اور اگلے ہی دن وہ ہسپتال پہنچ جاتے تھے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ قومی اسمبلی میں جو ایک نیا رجحان پیدا ہوا ہے وہ مکمل طور پر اپوزیشن نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ عمران خان کو اور حکومتی پارٹی کو گفتگوکرنے کا موقع نہیں دیں گے اس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ پھر اپنے ارکان سے کہا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں اور پھر انہوں نے بھی ایک دن شہباز شریف کو ایک دن تقریر کرنے کا موقع نہیں دیا۔ اگلے روز دونوں طرف سے ایک رویہ جنم لیا ہے اور پھر انہوں نے عام طور پر جو اسمبلی سے باہر حو فیصلہ ہوتا ہے سپیکر کے کمرے میں عام طور پر اس قسم کے معاہدے ہوتے ہیں پھر غیر رسمی طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ نہ ہم اپوزیشن کو منع کریں گے اور اپوزیشن ہمیں منع کرے گی چنانچہ اب دونوں طرف سے یہ اچھی بات ہے کہ آپ اپنی بات بھی کریں اور اپوزیشن کی بات بھی سنیں میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک نیا ٹرینڈ شروع ہوا ہے البتہ چونکہ پرنالہ اسی پر ہے کہ بجٹ پاس نہیں ہونا اس لئے بجٹ نہ ہونے دینے کے بارے میں شہباز شریف نے بھی کہا ہے کہ ہم یہ بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے میرے خیال میں بجٹ پر تنقید ہونی چاہئے بجٹ میں کٹوتی ہونی چاہئیں ترامیم ہونی چاہئیں لیکن کسی بھی ملک کے بارے میں اپوزیشن کا ہ فیصلہ کر لینا کہ بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے اور حکومت گرا دیں گے یہ ایک غیر جمہوری عمل ہے۔ آصف زرداری کا یہ کہنا کہ مجھے اگر کچھ ہو بھی جاتا ہے اس سے پیپلزپارٹی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا سندھ کارڈ استعمال کیا گیا۔ ضیا شاہد نے کہا ہمارے اخبار اور اس پروگرام میں قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے جو اعداد و شمار دیئے ہیں اس میں بتایا گیا ہےکہ کس پارٹی کے کتنے ارکان ہیں اسش میں اختر مینگل کے 4 لوگ وہ اگر اپوزیشن کے ساتھ مل جائیں تو بھی 21 ارکان پی ٹی آئی کے زیادہ ہیں۔ 21 میں سے کتنے ارکان توڑیں گے اپوزیشن والے نظر تو نہیں آتا۔ اگر یہ اعداد و شمار غلط ہوتے اور ہر پارٹی کے آگے لکھی ہوئی تعداد غلط ہے تو اب تک اس کی تردید ہو چکی ہوتی۔ اور کہا جا چکا ہوتا کہ یہ اخبار نے غلط چھاپا ہے تو کس نے اس کی تردید نہیں کی اور یہ اعداد و شمار سرکاری ہیں اور اس اعداد و شمار کے مطابق اختر مینگل کو اپوزیشن کی صفوں میں شامل کر کے بھی اس کے باوجود اپوزیشن کی تعداد 162 بنتی ہے اور حکومتی ارکان کی تعداد 181 بنتی ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ21 ارکان زیادہ ہیں یہ تو کل ہو سکتا ہے کہ پاکستان جسے ملک میں شاید ایک دو چار ممبر اور حکومت اپنی طرف شامل کر لے لیکن نہیں ہوتا کہ حکومتی ارکان کم ہوتے چلے جائیں۔
اسد عمر نے پارلیمنٹ میں عوام کے مفاد میں بات کی، کسی بھی ممبر کو خواہ وہ حکومتی جماعت سے ہو یا اپوزیشن سے پارلیمنٹ میں بات کرنے کا حق حاصل ہے اس کا فرض ہے کہ عوام کے مفاد میں بات کرے۔ آصف زرداری نے پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران پاکستان کھپے کا ذکر کیا اور کہ کہ عوام ان سے ہونے والی زیادتی کو محسوس کر رہے ہیں۔ زرداری سمجھتے تھے کہ ان کی گرفتاری اور فریال کی نظر بندی پر سندھ میں بڑا ردعمل آئے گاا لوگ سڑکوں پر نکلیں گے تاہم کچھ بھی نہ ہوا۔ پیپلزپارٹی کے بہت سے لوگ نجی محفلوں میں کہتے نظر آتے ہیں کہ زرداری گروپ نے بھی لوٹ مار کم نہیں کی۔ پاکستان بھر سے کہیں بھی پیپلزپارٹی نے کسی سطح پر بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ زرداری پر لگائے الزامات غلط ہیں یا منی لانڈرنگ کی تو اچھا کیا۔

