فن کا سلطان‘ سلطان راہی کی 23 ویں برسی کل منائی جائیگی

لاہور (شوبزڈیسک)پنجابی فلموں کے بادشاہ سلطان راہی کی 23 ویں برسی (کل) بدھ کو منائی جائے گی۔سلطان راہی کا اصلی نام حاجی حبیب احمد المعروف سلطان راہی تھا، سلطان راہی بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع مظفرنگر بجنور میں 1938میں پیدا ہو ئے تقسیم ہند کے وقت وہ گوجرانوالہ آگئے۔ انہوں نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز فلم باغی میں ایک معمولی سے کردار سے کیا تھا۔ 1972میں بطور ہیرو ان کی پہلی فلم بشیرا ریلیز ہوئی اس فلم نے انھیں بام عروج تک پہنچادیا ۔سلطان راہی نے مجموعی طور پر 804 فلموں میں کام کیا جن میں500سے زیادہ فلمیں پنجابی زبان میں اور 160 فلمیں اردو زبان میں بنائی گئی تھیںجبکہ 50 سے زیادہ فلمیں ڈبل وریژن تھیں۔ ان میں سے 430 فلمیں ایسی تھیں جن کے ٹائٹل رول سلطان راہی نے ادا کئے تھے۔ ان کی مشہور فلموں میں بشیرا، شیر خان ،مولا جٹ، سالا صاحب، چند وریام،آخری جنگ اور شعلے کے نام سرفہرست ہیں۔9 جنوری 1996 ءکو چند نامعلوم افراد نے انہیں لوٹنا چاہا اور مزاحمت پر قتل کردیا۔ وہ لاہور میں آسودہ خاک ہیں۔

عمران خان کی معاشی پالیسی صحیح سمت میں جا رہی ہے‘ سردار آصف نیب تفتیش کیلئے 60دن کافی‘ کامران مرتضیٰ‘ ہم این آر او نہیں مانگ رہے‘ طاہرہ اورنگزیب نیوز ایٹ 7

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی رہنماءطاہرہ اورنگزیب نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ حکومت سے این آر او نہیں مانگ رہی۔ جیل میں نوازشریف کو جو سہولیات دی گئیں وہ ان کا حق ہے۔چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ7میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراطلاعات فواد چوہدری کی موجودگی حکومت گرانے کے لئے کافی ہے۔ شیخ رشید کو بھی چاہئے سوچ سمجھ کر بات کیا کریں وہ ایک وزیر ہیں۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار کامران مرتضیٰ نے کہا کہ نیب اگر تفتیش کرنا چاہتی ہے تو ساٹھ دن بہت ہوتے ہیں ان کے کیسز سے چودہ سی نکال دیں تو باقی کیا بچتا ہے۔جب نیب کے پاس کوئی معلومات آتی ہیں تو ملزم کو بلا کر ذہنی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔بغیر ہوم ورک کے الزام لگا دیے جاتے ہیں کوئی ثبوت بھی نہیں۔آزادی کسی کا بھی آئینی حق ہے جسے سلب نہیں کیاجا سکتا۔ سابق وزیر خارجہ سردار آصف علی نے کہا ہے کہ میرے خیال میں عمران خان کی معاشی پالیسی بالکل صحیح سمت میں ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔بہرحال ا س کے باوجود آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا جس کی شرائط سخت ہوتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ دوست ممالک سے مدد لینا درست اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک بہت بڑا منصوبہ ہے۔ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنماءعثمان کاکٹر نے کہا کہ بلوچستان میں اپوزیشن کے حکومت بنانے کے امکانات بالکل نہیں تبدیلی کی خبروں میں کوئی جان نہیں۔

سپریم کورٹ کو ڈیموں کی نگرانی کے لیے کمیشن بنا دینا چا ہئے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار حنیف انجم نے کہا ہے کہ جس طرح معاملات گھوم رہے ہیں لوگوںکو تاثر مل رہا ہے صحیح تفتیش نہیں ہو رہی اس لئے سپریم کورٹ کو بار بار نوٹس لینا پڑتا ہے۔ نیب کہیں سست ہو جاتا ہے کہیں تیز ہو جاتا ہے۔ چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو چیزوں کا پہلےہی کیسے پتہ چل جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کے ارکان کا کام قانون سازی ہے لیکن کیا قانون سازی ہوتی بھی ہے۔ احتساب سسٹم کے تحت ہونا چاہئے تاکہ بڑا سرمایہ دار خوفزدہ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے ڈیمز کی جلد تعمیر ناگزیر ہے۔ کالم نگار سیف الرحمان نے کہا ہے کہ تفتیش کا ایک نظام موجود ہے جے آئی ٹیز اتنی مشہور ہو گئی ہے جس پر بہت تبصرہ کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں تفتیش کرنی ہی نیب کو چاہئے تھی۔ غیر ضروری قراردیں محض سیاسی پوانئٹ سکورنگ ہیں۔ نمائندے عوام سے ووٹ لے لیتے ہیں لیکن قانون سازی کا انہیں پتہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ وعدہ معاف گواہ پر انحصار کرنے کے بجائے ٹھوس شواہد ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اب متحد نہیں ہوسکتی یہ بہت منقسم ہوچکی۔ کالم نگار میاں افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے حکم پر ہی بنائی گئی تھی میرے خیال میں جو رپورٹ دی گئی اس پر ہی اکتفا کرنا چاہئے تھا اس طرح سے ملزمان کو موقع مل جائے گا۔ نیا پنڈورا باکس کھل گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں زرداری کا لب و لہجہ بھی ٹھنڈا ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پورے ضلع لاہور کو اربن کر دیا گیاہے۔ نئی رپورٹ کے بعد یوں لگتا ہے خواجہ برادان کا نوے دن کا ریمانڈ طے ہوگیا ہے۔ آشیانہ ہاﺅسنگ سوسائٹی میں بہت سے بیوروکریٹ پکڑ میں آئے۔ کالا باغ ڈیم اتنا متنازعہ نہیں جتنا بنا دیا گیا۔ سینئر صحافی امجد اقبال نے کہا کہ وزیر اطلاعات نے کہا ہے اومنی گروپ زرداری کا ہے۔ وزیر اطلاعات بھی ذرا دھیمے رہے زیادہ گرجے برسے نہیں۔ قانون سب کے لئے برابر ہے۔ خواجہ برادران کے حوالے سے نیب کی ایک اور رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس سے مزید پیشرفت ہونے کا امکان ہے۔ ڈیمز کی تعمیر کی نگرانی کے لئے سپریم کورٹ کو مستقبل کمیشن بنا دینا چاہئے۔

