ملک میں کھیلوں کی ترقی کےلئے بنیادی ڈھانچے کا ہونا بہت ضروری، جان شیر

اسلام آباد (اے پی پی) سکواش کے سابق عالمی چیمپئن جان شیر خان نے کہا ہے کہ ملک میں کھیلوں کی ترقی کےلئے بنیادی ڈھانچے کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ”اے پی پی“ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کھیل کا بنیادی ڈھانچہ نہ بنایا گیا ہو تو ملک میں کھیل کیسے ترقی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں کھیلوں کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جس کو بروئے کا لانے کےلئے حکومت ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے ۔

اور تمام کام چیک اینڈ بیلنس کی بنیاد پر ہونے چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں جان شیر خان نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان خود ایک سپورٹس مین رہ چکے ہیں اور ان کی قیادت میں پاکستان کرکٹ میں عالمی چیمپئن بنا۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر کھیلوں کی ترقی کےلئے اقدامات کروائیں۔ انہون نے کہاکہ ہمارے دور میں سہولیات بھی موجود نہیں تھیں لیکن پھر بھی میں نے دس سال تک سکواش کے میدان میں دنیا پر حکمرانی کی تھی حکمرانی کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ہمارے اندر ایک ملک کےلئے جذبہ تھا۔ ایسا مقام حاصل کرنے کےلئے جذبے اور سخت محنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، میرے نزدیک انٹرنیٹ نے ہماری نوجوان نسل کا ماحول کافی حد تک خراب کردیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں کھیلوں کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

مانی نے سربراہ کرکٹ کمیٹی کو طلب کر لیا

لاہور(سپورٹس رپورٹر) پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کے چیئرمین احسان مانی نے کرکٹ کمیٹی کے سربراہ محسن خان کوآج لاہور طلب کرلیا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی اور کرکٹ کمیٹی کے سربراہ محسن خان کے درمیان آج لاہور میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان ٹیم کی دورہ جنوبی افریقا میں کارکردگی،ڈومیسٹک کرکٹ اور دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔واضح رہے کہ قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی کے سبب ان دنوں بورڈ پر خاصا دبا ہے،البتہ فوری طور پر کسی بڑے فیصلے کا امکان نہیں ہے، محسن خان نے تصدیق کی کہ آج چیئرمین بورڈ سے ملاقات ہو گی البتہ یہ بتانے سے گریز کیا کہ اس دوران کیا بات ہونی ہے۔ قومی ٹیم کی ناقص پرفارمنس کے پیش نظر کوچ مکی آرتھر کا مستقبل اور سرفراز احمد کی ٹیسٹ میں کپتانی ایجنڈے میں شامل ہے۔ایجنڈے میں دو اہم چیزیں شامل ہیں۔ مکی آرتھر کی کوچنگ اور سرفراز احمد کی ٹیسٹ میں کپتانی پر بات ہو گی۔چیئرمین کرکٹ کمیٹی محسن حسن خان موجودہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی انداز کوچنگ سے متاثر نہیں اور ذرائع کے مطابق وہ چیئرمین پی سی بی احسان مانی سے ملاقات میں اپنی رائے سے آگاہ کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ محسن حسن خان، سرفراز احمد کی ٹیسٹ کپتانی سے بھی مطمئن نہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ ٹیسٹ کی کپتانی سے سرفراز احمد کی ون ڈے میں بلے بازی متاثر ہوئی۔ قومی کپتان کو صرف ون ڈے اور ٹی ٹونٹی تک محدود رکھا جائے۔بڑی سیریز میں قومی ٹیم کی بڑی ناکامی پر پاکستان کرکٹ کے بڑے سر جوڑیں گے تو کیا بڑی ممکنہ خبر آتی ہے، کھیلوں کے حلقوں میں ابھی سے بڑی ہلچل مچ گئی ہے۔

