نوجوان پر ہنٹر سے تشددجوتے برسائے ،برہنہ کرنے کی کوشش،ٹونی گینگ کی دوسری ویڈیوسامنے آگئی ،” خبریں ہیلپ لائن “ میں انکشاف

فیصل آباد (یونس چوہدری سے) فیصل آباد کے نواحی علاقہ”پینسرہ میں جنگل کا قانون“، ٹھیکری والا پولیس کی انتہائی نااہلی کے باعث پینسرہ کا علاقہ غیر بن گیا۔ پولیس ٹونی ڈکیت گینگ کے سامنے بے بس، ٹونی ڈکیت گروہ کی نوجوان پر سر بازار تشدد کیے جانے کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آ گئی۔ شہری پر سر عام ”تشدد کی دوسری ویڈیو فوٹیج خبریں نے حاصل کر لی“۔دونوں ویڈیو منظر عام پر آنے سے چک نمبر 275ج ب اور ملحقہ دیہاتوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تفصیل کے مطابق پینسرہ میں وسیم تشدد کیس کا مرکزی ملزم اکرام عرف ٹونی اور اس کے ساتھی بےگناہ شہریوں پر تشدد کرنے کے عادی نکلے۔ اس گروہ کے نوجوان پر بےہمانہ تشدد کرنے کی ایک اور ویڈیو سامنے آ گئی ہے۔ جس میں اکرام عرف ٹونی اور اس کے ساتھی نامعلوم نوجوان پر ہنٹر سے تشدد کرتے دیکھے جا سکتے ہیں اور اس کو کپڑے اتار کر برہنہ ہونے پر مجبور کرتے رہے۔ زبردستی کپڑے اتارنے کی کوشش کی۔ نوجوان ان کے سامنے ہاتھ جور کر معافیاں مانگتا ہوا اللہ اور رسول کے واسطے دیتا رہا۔ مگر ظالموں کو ترس نہ آیا اور اسے غلیظ گالیاں دیتے رہے اور تشدد کی ویڈیو نیٹ پر ڈالنے کی دھمکیاں دیں اور اس پر جوتے برساتے رہے۔ مگر متاثرہ نوجوان کا بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی پر ہونےوالے ظلم و تشدد کا بڑی بے بسی سے تماشہ دیکھتا رہا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند یوم قبل بھی اکرام عرف ٹونی گینگ کی پینسرہ کے علاقہ چک نمبر 275ج ب کے رہائشی حنیف کے بیٹے وسیم پر وحشیانہ تشدد کرنے کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس کے بعد فیصل آباد پولیس حرکت میں آئی تھی۔ تاخیر سے تشدد کیس کا مقدمہ درج کر کے دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جس کے بعد ٹونی ڈکیت گینگ کی ایک اور نوجوان پر بےہمانہ تشدد کرنے کی ویڈیو سامنے آ گئی ہے۔ جس کے منظر عام پر آنے سے پینسرہ کے دیہاتوں کے لوگ سخت خوف زدہ ہو گئے ہیں۔ مگر تھانہ ٹھیکریوالہ کا ایس ایچ او اور اس کے ماتحت ٹونی ڈکیت گینگ کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ بلکہ شہریوں نے ڈکیت گروہ کی پولیس سے ساز باز قرار دےدیا۔ پینسرہ میں کہیں بھی قانون پر عملدرآمد دکھائی نہیں دیتا۔ پینسرہ علاقہ میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ اس امر پر شہریوں، سماجی و مذہبی حلقوں نے انسانیت سوز واقعات پر شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم، چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، وفاقی و صوبائی وزیر قانون، آر پی او اور سی پی او فیصل آباد سے فوری نوٹس لےکر ٹونی گینگ کے ارکان کے خلاف مقدمات درج و گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارت نے ساری فوجی قوت لگا دی لیکن کشمیریوں کو دبا نہیں سکا: سردار عتیق،نائن الیون کا واقعہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو لڑانے کی امریکی سازش تھی پاکستان کو سفارتکاری مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ،بھارت کی 8لاکھ فوج کے مقابلہ میں کشمیریوں کی جدوجہد سے ظاہر ہوتا ہے وہ کامیاب ہونگے عبدالرشید ترابی،کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف مذہبی سکالر کل جماعتی کشمیر کونسل کے کنونیئر عبدالرشید ترابی نے کہا ہے کہ بھارت کی آٹھ لاکھ فوج کے مقابلے میں کشمیری جس جرات کا مظاہرہ کر رہے ہیں ہمیں یقین ہے کشمیری آزادی لینے میں کامیاب ہوں گے‘ ہندوستانی فوج کا کشمیر سے نکلنا نوشتہ دیوار ہے۔ شکر ہے دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر اجاگر ہوا۔ چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ 7 میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں‘ معصوم بچوں، عورتوں نوجوانوں کو بڑی تعداد میں شہید کیا جا رہا ہے‘ کشمیریوں کی نسل کشی کی کوشش کی جا رہی ہے۔گزشتہ پاکستان حکومتیں کشمیر کی حمایت کے لئے تقاریر تو کرتی رہیں لیکن جس ہمہ گیر حمایت کی کشمیریوں کو ضرورت تھی اس کو عملی طور پر نہیں کیا گیا۔ البتہ نئی حکومت نے بلاشبہ اچھی کوشش شروع کی ہے۔ بطور ممبر کشمیر اسمبلی ہم مقبوضہ کشمیر کی حمایت کےلئے ہر فورم استعمال کر رہے ہیں آزاد کشمیر کی ساری پارٹیاں متفق ہیں۔ جب بلایا جاتا ہے ساری قیادت جمع بھی ہوتی ہے ہم اپنے مورچے پر بیٹھ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ کشمیر میں بھارت کی پوزیشن ایک قابض کی ہے کشمیریوں کو آزادی کے لئے لڑنے کا پورا حق ہے۔ امریکہ پہلے جن کو دہشت گرد کہتا تھا آج ان سے مذاکرات کر رہا ہے۔کشمیریوں کی جدوجہد نے بھارتی ڈھونگ کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو بھی بہت کچھ کرنا چاہئے تھا لیکن نہیں کیا البتہ انہوں نے کشمیری قیادت سے تعلق رکھا۔ ہمیں توقع تھی وزیرعظم عمران خان سب سے پہلی میٹنگ کشمیر کے حوالے سے رکھیں گے لیکن ماضی کی طرح اب بھی اس کا فقدان نظر آیا۔ ہماری حکومت اورکشمیر کمیٹی کو بڑی جرات، اعتماد سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق نے کہا کہ کشمیریوں نے قیام پاکستان سے بہت پہلے بھی بہت قربانیاں دیں جدوجہد کی ایک طویل داستان ہے۔ بھارت اپنی ساری عسکری قوت کشمیر میں لگا چکا ہے لیکن اس کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبا نہیں پایا۔انسانی حقوق کی پامالی کے لئے بھارت نے اسرائیل کی تقلید بھی کی۔ آج کشمیر پر پوری دنیا میں بات ہو رہی ہے بھارت کے تمام حربے ناکام ہو گئے۔گزشتہ دس سالوں کی حکومتوں نے کشمیر کے لئے آواز بلند نہ کی لیکن موجودہ حکومت پھر سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر رہی ہے۔نریندر مودی ہندوستان کے ترکش کے آخری تیر تھے جو کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کر پائے۔ ماضی میں جو ہوا ہوگیا اب موجودہ حکومت کو چاہئے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو دنیا بھر میں اجاگر کرے۔ نائن الیون کا واقعہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو لڑانے کی امریکی سازش تھی۔انسانی حقوق کے کمیشن کی جو رپورٹ آئی اس پر پوری دنیا میں پاکستانی سفارتکاری مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔گزشتہ دس سالوں کی حکومتوں سے قبل کشمیری قیادت سے پاکستان سال میں دو مرتبہ ملاقات کرتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہو رہا اب فوری طور پر کشمیر کی حریت قیادت کو پاکستان آنے کی دعوت دینی چاہئے۔ ہندوستان کو کشمیر پر مذاکرات کرنا پڑیں گے۔ فضل الرحمن باصلاحیت آدمی ہیں اپنی صلاحتیوں کا دسواں حصہ بھی مسئلہ کشمیر کے حل پر لگاتے تو بھارت پر دباﺅ بڑھتا۔

