مایا علی پی ایس ایل 4 میں بھی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی برانڈ ایمبیسڈر برقرار

لاہور (ویب ڈیسک )معروف اداکارہ مایا علی پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 4 میں بھی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی برانڈ ایمبیسڈر برقرار رہیں گی۔اداکارہ نے انسٹاگرام پر مداحوں سے ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک بار پھر سے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ٹیم کا حصہ بنی ہیں، جس پر وہ خوشی اور فخر محسوس کرتی ہیں۔اداکارہ نے اس سیزن میں بھی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا برانڈ ایمبیسڈر منتخب ہونے کو اپنے لیے ایک اعزاز قرار دیا۔مایا علی تمام تر مصروفیات کو ترک کرکے 14 فروری کو دبئی میں پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے میچز میں شرکت کریں گی۔

تاریخ میں پہلی مرتبہ جڑواں بچوں کے دو الگ الگ باپ

لندن(ویب ڈیسک) یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک خاتون کے ہاں دو جڑواں بچے پیدا ہوں اور ان دونوں کے باپ الگ الگ ہوں۔ سائنس نے یہ کرشمہ بھی کر دکھایا ہے اور برطانیہ میں ایک خاتون نے دو ایسے جڑواں بچوں کو جنم دیا ہے جن کے باپ الگ الگ ہیں۔ ان بچوں میں ایک لڑکی اور ایک لڑکا ہے۔ لڑکی کا نام الیگزینڈرا اور لڑکے کا نام کیلڈر رکھا گیا ہے۔ کیلڈر کے باپ کا نام گرائمی ہے جبکہ الیگزینڈرا کا باپ سائمن نامی شخص ہے۔یہ دونوں شخص ایک ہی خاتون سے اپنا اپنا بچہ پیدا کرنا چاہتے تھے جس کے لیے انہوں نے 25ہزار پا?نڈ (تقریباً 45لاکھ 93ہزار روپے)کے عوض ایک کینیڈین خاتون کی بطور ’سروگیٹ‘ (متبادل ماں)خدمات حاصل کیں، جس کا نام میگ سٹون ہے۔ ڈاکٹروں نے ان دونوں کے سپرمز اور میگ سٹون کے بیضے لے کرآئی وی ایف(مصنوعی طریقہ افزائش)کے ذریعے لیبارٹری میں الگ الگ ایمبریو بنائے اور پھر دونوں کو میگ سٹون کے پیٹ میں رکھ دیا، جہاں پرورش پانے کے بعد چند ہفتے قبل دونوں بچے صحت مندی کے ساتھ پیدا ہوئے۔بچوں کی پیدائش کے بعد میگ سٹون کا کہنا تھا کہ ”میں نے سائمن اور گرائمی کی پروفائل ایک سروگیسی ویب سائٹ پر دیکھی۔ میری حال ہی میں طلاق ہوئی تھی اور میں اگلا بچہ پیدا کرنے کے لیے تیار تھی چنانچہ میں نے ان سے رابطہ کیا اور ان کے بچوں کی ماں بننے کی حامی بھر لی۔ “ سائمن کا کہنا تھا کہ ”مجھے اور سائمن کو بچے چاہئیں تھے لیکن ہمارے درمیان یہ کشمکش تھی کہ ان بچوں کا والد ہم میں سے کون ہو گا۔ پھر ہمیں لاس اینجلس میں واقع ایک کلینک کے ڈاکٹروں میں بتایا کہ ہم دونوں بیک وقت باپ بن سکتے ہیں۔ جب انہوں نے ہمیں طریقہ بتایا تو ہم نے فوراً سروگیٹ کی تلاش شروع کر دی۔“

پی ٹی آئی رہنما علیم خان کا 15 فروری تک جسمانی ریمانڈ منظور

لاہور (ویب ڈیسک ) احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے زیر حراست سینئر رہنما عبدالعلیم خان کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر 15 فروری تک ریمانڈ منظور کرلیا۔واضح رہے کہ علیم خان کو گزشتہ روز احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے کیس میں حراست میں لے لیا گیا تھا جس کے فوراً بعد انہوں نے صوبائی وزیر کے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔نیب نے آج انہیں احتساب عدالت میں پیش کیا، علیم خان کی پیشی کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔اس سلسلے میں عدالت کے 3 کلومیٹر کے اطراف کے علاقے کو کنٹینرز اور خار دار تاروں سے مکمل طور پر سیل کر دیا تھا، سیل شدہ علاقے میں 3 کالج، 5سکول اور فاﺅنٹین ہاﺅس بھی موجود ہے۔احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے کیس کی سماعت کی، علیم خان کی جانب سےا ن کے وکلا امجد پرویز اور اظہر صدیق جبکہ نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر وارث جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے۔

