وسیم خان کے انتخاب میں شفاف طریقہ کار اپنایا گیا ،احسان مانی

لاہور (این این آئی)پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین احسان مانی نے کہا ہے کہ وسیم خان کے انتخاب میں شفاف طریقہ کاراپنایا گیا،ان سے پاکستان کرکٹ کو بہت فائدہ ہوگا،چیئرمین کا کام بورڈ کو لیڈ کر نا ہوتا ہے ،پی سی بی کوپروفیشنل آرگنائزیشن بناناچاہتا ہوں ،،شرجیل خان کو ابھی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے، پاکستانی ٹیم میں کسی قسم کی کوئی سیاست نہیں ہے، پوری ٹیم سرفراز احمد کے پیچھے کھڑی ہے،بھارت کے ساتھ فوری طور پر سیریز شروع نہیں ہوسکتی اس کےلئے بھارتی انتخاب کا انتظار کرنا ہوگا۔ اتوار کو یہاں پی سی بی کے نئے ایم ڈی وسیم خان کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئر مین پی سی بی نے کہاکہ چیئرمین کا کام بورڈ کو لیڈ کرنا ہوتا ہے،پی سی بی کو پروفیشنل آرگنائزیشن بنانا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ وسیم خان آسٹریلیااور نیوزی لینڈ میں بھی کھیلے ہوئے ہیں اور پاکستان کےلئے بھی کھیلے ہوئے ہیں، پی سی بی کو ایسا ادارہ بنانا چاہتا ہوں جو دنیا میں کسی ادارے سے کم نہ ہو ، وسیم خان کی لیڈر شپ کا کوئی ثانی نہیں۔احسان مانی نے کہا کہ وسیم خان کاﺅنٹی کی سربراہی کرنے والے پہلے جنوبی ایشیائی ہیں،انہوں نے بطور چیف ایگزیکٹو کاﺅنٹی کو بھی ہیڈ کیا ہے، وہ پہلے پاکستان نژاد برطانوی ہیں جنہوں نے کاﺅنٹی کرکٹ میں معاہدہ کیا۔چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ آئین کے جائزے پر کام ہو رہا ہے، ان کے پاس کمرشل ،بزنس تجربہ بھی ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ پی سی بی نے شرجیل خان کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجات نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ،شرجیل خان کو ابھی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ انہوںنے کہا کہ شرجیل خان کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنی ہے تو ستمبر تک انتظار کریں،ستمبر کے بعد شرجیل خان کو ری ہیب پروگرام پرعمل کرنا ہوگا،ری ہیب پروگرام پورا کرنے شرجیل خان کرکٹ کیلئے دستیاب ہوں گے۔نجی ٹی وی کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسان مانی نے کہاکہ تینوں فارمیٹس کےلئے سرفراز احمد کو کپتان بنانے میں کوئی ہرج نہیں، ورلڈ کپ تک سرفراز احمد کو قیادت سونپی گئی ہے اور ورلڈ کپ کے بعد ا±ن سے مشورہ کریں گے کہ وہ خود کیا چاہتے ہیں۔چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ہمیں ٹیم کے لئے لیڈر بنانے کی ضرورت ہے، ورک لوڈ کی وجہ سے سرفراز احمد کو آرام کی ضرورت تھی۔