بھارتی مظالم بس اور چند برس کا کھیل ،کشمیری آزادی لیکر رہیں گے : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ یوم یکجہتی کشمیر پر پورے پاکستان کے ہر شہر میں جلوس نکلے، ریلیاں نکالی گئیں۔ صدر پاکستان عارف علوی نے آزاد کشمیر اسمبلی میں خطاب کیا اور ایک روایت ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے اس خطاب میں انہوں نے رسمی باتیں نہیں کیں بلکہ بڑے بھرپور طریقے سے پرجوش انداز میں مطالبہ کیا کشمیریوں کا قتل عام بند کیا جائے اور جس طرح سے لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگا جا رہا ہے یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جتنے گرفتار شدگان ہیں مسلمان جن کو جیلوں میں بند کیا گیا ہے ان سب کو رہا کیا جائے۔ ان کی بات میں پہلی مرتبہ سچائی کی آواز بلند کی گئی دوسرا یہ کہ نہ صرف پاکستان کے اندر ساری جگہوں پر ریلیاں نکلیں ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی اور تقاریر ہوئیں۔ اخبارات نے خصوصی ایڈیشن چھاپے ٹی وی چینلز نے خصوصی پروگرام کئے اور جگہ جگہ پر دکھایا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر زندگی کتنی تنگ ہو چکی ہے۔ اس سلسلے میں جو بڑا ایک مظاہرہ ہوا ہے وہ یہ ہے برطانیہ کی ایک خاص اہمیت ہے۔ کیونکہ برطانیہ ہی سے ہندوستان اور پاکستان نے آزادی حاصل کی تھی تو اس لئے برطانوی پارلیمنٹ میں ایک کانفرنس ہوئی کشمیر کے سلسلے میں اس میں پاکستان سے اازاد کشمیر کے صدر وہاں پہنچے سردار مسعود خان صاحب، پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، مشاہد حسین جو اپوزیشن کے کمیی کے سربراہ تھے وہ پہنچے اور اس میں برطانوی کانگریس کے بھی بہت سے مسلمان اور پاکستانی جو تھے اس میں تقاریر کیں، بعض غیر مسلموں نے تقاریر کیں۔ اس میں کشمیری لیڈروں نے شرکت کی۔ یہ ایک بھرپور دن تھا کہ کشمیری عوام امن سلامتی کے لئے حق رائے دہی چاہتے ہیں۔ آج جو آدھے صفحہ کا اشتہار چھپا ہے اس میں حبیب جالب کا ایک شعر ہے۔
ظلم رہے اور امن بھی ہو کیا ممکن ہے تم ہی کہو
اس شعر کو پڑھتے ہی میرے فوراً ذہن میں آیا کہ یہ پاکستان کی ایک معروف فلم ہمارے فلمساز، رائٹر اور ہدایت کار ریاض شاہد جو فلم ایکٹریس نیلو کے شوہر تھے عابدہ ریاض ان کا گھریلو نام ہے اور آج کل کے فلم ایکٹر شان کے والد تھے۔ ریاض شاہد نے ایک فلم بنائی تھی۔ انہوں نے کافی فلمیں بنائیں۔ ”فرنگی“ انہوں نے لکھی تھی۔ ”زرقا“ انہوں نے لکھی اور بنائی۔ شہید انہوں نے لکھی اور بنائی، لیکن یہ ایک فلم بنائی تھی ”یہ امن“ تو یہ میں درخواست کروں گا کہ اس کا ایک سین دیا جائے۔ اس میں ایک جدبہ بھی ہے۔ ریاض شاہد کو اس فلم کی تیاری میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کئی سال تک فلم سنسر سے پاس نہیں ہو رہی تھی کیونکہ بڑے اعتراصات انڈین حکومت نے لگائے ہوئے تھے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ یوم یک جہتی کشمیر صرف چھٹی منانے کا دن نہیں۔ ہم لوگ گھروں میں نہیں بیٹھے ہمارے نوجوان خاص طور پر سڑکوں پر نکل آئے ریلیاں نکالی گئیں۔ ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی اور وعدے وعید کئے گئے۔ تقریریں ہوئیں اور یہ یوم یک جہتی کشمیر یہ تھا کہ اپنے آپ کو ہم نے کشمیر میں جو جدوجہد جاری ہے جو آزادی کے لئے جو کوشش جاری ہے اس کے ساتھ اپنے آپ کو ملایا ہے۔ پاکستان جب بنا تو برطانیہ نے ہی کشمیر کا جو مسئلہ تھا برطانیہ کی شرارت کی وجہ سے ہوا تھا۔