ڈیم کے لیے چیف جسٹس کی خدمات قابل قدر ،سنگ بنیاد تقریب میں مہمان خصوصی بنایا جائے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے میڈیا پر پچھلے ایک ہفتے سے یہ بات ایک ہی جملہ ہوتا ہے کہ بلاول بھٹو صاحب کو کیا نہیں معلوم تھا کہ یہ جو اتنے دھڑا دھڑ پیسے ان کے اکاﺅنٹ میں اور دوسرے اکاﺅنٹس میں آ رہے ہیں یہ کہاں سے جا رہے ہیں۔ کیا وہ اپنے والد صاحب سے اتنا بھی نہیں پوچھ سکے کہ جناب یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ سول مسلسل کیا جا رہا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس میں کافی وزن ہے چیف جسٹس صاحب نے صحیح بات کہی کہ وہ معصوم ہیں اور وہ کسی حکومتی عہدے پر نہیں رہے لیکن یہ تو حقیقت ہے کہ اپنے والد سے جو قریب ترین رشتہ ہے ان کا اور ان کے جانشین اور پارٹی کے سربراہ ہیں وہ تو پوچھ سکتے ہیں کہ اتنا بے تحاشا پیسہ یہ جو اومنی گروپ والے کیا کرتے ہیں۔ کیا یہ کوئی سونے کا کاروبار کرتے ہیں جواہرات کا کاروبار کرتے ہیں چینی کی ملیں انہوں نے بنائی ہیں۔ جب یہ باتیں چھپ گئیں کہ انہوں نے چینی بھی بینکوں سے اٹھوا لی اور بینکوں سے پیسے بھی نہیں دیئے۔ آج یہ بھی آ گیا ہے کہ مراد علی شاہ جو تھے تحقیقات میں یہ بات سامنے آ گئی ہے کہ انہوں نے سندھ بینک کو مجبور کیا تھا کہ وہ اومنی گرپ کو قرضے پر قرضہ دیں۔ دوسری طرف یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ اومنی گروپ کے خلاف جتنے بھی ثبوت آ گئے ہیں اس کے بعد ان کو نظر انداز کرنا قطعی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے خود یہ بات کہی ہے کہ ایک تواومنی گروپ کے خلاف اتنا مواد ہے اور دوسرا انہوں نے چینی کی بوریاں تک نہیں چھوڑیں ان کے مقدمے کو کس عدالت میں بھیجا جائے۔ اس کا جواب نیب کے سربراہ جواب دیں اور چیف جسٹس صاحب کا تو بڑا عہدہ ہے انہیں تو ہم نہیں پوچھ سکتے ہیں وہ تو فانل اتھارٹی ہیں عدلیہ میں لیکن لوگ یہ کہتے ہیں کہ بلاول صاحب یہ سارا کچھ نظر نہیں آرہا تھا کہ اب جب یہ بات آ گئی ہے کہ مراد علی شاہ صاحب مجبور کر رہے تھے سندھ بینک کو کہ باوجود اس کے کہ وہڈیفالٹر ہیں تو ان کو قرضے پر قرضہ دیں اس وقت بھی بلاول صاحب نے اپنے والد صاحب سے نہیں پوچھا کہ یہ آپ ان کو اتنی رعایتیں کیوں دے رہے ہیں۔ مراد شاہ سے بھی نہیں پوچھا کہ آپ ان کی کیوں اتنی حمایت کر رہے ہیں۔ جعلی بینک اکاﺅنٹس کی تحقیقات کے حوالہ سے سپریم کورٹ نے دو ماہ کا وقت دیا ہے۔ زرداری صاحب اور فریال تالپور صاحبہ بھی کل کراچی کے بینکنگ کورٹس میں پیش ہوئے ہیں۔ آج ان کی ضمانت میں 23 جنوری تک توسیع کر دی گئی ہے۔ اب مقدمہ چونکہ نیب کے سپرد کر دیا گیا ہے تو بینکنگ کورٹ سے ان کی ضمانت کام آئے گی یا نہیں اس سوال کے جواب میں ضیا شاہد نے کہا ہے کہ اس بارے میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اب جبکہ نیب میں یہ کیس منتقل ہو جائے گا تو اس کی پیشیوں میں تواتر آ جائے گا اور اس کو زیادہ سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ بینکنگ کورٹ چھوٹی کورٹ ہوتی ہے ان بڑی بڑی عدالتوں کے مقابلے میں اور ہمارے ہاں چھوٹی کورٹس بڑے لوگوں کے بارے میں فیصلہ کرنے سے گھبراتی ہیں۔ میرے خیال میں تحقیقات ہو سکتی ہے کافی وقت ہے منی لانڈرنگ کے حوالہ سے ایک بات کہتا جاﺅں کہ سب سے زیادہ منی لانڈرنگ دوبئی، ابوظہبی اور متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں میں ہو رہی ہے اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو کل ولی عہد آئے تھے ان سے عمران خان صاحب نے اس موضوع پر مذاکرات کئے ہیں دونوں ملکوں نے طے کیا ہے کہ منی لانڈرنگ کے خلاف مشترکہ ایکشن لیں گے تو میرے خیال میں یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہے کیونکہ زیادہ تر پاکستان کی سب سے قریب ترین جگہ یہی عرب امارات ہی ہیں جس میں لاہور کے بیڈن روڈ کے دکاندار نے وہاں دو بلڈنگیں لی ہوئی ہیں اور کوئی بندہ لاہور میں ایسا نظر نہیں آتا جس کی دوبئی میں پراپرٹی نہ ہو۔ جو بندہ کاروباری ہے بزنس میں ہے ہمارے تو اسحق ڈار کے تو وہاں اتنی بڑی عمارتیں اور پلازے ان کے ہیں منی لانڈرنگ نہیں ہے تو اتنے پیسے وہاںکیسے لے گئے۔ حکومت پاکستان اور عرب امارات کے فیصلے سے کچھ نہ کچھ پیشرفت ضرور ہو گی۔ چیف جسٹس کی ڈیم کے سنگ بنیاد کے حوالے سے اظہار برہمی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم صاحب نے اپنا شیڈول دیکھ کر تاریخ بدل لی ہے ہماری مصروفیات دیکھ لیتے ہم بھی کام کرتے ہیں شاید میں افتتاح میں شامل نہ ہو سکوں اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیاءشاہد نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ چیف جسٹس کی خدمات کا اتنا تو اعتراف‘ احترام کرنا چاہئے وہ 17تاریخ کے بعد ریٹائر ہو رہے ہیں لیکن سابق چیف جسٹس تو ہونگے لہٰذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب تھی اس میں اصل مہمان خصوصی وہ تو ہمارے چیف جسٹس صاحب ہی بنتے ہیں انہوں نے سب سے پہلے اس کے لئے سب سے پہلے دست سوال دراز کیا تھا قوم کے سامنے اور انہوں نے اس کے لئے ملک کے اندراور باہر بہت بھاگ دوڑ کی ہے تو ان کی خدمات کا تہہ دل سے اعتراف کرنا چاہئے۔ وزیر مملکت شہریار آفریدی کے بھتیجے سے اادھ کلو چرس برآمد ہونے کے سوال پر ضیا شاہد نے کہا ہے کہ کسی بھی شخصیت کے رشتہ داروں میں ہر قسم کا بندہ ہوسکتا ہے اچھا برا۔ یہ اچھی بات ہے انہوں نے کہا ہے کہ قانون کے مطابق سزا ملے گی۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کے پی کے میں چرس کی سمگلنگ عام ہے اور اکثر نوجوان چار پیسے کمانے کے لئے یہ کام کرتے ہیں۔