گرین شر ٹس کے پاس ساکھ بچانےکا آخری موقع

جوہانسبرگ ( نیوز ا یجنسیا ں ) پاکستان اور جنوبی افریقا کیخلاف تیسرااور آخری ٹیسٹ میچ آج سے جوہانسبرگ میں کھیلا جائےگا۔میچ پاکستانی وقت دوپہر1بجے شروع ہوگا،میچ کے سلسلے میں قومی ٹیم نے حکمت عملی تیار کرلی ہے،پاکستان ٹیم میں 5باﺅلرز اور 6بیٹسمینوں کی شمولیت کا امکان ہے۔ جنوبی افریقی کپتان فاف ڈوپلیسی کی جگہ ڈین ایلگر ٹیم کی قیادت کریں گے۔پاکستانی ٹیم 4 فاسٹ بولر اور ایک اسپنر کے ساتھ حملہ آور ہونے کی تیاری کررہی ہے۔ ابتدائی دونوں ٹیسٹ ہارنے کے بعد وائٹ واش سے بچنے کیلئے پاکستانی ٹیم پانچ بولروں کے ساتھ میدان میں اترے گی اور ٹیم انتظامیہ جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے طویل عرصے بعد پانچ بولروں اور چھ اسپیشلسٹ بلے بازوں کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔پاکستان کا 4 فاسٹ بولروں کا اسکواڈ محمد عامر، محمد عباس،فہیم اشرف اور حسن علی پر مشتمل ہوگا۔ پاکستانی ٹیم میں 4 فاسٹ بولر اور ایک اسپنر شاداب خان ہوں گے جب کہ طویل قامت فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی ان فٹ ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ میچ میں شرکت نہیں کریں گے اور فہیم اشرف کو ان کی جگہ موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پاکستان کی اننگز کا آغاز امام الحق کے ساتھ شان مسعود کریں گے جب کہ مڈل آرڈر بیٹنگ میں اظہر علی، اسد شفیق، بابر اعظم اور سرفراز احمد ہوں گے۔سندرم روی اور جو ولسن امپائر جبکہ بروس آکسن فورڈ ٹی وی امپائر اور ڈیوڈ بون میچ ریفری ہوں گے۔پاکستانی ٹیم نے آج تک وانڈررز میں کوئی ٹیسٹ میچ نہیں جیتا ہے۔ 1998 میں چوتھا دن بارش کی نذر ہونے سے پاکستان نے یہاں ایک ٹیسٹ ڈرا کیا تھا۔ پاکستانی بیٹنگ جنوبی افریقا کے پیس اٹیک کےخلاف مشکلا ت سے دوچار رہی ہے۔واضح رہے کہ پہلے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو6وکٹوں سے شکست دی اوردوسرے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو9وکٹوں سے شکست دی۔رپورٹ کے مطابق پاکستان اورجنوبی افریقہ کی ٹیموںکے مابین مجموعی طورپر1995 سے اب تک 25ٹیسٹ میچ کھیلے گئے جن میںسے4میچ پاکستان نے جیتے اور 14میںجنوبی افریقہ نے کامیابی حاصل کی جبکہ7میچ غیرفیصلہ کن رہے۔

پاکستان کی کامیابی کاتناسب16فیصداورجنوبی افریقہ کی کامیابی کا تناسب 52فیصداوردونوںٹیموںکے مابین میچ ڈراہونے کا تناسب28فیصدہے ۔دوسری جانب پابندی کا شکار جنوبی افریقی کپتان فاف ڈوپلیسی کی جگہ ڈین ایلگر ٹیم کی قیادت کریں گے۔

مصباح ،احمد شہزاد قائد اعظم ٹرافی گریڈ ٹو میں کھیلیں گے

لاہور(سپورٹس رپورٹر) مصباح الحق اور احمد شہزاد پی سی بی ڈومیسٹک کرکٹ قاد اعظم ٹرافی گریڈ ٹو میں کھیلیں گے۔ دونوں کھلاڑی فیصل آباد ریجن کی نمائندگی کریں گے ۔پی سی بی ایونٹ آج سے شروع ہو رہا ہے ۔میگاایونٹ میں ٹیموںکو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم اگلے سیزن میں گریڈ ون کرکٹ کھیلے گی۔پابندی کے بعد احمد شہزاد پہلی مرتبہ ایکشن میں دکھای دیں گے۔سابق کپتان مصباح الحقنے کہا ہے کہ میرا مقصد فیصل آباد کو دوبارہ گریڈ ون کے لئے کوالیفائی کرانا ہے۔ احمد شہزاد نے کہا کہ میرے لئے کرکٹ سے دور رہ کر گزشتہ چند ماہ بہت مشکل تھے۔فیصل آباد سے کھیل کر اپنی فارم دوبارہ حاصل کروں گا۔

نامور موسیقار بخشی وزیر کی 22ویں برسی آج منائی جائیگی

لاہور(شوبز ڈیسک)ماضی کے نامور موسیقار بخشی وزیر کی 22ویں برسی آج منائی جائےگی ۔بخشی وزیر کاشمار پاکستان فلم انڈسٹری کے مقبول موسیقاروں میں ہوتا ہے ‘جنہوں نے اپنے کریئر کا آغاز بطور کلاسیکل گلوکار کیا۔ انہوں نے فلم” ات خد ا دا ویر،ظلم دا بدلہ ، بنارسی ٹھگ ،شرابی ،جٹ دا کول‘ملے گاظلم دا بدلہ اور شہنائی سمیت 250 کے قریب فلموں کا میوزک ترتیب دیا۔ انکا معروف گیت ” جدو ں ہولی جئی لینا میرا ناں“بھی ہے۔

اورمتعد د دیگر شامل ہیں۔انہوں نے فلموں کے علاوہ برسوں تک پی ٹی وی کیلئے بھی اپنی خدمات پیش کیں اور متعدد گلوکاروں کو فلموں اور ٹی وی پر متعارف کرایا ۔جن میں غلام علی ، مسعودرانا ،تصور خانم ،شازیہ منظور اور دیگر شامل ہیں۔ موسیقار بخشی وزیر 11جنوری 1997 کو انتقال کر گئے تھے ۔