ڈوگرہ حکومت نے جب کشمیر کا الحاق زبردستی بھارت کے ساتھ کیا تو پورے کشمیر میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ سلامتی کونسل میں یہ مسئلہ پاکستان نہیں بھارت لے کر گیا تھا کہ قبائلیوں نے حملہ کر دیا ہے سری نگر پر قبضہ کرنے چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں ھے پایا کہ کشمیر سے بھارتی فوج واپس جائے گی اور آزادانہ استصواب رائے سے طے کیا جائے گا کہ اہل کشمیر کس سے الحاق چاہتے ہیں۔ بھارت نے اس بات کو تسلیم نہ کیا اور آج بھی ہٹ دھرمی سے اپنے موقف پر کھڑا ہے تاہم کشمیر میں آزادی کی تحریک دن بدن بڑھ رہی ہے۔ بھارت 2019ءمی کسی کو زبردستی ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ بھارت کا یہ ظلم کا کھیل اب زیادہ عرصہ نہیں چل سکتا، چند برس کا کھیل باقی ہے یہ بھارت کو کشمیری کو آزادی دینا ہی ہو گی۔
نوازشریف کی طبی رپورٹ میں سامنے آ گیا ہے کہ دل کی بیماری نہیں ہے بلڈ پریشر، گردے میں پتھری شریانوں کا مسئلہ سامنے آیا ہے جس کا پاکستان میں ہی بہترین علاج ممکن ہے۔ بیرون ملک جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ نوازشریف سے پرانی دوستی ہے تاہم ابن کے سیاسی خیالات سے متفق نہیں ہوں۔ مریم نواز نے نوازشریف کے حوالے سے جذباتی بیان دیا ہے ورنہ وہ کیوں جیل جانا چاہیں گے، نوازشریف کا ہسپتال میں ہی علاج ہونا چاہئے۔ سروسز ہسپتال میں بہترین ڈاکٹرز موجود ہیں، دیگر ہسپتالوں سے سینئر ڈاکٹرز کو بلایا جا سکتا ہے، نوازشریف کے ذاتی معالج سے بھی مشورہ کیا جا سکتا ہے۔ بعض ناراض بلوچ رہنما کبھی لندن کبھی جنیوا احتجاجی مظاہرے کرتے رہتے ہیں اب پیرس میں بھی مظاہرہ کرنے کی کوشش کی گئی جسے پاکستانیوں نے ناکام بنا دیا۔ سی پیک، پاکستان، چین کے خلاف کوئی بھی آواز اٹھائے گا تو کوئی کان نہ دھرے گا۔ بلوچستان کی بڑی آبادی نے الیکشن میں بھرپور حصہ لیا، صوبائی حکومت بنی، چیئرمین سینٹ کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند رجحان ختم ہو چکا ہے۔ اب گنتی کے جو لوگ شور مچاتے ہیں وہ بھارت کی اشیر باد پر ایسا کرتے ہیں۔ بھارت کلبھوشن کی گرفتاری پر پریشان ہے اس نے اپنے دو ٹی وی چینلز صرف بلوچستان بارے پروپیگنڈا کیلئے مختص کر رکھے ہیں۔ کبیروالا میں افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ لڑکی کے ساتھ زیادتی پر شکایت درج کرائی گئی تو پولیس کو ایکشن لینا چاہئے تھا لیکن وہ روایتی طور پر بے حس بیٹھی رہی اور ماں بیٹی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ اس واقعہ پر آئی جی کو مستعفی ہو جانا چاہئے۔ پنجاب میں گورننس کی صورتحال پر وزیراعظم لاہور آئے اور اجلاس ہوئے، حکومت کا مختلف محکموں کے سیکرٹریوں کو تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے، آئی جی کو بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ گورنر اور وزیراعلیٰ نے آئی جی کی تعریف کی تو عمران خان نے کہا کہ آئی جی اگر محنت کر رہے ہیں تو لوگ کیوں مطمئنن نہیں ہیں۔

پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب اور آزاد کشمیر کے مختلف حصوں میں زلزلے کے شدید جھٹکوں کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.6 ریکارڈ کی گئی جب کہ زلزلے کا مرکز بھارت میں تھا۔زلزلے کے جھٹکے، اسلام آباد، پشاور، راولپنڈی، ایبٹ آباد، نوشہرہ، مردان، مظفر آباد، بالا کوٹ، ہری پور، مانسہرہ، رائے ونڈ، ٹیکسلا، حسن ابدال اور پنڈ دادن خان سمیت دیگر شہروں میں محسوس کیے گئے۔

یورپ اور جامع الازہر میں تاریخی سمجھوتہ

لاہور (ویب ڈیسک)) رومن کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا پاپائے روم پوپ فرانسس اور جامعہ الازہر قاہرہ کے شیخ ڈاکٹر احمد الطیب نے ابو ظہبی میں ایک مشترکہ تاریخی سمجھوتے پر دستخط کئے ہیں جس میں انتہا پسندی سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس سمجھوتے کی تین نقول پر دستخط کئے گئے ہیں ایک نقل ویٹی کن، ایک الازہر اور ایک متحدہ عرب امارات کے لئے تھی۔پوپ فرانسس 800 سال کے بعد جزیرہ نما عرب کا دورہ کرنے والے پہلے پاپائے روم ہیں۔ ان سے پہلے ان ہی کے ہم نام سینٹ فرانسس السیسی نے تیرھویں صدی میں مصر کے سلطان سے ملاقات کی تھی۔ پوپ فرانسس مذہبی پیشوائیت پر فائز ہونے کے بعد سے اسلام اور عیسائیت کو ایک دوسرے کے قریب تر لانے کے لئے کوشاں ہیں اور وہ اپنے پیغامات میں مذہبی رواداری، انصاف اور امن کے اصولوں پر زور دے رہے ہیں۔ ابو ظہبی کے تاریخی دورے کے موقع پر سوموار کو انسانی برادری کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پوپ فرانسس نے کہا کسی بھی دین کے نام پر تشدد کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا اور اس کی کسی تردد کے بغیر مذمت کی جانی چاہیے۔ انسانی برادری کو جنگ کے ہر نعرے اور ہر لفظ کو مسترد کردینا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہمیں یا تو مل جل کر مستقبل کی تعمیر کرنا ہوگی یا پھر ہمارا کوئی مستقبل نہیں ہوگا اب وقت آگیا ہے کہ مذاہب زیادہ حوصلے اور دلیر ی کے ساتھ اپنا فعال کردار ادا کریں اور وہ کسی لاگ لپٹ کے بغیر انسانی خاندان کی مدد کریں، مصالحت، امید کے وڑن اور امن کی ٹھوس راہوں کے لئے اس کی صلاحیت میں اضافہ کریں۔پاپائے روم نے اپنی تقریر میں کہا انسانی برادری کو جنگ کے ہر نعرے کو مسترد کر دینا چاہیے۔ انسانی برادری ہم سے، دنیا کے مذاہب کے نمائندوں کی حیثیت سے یہ تقاضا کرتی ہے اور ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم لفظ جنگ کے کسی بھی معنی اور استعارے کو مسترد کر دیں میں بالخصوص یمن، شام، عراق اور لیبیا کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ انہوں نے ناصحانہ انداز میں کہا کہ ثقافت میں سرمایہ کاری سے نفرت میں کمی کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے اس سے تہذیب اور خوش حالی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ تعلیم اور تشدد ایک دوسرے کے باہم مخالف ہیں، کیتھولک سکولوں کو اس ملک اور خطے میں سراہا گیا ہے اور وہ تشدد سے بچاو¿ کے لئے امن کی تعلیم دے رہے ہیں۔ اس مذہبی اجتماع میں دنیا کے بائیس عقیدوں کے مذہبی قائدین سمیت سات سو سے زیادہ مندوبین شریک تھے۔ ان میں علماء، دانشور، محققین اور ماہرین تعلیم شامل تھے۔لبنان سے تعلق رکھنے والے دانشور رضوان السیّد نے کانفرنس سے اپنے خطاب میں علماءاور دانشوروں پر زور دیا کہ وہ مصالحت کی اس صلاحیت کو مزید وسعت دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک سو سال سے جاری ایک جنگِ عظیم ہار چکے ہیں اور یہ مغرب کا ہمارے بارے میں نقطہ نظر اور ہمارا مغرب کے بارے میں نقطہ نظر ہے۔ ہم یہ ثابت کرنے کے لیے جنگ آزما ہیں کہ ہم ان ہی کی طرح ہیں اور صرف تاریخ ہی نہیں بلکہ تہذیب میں بھی ان کے ساجھی ہیں۔ ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کی وجہ سے ہار گئے ہیں۔ اب دانش وروں اور سکالروں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اس پر کام کریں۔ رضوان السیّد نے پاپائے روم کے نقطہ نظر کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ متعدد کیتھولک، عرب اور مسلم ممالک نے پہلے ہی ویٹی کن کے ساتھ مل کر غربت، عالمی حدت اور بیماریوں کے خلاف جنگ کے منصوبوں پر کام شروع کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یورپی اسلام کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کو تبدیل کرلیں گے یا وہ پوپ کے مو¿قف اور سوچ کی وجہ سے مہاجرین کے بارے میں اپنا نقطہ نظر تبدیل کرلیں گے لیکن مجھے یقین ہے کہ آئندہ برسوں کے دوران پوپ کے الفاظ یورپیوں پر ضرور اپنا اثر دکھا کررہیں گے۔رومن کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا اتوار کو تین روزہ سرکاری دورے پر ابو ظہبی پہنچے تھے۔ ان کے اعزاز میں صدارتی محل میںپر وقار استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی جہاں ان کاپرجوش انداز میں خیر مقدم کیا گیا۔ پوپ یہ دورہ ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب متحدہ عرب امارات میں رواداری کا سال منایا جارہا ہے۔ پاپائے روم آج منگل کو ابو ظہبی میں واقع زید سپورٹس سٹی میں ہونے والے مذہبی اجتماع سے بھی خطاب کریں گے۔

