امریکی خواتین سینیٹرز کا قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف

نیو یارک (ویب ڈیسک)امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ منتخب ہونے والی مسلم خواتین سینیٹرز نے تقریب حلف برادری میں قرا?ن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھاکر نئی تاریخ رقم کردی۔فلسطینی اور صومالی نڑاد امریکی کانگریس کی مسلم خواتین ارکان راشدہ طلیب اور الہان عمر نے 116ویں کانگریس کا حصہ بنتے ہوئے 435 ممبران کے درمیان پہلی مسلم خواتین سینیٹرز کا اعزاز بھی حاصل کیا۔حلف برداری کی تقریب میں راشدہ طالب نے فلسطین کا روایتی لباس تھوب زیب تن کیا۔فلسطینی نڑاد سینیٹر 42 سالہ راشدہ کے والدین فلسطینی شہر بیت المقدس میں پیدا ہوئے، تاہم بعد ازاں ان کا خاندان امریکی ریاست مشی گن ا?کر ا?باد ہوا، جہاں راشدہ پیدا ہوئیں، وہ 14 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں۔انہوں نے قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور 2008ئ میں مشی گن کی ریاستی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔دوسری جانب 37 سالہ الہان عمر پہلی خاتون ہیں جنہوں نے حجاب پہن کر حلف اٹھایا، ان کے ا?باو¿ اجداد کا تعلق افریقی ملک صومالیہ سے تھا۔انہوں نے جہاں قرا?ن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا، وہیں انہوں نے حجاب پہن کر ایک نئی تاریخ رقم کی، امریکی کانگریس کے چیمبر میں حجاب پہن کر حلف اٹھانے پر گزشتہ 181 سال سے پابندی عائد تھی۔اس موقع پر ان کے ساتھ والد نور محمد بھی موجود تھے۔

وزیراعظم کی ترک صدر سے ملاقات، دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال

انقرہ(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان اور ترکی کے سربراہان حکومت کے درمیان انقرہ میں ہونے والی ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک ساتھ نماز جمعہ بھی ادا کی۔اس کے علاوہ پاکستان اور ترکی کے درمیان انقرہ میں وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کی جب کہ ترک وفد کی قیادت وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے کی۔مذاکرات میں پاکستان اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تجارت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس کے علاوہ دونوں ممالک کے دفود کے درمیان سرمایہ کاری کے فروغ سمیت دیگر اہم علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان اور ترکی نے افغان مسئلے کے جلد پ±رامن حل کیلئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔میولوت چاوش اولو کا کہنا تھا کہ ترکی افغان امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کا معترف ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان،کشمیر سمیت اہم امور پر پاکستان اور ترکی کے مو¿قف میں یکسانیت خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات حکومتوں تک محدود نہیں ہیں۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہماری محبت کے پیچھے ثقافت، مذہب اور عوام کی محبت کارفرما ہے۔

یہ خاتون کیمرہ مین اس طرح رو کیوں رہی ہے ؟ بھارت کا ایسا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو گیا کہ سن کر آپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ جائیں گے

ممبئی (ویب ڈیسک )بھارتی ریا ست کیرالہ کے سبریمالا مندر کے باہر کشیدہ حالات کی کوریج کرنے والی خاتون صحافی سجیلا عبد الرحمان کی روتے ہوئے تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق کیرالہ کے سبریمالا مندر میں دو خواتین کے داخل ہونے کے خلاف ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔ہڑتال کے دوران رپورٹنگ کرتے دیگر میڈیا اہلکاروں پر بھی حملے کئے گئے۔ان میں سے ایک خاتون صحافی سجیلا عبد الرحمان کو انتہا پسندوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔سجیلا کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی کے دوران کسی نے کمر پرزورسے لات ماری،شدید تکلیف کے باوجود وہ اپنی صحافتی ذمہ داری نبھاتی رہیں۔سجیلا کی کیمرا تھامےروتے ہوئے تصویر وائرل ہو گئی جس میں ان کے چہرے پر ان کے درد کو صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنی تکلیف کی وجہ سے نہیں روئیں بلکہ میری مدد کو کوئی آگے نہیں بڑھا مجھے اس بات پر رونا آیا اور مجھے ڈر تھا کہ کہیں کیمرا تباہ ہونے کی وجہ سے میری محنت رائیگاں نہ ہو جائے۔صحافتی حلقوں میں مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔a

