یاجوج ماجوج کون تھے ؟ ذوالقرنین نے ان کو روکنے کیلئے جو دیوار بنائی وہ کس چیز سے بنائی اور آج وہ دنیا میں کس جگہ واقع ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک)اس میں کوئی شک نہیں کہ یاجوج ماجوج بنی آدم میں سے دو بڑی قومیں ہیں ، سور?الکھف میں ذوالقرنین کے قصہ پر نظر دوڑانے والے کو اس بات کا قطعی علم ہو گا کہ یہ دونوں قومیں موجود ہیں اور جو دیوار بنائی گئی ہے وہ کوئی خیالی اور معنوی نہیں بلکہ حقیقی اور حسی ہے جو کہ لوہے اور پگھلے ہوئے تانبے سے بنائی گئی ہے۔ اللہ تعالی نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا:حتی کہ جب وہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا تو ان دونوں کی دوسری طرف ایسی قوم پائی جو کہ بات کو سمجھنے کے قریب بھی نہ تھے انہوں نے کہا اے ذوالقرنین یاجوج ماجوج اس ملک میں بہت بڑ ے فسادی ہیں تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ خرچ کا انتظام کر دیں ؟( اس شرط پر کہ) آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں اس نے جواب دیا کہ میرے اختیار میں میرے رب نے جودے رکھا ہے وہی بہتر ہے تم صرف قوت اور طاقت سے میری مدد کرو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط روک اور دیوار بنا دیتا ہوں مجھے لوہے کی چادریں لا دو یہاں تک کہ جب ان دونوں پہاڑوں کے درمیان دیوار برابر کر دی تو حکم دیا کہ تیز آگ جلاو¿ جب لوہے کی چادریں آگ ہو گئیں تو فرمایا پگھلا ہوا تانبا لاو¿ تا کہ میں اس کے اوپر ڈال دوں تو ان میں نہ تو اس دیوار پر چڑھنے کی طاقت تھی اور نہ ہی وہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے تھے (ذوالقرنین ) کہنے لگے یہ میرے رب کی مہربانی ہے ہاں جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو اسے زمین بوس کر دے گا بیشک میرے رب کا وعدہ سچا اور حق ہے ) الکھف / 93۔ 98 اور اس بات کی دلیل ابن ماجہ کی مندرجہ ذیل صحیح حدیث ہے کہ یہ امت اب بھی موجود ہے بلکہ وہ روزانہ اس کوشش میں لگی رہتی ہے کہ وہ یہاں سے لوگوں پر نکل جائیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک یاجوج ماجوج اسے روزانہ کھودتے ہیں حتی کہ جب وہ اس سورخ سے سورج کی شعائیں دیکھتے ہیں تو ان کا سردار کہتا ہے کہ واپس چلو باقی کل کھودیں گے تو اللہ تعالی اسے پہلی حالت سے بھی سخت کر دیتا ہے حتی کہ جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی اور اللہ تعالی چاہے گا کہ انہیں لوگوں پر بھیج دے تو وہ اسے سوراخ کریں گے حتی کہ جب وہ اس سوراخ سے سورج کی شعائیں دیکھیں گے تو ان کا سردار کہے گا کہ واپس چلو تم باقی ان شائ اللہ تعالی کل کھودو گے تو جب وہ واپس آئیں گے تو اسی حالت میں ہو گی جہاں وہ چھوڑ کر گئے تھے تو وہ اس میں سوراخ کر کے لوگوں پر نکل آئیں گے تو وہ سارے پانی کو جذب اور خشک کر جائیں گے اور لوگ ان سے بچنے کے لیے اپنے قلعوں میں قلع بند ہو جائیں گے تو وہ اپنے تیر آسمان کی طرف چلائیں گے تو وہ تیر خون آلود ہو کر ان پر واپس آئے گا تو وہ یہ کہنا شروع کریں گے کہ ہم زمین والوں پر غالب آگئے اور آسمان والوں پر بھی غلبہ کر لیا تو اللہ تعالی ان کی گدی میں ایک کیڑا پیدا فرمآئے گا تو اس سے انہیں قتل کرے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بیشک زمین کے جانور موٹے اور ان کے جسم بھر جائیں گے (یعنی چربی سے بھر جائیں گے ) اور گوشت سے بھر جائیں گے۔ اور ایسے ہی ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا جو کہ زینت جحش سے بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گھبراہٹ کی حالت میں داخل ہوئے ور کہنے لگے لا الہ الا اللہ عرب کو اس شر سے ہلاکت ہو جو کہ قریب آگیا ہے آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے اور آپ نے اپنے انگوٹھے اور اس کی ساتھ والی انگلی کا حلقہ بنایا زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہمیں ہلاک کر دیا جائے گا حالانکہ ہم میں صالح لوگ ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جب برائی زیادہ ہو جائے گی۔ ان تفصیلات سے ہٹ کر کچھ لو گ سوال کرتے ہیں کہ یا جوج ماجوج کو روکنے کیلئے جو دیوار بنائی گئی وہ آج کہاں موجود ہے ؟ تو زمینی حقائق پر نظر رکھنے والے اور تاریخ دان بتاتے ہیں کہ وہ لوگ ملک فارس کے رہائشی تھے جو علاقے آج کے وسطی ایشیا میں موجود ہیں اور آج بھی وہاں جانے والوں کو ان کے آثار ملتے ہیں۔

