لندن: (ویب ڈیسک)بالوں کے ایک ماہر کے مطابق اگر آپ کے بال تیزی سے گررہے ہیں تو پانچ ایسے پھل اس عمل کو سست کرسکتے ہیں جو خشکی سے بچاتے ہیں اور بالوں موٹا کرتے ہیں۔ یہ تمام پھل اب پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔بالوں کے بین الاقوامی ماہر ڈاکٹر بشر بزرا کہتے ہیں کہ اگرچہ مردوزن میں بالوں کے گرنے کی سب سے بڑی وجہ موروثی یا جینیاتی ہے لیکن اس سے ہٹ کر اگر بال تیزی سے گررہے ہوں تو پپیتے، انناس، سیب ، کیوی اور آڑو میں موجود قدرتی اجزا بالوں کو باریک اور کمزور ہونے سے روکتے ہیں۔سیب سر کی خشکی کو ختم کرتا ہے جبکہ آڑو بال گرنے اور انہیں باریک ہونے سے بچاتےہیں۔ اسی طرح انناس، کیوی اور پپیتہ کھانا بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ بالوں کی جڑ سمیت مسام والے حصے کو غذائیت دینے میں یہ پھل بہت مفید ہیں اور اس طرح بالوں کو جڑوں سے مضبوط بناتےہیں۔ڈاکٹر بشر کے مطابق سرخ گوشت، مچھلی، پھلیاں، انڈے اور دودھ کے مصنوعات میں موجود بعض امائنو ایسڈز جلد کے پروٹین کولاجن کو صحت مند حالت میں رکھتے ہیں۔ لیکن یہ امائنو ایسڈ اس وقت اپنا اثر دکھاتے ہیں جب ان کے ساتھ وٹامن سی کا استعمال کیا جائے جو امائنو ایسڈ کو بدن کا جزو بناتا ہے۔
پپیتہ
یہاں پپیتہ وٹامن سی کا خزانہ ثابت ہوتا ہے۔ ایک بڑے پپیتے میں 235 ملی گرام وٹامن سی پایا جاتا ہے جس کی مقدار دو نارنجیوں کے برابر ہوتی ہے۔
انناس
انناس میں فری ریڈیکلز کو کم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس میں وٹامن بی 6، مینگانیز اور وٹامن سی بھرپور ہوتا ہے۔ یہ تمام اشیا بزرگ اور عمررسیدہ افراد کے سر میں بالوں جڑوں کو مضبوط بناتی ہیں۔
آڑو
ڈاکٹر بشر کے مطابق بالوں کی صحت کھوپڑی میں نمی سے وابستہ ہے اور اسی لیے لوگ ہزاروں برس سے سر میں تیل ڈالتے آرہے ہیں۔ تاہم قدرت نے بالوں کی جڑوں میں ایک قدرتی روغن سیبم بھی رکھا ہے جو بالوں کو نم اور چکنا رکھتا ہے لیکن سیبم کم ہوجائے تو بال متاثر ہونا شروع ہوجاتےہیں۔ یہاں آڑو اس کمی کو بورا کرتے ہیں کیونکہ ان میں وٹامن اے اور سی موجود ہوتا ہے۔ یہ دونوں قدرتی موئسچرائزر ہیں
کیوی
کیوی پھل اب پاکستان میں بکثرت دستیاب ہے۔ اس میں کئی طرح کے وٹامن اور فلے وی نوئڈز، اینٹی آکسیڈنٹ، اور بی ٹا کیروٹین کے علاوہ ، لیوٹائن اور زینتھن پائے جاتےہیں۔ یہ سب ملکر جلد اور بالوں کو نمدار بناتے ہیں۔کیوی میں زنک ، فاسفورس اور میگنیشیئم بھرپور موجود ہوتا ہے جو سر میں خون کے دوران کو بہتر بناتے ہیں اور بالوں کی تیز نشوونما ہوتی ہے۔
سیب
وٹامن اے ، بی اور سی سیب میں خوب موجود ہوتا ہے۔ یہ سب مل کر جلد کو نمدار اور خشکی سے پاک رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اینٹی آکسیڈنٹس خلوی سطح تک ٹوٹ پھوٹ کو روکتے ہیں۔2002 میں جاپانی تحقیق سے ثابت ہوا تھا کہ سیب کے بعض اجزا نکال کر ان کا استعمال کیا جائے تو اس سے بالوں کی دوبارہ افزائش شروع ہوجاتی ہے۔
Monthly Archives: June 2019
طیارے کے درمیان میں کاک پٹ والا ناسا کا نیا اورانوکھا سپرسانک جیٹ
پیساڈینا، کیلیفورنیا:(ویب ڈیسک) جب بھی جدید اور تیز رفتار طیارے کی بات ہو تو انجینیئر عجیب و غریب ڈیزائن پیش کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ حال ہی میں ناسا کے ڈیزائنروں نے ایک ایسے سپرسانک طیارے کا تصور پیش کیا ہے جس میں کاک پٹ درمیان میں لگا ہے اور انتہائی ستواں طیارے کے ڈھانچے کو دیکھ کر اس پر پنسل کا گمان ہوتا ہے۔اب جب کاک پٹ ہی طیارے کی چونچ سے اتنا دور ہو تو آخر پائلٹ کو سامنے کا منظر کس طرح دکھائی دے گا۔ لیکن ناسا نے اس کا حل پیش کرتے ہوئے ایک فورکے اسکرین لگایا ہے جس پر کئی طرح کے کیمرے لگے ہیں جو پائلٹ کو سارا منظر دیکھنے میں مدد دیں گے۔ اس طیارے کو ایکس 59 کیو یو ای ایس ایس ٹی یا کیوسٹ کا نام دیا گیا ہے۔طیارے کی نوک پر دو جدید ترین کیمرے نصب ہیں جو مشترکہ طور پر پورا منظر دکھاتے ہیں اور بہت دور نصب کاک پٹ میں موجود پائلٹ عین حقیقی منظر کی طرح پوری علاقے کو دیکھتا ہے۔ ناسا نے اس نظام کو بیرونی بصری نظام یا ایکس وی ایس کا نام دیا ہے۔طیارے کی دوسری خاص بات یہ ہے کہ یہ جیسے ہی آواز کی رفتار سے آگے جاتا ہے تو اس سے بلند آواز والی ’صوتی گونج‘ یا سونک بوم پیدا نہیں ہوتی۔ سماعت چیردینے والی یہ آواز بسا اوقات بم گرنے جیسی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے امریکی سرزمین پر سونک بوم والے طیاروں پر پابندی عائد کردی گئی ہے کیونکہ اس کی ہولناک آواز لوگوں کو خوفزدہ کردیتی ہے۔لیکن انجینیئرکب ہمت ہارتے ہیں اور اس کے تدارک کے لیے انہوں نے جدتوں بھرا نیا طیارہ ڈیزائن کیا ہے۔ فی الحال یہ مسافر بردار نہیں لیکن اس کی تحقیق سے ایسے طیاروں پر پیش رفت ہوسکے گی جو سونک بوم کے بغیر آواز سے تیز رفتاری سے سفر کریں گے اور یوں برق رفتار مسافر طیاروں کی راہ ہموار ہوگی۔