دنیا کے معروف ترین پرتگال کے سٹار فٹبالر نے 10 جنوری کو پاکستان آنے کا اعلان کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک )دنیائے فٹبال میں بے انتہا شہرت رکھنے والے پرتگال کے کھلاڑی لوئس فیگو نے دورہ پاکستان کا اعلان کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستانی شائقین فٹبال کیلئے خوشخبری ہے کہ لوئس فیگو دس جنوری کو دورہ پاکستان پر پہنچ رہے ہیں جہاں ہو لاہور اور کراچی میں مختصر قیام کریں گے جبکہ اس موقع پر وہ پاکستانی فٹبالرز کو کھیل کے گ±ر بھی سکھائیں گے۔a

مسلم لیگ (ن) نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی پرمکمل اعتماد کا اظہارکردیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)حکومت اورمسلم لیگ (ن) نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی پرمکمل اعتماد کا اظہارکیا ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجا ظفرالحق کے چیمبرمیں چیئرمین صادق سنجرانی، قائد ایوان شبلی فراز اوراپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر پارلیمانی بزنس سمیت سینیٹ کے زیرالتواءامورپربات چیت کی گئی۔ملاقات کے دوران حکومت اورمسلم لیگ (ن) کی جانب سے صادق سنجرانی پرمکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا، راجا ظفرالحق نے یقین دہانی کرائی کہ چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کی خبروں میں صداقت نہیں۔واضح رہے کہ چند روز قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفیٰ کھوکھرنے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں متحد ہوجائیں تو چیئرمینی سینیٹ کوہٹایا بھی جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے آصف زرداری اور پرویز مشرف کیخلاف این آر او کیس ختم کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق صدر آصف علی زرداری، پرویز مشرف اور سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کے خلاف این آر او کیس ختم کردیا ہے۔عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے جمعہ کے روز فیروز شاہ گیلانی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے سابق صدور کو فریق بناتے ہوئے مو¿قف اپنایا تھا کہ این آر و سے کرپشن کیسز ختم کیے گئے جس سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔درخواست گزار نے استدعا کی تھی ملک کی لوٹی ہوئی رقم وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائی جائے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کیے تھے درخواست گزار کدھر ہیں؟وکیل نے بینچ کے سربراہ کو بتایا کہ فیروز شاہ گیلانی علیل ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آصف زرداری، پرویز مشرف اور ملک قیوم کے اثاثوں کی تفصیل آچکی ہے اور اومنی گروپ کیس میں بھی بہت پیش رفت ہو چکی ہے، قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔عدالت نے سابق صدور پرویز مشرف، آصف زرداری اور ملک قیوم کے خلاف این آر او کیس ختم کرتے ہوئے فیروز شاہ گیلانی کی درخواست نمٹا دی۔سابق صدر پرویز مشرف نے 5 اکتوبر 2007 کو قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کیا جسے این آر او کہا جاتا ہے، 7 دفعات پر مشتمل اس آرڈیننس کا مقصد قومی مفاہمت کا فروغ، سیاسی انتقام کی روایت کا خاتمہ اور انتخابی عمل کو شفاف بنانا بتایا گیا تھا جب کہ اس قانون کے تحت 8 ہزار سے زائد مقدمات بھی ختم کیے گئے۔این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں نامی گرامی سیاستدان شامل ہیں جب کہ اسی قانون کے تحت سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کی واپسی بھی ممکن ہوسکی تھی۔