، پابندی کے بعد سرفراز احمد کو کچھ آرام مل گیا۔قومی ٹیم کی سلیکشن پر کپتان سرفراز احمد کے کردار پر انہوں نے کہا کہ میں نے براہ راست سرفراز احمد سے پوچھا جس پر انہوں نے کہا کہ مکی آرتھر اور انضمام الحق ا±ن سے سلیکشن پر مشورہ کرتے رہتے ہیں اور ہر سلیکشن میں یہ مشورہ کیا جاتا ہے۔احسان مانی نے کہا کہ پاکستانی ٹیم میں کسی قسم کی کوئی سیاست نہیں ہے، پوری ٹیم سرفراز احمد کے پیچھے کھڑی ہے اور کوئی کھلاڑی کپتان کو گرانے کے لئے سازش یا لابنگ میں ملوث نہیں ہے اور یہ تاثر درست نہیں کہ ٹیم سیاست کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم اچھا کھیلنے کے بعد جنوبی افریقا میں ہاری اور ہم نے کھلاڑیوں سے یہی کہا ہے کہ شکست سے سیکھنے کی کوشش کریں۔احسان مانی نے کہا کہ آسٹریلیا کی سیریز میں روٹیشن پالیسی کے تحت سینئر کھلاڑیوں کو آرام دیں گے تاکہ ان کا ورک لوڈ کم ہو، ہمیں اپنے کرکٹرز میں لیڈرز تیار کرنے کی ضرورت ہے، کھلاڑیوں کو اپنے اندر بھی لیڈر شپ کوالٹی لانے کی ضرورت ہے۔احسان مانی نے کہا کہ بھارت کے ساتھ فوری طور پر سیریز شروع نہیں ہوسکتی اس کے لئے بھارتی انتخاب کا انتظار کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کرپشن پر ہماری ٹالرنس زیرو ہے، اینٹی کرپشن یونٹ کو پی سی بی سے الگ کررہے ہیں، شرجیل خان کی پابندی ستمبر میں ختم ہورہی ہے جس کے بعد انہیں ری ہیب پراسس میں جانا ہوگا، شرجیل ری ہیب کے بعد ڈومیسٹک کرکٹ کھیلیں اگر ان کی پاکستانی ٹیم میں جگہ بنتی ہے تو انہیں ٹیم میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

نسلی تعصب پر سخت سزائیں کرکٹرز کی منتظر ہوں گی

لاہور(آن لائن) پی سی بی نے انسداد نسلی تعصب کوڈ جاری کردیا ،تاہم خلاف ورزی پر سخت سزائیں کرکٹرز کی منتظر ہوںگی۔دورہ جنوبی افریقہ میں کپتان سرفراز احمد کی جانب سے نا دانستگی میں اینڈل فیلکوایو کے بارے میں جملے نسلی تعصب کے الزامات کی زد میں آئے۔

، آئی سی سی نے انھیں 4میچز کیلیے معطل کردیا۔اس واقعے سے سبق سیکھتے ہوئے وضع کیے جانے والے کوڈ آف کنڈکٹ کی منظوری جمعرات کو گورننگ بورڈ اجلاس میں دیدی گئی تھی،اب اس کی کاپی پی سی بی کی ویب سائٹ پر جاری کردی گئی ہے،17 صفحات پر مشتمل ضابطہ اخلاق کا اطلاق تمام کھلاڑیوں، مینجمنٹ امپائرز اور ریفریز پر پی سی بی کے زیر اہتمام تمام میچز کے دوران ہوگا۔انسداد نسلی تعصب کوڈ میں مصالحت کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے، پہلے مرحلے پر فریقین کی آ±پس میں اور پھر پی سی بی کی موجودگی میں مصالحت کا موقع ہوگا، پہلی بار اینٹی ریسزم کوڈ کی خلاف ورزی کرنے پر کھلاڑی یا مینجمنٹ اسٹاف کو 4سے 8 میچز کیلیے معطل کیا جا سکے گا، دوسری بار ایسی غلطی دہرائے جانے پر 8میچوں سے تاحیات پابندی تک کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، تیسری بار خلاف ورزی پر ایک سال سے تاحیات پابندی لگ سکے گی۔امپائر یا کسی میچ آفیشل نے پہلی بار ایسی غلطی کی تو ایک سے 3ماہ کی معطلی ہوگی، دوسری بار ایسا عمل دہرایا تو سزا 3ماہ سے تاحیات، تیسری مرتبہ کوڈ کی خلاف ورزی پر ایک سال سے تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا، سزایافتہ کھلاڑی یا آفیشل کو انسداد نسلی تعصب تعلیمی پروگرام میں میں شرکت کرنا ہوگی۔

بھارت میں زہریلی شراب پینے کے دو واقعات میں 70 افراد ہلاک

لکھنو (ویب ڈیسک ) بھارت میں دو مختلف واقعات میں غیر معیاری شراب پینے کے باعث 70 افراد ہلاک اور 27 افراد کی حالت غیر ہوگئی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاستوں اترپردیش اور اتر کھنڈ میں ایک ہی روز میں دو مختلف واقعات میں غیر معیاری شراب پینے کی وجہ سے مجموعی طور پر 39 ہلاکتیں ہوئیں جب کہ 27 افراد کی حالت غیر ہوگئی۔
متاثرین کے طبی معائنے اور میڈیکل ٹیسٹ میں موت کی وجہ غیر معیاری شراب ثابت ہوئی ہے جس کے بعد لاشیں لواحقین کے حوالے کردی گئیں جب کہ ناسازی طبیعت پر 27 افراد زیر علاج ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 46 افراد اترپردیش اور 24 اترکھنڈ میں ہلاک ہوئے، ان افراد نے ایک تقریب کے دوران یہ شراب پی تھی۔ پولیس نے غیر معیاری شراب بنانے اور فروخت کرنے والے 12 افراد کو حراست میں لے لیا۔
دوسری جانب صوبائی حکومت نے غیر معیاری شراب کی سپلائی روکنے میں ناکامی پر 12 پولیس اہلکار اور 23 دیگر سرکاری اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔

