ممبئی (شوبز ڈےسک ) بالی وڈ کی اداکار عامر خان نے اپنی نئی فلم کے کردار میں حقیقت کا رنگ دینے کے لئے ڈائٹنگ شروع کر دی۔ذرائع ابلاغ کے مطابق اداکار عامر خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی نئی فلم میں اپنے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سخت ڈائٹ پلان لے رہے ہیں اور اپنی جسمانی ساخت پر محنت کر رہے ہیں تاکہ وہ فلم میں اپنے کردار کے مطابق نظر آ سکیں۔ ان کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ وہ اپنے نئی فلم کا نام نہیں بتا سکتے ہیں۔
Monthly Archives: January 2019
سوناکشی سنہا نے مسلمان لڑکے سے محبت کی تردید کردی
ممبئی (شوبز ڈےسک)بالی ووڈ کی دبنگ اداکارہ سوناکشی سنہا سے متعلق پچھلے کچھ دنوں سے یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ وہ ایک مسلمان لڑکے کے عشق میں مبتلا ہیں جبکہ سوناکشی سنہا نے ایسی تمام خبروں کی تردید کردی ہے۔بھارتی اخبار ’انڈیا ٹوڈے‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بالی ووڈ کے سلطان سلمان خان کے ساتھ فلم دبنگ سےاپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والی اداکارہ سوناکشی سنہا نے اپنے اور ظہیر اقبال سے متعلق پھیلائی جانے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کے درمیان محبت کا رشتہ نہیں ہے، ایسی تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ سلمان خان ا±ن کے اور ظہیر اقبال کے درمیان دوستی یا محبت کے رشتے کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ظہیر اقبال فلم ’نوٹ بک‘ کے ریلیز ہونے سے قبل ہی سلمان خان کے بہترین دوست بن گئے ہیں۔واضح رہے کہ سلمان خان کی فلم ’نوٹ بک‘ ظہیر اقبال کی ڈیبیو فلم ہے جس میں وہ منیش بہل کی بیٹی ’پرانوتن‘ کےساتھ نظر آئیں گے۔
رومانس سے بھرپوربالی ووڈفلم 29 مارچ کو ریلیز کیے جانے کا امکان ہے جبکہ اس بات کا حتمی اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا ۔
وینا ملک کی طویل وقفے کے بعد دوبارہ ٹی وی پر واپسی
لاہور( شوبز ڈےسک )اداکارہ وینا ملک کی طویل وقفے کے بعد دوبارہ ٹی وی پر واپسی ، نجی ٹی وی چینل کے شو میں میزبانی کے فرائض انجام دینا شروع کر دیئے ۔تفصیلات کے مطابق وینا ملک نے شادی کے بعد اداکاری اور ٹی وی چینل کے شو سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی تاہم شوہر سے علیحدگی کے بعد انہوںنے دوبارہ سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے ۔ اداکارہ وینا ملک کراچی میں ریکارڈ کیے جانے والے نجی ٹی وی چینل کے شو میں بطور میزبان حصہ لے رہی ہیں اور اب تک انکے چار شو آن ایئر ہو چکے ہیں ۔تاہم وہ اس مرتبہ اپنی میزبانی کے انداز سے پرستاروں کو متاثر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
عمران ہاشمی کے ’جعلی خوبصورت‘ کہنے پر ایشوریا آج بھی غصہ
ممبئی(شوبز ڈےسک) ناموربالی ووڈ اداکارہ ایشوریا رائے بچن اداکار عمران ہاشمی کی جانب سے ان کی خوبصورتی کو ’جعلی اورپلاسٹک‘ کی کہنے پرآج بھی غصہ ہیں اور اس بات کو اب تک بھلا نہیں سکی ہیں۔ تاہم عمران ہاشمی کو ایشوریارائے کی خوبصورتی جعلی اورپلاسٹک کی لگتی ہے، جس کا اظہار انہوں نے ’کافی ود کرن‘ کے چوتھے سیزن میں کیا تھاایشوریا رائے اتنی پرانی بات کو آج تک بھلا نہیں پائی ہیں، ایشوریا رائے بچن نے حال ہی میں ’فیمسلی فلم فیئر‘ کے سیکنڈ سیزن میں شرکت کی جہاں ریپڈ فائر راو¿نڈ میں جب میزبان نے ایشوریا سے پوچھا کہ آپ نے اپنے بارے میں سب سے برا تبصرہ کیا سنا تھا تو ایشوریا نے غصے سے جواب دیا ’جعلی اورپلاسٹک کی خوبصورتی‘۔
۔
۔ایشوریا کے لیے یہ تبصرہ اداکار عمران ہاشمی نے ’کافی ود کرن‘ کے چوتھے سیزن میں کیا تھا، ایشوریا یہ تبصرہ سن کر شدید غصے میں آگئی تھیں اور انہوں نے عمران ہاشمی کے ساتھ فلم ’بادشاہو‘ میں کام کرنے سے بھی انکارکردیا تھا۔ بعد ازاں عمران ہاشمی نے ایشوریا رائے سے معافی ماگنتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے یہ صرف گفٹ ہیمپر جیتنے کیلئے کہا تھا لیکن ایشوریا اس تبصرے کے لیے آج تک عمران ہاشمی کو معاف نہیں کرپائی ہیں۔