پاکستان کی بیٹنگ کے بعد باولنگ لائن بھی فلاپ ، جنوبی افریقہ نے 188 رنز جوڑ لیے

کیپ ٹاﺅن (ویب ڈیسک )دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے روز کے کھیل میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کے 177 رنز کیخلاف چار وکٹوں کے نقصان پر 188 رنز بنا لیے ہیں اور 11 رنز کی برتری حاصل کرلی ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کی جانب سے 177 رنز کے جواب میں جنوبی افریقہ کی جانب سے مرکرام اور الگر نے میدان میں اتر کر کھیل کا آغاز کیا۔تاہم مرکرام سینچری بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے اور شان مسعود کی گیند پر 78 رنز بناکر آوٹ ہو گئے۔ دوسرے نمبر پر آنے والے الگر 2 رنز بنا کر محمد عامر کی گیند پر سرفراز کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ہاشم آملہ 24 سکور بنانے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے بعد آنے والے برائن 13 سکو ر بنا کر شاہین آفریدی کی گیند پر کیچ آوٹ ہو گئے۔اس سے قبل جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے باولنگ کا فیصلہ کیا اور پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی جس پر پاکستان کی پوری ٹیم ہی 177 رنز بنا کر پولین لوٹ گئی جس میں سرفراز 56رنز کے ساتھ سرفہرست رہے جبکہ شان مسعود 44 رنز کے ساتھ دوسرے نمبرپر ہے جبکہ ان کے علاوہ اسد شفیق 20 اور محمد عامر 22 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے علاوہ کوئی اور پاکستانی کھلاڑی ڈبل فگر میں بھی داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