سمیع خان اور شامین کی نئے سال کی پہلی فلم ”گم“ آج ریلیز ہو گی

لاہور(شوبزڈیسک)نئے سال کی پہلی پاکستانی فلم آج سنیماﺅں کی زینت بنے گی۔ڈسٹری بیوشن کلب کی پیش کردہ فلم میں اداکار سمیع خان اور شمعون عباسی نے مرکزی کردار ادا کئے ہیں ۔سال رواں پاکستانی فلمی صنعت کی پہلی پیشکش ایکشن تھرلر فلم گم آج لاہور ، کراچی اور اسلام آباد سمیت سرکٹ کے تمام سنیماں میں نمائش کیلئے پیش کی جائے گی ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ گم اس سے قبل برطانیہ ، کینیڈا، امریکہ ، سپین اور بھارت سمیت کئی ممالک کے فلم فیسٹیولز میں سکریننگ کیلئے پیش کی گئی جہاں اس نے بیسٹ سکرین پلے، ایکٹر ، ڈائریکٹر اور ایڈیٹنگ کے شعبوں میں سات ایوارڈز بھی حاصل کئے ہیں ۔ ڈائریکٹر عمار لاثانی اور کنزہ ضیا کی ڈائریکشن میں بنی اس فلم میں ٹی وی کی معروف فنکارہ شامین خان نے فلم میں ہیروئن کا کردار نبھایا ہے ۔ ڈسٹر ی بیوشن کلب کے زیر اہتمام فلم کو رواں ہفتے سنسر شوکیلئے پیش کیا گیا۔
جسے اراکین نے بغیر اعتراض کے عام نمائش کا سرٹیفیکیٹ جاری کردیا ۔ فلم کی کہانی ایک والد اور خطرناک مجرم کے ٹکرا ﺅکے گرد گھومتی ہے۔

جو مختلف حادثات کی بدولت ایک دوسرے کے آمنے سامنے آجاتے ہیں اور پھر یہی سے کہانی میں سسپنس اور ڈرامے کے راز افشاں ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔

ہریتک روشن نے زندگی کی 45 بہاریں دیکھ لیں

ممبئی (شوبز ڈیسک ) بالی وڈ اداکار ہریتک روشن نے زندگی کی 45بہاریں دیکھ لیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اداکار ہریتک روشن 10 جنوری 1974 میں ممبئی میں پیدا ہوئے‘ انہوں نے 80کی دہائی میں بطور چائلڈ آرٹسٹ فلمی دنیا میں قدم رکھا جبکہ انہوں نے اپنے والد اور فلم ساز راکیش روشن کی 4فلموں کوئلہ، کنگ انکل، کرن ارجن اور خود غرض کے لئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے فرائض بھی انجام دیئے لیکن انہوں نے 2000 میں اپنے والد کی فلم کہو نہ پیار ہے میں مرکزی کردار سے اپنی اداکاری صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔
جس کے بعد انہوں نے متعدد کامیاب فلمیں دیں جن میں کبھی خوش کبھی غم، سائنس فکشن فلم کوئی مل گیا، کرش، کرش 3 ، دھوم 2، جودھا اکبر، اگنی پتھ، زندگی نہ ملے گی دوبارہ اور دیگر شامل ہیں جبکہ انہیں فلموں میں بہترین اداکاری پر متعدد ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

دیپکاپڈکون 2018ءکی سٹائلش دلہن قرار‘پریانکا کا دوسرا نمبر

ممبئی (شوبزڈیسک) بالی ووڈ کی اداکارہ دیپکانے 2018کی سب سے زیادہ سٹائلش دلہن کا اعزازاپنے نام کرلیا۔ ٹائمز آف انڈیا فیشن اینڈ بیوٹی نے ٹوئٹرپرسال 2018 کی سٹائلش دلہن کے حوالے سے پول کرایا جس میں اداکارہ دیپکا پڈکون کو سب سے زیادہ 55 فیصد ووٹ ملے اور وہ 2018 کی موسٹ سٹائلش دلہن قرار پائیں،دیپکا کے بعد اداکارہ پریانکا چوپڑا کودوسرے نمبر پر سب سے زیادہ 18 فیصد ووٹ ملے، تیسرے نمبر پر 16 فیصد ووٹوں کے ساتھ ایشا امبانی رہیں جب کہ چوتھے نمبر پر اداکارہ سونم کپور کو 11 فیصد ووٹ ملے۔ واضح رہے گزشتہ برس بالی ووڈ کی ناموراداکارائیں شادی کے بندھن میں بندھیں۔

جن میں اداکارہ دپیکا پڈوکون، پریانکا چوپڑا، سونم کپور، نیہا دھوپیا اوربھارت کے امیر ترین بزنس مین مکیش امبانی کی بیٹی ایشا امبانی شامل ہیں۔