کیا آپ کو OKکا مطلب معلوم ہے ؟جواب آپ کو حیران کر دے گا

لاہور (ویب ڈیسک)اگر یہ کہا جائے کہ انگریزی لفظ OKدنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ میں سے ایک ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ بات بات پر OKبولتے ہو ئے ا?پ نے کبھی سوچا کہ اس کا مطلب کیا ہے ؟ دراصل یہ لفظ پرانی انگریزی کے دو الفاظ” Oll Korrect”کا مخفف ہے جن کا مطلب ہے “سب ٹھیک ہے”۔ انیسویں صدی کے وسط میں امریکی شہرو ںبوسٹن اور نیویارک میں غیر روایتی الفاظ کا استعمال عام تھا اور بڑے لفظوں کومختصر کر کے بولنا بہت پسند کیا جا تاتھا۔اس دور میں” You know”کی جگہ KYاور” Oll wright” کی جگہ OW جیسے مخفف عام استعمال کئے جاتے تھے۔اگرچہ ان میں سے اکثر مخفف وقت کے ساتھ ختم ہو گئے ،مگر ایک سیاستدان کی وجہ سے OKکا استعمال جاری رہا۔یہ سیاستدان وین بورین تھے جن کا عرف عام “Old Kinderhook”تھا اور ان کے ساتھی اور کارکن انہیں مختصر ًاOKکہتے تھے اورانہوں نے ایک OKکلب بھی بنارکھاتھا۔اگرچہ اس لفظ کا تعلق سیاست سے توختم ہو گیالیکن “سب ٹھیک ہے” یا” ٹھیک” کے معنوں میں اس کا استعمال اب بھی بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔

آصف زرداری، فریال تالپور کے اثاثے منجمد کرنے کی سفارش

کراچی (ویب ڈیسک)جعلی اکاو¿نٹ کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے اثاثے منجمد کرنے کی سفارش کردی۔جعلی اکاو¿نٹ اور منی لانڈرنگ کیس میں جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں نئی سفارشات جمع کرواتے ہوئے آصف زرداری، فریال تالپور، اومنی گروپ اور زرداری گروپ کے اثاثے منجمد کرنے کی سفارش کردی۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ زرداری اور اومنی گروپس نے غیر قانونی اثاثے بنائے، سرکاری فنڈز میں بے ضابطگیاں کیں اور کمیشن لیا۔جے آئی ٹی کے مطابق دونوں گروپس نے غیر قانونی پیسہ حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیا جس کے شواہد موجود ہیں، لہذا عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ دونوں گروپس اور ان کی ماتحت مختلف کمپنیوں کے اثاثے منجمد کردیے جائیں۔ جے آئی ٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان اثاثوں کے بیرون ملک منتقل ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے احتساب عدالت کے فیصلے تک ان اثاثوں کو منجمد رکھا جائے۔جے آئی ٹی نے عدالت سے درخواست کی کہ سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن (ایس ای سی پی) کو زرداری اور اومنی گروپ کے ڈائریکٹرز کی تبدیلی روکنے کا حکم بھی دیا جائے۔ جے آئی ٹی نے جن املاک کو منجمد کرنے کی سفارش کی ہے ان میں آصف زرداری، فریال تالپور اور زرداری گروپ کی تمام شہری و زرعی اراضی، نیویارک اور دبئی کی جائیدادیں، کراچی اور لاہور کے بلاول ہاو¿سز، زرداری ہاو¿س اسلام آباد، اومنی گروپ کی تمام شوگر ملز، زرعی و توانائی کمپنیز سمیت تمام اثاثے شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اس کیس میں ملوث 172 افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کردیے گئے ہیں جن میں ا?صف علی زرداری اور بلاول بھٹو بھی شامل ہیں۔