اکیسویں صدی کا عجوبہ مشین کو انسان کا روپ دیتی سائنس

لاہور( ویب ڈیسک) عامر نے جب دنیا میں قدم رکھا‘ تو وہ خوب رو اور چلبلا بچہ تھا۔ جب بھی چمک دمک والی کوئی چیز دیکھتا تو بے اختیار اس کی جانب لپکتا۔ ایک دن رات کو بجلی گئی تو پتا چلا کہ یو پی ایس خراب ہو چکا۔ماں نے موم بتی جلا دی اور عامر کو قریب بٹھا کر سبزی کاٹنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ کر کسی کام سے باورچی خانے گئی۔اِدھر منچلے عامر نے آو دیکھا نہ تاو?‘ موم بتی کا شعلہ پکڑنے ہاتھ بڑھا دیئے۔ چیخ سن کر پریشان ماں بھاگی آئی‘ تو دیکھا کہ ننھا بیٹا گرم موم سے اپنی انگلیاں جلا بیٹھاہے۔ وہ دھاڑیں مارکر رو رہا تھا۔
جسم انسانی کا بادشاہ
یہ واقعہ یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ انسان کو پیدائشی طور پر بہت سی باتوں کا علم نہیں ہوتا…زندگی میں پیش ا?نے والے تجربات ‘ واقعات اور حالات اسے تلخ و شیریں حقائق سے آشنا کراتے ہیں۔ مثال کے طور پر عامر کو علم نہیں تھا کہ آگ ہاتھ جلا دیتی ہے۔ اسی لیے وہ اس کی جانب لپکا۔ لیکن اس تلخ تجربے نے اسے سکھا دیا کہ آگ ایک خطرناک شے ہے اور اسے ہاتھ سے نہیں پکڑنا چاہئے۔ جوں جوںعامر دوران زندگی مزید تجربات حاصل کرے گا‘ اس کا شعور اور ذہانت بھی بڑھتی جائے گی۔ اس سچائی سے آشکار ہے کہ انسان کا دماغ (یا ذہن) بھی مسلسل ارتقا پذیر ہے۔
ذرا ایک لاکھ سال پہلے کی دنیا تصور میں لائیے۔ تب انسان نیم برہنہ رہتا تھا۔پتوں سے تن ڈھکتا۔ پیٹ بھرنے کی جستجو اور زندہ رہنا ہی مقصدِ زندگی تھا۔ پھر آگ اور پہیے کی دریافت نے اسے نئے جہانوں سے متعارف کرایا۔ وہ کھیتی باڑی کرنے اور بستیاں بسانے لگا۔ یوںانسانی تہذیب و ثقافت کا آغاز ہوا۔ انسان کی یہ پوری محیر العقول ترقی دراصل اس کے دماغ ،نظام اعصاب اور حسیات (بصارت ‘ سماعت‘ لامسہ‘ سونگھنا‘ چکھنا‘ درد‘ سردی گرمی محسوس کرنا‘ توازن برقرار رکھنا وغیرہ) کی مرہون منت ہے۔ دماغ انسان سمیت ہر جاندار میں پائی جانے والی جسمانی و ذہنی سلطنت کا بادشاہ ہے کیونکہ وہی اعصابی نظام اور تمام حسّیات کنٹرول کرتا ہے۔
نیورل نیٹ ورک کا کمال
دلچسپ بات یہ کہ سائنس و ٹکنالوجی کی شاندار ترقی کے باوجودانسان اپنے دماغ کی مادی ہیئت سو فیصد حد تک نہیں جان سکا۔ بہر حال جدید سائنس نے ہمیں یہ ضرور بتا دیا کہ انسانی دماغ تقریباً ایک سو ارب مختلف اقسام کے خلیوں کا مجموعہ ہے جو ”نیورون“(Neurons) کہلاتے ہیں۔انسانی دماغ کا ہر نیورن دراصل ایک منی کمپیوٹر ہے۔ یہ اپنے طور پر وہ کام بھی بخوبی انجام دیتا ہے جو اسے تفویض کیا جائے۔ مثلاً انسان کو بتانا کہ آگ اس کی جلد جلا رہی ہے۔انسان کا پورا اعصابی نظام انہی نیورونوں پر مشتمل ہے۔ ہر نیورن اپنے ننھے منے کئی بازوﺅں کی مدد سے دیگر نیورونوں کے بازو?ں سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ نیورون کیمیائی یا برقی (الیکٹر یکل ) اشاروں (سگنلوں ) کی مدد سے ایک دوسرے سے تعلق و رابطہ رکھتے ہیں۔
مثال کے طور پر آپ نے دیکھا کہ چائے مناتے ہوئے اچانک کپڑوں میں آگ لگ گئی۔ آنکھ کے نیورون یہ منظر دیکھ کر حادثے کی خبر دماغ تک پہنچائیں گے۔ اب دماغ فیصلہ کرے گا کہ ہاتھوں اور پانی کی مدد سے آگ بجھائی جائے۔ ایک دوسرے سے جڑے نیورونوں میں یہ ساری پیغام رسانی برقی اشاروں کے ذریعے نہایت تیزی سے ہوتی ہے۔ نیورونوں کا یہ باہمی نظام اصطلاح میں ”نیورل نیٹ ورک“(Neural Network) کہلاتا ہے۔
انسانی دماغ میں ایک ارب منی کمپوٹر کے مانند نیورونوں کا نیٹ ورک ہی اعصابی نظام سمیت انسانی جسم کو رواں دواں رکھنے والا”سپر کمپیوٹر“ تشکیل دیتا ہے۔ گویا ہمارا دماغ ایک ارب ”کور پروسیسر“(Core Processor) رکھتا ہے۔ انہی کور پروسیسروں نے انسانی دماغ کو نہایت طاقتور شے بنا ڈالا ہے… ایسی شے جس سے مماثلت رکھنے والی چیز انسان سر توڑ کوشش کے باوجود(فی الحال) نہیں بنا پایا۔
سپر کمپیوٹر بھی انسان کا غلام
اس وقت امریکی کمپنی‘ آئی بی ایم کا تیار کردہ سمٹ(Summit ) دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر ہے۔ یہ سپر کمپیوٹر صرف ایک سکینڈ میں 200پیٹا فلاپس (petaflops) یعنی دو لاکھ ٹریلین پیمائشیں کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ یقیناً انسانی دماغ اتنی محیر العقول تیزی سے پیمائش نہیں کر سکتا، اس کی رفتار زیادہ سے زیادہ ایک سیکنڈ میں چند ٹریلین پیمائش کرنا ہو گی۔
اس کے باوجود یہ تیز ترین سپر کمپیوٹر بھی انسان کا غلام ہے… کیونکہ انسان ہی اسے حکم دیتے ہیں کہ اس نے کون سی پیمائشیں کرنا ہیں یا کس نوعیت کا کام انجام دینا ہے۔ گویا صرف ایک سیکنڈ میں دو لاکھ ٹریلین پیمائشیں کرنے والی یہ حیرت انگیز مشین از خود ایک پیمائش بھی نہیں کر سکتی۔ معنی یہ کہ ایک سیکنڈ کی عمر رکھنے والے انسانی بچے کا دماغ بھی سمٹ سپر کمپیوٹر سے زیادہ طاقتور ہے کیونکہ وہ بچہ ہوتے ہوئے بھی بہر حال ازخود کئی کام کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہاتھ ہلانا‘ رونا‘ ماں کو د یکھنا وغیرہ۔
خود مختار ہونے کے علاوہ ملٹی ٹاسک(Multitask) ہونا بھی انسانی دماغ کی ایک بڑی خصوصیت ہے۔ دماغ کی وجہ سے ہی انسان بیک وقت کئی کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر کپڑوں میں آگ لگے‘ تو انسان اسے دیکھتے ہوئے ہاتھ پاو?ں ہلا کر اپنا بچاو? کرتا اور چیخیں مارتا ہے۔ حقیقتاً خطرے کی حالت میں انسان کی خفیہ حسّیں بھی بیدار ہو جاتی ہے جنہیں مجموعی طور پہ ”چھٹی حس“ کا نام دیا جا چکا۔
سپر کمپیوٹر سمٹ ملٹی ٹاسک مشین نہیں… وہ ایک وقت میں ایک ہی کام کر سکتا ہے۔ درست کہ سمٹ اپنا کام حیرت انگیز رفتار سے انجام دے گا، انسانی دماغ اتنی تیزی نہیں دکھا سکتا۔ مگر سمٹ بیک وقت کئی کام کرنے سے قاصر ہے۔ ملٹی ٹاسک ہونا بھی انسانی دماغ کو زیادہ طاقتور اور منفرد بنا ڈالتا ہے۔ گویا انسانی دماغ کا سپر کمپیوٹر سمٹ سے زیادہ پیچیدہ اور گنجلک مشین ہے۔ اسی لیے سائنس داں ابھی تک اسے مکمل طور پر سمجھ نہیں پائے۔
سمٹ سپر کمپیوٹر کو تیس مختلف کام کرنے کی خاطر بنایا گیا۔ مطلب یہ کہ اس میں تیس سافٹ ویئر موجود ہیں۔ جب بھی تیس کاموں میں سے کوئی ایک کام کرنا مقصود ہو‘ تو اس کے متعلقہ سافٹ ویئر سے رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر سافٹ ویئر میں جو ریاضیاتی ہدایات (algorithms)دی گی ہیں‘ سمٹ ان کے مطابق اپنا کام انجام دیتا ہے۔ اگر اس مشین سے اکتیسواں کام کرانا ہے تو اس میں نیا سافٹ ویئر یا پروگرام انسٹال کرنا ہو گا۔یاد رہے، ہر سافٹ وئیر مختلف ریاضیاتی ہدایات کا مجموعہ ہوتا ہے۔یہ ہدایات اعداد،الفاظ، اعراب اورگرافکس وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہیں۔کمپیوٹر انہی ہدایات کے مطابق اسکرین پہ متن(ٹیکسٹ) یا تصویریں وغیرہ پیش کر دیتا ہے۔