بجلی کے شارٹ فال کے باعث پوری قوم مشکلات کا شکار ہے اور متعلقہ وفاقی وزیر کا ایک بھی بیان سامنے نہیں آیا کہ مسئلہ کے حل کیلئے کیا اقدام کر رہے ہیں۔ بجلی نہ ہونے کی صورت میں پانی اور گیس کا بھی مسئلہ بنتا ہے، دکھائی یوں دیتا ہے کہ جیسے حکومت کو عوام کی بالکل کوئی پرواہ نہیں ہے۔
فوجی عدالتوں کیلئے آئین میں ترمیم کرنا ہو گی جس کے لئے دو تہائی اکثریت چاہئے جو موجودہ حکومت کے پاس نہیں ہے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی والے ناراض ہیں اور اس معاملے پر حکومت سے کوئی تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ فوجی عدالتوںکا قیام اس لئے عمل میں لایا گیا تھا کہ دہشتگردوں کو جلد سزائیں دی جا سکیں اس وقت ن اور پی پی والے مذمتی نہ تھے۔ آج وہ اپنا غصہ اتارنے کیلئے فوجی عدالتوں کے معاملہ پر پس و پیش سے کام لے رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان پہلے وقتاً فوقتاً قوم سے خطاب کرتے اور مسائل پر اعتماد میں لیتے ہیں اب لگتا ہےکہ کسی نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ عوام سے نہیں صرف بڑے سیمینارز سے خطاب کیا کریں۔ عمران خان کو چاہئے کہ فوجی عدالتوں سمیت تمام اہم معاملات پر عوام کو اعتماد میں لیں۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی عوامی جماعتیں ہیں انہیں فوجی عدالتوںکے معاملے پر حکومت سے تعاون کرنا چاہئے ورنہ دہشتگردوںکو سزا ملنے کا سلسلہ رک گیا توبڑا نقصان ہو گا، دہشتگردوں کو شہ ملے گی جس سے پھر افراتفری پھیلے گی۔
چودھری نثار کے حالیہ بیان سے یہی لگتا ہے کہ وہ تحریک انصاف میں جانے کا سوچ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کو چاہئے کہ انہیں ٹکٹ دے کر قومی اسمبلی یا سینٹ میں لائیں اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔ چودھری نثار کو چاہئے کہ وہ جس پارٹی کو مناسب سمجھتے ہیں اس میں شمولیت احتیار کر لیں۔ حالات یہی بتاتے ہیں کہ ان کے پاس تحریک انصاف کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ ن لیگ کی لیڈر شپ نے تو انہیں قبول نہ کیا، ان کی کسی رائے کو نہ سنا گیا الٹا تذلیل کی گئی اور الیکشن میں ان کے مدمقابل کسی اور کو کھڑا کر دیا گیا چودھری نثار کو اب بھی کسی چیز کا انتظار ہے۔ حافظ آباد کے کینال مجسٹریٹ کو ہراساں کیا جانا افسوسناک ہے۔ حافظ آباد کے بھٹی برادران ہمیشہ سے ہتھ چھٹ رہے ہیں وہ قانونی پابندیوں کو کم ہی مانتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کبھی کسی غلط اقدام کی حمایت نہیں کرتے وہ یقینا اس واقعہ کا بھی نوٹس لیں گے اور قانون کے مطابق ایکشن ہو گا۔
دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ فوجی عدالتیں ختم کر دی گئیں تو دہشتگردوں کے حوصلے بلند ہو جائیں گے قوم کا شدید جانی و مالی نقصان ہو گا فوجی عدالتوں کو پہلے ہی مکمل اختیارات نہیں دیئے گئے اور ملزمان کو سزا کیخلاف عام عدالتوں میں اپیل کا حق دیا گیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ 356 دہشتگردوں کو سزائے موت دی گئی جن میں سے صرف55 کو لٹکایا جا سکا باقی اپیلیں چل رہی ہیں۔ فوجی عدالتوں سے معاملات عام عدالتوں میں جاتے ہیں تو اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے، اب اگر فوجی عدالتیں ہی ختم کر دیں تو دہشتگردوں کا تھوڑا بہت خوف بھی چلا جائے گا۔ حکومت ابھی تک قانونی شہادت میں بہتری نہیں لا سکی۔ ججز صاحبان اور گواہوں کو تحفظ ہی حاصل نہ ہو گا کہ سزا کیسے ہو گی۔ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع نہ کرنا عوام دشمنی ہے ہمارے سیاستدانوں نے تماشا کھڑا کر رکھا ہے اس مسئلہ کو ایک قومی مسئلہ سمجھ کر سوچنا چاہئے۔ فوجی عدالت اور عام عدالت میں فرق یہ ہوتا ہے کہ اس میں گواہ کو سامنے نہیں لایا جاتا جس باعث وہ بلا خوف و خطر بیان دیتا ہے۔ انسانی جانوں سے کھیلنے والے دہشتگردوں کو سزا نہ ملنے کا معاشرے کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) فاروق حمید نے کہاکہ بلاول بھٹو محترمہ بینظیر بھٹو کے صاحبزادے ہیں ان سے عوام کی جذباتی وابستگی ہے۔ مراد علی شاہ سندھ کے چیف ایگزیکٹو ہیں اس لئے دونوں کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی بات سمجھ میں آتی ہے تاہم یاد رہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے نیب کو پابند نہیں کیا، نیب جب چاہے تفتیش کے سلسلہ میں دونوں کو طلب کر سکتی ہے۔
سابق ایم ڈی پیپکو طاہر بشارت نے کہا کہ انرجی سیکٹر کیلئے ٹاسک فورس موجود ہے۔ دھند اور آلودگی کے مسائل دنیا بھر میں ہوتے ہیں تاہم وہ اس کا علاج کر لیتے ہیں اب یقینا ہماری حکومت نے بھی سبق سیکھا ہو گا اطلاع ہے کہ بجلی سپلائی میں بہتری آ رہی ہے۔ پنجاب میں 3 بڑے پاور پلانٹ اور چھوٹے آئی پی پیزجو ایل این جی پر چلتے ہیں ایل این جی نہ ملنے کے باعث بند پڑے ہیں اس کے باعث یہی شارٹ فال کا سامنا ہے۔