کابل کی سڑکوں پر پہلی بار کشمیریوں کیلیے خواتین کی ریلی

کابل(ویب ڈیسک) یوم یکجہتی کشمیر پر افغانستان میں پہلی بار خواتین نے ریلی نکالی اور آزادی کشمیر کے حق میں نعرے بلند کیے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل کی سڑکوں پر پہلی بار خواتین نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلی نکالی، ریلی کے شرکاءنے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیریوں کے حق میں نعرے درج تھے۔ریلی میں شامل خواتین نے بھارتی جارحیت کے خلاف اور جدوجہد آزادی کشمیر کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔ مقررین نے عالمی قوتوں سے بھارتی جارحیت رکوانے اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے کردار ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔مقررین کا مزید کہنا تھا کہ جنت نظیر وادی میں مظلوم کشمیریوں کو ان کا حق دینے کے بجائے نسل کشی کی جارہی ہے، نوجوانوں کا ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے اور خواتین کی عصمت دری کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ آج دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا اس دوران کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور عالمی قوتوں کو بھارتی مظالم سے آگاہ کرنے کے لیے جلسے، احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد کی گئیں جن میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مسلمان مخالف کتاب لکھنے والے ڈچ سیاست دان نے اسلام قبول کرلیا

ایمسٹرڈیم(ویب ڈیسک) اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سرگرم ڈچ سیاست دان اور ہالینڈ کے سابق رکن اسمبلی جورم وین کلِورین نے اسلام قبول کرلیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑانے والے مسلمان مخالف ہالینڈ کے 40 سالہ سیاست دان اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر مذہب اسلام میں داخل ہوگئے۔وین کلِورین نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ انہوں نے گزشتہ برس اکتوبر میں اسلام قبول کرلیا تھا تاہم اس کی ابتدا اسلام مخالف کتاب لکھنے کے دوران ہوگئی تھی۔ اسلامی کتب کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اسلام کی روشن حقیقتیں آشکار ہوئیں۔وین کلِورین نے مزید کہا کہ اس کتاب نے میری زندگی بدل دی ہے اور قارئین کو میرے اسلام مخالف سے اسلام قبول کرنے تک کا سفر بھی اس کتاب میں مل جائے گا۔وین کلِورین اپنے لیڈر گیرت وائلڈرز کے دست راست اور پارٹی آف فریڈم سے رکن اسمبلی تھے۔ وین کلِورین نے سات سال تک اسمبلی میں اسلام مخالف بل پیش کیے اور مہم چلائیں جن میں برقع سمیت دیگر اسلامی روایات پر پابندی عائد کرنا بھی شامل ہے۔

پاکستان کو جنوبی افریقا کے ہاتھوں وائٹ واش سے بچنے کا چیلنج درپیش

لاہور(ویب ڈیسک)کپتان سرفراز احمد کی وطن واپسی کے بعد شعیب ملک کیلئے مشکل آزمائش ہے۔ جنوبی افریقا نے نہ صرف 3 میچز کی ٹی ٹوئنٹی سیریز 0-2 سے اپنے نام کی بلکہ پاکستان کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016 کے بعد کسی بھی سیریز میں ناقابل شکست رہنے کے سلسلے کو بھی توڑ دیا۔اس شکست کے ساتھ ہی پاکستان کی مسلسل 9 جبکہ ہدف کے تعاقب میں مسلسل 11 فتوحات کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا۔ جنوبی افریقا اور پاکستان کے درمیان تیسرا اور آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل بدھ کو سپراسپورٹ پارک سنچورین میں ہورہا ہے۔میچ رات نو بجے شروع ہوگا۔وائٹ واش سے بچنے کیلئے پاکستان ٹیم کو میچ میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔ سنچورین میں پاکستان نے2013 میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں جنوبی افریقا کو95 رنز سے شکست دی تھی۔ سنچورین میں جنوبی افریقا نے 7 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے ہیں جن میں سے 4 جیتے اور تین میں اسے شکست ہوئی۔جنوبی افریقا نے دورے میں پاکستان ٹیم کو تینوں فارمیٹس میں شکست دی ہے۔ ٹیسٹ سیریز میں میزبان ٹیم 0-3 سے فاتح رہی۔ ون ڈے سیریز میں پاکستان نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن جنوبی افریقا 2-3 سے کامیاب رہا۔شعیب ملک کی کپتانی میں ٹی ٹوئنٹی سیریز میں جوہانسبرگ میں جنوبی افریقا نے پاکستان کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد 7 رنز سے شکست دے دی۔ پہلے ٹی ٹوئنٹی میں جنوبی افریقا نے پاکستان کو 6 رنز سے ہرایا تھا۔3 ٹیسٹ میچوں میں وائٹ واش کے بعد پانچ میں سے صرف دو ایک روزہ میچوں میں کامیابی، کپتان سرفراز پر چار میچوں کی پابندی کے بعد ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سریز میں بھی شکست۔ ناکامی کی یہ داستان پاکستان میں شائقین کرکٹ کیلئے یقیناً کافی تکلیف دہ ثابت ہو گی۔پاکستانی بولنگ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں نسبتاً کمزور جنوبی افریقی ٹیم کے خلاف مکمل بے بس دکھائی دی۔ سنچورین میچ کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کا دوماہ طویل دورہ بھی ختم ہوجائے گا۔بابر اعظم نے دوسرے میچ میں غیرمعمولی اننگز کھیلی لیکن وہ میچ کو فنش نہ کرسکے۔ بابر نے 13 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 58 گیندوں پر 90 جبکہ حسن طلعت نے سات چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 55 رنز کی اننگز کھیلی۔بابر نے اپنی اننگز کے دوران چار مرتبہ چوکوں کی ہیٹ ٹرک کی یعنی ایک اوور میں لگاتار تین چوکے لگائے۔ حسین طلعت نے بھی دونوں میچوں میں اچھی بیٹنگ کی لیکن وہ بھی ٹیم کو فتح سے ہمکنار نہ کراسکے۔پاکستانی بولنگ کی خراب کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میچ فاسٹ بولر عثمان خان شنواری کیلئے ڈراو?نا خواب ثابت ہوا جن کے ایک اوور میں 29 رنز پڑے اور انہوں نے اپنے اسپیل میں 63 رنز دیے۔اس سے قبل یہ بدترین ریکارڈ فہیم اشرف کے پاس تھا جنہوں نے گزشتہ سال نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے 4 اوور میں 55 رنز دیے تھے۔خیال رہے کہ پاکستان ٹی ٹوئںٹی رینکنگ میں 134 ریٹنگ پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن پر ہے۔ جنوبی افریقا کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش کی صورت میں بھی اس کی پہلی پوزیشن پر کوئی فرق نہیں پڑے گا البتہ اسے ایک ریٹنگ پوائنٹ سے محروم ہونا پڑے گا۔

