ناراض بیوی کو منانے کیلئے معافی مانگنے کا انوکھا طریقہ

کراچی (ویب ڈیسک)اگر کسی وجہ سے شریک حیات میں سے کوئی ایک ناراض ہو جائے تو پھر اسے کیسے منایا جائے۔ہاتھ جوڑے جائیں ، قسمیں کھائی جائیں یا صرف معافی مانگ کر اعتراف کر لیا جائے۔ اب اگلا سوال کہ معافی اور غلطی کا اعتراف کر بھی لیا جائے تو کس شکل میں؟ایسا ہی کچھ انوکھا کیا ہیوسٹن ، ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے جوز ایل ٹورس نامی شخص نے۔اپنی شریک حیات کا بھروسہ دوبارہ سے قائم کرنے کیلئے ٹورس نے اپنی چھاتی پر مستقل طور پر معافی اور اعتراف نامہ گدوالیا۔ٹورس کا کہنا ہے کہ ایسا اس نے اپنی بیوی کے اعتماد کو دوبارہ سے جیتنے کیلئے کیا ہے۔وہ اپنی شادی شدہ زندگی بہت تکلیف دہ ہو جانے پر شرمندہ ہئ۔ معافی نامے میں ٹورس نے اپنے جھوٹے اور دوغلے ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔اب ٹورس نے بیوی کو منانے کیلئے غلط طریقہ اختیار کیا یا صحیح یہ ایک الگ بحث ہے لیکن ٹورس کی گ±دی ہوئی چھاتی کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سے ایک الگ بحث چھڑ گئی ہے۔یہ بحث ہے درست املے اور ہجوں کی۔گدائی کرنے والا آرٹسٹ املے اور ہجوں کا ماہر نہیں تھا اسی وجہ سے انٹرنیٹ پر کئی لوگوں نے تحریر میں غلطیوں کی نشاندہی اس آرٹسٹ کے انسٹا گرام اکاونٹ ‘ٹیٹوز بائی جارج ‘ پر بھی کی ہے۔جیسے کہ deceiver اور disrespectful کا املا۔جواب میں آرٹسٹ نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انگریزی ان کی مادری زبان نہیں ہے اور تحریر کی درستگی کیلئے وہ اپنے کلائنٹ سے ایک سے زائد مرتبہ چیک کرواتے ہیں۔آرٹسٹ کے مطابق اپنے کلائنٹ کی چھاتی پر گدائی کرنے سے پہلے کئی مرتبہ پوچھا تھا کہ واقعی وہ یہ کروانا چاہتا ہے یا اس کے بارے میں ایک بار اور سوچنا چاہے گا لیکن اس کا کلائنٹ اس کام کیلئے ذہنی طور پر تیار ہو کر آیا تھا۔انسٹا گرام پر جاری ہونے والی گ±دی ہوئی چھاتی کی یہ تصویر فوری طور پر سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز پر بھی وائرل ہوگئی۔ابھی تک یہ سامنے نہیں آسکا کہ یہ گدی ہوئی تحریر دیکھنے اور پڑھنے کے بعد ٹوررس کی بیوی کا کیا رد عمل تھا، آیا اعتماد بحال ہوا یا اس سے مزید کسی گڑبڑ کا رستہ کھل گیا۔کچھ لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ اگر ٹورس اتنا سب کچھ کرنے کے بجائے اپنی بیوی کو جی بھر کر شاپنگ ہی کروادیتا تو شاید یہ معاملہ آسانی سے حل ہو سکتا تھا۔

دنیا کا وہ واحد ملک جہاں گزشتہ 1400سال سے سحر و افطار سمیت نمازوں کے اوقات بھی ہمیشہ سے ایک ہی ہیں اور کبھی تبدیل نہیں ہوئے

کمپالا(ویب ڈیسک)یوگنڈا خط استوا پر واقع ہے جہاں سال بھر کے تمام مہینوں میں دن اور رات کے اوقات میں کوئی فرق نہیں ہوتا ، موسموں کی تبدیلی بھی اوقات کی تبدیلی پر اثرا انداز نہیں ہوتی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جیسے جیسے ہم قطب شمالی کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے دن بڑا اور رات مختصر ہوتی جائے گی۔ اس کے برعکس قطب جنوبی کی جانب سفر کرنے سے دن چھوٹا اور رات طویل ہوتی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سال کے چاروں موسم بھی تبدیل ہوتے جاتے ہیں۔ ہرسال روزے کے مختلف اوقات کی بحث کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کا ایک ایسا ملک بھی کرہ ارض پرموجود ہے جس میں اسلام کی آمد کے بعد سے اب تک روزے کا وقت تبدیل نہیں ہوا۔یہ شمالی افریقا کا ملک یوگنڈا ہے جس میں دخول اسلام کے بعد اب تک ہر سال وہاں کے مسلمان 12 گھنٹے کا روزہ رکھتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ یوگنڈا خط استوا پر واقع ہے جہاں سال بھر کے تمام مہینوں میں دن اور رات کے اوقات میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ موسموں کی تبدیلی بھی اوقات کی تبدیلی پر اثرا انداز نہیں ہوتی۔یوگنڈا اگرچہ مسلمان ملک نہیں مگر وہاں پر مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہے جو کل ا?بادی کا 27 سے 30 فی صد ہیں۔ یوگنڈا کے مسلمان نہ صرف ہرسال ایک ہی وقت میں روزہ رکھتے اور افطار کرتے ہیں بلکہ ان کی نمازوں کے اوقات بھی تبدیل نہیں ہوتے۔جبکہ بعض خطوں میں دن بہت لمبا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں روزے کا دورانیہ بھی طویل ہوتا ہے۔ جیسے جیسے ہم قطب شمالی کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے دن بڑا اور رات مختصر ہوتی جائے گی۔ اس کے برعکس قطب جنوبی کی جانب سفر کرنے سے دن چھوٹا اور رات طویل ہوتی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سال کے چاروں موسم بھی تبدیل ہوتے جاتے ہیں اس لئے ان علاقوں میں نمازاورروزے کے اوقات کاریکساں نہیں رہتے اورتبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