احتساب بلا امتیاز ہو تو کوئی چیخیں نہیں مارے گا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں تبصروں پر مشتمل پروگرام ” کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی علامہ صدیق اظہر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہئے کہ حکومت اس کے احکامات پر عملدرآمد کیوں نہیں کررہی، حکومت اگر خود ریاستی اداروں کیساتھ ٹکراو¿ کی پالیسی اختیار کریگی تو اپنا نقصان ریگی، پاکستان میں لوٹ مار صرف سیاستدانوں نے نہیں کی ہر شخص نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں، احتساب اگر بلا امتیاز ہوگا تو کوئی چیخیں نہیں مارے گا، عوام بھی ساتھ کھڑی ہوگی، تاہم ایسا نظر نہیں آرہا، حقیقت ہے کہ بلوچستان میں اور ساحلی علاقوں میں تیل اور گیس کے بڑے بڑے ذخائر موجود ہیں، تاہم ایسی قوتیں یہاں موجود ہیں جو انہیں نکالنے نہیں دیتیں اور یہی وہ مافیا ہیں جنہوں نے ملک کو درآمدی منڈی بنا رکھا ہے، امریکہ نے پاکستان اور افغانستان کو باہر نکال کر طالبان سے براہ راست بات شروع کردی ہے، پاک و افغان حکومت صورتحال سے مطمئن نہیں، امریکہ کا یہی رویہ رہا ہے، افغان جنگ کے بعد روس وہاں سے نکل گیا تو امریکہ وہاں ترقیاتی کام کرانے کے بجائے فرار کا راستہ لیا اور افغان قوم کو خانہ جنگی میں دھکیل دیا تھا، سینئر تجزیہ کار امجد سلیم نے کہا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے بجائے تاخیری حربے استعمال کرنا افسوسناک ہے، ریاست کے اہم ستون کے ساتھ کھلواڑ ہورہا ہے، نیب کیخلاف سیاستدانوں سے زیادہ سپریم کورٹ آواز اٹھا رہی ہے کہ قانون کے مطابق چلے، کون سی طاقت ہے جو نیب کو آزادانہ کام سے روک رہی ہے ، تحریک انصاف کے خفیہ اکاو¿نٹس کا ایشو نیا نہیں ہے، یہ 6سال سے چل رہا ہے، افغان حکام کی جانب سے پاکستان کے حوالے مثبت پیغام اچھی پیشرفت ہے، پاکستان کو اب طالبان کو سٹریٹجک اثاثہ قرار دینے سے جان چھڑا لینی چاہئے، دنیا میں وہی ملک طاقتور اور خوشحال ہوتے ہیں جہاں جمہوری اقدار پروان چڑھتے اور انسانی حقوق کا خیال رکھا جائے، سینئر صحافی میاں افضل نے کہا کہ حکومت 20افراد کے نام ای سی ایل سے نہیں نکالے گی، نیب نے کسی کیس کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا، احد چیمہ اور فواد حسن فواد کو پکڑا تو بڑا شور مچا تھا وہ سب کہاں گئے، لگتا یہی ہے کہ احتساب کے بجائے انتقام لیا جارہا ہے، احتساب بلا امتیاز ہونا چاہئے، اداروں کے سربراہوں کو میڈیا پر لوگوں کی پگڑیاں نہیں اچھالنی چاہئیں، تیل کی تلاش میں سمندر میں ڈرلنگ خوش آئند ہے، پاکستانی پاسپورٹ کی دو درجے بندی اچھی بات ہے تاہم ابھی لمبا سفر باقی ہے، امریکہ نے افغانستان کو آج تک صرف لالی پوپ ہی دیا ہے، سینئر تجزیہ کار ناصر اقبال خان نے کہا کہ حکومت کا فوکس صرف احتساب پر نظر آرہاہے تو باقی مسائل کس نے حل کرنے ہیں، دنیا میں ریاستی اداروں کو مضبوط کیا جاتا ہے یہاں نیب اختیارات واپس لینے کی بات ہو رہی ہے، اداروں کے درمیان رابطہ ہونا چاہئے تاکہ ان کے سربراہ میڈیا کے ذریعے بات چیت کریں، تیل کی تلاش میں ڈرلنگ خوش آئند ہے، خطے میں تبدیلیاں آرہی ہیں، افغانستان پاکستان کے قریب آرہا ہے جو بہتر ہے، پاکستانی پاسپورٹ کی 2درجے بندی مثبت خبر ہے، حکومت کو لاکھوں ایکڑ بے آباد زرعی زمین پر ایسی اجناس کاشت کرنی چاہیے جس کی دنیا میں مانگ ہو، پاکستان میں بڑے ذہین دماغ موجود ہیں جن کی بات سنی جائے تو بہتری آسکتی ہے۔