میں ٹرک ڈرائیورسے بل گیٹس کیسے بنا؟

لاہور (چودھری شفیق )استاد نے اسے گھور کر دیکھا اور شدید غصے میں بولا ”بل تم میری بات کان کھول کر سن لو . تم زندگی میں زیادہ سے زیادہ ٹرک ڈرائیور بن سکتے ہو“ پوری کلاس نے قہقہہ لگایا اور وہ تھکے تھکے قدموں سے باہر نکل گیا . یہ ہارورڈ یونیورسٹی میں اس کا آخری دن تھا .وہ اس یونیورسٹی میں ریاضی کا طالب علم تھا. اسے کلاس روم کا ماحول , کلاس فیلوز کی گفتگو .اساتذہ کا پڑھانے کا طریقہ اور یونیورسٹی کی نئی پرانی روایات بور لگتی تھیں وہ کئی کئی دن کیمپس سے غائب رہتا تھا.اس کا زیادہ زیادہ تر وقت سیاٹل جھیل کے کنارے پال ایلن کے ساتھ گزرتا تھا. پال بھی اس کی طرح لمبی منصوبہ بندی کا ماہر تھا . وہ دونوں گھنٹوں کسی ایسی دنیا کے بارے میں سوچتے رہتے تھے جو ابھی تخلیق کے مراحل میں داخل نہیں ہوئی تھی‘ وہ دونوں دن میں خواب دیکھتے تھے. ان خوابوں کے دوران ایک دن ہارورڈ یونیورسٹی نے اس کا نام خارج کردیا تھا .وہ یہ خط لے کر ایلن کے پاس گیا اور اسے خط دکھا کر بولا ”آ? پال ہم اس دنیا کی بنیاد رکھیں جو آج تک صرف ہمارے ذہن میں تھی“ پال ایلن نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔ وہ 28 اکتوبر 1955ئ کو واشنگٹن ریاست کے شہر سیاٹل میں پیدا ہوا . اس کے والد وکیل تھے. سارا گھرانہ پڑھا لکھا اور معزز تھا لیکن بل پڑھائی میں ذرا پیچھے تھا. اس میں یکسوئی نہیں تھی. اس کی سوچیں منتشر ہو جاتی تھیں اور اس کے والدین اس کی وجہ سے پریشان رہتے تھے . اس کے والد کی خواہش تھی وہ ہارورڈ یونیورسٹی سے اعزاز کے ساتھ ڈگری لے لیکن یونیورسٹی نے اس کا نام خارج کردیا . اس کے والد کو شدید صدمہ پہنچا لیکن بل مطمئن تھا ‘اس کا خیال تھا ہارورڈ یونیورسٹی کسی نہ کسی دن اپنے اس نالائق طالب علم پر فخر کرے گی۔ آنے والے دنوں میں اس کی یہ بات سچ ثابت ہوئی اور ہارورڈ یونیورسٹی کے گیٹ پر اس کے نام کی تختی لگ گئی لیکن یہ بہت بعد کی بات ہے‘ ہم ابھی 1975ئ میں ہیں1975ئ میں اس نے اپنے دوست پال ایلن کے ساتھ مل کر دنیا کی پہلی سافٹ وئیر کمپنی بنائی . اس کمپنی کا نام ”مائیکرو سافٹ“ رکھا گیا .لوگ اس کے آئیڈیاز اور کمپنی کے نام دونوں پر ہنستے تھے لیکن اس نے ہمت نہ ہاری. وہ کام کرتا چلا گیا یہاں تک کہ 1979ئ تک کمپنی نے پر پرزے نکال لئے اور وہ ٹھیک ٹھاک امیر ہوگیا لیکن ابھی وہ اس کامیابی سے دور تھا جو بچپن سے اس کے ذہن پر دستک دیتی آرہی تھی 1980ئ میں سٹیوبالمر نے کمپنی جوائن کی اور اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے مائیکرو سافٹ واشنگٹن ریاست کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی. اس کے پاس روزانہ اتنے چیک آتے تھے کہ بینک نے اس کے دفتر میں اپنی شاخ کھول لی.