گزشتہ ایک سال سے پولیس اسٹیشن کے باہر مالک کی منتظر وفادار کتیا
بیونس آئرس: ا (ویب ڈیسک)یک وفادار کتیا کی تصاویر اور ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پوری دنیا نے اسے سراہا ہے جو ایک سال سے زائد عرصے سے اپنے مالک کے انتظار میں پولیس اسٹیشن کے باہر بیٹھی ہے۔بیونس آئرس کے علاقے 25 ڈی مے یو میں ایک کتیا کے مالک کو دوسروں پر حملے اور زدوکوب کے الزامات میں گرفتار کرلیا گیا اور اسے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ لیکن کتیا نے وہاں سے ہٹنے سے انکار کردیا اور دن رات تھانے کےباہر موجود رہی۔اس کے بعد پولیس اہلکاروں نے اسے کھانا پیش کیا جس پر پہلے اس نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا لیکن بعد میں وہ مانوس ہوگئی اور ان سے کھانا اور پانی لینے لگی۔ یہاں تک کہ شیلا رات کو پولیس اسٹیشن کے اندر ہی سوتی ہے اور کبھی کبھی وہ پولیس کے ساتھ گشت پر بھی چلی جاتی ہے۔تاہم وہ اپنے مالک کو نہیں بھولتی۔ پولیس والے اسے اپنے خاندان کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔ تاہم وہ اس بے زبان جانور کی اپنے مالک سے والہانہ محبت اور وفاداری پر حیران ہیں اور اب وہ رات کے وقت کچھ وقت اپنے مالک کے ساتھ بھی گزارتی ہے۔ایک پولیس افسر نے کہا کہ جب تک وہ اپنے مالک کو نہ دیکھے شیلا کو چین نہیں آتا بسا اوقات وہ سلاخوں کے باہر اپنے مالک کو دیکھتے دیکھتے سوجاتی ہے۔ چند ماہ قبل اس پر ایک خونخوار کتے نے حملہ کرکے اسے زخمی کردیا تھا۔ پولیس کا عملہ اسے ہسپتال لے گیا اور اس کے علاج کے سارے اخراجات خود ادا کئے۔ اب وہ صحتمند ہے اور دوبارہ پولیس اسٹیشن کے باہر موجود ہے۔شیلا کے مالک کو ساڑھے تین سال کی قید ہوئی ہے لیکن پولیس اہلکاروں کے مطابق آزادی کے بعد جب وہ مالک کے ساتھ گھر چلی جائے گی تو پورا عملہ اسے بہت یاد کرے گا۔کتیا کی وفاداری اور محبت نے دنیا بھر میں ہزاروں دلوں کو ایک ایسا احساس دیا ہے جس میں جانور انسانوں سے زیادہ وفادار ثابت ہوا ہے۔
روڈ بند کرنے والے کچھوے کو وارننگ اور سیلفی کے بعد چھوڑدیا گیا
فلوریڈا: (ویب ڈیسک)قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے ایک سست رفتار کچھوے کو مرکزی شاہراہ بند کرنے کے جرم میں کچھ دیر اپنے پاس رکھا اور اسے وارننگ دینے اور سیلفی لینے کے بعد چھوڑدیا گیا۔فلوریڈا میں عام پائے جانے والے گوفر کچھووں میں سے ایک سینٹ آگسٹائن کے جنوب میں واقع نوکاٹی پارک وے کی مصروف شاہراہ پر آگیا جسے پولیس نے معمول کی گشت کے دوران دیکھا۔ ملزم کا تعلق گوفیرس جینس سے بتایا جاتا ہے لیکن اس کی عمر معلوم نہ ہوسکی۔پولیس نے اس سے روڈ سے ہٹنے کو کہا تو اس نے دیدہ دلیری سے انکار کردیا جس پر پولیس نے مجبوراً کارروائی کی اور اسے کچھ دیر کے لیے ’گرفتار‘ کرلیا۔سینٹ جان کاو¿نٹی شیرف آفس کے ترجمان کے مطابق ’ اس پرخطر رویے کے بارے میں کافی تفتیش کی گءاور مشکوک کچھوے کو اس کی اپنی ضمانت پر محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔پولیس افسر نے بتایا کہ گوفر نسل کا کچھوا بات چیت کے وقت تعاون پر آمادہ رہا اور اسی وجہ سے میں نے اسے وارننگ دے کر چھوڑدیا ہے۔یہ نایاب کچھوے مسی سپی دریا کی اطراف پائے جاتے ہیں اور گہری سرنگیں کھود کر اس میں اپنا مسکن بناتے ہیں۔ ان کی عمر 60 برس تک ہوتی ہے اور بسا اوقات یہ 15 فٹ طویل سرنگیں بناتے ہیں۔ اس علاقے میں بہت سے کچھوے روڈ پر آجاتے ہیں جہاں وہ حادثات کے شکار ہوکر مربھی جاتے ہیں۔پولیس افسر نے کچھوے کی سیلفی بھی لی اور اس کے بعد اسے رہا کردیا۔ کچھوے نے خوشی خوشی تصویربنوائی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عادی مجرم نہیں ہے۔
بنگلہ دیش کی ٹیم خطرناک حریف کے طور پرابھر کر سامنے آئی ہے ،: عبدالغفار ، عماد وسیم کی جگہ محمد حسنین کو شامل کر کے نیوزی لینڈ کیخلاف جارحانہ کرکٹ کھیلنا ہوگی: طاہر شاہ کی گگلی میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ورلڈکپ 2019ءکے حوالے سے چینل فائیو کے خصوصی پروگرام ”دی ورلڈ کپ شو“ میں گفتگو کرتے ہوئے سپورٹس ایکسپرٹ نے کہا ہے کہ افغانستان کو ہرا کر بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم سیمی فائنل کی دوڑ میں مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئی ہے انکے پوائنٹس پاکستان سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ افغان کرکٹ ٹیم انٹرنیشنل کرکٹ کا تجربہ نہ ہونے کیوجہ سے میچ ہاری ہے۔ افغانستان کے فاسٹ باﺅلرز پر سوالیہ نشان ہے کہ وہ آﺅٹ وکٹیں نہیں لے پارہے تاہم سپن باﺅلرز میں محمد نبی اور راشدخان بہترین باﺅلنگ کر رہے ہیں۔ افغانستان ٹیم کو ٹاپ آرڈر میں کھلاڑیوں کے اسکور نہ بنا پانے جیسی مشکل کا بھی سامنا ہے ، صرف مڈل آرڈر میں محمد نبی یا حشمت اللہ شاہد ہی اسکور کر پارہے ہیں۔ افغانستان اگربنگلہ دیش سے میچ جیت جاتا تو سیمی فائنل کے امیدوار چار سے کم ہو کر تین رہ جاتے۔ جن میں انگلینڈ ،سری لنکا اور پاکستان شامل ہوتے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم میں محمد حسنین کو عماد وسیم کی جگہ چانس دینا ہوگا تاکہ نیوزی لینڈ کو جارحانہ طریقے سے کاﺅنٹر کیا جاسکے۔ پروگرام میں اپنی ماہرانہ رائے دیتے ہوئے سپورٹس ایکسپرٹ عبدالغفار نے کہاکہ بارش کے بعد سری لنکا کے انگلینڈ کو ہرانے کے بعد ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کا رخ بالکل تبدیل ہوا ہے۔ بنگلہ دیش آج کا میچ جیتنے کے بعد 7پوائنٹس حاصل کرچکی ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم 2015ءکے بعد خطرناک ٹیم بن کر ابھری ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی ساﺅتھ افریقا کیساتھ میچ میں کارکردگی کو دیکھا جائے تو ٹیم اب بھی غلطیاں کر رہی ہے ، کیچز چھوڑے جارہے ہیں۔ حارث سہیل نے اس میچ میں اپنے کیریئر کی بہترین اننگز کھیلی ہیں۔ پاکستان کے پاس چانسز ہیںاور قسمت بھی پاکستان کیساتھ ہے۔ پاکستان کو اگلے تینوں میچز جیتنا ہیں یا انگلینڈ کے اگلے دونوں میچز ہارنے کا انتظار کرنا ہے ۔پاکستان کرکٹ ٹیم کو دوا کیساتھ دعا کی ضرورت ہے۔ پاکستان ٹیم نے اگر انڈیا ، آسٹریلیا یا ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ جیتا ہوتا تو آسانی سے سیمی فائنل میں ہوتی۔ پاکستان کو ابھی نیوزی لینڈ جیسی خطرناک ٹیم سے میچ جیتنا ہے ، نیوزی لینڈ کی خطرناک باﺅلنگ سے پاکستانی بیٹنگ لائن کو شدید خطرہ ہے۔ پاکستان کو بہترین کارکردگی کا مظاہر کرنا ہوگا۔ پروگرام میں شریک سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ نے کہا کہ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے شکیب الحسن نے ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سیمی فائنل اب بنگلہ دیش کی گرفت میں ہے۔ بنگلہ دیش کے جیتنے سے پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی مشکل نظر آتی ہے۔ پاکستانی کپتان سرفراز بطور بیٹسمین، وکٹ کیپر اور کپتان بالکل ختم ہو چکے ہیں۔ سرفراز کی ٹیم میں پوزیشن نیچے آنے سے انکی عزت برقرار رہی ورنہ انہیں شدید تنقید کا سامنا ہوتا۔ اسپورٹس ایکسپرٹ ڈاکٹر ندیم شیرازی کا کہنا تھاکہ شکیب الحسن بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کو فرنٹ سے لیڈ کرتے ہوئے بے مثال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ون ڈاﺅن کی پوزیشن پر کھیلتے ہوئے شکیب الحسن نے بہترین میچ سنبھالا ، انکے جیسا کھلاڑی اس ورلڈ کپ میں کسی ٹیم کے پاس نہیں ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی حارث سہیل کی اچھی کارکردگی اب دیگر ٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گئی ہے۔ پاکستان ٹیم کو اپنی فیلڈنگ بہت بہتر کرنے کی ضرورت ہے کیچز چھوٹنے سے میچ کا پانسا پلٹ سکتا ہے۔ آنیوالے دنوں میں اوپر کی ٹیموں میں انگلینڈ ٹیم سب سے مشکل پوزیشن میں ہے اور نیچے کی ٹیموں میں پاکستان کی پوزیشن شدید مشکلات کا شکار ہے ۔ پاکستان کو اگلے تینوں میچز جیتنا ہوں گے تاکہ سیمی فائنل کی دوڑ میں شامل
بھارت میں مذہبی دہشتگردی عروج پر ، امریکی رپورٹ نے دنیا کی آنکھیں کھول دیں : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ قطر کی طرف سے جو سرمایہ کاری آئی ہے اس کی وجہ سے ایک بہتر شکل پیدا ہو گی اور اس کے ساتھ ساتھ کافی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اور اس وقت ملک میں سب سے زیادہ ضرورت روزگار کی ہے یہ ایک نعمت غیر مترکبہ ہے جو اس وقت امیر قطر نے آ کر پاکستان کو ایک طرح سے تحفہ میں دی ہے۔ یہ جو عمران خان صاحب جو کہہ رہے ہیں کہ اچھا دور آ رہا ہے لگتا یہی ہے کہ اچھا دور آنے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا ک لگتا ہے کہ ملک دوبارہ پٹڑی پر چڑھ رہا ہے۔ حنا ربانی کھر صاحبہ نے اسمبلی میں کہا ہے کہ وزیراعظم ہا?س کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا تھا مگر یونیورسٹی کے لئے بجٹ میں ایک روپیہ بھی نہیں رکھا اس پر گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ ہونا تو یہی چاہئے تھا زیادہ ہوتا کہ اس قسم کے معاملات میں زیادہ غوروفکر سے کام لینا چاہئے اور اس قسم کے معاملات میں بہت ہی پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہئے۔ بلاول بھٹو کی تقریر کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ یہ اعتراضات ہی بجٹ کے سیشن میں اس قسم کے اعتراضات کرتے رہے ہیں مراد سعید کی تقریر میں بتایا گیا کہ سابقہ حکومت نے سٹیل مل، ریڈیو پاکستان کی عمارت کو گروی رکھ کر قرضہ لے لیا۔ اس پر گفتو کرتے ہوئے تجزیہ کار نے کہا کہ میرے خیال میں جب یہ بحران شروع ہوا تھا کہ مختلف پراجیکٹس بنانے کے لئے قرضے لئے جائیں تو مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ لاہوہر کے ریلوے سٹیشن کے بارے میں تجویز آئی تھی کہ اس کو بھی کسی بنک کے ہاتھ بیچ دیا جائے اس سے جو پیسے ملیں اس کو ریلوے کی کسی بہتری کے لئے خرچ کیا جائے جس طرح سے مراد سعید نے کہا ہے کہ تقریباً ہر میٹرو کی جو بس ہے وہ بھی پلج ہے ڈائیوو بھی پلج ہے معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اپنا تو کچھ بھی نہیں بنایا پہلے سے جو پڑی ہوئی اس کو ہر قرصہ لے کر ہم مختلف کمرشل بنکوں کے پاس رہن رکھوا کر ان سے پیسہ لے کر ان سے اپنے کاروبار چلائے۔ سابقہ حکمرانوں نے اس ملک کی ہر چیز کو گروی رکھ دیا اس پر قرضہ لے لیا اور اس کے باوجود ہم قرضے سے ڈوبے ہوئے ہیں۔ عمران خان کی حکومت کو تہیہ کر لینا چاہئے کہ کتنی ہی مشکلات ہوں اس روش پر نہیں چلنا چاہئے۔ اگر ہم اس طرح قرضے لے کر اللوں تللوں پر اڑاتے رہیں گے تو پھر اس قرضوں کے گرداب سے کبھی نہیں نکل سکیں گے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کی سیاست میں بہت پارٹ پلے کیا ہے اور امریکہ نے ہمیشہ ہی ہر دور میں حکومت سازی کے لئے کوشش کی ہیں۔ آخری کوشش دیکھ لیں کہ حسین حقانی جو آصف علی زرداری کے دست راست تھے اور انہوں نے ان کے ماتحت پھر جو میمو سکینڈل تھا۔ میمو سکینڈل یہ تھا کہ پاک فوج کے اپنی مرضی کے کچھ لوگوں کو رکھوا دیا جائے جو بباطن تو اندر سے امریکہ کے ہوں اور بظاہر وہ پاکستان کے ہوں۔ حسین حقانی اب بھی اس قسم کی تھیوریاں دیتے رہتے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ خدا کا شکر ہے کہ وہ دور ختم ہو گیا اور اللہ نہ کرے کوئی اور حسین حقانی آئے۔ اب بات سامنے امریکی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر سے آصف زرداری نے ملاقات کی ہے اور حسین حقانی صاحب بھی وہاں موجود تھے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہوتا ہے میں نہیں سمجھتا کہ حسین حقانی صاحب کو ضرورت تھی میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ بکے ہوئے ذہن جو ہوتے جو فروخت شدہ دماغ ہوتے ہیں وہ ہمیشہ محکومی کی بات کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر ہم اس طرح پاک فوج کے عہدیداروں کو جو ہے امریکہ ہی کی اشیرباد سے پاک فوج میں انسٹال کروا دیں تو پھر ہر ملک ہی امریکہ کا ہو جائے گا۔ وہ کلیہ تھا جس پر حسین حقانی کام کر رہے تھے۔ اب یہ سلسلہ بند ہو جانا چاہئے ایک دم ہمیشہ کے لئے۔ عمران خان کو چاہئے کہ وہ حب الوطنی کا ثبوت دیں اور اپنے پاکستان کے لئے ہر وہ کام کریں جس سے پاکستان کی زمین کے اندر اور اوپر جو کچھ بھی ہے وہ صرف پاکستان کا ہو۔ امریکہ نے عالمی مذہبی آزادی کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے کہ بھارت میں مودی حکومت کی سرپرستی میں مذہبی دہشتگردی پچھلے دو سال سے عروج پر ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک تہائی ریاستوں میں گائے کے ذبح کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ دودھ، دہی چمڑے سے وابستہ لوگ تھے ان پر نہ صرف تشدد کیا گیا ہے بلکہ ان کو قتل بھی کیا گیا ہے اور جھوٹی رپورٹوں پر ایسا کیا گیا ہے امریکہ کی بھارت کے حوالہ سے رپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ یہ رپورٹ دنیا کی آنکھ کھولنے کے لئے کافی ہے کہ اس لئے کہ بھارت ایک مدت سے پوری دنیا میں یہ پروپیگنڈا کر رہا تھا کہ ہم ایک سیکوولر ہیں ہم تو مذہب کی تفریق کے قائل نہیں جوں جوں اب مختلف رپورٹریں سامنے آ رہی ہیں اندرونی کہانی سامنے آ رہی ہے ان کی ذہنیت سامنے آتی ہے ان کی پالیسیاں سامنے آتی ہیں اور ان کے چھپے ہوئے عزائم سامنے آتے ہیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ٹھیک ہے قائداعظم نے کہا تھا کہ یہ ہمیں کٹا پھٹا پاکستان مل گیا ہے لیکن وہ اس پر بھی کہہ رہے تھے کہ یہ بھی شاید نہ ملتا اس لئے کہ اگر دو قومی نظریے کے تحت پاکستان الگ نہ ہوتا تو پھر آپ تصور کر لیجئے گا کہ آج انڈیا جیسے ملک میں جو 5 گنا زیادہ ہے ہم سے اس کے اندر 22 کروڑ مسلمانوں کی حالت ہے وہی حالت پاکستان میں مسلمان ہیں ان کی ہونی تھی اگر متحدہ ہندوستان کے تحت ہوتا۔ انڈیا کی جو دہشت گردی مہاراشٹر کے اندر، مدھیہ پردیش کے اندر کرناٹک، راجستھان کے اندر، گجرات کے اندر صورتحال کھل کر سامنے آ چکی ہے یہ واحد رپورٹ نہیں جس میں بھارت کی مذہبی دہشت گردی نہ کی گئی ہو۔