فوجی عدالتوں کی مدت ختم ، کیا حکومت توسیع کرے گی ؟ فیصلہ ہو گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک )وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں کی مدت میں دوسری مرتبہ توسیع کا فیصلہ کرلیا ہے۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کرلیا، آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید 2 سال کی توسیع کی جائے گی جب کہ وزارت قانون نے آئینی ترمیم کا مسودہ بھی تیار کرلیا ہے۔وزارت قانون کے مطابق آئینی ترمیم کا مسودہ آئندہ قومی اسمبلی اجلاس میں پیش کیا جائے گا جب کہ فوجی عدالتوں سے متعلق آئینی ترمیم پر اپوزیشن جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔واضح رہے کہ 2017 میں فوجی عدالتوں کی مدت میں 2 سال کی توسیع کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ نے آئینی ترمیم کا بل منظور کیا تھا، صدر مملکت نے منظور شدہ بل کے مسودے پر دستخط کیے تھے جس کے بعد بل آئین کا حصہ بن گیا تھا تاہم اب بل کی مدت ختم ہوچکی ہے۔

سونے کی فی تولہ قیمت میں آج پھر اتنا اضافہ ہوگیا کہ عام آدمی ’سونا‘ بھول جائے

کراچی (ویب ڈیسک) رواں ہفتے کے پہلے ہی روز سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔سندھ صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق آج (پیر کو) سونے کی فی تولہ قیمت میں 200 روپے کا اضافہ ہوگیا ہے جس کے باعث فی تولہ سونا 67 ہزار 300 روپے کا ہوگیا ہے۔ دوسری جانب 10 گرام سونے کی قیمت بھی 57 ہزار 700 روپے ہوگئی ہے۔خیال رہے کہ حالیہ کچھ دنوں کے دوران سونے کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جس کی ایک وجہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کا بڑھنا ہے۔ سونے کی قیمت میں اضافے کی ایک اہم وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں کمی بھی ہے۔

‘اسلام آباد میں 5 سال کے دوران 3 سو سے زائد بچوں کا ریپ’

اسلام آباد (ویب ڈیسک)اسلام آباد پولیس نے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کو بتایا ہے کہ گزشتہ 5 سال کے دوران وفاقی دارالحکومت میں بچوں کے ساتھ ریپ کے 3 سو سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ اس عرصے میں 2 سو 60 ایسے واقعات روپورٹ نہیں کروائے گئے۔بچوں سے زیادتی کی روک تھام سے متعلق سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن نزہت صادق کی صدارت میں ہوا۔کمیٹی نے ایک مرتبہ پھر وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا۔کمیٹی کی چیئرپرسن نزہت صادق کا کہنا تھا کہ شیریں مزاری کو اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے تھی، بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا معاملہ انتہائی اہم ہے.ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ اجلاس میں بھی وزیر انسانی حقوق نے شرکت نہیں کی تھی، وزیر انسانی حقوق کا یہ انتہائی غیر سنجیدہ رویہ ہے۔اس موقع پر وزارت انسانی حقوق کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیر انسانی حقوق وزیراعظم ہاو¿س میں موجود ہیں، وزیر انسانی حقوق کی اجلاس میں شرکت سے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اجلاس کے دوران اسلام آباد پولیس کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ 5 سال میں اسلام آباد میں 3 سو بچوں کے ساتھ ریپ کے واقعات پیش آئے، ان برسوں میں بچوں سے ریپ کے 2 سو 60 واقعات رجسٹر ہی نہیں ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد سے 2016 میں 2 بچیاں لاپتہ ہوئیں جن کا تاحال پتہ نہیں چل سکا، سڑکوں پر بھیک مانگنے والے 14 سو سے زائد بچوں کو محفوظ مقامات پر اپنی نگرانی میں رکھا گیا لیکن وہ لوگ کچھ عرصے بعد پھر سڑکوں پر آکے بھیک مانگنا شروع ہوگئے۔کمیٹی نے بچوں سے ریپ کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیاں روابط کی کمی ہے۔کمیٹی کے رکن مشتاق احمد نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بچوں کا جیل بنا ہوا ہے لیکن بچوں کو ان کے لیے قائم جیل میں نہیں رکھا جاتا اور حکومت خود کہہ رہی ہے کہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ یہ بچے محفوظ نہیں ہیں۔وزارت انسانی حقوق کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ چائلد پروٹیکشن سے متعلق 80 سے زائد قوانین موجود ہیں، بچوں سے زیادتی کی روک تھام سے متعلق اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے صوبے تعاون نہیں کر رہے، اس اہم معاملے پر صوبوں کو خط لکھے گئے لیکن ایک صوبے نے بھی جواب نہیں دیا۔سینیٹ کمیٹی نے بچوں سے ریپ کے معاملے کو وزیراعظم کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کرلیا، کمیٹی کا کہنا تھا کہ بچوں سے ریپ کا معاملہ انتہائی حساس معاملہ ہے، واقعات کی روک تھام کے لیے وزیراعظم سے ملاقات کی جائے گی۔کمیٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو واقعات کی روک تھام کے لیے درکار اقدامات سے متعلق فوری احکامات جاری کرنے کی درخواست کی جائے گی۔

بیوقوف کون؟چھوٹے سے بچے کے جواب نے بڑے بڑوں کو لاجواب کر دیا ،دلچسپ خبر

لاہور (ویب ڈیسک)بچہ نائی کی دکان میں داخل ہوتا ہے،حجام گاہک سے سرگوشی کرتا ہے یہ دنیا کا بیوقوف ترین بچہ ہے دیکھو میں یہ ثابت کیے دیتا ہوں۔حجام نے ایک ہاتھ پر ایک روپے کا نوٹ رکھا اور دوسرے ہاتھ پر 25 پیسے کا سکہ بچے کو آواز دی اور دونوں ہاتھ آگے کر دیئے بچے نے 25 پیسے لیے اور چل دیاحجام کہنے لگایہ ہر دفعہ ایسے ہی کرتا ہے۔ گا ہک باہر نکلتا ہے آیس کریم کی دکان کے پاس ا?سے وہی بچہ ملتا ہے و ہ اس سے پوچھتا ہے تم ہر دفعہ25 پیسے کیوں اٹھاتے ہو ، روپیہ کیوں نہیں ا?ٹھاتے بچہ کہتا ہے وہ اس لیے کہ جس دن میں نے ایک روپے کا نوٹ ا?ٹھا لیاا?س دن کھیل ختم بیوقوف وہ ہے جواپنے آپ کو زیادہ عقلمند جانتا ہے۔