آنے والے دنوں میںدنیا کے 51 بڑے بینکوں نے مائیکرو سافٹ میں اپنی شاخیں کھولیں اور بینک اکا?نٹس کے حصول کیلئے مائیکروسافٹ کو باقاعدہ ترغیبات دینے لگے 1990ئ تک مائیکرو سافٹ دنیا کی سب سے مشہور کمپنی تھی اور وہ دنیا کا نامورترین شخص تھا . وہ اس قدر مشہور ہوا کہ بل کلنٹن نے 1998ئ میں اعلان کیا ”وی آر دی نیشن آف بل گیٹس“ یہ ہارورڈ یونیورسٹی کے اس نالائق طالب علم کا پہلا اعزاز تھا۔ جی ہاں اس شخص کا نام بل گیٹس ہے اور یہ پچھلے بارہ سال سے دنیا کا امیر ترین شخص ہے۔ یہ انسانی تاریخ کا واحد شخص ہے جو 38 برس کی عمر میں دنیا کا امیر ترین شخص بنا اور اس نے مسلسل 12 سال تک یہ اعزاز برقرار رکھا. مائیکرو سافٹ میں اس وقت 63 ہزار 5 سو 64 لوگ ملازم ہیں . اس کا کاروبار 102 ممالک تک پھیلا ہے جبکہ یہ کمپنی اب تک دنیا کے ایک لاکھ 28 ہزار لوگوں کو ارب پتی بنا چکی ہے. مائیکرو سافٹ کے ملازمین اوسطاً 89 ہزار 6 سو ڈالر سالانہ تنخواہ لیتے ہیں . مائیکروسافٹ کے پانچ ڈائریکٹر ہیںاور بل گیٹس کے پاس سب سے زیادہ شیئرز ہیں. وہ 97 کروڑ 74 لاکھ , 99 ہزار 3 سو 36 شیئرز کا مالک ہے ‘ امریکی سٹاک ایکسچینج میں مائیکرو سافٹ کے شیئر کی قیمت اس وقت 23 ڈالر ہے. پچھلے 15 برسوں میں میڈیا نے بل گیٹس کو پوری دنیا میں سب سے زیادہ کوریج دی . وہ دنیا کی بااثر ترین شخصیات میں شمار ہوتا ہے. لوگ اس کے ساتھ ہاتھ ملانا.اس کے ساتھ تصویر کھنچوانا اعزاز سمجھتے ہیںجبکہ اسے دنیا کے 35 ممالک میں سربراہ مملکت کا پروٹوکول حاصل ہے۔

دوران طواف خانہ کعبہ کی تصویر میں ایسا کیا سامنے آگیا کہ دیکھ کر ہر زبان سبحان اللہ کہہ اٹھی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مطابق سعودی عرب کے معروف فوٹو گرافر احمد حاضر نے حج کے دوران ایک تصویر بنائی جس میں واضح طو ر ہر ایک خانہ کعبہ میں حجاج کرام کی موجودگی میں دل بنتانظر ا?رہا ہے۔ احمد حاضرکا کہنا تھا کہ یہ تصویر میں نے اس وقت لی جب حج کے دوران مسجد الحرام میں صفائی کرنے والوں نے ذرا دیر کو طواف میں مصروف حاجیوں کو صفائی کی غرض سے وہاں سے تھوڑا پیچھے ہٹنے کا کہا۔ جیسے ہی لوگ پیچھے ہٹے ویسے ہی قدرت کی طرف سے ایک انسانی دل بن گیا۔ احمد حاضر کہتے ہیں کہ میں نے جیسے ہی یہ منظر دیکھا میری زبان سبحان اللہ کہہ اٹھی۔