دنیا کے پانچ چالاک ترین جانور کون سے ہیں؟

ؒلاہور( ویب ڈیسک ) ایسے جانور جن کے شکار کرنے اور شکار سے بچنے کے طریقے اتنے منفرد ہیں کہ ا±ن کے مخالف لاچار رہ جائیں۔
کیلیفورنین زمینی گلہری
اِس چھوٹے سے جانور کو بہت بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امریکہ میں کیلیفورنیا، مغربی اوریگون اور مغربی نیواڈا کے جنگلات اور چراگاہوں میں رہنے والی اس قسم کی گلہریوں کے لیے پتھریلے علاقے اور گہری وادیاں دونوں ایک جیسی ہیں۔ لیکن اِن کے گھر کے کھ±لے ہونے کی وجہ سے اِنھیں ہمیشہ شکار ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
ایک دشمن ریٹل سنیک یا چَکّی ناگ ہے، ایسا سانپ جو سونگھ کر شکار کرتا ہے اور اگر ایک مرتبہ پیچھا شروع کر دے تو نشانے کا بچنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
لیکن کیلیفورنین زمینی گلہری کے پاس اپنے دشمن کو بیوقوف بنانے کا ایک چالاک طریقہ ہے۔ انھوں نے ریٹل سنیک کی کینچلی کو اپنے اوپر مل کر سانپ کی بو سے اپنی بو کو ڈھکنا سیکھ لیا ہے۔
یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ عمل گلہریوں نے نسل در نسل سیکھا ہے اور یہ خوشبو کسی بھی ہوشیار گلہری کے لیے سانپ سے بچنے کی لیے لازمی ہے۔
انسان بمقابلہ جانور، کون جیتا؟
شفق کے رنگوں میں ’پراسرار‘ جنگلی جانور
شیر اور چیتے سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
زیبرا
Image caption
تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ جب زیبرا کے جھنڈ اکٹھے چلتے ہیں تو اِن کی دھاروں سے ایک ‘موشن ڈیزل’ کا سراب پیدا ہوتا ہے۔
زیبرا
’زیبرا کے جسم پر دھاریاں کیوں ہوتی ہیں؟‘
ارتقائی حیاتیات کے سب سے پرانے اِس سوال نے سائنس دانوں کو تب سے پریشان کیا ہوا ہے جب سے چارلس ڈاروِن اور الفریڈ رسل نے پہلی بار اِس پر اختلاف ظاہر کیا تھا۔ لیکن جدید تحقیق کے مطابق یہ دھاریاں ایسے کیموفلاج کا کام کرتی ہیں جس کے ذریعے بھاگتے ہوئے یہ دشمنوں سے محفوظ رہ سکیں۔
لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے جب ان ہی دھاریوں کی وجہ سے یہ اور نمایاں نظر آتے ہیں؟ جواب وہی ہے جو کسی بھی جادوگر کی سب سے زبردست چال کا راز ہوتا ہے: آنکھوں کا دھوکا۔
سفید و سیاہ ایسے رنگ ہیں جن کو اگر آپس میں ملایا جائے تو دماغ کے ساتھ کئی کھیل کھیلے جا سکتے ہیں اور اکثر جانوروں کی نگاہوں سے بھی۔
یونیورسٹی آف برسٹل کے ڈاکٹر مارٹن ہاو¿ چیتے اور شیر کی نظر پر مطالعہ کرتے آ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’میں کافی برسوں سے جانوروں کی بینائی کو پڑھ رہا ہوں اور مجھے اِس میں بہت دلچسپی ہے کہ ایک دھاریوں والے زیبرے کے شکاری کی آنکھوں پر کیا اثر ہوتا ہے۔‘
ا±نھوں نے یہ تحقیق کی کہ کیا اِن دھاریوں سے شکاریوں کو ’ویگن ویل الوڑن‘ کے ذریعے بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ اِس میں جب آپ کے سامنے کوئی پہیے جیسی تیز حرکت چیز آئے تو دماغ اِس کو سمجھنے کے لیے آسان بنا لیتا ہے۔
لیکن اِس طریق? عمل سے دماغ اِس کی سمت کو بالکل غلط سمجھ لیتا ہے۔ اسی لیے جب ہم کسی گاڑی کے پہیوں یا جہاز کے پنکھوں کو تیزی سے ہلتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ یا تو آہستہ سے ہل رہے ہیں یا پھر ا±لٹی طرف کو چل رہے ہیں۔
ہاو¿ کی تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ جب زیبرا کے جھنڈ اکٹھے چلتے ہیں تو اِن کی دھاریوں سے ’موشن ڈیزل‘ کا سراب پیدا ہوتا ہے۔ ہاو¿ یہ مانتے ہیں کہ جب کوئی شکاری اِن دھاریوں کی ہلچل کو دیکھتا ہے تو ا±سے لگتا ہے کہ زیبرا بائیں جانب جا رہے ہیں جبکہ شاید وہ دائیں جانب جا رہے ہوں۔
شکار میں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے، چناچہ آنکھوں کو چندھیا دینے والے اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر زیبرا وہاں سے بھاگ جانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور وہ اس طرح آنکھوں کو دھوکا دیتے ہیں۔
کٹل مچھلیتصویر کے کاپی رائٹSHUTTERSTOCK
Image caption
کٹل مچھلی مخصوص رنگوں کے ایسے نمونے بنا لیتی ہے کہ یہ کہیں بھی گھ±ل جائے۔
کٹل مچھلی
کٹل مچھلیوں نے کھائے جانے سے بچنے کے لیے ایک ایسا چالاک دفاع ڈھونڈا ہے جو کہ دیکھنے میں بھی خوبصورت ہے۔ اپنے آپ کو کسی سخت خول میں چھپانے کے بجائے یہ اپنے گردو نواح کے رنگ کو اپنا کر ا±س میں گھل کر ناقابِل دید ہو جاتی ہے۔
اِن کی چمڑی کی سب سے باہر والی تہہ میں دبے کرومیٹوفور نامی چھوٹے اعضا ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے کٹل مچھلی حرکت کرتی ہے، ہر ایک کرومیٹوفور کو دماغ سے پٹھوں کے ذریعے کھینچا جاتا ہے اور یکایک ایک نقطہ کسی رنگدار دائرے میں بدل جاتا ہے۔
اِس طرح کے کروڑوں کرومیٹوفورز ایک وقت پر کام کرنے سے کٹل مچھلی مخصوص رنگوں کے ایسے نمونے بنا لیتی ہے کہ یہ کہیں بھی گھ±ل مل جائے۔ اِس کہ ساتھ ساتھ یہ شکل اور ساخت بھی اِس قدر بدل سکتی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ بالکل ہی غائب ہو گئی ہے۔
یہ تمام چالیں اور بھی حیران کن اس لیے ہیں کیونکہ کٹل مچھلی خود کوئی رنگ دیکھ ہی نہیں سکتی۔ تو اگر وہ یہ سارے رنگ دیکھ ہی نہیں سکتی جن کی یہ نقل کرتی ہیں تو یہ ایسی درستگی سے کیسے کر لیتی ہیں؟
ایک نئی تحقیق نے کٹل مچھلی کا راز فاش کر دیا ہے۔ اِن کی کھال کی خلیوں میں اوپسن نام کا پروٹین ہوتا ہے جو آنکھ کے ریٹینا میں بھی پایا جاتا ہے۔ تو انھی روشنی پکڑنے والے سالموں کے ذریعے اِن کی کھال خود رنگ ’دیکھ‘ سکتی ہے، جس وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ دنیا کی خوبصورت اور عقل مند ترین چمڑیوں میں سے ہے۔
افریقی شیرتصویر کے کاپی رائٹCHADDEN HUNTER
Image caption
بوٹسوانا میں چند ایسی شیرنیاں رہتی ہیں جن کی گھنی ایال اور شیر کی طرح گرجدار دھاڑ مخالفوں کو اکثر مغالطے میں ڈال دیتی ہے۔
افریقی شیر
اگر کوئی جانور دیکھنے میں شیر لگے اور باقی بھی ا±س کو شیر ہی سمجھیں تو ہو سکتا ہے آپ بھی یہ سوچیں، لیکن ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو۔ بوٹسوانا کے اوکاونگو ڈیلٹا کے علاقے میں چند ایسی شیرنیاں رہتی ہیں جن کی گھنی ایال اور شیر کی طرح گرجدار دھاڑ مخالفوں کو اکثر مغالطے میں ڈال دیتی ہے۔
اِن غیر معمولی شیرنیوں میں سے ایک ماموریری ہے جو کہ دیکھنے اور سننے میں بالکل شیر تو لگتی ہے، لیکن قطعی طور پر شیرنی ہے۔
چار اور بالوں والی شیرنیوں کی طرح، یہ مانا جاتا ہے کہ ماموریری کی جینز میں تبدیلی کی وجہ سے ا±س کے ہارمونز میں اونچ نیچ ہے۔ اِس وجہ سے یہ دیکھنے میں نر شیر کی طرح ہے۔
شیروں میں نر ہی اپنے علاقوں کا دفاع مخالفوں سے کرتے ہیں جس پر تمام جتھے کا انحصار ہوتا ہے۔ کیونکہ ماموریری نر جیسی دکھتی ہے، جو مخالف نر اِن کے علاقے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں حملہ کرنے سے پہلے دو دفعہ سوچیں گے۔
اگر ماموریری کا جتھا اِس غلط فہمی کی وجہ سے اپنا علاقہ بڑھا سکے تو شاید اِن شیرنیوں کی بقا بھی یقینی بنا سکے۔ جینز کی اِس تبدیلی نے ایک نئی اور پ±رفریب قسم کی ترکیب کو جنم دیا ہے۔
اورکڈ مینٹِستصویر کے کاپی رائٹALAMY
Image caption
ایک دفعہ جو اورکڈ مینٹس کی فسوں کار جال میں پھنس جائے ا±س کا بچ کر نکلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
اورکڈ مینٹِس
ملیشیا کے جنگلات میں نہ صرف بے شمار پروں والے کیڑے ہیں بلکہ اِن کو ضیافت سمجھ کر فائدہ ا±ٹھانے والے ان گنت شکاری بھی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر اِن کیڑوں نے کھائے جانے سے بچنا ہے تو اِن کو بجلی جیسا تیز رفتار ہونا پڑے گا تاکہ یہ آسانی سے پکڑے نہ جا سکیں۔
لیکن شکاریوں کے جبڑوں سے بچنے والے یہ کیڑے اِن خوش رنگ پھولوں سے دور نہیں رہ سکتے جن کے زرگل اور رس کو یہ بہت پسند کرتے ہیں۔
اورکڈ مینٹِس نے اپنے پورے جسم کو ایک خوبصورت اور پ±رفریب بھیس میں ڈھک رکھا ہے۔ پھول کی مانند روپ اختیار کر کے اپنی تیز نظر اور مہلک ضرب کے ساتھ یہ مینٹس دنیا کے چالاک اور خطرناک ترین شکاریوں میں سے ہیں۔
لیکن اِس ’جعلی پھول‘ میں اور بھی خصوصیات ہیں۔ ایک بڑھتے ہوئے مینٹس کو ہر دو دن بعد کھانا چاہیے ہوتا ہے کیونکہ یہ پھولوں کی طرح زیادہ عرصہ انتظار نہیں کر سکتے۔ ایک کامیاب حملے کے لیے کسی کیڑے کو اِس کی پہنچ میں آ کر بیٹھنا ہوتا ہے۔
جب سے فطرت کے ماہرین نے ا±نیسویں صدی میں اِس نسل کو ڈھونڈا، تب سے ا±ن کو اِس مینٹس کی کامیابی کے راز پر شک ہے، بالخصوص اِس لیے کہ یہ ا±س پھول سے بھی زیادہ مقبول ہے جس کی یہ نقل ا±تار رہا ہے۔
سائنس دانوں نے اب سمجھا ہے کہ یہ نقل کے مقابلے میں بھی کئی گنا آگے ہے۔ چونکہ ایک پھول کی شوخی کی کشش سے کیڑے کھینچے چلے آتے ہیں، یہ مینٹس اصلی پھول کی نسبت نہ صرف اپنی شکل مزید دل کش بنا لیتا ہے بلکہ رنگ بھی مزید چمکدار کر لیتا ہے۔