زرعی پیداوار بڑھانے کیلیے ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے، گورنر اسٹیٹ بینک

کراچی (ویب ڈیسک )گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے بینکوں، وفاقی وصوبائی حکومتوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارمز سے استفادہ کریں۔
طارق باجوہ نے زرعی قرضہ مشاورتی کمیٹی کے وسط مدتی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ زرعی قرضہ مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کا مختلف علاقوں خصوصاً پسماندہ علاقوں میں انعقادملک گیرسطح پرمرکزی بینک کی زرعی قرضوں کو فروغ دینے سے سنجیدہ وابستگی کااظہار کرتاہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ اجلاس بلوچستان اور ا?زاد جموں وکشمیر میں منعقد ہوئے تھے اور ہم پہلی مرتبہ حیدرا?باد میں یہ اجلاس منعقد کر رہے ہیں تا کہ علاقے میں زرعی قرضوں کو فروغ دیا جا سکے۔
جولائی تا دسمبر 2018 کے دوران زرعی قرضوں میں پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے گورنر نے زرعی قرضوں کی ترقی کے سلسلے میں بینکوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2018-19 کے دوران بینکوں نے 527.3 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جو مجموعی تفویض کردہ ہدف کا 42.2 فیصدہے اور گزشتہ برس کی اسی مدت میں تقسیم کیے گئے قرضوں سے 22 فیصد زیادہ ہے۔
گورنر نے بتایا کہ دسمبر 2018 تک واجب الادا زرعی قرضے بڑھ کر 521 ارب روپے تک پہنچ گئے جو گذشتہ برس 442 ارب روپے تھے۔ یہ اس میں 17.9 فیصد کی نمو کو ظاہر کرتا ہے۔ دسمبر 2018کے اختتام تک واجب الادا قرض گیروں کی تعداد بھی 12.8 فیصد نمو کے ساتھ بڑھ کر 3.90 ملین تک پہنچ گئی ہے جو گذشتہ برس 3.46 ملین تھی۔ گورنر نے چھوٹے اور نظرانداز کردہ کاشت کاروں کو فنانسنگ کی فراہمی پر مائیکروفنانس بینکوں اور اداروں کی کوششوں کو سراہا۔
طارق باجوہ نے نشاندہی کی کہ مالی سال 2018-19 میں معقول ترقی ظاہرکرنے کے باوجود اس صنعت کو ابھی تک طلب و رسد کے بعض چیلنجوں کا سامنا ہے۔ خاص طور پر انھوں نے زرعی قرضوں کی فراہمی میں جغرافیائی فرق کی نشاندہی کی کیونکہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں قرضوں کی تقسیم ابھی تک اپنے اہداف سے بہت کم ہے۔ اسی طرح بینکوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ چھوٹے کاشت کاروں کو پیداواری قرضے دینے پر خصوصیa توجہ مرکوز کریں۔

نقاب پوشوں نے انکل ذیشان کو گولیاں مار کر دوبارہ کار پر فائرنگ کی : عمر خلیل کا بیان

