بھاری فیسیں وصول کرنے والے ڈاکٹروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ

کراچی:(ویب ڈیسک) ایف بی آر نے بھاری فیسیں وصول کرنے والے ڈاکٹروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کرلیا۔ایکسپریس کے مطابق ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کے براڈننگ ٹیکس بیس سیل نے بھاری فیسیں وصول کرنے والے ڈاکٹروں کو بھی اپنے ریڈار پر لے لیا، چھوٹے بڑے تاجروں ایس ایم ای سیکٹر کے ساتھ اب قابل ٹیکس آمدنی کے حامل پیشہ ورانہ شعبوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا جن میں ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔ریجنل ٹیکس آفس ٹو کے براڈننگ ٹیکس سیل نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو خط ارسال کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر کے ڈیٹا کے مطابق پی ایم ڈی سی کے بیشتر ممبرز ڈاکٹرز گوشوارے داخل نہیں کر رہے۔ایف بی آر نے پی ایم ڈی سی سے 10 یوم میں ممبر ڈاکٹرز کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ پی ایم ڈی سی کے رکن ڈاکٹرنکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت گوشوارے داخل کرنے کے پابند ہیں

پاکستان کی نا قا بل شکست نیوزی لینڈ سے پنجہ آزمائی

برمنگھم: (ویب ڈیسک)گرین شرٹس کو سیمی فائنل تک رسائی کی راہ میں حائل 3 دیواروں میں سے پہلی گرانے کے لئے آج ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑے گا۔ورلڈکپ مہم کے آغاز میں ویسٹ انڈین بولرز کے سامنے صرف 105رنز پر ڈھیر ہونے والی پاکستان ٹیم نے کم بیک کرتے ہوئے عالمی نمبر ون انگلینڈ کو زیر کیا، سری لنکا کیخلاف میچ بارش کی نذر ہونے پر دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ ملا،آسٹریلیا اور بھارت کے ہاتھوں شکستوں کے بعد گرین شرٹس کا میگا ایونٹ میں سفر تمام ہوتا نظر آرہا تھا، مگر ناقابل یقین کارکردگی دکھانے کیلیے مشہور ٹیم نے ایک بار پھر کم بیک کیا اور پروٹیز کو زیر کرتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں برقرار رکھیں، پاکستان کو اب اگلے تینوں میچز جیتنے کے ساتھ دیگر مقابلوں کے نتائج اپنے حق میں ہونے کی دعا بھی کرنا ہے، ٹیم کو آج برمنگھم میں ایونٹ میں اب تک ناقابل شکست نیوزی لینڈ کا چیلنج درپیش ہوگا۔کپتان سرفراز احمد کیلیے تشویش کی سب سے بڑی بات ناقص فیلڈنگ ہے، ابھی تک 14اور صرف جنوبی افریقہ کیخلاف میچ میں 6کیچز ڈراپ کرنے والے گرین شرٹس نے کیویز کو بھی اسی طرح کے مواقع دیے تو بولرز کیلیے رنز کا سیلاب روکنا مشکل ہوجائے گا۔نیوزی لینڈ کی ٹیم ابھی تک مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناقابل شکست رہی ہے، آسان فتوحات ہوں یا مشکل کین ولیمسن قیادت کا حق ادا کرتے ہوئے مشن مکمل کرنے کی ذمہ داری اٹھاتے رہے، روس ٹیلر کا بیٹ بھی چل رہا ہے، کولن ڈی گرینڈ ہوم نے ٹیم کی ضرورت کے مطابق ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے، جمی نیشم بھی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں، دونوں آل راو¿نڈرز بولنگ سے بھی حریفوں کو پریشان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اوپنرز کولن منرو اور مارٹن گپٹل کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں، پاکستان ابتدائی وکٹیں جلد حاصل کرنے کا خواب دیکھ سکتا ہے لیکن اس کے بعد کین ولیمسن اور روس ٹیلر جیسی دیواریں بھی گرانا ہوں گی، ٹرینٹ بولٹ، لوکی فرگوسن اور میٹ ہینری کی برق رفتار بولنگ بھی گرین شرٹس کا حوصلہ آزمائے گی۔میچ کے دوران بارش کی مداخلت کا امکان کم ہے، افق پر منڈلاتے بادل اور ہوائیں پیسرز کو سوئنگ کیلیے سازگار ماحول فراہم کریں گی، خاص طور پر محمد عامر اور ٹرینٹ بولٹ کو آئیڈیل کنڈیشز میسر آئیں گی، پاکستان کیخلاف سلواوور ریٹ ہوا توکیوی کپتان ولیمسن کو ایک میچ کی معطلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ملالہ یوسفزئی کا پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