بیٹری سے چلنے والے روبوٹک لباس سے 100 کلو گرام وزن اٹھانا ممکن

سالٹ لیک (ویب ڈیسک )وہ وقت قریب ہے جب نحیف انسان 200 پونڈ (90 کلوگرام) وزن اٹھاسکیں گے اور مزدور ایک وقت میں دگنا یا تین گنا وزن اٹھانے کے قابل ہوجائیں گے۔سالٹ لیک امریکا میں واقع سارکوس کمپنی نے یہ روبوٹک لباس (ایکزو اسکیلیٹن) بنایا ہے جو پہننے والے کو 20 گنا مضبوط بناتا ہے۔ روبوٹک لباس کا نام ’گارجیئن ایکس او میکس‘ رکھا گیا ہے جو بیٹری سے چلنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ نظام ہے جسے پورے بدن پر پہنا جاسکتا ہے۔ کمپنی کو اس کے ا?رڈرملنا شروع ہوگئے ہیں اور 2020ئ تک اس کی فروخت شروع ہوجائے گی۔روبوٹک لباس میں سب سے بڑا چیلنج چھوٹی بیٹری کو جوڑ کر روبوٹ لباس بنانا تھا کیونکہ تار سے جڑنے کے بعد پہننے والا بجلی کے ساکٹ کا محتاج ہوجاتا ہے اور ا?زادانہ گھوم پھر نہیں سکتا اسی کی تعمیر میں انجینئرز کو کئی سال لگے۔اب ایک بار بیٹری چارج کرنے سے لباس 8 گھنٹے تک کام کرتا ہے اور خالی بیٹریوں کو بڑی ا?سانی سے چارج شدہ بیٹریوں سے بدلا جاسکتا ہے۔ پہننے والا جب وزن اٹھاتا ہے تو اسے وزن کے بیسویں حصے کا احساس ہوتا ہے یعنی کوئی 100 پونڈ وزن اٹھائے تو وہ پانچ پونڈ وزنی معلوم ہوگا، اب تک سارکوس نے اس نظام کی قیمت نہیں بتائی ہے۔اسی طرح مزدور بہت سہولت سے 200 پونڈ وزن اٹھاسکتا ہے تاہم اس سے زائد میں لباس کا توازن خراب ہوسکتا ہے۔ 2020ئ میں پہلا روبوٹ لباس سامنے ا?جائے گا اور اب اس دوڑ میں ایل جی اور فورڈ سمیت کئی کمپنیاں شامل ہیں۔