فلم انڈسٹری کا زوال ختم ‘ تعلیم یافتہ انٹری سے بہتری آئی :آمنہ الیاس

لاہور( شوبزڈیسک) اداکارہ و ماڈل آمنہ الیاس نے کہا ہے کہ ٹی وی اور فلم انڈسٹری میں اعلیٰ تعلیم یافتہ کی انٹری سے بہتری آئی ہے‘تکنیکی شعبوں سے وابستہ لوگ تعلیم کے زیور سے مالا مال ہیں۔اپنے اےک انٹرو ےو مےں آمنہ الےاس نے کہا کہ پاکستان میں فنون لطیفہ کے تمام شعبوں کا معیار بہتر ہے۔شوبز انڈسٹری کے رزوال کے دن ختم ہو چکے ہیں اب ہماری انڈسٹری ترقی کی منازل طے کررہی ہیں۔اداکارہ نے مزید بتایا ماڈلنگ اور اداکاری دنیا کے سب سے مشکل ترین کام ہیں ۔باہر بیٹھ کر باتیں کرنا زیادہ آسان کام ہے۔کیمرے کے سامنے کام کرنا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے۔کیونکہ پوری دنیا آپ کو دیکھ رہی ہوتی ہے۔اس لئے ہر کام سوچ سمجھ کرکرنا پڑھتا ہے۔