ویکسین پر اعتبار میں فرانسیسی سب سے پیچھے

پیرس(ویب ڈیسک) پوری دنیا میں اگر کوئی ملک بیماریوں کے خلاف استعمال کی جانے والی ویکسین کے متعلق سب سے زیادہ بدگمان ہے تو وہ فرانس ہے۔ ایک سروےکے مطابق فرانس کی 33 فیصد آبادی ویکسین کی افادیت اور اہمیت کی قائل نہیں۔اس ضمن میں برطانوی طبی خیراتی ادارے ویلکم نے یہ سروے ڈیزائن کیا تھا جبکہ سروے کی انجام دہی گیلپ ورلڈ پول نے کی تھی جو اپریل سے دسمبر 2018 تک جاری رہا تھا۔ اس سروے میں 144 ممالک کے ایک لاکھ چالیس ہزار افراد سے مختلف سوالات پوچھے گئے تھے اور ان کے جوابات کو ایک مطالعے کی شکل دی گئی تھی۔اس سروے سے اہم انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ آمدنی والے ممالک کے باشندوں کا ویکسین پر اعتماد اسی لحاظ سے کم ہے۔ یہی وجہ ہےکہ بعض امیر اور ترقی یافتہ ممالک میں ویکسین کے خلاف باقاعدہ مہم جاری ہے۔ اس نئی لہر کے تحت لوگوں نے ویکسین کی افادیت مسترد کردی ہے اور یہاں تک کہ اسے انسانی صحت کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ نے اس سال اپریل میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا تھا کہ سال 2010 سے 2017 کے درمیان 16 کروڑ نوے لاکھ بچوں کو خسرے کی پہلی ویکسین نہیں دی جاسکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف امریکہ میں خسرے کے ایک ہزار سےزائد نئے کیسز دیکھے گئے ہیں۔اس رحجان پر گفتگو کرتے ہوئے ویلکم ٹرسٹ میں عوامی رابطے کے سربراہ عمران خان نے کہا، ’ میں اسے ایک عمومی رحجان سمجھتا ہوں کیونکہ جہاں ویکسین پر شکوک پائے جاتے ہیں ان میں ترقی پذیر ممالک بھی اس کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ لیکن امیر ممالک میں اس کا رحجان ان کےلیے حیران کن ہے۔‘اس سروے میں پوری دنیا کے 79 فیصد افراد نے اعتراف کیا کہ ویکسین مو¿ثر ہیں اور 84 فیصد نے کہا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح مو¿ثر ثابت ہوتی ہیں۔ فرانس کے برخلاف بنگلہ دیش اور روانڈا جیسے ممالک مے لوگوں نے ویکسین پر 100 فیصد اعتماد کرتے ہوئے انہیں مو¿ثر، محفوظ اور بچوں کے لیے ضروری قرار دیا۔دوسری جانب مغربی یورپ کے ممالک کے صرف 22 فیصد افراد نے ہی ویکسین کے محفوظ ہونے سے انکار کیا جبکہ مشرقی یورپ کی 17 فیصد آبادی نے کہا کہ ویکسین غیرمو¿ثر ہیں۔اس کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ امیر ممالک میں صحت اور معالجے کی مناسب سہولیات ہیں اور اگر وہ ویکسین نہیں لیتے تو اس سے وہ ہلاک نہیں ہوں گے لیکن غریب ممالک میں معالجے کی سہولت نہ ہونے کی بنا پر ویکسین ہی ان کا کل سہارا ہے۔ یا پھر امیر ممالک یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا ویکسین نہ لگوانے کے کیا نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔

مہوش حیات کا نیا آئٹم سانگ ‘گینگسٹر گڑیا’

لاہور (ویب ڈیسک)پاکستان کی جلد ریلیز ہونے والی فلم ‘باجی’ کا نیا گانا سامنے آگیا، جس میں کسی اور نے نہیں بلکہ نامور اداکارہ مہوش حیات نے پرفارم کیا۔مہوش حیات جو اپنی فلموں میں ‘بلی’ اور ‘چڑیا’ جیسے آئٹم سانگز پر رقص کرچکی ہیں، وہ باجی فلم کے لیے ‘گینگسٹر گڑیا’ بن چکی ہیں۔باجی فلم کے اس آئٹم سانگ کا ٹائٹل ‘گینگسٹر گڑیا’ رکھا گیا ہے، جس میں مہوش حیات تین الگ انداز میں نظر آئیں۔اس آئٹم سانگ کو عثمان خالد بٹ نے تحریر کیا جو اس کے کریٹو ڈائیریکٹر بھی ہیں، گانے کی گلوکاری بھارتی گلوکارہ سنیدھی چوہان نے کی ہے۔واضح رہے کہ ان دونوں سوشل میڈیا پر اداکاراﺅں کی جانب سے کیے جانے والے آئٹم سانگز کو کافی زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔حال ہی میں نامور اداکار حمزہ علی عباسی جو کئی مرتبہ اس قسم کے گانوں کے خلاف آواز اٹھا چکے ہیں، نے اپنے ٹیلنٹ شو کے دوران ایک 16 سالہ لڑکی کو آئٹم سانگ پر پرفارم کرنے پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔حمزہ علی عباسی نے اس دوران کہا کہ ‘میں پاکستانی فلم سازوں سے منت کرتا ہوں کہ وہ اپنی فلموں میں آئٹم سانگز شامل کرنا بند کردیں، مجھے دکھ ہوتا ہے کہ ایک 16 سالہ کی لڑکی ایسے گانوں پر رقص کررہی ہے’۔اداکار نے مزید کہا کہ ‘آئٹم سانگ ایک ایسی گند ہے جس سے بھارت تک اپنی جان چھڑانے کی کوشش کررہا ہے، کیوں کہ اس سے ان کا معاشرہ تباہ ہوچکا ہے’۔حمزہ کے مطابق ‘آئٹم سانگ میں نہایت غلیظ الفاظ خواتین کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، میں چاہتا ہوں ہم ایسی مثال قائم کریں اپنی نوجوان نسل کے لیے جو ان کے لیے مثبت ثابت ہو’۔یاد رہے کہ پاکستانی فلموں میں مہوش حیات کے ساتھ ساتھ عائشہ عمر، صدف کنول جیسی اداکارائیں آئٹم سانگز پر پرفارم کرچکی ہیں۔فلم ‘نامعلوم افراد’ میں ‘بلی’ اور فلم ‘چھلاوا’ میں ‘چڑیا’ جیسے آئٹم سانگ کرنے والی اداکارہ مہوش حیات کا حال ہی میں بی بی سی ایشیا کو دیے ایک انٹرویو میں آئٹم سانگز کی حمایت میں کہنا تھا کہ ‘میرا خیال ہے فلمیں اس ہی کا نام ہے، آپ ایک جادوئی دنیا بناتے ہیں، آپ رومانس دیکھنا چاہتے ہیں، ڈانس دیکھنا چاہتے ہیں، یہ انٹرٹینمنٹ کا حصہ ہے، میرا نہیں خیال اس میں کوئی برائی ہے، مقصد صرف لوگوں کو محظوظ کرنا ہے’۔فلم ‘باجی’ میں مہوش حیات کا نیا آئٹم سانگ سوشل میڈیا پر بھی خاصہ مقبول ہورہا ہے، جہاں چند کو یہ گانا پسند آیا، وہیں کئی اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔فلم میں میرا، عثمان خالد بٹ، آمنہ الیاس، علی کاظمی اور محسن عباس حیدر نے مرکزی کردار نبھائے ہیں۔’باجی’ رواں ماہ 28 جون کو سینما گھروں میں پیش کی جائے گی۔