سونے کی قیمتوں میں اضافہ ،چاندی کی قیمت مستحکم رہی

کراچی: (ویب ڈیسک)بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت بغیرکسی تبدیلی کے 1287 ڈالر کی سطح پرمستحکم رہنے کے باوجود مقامی صرافہ مارکیٹوں میں جمعرات کوفی تولہ اور فی 10 گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب300روپے اور 258روپے کا اضافہ ہو گیا۔جس کے نتیجے میں کراچی ،حیدرآباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد ،لاہور، اسلام آباد ،راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر67500روپے اور فی 10 گرام سونے کی قیمت بڑھ کر57870روپے ہوگئی۔ فی تولہ چاندی کی قیمت بغیرکسی تبدیلی کے890روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت763روپے پر مستحکم رہی۔

کھیرا صحت اور غذائیت کا خزانہ

لاہور (ویب ڈیسک ) قدرت نے ہمیں بے شمار غذائیت سے بھرپور پھلوں، سبزیوں اور دیگر نعمتوں سے نوازا ہے جن کا استعمال اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں شروع کردیں تو یقیناً ہم بے شمار بیماریوں سے نہ صرف بچ سکتے ہیں بلکہ ایک صحت مند زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔کھیرے کا شمار بھی غذائیت سے بھر پور ایک سبزی میں ہوتا ہے اور عام طور پر اس کا استعمال کھانے کے ساتھ سلاد کے طور پر کیا جاتا ہے تاہم قدرت نے اس میں بھی ہمیں بے شمار غذائی اجزا سے نوازا ہے جو جسم کو مختلف اندرونی اور بیرونی بیماریوں سے بچاتے ہیں۔ آج ہم آپ کو کھیرا کھانے کے 6 اہم فوائد بتارہے ہیں۔جسم میں پانی کی مقدار کو پورا کرنے کے لیے؛کھیرے میں 95 فیصد پانی ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہمارے جسم میں پانی کی مقدار کو کم نہیں ہونے دیتا اور اس کا روزمرہ استعمال ہمارے جسم میں نہ صرف پانی کی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ اس کے علاوہ جسم کے لیے دیگر ضروری وٹامن بھی فراہم کرتا ہے۔ذیابیطس اور کولیسٹرول کو کنٹرول کرتا ہے؛کھیرے کا رس لبلبے کو انسولین بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جو کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انتہائی اہم ہے اسی وجہ سے ذیابیطس کے مریضوں کو کھیرے کا استعمال ضرور کرنا چاہیے جب کہ تحقیق کے مطابق کولیسٹرول کو کم کرنے میں بھی کھیرا اہم کردار ادا کرتا ہے۔سرطان سے بچاو¿ کے لیے؛
طبی ماہرین کے مطابق کھیرے میں موجود تین اقسام کے اجزا انتہائی اہم ہوتے ہیں اور تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان تینوں اجزا کی وجہ سے سرطان کی بہت سی اقسام کا خطرہ کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔وزن میں کمی کے لیے؛
دبلا یا سلم نظر آنا ہر خواتین کا خواب ہے اور اس کے لیے خواتین طرح طرح کے جتن کرنے میں مصروف نظرآتی ہیں لیکن کھیرے میں اس مسئلے کا بھی حل موجود ہے لہذا ایسے تمام افراد جو وزن میں کمی چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ کھیرے کا استعمال کریں جب کہ کھیرے کا استعمال قبض کی بیماری سے چھٹکارے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
منہ کی بدبو اور جراثیم ختم کرتا ہے؛
اگر ا?پ کھیرے کا ایک گول ٹکڑا اپنے ہونٹوں یا منہ پر رکھ کر 30 سیکنڈ تک زبان سے مسلیں تو اس سے نہ صرف منہ میں موجود بہت سے اقسام کے جراثیم کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ یہ منہ سے ا?نے والی بدبو کو بھی ختم کردیتا ہے۔
جلد کی بیماریوں کےلیے؛
بہت سے افراد اپنی چہرے کے حوالے سے بہت حساس ہوتے ہیں اور خاص طور پر خواتین وہ تو اس کی نگہداشت میں کوئی کثر نہیں چھوڑتیں تو کھیرا کھائیں اس سے نہ صرف آپ کی جلد کی خوبصورتی برقرار رہے گی بلکہ یہ ا?نکھوں کی سوجن اوراس کے گرد بننے والے سیاہ حلقوں کو بھی ختم کرتا ہے اگر کھیرے کو آپ تھوڑی دیر اپنی ا?نکھوں پر رکھ لیں تو اس سے سوجن کے ساتھ آنکھوں پربننے والے سیاہ حلقے بھی ختم ہوجائیں گے۔