آکسفورڈ: (ویب ڈیسک)نوبل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کردیا۔تفصیلات کے مطابق کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں قومی ٹیم آج نیوزی لینڈ کے خلاف بقا کی جنگ لڑے گی، میچ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے شروع ہوگا۔ملالہ یوسفزئی کا اے آر وائی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایونٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے آغاز نے مایوس کیا تھا، تاہم جنوبی افریقہ سے فتح کے بعد ایک بار پھر قومی ٹیم کے لیے امیدیں جاگ چکی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ سے جیت نے اگلے مرحلے میں پہنچنے کی امید پیدا کردی، قومی ٹیم کی فتح ہمارے لیے قابل فخر ہے۔قومی ٹیم کو ورلڈ کپ کا سیمی فائنل کھیلنا ہے تو آج نیوزی لینڈ کے خلاف لازمی کامیابی حاصل کرنا ہوگی، دونوں ٹیمیں ورلڈ کپ میں 8 بار مدمقابل آچکی ہیں جن میں سے پاکستان نے 6 اور نیوزی لینڈ نے صرف دو میچز میں کامیابی حاصل کی ہے۔قومی ٹیم کے پاس یہ آخری موقع ہے، فیلڈنگ میں بھی جان مارنا ہوگی، کیچز بھی پکڑنے ہوں گے، بولرز نے وکٹیں اڑانا ہوگی اور بلے بازوں کو بھی وکٹ پر رکنا پڑے گا۔امکان ہے کہ قومی ٹیم اہم میچ میں دو اسپنرز کے ساتھ میدان میں اترے گی، تجزیہ کاروں کے مطابق میگاایونٹ کی ناقابل شکست ٹیم میں اگر قومی ٹیم نے ہرانا ہے تو کیوی کپتان ولیم سن اور تجربہ کار بلے باز راس ٹیلر کو جلد آو¿ٹ کرنا ہوگا۔

 

اربوں سال میں تخلیق شدہ زمین انسانی ترقی کی زد پر

لاہور (ویب ڈیسک)ہم کئی نسلوں سے اس زمین پر آباد ہیں، ہم روز بروز ہوتی ترقی کی بدولت اپنے پڑوسی سیاروں اور اپنے نظام شمسی سے باہر کے حالات بھی کچھ نہ کچھ جانتے رہتے ہیں لیکن ان پر غور کرنے کا وقت ہمیں بہت کم ملتا ہے۔آئیں آج ہم اپنے اس گھر یعنی زمین اور کائنات کے بارے میں جانتے ہیں۔ہماری کائنات ایک بہت بڑے دھماکے جسے بگ بینگ کہا جاتا ہے، کے نتیجے میں 13 ارب 80 کروڑ سال قبل وجود میں آئی۔ کائنات ابتدا میں بہت سادہ تھی۔ یہاں کچھ ہائیڈروجن اور ہیلیئم گیسیں موجود تھیں جبکہ بہت ساری توانائی بھی موجود تھی۔اس وقت کائنات میں ستارے، کہکہشائیں اور سیارے موجود نہیں تھے جبکہ کسی جاندار کا بھی وجود نہیں تھا۔کچھ وقت بعد کائنات میں کچھ پیچیدہ اجسام ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ کائنات میں پہلی بار ستارے اور کہکہشاں بگ بینگ کے 20 کروڑ سال بعد نمودار ہوئے۔کچھ بڑے ستارے بنے اور پھر ختم ہوگئے، یہ دھماکے سے پھٹے اور اس دھماکے سے نئے اجسام وجود میں آئے۔ ان اجسام نے مزید نئے عناصر کو جنم دیا جیسے مٹی، برف، پتھر اور معدنیات۔ پھر ان عناصر سے سیارے بننا شروع ہوئے۔ہمارا سورج اور نظام شمسی ساڑھے 4 ارب سال قبل نمودار ہوا۔4 ارب سال قبل زمین پر زندگی نے جنم لیا۔ اس زندگی کا ارتقا ہونا شروع ہوا مگر تب بھی زیادہ تر جاندار بہت چھوٹے اور یک خلیائی (ایک خلیے پر مشتمل) تھے۔ 1 ارب سال قبل پہلی بار کثیر خلیائی (بہت سارے خلیوں پر مشتمل) زندگی نے جنم لیا۔50 کروڑ سال قبل زمین پر بڑے اجسام عام ہوگئے تھے جیسے درخت یا ٹائرنا سارس۔ ان سب میں انسان جدید ترین مخلوق ہے۔ انسان کا ظہور صرف 2 لاکھ سال قبل اس زمین ہوا۔انسان کی آمد اس زمین پر