مینڈکوں کو بڑے سا نپ نے خود پر سوارکرکے انہیں جا ن سے بچالیا

ملبورن(ویب ڈیسک) رات کے دوسرے پہر ایک کسان نے عجیب منظر دیکھا کہ ایک اڑدھا کئی مینڈکوں (ٹوڈز) کو سوار کراکے انہیں کسی محفوظ جگہ لے جارہا ہے۔خیال ہے کہ اس علاقے میں ا?نے والے شدید سیلاب سے ان مینڈکوں کے گھروں (کھو) میں پانی بھر گیا تھا اور انہوں نے وہاں سے نکلنے کے لیے اھے کی خدمات حاصل کی تھیں۔ کسان پال موک کے مطابق اس کے کھیت میں ہزاروں مینڈک پائے جاتے ہیں۔پال کے مطابق یہ اڑدھا اس کا دیکھا بھالا ہے اوراس سے قبل ایک چھوٹے کینگرو کو سالم نگل چکا ہے۔ کسان نے دیکھا کہ رات کے ڈیڑھ بجے بارش کے پانی کی وجہ سے ہزاروں مینڈک محفوظ اونچے مقامات کی تلاش میں تھے کہ اس نےاڑدھے کی پیٹھ پرمزے سے بیٹھے کئی کین مینڈک دیکھے اوراڑدھا ان کے لیے ٹرانسپورٹ کا کام کرتے ہوئے ا?گے بڑھ رہا تھا۔ واضح رہے کہ برسات کا یہ موسم مینڈکوں کے ملاپ اورنسل خیزی کا دور بھی ہے۔زیتونی نسل کا اڑدھا اگرچہ مینڈکوں کوکھاتا ہے لیکن اس منظرمیں اسے کسی مینڈک کو کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ پال کا خیال ہے کہ شاید پہلے یہ بہت سے مینڈکوں کوکھا کرپیٹ بھرچکا ہے اوراس کے بعد باقی مینڈکوں کو لے کر محفوظ مقام تک گیا ہے۔

خوبصورت اورانوکھے پرندے ہیمنگ برڈ کی چونچ تلواربازی کے لیے بھی استعمال ہو نیکا انکشا ف

برکلے(ویب ڈیسک) کیلیفورنیا: فطرت میں پائے جانے والے خوبصورت اورانوکھے پرندے ہمنگ برڈ کی چونچ اورزبان خاص طور پر پھلوں اورپھولوں کا رس اور شیرا چاٹنے کے لیے بنائی گئی لیکن وہ اس سے شمشیر زنی اور دشمنوں کو بھگانے کا کام بھی کرتے ہیں۔اس دلچسپ تحقیق کی روداد جرنل آف انٹی گریٹو آرگینزمل بائیلوجی میں شائع ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے کے ماہرین نے ہمنگ برڈ کی تصاویر اور ویڈیو کو دیکھتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی امریکا کے کچھ نر ہمنگ برڈ اپنی چونچ کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں تاکہ دوسروں کو ان کے کھانے کے ذخیرے یا ان کی ممکنہ مادہ سے دور رکھ سکیں۔ اس ضمن میں یونیورسٹی نے بہت دلچسپ ویڈیو بھی تیار کی ہے۔ہیمنگ برڈ اپنی مخصوص نوک دار چونچ دوسروں کو چبھوتے ہیں جس سے وہ انہیں پرے دھکیلنے اور عین تلواربازی کی طرح بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ اتنا تیزی سے ہوتا ہے کہ ہمیں احساس ہی نہیں ہوپاتا اور اسی وجہ سے سائنس دانوں نے ان کی تفصیلی ویڈیو کو سلوموشن کرکے دیکھا ہے جس سے ہمنگ برڈ جیسے پرندے کی یہ نئی ادا بھی سامنے آئی ہے۔