ایک شخص جس کا ذاتی دکھ درختوں سے محبت میں بدل گیا

لاہور( ویب ڈیسک ) کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دنیا میں کچھ ایسا کر جاتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد بھی انھیں یاد رکھا جاتا ہے۔دنیا بھر سے ایسے بہت سے ناموں میں ایک نام وشویشور دت ساکلانی کا بھی ہے۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے ساکلانی نے اپنی آخری سانس 96 برس کی عمر میں رواں سال کے آغاز میں لی، لیکن وہ کچھ ایسا کرگئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے ہم وطن ان کا نام بطور’ٹری مین آف اتاراخان’ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

ساکلانی نے اپنی تمام زندگی درخت لگانے میں گزار دی۔ اس اکیلے شخص نے اپنے بنجر آبائی گاو¿ں میں 50 لاکھ درخت لگا کر اسے ہرے بھرے جنگل میں تبدیل کر دیا۔

ساکلانی نے اپنی زندگی کا پہلا درخت آٹھ سال کی عمر میں لگایا اور پھر تمام زندگی یہی کام کیا جب تک ان بینائی نے ان کا ساتھ دیا۔ تاہم تب تک ان کا آبائی گاو¿ں پجارگاو¿ں بنجر چٹانوں سے ایک سرسبز جنگل میں تبدیل ہوچکا تھا۔

سکلانی کی پودوں سے محبت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔وہ درختوں کو اپنا بچہ یا اپنا دوست کہتے تھے۔لیکن یہ بات کم لوگ ہی جانتے ہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں درخت لگانے والے اس شخص نے اس طرح اپنے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوشش کی ہے۔

ان کے رشتے دار بتاتے ہیں کہ سکلانی اپنے سگے بھائی کے انتقال کے بعد روز پورے دن کے لیے جنگلوں میں گم ہوجاتا تھا اور وہاں پودے لگاتا رہتا تھا۔1985 میں اپنی پہلی بیوی کے انتقال کے بعد اپنے درد کو ہلکا کرنے کے لیے سکلانی نے مزید درخت لگانے شروع کر دیے۔

ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سکلانی نے اپنے مرحوم بھائی اور مرحومہ بیوی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یہ بیڑا اٹھایا ہے۔

سکلانی کے گاو¿ں کے لوگ اس کاوش کی وجہ سے ان سے بہت عقیدت رکھتے ہیں۔ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔شروع شروع میں گاو¿ں کے لوگ سکلانی کے اس عمل کی مخالفت کرتے رہے یہاں تک انھیں مارا پیٹا بھی گیا۔

ان تمام مشکلات کے باوجود سکلانی نئے درختوں کو لگاتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے عدالتی فیصلہ بھی حاصل کر لیا کہ درخت اگانا کوئی جرم نہیں ہے۔

سکلانی اپنے جنگل کو دس سال تک بڑھاتے رہے۔بینائی کھو دینے کے بعد انہوں نے یہ کام روک دیا۔لیکن اس وقت تک وہ 120 ایکڑ پر 50 لاکھ درخت لگا چکے تھے۔

ماحول کو بچانے کے لیے کوششیں کرنے پر انھیں 1986 میں اندرا پریا درشانی ایوارڈ سمیت کئی دیگر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

کچھ سال قبل ساکلانی کو اپنے پیاروں کے بچھڑنے کے دکھ کے بعد ایک اور دکھ بھی اٹھانا پڑا۔ جنگل میں لگ جانے والی آگ کے باعث ساکلانی کے کئی عزیز درخت جل کر راکھ ہوگئے صرف اتنا ہی نہیں ان کے اپنے گاو¿ں کے کچھ لوگ ان درختوں کو نقصان پہچانے کے درپے رہتے ہیں۔

اس صدمے کے باوجود سکلانی کا یقین تھا کہ ہر بارش میں یہ درخت واپس اگتے رہیں گے۔

سکلانی کے بیٹے کا کہنا ہے کہ اس کے والد ان درختوں کو اپنے 50 لاکھ بچے کہتے تھے اور اب میں اپنے والد کو ان ہی جنگلوں میں ڈھونڈوں گا۔

حمزہ شہباز کے گھر خوشیاں ہی خوشیاں ، والد بن گئے

لاہور (ویب ڈیسک ) نجی ٹی وی سٹی 42 نے دعویٰ کیاہے کہ اپوزیشن لیڈر اور چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی شہبازشریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف کے گھر بیٹی پیدا ہوئی ہے۔تفصیلات کے مطابق مشکلات میں گھرے شریف خاندان کے گھر خوشیاں آ گئیں ہیں اور شہبازشریف دادا بن گئے ہیں جبکہ سلمان شہباز چچا بن گئے ہیں۔ شہباز شریف نے پوتی کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کیا۔بچی کی پیدائش لندن میں ہوئی۔ قریبی ساتھیوں اور عزیز و اقارب نے حمزہ شہباز کو بیٹی کی پیدائش پر مبارکباد دی ہے۔یاد رہے کہ حمزہ شبہازشریف ای سی ایل سے نام نکالے جانے کے بعد لندن روانہ ہو ئے تھے۔

کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا انوکھا طریقہ

لاہور (ویب ڈیسک ) کتاب کی اہمیت سے کون انکاری ہے۔ دنیا کی ہر زبان، ہر مذہب، ہر مہذب معاشرہ ‘کتاب’ کو سب کچھ مانتا ہے۔

اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے میکسیکو سے تعلق رکھنے والے ایک آرٹسٹ جارج مینڈیز بلیک نے ‘دی کیسل’ نامی ایک فن پارہ تخلیق کیا ہے۔

اس فن پارے کو تخلیق کرنے کے لیے آرٹ کی قسم انسٹالیشن کا سہارا لیا گیا ہے۔ اس قسم میں اصلی چیزوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنا پیغام دیکھنے والوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

جارج کا مقصد ایسے بیرونی عوامل کی طرف توجہ دلانا تھا جو کسی بھی بنیاد میں تبدیلی لا سکتے ہیں جیسے کہ کتاب۔ اس کے لیے آرٹسٹ نے 75×13 فٹ کی ایک دیوار اینٹوں سے چنی اور اس دیوار کی بنیاد میں ا±س نے جرمنی سے تعلق رکھنے والے مصنف فرانز کافکا کے ناول ‘دی کیسل’ کی ایک کاپی رکھ دی۔

فوٹو کریڈٹ؛ دس از کولوسل ڈاٹ کام
دیوار کا وہ حصہ جہاں بنیاد میں کتاب موجود تھی وہ بقیہ دیوار کی طرح ہموار نا رہا بلکہ وہ حصہ ابھرا ہوا نظر آنے لگا، یہ ابھار تبدیلی یا فرق کی طرف اشارہ تھا۔

جارج نامی آرٹسٹ نے کافکا کے ناول کو دیوار کی بنیاد میں اس مصنف کی زندگی اور افکار کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے رکھا۔ اس کا بنیادی مقصد یہ بتانا بھی تھا کہ کیسے ایک خیال یادگار اور پ±راثر ثابت ہو سکتا ہے۔