بچھو ماں کا پیٹ کھا کر جنم لیتا ہے ماں کی عزت نہ کرنے والا شخص زمین کا بچھو ہے

لاہور (ویب ڈیسک)شیخ کی خدمت میں ہانپتا کانپتا نوجوان حاضر ہوا‘ حلقہ توڑتا ہوا شیخ کے قدموں میں گرا‘ پاو¿ں چھوئے اور دھاڑ دھاڑ کر رونے لگا‘ آہ و بقا سن کر شیخ اور معتقدین ہکا بکا رہ گئے‘ شیخ نے نوجوان کے سر پرہاتھ رکھا‘ ڈھارس بندھائی اور درد والم کا سبب پوچھا ‘نوجوان نے سر اٹھایا اورہاتھ جوڑ کر بولا” حضور میں نے ظلم کر دیا‘ میں نے خود کو پستی میں گرا لیا‘ یا شیخ مجھے بچا لیجئے“ شیخ نے دوبارہ دست شفقت سرپر پھیرا‘ حوصلہ بڑھایا اور پوچھا ”ہوا کیا ہے ؟نوجوان روہانسی آواز میں بولا” حضور میری ماں نے مجھے بہت نازونعم‘ بہت لاڈ پیار سے پالا‘ میں گھر کا واحد چشم و چراغ تھا‘ میری والدہ مجھے پڑھا لکھا کر بڑا آدمی بنا نا چاہتی تھی لیکن میرا دل پڑھائی میں نہیں لگتا تھا‘ ماں مجھے روزانہ مدرسہ چھوڑ جاتی اور میں روزانہ بھاگ جاتا ‘ ماں نے تنگ آ کر مجھے سکول میں داخل کرا دیالیکن میری عادت نہ گئی۔میری ماں میری اس عادت سے تنگ آ گئی اور اس نے مجھے مارنا پیٹنا شروع کر دیا‘ تین دن پہلے حد ہو گئی وہ سارا دن مجھے ڈھونڈتی رہی‘ یہاں تک کہ شام ہو گئی‘ وہ تھکی ہاری گھر پہنچی تو میں پہلے سے گھر میں موجود تھا‘ اس نے مجھے دیکھا توآ گ بگولہ ہو گئی‘ اس نے مجھے مارنا شروع کر دیا‘ میری عقل پر پردہ پڑ گیا‘ میں نے روزانہ کی مار کٹائی سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر لیا‘ میں نے کلہاڑی اٹھائی اور ماں کے سر میں دے ماری‘ ماں کی ایک چیخ نکلی اور زمین پر ڈھیر ہو گئی‘ آج میری ماں کی تدفین کو تین دن ہو گئے‘ مجھے ان تین دنوں میں ایک لمحہ کاسکون نہیں ملا‘ میں کھانا کھانے لگتا ہوں تو میرا ہاتھ سانپ بن جاتا ہے اور میں سونے لگتا ہوں تو خوفناک اڑدھا میرے سینے پر بیٹھ جاتا ہے‘ یا شیخ میں نے ظلم کر دیا‘ میں نادم ہوں ‘ میں شرمند ہوں‘ خدارامجھے اس مصیبت سے نجات دیجئے“ نوجوان کی درد ناک کہانی سن کر شیخ اور مرید ین پر سکتہ طاری ہو گیا‘ نوجوان اللہ اور رسول کے واسطے دینے لگا‘ شیخ کو طیش آ گیا‘ اس نے نوجوان کے گال پر تھپڑ رسید کیا اور بولا” تمہارے ظلم کا ایک ہی علاج ہے‘ تم پر تیل ڈالا جائے اور آگ لگا دی جائے‘ تم جواپنی ماں کے نہیں بن سکے“ تم میرے اور اللہ کے کیا بنو گے‘ جاو¿اور میری محفل سے نکل جاو¿“نوجوان شرمندہ شرمندہ اٹھا‘ لڑکھڑاتے پاو¿ں سے دروازے کی طرف مڑا تو شیخ نے آ واز دی” سنو لڑکے! دنیا میں بچھو واحد مخلوق ہے جس کی پیدائش دوسرے جانداروں سے مختلف ہوتی ہے‘ دنیا کا ہر جاندارکی پرورش ماں کرتی ہے لیکن بچھو پیدا ہونے سے پہلے ہی ماں کی آنتوں کو نگل جاتا ہے اور اس کے بعد جنم لیتا ہے ‘ بچھو کے بال پر کھال نظر آ تی ہے وہ انہی آنتوں کی نشانی ہے اور تم جانتے ہو بچھو کسی کو ایک آنکھ نہیں بھاتا‘ وہ اتنا ذلیل و خوار ہے کہ لوگ اسے دیکھتے ہی مار ڈالتے ہیں‘ اے نوجوان تمہاری اور بچھو کی مثا ل ایک ہے‘ تم میں اور اس بچھو میں کوئی فرق نہیں‘ میرا بس چلے تو میں تمہیں اسی وقت قتل کر دوں لیکن میں خدا کے خوف سے ڈرتا ہوں۔“ ّّّپاکستان میں بھی ماو¿ں کا عالمی دن منایا جاتاہے ‘ پاکستان میں بھی اس حوالے سے تقاریب اور سیمینار ہوتے ہیں‘ ماو¿ں کو ٹریبیوٹ پیش کیا جاتا ہے اور ماں کی ممتاز پر روشنی ڈالی جاتی ہے‘ یہ دن جذبات اور احساسات کا دن ہے اور یہ دنیا کے سب دنوں سے خوبصورت دن ہے‘ دنیا میں انسان کو ماں سے زیادہ پیار کسی سے نہیں مل سکتا ‘ قدرت نے ماں کے دل میں وہ ممتا رکھی ہے کہ ماں خود بھوکی رہ لے گی‘ پیاسی رہ لے گی‘ مصیبت اور تکالیف برداشت کر لے گی لیکن اپنے بچے کا دکھ اور درد برداشت نہیں کر سکتی‘ شائد ماں کا یہ وہ جذبہ‘ یہ وہ احساس ہے کہ قدرت نے ماں کے پاو¿ں تلے جنت رکھی ہے‘ آپ دنیا کی تاریخ کھنگال کر دیکھ لیں‘ دنیا کے جتنے نامور لوگ ہیں یا گزرے ہیں‘ یہ سب ماں کی دعا اور ماں کی خدمت کی وجہ سے کامیاب ہوئے‘ دنیا میں کوئی شخص ماں کو نا راض کر کے خوش نہیں رہ سکتا۔کراچی کے ایک نامور بزنس مین تھے‘ جوپچھلے دنوں قتل کر دیئے گئے‘ ان کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے‘ ان کی ماں گھروں میں کام کر کے انہیں پڑھا تی رہی‘ یہ گھر وں میں صفائی کرتی رہی‘ یہ لوگوں کے کپڑے دھوتی رہی اور بیٹے کو اعلی تعلیم دلوائی‘ بیٹا ایم بی اے کے بعد بینک میں ملازم ہو گیا‘ یہ اچھی خاصی نوکری تھی‘ تنخواہ بھی پر کشش تھی اور عزت و مقام بھی تھا لیکن ماں اس نوکری کے حق میں نہیں تھی ‘ ماں نے ایک دن بیٹے کو بلایا‘ پاس بیٹھایا اور بولی ‘بیٹا یہ نوکری ٹھیک نہیں‘ میں نے رزق حلال کے ایک ایک لقمے سے تمہاری پرورش کی‘ میں نہیں چاہتی تم سودی کاروبار کرو اورمجھے اور خود کو حرام کھلاو¿‘ بیٹا فرمانبردار تھا‘ حکم کی فوراًتعمیل کی اور استعفیٰ دے کر گھر آ گیا‘ ماں نے خوشی سے ماتھا چوما‘ اندر گئی‘ لاکر کھولا اور سونے کی دو چوڑیاں بیٹے کے ہاتھ میں رکھ کر بولی‘ بیٹا میرے پاس یہی جمع پونجی ہے‘ جاو¿ انہیں بیچ کر کارو بار کرو اوررزق حلال کماو¿۔ بیٹے نے چوڑیاں لیں‘ بیچیں اور رقم سے کاروبار شروع کر دیا۔ ماں کی دعا ساتھ تھی‘ یہ صاحب دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے نامور بزنس مین بن گئے‘ یہاں تک کہ یہ ہر سال لاکھوں روپے ٹیکس ادا کرتے تھے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے دنیا میں کامیابی کے بہت سے راستے ہیں‘ آپ محنت کر کے‘ پڑھ لکھ کر بہت کچھ بن سکتے ہیں‘ بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن کامیابی کا شارٹ کٹ ماں کی دعاو¿ں کے علاوہ کوئی نہیں‘ آپ کی ساری کامیابیاں‘ تمام ترقیاں ماں کی خدمت میں پوشیدہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں دنیا کا ہر انسان آ گے بڑھنا چاہتا ہے‘ یہ ترقی کرنا چاہتا ہے‘ یہ شہرت ومقام چاہتا ہے‘ ہم میں سے اکثر لوگ ترقی کے لئے بہت دوڑ دھوپ بھی کرتے ہیں لیکن یہ محنت کا صلہ نہیں پاتے۔ کیوں نہیں پاتے ؟ اس لئے کہ یہ ماں کی دعا نہیں لے سکتے ‘ ہم دفتر میں‘ شاپ پر‘ کارخانے میں اور ادارے میں کام تو کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں ہماری ترقی ‘ ہماری محنت کا ثمرہمارے گھر میں ہے‘ ہماری کامیابی ماں کی دعا و¿ں میں ہے۔ آپ پی ایچ ڈی کر لیں‘ آپ دانشور اور سائنسدان بن جائیں‘ آپ چوبیس چوبیس گھنٹے محنت کر لیں لیکن آپ ماں کو ناراض کر کے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کیوں کہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی‘ سب سے بڑا مقام جنت ہے اور جنت آپ کی اور میری ماں کے قدموں کے نیچے ہے اور قدرت نے سب سے بڑا انعام ماں کے قدموں میں رکھ کر بتا دیا تمہاری کامیابی کی منزل ماں سے شروع ہو کر ماں پر ختم ہوتی ہے۔