نرگس فخری کی ہارر فلم ”اماوس“ اب یکم فروری کو ریلیز ہوگی

ممبئی(شوبزڈیسک) بالی وڈ اداکارہ نرگس فخری کی ہارر فلم ”اماوس“ کی ریلیز تاخیر کا شکار ہو گئی جس کے بعد فلم رواں سال یکم فروری کو نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھوشن پٹیل کی ہدایت کاری میں بننے والی ہارر فلم ”اماوس “ رواں سال 11جنوری کو ریلیز کی جانی تھی لیکن فلم کے بصری اثرات اور پوسٹ پروڈکشن کام کو بہترین انداز میں پیش کرنے کے لئے فلم کی ریلیز کی تاریخ آگے بڑھا دی گئی ہے جو اب یکم فروری کو ریلیز کی جائے گی۔
فلم کی کاسٹ میں اداکارہ نرگس فخری، سچن جوشی، ویوان بھٹینا، مونا سنگھ اور دیگر شامل ہیں۔

جا ہانسبرگ ٹیسٹ ، مکی نے قومی ٹیم میں تبدیلیوں کا عندیہ دیدیا

جوہانسبرگ(نیوزایجنسیاں)پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں تبدیلیوں کا عندیہ دیتے ہوئے میچ میں پانچ باﺅلرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا اعلان کیا ہے۔پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں ممکنہ طور پر فخر زمان اور یاسر شاہ کو ڈراپ کر کے ان کی جگہ شاداب خان اور فہیم اشرف کو میدان میں اتارے گی جبکہ فاسٹ بالر شاہین شاہ آفریدی کی جگہ حسن علی میدان میں اتر سکتے ہیں۔جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے بعد دوسرے میچ میں بھی پاکستانی بیٹنگ لائن ناکامی سے دوچارہ ہوئی اور اس مرتبہ بالنگ لائن نے بھی ساتھ نہ دیا اور یوں میزبان ٹیم نے 9وکٹ کی آسان فتح اپنے نام کی۔ایک انٹرویو میں قومی ٹیم کے کوچ نے انکشاف کیا کہ اگر لیگ اسپنر شاداب خان انجری کا شکار نہ ہوتے تو پاکستانی ٹیم پانچ بالرز کے ساتھ میدان میں اترتی۔ہیڈ کوچ کا یہ بیان اس لیے کافی حیران کن ہے کہ سیریز کے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی بیٹنگ لائن کو شدید جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا ہے اور حقیقتا دونوں میچوں میں بلے باز جنوبی افریقہ بالرز کے خلاف جدوجہد کرتے نظر آئے۔انہوں نے کہا کہ میں پانچ بالرز کو فائنل الیون کا حصہ بنانے کی حکمت عملی کا بڑا مداح ہوں کیونکہ اس کی بدولت دیگر بالرز کو آرام کا موقع ملتا ہے اور میچ بھی ہمارے کنٹرول میں رہتا ہے لیکن ایسا کرنے کے لیے ہمیں مکمل طور پر فٹ شاداب کی ضرورت تھی۔تاہم کوچ نے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی اندیشہ ظاہر کیا کہ شاداب کی غیرموجودگی میں فہیم اشرف کو کھلائے جانے کی صورت میں ٹیل اینڈرز کی فہرست کافی لمبی ہو جاتی۔ان کا کہنا تھا کہ فہیم ایک اچھے کھلاڑی ہیں لیکن وہ ایک مکمل آل رانڈر نہیں اور انہیں ساتویں نمبر پر کھلانے سے ہماری بیٹنگ مزید مشکلات کا شکار ہو جاتی۔یاسر شاہ سمیت چار بالرز کو کھلانے کی حکمت عملی ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچوں میں ناکامی سے دوچار ہوئی کیونکہ یاسر شاہ کی ناکامی کے سبب فاسٹ بالرز پر انتہا سے زیادہ بوجھ پڑ گیا اور نتیجا ان کی رفتار میں کمی واقع ہونے سے افادیت ماند پڑ گئی اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کپتان سرفراز کو شان مسعود اور اسد شفیق سے بھی بالنگ کرانی پڑی۔کوچ نے سیریز کے ابتدائی دونوں میچوں میں یاسر شاہ کو کھلانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یاسر شاہ ایک بہترین بالر اور میچ ونر ہیں اور اگر ہم میچ کو چوتھے یا پانچویں دن تک لے جانے میں کامیاب ہوتے تو لیگ اسپنر اہم کردار ادا کرتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم میچ کو چوتھے یا پانچویں دن تک لے جا ہی نہیں پا رہے اور ہمیں اسی مسئلے کا حل ڈھونڈنا ہے۔فخر کو کھلائے جانے کے سوال پر کوچ نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں پہلی مرتبہ کھیلنے کی وجہ سے فخر کو شارٹ گیندوں پر مشکلات کا سامنا ہے۔ فخر نے ڈیبیو ٹیسٹ اور اس کے بعد عمدہ کارکردگی کے ذریعے اپنا لوہا منواہا اور اسی بنیاد پر انہیں ٹیم کا حصہ بنایا گیا تھا۔مکی آرتھر نے قومی ٹیم کے ڈریسنگ روم کے ماحول کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے ٹیم میں کسی بھی قسم کے اختلافات کی تردید کی اور کہا کہ میچ کے تیسرے دن پاکستانی بلے بازوں کی بیٹنگ اس کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ڈریسنگ روم کا ماحول خراب ہوتا تو یہی ٹیم تقریبا 170 رنز پر ڈھیر ہو جاتی لیکن ہم دن کے آخر تک کھیلے جس سے ہمیں دورے کے بقیہ میچوں کے لیے بہت حوصلہ ملا ہے۔