لاہور(خصوصی رپورٹر) سانحہ ساہیوال میں بچ جانے والے عینی شاہد 8 سالہ عمیر خلیل نے جے آئی ٹی کو تحریری بیان جمع کرا دیا جس میں انتہائی دردناک انکشافات کرتے ہوئے 8 سالہ عمیر خلیل نے بتایا ہے کہ نقاب پوش اہلکاروں نے فائرنگ کرکے انکل ذیشان کو مار دیا، فون پر بات کرنے کے بعد انہوں نے گاڑی پر دوبارہ فائرنگ کی،پاپا نے منیبہ کو اور ماما نے مجھے اور ہادیہ کو چھپالیا تھا،مجھے اور بہن کو گولی لگی، ایک انکل نے ہمیں ویرانے سے پمپ پر چھوڑا،ہماری گاڑی سے دہشت گردی کا کوئی سامان نہیں ملا،مقتول خلیل کے بھائیوں کے بیانات بھی قلم بند۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ ساہیوال کے متاثرین نے جے آئی ٹی کو بیان قلم بند کرا دیا ہے، بیان دینے والوں میں جاں بحق خلیل کا عینی شاہد بیٹا 8 سالہ عمیر خلیل بھی شامل ہے جس کا بیان تحریری طور پر لکھ کر جے آئی ٹی کو دیا گیا ہے۔بچے عمیر خلیل نے بتایا کہ ہم لوگ ماں نبیلہ، پاپا خلیل، بڑی بہن اریبہ، چھوٹی بہنیں منیبہ اور ہادیہ 8 بجے گھر سے نکلے، گاڑی قادر آباد پہنچی تو پیچھے سے کسی نے گاڑی پر فائر کیا، گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرا کر رک گئی، پولیس کے دو ڈالے تیزی سے گاڑی کے پاس آ کر رکے، نقاب پوش اہلکاروں نے فائرنگ کر کے انکل ذیشان کو مار دیا۔ بچے نے بتایا کہ ذیشان کو مارنے کے بعد پولیس اہلکاروں نے فائرنگ روک دی اور فون پر کسی سے بات چیت شروع کر دی، ابو نے کہا جو چاہے لے لو لیکن ہمیں نہ مارو، معاف کردو، فون بند ہونے کے بعد اہلکار نے ساتھیوں کو اشارہ کیا جس پر انہوں نے دوبارہ فائرنگ شروع کر دی۔تحریری بیان کے مطابق عمیر نے کہا کہ فائرنگ سے ابو ، ماما اور بہن جاں بحق ہو گئے، فائرنگ کے دوران پاپا نے مرنے سے پہلے منیبہ کو اور ماما نے مجھے اور ہادیہ کو اپنے گھٹنوں میں چھپالیا تھا، فائرنگ کے بعد پولیس اہلکاروں نے مجھے اور دونوں بہنوں کو نکال کر دوبارہ گاڑی پر فائرنگ کی، پولیس والے ہم تینوں کو ڈالے میں ڈال کر لے گئے اور ویرانے میں پھینک کر چلے گئے۔بچے عمیر خلیل نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ میں اور منیبہ گولی لگنے کی وجہ سے درد سے کراہتے رہے، ایک انکل نے ہمیں اٹھا کر پٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، پولیس والے واپس آئے ہمیں اپنی گاڑی میں بٹھایا اور ہسپتال چھوڑ دیا، گاڑی کے اندر سے یا پھر موٹر سائیکل پر سے فائرنگ نہیں ہوئی، پولیس جھوٹ کہتی ہے۔ تحریری بیان کے مطابق عمیر نے مزید کہا کہ یہ بھی جھوٹ ہے کہ گاڑی میں سے کوئی دہشت گردی کا سامان برآمد ہوا، میرے نہتے بابا، ماما اور بہن کو مار کر پولیس والوں نے زیادتی کی ہے۔دریں اثنا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے خلیل کے 2 بھائیوں جلیل، جمیل اور رشتہ داروں سعید اور افضال کے بیانات بھی قلم بند کیے۔ جلیل نے بتایا کہ خلیل کی گاڑی پر فائرنگ کی اطلاع ساہیوال پولیس اور امدادی عملے کی جانب سے ملی، خلیل کے بچے نہ ملے تو مددگار 15 پولیس کے ساتھ تلخی ہوئی۔ بڑی دیر بعد 1122 والوں نے اطلاع دی کے 3 بچے ساہیوال ہسپتال میں ہیں۔