کسی بھی شخص کی اعلیٰ تعلیمی سند اس کی شخصیت کے اہم رازبتاسکتی ہے، تحقیق

ایمسٹر ڈیم(ویب ڈیسک)ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق سے یہ دلچسپ بات سامنے آئی ہے کہ آپ کی شخصیت اور فکر کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ آپ کے پاس کس تعلیمی میدان کی سند ہے۔ڈنمارک یونیورسٹی کے ماہرین نے 13 ہزار افراد پر کیے جانے والے 12 مطالعات کا تجزیہ کرکے کہا ہے کہ شخصیت کے 5 رحجانات کا تعلق اعلیٰ تعلیمی پس منظر سے ہوسکتا ہے خواہ وہ خودغرضی ہو، بے غرضی یا کوئی اور رحجان ہو۔ ماہرین کے مطابق جو لوگ فنون اور آرٹ (ہیومینٹیز) سے وابستہ ہوتے ہیں وہ بہت کھلے دل و دماغ کےمالک ہوسکتے ہیں اسی طرح معاشیات پڑھنے والے لوگ محفلوں میں بیٹھنا اور محفل کا مرکز بننے کے شدید خواہش مند ہوسکتے ہیں لیکن وہ دوسروں کی باتوں کو فوری طور قبول نہیں کرتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون پڑھنے والے خواتین و حضرات الگ تھلگ رہنا پسند کرتے ہیں اور ان میں خود غرضی کا جذبہ کچھ زیادہ ہوسکتا ہے جب کہ ان میں منفی رحجان مثلاً خوف، بے چینی دوسروں سے جلن، موڈ کا تابع اور تنہائی کا جذبہ درمیانے درجہ پر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسیات اور نفسیات کے طالب علم کھلے ذہن و دماغ، بے غرضی اور لوگوں کی مدد کرنے والے ہوتے ہیں۔ ایک تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق اس سے ہمیں مختلف طالب علموں کی شخصیت کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اومنی گروپ کے اصل مالک آصف علی زرداری ہی ہیں، فواد چوہدری