ضیا شاہد نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کہا جاتا ہے کہ انڈیا بہت طاقتور ہو رہا ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ انڈیا طاقتور نہیں کمزور ہو رہا ہے اس لئے کہ جس فلاسفی پر انڈیا پوری دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کلیم کرتا تھا اور اپنے آپ کو یہ کہتا تھا کہ ہم تو مذہب نہیں مانتے۔ ہم تو سب مذہبوں کو برابر رکھتے ہیں اب وہ ان کا مذہب کا برابر رکھنا کیسے ہو گیا جب وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مسلمانوں کا ووٹ نہیں چاہئے۔ دیکھا کہ وہاں کسی کو ٹکٹ نہیں دیتے لوک سبھا کا وہ کسی کو آگے نہیں آنے دیتے۔ اب آہستہ آہستہ بھارت میں یہ محسوس ہوتا جا رہا ہے کہ یہ تو ایک ہندو سٹیٹ ہے یہ بات معمولی نہیں ہے یہ دوررس نتائج کا حامل معاملہ ہے۔ جو صورتحال اس وقت ہے اس کا نتیجہ آپ کو اگلے 10,5 سال بعد ملے گا، کیونکہ انڈیا کے اندر بہت سے چھوٹے چھوٹے پاکستان بنانے کا مطالبہ پیش آ جائے گا۔ مودی کی پالیسیاں رفتہ رفتہ لوگوں کو احساس دلا رہی ہیں کانگریس کے زمانے میں کتنے ایکٹروں نے، صحافیوں، دانشوروں نے شاعروں نے اسکالرز نے خواتین نے اور کتنے لوگوں نے جو ہندو تھے انہوں نے کہا کہ ہم کھائیں گے گائے کا گوشت لیکن اس کے باوجود یہ دیکھئے کہ ہندو سٹیٹ ہے اس نے ان کو اجازت نہیں دی۔ ہندو مذہب کمزور ہو رہا ہے وہ اس سے مضبوط نہیں ہوا ہے۔ اب انڈیا دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے ایک وہ انڈیا جو زبردستی اپنے آپ کو ایک ہندو سٹیٹ کہلا رہا ہے اور دوسرا وہ انڈیا جس کے تار و لوگ رہنے والے جو ہیں خود وہاں کے سرکاری پالیسیوں سے متفق نہیں ہیں وہ نہیں چاہتے وہ گائے کا گوشت کھانا چاہتے ہیں۔ وہ وہاں پاکستان کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں وہ وہاں فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں وہ وہاں فلمیں بنانا چاہتے ہیں۔ اس طرح انڈیا کی تنگ نظری اور تعصب شکست کھا رہا ہے۔امریکہ ایران سے مذاکرات کی پیش کش کر رہا ہے اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ پہلے تو اندازہ یہی تھا کہ ٹرمپ اپنی فطری جلد بازی کی وجہ سے جلدی اعلان جنگ کر دیں گے لیکن وقت نے انہیں تھوڑا سا کچھ سوچ سمجھ کر کام کرنے کا انداز سکھایا ہے البتہ اس میں شبہ نہیں ہے کہ وہ ایران پر وہ بہت زیادہ پابندیاں لگائیں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہاں یہ بحث چل رہی ہے یہ بحث پچھلے چیف جسٹس کے دور میں شروع ہوئی تھی۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں دیکھئے ایجنسیاں جو ہیں وہ ڈیزائننگ کرتی ہیں اور اشتہارات کو خوبصورت بناتی ہیں لیکن اشتہارات کے پیسے ان کو دے دیئے جاتے ہیں اور وہ 85 فیصد کی مالک بھی وہ ایجنسی بن جاتی ہے ہم یہ کہہ رہے ہیں اور فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے کہ بھی کہا ہے کہ ہم اس بات پر قائم ہیں ہم جو اخبار کا حصہ ہے وہ اخبار کو براہ راست دے دیا جائے اور 15 فیصد جو ایڈورٹائزنگ ہے ماڈلز کا اس کا ان کو دے دیا جائے۔ اگر یہ ہو گیا ہو تو بہت اچھا ہو گا۔ایڈیٹر خبریں اور سی پی این ای کے سینئر نائب صدر امتنان شاہد بھی اجلاس میں شریک تھے انہوں نے بھی مسائل کے حوالے سے گزارشات پیش کیں تمام گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ زیادہ بہتر ہو گا کہ 85:15 کے تناسب سے بزنس کیا جائے، اس سے بڑا فائدہ ہو گا۔ میرے پاس صرف ایک ایجنسی کے ساڑھے چھ کروڑ روپے کے چیک ہیں جو دستخط شدہ ہونے کے باوجود کیش نہیں ہو رہے ہم کس کے پاس دادرسی کے لئے جائیں۔ دوسری جانب اخباری ورکرز سمیت تمام ملازم بھی یہ بات کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کے پیسے ادا کئے جائیں۔ پیسے نہ ملنے سے جاری سرکل رک جاتا ہے جس سے بڑے مسائل سامنے آتے ہیں حکومت کو چاہئے کہ تمام واجبات ادا کر دے۔ سی پی این ای نے سندھ حکومت پر بھی کیس کر رکھا ہے کہ وہاں کے تمام اخبارات کے سرکاری اشتہارات کے پیسے وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم سے لے کر اخبارات کو ادا کئے جائیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو بروقت ادائیگیاں کرتے ہیں تاہم ان کی تعداد بہت کم ہے۔اے پی سی میں جماعت اسلامی کے علاوہ تمام اپوزیشن جماعتیں شریک ہو رہی ہیں تاہم دیکھنا ہے کہ عین وقت پر کون پیچھے ہٹتا ہے کیونکہ ان کے دل ملے ہوئے نہیں ہیں۔ اپوزیشن کو احتجاج کرنے یا حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کا حق حاصل ہے دوسری جانب حکومت کو بھی حق حاصل ہے کو زیادہ سے زیادہ ارکان کو ساتھ ملائے۔ اب تک تو حکومت کے پاس 21,22 ارکان زیادہ ہیں۔ شہباز شریف کے خلاف 3 ارب کی منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس آ رہے ہیں۔ 5 جولائی کو نیب لاہور میں ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی تو مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ دوسری شادی کے لئے مصالحتی کمیٹی کی اجازت ضروری قرار دینے کے معاملہ پر سینئر صحافی نے کہا کہ یہ شرعی فیصلے ہیں جو کچھ طے ہو جائے اس پر عملدرآمد ضروری ہے۔