گرمیوں میں ٹھنڈی اور سردیوں میں گرم رہنے والی پوشاک تیار

لاہور( ویب ڈیسک ) میری لینڈ، امریکا: وہ دن دور نہیں جب سردیوں کے کپڑے گرمیوں میں بھی استعمال کے قابل ہوں گے۔ حال ہی میں ماہرین نے ایسی پوشاک تیار کی ہے جو گرمیوں میں سرد اور سردیوں میں گرم ہوجاتی ہے۔
سردیوں میں ہم کپڑوں کی کئی تہوں سے خود کو ڈھانپتے ہیں تو گرمیوں میں موٹے کپڑوں سے بھاگتے ہیں اور باریک لباس پہنتے ہیں۔ ماہرین نے درجہ حرارت سے حساس کپڑا بنایا ہے جو سردی، گرمی اور نمی کو دیکھتے ہوئے کبھی سکڑتا اور پھیلتا ہے۔
یونیورسٹی ا?ف میری لینڈ کے سائنسدانوں کا تیارکردہ کپڑا گرمی میں پھیل جاتا ہے اور سردی میں اس کے سوراخ مزید باریک ہوجاتےہیں۔ یوں گرمیوں میں گرمی باہر نکل جاتی ہے اور سردیوں میں جسمانی گرمی باہر نہیں نکلتی۔ مختصر الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس سے بنے ہوئے لباس میں حرارتی سوئچ لگا ہے۔
میری لینڈ یونیورسٹی میں یہ کپڑا بنانے والے ماہر ڈاکٹر یوہوانگ وینگ کہتے ہیں کہ انسانی جسم سے حرارت انفراریڈ شعاعوں کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔ عام کمرے کےدرجہ حرارت پر حرارت کی 40 فیصد منتقلی اسی انفراریڈ شعاعوں کے ذریعے ہوتی ہیں۔
اسی طرح کپڑوں کی اکثر اقسام سے حرارت انفراریڈ شعاعوں کی صورت خارج ہوتی ہے۔ اسی بنا پریہ کپڑا سردی اور گرمی میں گرمی کے اخراج میں 35 فیصد تک کمی بیشی کرسکتا ہے۔ اسے ب±نا جاسکتا ہے، سیا بھی جاسکتا ہے اور اس پر رنگ بھی چڑھایا جاسکتا ہے۔ اس سے بنے لباس گرمیوں میں سرد اور سردیوں میں گرم رہتے ہیں۔

نیویارک کی مشہور بروکلین شاہراہ قائداعظم کے نام سے منسوب

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے شہر نیویارک میں بروکلین کی معروف شاہراہ کے ایک حصہ کو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح ایونیو کا افتتاح پروقار تقریب میں پاکستان زندہ باد کے نعروں میں کیا گیا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کونی آئس لینڈ کی شاہراہ کو بانی پاکستان کے نام سے منسوب کرنے کی قرارداد قائداعظم کے یوم پیدائش کے حوالے سے 26 دسمبر 2018ءکو نیویارک سٹی کونسل نے منظور کی تھی تاکہ بانی پاکستان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جاسکے۔ تقریب میں نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل نعیم اقبال چیمہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ اس موقع پر پاکستانیوں اور امریکیوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ نعیم اقبال چیمہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب سے نیویارک سٹی کونسل اور پاکستانیوں کی گہری دوسری اور رابطوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے امریکا میں پاکستان کے تشخص کو اجاگر کرنے کو سراہا اور کہا کہ شاہراہ کو قائداعظم کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ ان کی لازوال خدمات کا اعتراف ہے۔ تقریب میں سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی مختلف نمائندہ تنظیموں کے رہنما بھی موجود تھے جنہوں نے اس فیصلے کو سراہا۔

مودی کا کالے جھنڈوں سے استقبال ، لوگوں کا برہنہ ہوکر احتجاجی مظاہرہ

آسام (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست آسام میں مظاہرین نے وزیر اعظم نریندری مودی کے متنازع سیٹزن بل ترمیمی ایکٹ کے خلاف برہنہ اور کالے جھنڈے لہرا کر احتجاج کیا۔واضح رہے کہ قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور وزیراعظم نریندرمودی انتخابی مہم کے سلسلے میں شمالی ریاستوں کے دورے پر ہیں جہاں ان کے خلاف دوسرے روز زبردست احتجاج کیا گیا۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہرین نے کالے جھنڈے لہرائے اور وزیراعظم کے پتلے نذر آتش کیے جبکہ بعض نوجوان طالبعلموں نے آسام میں اہم ریاستی اداروں کے سامنے برہنہ احتجاج کیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے برہنہ مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔دوسری جانب آسام میں اسٹوڈنٹ گروپ نے کہا کہ پولیس نے دوسرے طالبعلموں پر لاٹھی چارج کیا۔خیال رہے کہ نریندر مودی جمعہ کی شب آسام پہنچے جہاں کالے جھنڈے لہرا کران کا استقبال کیا گیا۔بی جی پی کی جانب سے سیٹزن ایکٹ 1955 میں ترمیمی بل پیش کیے جانے پر نریندر مودی کے خلاف سخت احتجاج جاری ہے جس کے منظور ہونے کے بعد افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سمیت دیگر مسلم پڑوسی ملک سے ہندو اور اقلیتوں کو بھارتی شہریت دی جا سکے گی۔