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اومنی گروپ کے اصل مالک ا?صف علی زرداری ہی ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے ملنے والا پیکج کا پہلے ہی اعلان ہوگیا تھا، دورے کے دوران اس کو حتمی شکل دی گئی، ہمارے یو اے ای کے ساتھ صرف معاشی نہیں بلکہ اسٹریٹجک نوعیت کے تعلقات ہیں۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ’فلم ٹھگز آف پاکستان‘ میں انٹرویل چل رہا ہے اور یہ فلم آگے بڑھ رہی ہے، وزیر اعظم کی جانب سے سیاسی مافیا کے خلاف تجاوزات کا جو آپریشن کلین اپ شروع کیا گیا اسے آگے بڑھایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آج سماعت کے دوران پاکستان کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی ابھر کر سامنے ا?ئی، جے ا?ئی ٹی کی جانب سے بھی دیے گئے اکاو¿نٹس سے اومنی گروپ یا ا?صف علی زرداری نے انکار نہیں کیا کیونکہ اومنی گروپ کے اصل مالک و مختار آصف زرداری ہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ نے اس کیس کو نیب کے حوالے کردیا ہے اور انہیں 2 ماہ میں تحقیقات مکمل کرنے کا کہا ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا عدالت کے تمام احکامات کی طرح اس پر عمل کرتے ہوئے ان کا نام بھی اس فہرست سے نکال دیں گے۔انہوں نے کہا کہ عہدوں کی وجہ سے نام ای سی ایل میں ڈالے یا نکالے نہیں جاتے بلکہ یہ کردار کی وجہ سے کیا جاتا ہے، وزیر اعلیٰ کا نام ای سی ایل میں ا?نا شرمندگی کا باعث ہے لیکن مراد علی شاہ کا نام اتنی گھناو¿نی کرپشن میں ا?نا اس سے زیادہ شرم کا باعث ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ کے استعفیٰ کا مطالبہ قائم ہے کیونکہ اومنی گروپ اور ا?صف علی زرداری نے جو فائدے اٹھائے ہیں وہ وزیر اعلیٰ کے کردار کے بغیر ممکن ہی نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ فلم ٹھگز آف پاکستان میں مراد علی شاہ کا اہم کردار ہے اور نیب کو ان کے کردار کی تحقیقات کرنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جعلی اکاو¿نٹس کیس میں جے آئی ٹی کی محنت قابل تحسین ہے، جو انتقام کا نعرہ لگاتے ہیں، انہیں یہ پتہ ہونا چاہیے کہ یہ کیس 2015 میں شروع ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ سابق دور میں میثاق کرپشن ہوا تھا اور ایک دوسرے کے خلاف کیسز نہ کھولنے پر سب راضی تھی اور اب بھی یہ کوشش کی جارہی ہے کہ سب ایک ہوجائیں اور کرپشن کی اجازت دے دی جائے۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ جس طرح پوری قوم بدعنوان عناصر کے خلاف متحد ہے اسی طرح یہ لوگ قوم کے خلاف اکٹھا ہونا چاہ رہے ہیں اور اپنے بیرون ملک اثاثوں کے خلاف قوم کو سڑکوں پر نکالنا چاہتے ہیں۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کے عوام سے بڑے چوروں کو جیل کے پیچھے بھیجنے کا وعدہ کیا تھا، جس میں 90 فیصد کامیابی ہوگئی ہے اور صرف 10 فیصد کام باقی ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت میں ا?کر کوئی کیس نہیں کیا بلکہ تحقیقاتی اداروں کو ا?زادی دی، جس سے یہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ 90 فیصد بدعنوان عناصر جیل میں چلے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب کے اوپر اہم ذمہ داری سونپی ہے کیونکہ ایف ا?ئی اے نے 16 ریفرنس کی درخواست کی تھی اور اب یہ معاملہ نیب دیکھے گی کہ ا?یا ریفرنس دائر کرنے ہیں یا نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش ہے کہ جو مقدمات شروع ہوئے ہیں وہ اپنے منطقی انجام تک پہنچیں، لوگوں کی خواہش ہے کہ 10 برسوں میں جو قیادت نے پیسے بنائے ہیں وہ پاکستان واپس ا?جائیں۔اس موقع پر مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ا?ج کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا مطلب وہی ہے کہ جو جے ا?ئی ٹی کی سفارشات تھیں انہی کو نیب کو بھجوایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جے ا?ئی ٹی رپورٹ پر کسی فریق نے جواب نہیں دیا اور اس رپورٹ کو من گھڑت، بے بنیاد، جھوٹی اور حد سے تجاوز قرار دیا لیکن عدالت نے اس میں سے ایک اعتراضات بھی منظور نہیں کیا۔شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ جعلی اکاو¿نٹس کیس میں مراد علی شاہ کا کردار اپنی جگہ برقرار ہے، عدالت نے جے ا?ئی ٹی رپورٹ میں سے نام نکالنے کا کہا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا کردار ختم ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ عدالت نے نیب کو حکم دیا ہے کہ وہ جب چاہے انہیں طلب کرسکتا ہے اور ہر معاملے کی جواب دہی نیب کے سامنے کرنا پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ جے ا?ئی ٹی پر اگر جواب نہیں دے پائے تو پھر ریفرنس دائر کرنے کا معاملہ ا?ئے گا۔