پولیس اہلکار کے پوسٹر کو ‘رشوت’ دینا سری لنکن نوجوانوں کو مہنگا پڑ گیا

کولمبو: (ویب ڈیسک)سری لنکا میں سڑک کنارے کھڑے ایک ٹریفک پولیس افسر کے کٹ آو¿ٹ (حقیقی سائز کے پوسٹر) کو ازراہِ مذاق ‘رشوت’ دینے پر دو نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا، تاہم بعدازاں دونوں ضمانت پر رہا ہوگئے۔یہ واقعہ سری لنکا کے شمالی قصبے واونیہ میں پیش آیا، جہاں موٹرسائیکل پر سوار دو نوجوانوں نے سڑک کنارے بائیک روکی، جیب سے والٹ نکال کر اس میں سے پیسے نکالے اور وہاں نصب ڈمی پولیس اہلکار کو دینے کی کوشش کی۔اور صرف یہی نہیں یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی اَپ لوڈ کردی، جو فوراً ہی وائرل ہوگئی۔

شیخ رشید نے ریلوے پولیس کی تنخواہ پنجاب پولیس کے برابر کرنے کا اعلان کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ ریلوے پولیس کی تنخواہ پنجاب پولیس کے برابر کرنے کی سمری کی زبانی منظوری لے لی ہے۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال 6 ماہ میں دو وی وی آئی پی ٹرینیں چلائیں گے اور اس ماہ جب وزیراعظم کے پاس وقت ہوا تو ٹرینوں ٹریکرز لگائے جانے کا افتتاح کردیا جائے گا جب کہ ریلوے کا ایف ایم ریڈیو بھی شروع کررہے ہیں۔وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ عدالت نے ریلوے کی زمین پر لیز کی پابندی لگادی ہے اور 5 سال کے لیے لیز دینے کی اجازت دی ہے۔شیخ رشید نے مزید کہا کہ رائل پام سے ریلوے کے 3 ارب روپے لینے کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔

خواجہ سعد ،سلمان رفیق کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع

لاہور:(ویب ڈیسک) احتساب عدالت نے پیراگون ہاو¿سنگ سوسائٹی کیس میں گرفتار خواجہ سعد اور ان کے بھائی سلمان رفیق کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی۔لاہور کی احتساب عدالت میں خواجہ برادران کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں نیب نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کو عدالت میں پیش کیا۔دورانِ سماعت عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ اب کتنے افراد کو نوٹسز کیے ہیں؟ جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ 32 افراد کو اکاو¿نٹس کی تحقیقات کے لیے طلب کرلیا گیا ہے ۔عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کی استدعا منظور کرتے ہوئے خواجہ برادران کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی جب کہ دونوں بھائیوں کو 19 جنوری کو دوبارہ پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

ایپل موبائل کمپنی کو تاریخ کا سب سے بڑا جھٹکا ، وہ ہو گیا جو کمپنی نے کبھی نہ سوچا تھا