مولاناطارق جمیل نے کسی دباﺅ میں عمران خان کے حق میں بیان دینے کی تردید کردی

لاہور (ویب ڈیسک) مولانا طارق جمیل نے انکشاف کیا کہ عمران خان نے اپناذاتی نمبر دیا اور کہا کہ مولانا صاحب جب بھی آپ کو لگے کہ میں کچھ غلط کر رہا ہوں تو آپ نے مجھے بتانا ہے اور مجھے اس معاملے میں بہترین نصیحت کرنی ہے،عمران خان نے کہا کہ کسی وقت بھی رابطہ کر سکتے ہیں میں آپ کی بات سنوں گا کیونکہ ہم آپ کی رہنمائی میں پاکستان کو مدینے جیسا بنانا چاہتے ہیں۔مقامی نیوز ویب سائٹ کے مطابق مولانا طارق جمیل نے کسی دباﺅ میں آکر عمران خان کے حق میں بیان دینے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بیان میرا ذاتی تھا، مجھے محسوس ہوا کہ یہ شخص پاکستان کے لئے کچھ کرے گا کیونکہ اس کی نیت صاف ہے۔واضح رہے کچھ عرصہ قبل متاز عالم دین طارق جمیل کا ایک ویڈیو پیغام سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی تعریف کی تھی اور پاکستانی عوام سے پاکستانی کو فلاحی ریاست جیسا بنانے کے لیے پاکستانی عوام سے عمران خان کی مدد کرنے کی اپیل کی تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے اللہ تعالیٰ نے بہت سے لوگوں کو حکومت دی اور انہی لوگوں میں سے عمران خان ہیں۔

کشمیر اور کشمیریوں سے ہمارا دکھ درد کارشتہ ہے ، وزیر اطلاعات

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حقوق کے لئے عسکری اور سیاسی قیادت کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ کشمیرمیں جب کوئی تکلیف آتی ہے تو پورا پاکستان محسوس کرتا ہے، مقبوضہ کشمیرمیں ایک کشمیری پر10بھارتی فوجی لگائے گئے ہیں، کشمیر اور کشمیریوں سے ہمارا دکھ درد کا رشتہ ہے، کشمیرمیں تحریک آزادی دبائی نہیں جاسکتی، مقبوضہ کشمیرمیں نام نہاد بھارتی جمہوریت بے نقاب ہو رہی ہے۔فواد چودھری نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ کشمیر میں جب کوئی تکلیف آتی ہے تو پورا پاکستان محسوس کرتا ہے، بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے، بھارت کشمیر کو محض علاقے کے طور پر دیکھتا ہے، بھارت کے برعکس پاکستان کشمیر کو انسانی مسئلے کے طور پر دیکھتا ہے، بھارت کو کھلے دل سے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔اس سے قبل اطلاعات ونشریات کے وزیر فواد حسین نے یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان ہرفورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگرکرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت بے نقاب کرے گا۔وفاقی وزیر نے عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کی خون ریزی کا نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کی خود ارادیت کے جائز حق کیلئے جدوجہد سے روک نہیں سکتے۔