ذیابیطس سے بچاؤ کیلیے نیچروپیتھی کیا کہتی ہے؟

لاہور (ویب ڈیسک ) خالقِ کائنات نے انسان کی تخلیق فطری اصولوں کے عین مطابق کی ہے۔ جب تک وہ فطرت اور فطری طریقوں پر عمل پیرا رہتا ہے تب تک ہر دو طرح کے جسمانی وروحانی مسائل سے محفوظ رہتا ہے۔ جونہی فطرت سے متصادم راستے اپنانے کی کوشش کرتا ہے تو معلوم اور نا معلوم بے شمار مسائل میں گھر کے رہ جاتا ہے۔
انسانی جسم ایک خود کار مشین کی طرح کام سر انجام دیتا ہے۔ اس میں پائے جانے والے لا تعداد نظام اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی ذمے داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔ جب بھی کوئی بیرونی عنصر جسم کے کسی ایک نظام کی کارکردگی میں دخل اندازی کرتا ہے تو ردِ عمل کے طور پر انسانی جسم جن علامات کا اظہار کرتا ہے ماہرین اسے مرض کا نام دیتے ہیں۔
زیر نظر مضمون میں ہم نیچرو پیتھی( یادرہے کہ فطری عمل کی حد بندی میں صحت کے اصول کو ’نیچروپیتھی‘ کا نام دیا گیا، اس طریقہ علاج کے مطابق فطری اور سادہ غذائیں، پھل، سبزیاں، کھلی دھوپ،غسل اور ورزش وغیرہ ہی اصل صحت کے اصول ہیں۔ اس کے موجد ڈاکٹر لوئس کوہنی ہیں اس فن علاج کی تاریخ 150 سال پرانی ہے) کے حوالے سے چند معروضات سپردِ قلم کریں گے کہ ذیابیطس کیا ہے؟ اور اس سے بچاو¿کیسے ممکن ہے؟
ذیابیطس کا شمارموجودہ دور کے خطرناک اور تکلیف دہ امراض میں ہوتا ہے۔لوگ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے چکر میں کڑوی اشیا کا بڑی وافر مقدار میں استعمال کرتے ہیں۔ذیابیطس کے لیے استعمال کی جانے والی جڑی بوٹیوں میں چرائتہ،پنیر ڈوڈی،نیم،حنظل(تمہ) اور کریلا وغیرہ شامل ہیں۔
عوام الناس شاید یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ تلخی اور کڑواہٹ مٹھاس کی ضد ہے۔ یوں کڑوی چیزیں کھانے سے ذیابیطس کا خاتمہ ہو جائے گاحالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے کیونکہ طبی ماہرین کے ایک جماعت کے مطابق ذیابیطس کسی ایک علامت یا بیماری کا نام نہیں ہے بلکہ یہ کئی ایک علامات اور عوارض کے مجموعے کا نام ہے جو غذائی ردِ عمل کے طور پر سامنے ا?تا ہے۔
یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر ذیابیطس کے مریض اپنے معمولات ِ زندگی اور روز مرہ غذاو¿ں میں ردو بدل کرلیں تو وہ کافی حد تک اس کے مضر اثرات اور مہلک کیفیات سے محفوظ رہنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
ذیابیطس کی علامات پیدا کرنے والے اسباب کو دور کر دینے سے نہ صرف اس کی ظاہری علامات ختم ہوجاتی ہیں بلکہ مریض کی صحت بھی مکمل طور پر بحال ہوجاتی ہے۔ نیچرو پیتھی کی رو سے عام طور پر ذیابیطس کی پانچ اقسام ہیں: معوی ،معدی ،کبدی دماغی اور بانقراسی اور ان کے پیدا کرنے میں درج ذیل عوارض اور اعضا کی خرابی شامل ہوتی ہے۔
معوی ذیابیطس
امعائ یا انتڑیوں کی خرابی سے پیدا ہونے والی ذیابیطس، انتڑیوں کی کار کردگی میں خرابی واقع ہوجانے سے بھی ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔اگر ابتدائی طور پر اس خرابی کو دور کر دیا جائے تو ذیابیطس کی علامات بھی خود بخود ختم ہوجاتی ہیں۔انتڑیوں کی خرابی میں دائمی قبض،انتڑیوں کی سوزش،انتڑیوں کی حرکاتِ دودیہ میں نقص واقع ہونا، انتڑیوں میں زہریلی گیسوں کا ٹھہر جانا اورخشکی کی تہہ بن جانا وغیرہ شامل ہیں۔
انتڑیوں میں فاضل مادوں کے زیادہ دیر تک رکے رہنے کی وجہ سے تعفن پیدا ہو جاتا ہے۔ اجابت کھل کر نہیں ہوتی۔مریض پیٹ میں بھاری پن اور بوجھ سا محسوس کرتا ہے۔دن میں کئی بار رفع حاجت کی خواہش تو ہوتی ہے مگر فراغت نہیں ہو پاتی۔اکثر اوقات امراضِ امعا میں مبتلا افراد کو چھوٹا پیشاب بار بار ا?نے لگتا ہے اور ہر بار پاخانہ بھی قلیل مقدار میں خارج ہوتا ہے رہتا ہے۔ راقم الحروف کی ذاتی پریکٹس میں اس طرح کے بے شمار مریض ا?چکے ہیں جن کی انتڑیاں درست ہوتے ہی ذیابیطس بھی جان چھوڑ گئی۔
علاوہ ازیں ماہرین طب جانتے ہیں کہ انسانی جسم کی عمدہ کاکردگی میں 80% تک انتڑیوں کی بہتر کارکردگی کا عمل دخل ہوتا ہے۔انتڑیوں کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ ثقیل،نفاخ اور دیر ہضم غذاو¿ں کا بے دریغ اور تواتر سے استعمال ہے۔انتڑیوں کی خرابی سے پیدا ہونے والی ذیابیطس کو معوی شوگر کا نام دیا جاتا ہے۔
یہاں یہ امر قابل وضاحت ہے کہ جو معالجین اسبابِ مرض کو دور کرنے پر توجہ دیتے ہیں اور ظاہری علامات کی بجائے) Basic Root (جڑ کو اکھاڑنے کی تگ و دو کرتے ہیں وہ مریض کو اس کے مرض سے نجات دلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔مثلاََ معوی ذیابیطس کا علاج کرتے وقت اگر انتڑیوں کی کار کردگی کی درستگی پر دھیان دیا جائے گا تو خرابی دور ہو جانے کی صورت میں ظاہری علامات بھی ختم ہو جائیں گی۔
معدی ذیابیطس