لاہور (ویب ڈیسک ) ایپل کو اپنے نئے آئی فونز سے بہت زیادہ توقعات تھیں مگر آئی فون ایکس ایس، ایکس ایس میکس اور ایکس آر اس کمپنی کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوئے۔گزشتہ سال اکتوبر میں یہ کمپنی دنیا کی امیر ترین کمپنی تھی جس کے حصص کی مالیت ایک ہزار ارب ڈالرز سے زیادہ تھی۔مگر اکتوبر سے دسمبر کے دوران یہ کمپنی 450 ارب ڈالرز سے محروم ہوگئی۔جمعرات کو ایپل کے سی ای او ٹم کک نے ایک خط میں بتایا تھا کہ آئی فونز کی فروخت توقعات سے کم رہی اور آگے مزید کم ہونے کا امکان ہے۔اس کے فوری بعد ایپل کے حصص کی مالیت میں لگ بھگ 10 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔3 اکتوبر کو ایپل کے حصص نے 232.07 کو چھوا تھا مگر جمعرات کو یہ 142.19 ڈالرز تک گرچکے تھے اور یہ کمپنی 446 ارب ڈالرز محروم ہوکر 674.75 ارب ڈالرز پر پہنچ گئی۔اہم بات یہ ہے کہ 450 ارب ڈالرز کا یہ نقصان اس لیے نمایاں ہے کیونکہ فیس بک کی مجموعی مالیت اس وقت صرف 380 ارب ڈالرز ہے جبکہ مختلف ممالک جیسے ایران، آسٹریا اور ناروے کے جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔ایپل کے نیچے جانے کا فائدہ مائیکروسافٹ کو ہوا جو اس وقت دنیا کی سب سے ویلیو ایبل کمپنی بن چکی ہے جبکہ اس کے بعد الفابیٹ (گوگل) کا نمبر ہے۔2018 میں پیش کیے جانے والے تینوں آئی فونز لگتا ہے کہ صارفین کی توجہ کا مرکز نہیں بن سکے تھے جس کی وجہ سے کمپنی نے پہلے ان کی پروڈکشن کم کرنے کا فیصلہ کیا۔ٹم کک نے اپنے خط میں لکھا کہ چین ایپل کے لیے سب سے بڑا دھچکا بننے والا ملک ثابت ہوا ہے مگر اس سے بھی ہٹ کر نئے آئی فون ماڈلز کی طلب توقعات سے زیادہ کمزور رہی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ تو توقع تھی کہ ابھرتی مارکیٹس میں کچھ چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے مگر ہمیں اس طرح کے اقتصادی خسارے کی توقع نہیں تھی خصوصاً چین میں۔تاہم صرف چین نہیں بلکہ اس سال دیگر ممالک میں بھی لوگوں نے نئے آئی فونز میں ماضی جیسی دلچسپی نہیں دکھائی۔ٹم کک کے مطابق ڈیوائس اپ گریڈ پروگرام بھی ہماری توقعات جیسا ثابت نہیں ہوا اور صارفین نے آئی فون بیٹری تبدیل کرنے کے پروگرام کے لیے قیمتوں میں کی جانے والی نمایاں کمی کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

سونے کی تولہ قیمت میں آج 200 روپے اضافہ

کراچی(ویب ڈیسک ) بین الاقوامی ب±لین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت4 ڈالر کے اضافے سے 1291 ڈالر کی سطح پرپہنچنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی جمعے کو فی تولہ اور فی 10 گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب200 روپے اور 172 روپے کا اضافہ ہو گیا۔صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت 67700 روپے اور فی 10 گرام سونے کی قیمت 58042 روپے ہوگئی۔ فی تولہ چاندی کی قیمت بغیرکسی تبدیلی کے890 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 763 روپے پر مستحکم رہی۔

ادھار تیل بارے یو اے ای کا پاکستان کو اب تک کا سب سے بڑا پیکج

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہان کی طرف سے دورہ پاکستان کے موقع پر 3.2 ارب ڈالرمالیت کا تیل فراہم کرنے کا اعلان متوقع ہے جس سے ادائیگیوں کے توازن میں مدد ملے گی۔ایکسپریس کے مطابق پاکستان کو سعودی عرب ، ابوظبی اور انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن (آئی ٹی ایف سی) سے سالانہ مجموعی طور پر7 ارب 90 کروڑ ڈالر مالیت کا تیل اور ایل این جی موخر ادائیگیوں پر ملنے کی امید ہے جس سے ادائگیوں کے توازن کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران ابوظبی کے ساتھ مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ولی عہد کی جانب سے سعودی عرب کی طرز پر پاکستان کے لیے موخر ادائیگی پر 3.2 ارب ڈالرمالیت کا تیل فراہم کرنے کااعلان کیا جاسکتا ہے۔متحدہ عرب امارات اس سے پہلے پاکستان کے فارن کرنسی اکاو?نٹ میں 3 ارب ڈالر جمع کرنے کا اعلان کرچکا ہے جس سے عالمی ادائیگیوں کے توازن کے مسئلے پر قابو پانے میں مددملے گی۔ایک سینئر سرکاری عہدے دار کا کہنا ہے کہ 3.2 ارب ڈالر مالیت کا ادھار تیل پاکستان کے لیے اضافی امداد ہے، متحدہ عرب امارات کی طرف سے مجموعی طور پر 6.2 ارب ڈالر امداد ملے گی۔