افغانستان میں قیام امن کے لیے 2 روزہ ماسکو مذاکرات آج شروع ہوں گے

ماسکو(ویب ڈیسک) افغانستان میں قیام امن کے لیے 2 روزہ ماسکو مذاکرات آج شروع ہوں گے۔طالبان اور افغانستان کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنما ماسکو مذاکرات میں شرکت کریں گے، جس کے دوران افغان مفاہمتی عمل اور غیر ملکی افواج کے ممکنہ انخلاءکے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ماسکو میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان کی نمائندہ قیادت اور افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی بھی شریک ہوں گے۔ ماسکو روانگی سے قبل حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ امن، اتحاد، خودمختاری اور سب کے لیے ترقی کا پیغام لے کر جارہا ہوں۔مذاکرات میں حصہ لینے والی نمایاں شخصیات میں گلبدین حکمت یار، سید منصور نادری، محمد محقق، پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر عبدالسلام ضعیف، حکمت کرزائی، اسماعیل خان، عطا محمد نور اور شاہ نواز تانائی شرکت کریں گے۔اس سے قبل طالبان نے افغان صدر اشرف غنی اور ان کی حکومت سے مذاکرات کرنے سے صاف انکار کردیا تھا اور اسے امریکا کی کٹھ پتلی حکومت قرار دیا تھا۔اس سے قبل قطر کے شہر دوحا میں طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں افغان حکومت کو شامل نہیں کیا گیا تھا، 6 روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد فریقین نے اہم سمجھوتے پر اتفاق کیا تھا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مقبوضہ کشمیر کے دورے پر مذاق بن گئے

سری نگر(ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر کے دورے کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پہاڑوں کی جانب سے ہاتھ لہراتے رہے اور ان کی ویڈیو کلپ منظر عام پر آنے کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بنا دیا گیا ہے۔نریندر مودی نے گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تو اس موقع پر وادی بھر میں احتجاج و ہڑتال کی گئی، سڑکوں پر سناٹا رہا اور کشمیری عوام نے ان کے دورے پر یوم سیاہ منایا۔بھارتی وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران مختلف منصوبوں کا افتتاح کیا اور جب وہ ‘دل جھیل’ کی سیر کو پہنچے اور کشتی میں سوار ہوئے تو انہوں نے یہ دکھانے کے لیے کہ لوگ ان کا استقبال کر رہے ہیں، پہاڑوں کی جانب دیکھ کر ہاتھ لہراتے رہے۔بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی نے جب ان کی یہ ویڈیو سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپ لوڈ کی تو اس پر کشمیر کے سیاسی رہنماﺅں سمیت سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کا نشانے بنانے کے ساتھ مختلف جملے کسے۔مقبوضہ جموں کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نریندر مودی کا ہاتھ ہلانا کشمیر میں نہ دکھائی دینے والے ان گنت بی جے پی کے دوستوں کے لیے ہے۔سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ کیمرہ مین نے نریندر مودی کے ہاتھ ہلانے کا جواب دینے والے لوگوں کو نہ دکھا کر ذمہ داری کی ادائیگی میں بہت بڑی غفلت کی، کیوں کہ اس کی کوئی وجہ نہیں بنتی کہ وزیراعظم خالی جھیل پر ہاتھ لہرائیں۔بھارتی مصنف اور سیاستدان سلمان نظامی نے نریندر مودی کی ویڈیو پر دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کس کو ہاتھ ہلارہے تھے۔

خام کاٹن، جننگ کاٹن کی درآمد پر کسٹمز، 2 فیصد اضافی ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سے چھوٹ

اسلام آباد(ویب ڈیسک)خام کاٹن اور جننگ شدہ کاٹن کی درآمد کو کسٹمز ڈیوٹی، 2 فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سے چھوٹ دے دی گئی ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے خام کاٹن اور جننگ شدہ کاٹن کی درآمد کو کسٹمز ڈیوٹی، 2 فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سے چھوٹ دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جبکہ اس سے قبل کاٹن کی مقامی سپلائی پر سیلز ٹیکس کی شرح صفر کی جاچکی ہے۔ایف بی آر کی جانب سے گزشتہ روز (پیر) نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ہیں جن کے ذریعے کاٹن کی درآمد پر عائد کسٹمز ڈیوٹی، ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی چھوٹ یکم فروری 2019 سے 30 جون2019 تک کیلئے چھوٹ دے دی گئی ہے۔