کرکٹ کے پرانے ’دشمن‘ آج لارڈز میں ٹکرائیں گے
لندن: (ویب ڈیسک) انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ورلڈ کپ میچ آج کھیلا جائے گا۔فیورٹ انگلینڈ نے ورلڈ کپ مہم کا آغاز 5 میں سے 4 میچز میں کامیابی سے کیا، اس دوران اسے صرف پاکستان کے ہاتھوں شکست ہوئی تاہم گذشتہ جمعے کو سری لنکا سے 20رنز کی حیران کن ناکامی نے میزبان سائیڈ کو تھوڑا سا گھبرانے پر مجبور کردیا ہے، وہ اب ایونٹ کے مشکل ترین مرحلے میں داخل ہورہی ہے جہاں پر مقابلہ مضبوط ترین ٹیموں سے ہونا ہے، اس کا آغاز آسٹریلیا کیخلاف میچ سے ہوگاجس میں لازمی فتح درکار ہے۔جیسن روئے ہیمسٹرنگ انجری کے باعث بدستور سائیڈ لائن ہیں، ٹاپ آرڈر پر ان کی کمی ٹیم کو محسوس ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب آسٹریلیاکی فتوحات میں ان فارم اوپنرز اور اسٹرائیک بولرز اہم کردار ادا کررہے ہیں، کینگروز 6 میں سے 5 میچز جیت چکے، مارکس اسٹوئنس کی واپسی نے ٹیم کو مزید متوازن کیا ہے، آل راو¿نڈر نے بنگلہ دیش کے خلاف گذشتہ میچ میں 54 رنز کے عوض 2 وکٹیں بھی لی تھیں۔باہمی مقابلوں میں آسٹریلیا کا پلڑہ بھاری تاہم میزبان سائیڈ کو حالیہ عرصے میں حریف پر بہرحال تھوڑی سی برتری حاصل ہے جو اس کے خلاف گذشتہ 10 میں سے 9 میچز جیت چکی ہے، اسی لیے کینگروز اب حساب کتاب چکتا کرنا چاہتے ہیں۔ انگلش توقعات کا محور جوز بٹلر ہوں گے جنھوں نے آسٹریلیا کے خلاف آخری میچ میں 110 رنز کی فتح گر ناقابل شکست اننگز کھیلی تھی۔دوسری جانب آسٹریلیا کو اپنے ان فارم کپتان ایرون فنچ سے بہتر کارکردگی کی توقع ہے، وہ اب تک 6 میچز میں 396 رنز بناچکے ہیں، ڈیوڈ وارنر بھی اچھی فارم میں ہیں۔ منگل کو دن کا آغاز آسمان پر بادلوں کی موجودگی سے ہوگا بعد میں موسلادھار بارش بھی ہوسکتی ہے،اس وجہ سے مقابلے کے تاخیر سے شروع ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔لارڈز میں گذشتہ 4 میں سے 3 میچز میں پہلے بیٹنگ کرنے والی سائیڈز کو فتح حاصل ہوئی،اسی لیے ٹاس کا کردار اہم ہوگا۔
مکی آرتھر حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار، صحافی کو منفی سوچ کا طعنہ دیدیا
لاہور: (ویب ڈیسک)ایک فتح حاصل ہوتے ہی مکی آرتھر حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہوگئے۔جنوبی افریقہ کیخلاف میچ میں پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کو سوال کا درست جواب دینے کے بجائے منفی سوچ رکھنے کا طعنہ دیدیا۔ صحافی کا سوال تھا کہ حارث سہیل اچھا کھیلے لیکن 30 ویں اوور کے بعد بیٹنگ کیلیے آئے،60 سے 70 منٹ تک کھیلتے ہی وہ تھکاوٹ کا شکار نظر آئے، اگر ایسا نہ ہوتا تو سنچری بھی مکمل کر سکتے تھے، اسی وجہ سے پاکستان آخری 3 اوورز میں صرف 20 رنز بنا سکا، کیا ان میں اسٹیمنا کی کمی تھی؟مکی آرتھر نے جواب میں کہا کہ حارث سہیل نے ایک بہترین اننگز کھیلی، انھوں نے صرف 59 گیندوں پر 80 رنز بنائے، کیا ایسا ہی ہوا ہے؟آپ ہمارے کھلاڑیوں کے بارے میں ہمیشہ منفی بات کیوں کرتے ہیں،کیوں نہ ایک تبدیلی کے طور پر اس بار مثبت ہی لکھ دیں۔
سلیکٹڈ وزیراعظم کا نعرہ لگانے والے بتائیں انہیں کس نے سلیکٹ کرکے حکومت میں بھیجا تھا: طارق ممتاز ، اپوزیشن خاص طرح کا ماحول بنارہی ہے کہ میثاق معیشت کے معاملات سیدھے کرلئے جائیں:اشرف عاصمی ، حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے اے پی سی کی تیاریاں ہورہی ہیں:میاں حبیب ، قطر کی تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے فائدہ ہوگا مقامی سرمایہ کاری کیلئے مثال بنے گی: شاہد اقبال ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار“ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار طارق ممتاز نے کہا ہے کہ ادارے جب تک سختی نہ کرینگے کوئی ریکوری نہیں ہوگی۔ فریال تالپور سے کوئی ریکوری نہیں ہوئی اور مزید ریمانڈ دیدیا گیا۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو سب دھمکایا جارہا ہے کہ سڑکوں پر نکل آئینگے۔ مریم نواز جھوٹ بولتی ہیں آج ان کو ریلیف مل جائے تو سب معاملات ٹھیک ہوجائینگے۔ آج بھی 1977کی طرح نو ستارے جمع ہوگئے ہیں اور ملک میں افراتفری پھیلا کر مفادات کا دفاع چاہتے ہیں سلیکٹڈ وزیراعظم نعرہ لگانے والے یہ تو بتائیں کہ ان کو کسی نے سلیکٹ کرکے حکومت میں بھیجا تھا۔ بھارت میں انتہا پسند ہندو کسی اور اقلیت کو وہاں نہیں دیکھنا چاہتے ہائی کورٹ نے دوسری نشاندہی کے حوالے سے جو حکم جاری کیا ایوب خان نے بھی ثالثی کونسل کا ایسا ہی قانون بنایا تھا۔ تجزیہ کار اشرف عاصمی نے کہا کہ فریال تالپور سے شواہد کے مطابق تحقیقات ہونگی۔ اپوزیشن کی جانب سے ایک خاص طرح کا ماحول بنایا جارہا ہے۔ کہ میثاق معیشت کرکے معاملات سیدھے کرلئے جائیں فضل الرحمان نے ہمیشہ بلیک میلنگ کی سیاست کی ہے اب بھی اے پی سی کے ذریعے حکومت کو بلیک میل کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں تاہم یہ ناکام ہونگے۔ قانون کے مطابق ایوان میں وزیراعظم کیلئے سلیکٹڈ کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہئے تاہم ہمارے یہاں ایوانوں میں کیا کیا ہوتا رہا ہے وہ بھی سامنے ہے، شہبازشریف اور مریم نواز نے اپنا اپنا محاذ سنبھال رکھا ہے صرف عوام کو بیوقوف بنایا جارہا ہے شریف خاندان میں اختلاف ہونا تو شہباز شریف لندن سے واپس نہ آتے۔ بھارت کا انتہا پسند ہندو سمجھتا ہے کہ بھارت ناکہ توڑا گیا اسی لئے مسلم دشمنی ترک کرنے کو تیار نہیں ہے وہاں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں ہے۔ تجزیہ کار شاہد اقبال بھٹی نے کہا کہ لوٹے گئے مال کو ریکور کرنا بہت مشکل ہے اپوزیشن دبا? ڈال رہی ہے پریشر گیم ہورہی ہے جس کا صرف معیشت اور عوام کو نقصان پہنچ رہا ہے قطر کی 3ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے فائدہ ہوگا۔ یہ مقامی سرمایہ کاروں کیلئے مثال بنے گی۔ قوم نے عمران خان کو تبدیلی کیلئے چنا ہے پارلیمنٹ میں اجلاس نہیں جلسے ہورہے ہیں 9دن میں 25کروڑ روپے ضائع کئے گئے بھارت میں جبری مذہب تبدیلی کی رپورٹ کا عالمی سطح پر سامنے آنا بہت اہم ہے پاکستان کو اسی پر آواز بلند کرنی چاہئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوسری شادی کے حوالے سے درست فیصلہ کیا ہے سینئر صحافی میاں حبیب نے کہا کہ دکھائی دے رہا ہے کہ مزید گرفتاریاں ہونے والی ہیں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے اے پی سی کی تیاریاں ہورہی ہیں قطر کا موجودہ حالات میں 3ارب ڈالر سرمایہ کاری کرنا خوش آئند ہے۔ معیشت میں بہتری آئیگی میڈیا پر نان ایشوز پر قوم کو الجھا دیا جاتا ہے ایوانوں میں جہاں سے عوام کو راستہ دکھانے اخلاقی اقدار کی باتیں ہونی چاہیئں صرف بڑھک بازی سنائی دیتی ہے۔ امریکہ نے جو رپورٹ شائع کی ہے اس کے ذریعے بھارت پر دبا? ڈالے گا۔ اسلام میں چار شادیوں کی اجازت دی گئی ہے تو اس کے پیچھے پورا ایک فلسفہ ہے۔ ہمیں اسلام کی اصل روح کو سمجھنا ہوگا۔
حارث سہیل کو ٹیم میں تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا جانے لگا
لندن: (ویب ڈیسک)حارث سہیل کو ٹیم میں تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا جانے لگا۔سابق کپتان و کوچ وقار یونس نے آئی سی سی کیلیے اپنے کالم میں تحریر کیا کہ جنوبی افریقہ سے میچ میں پاکستان نے بے خوف کرکٹ کھیلی، پلیئرز شکست کے بارے میں پریشان نہیں تھے، اسی چیز نے انھیں آزادی سے اپنا نیچرل گیم کھیلنے کا موقع فراہم کیا، اولڈ ٹریفورڈ میں مایوس کن کھیل کے بعد پاکستان کو اس فتح کی بہت سخت ضرورت تھی،کھلاڑیوں پر بہت زیادہ تنقید کی گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتہ ٹیم کیلیے بہت ہی سخت تھا، ایسے میں یہاں پر اچھی پرفارمنس پیش کرکے فتح سمیٹنا خاص طور پر خوش کن رہا، خاص طور پرحارث سہیل تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف حارث سہیل نے صرف 59 بالز پر فتح گر 89 رنز بناکر الیون میں جگہ پکی کرلی۔ انھوں نے بہت عمدگی سے بیٹنگ کی، ان کے 59 بالز پر 89 رنز واضح فرق ثابت ہوئے، یہ اس حارث سے مختلف تھے جنھیں میں پہلے کھیلتے ہوئے دیکھتا رہا۔وقار یونس نے کہا کہ میرے خیال میں وہ چوتھے نمبر پر بیٹنگ کیلیے زیادہ موزوں ہیں، تکنیکی طور پر مضبوط ہونے کی وجہ سے انھیں اننگز کو آگے بڑھانے کیلیے زیادہ اوورز دیے جا سکتے ہیں، ان کا اور بابر اعظم کا آپس میں تال میل اچھا اور دونوں کو ہی سنچریوں کی عادت ہے، وہ رن ریٹ کو بھی آگے بڑھاسکتے ہیں۔وقار یونس نے محمد عامر کے بارے میں کہا کہ باقاعدگی سے وکٹیں لینے کی وجہ سے فاسٹ بولر کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔
بھارت سے شکست کے بعد خودکشی کا سوچا تھا، مکی آرتھر