ایک اہم واقعہ تھی، کیونکہ انسان اس سے قبل آنے والی تمام مخلوق سے منفرد اور بہتر تھا۔ انسان نے اپنے آس پاس کی معلومات اور اپنے خیالات کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنا شروع کیا جس سے آنے والی نسلیں پرمغز ہونا شروع ہوئیں۔اب، صرف چند سو سال میں انسان نے اس قدر ترقی کرلی ہے کہ پورے کرہ ارض اور اس میں بسنے والے تمام جانداروں کا مستقبل اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔بے تحاشہ ترقی، ٹیکنالوجی اور دولت سے انسان موسموں کا رنگ، دریاﺅں اور ہواﺅں کا رخ تک بدلنے پر قادر ہوگیا ہے اور اس جنون میں اپنے ہی گھر کو نقصان پہنچانا شروع ہوگیا ہے۔ماہرین کے مطابق صرف اگلے چند سال میں انسان کی ترقی اس بات کا تعین کرلے گی کہ آیا یہ کرہ ارض اور اس پر موجود جاندار صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے یا اگلے کئی لاکھ سال تک موجود رہیں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اربوں سال میں پہلی بار ایسا ہوا کہ تمام سیارے کی مخلوق کی بقا، ایک مخلوق (انسان) کی مرہون منت ہے۔ اس بقا کی جنگ لڑنا ایک بڑا چیلنج ہے اور یہ چیلنج 4 ارب سال میں ایک ہی بار درپیش ہے۔

خاتون منیجر کو ایموجی بھیجنے پر ملازم نوکری سے برخاست

بیجنگ(ویب ڈیسک) چین میں اپنی خاتون منیجر کو ایموجی بھیجنے والے ملازم کو نوکری سے برخاست کردیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ایموجیز ہوتے ہیں جو آپ کے موڈ کو ظاہر کرتے ہیں تاہم مرکزی چین میں کمپنی ملازم کو اپنی باس کو ’اوکے‘ ایموجی بھیجنا مہنگا پڑ گیا اور اسے نوکری سے برخاست کردیا گیا۔چین کے صوبے چانگشا میں وی چیٹ گروپ پر خاتون منیجر نے گزشتہ ہفتے ملازم کو چند اہم دستاویز بھیجیں جس کے جواب میں اس نے ’اوکے‘ کا ایموجی بنا کر بھیج دیا۔ملازم کی جانب سے ایموجی بھیجے جانے پر خاتون منیجر نے اسے نوکری سے برخاست کردیا۔خاتون منیجر اور ملازم کے درمیان ہونے والی گفتگو کے میسجز سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ویبو‘ پر وائرل ہوگئے جس پر صارفین کے 280 ملین ویوز آچکے ہیں۔کمپنی کی خاتون منیجر نے کہا کہ آپ کو رولز کا پتا نہیں ہے کہ کس طرح لکھ کر جواب دیا جاتا ہے آپ نے ایموجی بنا کر بھیج دی، میں نے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ میں آپ کو برخاست کرنے کا کہہ دیا ہے۔ملازم کا کہنا تھا کہ میں اس کمپنی میں کافی عرصے سے خدمات انجام دے رہا ہوں، یہ میرے لیے حیرت انگیز ہے کہ تاہم میں نے انہیں مزید کوئی جواب نہیں دیا۔رین مین بزنس اسکول کی پروفیسر وینگ لی پنگ نے کہا کہ کسی ملازم کو نوکری سے نکالنے کا یہ صوابدیدی اختیار ہے تاہم چھوٹی کمپنیاں اس طرح کے رولز کو فالو نہیں کرتی ہیں۔واضح رہے کہ رواں ماہ چین میں اسی طرح کا ایک اور واقعہ سامنے آیا تھا جب ملازم نے آن لائن چیٹ کے دوران سوال کے جواب میں ’ام‘ لکھا تھا۔

انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں معمولی کمی

کراچی(ویب ڈیسک) انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ہوئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی کرنسی کے قیمت میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوئی۔کاروباری ہفتے کے دوسرے روز انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 1 پیسے کی کمی ہوگئی جس کے نتیجے میں ڈالر 156.98 روپے کا ہوگیا۔ ادھر اوپن مارکیٹ میں امریکی کرنسی کی قیمت میں استحکام رہا۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 156 روپے 90 پیسے پر مستحکم رہی۔واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ڈالر 10 روپے سے زیادہ مہنگا ہوا ہے جس کے باعث پاکستان پر غیرملکی قرضوں کے حجم میں ایک ہزار ارب روپے سے زائد اضافہ ہوگیا ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔

’خدشہ تھا اردوان نواز شریف کی حمایت کریں گے‘

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نواز کے تاحیات قائد نواز شریف کے بیٹے نے ایک ’بادشاہ‘ کو فون کرکے کہا کے ہمارے والد کے لیے سفارش کریں تاہم انہوں نے انکار کردیا۔ذرائع نے وزیراعظم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اطلاع ہے کہ شریف خاندان کے بچوں میں سے کسی نے عرب ملک کے سربراہ سے رابطہ کیا۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں انہوں نے کہا کہ عرب ملک کے سربراہ نے منع کرتے ہوئے کہا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے کہا کہ انہیں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے نواز شریف کی حمایت کا خدشہ تھا تاہم ان سے ملاقات میں اس متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔اس موقع پر وزیراعظم نے ایک بار پھر اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔وزیراعظم کی صدارت میں تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی کے ساتھ سینیٹرز کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔اجلاس میں بجٹ کی منظوری کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں بجٹ منظور کرانے کی حکمت عملی طے کرنے کے حوالے سے مشاورت بھی کی گئی۔یاد رہے کہ قومی اسمبلی آج بجٹ پر بحث مکمل کر لے گی،بجٹ پر اب تک 45 گھنٹے سے زائد بحث کی جاچکی ہے۔434 کھرب 77 ارب روپے سے زائد کے لازمی اخراجات منظوری کے لئے ایوان میں پیش کیے جائیں گے۔حکومت کی جانب سے بجٹ پر عام بحث کو سمیٹا جائے گا۔ملکی قرض کی ادائیگی کے لیے بجٹ میں 391 کھرب روپے کی منظوری لی جائے گی۔ایوان صدر ،سینیٹ، قومی اسمبلی سمیت مختلف آئینی اداروں کے لازمی اخراجات کی تفصیلات بھی ایوان میں پیش کی جائیں گی۔واضح رہے کہ پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ )نے 171 بجٹ سفارشات میں سے 154 متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے قومی اسمبلی کو بھجوا دیں۔تنخواہ اور پنشن کی مد میں 15% اضافے، گریڈ 16 تک کے ملازمین کی تنخواہ میں 20 فیصد اضافہ اور 6 کی بجائے دس لاکھ روپے تک تنخواہ کو اِنکم ٹیکس سلیب سے مستنثی قرار دینے کی سفارشات بھی شامل ہیں۔گزشتہ شام سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے مالیاتی بل 2019ءپرخزانہ کمیٹی کی سفارشات پیش کیں جنہیں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ایوان بالا میں پیش کی گئیں سفارشات میں گریڈ 17 تک کے وفاقی ملازمین کے لئے 10% فیصد ایڈہاک ریلیف ، گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین کے لئے 20% ایڈہاک ریلیف دینے کی سفارش کی گئی ہے