چیف جسٹس مہمند ڈیم کے سنگِ بنیاد کی تاریخ بدلنے پر حکومت پر برہم

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان نے حکومت کی جانب سے مہمند ڈیم کے سنگِ بنیاد کی تاریخ تبدیل کرنے پر وفاقی وزیر فیصل واوڈا پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نےاپنا شیڈول دیکھا اور تاریخ بدل دی، یہ نہ دیکھا ہم نے بھی کام دیکھنا ہوتا ہے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی اور وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے مہمند ڈیم کے سنگِ بنیاد کی تاریخ تبدیل کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہمند ڈیم کے گراو¿نڈ بریکنگ کی تاریخ بھی ا?پ نے بتائے بغیر بدل دی، یہ بھی مناسب نہ سمجھا کہ چیف جسٹس کو بتا دیا جاتا، حکومت میں اتنی کرٹسی بھی نہیں کہ تاریخ بدلنے کا چیف جسٹس سے پوچھ لیتے، اب میں شاید میں سنگ بنیاد کی تقریب میں نہ جاو¿ں۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنا شیڈول دیکھا اور تاریخ بدل دی، یہ نہ دیکھا ہم نے بھی کام دیکھنا ہوتا ہے۔چیف جسٹس نے وفاقی وزیر سے سوال کیا کہ حکومت نےاب تک کیا کیا ؟ سوائے اس اعلان کے کہ 2025 میں پانی ختم ہو جائے گا؟ ہم آپ کو فنڈ اکٹھا کرکے دے رہے ہیں۔اس موقع پر وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا کہ میں حکومت کی طرف سے ا?پ سے معافی مانگتا ہوں، چیف جسٹس نے ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ اب وزیراعظم کو کہیں مہمند ڈیم کا افتتاح کرنے وہی جائیں۔چیف جسٹس کی ناراضی پر وفاقی وزیر نے اصرار کیاکہ نہیں ا?پ کو شامل ہونا پڑےگا، ا?پ کو ڈیم کے افتتاح کے لیے بھی بلائیں گے اور میں بھی ا?پ سے درخواست کروں گا۔معزز چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم کو پتا ہی نہیں کہ کتنے معاملات پڑے ہوئے ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگلی سماعت پر چاروں منسڑز آکر بتائیں کہ نئی گج ڈیم پر کیا کرنا ہے، معاملہ 2008 سے زیر التوائ ہے، اگر آپ نے یہ ڈیم نہیں بنانا تو بتا دیں ہم حکم میں لکھوا دیتے ہیں، ہم نے یہ کیس اس وقت اٹھایا جب حکومت میں نااہل لوگ تھے، اب تو قابل اور اہل لوگ حکومت میں ہیں۔عدالت نے منصوبے کی جمعرات کو ابتدائی منظوری کی حکومتی یقین دہانی پر سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔دوسری جانب سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ واپڈا ہم سے کوئی رابطہ نہیں کر رہا، واپڈا سمجھتا ہےکہ اسے آزادی مل گئی اور اب وہ مرضی کے مطابق کام کرے گا، ڈیم تعمیر کی نگرانی سپریم کورٹ کررہی ہے، وزارت آبی وسائل یا واپڈا نہیں، عدالت کی نگرانی میں ڈیم بنے گا۔جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ ہمیں بتائیں کہ کب افتتاح کرنا ہے کب کام شروع کرنا ہے؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں جواب دیا کہ ایک ڈیم 2027 میں بنے گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے وزیراعظم کے مطابق 2025 میں پاکستان میں پانی ختم ہوجائے گا،آپ کی حکومت ہے، اداروں میں کوئی تعاون ہی نہیں۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایاکہ ڈیم کا کل تخمینہ 1450 ارب روپے ہے، اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ حکومت نے کبھی سوچا کہ ڈیم بنانے کیلئے پیسے کہاں سے آئیں گے؟ ہم نے کبھی نہیں کہا فنڈ سے ڈیم بن جائے گا لیکن ایک مہم بن جائے گی اور وہ بن گئی ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے بتایا کہ آج بھی ایک شخص 10 لاکھ کا چیک دے گیا، میری جیب میں پڑا ہے، چیف جسٹس پاکستان نے چیک نکال کر عدالت میں دکھایا اور ریمارکس دیےکہ یہ ہے وہ جذبہ جس سے کام ہوتے ہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ لوگوں کا صرف یہ کام ہے کہ ٹی وی پر بیٹھ کر ایک دوسرے کے خلاف بیان دیں، دیامر بھاشا ڈیم پر کوئی تنازع ہوا تو صرف سپریم کورٹ کا عملدرآمد بینچ ہی سنے گا، پاکستان کی کوئی دوسری عدالت اس تنازعے کو نہیں سن سکتی۔

ری ٹویٹ کا عالمی ریکارڈ اب جاپانی ارب پتی کے پاس

ٹوکیو (ویب ڈیسک)ایک جاپانی ارب پتی چکن نگٹس متوالے امریکی نوجوان کے ری ٹویٹ کے ریکارڈ کو توڑ کر اب دنیا کے سب سے زیادہ ری ٹویٹ ہونے والے ٹویٹ کے خالق بن گئے ہیں۔جاپانی شہری یوساکو مایزاوا کے پانچ جنوری کے ٹویٹ کو اب تک 40 لاکھ مرتبہ سے زیادہ شیئر کیا جا چکا ہے۔یہ امریکی نوجوان کارٹر ولکنسن کے سنہ 2017 کے ٹویٹ سے پانچ لاکھ مرتبہ زیادہ ہے جس میں انھوں نے فاسٹ فوڈ چین وینڈیز سے درخواست کی تھی کہ انھیں ایک سال تک چکن نگٹس مفت فراہم کیے جائیں۔لیکن مایزاوا نے اپنے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کی ترغیب کے لیے لوگوں کو بعض چیزوں کی پیشکش کی تھی۔یہجاپان میں ملبوسات کی آن لائن کمپنی ‘زوزو انک’ کے بانی نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ 100 ری ٹویٹ کرنے والے رینڈم افراد کو دس کروڑ ین (تقریباً سوا نو لاکھ امریکی ڈالر) انعام دیں گے۔انھوں نے لکھا: ‘اس میں شرکت کرنے کے لیے آپ کو بس اتنا کرنا ہے کہ آپ مجھے فالو کریں اور اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کریں۔’یہ پوسٹ کرسمس اور نئے سال کے دوران ان کی ویب سائٹ ‘زوزوٹاو¿ن’ پر دس ارب ین کی فروخت کا جشن منانے کے لیے کی گئی تھی۔مسٹر ما?زاوا پہلے پنک بینڈ سوئچ سٹائل میں ڈرمر کی حیثیت سے مشہور ہوئے لیکن ان کی قسمت فیشن کی دنیا میں رنگ لائی۔ ان کی ذاتی دولت کا تخمینہ تین ارب ڈالر لگایا جاتا ہے جس کا بڑا حصہ وہ آرٹ یعنی فن پر خرچ کرتے ہیں۔گذشتہ سال وہ مغربی ممالک میں اس وقت مشہور ہوئے جب سپیس ایکس سے چاند کے گرد سفر کرنے والے پہلے مسافر کے طور پر ان کا نام سامنے آ?ا۔
سپیس ایکس ایک دوسرے معروف ارب پتی اور ٹویٹ کرنے والے شخص ایلون مسک کی کمپنی ہے۔مسٹر ما?زاوا نے چاند کے گرد سفر کے ٹکٹ کے لیے جس قیمت پر رضامندی ظاہر کی اسے ظاہر نہیں کیا گیا ہے تاہم مسک کے مطابق وہ ‘بہت بڑی رقم ہے۔’مسٹر ما?زاوا نے کہا کہ وہ اپنے ساتھ اس ذاتی پرواز پر فنکاروں کے ایک گروپ کو لے جائ?ں گے۔ یہ پرواز چار سال بعد سنہ 2023 میں متوقع ہے۔
کارٹر ولکنسن نے مئی سنہ 2017 میں اس وقت ٹوئٹر پر ہلچل مچا دی تھی جب انھوں نے فاسٹ فوڈ چین وینڈیز سے پوچھا کہ ایک سال تک مفت چکن نگٹس حاصل کرنے کے لیے کتنے ری ٹویٹس ہونے چاہییں۔فاسٹ فوڈ چین نے جواب دیا: ‘ایک کروڑ 80 لاکھ۔’اس کے بعد مسٹر ولکنسن نے انگریزی کے بڑے حروف میں ٹویٹ کیا کہ ‘برائے مہربانی میری مدد کریں۔ ایک شخص کو اس کے نگٹس چاہییں۔’
اسے 35 لاکھ لوگوں نے ری ٹویٹ کیا جس میں بہت سے مشاہیر نے بھی شرکت کی جبکہ دوسرے برانڈ بھی اس میں شامل ہو گئے کہ وہ انھیں وینڈیز تک لے جانے کے لیے مفت پرواز فراہم کریں گے۔
ہرچند کہ وہ ہدف تک نہیں پہنچ سکے لیکن پھر بھی وینڈیز نے انھیں ایک سال کا مفت نگٹس فراہم کیے۔ولکنسن سے پہلے یہ ریکارڈ تین سال تک امریکی اداکارہ اور پریزینٹر ایلن ڈیجینریس کے نام تھا جس میں انھوں نے سنہ 2014 میں آسکر کی تقریب میں سامعین اور دوسرے ستاروں کے ساتھ ایک سیلفی شیئر کی تھی۔