کبڈی سیریز،پاکستان نے بھارت کو پچھاڑدیا

لاہور (سپورٹس رپورٹر ) پاکستان گرین نے بھارت اور پاکستان وائٹ نے ایران کی کبڈی ٹیموں کو شکست دے دی۔ تفصیلات کےمطابق اقبال سٹیڈیم فیصل آباد میں کھیلے گئے میچز میں پاکستان وائٹ نے ایران اور پاکستان گرین نے بھارت کی کبڈی ٹیموں کو شکست دی ۔پاکستان گرین نے بھارت کو 47-29 اور پاکستان وائٹ نے ایران کو 38-24 پوائٹس سے شکست دی ۔ پاکستان گرین اور بھارت کے درمیان کھیلے گئے میچ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے ریڈ اورڈیفنڈ محاذوں پر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، پاکستانی ٹیم نے ابتدا ہی سے کامیاب ریڈ اور ڈیفنڈ کرتے ہوئے برتری حاصل کی جو ہاف ٹائم تک برقرار رہی، ہاف ٹائم پر پاکستان گرین کو بھارت پر 29-13 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی، دوسرے ہاف میں بھی پاکستان گرین کا پلڑا بھاری رہا اور اس نے بھارت کو مجموعی طور پر 47-29 پوائنٹس سے شکست دی ۔ قبل ازیں پہلا میچ پاکستان وائٹ اور ایران کی ٹیموں کے مابین کھیلا گیاجس میں پاکستان وائٹ نے آغاز سے ہی برتری حاصل کرلی، ہاف ٹائم تک پاکستان وائٹ کو ایران کے خلاف 22-16 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی، دوسرے ہاف میں بھی پاکستان وائٹ کے کھلاڑیوں نے شاندار کھیل پیش کیا اور مجموعی طور پر 38-24 پوائنٹس سکور کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ اس موقع پر شائقین کی ایک بڑی تعداد نے میچ دیکھا ۔شائقین نے پاکستان کے ایران اور بھارت کے مقابلوں میں جوش و خروش کا مظاہرہ کیا ۔شائقین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے اور اچھا کھیل کا مظاہر ہ کرنے پر ریڈرز اور ڈیفینڈ رز کو داد دیتے رہے ۔ وزیر اعلی پنجاب کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور چوہدری محمد اکرم مہمان خصوصی تھے ۔اس موقع پر کمشنر فیصل آباد آصف اقبال چوہدری ، ڈپٹی کمشنر سردار سیف اﷲ ڈوگر ، ریجنل پولیس آفیسر غلام محمود ڈوگر اور سی پی او فیصل آباد اشفاق احمد خان ، پاکستان کبڈی فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل رانا محمد سرور سمیت پنجاب سپورٹس بورڈ اورانتظامیہ کے حکام بھی موجود تھے ۔میچز کے اختتام پر تقریب تقسیم انعامات منعقد کی گئی جس میں بھارت اور ایران کی ٹیموں کو ٹرافیاں ، میڈل اور دو ، دو لاکھ ر وپے کے نقد انعامات دئیے گئے ۔ اس موقع پرچوہدری اکرم نے کہا کہ کھیلوں کا فروغ حکومت کی ترجیحی پالیسیوں میں شامل ہے ۔وزیر اعظم اور وزیر اعلی خصوصی طور پر کھیلوں کے شعبہ پر توجہ دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان میںعالمی سطح کے مقابلوں کا انعقاد خوش آئند ہے اور حکومت ہر سطح پر کھیلوں کے فروغ کے لئے تعاون کیلئے تیار ہے ۔میچ کے اختتام پر رنگا رنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک کے نامور فوک گلوکار عارف لوہار نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور لوگوں سے داد وصول کی ۔اس موقع پر مقامی فوک گلوکاروں نے بھی فن کا مظاہرہ کیا۔تقریب کے اختتام پر آتشبازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا ۔اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے2ایس پیز،6ڈی ایس پیز،2انسپکٹر ،14سب انسپکٹر،83اے ایس آئیزاور600سے زائد جوان،ڈولفن فورس اور ایلیٹ فورس کی16 ٹیموں نے سکیورٹی کے فرائض انجام دئیے ۔