گیس پائپ لائن دھماکہ ، بھارت یا کسی اور پاکستان دشمن طاقت کی سازش : ضیا شاہد ، طالبان نے پیغام بھیجا تھا کہ وہ امریکی ایجنڈے سے متفق نہیں ، مذاکرات نہیں کرینگے : سردار آصف ، نواز شریف پلی بارگین کرنا چاہیں تو جرائم کے اقرار کا حلف نامہ دینا ہو گا : بریگیڈئیر (ر ) فاروق حمید ، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ گیس کے بحران میں بدانتظامی تو ہے ہی لیکن اس میں ایک نیا عنصر دہشت گردی کا شامل ہو گیا ہے رحیم یار خان سے جو گیس پائپ لائن اسلام آباد جا رہی تھی اس میں دھماکہ ہوا ہے اور وہ پھٹ گئی ہے۔ دھماکہ ظاہر ہے کہ بلاوجہ نہیں ہوا اور گیس کی پائپ لائن کافی موٹی ہوتی ہے جس میں گیس گزرتی ہے اس طرح وہ کوئی ہاتھ لگانے سے نہیں پھٹ جاتی ہے۔ ظاہر ہے کسی نے کارروائی کی ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ ملک دشمن طاقتیں جس میں انڈیا بھی ہو سکتا ہے اور بھی کوئی ملک ہو سکتا ہے ان کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان کی جو عام زندگی ہے وہ ڈسٹرب ہو اور اس لئے جو معاملات گیس کے بارے میں تھے اور جس وجہ سے دو ایم ڈیز کو نکالا گیا وہ تو اپنی جگہ پر ہیں لیکن اب یہ جو اپنا عنصر ہے کہ جا بجا دھماکے ہونے لگے ہیں اس کا مطلب ہےکہ اس کے پیچھے ایک سوچی سمجھی سازش ہے اور جو گیس کے دھماکے ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ معاملہ معمولی یا فنی خرابی کا نہیں ہے۔ گیس کا دھماکہ عام طور پر بڑا خطرناک ہوتا ہے اس لئے کہ جب کوئی چیز ٹوٹتی ہے اور جگہ پر خواہ وہ کارروائی کی جائے یا جس کے پیچھے دہشت گردی ہو یا اچانک ہو جائے یا کسی وجہ سے اتفاقی حادثہ قرار دے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ گیس کا دھماکہ بہت بڑی تباہی لے کر آتا ہے کیونکہ جہاں جہاں گیس ھیلتی جاتی ہے اس میں سے شعلے اٹھتے رہتے ہیں۔ چنانچہ دھماکہ ایک جگہ متعین اور مخصوص نہیں رہتا بلکہ یہ آگ کی طرح سے پھیلتا ہے۔
ضیا شاہد نے کہا گیس بحران پر اس وقت فوری معاملہ تو یہ ہے کہ اس گیس کو بحال کیا جائے جس طرح سے کہا گیا ہے کہ 12 سے 14 گھنٹے لگیں گے یہ تو بہت بڑی لیپس ہوتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ صرف گھریلو کنکشن ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ انڈسٹری بھی متاثر ہوتی ہے یہ بہت بڑا نقصان ہوتا ہے خاص طور پر جو انڈسٹری ہوتی ہے جس کی سپلائی بند ہونے سے دوبارہ سرکل میں آنے کے لئے وقت درکار ہو وہجو خاص طور پر بڑا نقصان دہ ہوتا ہے۔ جہاں دو سربراہوں کو ہٹانے کا سوال ہے یہ چین آف کمانڈ ہوتی ہے اگر نمبر ون چلا گیا تو اس کی جگہ نمبر2 جو ہے وہ وقتی طور پر چارج سنبھال لیتا ہے بعض اوقات ڈائریکٹ تقرری بھی ہو جاتی ہے لہٰذا یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ ان کا گیپ کور نہ ہو البتہ یہ چیز ضروری ہے کہ اگر یہ حادثہ کسی شر انگیزی کی وجہ سے ہے تو پھر اس پر قابو پانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ بھی ہو سکتا ہے آپ گیس پائپ لائن درست کریں گیس بحال کریں اور تھوڑے فاصلے پر دوبارہ خدانحواستہ کوئی اور واقعہ ہو جائے۔