ایک دہائی سے کوما کی حالت میں رہنے والی خاتون کے بطن سے بچے کی ولادت

ایریزونا(ویب ڈیسک)امریکی ریاست ایریزونا میں پولیس تقریبا ایک دہائی سے کوما کی حالت میں رہنے والی ایک خاتون کے بطن سے بچے کی پیدائش پر جنسی تشدد کی جانچ کر رہی ہے۔وہ خاتون فینکس کے پاس ہیسیئنڈا ہیلتھ کئر کے ذریعے چلائے جانے والے ایک کلینک میں زیر علاج تھی۔ہیسیئنڈا ہیلتھ کئر نے اس بابت کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے تاہم اس نے کہا ہے کہ وہ اس ‘انتہائی پریشان کن واقعے’ سے واقف ہے۔ایک مقامی کمرشیئل براڈکاسٹ سٹیشن نے بتایا کہ بچہ تندرست ہے اور ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سٹاف کو خاتون کے حاملہ ہونے کا علم نہیں تھا۔بچہ پیدا کرنے والی خاتون کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔فینکس پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ‘اس معاملے کی فی الحال جانچ ہو رہی ہے’ تاہم اس نے اس بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔فینکس کے سی بی ایس سے ملحق کے پی ایچ او- ٹی وی نے بتایا کہ خاتون نے 29 دسمبر کو بچے کو جنم دیا۔ذرائع کے حوالے سے اس نے کہا: ‘ولادت سے پہلے کسی بھی سٹاف کو خبر نہیں تھی کہ زیر علاج خاتون حاملہ ہے۔’ذرائع نے بتایا کہ خاتون دن رات نگہداشت میں تھیں اور بہت سے لوگوں کی ان تک رسائی تھی۔ذرائع نے بتایا کہ وہاں طریق کار میں تبدیلی آئی ہے اور کسی خاتون مریض کے کمرے میں کسی مرد کے داخل ہونے کی صورت میں اس کے ساتھ کسی دوسری خاتون کا ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ہیسیئنڈا ہیلتھ کیئر نے ایک بیان میں کہا اسے ‘حال ہی میں ایک انتہائی پریشان کن واقعے کا علم ہوا ہے جوکہ ہیسیئنڈا میں زیر علاج مریضوں کی صحت اور حفاظت سے منسلک معاملہ ہے۔’اس نے کہا کہ وہ حکام سے پوری طرح تعاون کر رہے ہیں۔ہیسیئنڈا ہیلتھ کیئر کے ترجمان ڈیوڈ لئبووٹز نے کہا ان کا ‘گروپ سچ تک پہنچنے کے لیے پوری طرح پابند ہے اور یہ ایسا واقعہ ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔’ایریزونا کی ہیلتھ سروسز کے شعبے نے کہا کہ محکمے نے جانچ کرنے والوں کو وہاں بھیجا ہے تاکہ اس جگہ اور مریض کی جانچ کی جا سکے اور حفاظتی انتظامات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ہیسیئنڈا ہیلتھ ک?ئر کا اپنی ویب سائٹ پر کہنا ہے کہ وہ ‘طبی طور پر کمزور اور دائم المریض نوزائیدوں، بچوں اور نوجوانوں کے علاوہ ان لوگوں کا علاج کرتے ہیں جنھیں ذہنی اور دماغی معذوری ہے۔’