اوگرا نے ایل پی جی مزید مہنگی کر دی ،گھریلو سلنڈ 23 روپے مہنگا، نئی قیمت 1361روپے مقرر

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سردی اور دھند بڑھتے ہی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کردیا۔اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں فی کلو2 روپے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد قیمت115روپے فی کلو ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ گھریلو سلنڈر23 روپے مہنگا کرکے نئی قیمت1361روپے مقررکی گئی ہے۔

سانس کے ذریعے کینسرٹیسٹ کی انسانی آزمائش شروع

لندن (ویب ڈیسک ) برطانیہ میں سانس کی بایوپسی کی طبی آزمائشیں (کلینکل ٹرائلز) شروع ہوگئے ہیں جس سے کینسر کی شناخت میں مدد ملے گی۔ دو سال تک ایک خاص آلے کو انسانوں پر آزمایا جائے گا تاکہ سانس میں چھپے سرطان کے مرکبات کا اندازہ لگا کر اس کی افادیت کا جائزہ لیا جاسکے۔کیمبرج میں واقع کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور اول اسٹون میڈیکل مشترکہ طور پر آلے کی آزمائش کریں گی۔ دونوں مل کر بریتھ بایوپسی ٹیکنالوجی کے مختلف پہلوو¿ں کا جائزہ لیں گے۔اس غیرمعمولی آزمائشی نظام کے تحت 1500 سے زائد انسانی سانس کی آزمائش کی جائے گا تاکہ سانس میں پوشیدہ خاص اجزا سے مختلف کینسر کی شناخت کی جاسکے جنہیں طبی زبان میں بایو مارکرز کہا جاتا ہے۔اگر سینسر کامیاب ہوجاتا ہے تو سرطان کی تشخیص میں یہ ایک انقلابی قدم ہوگا۔اگرچہ گزشتہ عرصے میں ملیریا سمیت کئی بیماریوں کے لیے سانس کے ذریعے مرض معلوم کرنے والے بریتھلائزر بنائے گئے ہیں لیکن ان کی افادیت اب تک ثابت نہ ہوسکی لہٰذا ان کے عام استعمال کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا۔پہلے مرحلے میں پھیپھڑے کے سرطان پر توجہ دی جائے گی اور اس ضمن میں ولیٹائل آرگینک کمپاو¿نڈز ( وی او سی) تلاش کئے جائیں گے جو کئی اقسام کے کینسر کو ظاہر کرتے ہیں۔خیال یہ ہے کہ مختلف کینسر کی صورت میں سانس کے ساتھ وی او سی خارج ہوتے ہیں لیکن اس کی کئی اقسام ہیں اور انہی کی آزمائش ہی ماہرین کا ہم ہدف ہے تاہم پھیپھڑے کے سرطان کے ساتھ ساتھ سانس کا سینسر، غذائی نالی، معدے، گردے، مثانے، پروسٹیٹ، جگر اور پتے کے سرطان کی ’بو‘ سونگھنے کی کوشش کرے گا۔یہ آلہ 10 منٹ میں سانس کا نمونہ جمع کرکے اسے ایک کیسٹ نما کارٹریج میں داخل کرے گا جسے بعد میں ماس اسپیکٹرو میٹری کمیتی طیف نگاری) سے اس کی کیمیائی ترکیب معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا تاہم اس آزمائش کے نتائج 2021ئ میں شائع کیے جائیں گی۔