نوازشریف کی اپیل فی الحال نہیں سنی جارہی: وسیم سجاد منشیات کااستعمال بڑھ گیا: ماریہ سلطان، مافیا کا خاتمہ ضروری، عمران مسعود: نیوز ایٹ 7میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام ”لائیو ایٹ 7 “میں گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمرزمان کائرہ نے کہا ہے کہ مخدوم احمد محمود کا نواز سے تعلق پہلے کا ہے، پرانے مراسم ہیں ، ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں، پارٹی کا حالیہملاقات سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہی آصف زرداری نے ملاقات کیلئے بھیجا ہے، ن لیگ کے بھی اتحادی رہے ہیں، ملک کے حالات اور معیشت کی صورتحال دگرگوں ہے ، سیاسی رہنماو¿ں کی ملاقت میں ہر ایشوز مکس ہوتے ہیں، ملاقاتوں میں ضروری نہیں کہ حکومت گرانے کی ہی بات کی جائے، حکومت نے ای سی ایل میں نام منفی سیاست کھیلنے کیلئے ڈالے، اب سپریم کورٹ کے زبانی حکم پر نام نہیں نکال رہے بلکہ لکھا ہے ہوا حکم چاہتے ہیں، قانونی طور پر حکومت کی بات ٹھیک ہے ، تحریک انصاف کو الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں تو زرداری کیخلاف سپریم کورٹ میں جائے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، سابق چیئرمین سینٹ وسیم سجاد نے کہا کہ فی الحال پرویز مشرف کی اپیل نہیں سنی جارہی البتہ سزا معطلی کیلئے دی گئی درخواست سنی جائیگی، اگر عدالت کو کوئی سنگین خامی نظر آئی تو فیصلہ معطل کیا جاسکتا ہے ، نیب قوانین میں ترامیم کرنے کی ضرورت ہے، 90دن کا ریمانڈ بہت زیادہ ہے ، 30دن بہت ہیں، نیب کو ضمانت دینے کا اختیار بھی ہونا چاہئے، گرفتاری کا واضح قانون نہیں ، ابھی تک چیئرمین نیب کی صوابدید ہے، سپریم کورٹ نے جعلی اکاو¿نٹس کیس نیب کے پاس بھیجا ہے تو واضح ہوتا ہے کہ وہ جے آئی ٹی رپورٹ سے کلی طور پر مطمئن نہں ، حکومت کی 4ماہ کی کارکردگی خاص نہیں تاہم اسے ابھی وقت ملناچاہیے، چیئرمین پی اے سی صرف اجلاس بلاسکتا ہے فیصلہ پوری کمیٹی کرتی ہے، چوہدری نثار کا حلف نہ اٹھانے کا معاملہ غیر معمولی ہے، کسی بیھ رکن اسمبلی کو ایوان میں عوام کی نمائندگی کرنی چاہئے، اگر کوئی رکن اسمبلی 90دن مسلسل غیر حاضر رہے تو اسمبلی اس کیخلاف قرارداد لاسکتی ہے، دفاعی تجزیہ کار ماریہ سلطان نے کہا کہ 400بچوں پر مشتمل سروے کیا گیا تو سامنے آیا کہ ڈرگز کے استعمال میں 43سے 53فیصد تک اضافہ ہوا ہے، نوجوان نسل ایک بڑے خطرے سے دوچار ہے جس کا فوری تدارک کرنے کی ضرورت ہے، تعلیمی درسگاہوں میں بعض جگہوں پر طالبعلم ڈرگز سپلائی کرتے پائے گئے ، بعض پر انتظامیہ اور بعض جگہوں پر باہر سے سپلائی دیکھی گئی ، 2014میں سینٹ کمیٹی کے سامنے ڈرگز بارے بات اٹھائی ، شروع میں کریک ڈاو¿ن کیا گیا پھر خاموشی ہوگئی، حکومت کا سکولز میں 2فیصد ، جبکہ نجی سکولز میں 43فیصد تک ڈرگز کا استعمال ہورہاہے، 12سے 14سال کے بچوں میں 43فیصد جبکہ 14سے 18سال کے بچوں میں 53فیصد استعمال ہورہاہے، سارے گھناو¿نے کھیل میں سیاسی مافیا سے زیادہ منظم جرائم پیشہ گروہ ملوث ہیں، پاسکتان میں دہشتگردی کی جو نئی لہر آئی اس میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے 90فیصد خودکش حملہ آور افغانستان سے آتے ہیں، افغان حکومت کو امریکہ چلا رہاہے، جب امریکہ خود پرخلوص نہیں ہے اور اسے طاقت ور نہیں بناناچاہتا تو پھر مزاکرات برائے مزاکرات میں رہیں گے، عسکری طریقہ کار استعمال کرنے کے تحت حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے، افغانستان کا آئین بدلنا ہوگا تاہم اس میں بھی بڑے مسائل آئینگے، پاسکتان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے اقدامات اٹھا رہاہے، حیران کن بات ہے کہ پاسکتان پر بھی الزام تراشی کی جاتی ہے اور جب پاکستان سرحد پر سختی کرتا ہے تو تنقید کی جاتی ہے دوغلی پالیسی صرف دباو¿ ڈالنے کیلئے اختیار کی جاتی ہے، سابق وزیر تعلیم عمران سعید نے کہا کہ جن ادروں کی فیسوں کا معاملہ بحث طلب ہے عدالت نے اس حوالے سے ٹھیک فیصلہ کیا ہے ، بعض سکولز کی فیس تو کروڑوں اربوں میں چلی جاتی ہے ، یہ مافیا بن چکے ہیں، سب سے پہلے تو تعلیم کے معیار کو ہر جگہ ایک کرنا ہوگا۔