فواد چوہدری اور بلاول بھٹو کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی وزیر فواد چوہدری کے مابین دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ سیاست میں کوئی بھی مستقل طور پر دشمن یا دوست نہیں ہوتا، ماضی میں ایک ہی جماعت میں رہ کر مخالفین پر تنقید کرنے والے آج ایک دوسرے کے خلاف بیانات دیتے نظر آتے ہیں تاہم جب ماضی کے رفقا کی اچانک ملاقات ہوجائے تو یقیناً تلخیاں پس پشت ڈال دی جاتی ہیں۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے باہر بھی ایسا ہی منظر دیکھنے میں آیا جب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی سر راہ ملاقات ہوگئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو اور فواد چوہدری کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، بلاول بھٹو نے وفاقی وزیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا میرے بھائی کہاں بھاگ رہے ہو؟ جس پر فواد چوہدری نے جواب دیا کہ میں آپ کے لیے راستہ صاف کر رہا ہوں۔دونوں کے درمیان ہونے والے مکالمہ بازی سے دیگر افراد بھی لطف اندوز ہوئے جب کہ بلاول بھٹو اور فواد چوہدری ایک دوسرے سے گلے ملے اور مسکراتے ہوئے ایک دوسرے سے خیریت دریافت کی۔

یہ 5 پھل کھائیے، خود کو گنج پن سے بچائیے

لندن(ویب ڈیسک) بالوں کے ایک ماہر کے مطابق اگر آپ کے بال تیزی سے گررہے ہیں تو پانچ ایسے پھل اس عمل کو سست کرسکتے ہیں جو خشکی سے بچاتے ہیں اور بالوں موٹا کرتے ہیں۔ یہ تمام پھل اب پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔بالوں کے بین الاقوامی ماہر ڈاکٹر بشر بزرا کہتے ہیں کہ اگرچہ مردوزن میں بالوں کے گرنے کی سب سے بڑی وجہ موروثی یا جینیاتی ہے لیکن اس سے ہٹ کر اگر بال تیزی سے گررہے ہوں تو پپیتے، انناس، سیب ، کیوی اور آڑو میں موجود قدرتی اجزا بالوں کو باریک اور کمزور ہونے سے روکتے ہیں۔سیب سر کی خشکی کو ختم کرتا ہے جبکہ آڑو بال گرنے اور انہیں باریک ہونے سے بچاتے ہیں۔ اسی طرح انناس، کیوی اور پپیتہ کھانا بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ بالوں کی جڑ سمیت مسام والے حصے کو غذائیت دینے میں یہ پھل بہت مفید ہیں اور اس طرح بالوں کو جڑوں سے مضبوط بناتے ہیں۔ڈاکٹر بشر کے مطابق سرخ گوشت، مچھلی، پھلیاں، انڈے اور دودھ کے مصنوعات میں موجود بعض امائنو ایسڈز جلد کے پروٹین کولاجن کو صحت مند حالت میں رکھتے ہیں۔ لیکن یہ امائنو ایسڈ اس وقت اپنا اثر دکھاتے ہیں جب ان کے ساتھ وٹامن سی کا استعمال کیا جائے جو امائنو ایسڈ کو بدن کا جزو بناتا ہے۔

پپیتہ
یہاں پپیتہ وٹامن سی کا خزانہ ثابت ہوتا ہے۔ ایک بڑے پپیتے میں 235 ملی گرام وٹامن سی پایا جاتا ہے جس کی مقدار دو نارنجیوں کے برابر ہوتی ہے۔

انناس
انناس میں فری ریڈیکلز کو کم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس میں وٹامن بی 6، مینگانیز اور وٹامن سی بھرپور ہوتا ہے۔ یہ تمام اشیا بزرگ اور عمررسیدہ افراد کے سر میں بالوں جڑوں کو مضبوط بناتی ہیں۔

آڑو
ڈاکٹر بشر کے مطابق بالوں کی صحت کھوپڑی میں نمی سے وابستہ ہے اور اسی لیے لوگ ہزاروں برس سے سر میں تیل ڈالتے آرہے ہیں۔ تاہم قدرت نے بالوں کی جڑوں میں ایک قدرتی روغن سیبم بھی رکھا ہے جو بالوں کو نم اور چکنا رکھتا ہے لیکن سیبم کم ہوجائے تو بال متاثر ہونا شروع ہوجاتےہیں۔ یہاں آڑو اس کمی کو بورا کرتے ہیں کیونکہ ان میں وٹامن اے اور سی موجود ہوتا ہے۔ یہ دونوں قدرتی موئسچرائزر ہیں۔