ماہرہ اور پریانکا کے مہاجرین کے عالمی دن پر جذباتی پیغامات

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستانی سپر اسٹار ماہرہ خان اور بالی ووڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا نے مہاجرین کے عالمی دن کے موقع پر بے گھر بچوں اور لوگوں کے حوالے سے جذباتی پیغام شیئر کیا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی خیرسگالی سفیر اداکارہ ماہرہ خان نے پاکستان میں موجود افغان مہاجرین بچوں کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے دنیا کی بے گھر افراد کے مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ 2018ءمیں 70 ملین سے زیادہ لوگ گھر سے بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے۔ہر دوسیکنڈ میں ایک فرد گھر سے بے گھر ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ماہرہ خان نے پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے حوالے سے بنائی گئی ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں وہ کہتی نظر آرہی ہیں کہ پاکستان کو اس امر پہ فخر ہے کہ وہ گزشتہ 40 سالوں سے افغان مہاجرین کو پناہ دئیے ہوئے ہے۔ مہاجرین جنگ اور دہشتگردی کے شکار ہیں اور مسلسل مشکل حالات، زیاں اورنقل مکانی جیسی مصیبتوں کا مقابلہ کررہے ہیں۔ماہرہ خان نے مکہ کے مہاجرین کی مثال دیتے ہوئے کہا جب مہاجرین مکہ کا انصار مدینہ نے کھلے دل کے ساتھ استقبال کیا تو اخوت اور بھائی چارے کی روایت پر پہنچے۔ اب تک ہمارے ملک میں ان روایات کو قائم رکھا گیا ہے۔ بحیثیت قوم ہم نے اپنی سرزمین پر مہاجرین کے لیے ایک الگ گھر تعمیر کیا ہے۔ یہ لوگ گھرسے بے گھر ہیں لیکن ہمیں ان کی امید کو ختم نہیں کرنا۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف کی خیرسگالی سفیر برائے مہاجرین پریانکا چوپڑا نے بھی سوشل میڈیا پر مہاجرین بچوں کے ساتھ اپنی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ اس دنیا کا مستقبل آج کے بچوں کے ہاتھ میں ہے لیکن ایک کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ معصوم بچوں کی ایک پوری نسل اپنا مستقبل جانے بغیر بڑی ہورہی ہے، یہ بچے دنیا کے مختلف خطوں میں قدرتی آفات، تشدد اورتضادات کے باعث اپنے گھروں سے بے گھر ہیں، ہمیں ان کے لیے کھڑا ہونا ہے یہ ہمارا مستقبل ہیں اور ہمیں ان کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سرکاری دورے پر لندن پہنچ گئے

راولپنڈی(ویب ڈیسک)پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سرکاری دورے پر لندن پہنچ گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ لندن پہنچ چکے ہیں جہان وہ برطانوی سول و ملٹری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف اور برطانوی سول و ملٹری قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور، جیو اسٹرٹیجک صورتحال پر بات چیت ہوگی۔ترجمان پاک فوج کے مطابق ملاقات میں سیکیورٹی اور دفاعی امور پر بھی بات چیت ہو گی۔