بعض اوقات معدے کی خرابی کے باعث ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں جسے معدی ذیابیطس کہا جاتا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں میں سے اکثریت کو کھانے کی طلب بار بار ہوتی ہے اور یوں مریض اور معالج یہ سمجھ لیتے ہیں کہ معدہ اپنا فعل درست طریقے سے سر انجام دے رہا ہے حالانکہ یہ نظریہ یا خیال درست نہیں ہے بلکہ علمِ طب کی رو سے بار بار کھانے کی طلب اور وقت بے وقت بھوک کی شدت کا احساس ہونا الگ سے ایک بیماری ہے جسے جو ع ابقر کا نام دیا جاتا ہے۔یہ معالج کی ذمے داری ہے کہ وہ مرض کی تشخیص مکمل سوجھ بوجھ سے کرے اور اسباب کے خاتمے پر دھیان دیتے ہوئے معدے کے امراض کا علاج کرے۔انشا ئ اللہ معدی ذیابیطس کی علامات کا خاتمہ ہوجائے گا۔
کبدی ذیابیطس
کبد جگر کا دوسرا نام ہے لہٰذا ایسے افراد جو کافی عرصے تک جگری امراض میں مبتلا رہتے ہیں بعض اوقات ذیابیطس کی علامات انہیں بھی تنگ کرنے لگتی ہیں۔اگر امراضِ جگر کے علاج پر توجہ دی جائے تو مریض ذیابیطس کے چنگل سے چھٹکارا پانے میں بھی کامیاب ہوجاتا ہے۔عام طور پر امراضِ جگر میں غلبہ? صفرا اور سودا،جگر کے سدے، جگر کی سوزش (Hepatitis) وغیرہ شامل ہیں۔ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ جگر کی خرابی میں پتے اور تلی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ صفرا کا مرکز پتہ ہے جبکہ تلی سودا کا گھر ہے۔لہٰذا ذیابیطس کے اسباب میں پتہ اور تلی بھی شامل ہو سکتے ہیں۔دورانِ علاج معالج کی معالجاتی بصیرت پر دار ومدار ہوتا ہے کہ مرض کی تشخیص کس سطح پر جا کر کرتا ہے۔
دماغی ذیابیطس
ہمارے سر میںدماغ کے قریب بلغم پیدا کرنے والا غدود پایا جاتا ہے۔ ایسے افراد جن کا مزاج بلغمی ہوتا ہے ،جسم میں بلغم کی مقدار ضرورت سے زیادہ جمع ہو جانے سے بھی بعض اوقات ذیابیطس کی علامات ستانے لگتی ہیں۔ایسی ذیابیطس کو دماغی کہا جاتا ہے۔علاوہ ازیں ذہنی امراض کے نتیجے میں حملہ ا?ور ہونے والی ذیابیطس کو بھی برین شوگر کہا جاتا ہے۔دماغی ذیابیطس کا رجحان ایسے افراد میں زیادہ پایا جاتا ہے جو بات بے بات ٹینشن،ڈپریشن اور ذہنی اضطراب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ویسے بھی علمِ طب کی رو سے کسی ایک اخلاط کی کمی یا زیادتی امراض کا باعث بن جاتی ہے۔ بلغم کی زیادتی خون میں شامل ہوکر نظامِ دورانِ خون کو متاثر کرتی ہے جس سے بلڈ شوگر کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔
جنرل ذیابیطس
عام حملہ ا?ور ہونے والی ذیابیطس بانقراس یا لبلبہ کے فعل میں خرابی پیدا ہونے سے واقع ہوتی ہے۔ لبلبہ ایک ایسا غدود ہے جو جسم میں انسولین کی مطلوبہ ضرورت کو پوری کرتا ہے۔چکنائیوں کے بے دریغ استعمال سے اس کے فعل میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے چونکہ بدنِ انسانی میں شوگر لیول کو قابو میں رکھنا انسولین کا کام ہے۔ لہٰذا انسولین کی کمی یا زیادتی سے شوگر لیول متاثر ہو جا تا ہے اور ذیابیطس کی تکلیف دہ علامات سامنے ا?نے لگتی ہیں۔یاد رہے کہ بانقراس کے فعل میں خرابی غیر معیاری خوراک،سہل پسندی اور دیگر ماحولیاتی عناصر سے پید اہوتی ہے۔لبلبے کی خرابی سے حملہ ا?ور ہونے والی ذیابیطس کو بانقراسی یا جنرل ذیابیطس کہا جاتا ہے۔
خوراک اور روز مرہ معمولات کے حوالے سے چند معروضات
یوں تو ورزش سب کے لیے فائدہ مندہے لیکن ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہو نے کے ساتھ ساتھ سو گنا زیادہ ضروری بھی ہے۔ ورزش کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنالیں۔ ایسے مریض جو تبخیر،گیس اور تیزابیت میں مبتلا ہوں وہ کھیرااور بند گوبھی کو بطورِ سلاد استعمال نہ کریں۔چاول،پھول گوبھی ، بیگن، مونگرے شملہ، بھنڈی اور دال ماش بھی ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
ایسے مریض جنہیں پیشاب بار بار ا?نے کی تکلیف لاحق ہو وہ چائے اور کولا مشروبات وغیرہ سے ممکنہ حد تک بچیں پھلوں میں خربوزہ ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کھانے سے پہلے نہانا اور نہانے کے فوراََ بعد کھانا بھی امراض کا سبب بنتا ہے۔علاوہ ازیں نہانے کے بعد پانی پیناتو ازحد نقصان دہ ہوتا ہے۔ شوگر کے مریضوں کے لیے کیلا بھی تکلیف بڑھانے کاذریعہ بن سکتا ہے۔
البتہ ایسے افراد جنہیں ذیابیطس غلبہ صفرا کی وجہ سے ہو ان کے لیے کیلا مفید ہوتا ہے۔ناشتے میں دہی،روغنِ بادام اور خالص شہد کو لازمی شامل کریں یہ قوتِ مدافعت میں اضافے کا قدرتی ذریعہ ہیں۔ قبض میں مبتلا افراد کو تیز جلاب ا?ور ادویات سے پرہیز کرنا چاہیے۔کچی سبزیاں اورپھل قبض سے بچاو¿ کا بہترین ذریعہ ہیں۔بازاری مٹھائیوں با لخصوص چاکلیٹی مصنوعات سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔
ذیابیطس کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ بینگن،دال مسور، چاول اور بڑے گوشت سے حتی المقدور دور رہیں۔ مولی بطورِ سلاد کھانے سے پرہیز کریں ہاں البتہ پتوں سمیت پکا کر اس کے غذائی فوائد سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ ذیابیطس سے بچاو¿ اور اس کے خاتمے کے لیے سنے سنائے ٹوٹکوں اور خود معالجاتی طرزِ عمل سے بچا جائے اور کسی ماہر معالج اور نیچرو پیتھ کے مشورے سے غذا اور دوا کا استعمال کیا جائے تو ہم مکمل وثوق سے کہتے ہیں کہ ذیابیطس سے بچاو¿ ممکن ہے۔