جاپان میں لذیذ کیڑے مکوڑے فراہم کرنے والی وینڈنگ مشین مقبول

ٹوکیو (ویب ڈیسک ) جاپان میں کیڑے مکوڑے فراہم کرنے والی وینڈنگ مشین تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔ مشین میں دس اقسام کے کیڑے اور حشرات پکا کر رکھے گئے ہیں جن میں چاکلیٹ میں ڈوبے بھنورے، نمکین بھنے ہوئے ٹڈے اور بیسن میں تلی ہوئی مکڑیوں سمیت کئی دیگر حشرات شامل ہیں۔
جاپان کے 34 سالہ توشی یوکی تومودا نے یہ وینڈنگ مشین تیار کی ہے جو بہت مقبول ہورہی ہے اور لوگ اس سے کیڑے لے کر کھارہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر کیڑوں میں پروٹین کی بڑی مقدار ہوتی ہے اور کم خرچ ہونے کی بنا پر یہ انسانوں میں پروٹین کی کمی دور کرسکتے ہیں۔

توشی یوکی کے مطابق مشین سے بڑی ٹورنٹیولا مکڑی بھی کھائی جاسکتی ہے جس کی قیمت 1900 ین رکھی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے والی مشین کو لوگوں نے بہت سراہا ہے اور لوگ اسے استعمال کررہے ہیں۔ مشین کی تنصیب کے پہلے ماہ میں ہی اس میں سے 500 کیڑے نکال کر کھائے گئے ہیں۔
تاہم لوگوں نے کہا ہے کہ کچھ کیڑوں کو مایونیز کرکے رکھا جاتا تو وہ زیادہ لذیذ بنائے جاسکتے تھے۔

میڈیا کو کنٹرول کرنے اور پیمراکو ختم کرنے کا کوئی جواز نہیں:افتخار رشید ، نئی اتھارٹی کا قیام 18 ویں ترمیم کی روح کیخلاف ہے:ابصار عالم ، وزارت اطلاعات کا پیمرا کے معاملات میں دخل نہیں ہونا چاہئے :مشتا ق ملک ، حکومت مشاورت سے فیصلہ کرے :سابق چیئرمین پیمرا ڈاکٹرعبدالجبار کی خبریں سے گفتگو