ایران نے امریکی ڈرون گرا کر بہت بڑی غلطی کی، ٹرمپ

واشنگٹن(ویب ڈیسک) ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران نے ہمارا ڈرون گراکر بہت بڑی غلطی‘ کی ہے۔امریکی حکام کے مطابق آرکیو فور گلوبل ہاک ڈرون آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کررہا تھا جو کسی ملکی کی بجائے بین الاقوامی فضائی گزرگاہ ہے اور اسے زمین سے فضا تک مار کرنے والے ایرانی میزائل۔دوسری جانب ایران کا مو¿قف بالکل مختلف ہے اور اس نے کہا ہے کہ درحقیقت ڈرون طیارے نے اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور وہ جنوبی ساحلی شہر ہرمزگان کے اوپر پرواز کررہا تھا۔اس واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں صرف یہ لکھا ہے کہ ’ایران نے بہت بڑی غلطی‘ کی ہے۔اس طرح گزشتہ چند دنوں میں خطے میں جاری امریکا ایران کشیدگی میں ایک نیا موڑ پیدا ہوا ہے جس میں پہلی مرتبہ ایران نے امریکا کے خلاف کسی کارروائی کا اعتراف کیا ہے۔ تاریخی لحاظ سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی تھی جب 2015ءمیں صدر ٹرمپ نے ایران، امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی معاہدے پر یک طرفہ طور پر خود کو اس سے باہر کردیا تھا۔اس کے بعد واشنگٹن نے ایران پر کئی پابندیاں عائد کردی تھیں اور اس پر ’انتہائی دباﺅ‘ ڈالتے ہوئے ایران کو ایٹمی اور میزائل پروگرام سے باز رکھنے کے حربے استعمال کیے تھے۔پچھلی جمعرات کو خلیجِ عمان میں دو تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور امریکا نے اس کا الزام ایران پر عائد کردیا تھا لیکن ایران نے اس الزام کو مسترد کردیا تھا۔

جزیرے کو وقت کی قید سے آزاد کرنے کی درخواست

سمورائے (ویب ڈیسک)ابھی تک صرف خواہش ہی کی جاتی تھی کہ کاش کہ وقت ٹھہر جائے اور شاید اسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے شمالی ناروے کے ایک جزیرے سمورائے کے باسیوں نے حکومت سے اپنے جزیرے کو ٹائم فری زون قرار دیے جانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ناروے کے اس جزیرے میں گرمیوں میں 69 دنوں تک سورج غروب نہیں ہوتا۔ یہاں کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس جزیرے کو ٹائم فری زون قرار دے دینے سے یہ دنیا کا پہلا ٹائم فری زون بن جائے گا۔نومبر سے جنوری تک اس جزیرے پر سورج غروب نہیں ہوتا، مئی 18 سے لے کر جولائی 26 تک یہاں گرمیوں میں لوگ وقت کا تعین کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔رات کو 3 بجے سوئمنگ کرنا، کھیل کود اور دھوپ سینکنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، یہاں اکثریت یہی کر رہی ہوتی ہے جس کا جب دل چاہتا ہے وہ سوجاتا ہے ا ور پھر اپنے حساب سے جاگ بھی جاتا ہے۔اس جزیرے کے لوگ نسلوں سے اس طرح زندگی گزارنے کے عادی ہو چکے ہیں لیکن اب یہاں کے مقامی سرکاری طور پر اس جزیرے کو ٹائم فری زون قرار دلوانا چاہتے ہیں۔300 کے قریب سمورائے کے باسیوں نے اپنی دستخط شدہ درخواست سرکاری نمائندوں دے دی ہے۔اپنے نا ختم ہونے والے دنوں اور راتوں کی وجہ سے اس جزیرے تک جانے والے پل پر تالوں کی بجائے گھڑیاں لگی ہوئی ہیں۔ٹائم فری زون سرکاری طور پر قرار دیے جانے کے بعد سے امید کی جارہی ہے کہ وقت کو بھول جانے کے لیے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد یہاں کا رخ کرے گی۔

چینی صدر شی جن پنگ کی شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے ملاقات