این آر او کی باتیں مایوس سیاستدان کرتے ہیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کہنہ مشق صحافی‘ معروف تجزیہ کار ضیاشاہد نے کہا ہے کہ این آر او کے سلسلے میں اپوزیشن خاص طور پر وہ لوگ جن کے قریبی عزیز رشتے دار یا جن کے بہت خاص الخاص لیڈر قانون کے شکنجے میں ہیں وہی باتیں کررہے ہیں۔ فوج نے کبھی دانستہ یا نادانستہ اس موضوع کو کبھی چھیڑا ہی نہیں اور آن ریکارڈ ہے کہ پاک فوج کے کسی ترجمان نے پاکستانی فوج کے سربراہ اس کا ذکر تک نہیں کیا۔ این آر او وہی کرسکتے ہیں جو قانون سے ماورا ہوں اور وہ تو صرف فوج ہی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ چیف جسٹس نے بھی کبھی این آر او کی بات نہیں کی اور عدالتوں میں سپئر کورٹس میں کبھی اس کی بات وہی مایوس سیاستدان کرتے ہیں جب ان سے کوئی چارہ کار بن نہیں پڑتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بڑا مشکل ہے این آر او ایک مرتبہ ہوا تھا اور اس این آر او کے تحت جنرل پرویزمشرف نے ایک خاص پیریڈ میں یعنی خاص فلاں تاریخ اور فلاں سن اور مہینہ تک تمام لوگوں کی سزائیں معاف کردی تھیں اور اس میں سیاستدانوں کے علاوہ غیر سیاسی لوگ بھی تھے۔ اس میں بیوروکریسی کے لوگ بھی تھے عام مجرمان بھی تھے۔ چنانچہ اس زمانے میں مسلم لیگ ن کے علاوہ سب سے زیادہ تعداد ایم کیو ایم کے لوگوں کی تھی اور اس کے علاوہ پیپلزپارٹی کے لوگ بھی شامل تھے لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ اب کوئی حالات نہیں رہے پھر سپریم کورٹ نے ایک کیس سنا تھا جس کے بارے این آر او بارے میں قرار دے دیا گیا تھا یہ بالکل غیر اصولی تھا اور خود پرویزمشرف نے بھی بار بار اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی لہٰذا جس پر خود کرنے والا یہ کہہ چکا ہو میں نے غلط کیا تھا وہ کس طرح سے ہوسکتا ہے کہ دوبارہ اس ملک میں ہوسکے گا۔ جو لوگوں کے دیکھتے دیکھتے سورج کی روشنی میں وہ کام پھر ہوجائے میں سمجھتا ہوں کہ نہ آج کل وہ حالات ہیں نہ اس قسم کا کوئی امریکن پریشر ہے۔ اس وقت بھی امریکہ کے دباﺅ پر ہوا تھا امریکہ نے خود اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ چنانچہ اس وقت امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈا ایزارائس نے ایک کتاب لکھی اور اس میں اس کا تفصیل سے تذکرہ کیا کہ کس طرح سے بینظیر بھٹو سے انہوں نے علیحدہ بات کی ،پرویز مشرف سے علیحدہ بات کی ، چنانچہ لوگوں کی نظر میں ، سب لوگوں کے سامنے تھا، پھر یہ جو واقعہ سعودی عرب اور نواز شریف صاحب کا پیش آیا تھا وہ بھی سب کے سامنے واقعہ ہواتھا ان کے سارے خاندان کے لوگوں کے لئے ایک جہاز آیا اور اس میں بیٹھ کر وہ چلے گئے، اس وقت شیخ رشید نے پارٹی چھوڑی تھی جب اس نے کہا تھا کہ ہم سے انہوں نے مشورہ ہی نہیں کیا اور ہم ان کی پارٹی میں تھے اور لوگوں مختلف سزائیں بھگت رہے تھے اور نوازشریف صاحب ان سے معاہدہ کرکے باہر چلے گئے، میں خود تسلیم کرتا ہوں کہ کوئی این آر او نہیں ہونے والا، نہ کوئی این آر او کرنے جارہاہے، اور نہ ہی آج کی فوج یا آج کی اعلیٰ عدالتی یا حکمران پارٹی یہی تین فریق ہوسکتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ چیئرمین نیب درست کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ عمران خان