سرفراز احمدکا ٹیسٹ قیادت چھوڑنے کا فیصلہ

کیپ ٹاﺅن(آئی این پی)جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں مسلسل دوسری شکست پر قومی کپتان سرفراز احمد نے کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ۔تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹیسٹ ٹیم کی مسلسل ناکامی سے دلبرداشتہ ہو کرکپتانی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ذرائع کے مطابق ٹیم مینجمنٹ نے اگلے کپتان کیلئے سر جوڑ لیے جس میں اسد شفیق اورشان مسعود کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ شان مسعود قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت کیلئے تگڑے امیدوار ہیں ۔خیال رہے کہ سرفراز احمد کی قیادت میں قومی ٹیم کو سیریز میں بھی مسلسل دوسری شکست ہوئی ہے ۔ساتھ افریقہ سے قبل سرفراز احمد کی قیادت میں قومی ٹیم کو پاکستان کا ہوم گرانڈ سمجھے جانیوالے یو اے ای میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔سرفراز احمد کی قیادت میں قومی ٹیم نے 12 ٹیسٹ میچز کھیلے جن میں انہیں 7 میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔قومی ٹیم سرفراز کی قیادت میں صرف 4 میچز جیتی جبکہ ایک میچ ڈرا ہوا۔ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کو لے کر سرفراز احمد پر کرکٹ کے حلقوں میں کافی تنقید بھی ہو رہی تھی اور نیوزی لینڈ سے شکست کے بعد ساتھ افریقہ روانگی سے قبل سرفراز احمد یہ بات واضح کر چکے تھے کہ اگرا انہیں ساتھ افریقہ میں بھی شکست ہو گئی تو پھر وہ کپتانی چھوڑنے کے حوالے کچھ سوچیں گے ۔

قومی کھیل شدید مالی بحران کا شکار ،پاکستان کا پرو ہاکی لیگ سے دستبرداری پر غور

لاہور(سپورٹس رپورٹر)مالی مسائل کے باعث قومی ہاکی ٹیم نے پرولیگ سے دستبرداری پر غور شروع کردیا ہے۔پروہاکی لیگ میں پاکستان کی شرکت میں فنڈز ایک بار پھر رکاوٹ بننے لگے، مالی مسائل سے دوچار فیڈریشن نے تاحال سفری انتظامات نہ ہونے پر لیگ سے دستبرادری پر غور شروع کردیا ہے تاہم ٹیم نہ بجھوانے پر دوسال کی پابندی لگ سکتی ہے اور اولمپکس میں شرکت سے بھی پاکستان محروم ہوجائے گا۔ذرائع کے مطابق پاکستانی ٹیم کو کم از کم 7 روز پہلے ارجنٹائن پہنچنا ہے جہاں 2 فروری کو اس کا پہلا میچ شیڈول ہے، پرولیگ کی تیاری کے لیے ٹیم کا کیمپ لاہور میں جاری ہے تاہم ابھی تک ٹیم کے سفری اخراجات کا بندوبست نہیں ہوسکا۔ پہلے مرحلے میں ارجنٹائن، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف لیگ کے ابتدائی 6 میچز کے لیے اڑھائی کروڑ جب کہ تمام 16 میچز کھیلنے کے لئے کم از کم 7 کروڑ درکار ہیں۔ورلڈکپ کے لیے روانگی سے پہلے ٹیم کو اسپانسرز کرنے کا دوسال کا معاہدہ کرنے والے حکام نوے لاکھ پی ایچ ایف کو دے چکے ہیں باقی رقم انہوں نے نئے مالی سال شروع ہونے پر ادا کرنی ہے۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ کو کئی خطوط لکھنے کے باوجود پی ایچ ایف عہدیداروں کو گرانٹ نہیں مل پارہی۔ذرائع کے مطابق ایک تجویز سامنے آئی ہے کہ فنڈز نہ ہونے کو جواز بناکر پرولیگ سے نام واپس لے لیا جائے۔ پرو ہاکی لیگ میں بڑے مارجن سے یقینی ہار اور بدنامی کے بجائے نوجوان لڑکوں پر مشتمل ٹیم کو جاپان اور ملائشیا کے پریکٹس ٹورز پر بھیج دیا جائے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر پی ایچ ایف خالد کھوکھر نے مالی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ ہمارے پاس فنڈز نہیں لیکن کوشش کررہے کہ اخراجات کا کسی طرح بندوبست ہوجائے اور پرولیگ کی کمٹمنٹ کو ضرور پورا کریں۔ لیگ میں متوقع نتائج سے قطع نظر نوجوان لڑکوں کو آٹھ بہترین ٹیموں کے ساتھ 16 میچز کھیلنے کو ملیں گے۔