پیانگ یانگ(ویب ڈیسک)چینی صدر شی جن پنگ نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے دارالحکومت پیانگ یانگ میں ملاقات کی جہاں واشنگٹن سے جوہری مذاکرات کا عمل رکنے پر بات چیت کا بھی امکان ہے۔امریکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق چین کی سرکاری خبر ایجنسی ‘زن ہوا’ نے بتایا کہ چینی صدر شی جن پنگ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے پیانگ یانگ میں ملاقات کی، لیکن تفصیلات فراہم نہیں کیں۔قبل ازیں پیانگ یانگ میں ایئرپورٹ پر منعقدہ استقبالیہ تقریب میں 21 توپوں کی سلامی کے ساتھ چینی صدر، ان کی اہلیہ پینگ لیوآن اور دیگر سینئر چینی حکام کا استقبال کیا گیا۔زن ہوا ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا پہنچنے پر تقریباً 10 ہزار افراد نے شی جن پنگ پر پھول برسائے اور ان کے حق میں نعرے لگا کر انہیں خوش آمدید کہا۔کم جونگ ان اور ان کی اہلیہ ری سول جو نے ایئرپورٹ پر چینی وفد سے ملاقات کی۔شی جن پنگ شمالی کوریا کے 2 روزہ دورے پر ہیں اور 14 سالوں میں پیانگ یانگ کا دورہ کرنے والے پہلی چینی رہنما ہیں۔ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شی جن پنگ تجارت اور کم جونگ ان جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر امریکا کے ساتھ علیحدہ علیحدہ تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔چینی خبر ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ چین، امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان بداعتمادی کو ختم کرنے میں منفرد اور تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے تاکہ وہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے ایک طریقہ کار پر کام کر سکیں۔امریکا کا مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی پابندیاں ہٹائے جانے سے قبل شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں کی تیاری ترک کرے۔دوسری جانب شمالی کوریا اس حوالے سے مرحلہ وار طریقہ کار چاہتا ہے کہ امریکا کی طرف سے رعایت دی جائے، خاص طور پر معاشی پابندیوں میں نرمی کی جائے۔زن ہوا نے کہا کہ چین ’ سسپینشن فار سسپینشن‘ تجویز کی حمایت کرتا ہے، دونوں فریقین کو مناسب توقعات رکھنے اور یک طرفہ اور غیر حقیقی مطالبات سے گریز کرنا چاہیے۔شمالی کوریا کے سابق سفارتکار، جنہیں 2016 میں عہدے سے ہٹایا گیا تھا، ان کا خیال ہے کہ کم جونگ ان، شی جن پنگ کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جاپان میں 2 ہفتے بعد منعقد ہونے والے جی 20 اجلاس کے موقع پر پیغام بھجوانا چاہتے ہیں۔تھائی یانگ ہو نے کہا کہ کم جونگ ان، امریکی صدر کے ساتھ تیسرے سربراہی اجلاس کے لیے اپنے جوہری اداروں سے متعلق کسی سمجھوتے کی پیشکش کر سکتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا کوئی اقدام صرف مہلت مانگنے کے لیے ہوگا ،جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے لیے نہیں۔تھائی یانگ ہو نے یہ بیان ٹوکیو میں اپنی کتاب کے جاپانی ترجمے کی پروموش کے دوران نیوز کانفرنس کرتے ہوئے دیا۔خیال رہے کہ رواں برس فروری میں ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں کم جونگ ان اور ٹرمپ کی دوسری ملاقات کے بعد امریکا۔ شمالی کوریا کے مذاکرات نہیں ہوئے۔ماہرین کا خیال ہے کہ شی جن پنگ، شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے مرحلہ وار طریقے کے مطالبے کی حوصلہ افزائی کریں گے۔گزشتہ برس امریکا اور جنوبی کوریا کے ساتھ جوہری سفارتکاری کے آغاز کے بعد سے یہ شی جن پنگ اور کم جونگ ان کی پانچویں ملاقات ہے۔زن ہوا ایجنسی نے بتایا کہ ایئرپورٹ پر منعقد استقبالیہ تقریب میں آویزاں ایک بینر پر لکھا تھا کہ ’اٹوٹ دوستی اور خون سے بنا اتحاد زندہ باد‘۔خیال رہے کہ چین اور شمالی کوریا نے 53-1950 کے دوران امریکا، جنوبی اور ان کے اتحادیوں کے خلاف جنگ میں ایک ساتھ مقابلہ کیا تھا لیکن حالیہ چند سالوں میں خاص طور پر شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