سام سنگ کا سستا گلیکسی ایس 10 ای کیسا ہوگا؟

لاہور( ویب ڈیسک ) سام سنگ کی جانب سے 20 فروری کو گلیکسی ایس 10 سیریز کے 3 اسمارٹ فونز متعارف کرائے جارہے ہیں تاکہ گزشتہ سال پیش کیے جانے والے تین آئی فونز کا مقابلہ کیا جاسکے۔

ان میں سے ایک گلیکسی ایس 10 ای (یہ نام مختلف لیکس کے مطابق مصدقہ ہے)، دوسرا گلیکسی ایس 10 اور تیسرا گلیکسی ایس 10 پلس ہے۔

ان تینوں فونز میں ہارڈوئیر تو ایک جیسا ہوگا مگر سستا ماڈل یعنی ایس 10 ای میں ڈیزائن، فنگر پرنٹ سنسر ٹیکنالوجی اور کیمرا سسٹم دیگر 2 فونز کے مقابلے میں کچھ کم خوبیوں کا مالک ہوگا۔

چند دن قبل ایس 10 کی پہلی مکمل تصویر بھی سامنے آئی تھی مگر اب مزید لیکس سے اس کے باقی ماندہ رازوں کو بھی فاش کردیا گیا ہے۔

سلیش لیکس نے گلیکسی ایس 10 ای کی حقیقی تصاویر کو لیک کیا ہے جس میں یہ فون آن ہورہا ہے اور اس کا نام بھی لکھا نظر آرہا ہے۔

ایک اور تصویر سے فون کے فلیٹ اسکرین ڈیزائن کا انکشاف ہوتا ہے جبکہ سنگل سیلفی کیمرا یا انفٹنی او ڈسپلے نظر آتا ہے۔

آب و ہوا میں تبدیلی سے سمندروں کا رنگ بدل جائے گا

بوسٹن (ویب ڈیسک ) آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمٹ چینج) سے نہ صرف ماحول کا بیرون متاثر ہورہا ہے بلکہ اہم قدرتی مقامات اندر سے بھی بدل رہے ہیں۔ اب تازہ خبر یہ ہے کہ اس صدی کے اختتام تک 50 فیصد سمندروں کے پانی کی رنگت تبدیل ہوجائے گی اور وہ قدرے نیلی اور گہری سبز رنگت اختیار کرجائیں گے۔میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ماہرین نے حساس آبی ماحولیاتی نظام کو دیکھتے ہوئے ایک کمپیوٹر ماڈل بنایا اور اس کی تفصیلات شائع کرائی ہیں۔ تاہم تبدیلی رنگ بدلنے تک محدود نہیں بلکہ یہ سمندری صحت میں سنجیدہ تبدیلیوں کی علامت بھی ہوگا۔اس وقت انسانی مداخلت سے سمندروں کے مرجانی چٹانیں (کورل ریف) تباہ ہورہے ہیں، ان میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھ رہی ہے اور سمندروں کا درجہ حرارت بدل رہا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب سورج کی روشنی پانی کے سالمات (مالیکیول) سے گزرتی ہے تو وہ کچھ شعاعوں کو جذب کرلیتے ہیں اور نیلی رنگت والی روشنی کو منعکس کردیتے ہیں اور اس طرح سمندری پانی نیلا دکھائی دیتا ہے۔
لیکن سمندر محض پانی کا مجموعہ نہیں بلکہ اس میں ہرجسامت ، شکل اور قسم کی حیات موجود ہے۔ پھر سمندری مرجانی چٹانیں ا?بی حیات کی نرسریاں کہلاتی ہیں اور سمندروں کی رنگت ان کا حال بھی بیان کرتی ہے۔ سب سے بڑھ کرپانی پر تیرتے خردبینی فائٹو پلانکٹن ( باریک الجی) دھوپ میں موجود نیلی روشنی جذب کرکے سبز روشنی لوٹاتےہیں۔
ماہرین نے کمپیوٹر ماڈلنگ سے بتایا کہ ا?ب وہوا میں تبدیلی سے فائٹوپلانکٹن کی شرح اور کیفیت بدلے گی اور وہ قدرے زیادہ سبز رنگت خارج کریں گے۔ یہ تبدیلی سمندروں میں تیزابیت بڑھنے سے واقع ہوگی۔ یہ کمپیوٹر نقول (سیمولیشن) ثابت کرتی ہے کہ گرین ہاو¿س گیسوں کے اخراج سے صدی کے اختتام تک اوسط درجہ حرارت تین درجے بڑھ جائے گا اور یوں سمندروں کا رنگ بھی بدلے گا۔

پاکستان میں ویسٹ نائل وائرس کی موجودگی کا انکشاف

اسلام آباد( ویب ڈیسک ) پاکستان میں پہلی مرتبہ ویسٹ نائل وائرس (ڈبلیواین وی) کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کی موجودگی کے بعد ماہرین نے فوری طور پر اس پر مزید تحقیق اور توجہ کا مشورہ دیا ہے۔ ایک مچھر سے پھیلنے والا یہ وائرس کئی طرح کےدماغی و اعصابی امراض کی وجہ بنتے ہوئے مریض کی جان بھی لے سکتا ہے۔
مچھروں سے پھیلنے والے وائرس سے متاثر ہونے کے بعد 20 فیصد واقعات میں بخار، دردِ سر اور قے ا?تی ہے تاہم ایک فیصد سے کم واقعات میں دماغ متاثر ہوتا ہے اور مریض ہلاک بھی ہوسکتا ہے۔ ویسٹ نائل وائرس سے دماغی سوزش (اینسیفلائٹس)، دماغی بافتوں کی سوجن اور گردن توڑ بخار بھی ہوسکتا ہے۔
یہ تحقیق گزشتہ ماہ انٹرنیشنل جرنل ا?ف انفیکشئس ڈیزیز میں شائع ہوئی ہے۔ صوبہ پنجاب میں 2016 سے 2018 تک خون کا عطیہ دینے والے 1,070 افراد کے خون کے نمونوں کی ا?زمائش کی گئی۔ لیکن نب ڈاکٹروں نے 2016 سے 2017 تک 4500 مچھروں کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ ویسٹ نائل وائرس ایک مختلف انداز سے زیرِ گردش ہے۔
اس پر تحقیق کرنے والے سینیئر ماہر محمد ثاقب فیصل ا?باد یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مصنف ہونے کی بنا پر انہوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر یہ وائرس مچھروں کے کاٹنے سےپھیلتا ہے لیکن پاسکتان میں یہ خون کی منتقلی سے پھیل رہا ہے جو ایک بہت سنجیدہ مظہر ہے۔
ڈاکٹر محمد ثاقب اور اس پر تحقیق کرنے والے چینی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستانی عوام اس وائرس کی زد میں ہیں اور فوری طورپر نگرانی، اسکریننگ اور رپورٹنگ و علاج کی سہولیات فراہم نہ کرنے سے معاملہ مزید گھمبیر ہوسکتا ہے۔
1990 کے بعد سے اب تک ویسٹ نائل وائرس کے ایسی وبائیں تیزی سے پھوٹی ہیں جو دماغی امراض کی وجہ بنیں اور اس طرح عوام کے لیے خطرہ ثابت ہوتی رہی ہیں۔ تاہم جینیاتی تجزیوں سے اس کی کئی اقسام یا لینیج سامنے ا?ئی ہیں۔ ان میں خاص طور پر 1999 میں نیویارک میں سامنے ا?نے والی لینیج ون مشہور ہے جو دماغی امراض کی وجہ بن سکتی ہے۔
اسی لحاظ سے پاکستان میں پایا جانے والا وائرس بھی ڈبلیو این وی کی لینیج ون سے تعلق رکھتا ہے۔ وائرس کی یہ قسم بھارت، روس، ا?سٹریلیا اور دیگر مقامات پر وبا کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ اس ضمن میں ا?غا خان یونیورسٹی میں خردحیاتیات کی ماہر اِرم خان نے بتایا کہ پاکستان میں مچھروں سے فروغ پانے والے امراض کی شدت، کیفیت اور پھیلاو¿ کو اب تک سمجھا ہی نہیں گیا۔ اس کی وجہ نگرانی اور رپورٹنگ کے باقاعدہ نظام کا نہ ہونا بھی ہے۔
ارم خان نے بتایا کہ اس ضمن میں ان کا ادارہ یونیورسٹی ا?ف فلوریڈا میں نئے جراثیم اور وبائیات کے مرکز سے رابطے میں ہے اور پورے ملک میں ویسٹ نائل وائرس کی نشاندہی، رپورٹنگ اور نگرانی کا ایک باقاعدہ نظام بنایا جارہا ہے۔ اگلے مرحلے میں ان کی روشنی میں حکومت کو سفارشات بھی بھیجی جائیں گی۔