لنڈن :(ویب ڈیسک) پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا ہے کہ ورلڈکپ میں بھارت سے شکست کے بعد خودکشی کا بھی سوچا تھا۔جنوبی افریقا سے میچ کے بعد پریس کانفرنس کے دوران مکی آرتھر نے کہا کہ آسٹریلیا سے ناکامی کے بعد ہم بقا کی جنگ لڑ رہے تھے، بھارت سے میچ ہارگئے تو میں سخت دباو¿ میں تھا، وہ مشکل ہفتہ تھا، لوگوں کی توقعات اور میڈیا کی اسکروٹنی سے نمٹنا آسان کام نہیں ہوتا، میں نے اس وقت خود کشی کا بھی سوچا، کھلاڑی کئی دن تک سو بھی نہیں سکے۔دوسری جانب پاکستان ٹیم کے میڈیا منیجر رضا راشد نے کہا کہ مکی آرتھر نے خود کشی کا لفظ محاورے میں استعمال کیا، اس کا حقیقت سے کئی تعلق نہیں، ہیڈ کوچ نے اس کی وضاحت بھی کردی تھی۔
عالمی کپ ،کوئی پاکستانی بلے باز ٹاپ ٹین میں جگہ نہ بنا سکا
عالمی کپ 2019 میں تمام ٹیمیں تقریباً چھ، چھ میچ کھیل چکی ہیں تاہم اب تک کوئی بھی پاکستانی دس بڑے بلے بازوں کی فہرست میں جگہ نہیں بنا سکا۔قومی ٹیم کے سب سے کامیاب بلے باز بابر اعظم ہیں جنہوں نے پانچ میچز میں 47 کی اوسط سے 232 رنز اسکور کئے۔عالمی کپ میں اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں میں پہلا نمبر بنگلہ دیش کے آل راﺅنڈر شکیب الحسن کا ہے جنہوں نے چھ مچز میں 95 کی اوسط سے 476 رنز بنائے ہیں۔دوسرے نمبر پر آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر موجود ہیں جنہوں نے 89 کی اوسط سے 447 رنز بنائے ہیں۔424 رنز کے ساتھ انگلینڈ کے جو روٹ تیسرے نمبر پر موجود ہیں جن کی رنز بنانے کی اوسط 84 ہے۔پاکستان کی جانب سے بابر اعظم 232 رنز کے ساتھ 12ویں نمبر پر ہیں۔عالمی کپ میں گیند بازی کے شعبے کی بات کی جائے تو قومی ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر 15 وکٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔فہرست میں جوفرا آرچر اور مچل اسٹارک کی بھی 15، 15 وکٹیں ہی ہیں تاہم عامر کا اکانومی ریٹ دونوں سے بہتر ہے۔جنوبی افریقہ کے خلاف عامر نے ہاشم آملہ اور کپتان فاف ڈیوپلیسی کو آﺅٹ کیا، آسٹریلیا کے خلاف میچ میں وہ پانچ وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں۔شائقین امید کر رہے ہیں کہ عامر کی بولنگ فارم اسی طرح جاری رہے گی اور وہ آنے والے میچز میں بھی اسی طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔
پاکستانی طلبا نے گاڑیوں کے سائیڈ مرر چیک کرنے والا کم لاگت آلہ تیار کرلیا
کراچی(ویب ڈیسک) پاکستانی طالب علموں نے گاڑیوں کے اطراف میں نصب آئینے (سائیڈ مرِر) میں خامیاں تلاش کرنے والا خودکار نظام تیار کرلیا جس کی بعض ممالک میں قیمت 29 لاکھ روپے تک ہے تاہم طلبا نے اس محض ڈیڑھ لاکھ روپے میں تیار کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق اقرا یونیورسٹی کے طالب علم ابوطالب نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملک کر ’آٹومائزڈ مرِر ٹیسٹنگ مشین‘ تیار کی ہے جس سے خود کار طریقے سے گاڑیوں کے آئینوں کی خرابی کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ گاڑیوں کے شیشے دستی اور روایتی طریقے سے چیک کیے جاتے ہیں جس میں ایک آئینے کو دیکھنے میں ایک منٹ 30 سیکنڈ لگتے ہیں۔دوسری جانب طالب علموں کا بنایا ہوا جدید آلہ صرف 30 سیکنڈ میں یہ کام کرسکتا ہے، اگر اسے پاکستان بھر میں متعارف کرایا جائے تو اس سے وقت اور سرمائے کی بہت بچت ہوگی۔اقرا یونیورسٹی میں الیکٹرانک انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے ابوطالب، محمد شمشیر الرحمان اور ابوہریرہ محبوب نے صرف 9 ماہ میں اسے بنایا ہے، اس مشین میں آٹومیٹک اور مینول فنکشن رکھے گئے ہیں۔ اس طرح آٹومیٹک نظام میں کوئی مسئلہ ہو تو مینول طریقے سے کام ہوتا رہے اورآئینوں کی تیاری نہیں رکتی۔سال 2017ءمیں ایک نجی کار کمپنی میں انٹرن شپ کے دوران ابوطالب نے دیکھا کہ آٹومیٹک گاڑیوں کے شیشوں میں 10 کے قریب پارٹس اور پرزے لگتے ہیں اور اس

کے بعد آئینے کو ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ ابوطالب نے نوٹ کیا کہ مزدور کو آئینہ چیک کرنے میں کم سے کم ایک منٹ 10 سیکنڈ کا وقت لگ رہا ہے جس میں وہ جائزہ لیتا ہے کہ شیشہ تھریش ہڈ پر گھوم رہا ہے یا نہیں۔اسی کمی کو دیکھتے ہوئے ابوطالب نے ’آٹومائزڈ مِرر ٹیسٹنگ مشین‘ بنائی جو آئینے کے ہر حصے یا پارٹ میں ہونے والی خرابی کا پتا لگاسکتی ہے۔ اس مشین میں کم خرچ سینسر استعمال کیے گئے ہیں۔ بعض ممالک میں یہ مشین استعمال کی جارہی ہے جس کی قیمت 29 لاکھ روپے ہے لیکن ابوطالب کی تخلیق پر صرف ڈیڑھ لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔اس طرح روایتی طریقے سے ایک شفٹ میں 400 شیشے چیک ہوکر نکل رہے ہیں تو اس مشین سے 800 شیشے چیک کیے جاسکتے ہیں۔ اس پروجیکٹ کو رواں سال تھائی لینڈ کی اسٹیمفورڈ انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ہونے والے ایک مقابلے میں بھی پیش کیا جائے گا جہاں اس بھرپور پذیرائی کا واضح امکان ہے۔


