اسلام آباد (ملک منظور احمد )پاکستان الیکٹرانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی کے سابق سربراہان نے موجودہ حکومت کی طرف سے مجوزہ پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی میں پیمرا کو ضم کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے لیے الگ الگ اتھارٹیز ہونی چاہیے ۔تمام ریگولیٹری باڈیز کو کابینہ ڈویژن کے ما تحت ہونا چاہیے اور اس کا سربراہ وزیر اعظم پاکستان کو ہونا چاہیے ۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو ایک اتھارٹی کے ماتحت کرنے کا تجربہ بری طرح ناکام ہو گا حکومت بغیر کسی مشاورت کے نئی اتھارٹی قائم کرنا چاہتی ہے اس کا مقصد میڈیا کو کمزور کرنا اور کنٹرول کرنا ہے ۔پیمرا کو ختم کرنے کی بجائے اس کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے پیمرا کے سابق چیرمین افتخار رشید نے خبریں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی طرف سے نئی اتھارٹی کا قیام ایک ڈیزاسٹر ثابت ہوگا وزارت اطلاعات و نشریات کا کام پالیسی سازی ہے پیمرا ایک آزاد اور خودمختار ادارہ ہے پیمرا کا انتظامی کنٹرول کابینہ ڈویژن کے پا س ہونا چاہیے وزارت اطلاعات کا کام پیمرا کو کنٹرول کرنا نہیں ہے نئی اتھارٹی کا مقصد جو نظر آرہا ہے وہ میڈیا کو کنٹرول کرنا ہے پیمرا کو ختم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے ،پیمرا کے سابق چیرمین ابصار عالم نے خبریں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی اتھارٹی کاقیام اٹھارویں ترمیم کی روح کے خلاف ہے پیمرا نے ڈی ٹی ایچ کے لا ئسنسوں کے اجرا کے لیے بہت کامیاب نیلامی دی تھی یہ تین لا ئسنس پندرہ ارب روپے میں فروخت کیے گئے تھے اب حکومت کی نظریں پیمرا کے اربوں روپے کے ریونیو پر ہے پیمرا کو پندرہ ارب کا ریونیو آنے پر ہزاروں صحافیوں کو روزگار کے مواقع مل سکتے ہیں انھوں نے کہا کہ پا کستان کا میڈیا ونٹی لیٹر پر ہے حکومت کو یہ پندرہ ارب کا خطیر ریونیو ہضم نہیں ہورہا بغیر مشاورت کے زمینی حقائق کو دیکھے بغیر حکومت پیمرا اور پریس کونسل کو ختم کرکے ایک نئی اتھارٹی کا قیام راتوں رات عمل میں لانا چاہتی ہے ایسا تو دور آمریت میں بھی نہیں ہوتا موجودہ حکومت پا کستان کے میڈیا کو شمالی کوریا کا میڈیا بنانا چاہتی ہے میڈیا کو کنٹرول کرنا جمہوریت کے منافی ہے ڈی ٹی ایچ کی کامیاب نیلامی کے بعد پیمرا مالی طور پر ایک انتہائی مستحکم ادارہ بن گیا ہے سرکار سے پیمرا کو ریونیو کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی یہ برطانیہ کی مثالیں دیتے ہیں وہاں قوانین مختلف ہیں ہم وہ نظام نہیں بنا رہے جو برطانیہ اور دیگر ممالک نے بنایا برطانیہ میں اخبارات اور ٹی وی لا ئسنس کا حصول بہت آسان ہے جبکہ پاکستان میں کئی کئی سال لائسنس کے حصول میں لگ جاتے ہیں بجائے پیمرا کو ختم کرنے کے اس ادارے کو مزید اختیارات دینے کی ضرورت ہے سابق چیر مین پیمرا مشتاق ملک نے خبریں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا کے معا ملات میں وزارت اطلا عات اور نشریات کا کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے تمام ریگولیٹری باڈیز اازاد اور خود مختار ہوتیں ہیں جو ادارے پہلے سے بنے ہوئے ہیں ان کو ختم کرنے کی کیا ضرورت ہے پیمرا کا انتظامی کنٹرول کابینہ ڈویژن کے پاس ہوناچاہیے اور اس کا سربراہ ملک کے وزیر اعظم کو ہونا چاہیے ۔پیمرا کے بورڈ آف دائریکٹر میں پا کستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن کا نمائندہ شامل ہونا چاہیے اور پیمرا کو خود اپنا بورڈ آف ڈائریکٹر بنانا چاہیے ،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو ایک ہی اتھارٹی کے ماتحت کرنے کا تجربہ کا میاب نہیں ہو سکتا ۔ادارہ بڑی مشکل سے بنائے جاتے ہیں اور اداروں کو ختم کرنے کی بجائے ان کی تنظیم نو کی جانی چاہیے ۔سابق چیرمین پیمرا ڈاکٹر عبدل جبار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ تمام فریقین کو اس اہم معاملہ پر آن بورڈ کرے اور تعمیری مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے دنیا بھر میں ایسے تجربے کیے جارہے ہیں اور اگر اتفاق رائے سے فیصلہ کیا جائے تو بہتر رہے گا ۔

نہائیں اور وزن کم کریں!

لاہور( ویب ڈیسک ) آج تک اگر آپ صرف صفائی ستھرائی اور پاکیزگی کے لیے نہاتے تھے تو اب اس عادت کو اور زیادہ مضبوط کرلیں کیونکہ نہانے سے صرف صفائی ہی حاصل نہیں ہوتی بلکہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اس سے وزن میں بھی کمی کی جاسکتی ہے۔نوٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ نہانے سے 140 کیلوریز کا جلنا ممکن ہے۔اس تحقیق کا حصہ بننے والے آدھے طالب علموں نے 40 سینٹی گریڈ درجہ حرارت والے پانی سے غسل کیا جبکہ دیگر آدھے طالب علموں نے ایک گھنٹے تک سائیکل چلائی۔سائیکلنگ کرنے والے گروپ نے زیادہ کیلوریز جلائیں لیکن غسل کرنے والے گروپ نے بھی کسی حد تک کیلوریز جلائیں اور ساتھ ہی انھیں دوسرے فائدے بھی حاصل ہوئے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ گرم پانی سے غسل سے خون میں شوگر کی سطح برقرار رکھنے اور بہتر نیند حاصل کرنے میں بھی مدد ملی۔اس تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جو لوگ گرم حمام میں کچھ وقت گزارتے ہیں ان میں دل کی بیماریاں اور شوگر لاحق ہونے کے خطرات میں کمی آتی ہے۔