اورنج ٹرین کا جو معاملہ تھا اور جو شش و پنج میں عوام میں متلاشی ہو سکتا ہے کہ حکومت اس کو بند کر دے چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ مجوزہ تاریخوں تک ہر صورت کام مکمل کیا جائے گا کہ لاہور کی عوام کے لئے تحفہ ہے جب گاڑی چلے گی تو ہمیں بھی بتایا جائے میں بھی اورنج ٹرین پر سفر کروں گا۔ اس حوالے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ چیف جسٹس بادشاہ آدمی ہیں موجی بھی آپ کہہ سکتے ہیں ان کے پاس بے پناہ اختیارات ہیں اور اب خاص طور پر جب ان کے گنتی کے چند روز باقی ہیں۔ وہ جاتے جاتے دو چار بڑے بڑے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس قسم کے واقعات جو ہیں ان کو کسی کام کو مکمل ہونے نہیں دیتے۔ کیونکہ جب اس قسم کے واقعات ہو جائیں اورنج ٹرین کے بارے میں انہوں نے جو کچھ کہا بالکل ٹھیک ہے اور بڑی اچھی بات ہے جب یہ کام شروع ہو جائے گا لیکن اگر پچھلے بیانات دیکھیں تو جہاں جناب چیف جسٹس صاحب نے اورنج ٹرین پر ہی بہت ہی اعتراضات کئے تھے اور اس کے وجود کو اور اس پر جو اخراجات ہو رہے تھے ان پر بڑی تنقید کی تھی اب ظاہر ہے کہ ان کی خواہش ہو گی کہ جلد سے جلد یہ معاملہ درست ہوجائے لیکن دیکھیں جو چیزیں خراب ہو چکی ہوتی ہیں ان کو بننے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ میں سمجھتا ہو ںکہ چیف جسٹس صاحب جاتے جاتے قدرتی طور پر یہ چاہیں گے کہ اپنی زندگی کے معاملات وقت پر آ جائیں اور اس قسم کے معاملات پر قابو پایا جائے لیکن یہ انسان کے اپنے بس میں نہیں ہوتا خاص طور پر دہشت گردی کے معاملات یہ انسان کے کبھی بھی بس میں نہیں ہوتے۔ جہاں تک بھارتی مواد نشر کرنے پر پابندی کا سوال ہے ضیا شاہد نے کہا کہ میں اس پابندی کے خلاف نہیں ہو سکتا مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ متبادل بندوبست نہیں کیا گیا مثال کے طور پر مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب انڈین فلمیں کھولی گئی تھیں تو پاکستان بھر کے سینما اونرز نے ہڑتالیں کی تھیں اور کہا تھا کہ ہمارے پاس را میٹریل اتنا کم ہے اور فلمیں اتنی کم بنتی ہیں کہ تیار ہونے کے بعد جو ایک فلم 6 یا 8 مہینے کے بعد مارکیٹ میں آتی ہے اور اس وقت تک سینکڑوں نہیں ہزاروں سینما ہال جو ہیں وہ خالی پڑے رہتے ہیں چنانچہ اس بنیاد پر انڈیا کی فلموں کو لگانے کی اجازت دی گئی تھی اب دیکھیں کہ انڈیا کے فلموں کی جو چیف جسٹس گفتگو فرما رہے ہیں ان کی بات میں وزن ہے کہ ان کی معاشرت جو ہے وہ ہماری معاشرت کو خراب کر رہی ہے لیکن یہ دیکھتے کہ اس میں تضاد بیانی ہے ایک طرف ہم نے اجازت دی ہوئی ہے انڈین فلموں کی کہ پاکستان کے سینماگھروں میں امپورٹ ہو سکتی ہے دوسری جب انڈیا کی رپورٹ ہوتی ہے تو پھر اس میں ایسے مناظر بھی رکھے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ ان کی تہذیب ہے ان کی تہذیب کے حوالے سے کافی رعایتیں دی جاتی ہے اور خود بھی انڈین فلم انڈسٹری جو ہے انتہائی درجے کی ولگر فلمیں بناتے ہیں اور وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری فلم کس طرح سے ہٹ ہو گی۔ کتنے فخر سے کہا جاتا ہے کہ لندن فلم لگنے سے دو دن کے بعد اتنے کروڑوں روپے کما گئی۔ اس سے ظاہر وہتا ہے کہ وہی فلم چلے گی جس میں کوئی مال مسالہ ہے۔ ایک طرف ہم مغرب اخلاق فلموں پر سٹرائیک کر رہے ہیں دوسری طرف ہم خود ان کو اجازت دے رہے ہیں کہ آئیے آپ کو اس معاشرے کو جو بگاڑ سکتے ہیں بگاڑ لیں۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ آئی پی پیز سے معاہدے ہمارے گلے کا پھندا بن چکے ہیں پوری دنیا میں ایسے معاہدے ختم کیا جا رہا ہے ضیا شاہد نے کہا کہ بجلی بنانے والے کارخانوں سے اس وقت جب یہ ہمارے معاہدات ہوئے تھے۔ انہوں نے اس وقت کی حکومت کو اس طرح سے اپنی مٹھی میں جکڑ رکھا تھا کہ ضرورت تھی کہ جلد سے جلد بجلی پیدا کی جائے اور اس چکر میں انہوں نے بہت ساری ایسی رعایتیں حاصل کر لیں اور اتنی مراعات حاصل کرلیں کہ اب ایک طرح سے وہ عقل کل بنے ہوئے ہیں اگر یہ معاہدے پڑھے جائیں تو چیف جٹس صاحب صحیح کہتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ کس حکومت نے اس قسم کے معاہدات کر لئے اور حکومت اس بات کو بالکل خیال نہ آیا کہ یہ معاہدے ہمارے گلے پڑ جائیں گے۔ اس قسم کے معاہدات کئے گئے کہ خواہ بجلی استعمال کریں نہ کریں ایک فکس تعداد میں جو بجلی کے یونٹ ہیں اس کے پیسے ضرور دیں گے۔ اس قسم کے معاملات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ونز فار آل اس قسم کے معاہدات ختم کرکے پھر صحیح معنی میں جو کاروباری طور پر فیرڈیل کی جائے اور جن لوگوں سے ہم نے بھی لینی ہے ان کو بروقت ادائیگیاں ہوں۔ وہ ہمیشہ روتے رہتے ہیں کہ ہمیں ادائیگی نہیں ہوتی۔ جتنی بجلی کی کھپت ہوتی ہے اس سے کئی گنا زیادہ انہوں نے ایسے دروازے کھول رکھے ہیں بجلی لیں نہ لیں ایک خاص فکس بل ہمیں دینا پڑتا ہے۔ 17جنوری کو چیف جسٹس اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے تو نوازشریف کے کیس کی سماعت کے لئے یہ بنچ ٹوٹ نہیں جاتے اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ نوازشریف کی سزا کے خلاف درخواست پر ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا اب بنچ ٹوٹے گا اور نئے سرے سے بنچ بنے گا۔ اس لئے سمجھتا ہوں کہ بہت سارے کیسز میں تعطل پیدا ہو گا زیادہ بہتر ہوتا کہ چیف جسٹس اتنے میں معاملات پر کھولتے جتنے نمٹا سکتے تھے کیونکہ ان کی ریٹائرمنٹ قریب ہے۔ شاہد خاقان عباسی اور ان کے ساتھی پاکستانی بھی تو ہیں ان کا فرض ہے کہ معاملات کی اصلاح کیلئے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کریں۔ ہر کام کو پچھلی حکومت کے سر ڈالنے کا طریقہ کار درست نہیں ہے ہر کسی کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہو گی۔ نیب کے حوالے سے بہت شکایات ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ادارہ اپنے فرائض ٹھیک طرح سے انجام نہیں دے پا رہا۔ اتنے زیادہ معاملات کھول دیئے جاتے ہیں کہ کوئی ایک بھی منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتا۔ نیب کو چاہئے کہ تیزی سے کام کرائے اور یہ کیس کو لٹکانے کا سلسلہ چھوڑ دے۔ امریکہ طالبان مذاکرات ختم ہونے کا خدشہ اسی وقت پیدا ہو گیا تھا جب بھارت کو طالبان کے خلاف کارروائی کاکہا گیا جبکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ بھارت کے اندر خانے طالبان سے تعلقات ہیں اور وہ ان کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشتگردی کراتا ہے۔ امریکہ اس خطے سے مکمل طور پر اپنی افواج کا انخلاف نہیں چاہتا وہ یہاں رہنا چاہتا ہے طالبان سے کوئی معاہدہ ہونے کی صورت میں امریکہ افغانستان سے جانا پڑے گا جس کے لئے وہ تیار نہیں ہے، امریکہ اب مذاکرات سے دامن چھڑانا چاہتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر فاروق احمد نے کہا کہ نیب کے ایس او پیز کے مطابق کیس کی انکوائری کیلئے 4 ماہ کا وقت ہوتا ہے انکوائری سے پہلے ڈیڑھ دو ماہ میں شکایات کی تصدیق کی جاتی ہے۔ نیب قریباً 10 ماہ بعد اس پوزیشن میں آئی ہے کہ ملزم کے خلاف ریفرنس دائر کر سکے انکوائری میں بھی ملزم کو دفاع کا موقع دیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ نیب میں کیسز برسوں لٹکتے رہتے ہیں اور فیصلہ نہیں ہو پاتا۔ چیئرمین نیب کی پالیسی ہے کہ انکوائری میں ثبوت نہیں تو کیس کو لٹکانے کے بجائے بند کیا جائے نیب قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے تاہم ان ترامیم کی نہیں جن کا میڈیا پرڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ وائٹ کالر کرائم اور عام جرم میں بہت فرق ہے۔ عام عدالتوں میں تو 4 دن کا ریمانڈ کافی ہوتا ہے تاہم نیب کو 90 دن کا ریمانڈ اس لئے دیا جاتا ہے کہ وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات میں بڑی دقت ہوتی ہے۔ نیب نے 18 سال میں پلی بار گین کے تحت 700 ارب ریکور کئے جبکہ دیگر سول سسٹم کے ذریعے اس عرصہ میں محض 30 کروڑ ریکور ہوئے۔ پلی بار گین کی اجازت عدالت ہی دیتی ہے۔ اس قانون میں سارا عوام سال ریکور کرنا ہوتا ہے تاہم پیپلزپارٹی اور ان لیگ کے ادوار میں گڑ بڑ کی گئی اور 70 سے40 فیصد ریکوری کر کے ملزمان کو چھوڑ دیا گیا۔ ملزم جب پلی بار گین کرتا ہے تو حلف نامہ دیتا ہے اپنے جرم کو قبول کرتا ہے۔ قانون کی نظر میں وہ مجرم ہوتا ہے باعزت بری نہیں ہوتا۔ نوازشریف بھی پلی بارگین کرنا چاہیں تو انہیں اپنے جرائم کے اقرار کا حلف نامہ دینا ہو گا۔ پلی بارگین کرنے والا بنک سے قرضہ نہیں لے سکتا اور پبلک آفس کیلئے 10 سال کیلئے نااہل ہوتا ہے۔