نے ہمیشہ یہ کہا کہ میں بھی کوئی غلطی کروں تو آپ سامنے لائیں اور مجھے پکڑ لیں، اس لحاظ سے یہ کوئی بے عزتی کی بات نہیں ہے ، اگر کوئی ادارہ وزیراعظم سے کہتا ہے کہ وزیر اعظم صاحب آپ فلاں بات کا جواب دیں تو ان کو دینے دیں جب عمران خان کو اعتراض نہیں ہے تو تیسرے بندے کو کوئی اعتراض کیوں ہوسکتا ہے ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جس کا 26نکاتی ایجنڈا بتایاگیا تھا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیاشاہد نے کہا کہ 171ناموں کے ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے 20ناموں کا اس ازسر نوجائزہ لینے کے حوالے سے معاملے کو مو¿خر اس لئے کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا متن چونکہ سامنے نہیں آیا، حکومت نے فیصلہ ٹھیک کیا ہے، دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ ہم اس فیصلے پر سپریم کورٹ سے ہی رجوع کریں گے کہ اس پر نظرثانی کی جائے۔بھارتی آرمی چیف بپن راوت کے اعتراف جرم پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ ساری دنیا میں جاسوسی کی ممانعت ہے جو ملک خود مان لے کہ ہاں جی ہم جاسوسی کرتے ہیں اس طرح سے پھر جو بلوچستان میں (را) کا ایجنٹ پکڑاگیا تھا کے بارے میں کہہ سکتا ہے کہ پتہ کروارہے تھے وہ کیا کررہے ہیں، جاسوسی جرم ہے اگر آپ کسی دوسرے ملک کا جاسوس پکڑیں تو اس پر مقدمہ بنتا ہے جس طرح سے وہ فوجی عدالت میں اس پر مقدمہ چل رہاہے ، اسی میز پر میں اس پروگرام میں حافظ سعید سے کم از کم دو مرتبہ یہ کہہ چکا ہوں کہ ہم نے شملہ معاہدہ کے تحت 1971ءکی جنگ کے بعد جب ہماری فوج کو ہتھیار ڈالنے پڑے معاہدہ شملہ میں بھٹو صاحب نے تسلیم کرلیا تھا کہ فوجیوں کی واپسی ، علاقے کی واپسی کا مسئلہ تھا، لہٰذا انہوں نے تسلیم کرلیا تھا کہ ہم بات چیت کرینگے لیکن بھارت تو مذاکرات کیلئے تیار ہی نہیں ہے، اب اتنے برس گزر گئے۔ زینب کیس ہر صاحب اولاد کو چیلنج کرتا ہے۔ زینب واقعہ کے بعد سپریم کورٹ میں پٹیشن کی کہ اب تک 48 مزید واقعات ہوچکے ہیں پھر ایک اور درخواست دی اور بتایا کہ بچوں سے درندگی کے 98 واقعات ہوچکے ہیں یہ درخواستیں دینے کا مقصد یہ تھا کہ بتایا جائے ایسے واقعات اور خوفناک رجحان میں کوئی کمی نہیں آئی۔ آج بھی ہر روز کوئی نہ کوئی خبر آتی ہے کہ فلاں علاقہ میں بچے یا بچی کے ساتھ درندگی کی گئی اور پھر قتل کردیا گیا۔ ایسے جرائم کے مرتکب افراد کو سرعام پھانسی دی جانی چاہئے پھر ہی ان پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف کے خرم زمان کے پاس آصف زرداری کیخلاف مزید مضبوط شواہد آئے ہیں تبھی انہوںنے اوپن کورٹ میں لیجانے کی بات کی ہے یہ یوٹرن نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کے بجائے معاملے کے اوپن عدالت میں لیجانا تو زیادہ جرا¿ت مندانہ اقدام ہے۔اپوزیشن اعتراف کررہی ہے کہ حکومت فوجی عدالتوں کے لئے بنائی گئی کمیٹی سے خود فواد چودھری کا نام نکال دے تاکہ اپوزیشن کو مخالفت کیلئے کوئی بہانہ نہ مل سکے۔ اپوزیشن کو اس معاملہ کو صرف اور صرف میرٹ پر دیکھنا چاہئے۔ شرائط نہیں رکھنی چاہئیں نہ ہی بہانہ بازی کرنی چاہئے۔ سپریم کورٹ فیس کمی کے فیصلہ پر خود عملدرآمد کرائے اور صرف اظہار برہمی کے بجائے سزا سنائے پھر ہی فیصلہ پر عملدرآمد ہوسکتا ہے۔