صحت بہتر بنانے کے چند آسان طریقے

لاہور (ویب ڈیسک)اگر آپ نئے سال میں اپنی صحت کے حوالے سے کوئی نئی ترکیب آزمانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور اس کے بارے میں پریشان ہیں تو آپ کی پریشانی کو معاف کیا جا سکتا ہے۔یوگا کریں، وزن اٹھائیں، کاربز یا چربی کم کریں، شراب کو ترک کریں، تناو¿ میں کمی لائیں۔یہ سوچنا آسان ہے کہ آپ کو صحت مند، خوشحال انسان بننے کے لیے اپنے زندگی میں کچھ چیزوں کو درست کرنا ہے۔ہم نے ماہرین سے پوچھا کہ وہ ان لوگوں کو صحت بہتر کرنے کا ایسا کون سا ایک مشورہ دیں گے جو بالغ ہیں اور ویسے ان کی صحت ٹھیک ہے اور تمباکو نوشی بھی نہیں کرتے۔صرف اپنی جسمانی صحت کے بارے میں سوچنا بہت آسان ہے۔یونیورسٹی آف ایگزیٹر میں سپورٹ اور ایکسرسائز کی ایسوسی ایٹ لیکچرر ڈاکٹر نادینی سیمی کے مطابق ہمیں اپنی ذات کے بارے میں آگاہی پیدا کر کے ذہن کو بہتر کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ان کے مطابق آپ ایسا سوچ سکتے ہیں کہ یہ خود کو پریشان کرنے سے روکنے کے لیے ہے لیکن یہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔اپنی ذات کے بارے میں آگاہی ایک ایسی صلاحیت ہے جس کی مدد سے مختلف مزاج، احساسات کے بارے میں سمجھا جا سکتا ہے اور یہ صلاحیت ذہنی اور جسمانی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’اپنے احساسات، اسباب اور برتاو¿ کو زیادہ گہرائی میں سمجھ لیتے ہیں تو آپ ہوش و حواس میں اپنے لیے بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔‘’مثال کے طور پر ورزش کے لیے کیا چیز آپ کو قائل کرتی ہے؟ کب آپ بہت زیادہ اور کب بہت کم، آپ ورزش کرنا چاہتے ہیں اور کیوں؟‘وہ کہتی ہیں کہ ایسا کرنے کے بہت سے طریقے ہو سکتے ہیں، جن میں روز مرہ کی بنیاد پر حساب رکھنا، مراقبہ کرنا، توجہ مرکوز کرنا یا صرف بعض سرگرمیوں کے بعد یا دن کے اختتام پر خود غور کرنا۔جیم کی ممبرشپ، پیلاطس کلاس یا صبح کی چہل قدمی یہ وہ چند چیزیں ہیں جو ہمارے دماغ میں آتی ہیں جب ہم جسمانی طور پر چست ہونے کا سوچتے ہیں۔ایبریسویتھ یونیورسٹی کی ایکسرسائز فزیالوجی کی ڈاکٹر رہیز تھیچر کہتے ہیں کہ جیم جانا بہت کم ہی لوگوں کے لیے کام کرتا ہے کیونکہ بہت سے تو ایک یا دو ماہ بعد ہی جیم جانا چھوڑ دیتے ہیں۔اس کی بجائے وہ ایسے دیگر راستے تلاش کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جو ہماری روز مرہ زندگی میں باقاعدگی سے جاری رہ سکیں۔اس کے بہت سے طریقہ کار ہیں، اپنے دفتر کی لفٹ کو ترک کرنے سے شاپنگ کرتے ہوئے گاڑی سپر مارکیٹ سے دور پارکنگ کرنے تک۔لیکن ان کا کہنا ہے کہ کتا پالنے کے خصوصی فوائد ہیں۔اگر آپ دن میں دو بار 30 منٹ تک چہل قدمی کو یقینی بنا لیں تو آپ اپنی سرگرمیوں کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ کتا پالنے کے جذباتی فوائد بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر تھیچر کہتے ہیں: ’اس طرح سے آپ گھر سے باہر وقت گزار سکتے ہیں، ورزش کرتے ہیں، ایک وفادار ساتھی مل جائے گا اور ساتھ ہی ساتھ آپ ایک اور جاندار کی زندگی بھی بہتر بنا دیں گے۔ ان تمام چیزوں سے آپ اپنی جسمانی اور ذہنی صحت میں بہتری لا سکتے ہیں۔‘ہم سب نے یہ سن رکھا ہے کہ ہمیں دن میں پانچ حصے پھل اور سبزیاں لینی چاہیے۔لیکن ڈاکٹر میگن روزی کے مطابق یہ صرف مقدار ہی نہیں جس کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے بلکہ ان میں بدلاو¿ بھی لانا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد ہفتے میں 30 مختلف اگنے والی خوراک لینی چاہیے۔کیونکہ اگنے والی مختلف خوراک کا ہماری بہتر صحت میں اہم کردار ہے۔ہمارے معدے میں بیکٹیریا جسے مائیکرو بیوم سے جانا جاتا ہے کا ہماری صحت میں اہم کردار ہے۔الرجی، موٹاپا، پارکنسن اور یہاں تک کہ ذہنی تناو¿ کا تعلق بھی معدے میں موجود بیکٹیریا سے ہے۔ڈاکٹر روزی کہتی ہیں کہ ’ایک طریقہ ہے جس سے ہم اپنی خوراک میں اگنے والی چیزوں میں تبدیلی آسانی سے لا سکتے ہیں اور وہ یہ کہ جو چیزیں ہم خریدتے ہیں اس کے بارے میں تھوڑی معلومات۔‘’صرف چنے خریدنے کی بجائے چار مختلف دالیں لینا۔ ایک طرح کے بیج خریدنے کی بجائے چار مختلف بیج خرید لیے جائیں۔‘زیادہ چھٹیوں کے موسم میں ہم میں سے زیادہ تر وزن کم کرنے اور جم جانے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔لیکن ڈاکٹر جیمز گِل کہتے ہیں کہ ایسے ’من مانے‘ مقاصد کا یہ مسئلہ ہے انھیں پورا کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے اور ان میں ناکامی اعتماد میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ڈاکٹر جیمز گِل اس کی بجائے زیادہ خوش رہنے کی کوشش کرنے پر غور کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
واروک میڈیکل سکول میں محقق اور لوکم جی پی ڈاکٹر جیمز گِل کہتے ہیں کہ ’ایسے مخصوص چیزوں کی فہرست موجود ہے جو آپ اپنے زندگی کو صحت مند بنانے کے لیے کر سکتے ہیں، لیکن اگر آپ اپنی زندگی سے لطف اندوز ہی نہیں ہو پا رہے تو ممکنہ طور پر آپ مشکل اور صبر آزما تبدلیوں پر کار نہیں رہ سکتے۔‘ڈاکٹر گِل کہتے ہیں کہ ایک زندگی میں ایک ایسی تبدیلی لائیں جس سے آپ اکثر مسکرائیں۔ اسی طرح کسی ایک ایسی چیز کو پہچانے جس سے آپ ناخوش ہوتے ہوں اور اسے بہتر کرنے کی کوشش کریں۔’ان دو چیزوں کو پکڑیں اور آپ ایسی ہی دیگر چیزوں کو تلاش کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے جس سے آپ آئندہ پورا سال اپنی صحت میں بہتری لا سکتے ہیں۔‘ہو سکتا ہے یہ سب کو معلوم ہو لیکن ہم سب کو نیند پوری کرنے کو اپنا مقصد بنانا چاہیے، (زیادہ صحت مند نوجوانوں کے لیے رات میں سات سے نو گھنٹے کی نیند ضروری ہے۔)
یونیورسٹی آف ایگزیٹر میں سپورٹ اینڈ ہیلتھ سائنسز کے سینیئر لیکچرر ڈاکٹر گیون بکنگھم کہتے ہیں کہ نیند سے تھوڑی سی بھی محرومی (رات میں پانچ گھنٹے) ادراکی کاکردگی جن میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت شامل ہے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ایسے بہت سی چیزیں جن کی مدد سے رات کی نیند کو بہتر کیا جا سکتا ہے، جیسے کہ سونے کے وقت کے قریب کیفین کے استعمال کو ترک کرنا۔لیکن ڈاکٹر بکنگھم سوتے ہوقت الیکٹرانک آلات جیسے کہ موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کے استمعال کو روکنے یا کم از کم ان سے خارج ہونے والی بلیو لایٹ کو روکنے والے فلٹر کے استعمال کا کہتے ہیں۔