رحیم یار خان سے نمائندہ خبریں عبدالقدوس نے کہا کہ سہیون شریف سے اوچ شریف تک جانے والی 36 انچ کی گیس پائپ لائن دھماکے سے پھٹی اور کئی گھنٹے تک شعلے آسمان سے باتیں کرتے رہے۔ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ فنی فراہمی نہیں تھی تخریب کاری لگتی ہے۔ انچارج سوئی گیس رحیم یار خان وقاص بخاری کے مطابق گیس کی بحالی میں 12 سے 14 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ جس جگہ لائن پھٹی وہ سندھ پنجاب بارڈر کے قریب نو گو ایریا میں ہے۔ سندھ کشمور، بلوچستان سے ڈکو اور جرائم پیشہ افراد اس علاقے میں دندناتے پھرتے ہیں وہ بھی اس واقعہ میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
سابق وزیرخارجہ آصف احمد علی نے کہا کہ طالبان نے سعودیہ میں مذاکرات سے انکار کا جواز یہ دیا ہےکہ اشرف غنی کے نمائندوں کو مغاکرات میں شامل کرنے کیلئے دباﺅ ڈالا جا رہا تھا جبکہ وہ ایسا نہیں چاہتے تھے۔ مداکرات کا ایجنڈا پہلے تیار ہوتا ہے جو دونوں فریق ایک دوسرے کو بھجواتے ہیں یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہو گا۔ طالبان نے پیغام بھیجا کہ وہ مذاکرات سے پیچھے ہٹ رہے ہیں کہ انہیں امریکی ایجنڈے سے اتفاق نہیں ہے۔ طالبان نے امریکی ایجنڈے کو رد کر دیا ہے۔ امریکہ میں بھی اس وقت دو نکتہ نظر موجود ہیں۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ افغانستان میں رہنا چاہتی ہے جبکہ صدر ٹرمپ نے امریکی اسٹیبلشمنٹ کے برعکس طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس جنگ میں کھربوں ڈالر جھونک کر بھی انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔
”انٹرنیشنل کبڈی ٹاکرا‘ ‘ کےلئے میدان آج سے سجے گا
لاہور (سپورٹس رپورٹر) سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیراہتمام ”انٹرنیشنل کبڈی ٹاکرا“ 10جنوری بروز جمعرات کو شروع ہورہا ہے جس میں بھارت، ایران اور پاکستان کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، پہلا ٹاکرا بہاولپور میں دوپہر ایک بجے ایران اور بھارت کے درمیان ہوگا جبکہ دوسرا ٹاکرا 2بجے پاکستان گرین اور پاکستان وائٹ کے درمیان ہوگا،”انٹرنیشنل کبڈی ٹاکرا“ کے لئے تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب ندیم سرور کی جانب سے تشکیل دی گئی انتظامی کمیٹیوں نے بدھ کے روز انتظامات کو حتمی شکل دیدی ہے۔ کبڈی پنجاب کا مقبول اور روایتی کھیل ہے جس کو فروغ دینے کے لئے سپورٹس بورڈ پنجاب نے سہہ ملکی انٹر نیشنل کبڈی ٹاکرا کا اہتمام کیا ہے، انٹر نیشنل کبڈی ٹاکرا سے ہمارے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور کھلاڑیوں کے اعتماد میںبھی اضافہ ہوگا۔
انٹر نیشنل کبڈی ٹاکرا میں بھارت، ایران اور پاکستان کے کبڈی کے بہترین کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں جن کے تجربے سے ہمارے کھلاڑی استفادہ کریں گے اور ان کے کھیل میں بہتری آئے گی۔
محمد صلاح مسلسل دوسری بار افریقہ کے بہترین فٹبالر قرار
سینیگال(اے این این) مصر کے اسٹار اسٹرائیکر محمد صلاح نے مسلسل دوسری بار افریقا کے بہترین فٹ بالر کااعزاز حاصل کرلیا، سینیگال میں ہونےوالی تقریب میں انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ محمد صلاح نے اپنے کلب لیورپول کو چیمپئنزلیگ کے فائنل میں پہنچنے میں مدد دی۔
، پریمئر لیگ کے اِس سیزن میں وہ اب تک 13 گول کر چکے ہیں۔ٹیکنیکل ڈائریکٹرز اور کنفیڈریشن آف افریقن فٹ بال میں شامل 56 ٹیموں کے ہیڈ کوچز نے ووٹنگ میں حصہ لیا اور محمد صلاح کو افریقا کا بہترین فٹ بالر قرار دیا۔ان کا مقابلہ اس سال بھی لیورپول کے ہی سانڈیو مانی اور آرسینل کے پائیری ایمی رک سے تھا۔