کیوی
کیوی پھل اب پاکستان میں بکثرت دستیاب ہے۔ اس میں کئی طرح کے وٹامن اور فلے وی نوئڈز، اینٹی آکسیڈنٹ، اور بی ٹا کیروٹین کے علاوہ ، لیوٹائن اور زینتھن پائے جاتے ہیں۔ یہ سب ملکر جلد اور بالوں کو نمدار بناتے ہیں۔کیوی میں زنک ، فاسفورس اور میگنیشیئم بھرپور موجود ہوتا ہے جو سر میں خون کے دوران کو بہتر بناتے ہیں اور بالوں کی تیز نشوونما ہوتی ہے۔


سیب
وٹامن اے ، بی اور سی سیب میں خوب موجود ہوتا ہے۔ یہ سب مل کر جلد کو نمودار اور خشکی سے پاک رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اینٹی آکسیڈنٹس خلوی سطح تک ٹوٹ پھوٹ کو روکتے ہیں۔2002 میں جاپانی تحقیق سے ثابت ہوا تھا کہ سیب کے بعض اجزا نکال کر ان کا استعمال کیا جائے تو اس سے بالوں کی دوبارہ افزائش شروع ہوجاتی ہے۔

مسلم لیگ نون میں اختلافات بڑھنے لگے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مسلم لیگ نون میں اختلافات نے شدت اختیار کر لی۔ پارٹی میں مریم نواز کو اہمیت دی جانے لگی۔ پارٹی صدر کے ہوتے ہوئے فیصلے نائب صدر کر چلنے لگے۔مسلم لیگ نون میں اختلافات اب کھل کر سامنے آنے لگ گئے۔ پارٹی صدر شہباز شریف اور نائب صدر مریم نواز کے بیانات ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے جبکہ پارٹی میں مریم نواز کے بیانات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔شہباز شریف اور مریم نواز کے بیانیہ میں واضح فرق نے پارٹی میں اختلافات کو ہوا دے دی۔ پارٹی میں شہباز شریف کی گفتگو کو رائے اور مریم نواز شریف کی گفتگو کو بیانیہ قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر شہباز شریف کی گرفت کمزور ہو رہی ہے جبکہ جنوبی پنجاب سے چند پارٹی رہنما بھی شہباز شریف سے اختلاف کر رہے ہیں۔ شہباز شریف چاہتے ہیں کہ تمام اداروں کو ساتھ لے کر چلا جائے لیکن مریم نواز انتخابات کے لیے کارکنان کے ساتھ جلسوں کی تیاریاں کر رہی ہیں۔مسلم لیگ نون نے خود شہباز شریف کے میثاقِ معیشت کو مسترد کر دیا، میثاق معیشت پر مریم نواز اور شہباز شریف کے درمیان اختلافات واضع ہیں کیونکہ شہباز شریف کسی قسم کی مزاحمت نہیں چاہتے لیکن مریم نواز کا گروپ حکومت کے خلاف سخت تحریک چلانا چاہتا ہے۔سینٹ چیئرمین کی تبدیلی سے متعلق بھی پارٹی میں اختلاف سامنے آ رہا ہے اور آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شہباز شریف کی شرکت مشکوک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز کی گرفتاری کے بعد شہباز شریف ملکی اداروں کے ساتھ پارٹی معاملات بہتر کرنا چاہتے ہیں لیکن مریم نواز کا سخت بیانیہ اور حکومت کے خلاف جلسے شہباز شریف کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