شان مسعودمیں اچھا اوپنربننے کی صلاحیت،طاہرشاہ فرسٹ کلاس سے بہتر پلیئر نہ آنے کاٹیم کونقصان ہورہاہے،سابق کرکٹرکی گگلی میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق ٹیسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ نے کہا ہے کہ شان مسعودکی پرفارمنس میں بہتری نظرآرہی ہے اوران میں اچھا اوپننگ بلے بازبننے کی صلاحیت موجودہے۔ میں سمجھتا ہوں جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں شان مسعود کا ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آیا اس سے قبل سب اسے انڈرایسٹمیٹ کر رہے تھے۔چینل فائیو کے پروگرام گگلی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب کرکٹ صرف بیس لوگوں کے درمیان گردش کرے گی نئے لوگوں کو چانس نہیں ملے گا تو یہی ہو گا۔فرسٹ کلاس کرکٹ میں اچھے کھلاڑی نہیں آ رہے۔جب کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ میں آتے ہیںتو توجہ نہیں دیتے خود کو سٹار سمجھنے لگتے ہیں۔مکی آرتھر بھی اپنی پسند کے کھلاڑی رکھنا چاہتا ہے۔وکٹ کیپنگ کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جنوبی افریقہ پلان کے تحت کھیلا جبکہ ہماری ٹیم نے اس کے برعکس کیا۔پاکستانی ٹیم کا بیٹنگ کوچ کھلاڑیوں کی تربیت نہیں کر رہا فخر امام کو باہر بٹھانا چاہئے۔

حکومت کا آئندہ 5 سالوں میں اقتصادی ترقی کی شرح 7 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ

اسلام آبادن(ویب ڈیسک)وفاقی حکومت نے آئندہ 5 برسوں میں اقتصادی ترقی کی شرح 7 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی خسرو بختیار کی زیر صدارت 12 ویں 5 سالہ پلان پر اجلاس ہوا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پانچ سالہ پلان 2018-2023 کے ذریعے اقتصادی ترقی کی شرح 7 فیصد تک بڑھائی جائے گی۔پانچ سالہ منصوبے میں اقتصادی ترقی کی اوسط شرح 5.8 فیصد تک رہنےکا تخمینہ ہے۔خسرو بختیار کو بتایا گیا کہ اقتصادی ترقی کی شرح کا تخمینہ زرعی شعبے کی گروتھ 3.6 فیصد پر ہے جب کہ صنعتی ترقی کے تخمینے 6.1 اور سروسز کے شعبے میں 6.8 فیصد کی بنیاد پر اقتصادی ترقی کا تخمینہ ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پانچ سالہ منصوبے کا مسودہ تیار ہے جس کی متعلقہ فورم سے منطوری کے بعد شروع کیا جائے گا۔اس کے علاوہ وفاقی وزیر کو اسلام آباد میں شماریات ڈویڑن کی طرف سے بھی بریفنگ دی گئی۔سیکرٹری شماریات مس شائستہ سہیل نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ اگست 2018 سے ضروری کھانے پینے کی اشیا میں افراط زر ایک فیصد سے بھی کم رہی۔وفاقی وزیر نے شماریات ڈویڑن کو ہدایت کی کہ قیمتوں کا واضح تعین کرنے کے لیے ضروری اشیا کی قیمتوں کا ڈیٹا جمعرات کی بجائے ہر پیر کو اکٹھا کیا جائے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کم مارکیٹ انفارمیشن کی وجہ سے ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری بڑھتی ہے اس لیے ملک بھر میں تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول مارکیٹ کمیٹیز اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان قریبی تعاون ضروری ہے۔خسرو بختیار نے ہدایت کی کہ عوام کو اقتصادی شماریات خصوصا صارفین کے لیے قیمتوں کے اشاریہ اور مہنگائی کے رجحانات سے متعلق آگاہ کرنے کے لیے مکینزم تشکیل کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ضروری اشیائ کی قیمتوں کے بارے میں عوام کو معلومات فراہم کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ کا استعمال ضروری ہے اور وہ اس سلسلے میں جلد ہی وفاقی وزیر اطلاعات سے ملاقات کریں گے۔سیکرٹری شماریات نے بتایا کے پی بی ایس عالمی معیار کے مطابق اعداد و شمار اکٹھے کرتا ہے۔

سندھ میں گریڈ ایک سے 15 تک کی خالی آسامیوں پر بھرتیوں کی منظوری

کراچی(ویب ڈیسک)سندھ کابینہ نے صوبے میں گریڈ ایک سے 15 تک کی خالی آسامیوں پر بھرتیوں کی منظوری دے دی۔وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں موجودہ الاٹمنٹ پالیسی پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس دوران کابینہ کو بتایا گیا کہ 5 فیصد ہاو¿س رینٹ سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے کاٹا جاتا ہے اور صوبے میں 5 ہزار سیکریٹریٹ ملازمین رہائش مانگ رہے ہیں۔کابینہ اجلاس میں الاٹمنٹ پالیسی پر کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا جس میں وزیر توانائی، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وزیراعلیٰ کے مشیر برائے قانون ہوں گے، یہ کمیٹی الاٹمنٹ پالیسی کا جائزہ لے کرسفارشات پیش کرےگی۔علاوہ ازیں ترجمان سندھ حکومت کے مطابق کابینہ نے صوبے میں نئی بھرتیاں کرنے کی بھی منظوری دے دی جس کے تحت گریڈ ایک سے 15 تک کی خالی آسامیوں پر بھرتیاں کی جائیں گی۔سندھ کابینہ نے گنے کی کم ازکم قیمت 182 روپے فی من مقررکرنے کی منظوری دے دی جب کہ کابینہ نے وزیر زراعت کومارکیٹ کمیٹی بنانے کے اختیارات بھی دے دیے۔ترجمان سندھ حکومت کے مطابق کابینہ نے سندھ انجرڈ پرسن کمپلسری میڈیکل ٹریٹمنٹ بل منظور کرلیا۔