بلاول عمران خان کے متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آئینگے: کنوردلشاد ، نوازشریف کےخلاف احتساب ججوں نے جامع فیصلے کئے، اگر کوئی قانونی سقم ہوا تو وکیل فائدہ اٹھائیںگے: احمد رضا ، طالبان کابل حکومت سے بات نہیں کرنا چاہتے:رحیم اللہ یوسفزئی، عوام سے روزگار چھینا جارہاہے: چوہدری منظورکی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام ”لائیو ایٹ 7“ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ شریف خاندان کیخلاف س طرح احتساب کورٹس سے فیصلے آرہے ہیں اعلیٰ عدلیہ میں سماعت جاری ہے نظر آرہاہے کہ اس کی سیاست کا سورج غروب ہوچکا ہے، شریف خاندان اب پارٹی بچانے کیلئے عدالتوں میں جارہاہے، شہبازشریف کیخلاف بھی ریفرنسز کررہے ہیں، انکا مستقبل بھی تاریک ہے، سپریم کورٹ سے بلاول کو معصوم قرار دیا جانا اہم ہے، پنجاب میں پی پی بلاول کی قیادت میں مضبوط ہورہی ہے، بلاول عمران خان کے متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آئینگے، آئندہ سیاست میں انکا کردار بڑا اہم ہوگا، سیاسی رہنما اور قانون دان احمد رضا قصوری نے کہا کہ نوازشریف کیخلاف احتساب ججز نے بڑے جامع فیصلے لکھے ہیں ، اگر ان فیصلوں میں کوئی قانونی سقم رہ گیا تو اس سے نواز کے وکیل ضرور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرینگے، 2019کا سال سیاست میں فیصلہ کن ہوگا، پیپلزپارٹی کے سینئر راہنما چوہدری منظور نے کہا کہ حکومت محض شور مچا کر کام چلانے کی کوشش کررہی ہے، عوام کو روزگار دینے کی بجائے چھینا جارہاہے، غریب کا جینا محال کردیاگیاہے، دوسرا منی بجٹ لارہے ہیں جس میں مزید ٹیکس لگائے جائینگے، عمران خان نے تبدیلی لانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ اب قوم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے ، سیاست میں شائستگی ختم ہوگئی، دفاعی تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا کہ طالبان افغان حکومت سے بات کرنے کو تیار نہیں، ان کا صر ف یہ تقاضا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج واپس جائیں، امریکہ طالبان مذاکرات میں تعطل آیا ہے تاہم بات چیت ختم نہیں ہوئی، ممکن ہے مذاکرات پر شروع ہو جائیں ، جنگ بندی کافی الحال کوئی فیصلہ نہیںہوا اس لئے جنگ وہاں جاری رہیگی، افغان حکومت میں بھی اختلاف نظر آتا ہے ، گلبدین حکمت یار کا موجودہ حالات میں کوئی کردار نہیں ہے۔
گیس پائپ لائن دھماکہ تخریب کاری ہوسکتی ہے ”را“ پاکستان میں مذموم کارروائیاں کرتی رہتی ہے: میاں افضل ، بھارتی فلموں، ڈراموں پر پابندی کے حق میں ہوں کیونکہ ان میں عورت کا کردار منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے: مریم ارشد ، نوجوان نسل اس وقت روسی اور اٹالین فلمیں دیکھ رہی ہے اسے بھارتی فلمیں خراب نہیں کرسکتیں:امجد منہاس ، وفاق کا صوبوں کے فنڈز روکنا غلط اس سے فیڈریشن کمزور ہوتی ہے: افضال ریحان ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار امجد منہاس نے کہا ہے کہ ہمیں بھارتی میڈیاکی یلغار سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ نوجوان نسل اس وقت روسی، اٹالین ودیگر ممالک کی فلمیں دیکھ رہی ہے اسے بھارتی فلم خراب نہیں کرسکتی بدقسمتی سے جب بھارت نے اپنی فلم انڈسٹری کو فنڈز دیکر مضبوط بنادیا تھا تو قرارداد مقاصد پیش کرکے فنون لطیفہ کیخلاف فضا بنائی جارہی تھی جس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ فلم انڈسٹری ختم ہوگئی گیس پائپ لائن دھماکے کی تحقیقات کرنا ہوگی ہمیں صوبوں کو مضبوط بنانے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ 18ویں ترمیم متفقہ تھی اسے ختم کرنا وفاق کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا پی آئی اے افسران کا پروٹوکول ختم کرنا اچھا اقدام ہے افغان جنگ میں کردار ادا کرنے والے تمام ممالک کو اب امن کی جانب بڑھنا ہوگا۔ تجزیہ کار مریم ارشد نے کہا کہ بھارتی فلموں اور ڈراموں پر پابندی کے حق میں ہوں اس لئے کہ ان میں آرٹ کا کردار منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے ماضی میں ہمارے یہاں بہترین ڈرامے بنتے رہے اب ڈرامے میں بھی بھارت کی نقل کی جاتی ہے۔ گیس پائپ لائن دھماکہ عام حادثہ نہیں لگتا یہ لائن بلوچستان سے آرہی ہے صوبائیت کو ہوا دینے کی بات بھی ہوسکتی ہے حکومت کو تعلیم اور صحت پر زیادہ فوکس کرنا چاہیے۔ سابق حکومتوں کی کارستانیاں ہیں کہ جعلی ڈگری والے جہاز اڑا رہے ہیں۔ افغان امن مذاکرات کامیاب ہونے چاہیئں۔ سینئر صحافی میاں افضل نے کہا کہ بھارتی فلم اور ڈرامے پر پابندی کیا معنی رکھتی ہے جب ہر بچے کے پاس موبائل فون اور کمپیوٹر موجود ہے۔ نوجوان نسل پر پابندی لگانے کی نہیں بلکہ تربیت کی ضرورت ہے گیس پائپ لائن دھماکہ تخریب کاری ہوسکتی ہے بھارتی ایجنسی ”را“ پاکستان میں مذموم کارروائیاں کرتی ہے این ایف سی ایوارڈ کے مطابق صوبوں کو پیسے دینے چاہیئں یہ ان کا استحقاق ہے۔ نجی تعلیمی ادارے مافیا بن چکے ہیں جن کی جڑیں کاٹنا ضروری ہے پنجاب میں شعبہ تعلیم کی صورتحال یہ ہے کہ اس وقت 48ہزار آسامیاں خالی ہیں پی آئی اے کو سابق حکومتوں نے برباد کردیا۔ پاکستان کا امن افغانستان سے جڑا ہے امن مذاکرات کامیاب ہونے چاہیئں۔ کالم نگار افضال ریحان نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا بھارتی میڈیا پر پابندی لگانے سے واقعہ ہمارے بچے ان کی فلمیں ڈرامے نہیں دیکھ سکیں گے آج کے گلوبل ورلڈ میں شاید ایسا ممکن نہیں ہے وفاق کو صوبوں کے فنڈز بالکل نہیں روکنے چاہیئں۔ اس سے فیڈریشن کمزور ہوتی ہے ملک میں تعلیمی نظام ایک ہونا چاہیے پھر یہی مضبوط قوم ابھر سکتی ہے افغان مفاہمتی عمل بہت اہم ہے امریکہ طالبان مذاکرات جاری رہنے چاہیئں۔ طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ افغانستان میں جمہوری اقدار لانے سے ہی امن آسکتا ہے۔
سزا کی مدت پوری، احمد شہزاد گریڈ ٹو کرکٹ کھیلنے کیلئے تیار
لاہور( آن لائن ) پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کی مدت ختم ہونے کے بعد پاکستانی کرکٹر احمد شہزاد پہلا میچ کھیلنے کے لیے فیصل آباد روانہ ہو گئے ہیں۔احمد شہزاد ڈوپ ٹیسٹ کی سزا ختم ہونے کے بعد گریڈ ٹو کرکٹ میں حصہ لیں گے، سابق اوپنر بلے باز 11 جنوری کو شروع ہونے والے گریڈ ٹو کرکٹ ٹورنامنٹ میں فیصل آباد ریجن ٹیم کا حصہ ہوں گے۔
اپنے ٹویٹر پیغام میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے احمد شہزاد نے لکھا کہ دوبارہ کرکٹ کھیلنے کیلئے پرجوش ہوں، جیسا کہ پہلی بار اپنے ریجن سے کرکٹ کھیلا تھا۔اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا کہ مجھے ڈومیسٹک کرکٹ نے ہی پہچان دی۔واضح رہے کہ گزشتہ سال پی سی بی نے احمد شہزاد پر فیصل آباد میں منقعدہ پاکستان کپ کے دوران ڈوپ ٹیسٹ رپورٹ مثبت آنے پر چار ماہ کی پابندی عائد کی گئی تھی جو 10 نومبر 2018 کو پوری ہونا تھی۔پابندی کے باوجود سوئی سدرن گیس کی جانب سے میچز کھیلے جس پر انہیں پی سی بی کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔احمد شہزاد کی جانب سے شوکاز نوٹس کے جواب میں موقف اختیار کیا گیا کہ وہ اپنی کرکٹ سے متعلق سرگرمیوں کو جاری رکھنا چاہتے تھے۔ پی سی بی نے کرکٹر کا جواب ناکافی سمجھتے ہوئے ان پر مزید چھ ہفتوں کی پابندی لگا دی تھی۔#/s#
امام الحق اپنی ناقص پرفارمنس پر جواز تراشنے لگے