پاکستان نے ملا برادر کوامریکہ کی درخواست پر رہا کیا: زلمے خلیل زاد

واشنگٹن (آن لائن) امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغان امن مذاکرات کو تیز کرنے میں مدد کرنے کےلئے پاکستان نے افغان لیڈر ملا برادر کو ان کی درخواست پر رہا کیا تھا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ طالبان کے بانی رہنماو¿ں میں شامل ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کابل کی جانب سے طویل عرصے سے کیے جانے والے مطالبے کی تکمیل ہے۔ غےر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے لیے تقریباً ایک ماہ کے طویل امن مشن سے رواں ہفتے واپس آنے والے زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ افغانستان سے امریکی فورسز کی واپسی کے لیے شرائط پر تبادلہ خیال کیا لیکن اس معاملے پر ابھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ واشنگٹن میں امن کے امریکی ادارے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ گزشتہ ماہ دوحہ میں امریکا اور طالبان ایک فریم ورک معاہدے پر پہنچ گئے تھے لیکن حتمی نتائج تک پہنچنے کے لیے مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔ امریکا طالبان مذاکرات کو آسان بنانے میں پاکستان کے کردار سے متعلق ایک سوال کے جواب میں زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ اسلام آباد نے ایک تعمیری کردار ادا کیا اور ’ان کی درخواست‘ پر ملا برادر کو رہا کیا۔ امریکی نمائندہ خصوصی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملا برادر کی رہائی کی درخواست کی تھی کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ افغان امن کے آغاز میں سینئر طالبان رہنما بھی تعمیری کردار ادا کرسکتے ہیں۔ امن مذاکرات کے فروغ میں اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہوئے زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ایک اہم ملک ہے اور ہم پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں‘۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے اپنے اس انتباہ کو دہرایا کہ افغانستان میں 40 سال پرانی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک سے زائد ملاقات ہوں گی۔ زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سابق حکومتیں، آیا وہ طالبان کی تھی یا کسی اور کی، وہ اس لیے ناکام ہوئیں کیونکہ انہوں نے اپنے نظریات نافذ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ میں انہوں نے اس فرق کا مشاہدہ کیا کہ یہ احساس ہے کہ یہ نقطہ نظر کام نہیں کرے گا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ طالبان سمیت تمام فریقن اب ایک دوسرے کو جگہ دینے کو تیار ہیں۔ خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے بھی یہ کہا گیا تھا کہ امریکا اور طالبان کے درمیان گزشتہ ماہ ہونے والے مذاکرت تمام فریقین کے لیے ایک ’بڑی سفارتی فتح‘ ہے۔

عامرخان بھی ڈپلو میسی سے کام لینے لگے‘ ٹھکرائی ہوئی فلم میں واپسی

ممبئی(شوبز ڈیسک) بالی ووڈ کے عامر خان کو فلم ”ٹھگ آف ہندوستان“ کی ناکامی کے بعد ٹھکرائی ہوئی فلمیں دوبارہ یاد آنے لگی۔ عامرخان نے گزشتہ برس ٹوئٹر پر فلم ”مغل“ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا اوراس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ فلم کے ہدایت کار سبہاش کپور جنسی ہراسانی میں ملوث ہیں لہٰذا وہ کسی ایسے ہدایت کار کے ساتھ کام نہیں کرسکتے جوجنسی ہراسانی جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہوں۔ عامر خان نے یہ اعلان فلم ”ٹھگ آف ہندوستان“ کی ریلیز سے قبل کیا تھا تاہم فلم کی ریلیز اور ناکامی کے بعد عامر خان اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عامر خان نے”ٹھگ آف ہندوستان“ کی ناکامی کے بعد فلم ”مغل“ میں واپسی کرلی ہے ۔
تاہم عامرکی واپسی کے بعد فلم کے ہدایت کار سبہاش کپور کو تبدیل کردیا گیا ہے اورفلم پروڈیوسربھوشن کمار فلم کے لیے نئے ہدایت کار کی تلاش میں ہیں۔واضح رہے کہ عامر خان کے علاوہ فلم کی دیگر کاسٹ کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا ہے۔