امریکا کی ایران کے روحانی پیشوا سمیت اعلیٰ فوجی عہدیداروں پر پابندیاں

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکا نے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای سمیت اعلی فوجی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کردیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر پابندیوں کے سلسلے کی سب سے سخت اور کڑی پابندی کے دستاویز پر اوول دفتر میں دستخط کردیئے، اس موقع پر صدر نے کہا کہ تازہ پابندیاں ایران کی جارحیت کا منہ توڑ جواب ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ تازہ سفری و اقتصادی پابندیاں ایران کے روحانی پیشوا خامنہ ای سمیت چند سیاست دانوں اور پاسداران انقلاب کے کمانڈرز پرعائد کی گئی ہیں کیوں کہ یہ سب امریکی ڈرون گرائے جانے کے ذمہ داروں میں شامل ہیں۔امریکا کی تازہ پابندیوں کی زد میں معتدل مزاج وزیر خارجہ جواد ظریف بھی آگئے ہیں جس کی بنیادی وجہ جواد ظریف کا 2015 میں طے پانے والے عالمی جوہری معاہدے کے ڈرافٹ کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرنا بنی۔دوسری جانب ایران نے امریکی پابندیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ روحانی پیشوا پر عائد کی گئی لاحاصل پابندیوں سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ڈپلومیسی کے تمام دروازے مستقل بنیادوں پر بند ہوجائیں گے۔ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ اس فیصلے سے امریکا نے دنیا میں قائم امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

سنیئربھارتی پائلٹ سڈنی ایئرپورٹ پر بٹوا چراتے رنگے ہاتھوں گرفتار

سڈنی(ویب ڈیسک) انڈین ایئرلائن کے ریجنل ڈائریکٹر اور سینیئر پائلٹ روہت بھاسن سڈنی ایئرپورٹ میں ڈیوٹی فری شاپ سے بٹوا چراتے ہوئے پکڑے گئے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ایئر لائن ایئر انڈیا میں 30 برس سے ملازمت کرنے والے سینیئر پائلٹ جو اب ریجنل ڈائریکٹر بھی ہیں نے آسٹریلوی شہر سڈنی کے ایئرپورٹ پر ڈیوٹی فری شاپ سے خریداری کے دوران ایک بٹوا چرالیا۔ایئر انڈیا کے سنیئر پائلٹ روہت بھاسن کو گرفتار کرلیا گیا جب کہ ایئرلائن انتظامیہ نے ملزم کو معطل کرکے انکوائری کا حکم دے دیا ہے جس کے بعد ریجنل ڈائریکٹر کو ملازمت سے برخاست بھی کیا جا سکتا ہے۔پائلٹ روہت بھاسن 30 سال سے ایئرانڈیا سے منسلک ہیں اور ان کی اہلیہ اور بیٹا بھی پائلٹ ہیں اور اسی ایئرلائن میں ملازم ہیں۔ ایئر انڈیا کے ترجمان نے کہا کہ اس قسم کے معاملات ناقابل برداشت ہیں جس پر سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

ٹائیگر شروف اور دیشا پٹانی نے راہیں جدا کرلیں

ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ کے ایکشن ہیرو ٹائیگر شروف اور دیشا پٹانی نے ایک دوسرے سے راہیں جدا کر لیں۔ٹائیگر اور دیشا پٹانی کے درمیان گزشتہ تین سال سے قربتیں دیکھنے میں آرہی تھیں، اکثر دونوں اداکار ہر جگہ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے نظر آتے تھے لیکن دونوں نے کبھی بھی کھل کر ایک دوسرے سے کسی بھی تعلق کا اعتراف نہیں کیا اور نہ ہی تردید کی۔دونوں اداکاروں کے درمیان کئی بار تنازع بھی دیکھنے میں آیا۔ ابتداءمیں ہریتھیک روشن کو بھی اس تنازع کی وجہ قرار دیا جانے لگا لیکن کچھ دن بعد یہ جوڑی تمام تر اختلافات بھلا کر ایک ہوجاتی لیکن اب دونوں اداکاروں کے مداحوں کے لیے ب±ری خبر یہ ہے کہ ٹائیگر اور دیشا نے ایک دوسرے سے راہیں جدا کرلی ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق ٹائیگر اور دیشا کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دونوں اداکاروں کے درمیان گزشتہ ایک ہفتے سے رشتے کو لے کر ان بن چل رہی تھی جس کے بعد دونوں نے باہمی رضامندی سے ایک دوسرے سے دوری اختیار کرلی۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ دنوں کے درمیان تنازع تو تھا لیکن وہ کبھی بھی اس تنازع کو میڈیا کے سامنے نہیں لانا چاہتے تھے کیوں کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا بھی چاہتے تھے جس کے بعد اب یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ محبت کے رشتے کے بجائے اب صرف دوستی کا رشتہ قائم رہے گا۔