جوہانسبرگ( آن لائن ) قومی ٹیم کے اوپنر امام الحق نے جنو بی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اپنی ناکامی کا ملبہ ”پچ“ پر ڈال دیا۔ سیریز ہارنے کے باوجود ٹیم کا مورال بلند ہے اور جوہانسبرگ ٹیسٹ میں بہترین پرفارمنس دینے کی کوشش کریں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 23سالہ امام الحق کاکہنا تھا کہ اوپنرزکوہمیشہ جنوبی افریقہ میں مسئلہ ہوتا ہے، باﺅنسرزکامسئلہ حل کرلیا ہے تاہم اب آف سٹمپ پردشواری کا سامنا کررہا ہوں۔ان کا مزیدکہنا تھا کہ کوئی بھی کھلاڑی یہاں خوفزدہ ہوکر نہیں کھیل رہاہے ،ہم اس ٹورکے لیے 2 ماہ سے بہت محنت کررہے تھے، ہماری ٹیم دونوں میچوں کی دوسری اننگزمیں اچھا کھیلی ہے۔تیسرے ٹیسٹ کی پچ کے حوالے سے امام الحق کا کہنا تھا کہ وکٹ کودیکھا ہے ،تیسرے ٹیسٹ کی پچ اچھی لگ رہی ہے،آخری ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے بھرپورمحنت کریں گے۔یاد رہے کہ قومی ٹیم کے اوپننگ بلے باز امام الحق ٹیسٹ کرکٹ میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہونے لگے ہیں۔ چیف سلیکٹر انضمام الحق کے 23سالہ بھتیجے نے آئر لینڈ کے خلاف اپنے ٹیسٹ ڈیبیو پر دوسری اننگز میں 74رنز کی عمد ہ اننگز کھیلی تھی اور آسٹریلیا کے خلاف دبئی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بھی76رنز سکور کیے تھے تاہم اس کے بعد سے ان کی بیٹنگ فارم کو گرہن لگ گیا ہے ،نوجوان اوپنر نے اپنی آخری 9ٹیسٹ اننگز میں8،6،0،57،9،22،9،6اور27 رنز سمیت 16کی اوسط سے 144رنز سکور کیے ہیں۔
آسٹریلیا میں پاکستان سمیت 10 ممالک کے قونصل خانوں کو مشتبہ پیکٹ موصول
ملبورن / کینبرا(ویب ڈیسک) آسٹریلیا میں پاکستان اور امریکا سمیت 10 ممالک کے سفارت اور قونصل خانوں کو مشتبہ پیکٹس موصول ہوئے ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کے شہروں ملبورن اور کینبرا میں واقع 10 ممالک کے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو کیمیکل سے بھرے مشتبہ پیکٹس موصول ہوئے ہیں۔مقامی میڈیا کے مطابق جن ممالک کے سفارتی دفاتر کو مشتبہ پیکٹس بھیجے گئے ہیں ان میں پاکستان، بھارت، امریکا، جاپان، اٹلی، اسپین، ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ، تھائی لینڈ اور مصر شامل ہیں۔آسٹریلوی پولیس نے مشتبہ پیکٹس ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا لیکن ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے گئے تاہم امریکا اور برطانیہ کے سفارت خانوں اور قونصل خانوں نے ایک ایک مشتبہ پیکٹ موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔دوسری جانب آسٹریلیا کے کیمیکل ہینڈلنگ کی اسپیشل ٹیم نے پیکٹ میں ’اسبیٹوس‘ نامی کیمیکل کی موجودگی کی تصدیق کی ہے جو کہ تعمیرات میں استعمال ہوتا ہے اور کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ادھر آسٹریلیا میں پاکستانی سفارت خانے نے تمام عملے کے محفوظ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آسٹریلوی تحقیقاتی ٹیم کو پاکستانی قونصل خانے سے ملنے والے مشتبہ پیکٹ میں موجود کیمیکل اسبیٹوس کے زہریلے ہونے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔آسٹریلوی دفترخارجہ نے مشتبہ پیکٹ ملنے کے بعد تمام ممالک کے سفارتی مشن کو ایڈوائزری جاری کردی ہیں جب کہ سفارت اور قونصل خانوں میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
بھارتی فوج کی ایل او سی پر فائرنگ سے خاتون شہید
راولپنڈی(ویب ڈیسک) بھارتی فوج کی ایل او سی پر شاہ کوٹ سیکٹر میں فائرنگ سے ایک خاتون شہید ہو گئی۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کی غیر پیشہ وارانہ سرگرمیاں جاری ہیں، مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے ساتھ بھارتی فوج ایل او سی پر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے تازہ واقعے میں بھارتی فوج نے شاہ کوٹ سیکٹر میں سولین آبادی کو ہدف بناتے ہوئے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک خاتون شہید اور ایک زخمی ہوگئی۔واضح رہے کہ ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیز کارروائیاں گزشتہ سال کی طرح امسال بھی جاری ہیں، جنگی جنون میں مبتلا بھارتی فوج نے نئے سال کے آغاز پر بھی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہری آبادی کونشانہ بنایا تھا۔


