امریکی شخص نے پہاڑی تیندوے کو ہاتھوں سے مارڈالا

بولڈرسٹی، امریکہ(ویب ڈیسک ): امریکا میں جاگنگ میں مصروف ایک شخص نے حملہ ا?ور رتیندوے سے زخمی ہونے کے باوجود اسے ہلاک کردیا۔ یہ عمل اس نے خود کو بچانے کے لیے کیا جس میں ماو¿نٹین لائن کا ایک بچہ مارا گیا ہے۔
اس شخص کی شناخت جاری نہیں کی گئی ہے تاہم اتنا کہا گیا ہے کہ بولڈرمیں واقع ہارس ٹوتھ ماو¿نٹین پارک جاگنگ کے دوران ایک شخص نے اپنے عقب میں کسی جانور کے غرانےکی ا?واز سنی اور جیسے ہی اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک پہاڑی تیندوا اس پر حملہ ا?ور ہوچکا تھا۔
جانور نے اسے چہرے اور کلائی کو زخمی کردیا لیکن اس نےہمت نہیں ہاری۔ کولاراڈو اینڈ وائلڈ لائف نارتھ ایسٹ ریجن کے مطابق شخص زخمی ضرور ہوا ہے لیکن اس کی جان کو اب کوئی خطرہ نہیں۔ تاہم وائلڈ لائف اہلکاروں نے نوعمر چیتے کی لاش ڈھونڈ نکالی جس کا وزن 80 پونڈ بتایا جارہا ہے۔
اگرچہ جانور کی لاش کا معائنہ کیا جائے گا لیکن ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گلا یا دم گھٹنے سے مرا ہے۔ دوسری جانب وائلڈ لائف اہلکاروں نے مشورہ دیا ہے کہ اگر ماو¿نٹین لائن کا سامنا ہوجائے تو دوڑنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ دوڑنے سے جانور ا?پ کو شکار سمجھتے ہوئے ا?پ کےپیچھے دوڑنے لگتا ہے۔
جانور کے ایک اور ماہر نے بتایا کہ اس درندے کو پیٹھ دکھانے کے بجائے پورے قد سے کھڑے ہوں، ہاتھوں کو بلند کیجئے اور اگر جیکٹ پہنی ہے تو اسے کھول دیجئے۔ اس طرح جانور سمجھتا ہے کہ ا?پ اس کے شکار نہیں بلکہ خود اس کے لیے کوئی خطرہ ہیں۔

روسی کمپنی پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی

اسلام آباد( ویب ڈیسک ) روسی کمپنی پاکستان میں تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے گی تاہم انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم اور گازپروم کمپنی میں معاہدہ طے پا گیا۔پٹرولیم ڈویڑن میں روسی وفد نے وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور روس کے مابین تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار سے متعلق بیشتر امور زیر بحث آئے،اس موقع پر روسی وفد میں شامل گازپروم کمپنی کے سربراہ ویٹیلی اے مرکالوف اور انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم پاکستان کے مینیجنگ ڈائریکٹر مبین صولت نے انٹر کارپوریٹ ایگریمنٹ پر دستخط کیے۔معاہدے کے تحت روسی کمپنی گازپروم پاکستان میں ماورائے ساحل تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کے شعبے میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہے،وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل غلام سرور خان نے روس کی پاکستان میں تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کو خوش ا?ئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ پاکستان اور روس کے مابین باہمی تعاون کے فروغ کا ا?ئینہ دار ہے۔اس معاہدے کے تحت روسی کمپنی مشرق وسطیٰ سے گیس مالیکیولز پائپ لائن کے ذریعے پاکستان لائے گا۔ اس بات کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا کہ مشرق وسطیٰ سے پائپ لائن کے ذریعے برا?مد کیے گئے یہ مولیکیول ساو?تھ ایشین ممالک تک لے جاے جا سکتے ہیں۔پٹرولیم ڈویڑن کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس معاہدے کے تحت روس پاکستان کو روزانہ 500 ملین سے ایک بلین کیوبک فٹ گیس فراہم کرے گا، جو سمندری راستے سے پاکستان پہنچائی جائے گی جبکہ پائپ لائن کی تعمیر ا?ئندہ 3 سے 4 سال کے دوران مکمل کر لی جائے گی۔
روسی وفد کے سربراہ ویٹیلی اے مرکالوف نے وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان کو روس کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے جو قبول کرتے ہوئے غلام سرور خان نے خیر سگالی کے جذبے کو سراہا۔