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کہنہ مشق صحافی‘ معروف تجزیہ کار ضیاشاہد نے کہا ہے کہ این آر او کے سلسلے میں اپوزیشن خاص طور پر وہ لوگ جن کے قریبی عزیز رشتے دار یا جن کے بہت خاص الخاص لیڈر قانون کے شکنجے میں ہیں وہی باتیں کررہے ہیں۔ فوج نے کبھی دانستہ یا نادانستہ اس موضوع کو کبھی چھیڑا ہی نہیں اور آن ریکارڈ ے کہ پاک فوج کے کسی ترجمان نے پاکستانی فوج کے سربراہ اس کا ذکر تک نہیں کیا۔ این آر او وہی کرسکتے ہیں جو قانون سے ماورا ہوں اور وہ تو صرف فوج ہی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ چیف جسٹس نے بھی کبھی این آر او کی بات نہیں کی اور عدالتوں میں سپئر کورٹس میں کبھی اس کی بات وہی مایوس سیاستدان کرتے ہیں جب ان سے کوئی چارہ کار بن نہیں پڑتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بڑا مشکل ہے این آر او ایک مرتبہ ہوا تھا اور اس این آر او کے تحت جنرل پرویزمشرف نے ایک خاص پیریڈ میں یعنی خاص فلاں تاریخ اور فلاں سن اور مہینہ تک تمام لوگوں کی سزائیں معاف کردی تھیں اور اس میں سیاستدانوں کے علاوہ غیر سیاسی لوگ بھی تھے۔ اس میں بیوروکریسی کے لوگ بھی تھے عام مجرمان بھی تھے۔ چنانچہ اس زمانے میں مسلم لیگ ن کے علاوہ سب سے زیادہ تعداد ایم کیو ایم کے لوگوں کی تھی اور اس کے علاوہ پیپلزپارٹی کے لوگ بھی شامل تھے لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ اب کوئی حالات نہیں رہے پھر سپریم کورٹ نے ایک کیس سنا تھا جس کے بارے این آر او بارے میں قرار دے دیا گیا تھا یہ بالکل غیر اصولی تھا اور خود پرویزمشرف نے بھی بار بار اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی لہٰذا جس پر خود کرنے والا یہ کہہ چکا ہو میں نے غلط کیا تھا وہ کس طرح سے ہوسکتا ہے کہ دوبارہ اس ملک میں ہوسکے گا۔ جو لوگوں کے دیکھتے دیکھتے سورج کی روشنی میں وہ کام پھر ہوجائے میں سمجھتا ہوں کہ نہ آج کل وہ حالات ہیں نہ اس قسم کا کوئی امریکن پریشر ہے۔ اس وقت بھی امریکہ کے دباﺅ پر ہوا تھا امریکہ نے خود اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ چنانچہ اس وقت امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈا ایزارائس نے ایک کتاب لکھی اور اس میں اس کا تفصیل سے تذکرہ کیا کہ کس طرح سے بینظیر بھٹو سے انہوں نے علیحدہ بات کی ،پرویز مشرف سے علیحدہ بات کی ، چنانچہ لوگوں کی نظر میں ، سب لوگوں کے سامنے تھا، پھر یہ جو واقعہ سعودی عرب اور نواز شریف صاحب کا پیش آیا تھا وہ بھی سب کے سامنے واقعہ ہواتھا ان کے سارے خاندان کے لوگوں کے لئے ایک جہاز آیا اور اس میں بیٹھ کر وہ چلے گئے، اس وقت شیخ رشید نے پارٹی چھوڑی تھی جب اس نے کہا تھا کہ ہم سے انہوں نے مشورہ ہی نہیں کیا اور ہم ان کی پارٹی میں تھے اور لوگوں مختلف سزائیں بھگت رہے تھے اور نوازشریف صاحب ان سے معاہدہ کرکے باہر چلے گئے، میں خود تسلیم کرتا ہوں کہ کوئی این آر او نہیں ہونے والا، نہ کوئی این آر او کرنے جارہاہے، اور نہ ہی آج کی فوج یا آج کی اعلیٰ عدالتی یا حکمران پارٹی یہی تین فریق ہوسکتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ چیئرمین نیب درست کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ عمران خان نے ہمیشہ یہ کہا کہ میں بھی کوئی غلطی کروں تو آپ سامنے لائیں اور مجھے پکڑ لیں، اس لحاظ سے یہ کوئی بے عزتی کی بات نہیں ہے ، اگر کوئی ادارہ وزیراعظم سے کہتا ہے کہ وزیر اعظم صاحب آپ فلاں بات کا جواب دیں تو ان کو دینے دیں جب عمران خان کو اعتراض نہیں ہے تو تیسرے بندے کو کوئی اعتراض کیوں ہوسکتا ہے ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جس کا 26نکاتی ایجنڈا بتایاگیا تھا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیاشاہد نے کہا کہ 171ناموں کے ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے 20ناموں کا اس ازسر نوجائزہ لینے کے حوالے سے معاملے کو مو¿خر اس لئے کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا متن چونکہ سامنے نہیں آیا، حکومت نے فیصلہ ٹھیک کیا ہے، دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ ہم اس فیصلے پر سپریم کورٹ سے ہی رجوع کریں گے کہ اس پر نظرثانی کی جائے۔بھارتی آرمی چیف بپن راوت کے اعتراف جرم پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ ساری دنیا میں جاسوسی کی ممانعت ہے جو ملک خود مان لے کہ ہاں جی ہم جاسوسی کرتے ہیں اس طرح سے پھر جو بلوچستان میں (را) کا ایجنٹ پکڑاگیا تھا کے بارے میں کہہ سکتا ہے کہ پتہ کروارہے تھے وہ کیا کررہے ہیں، جاسوسی جرم ہے اگر آپ کسی دوسرے ملک کا جاسوس پکڑیں تو اس پر مقدمہ بنتا ہے جس طرح سے وہ فوجی عدالت میں اس پر مقدمہ چل رہاہے ، اسی میز پر میں اس پروگرام میں حافظ سعید سے کم از کم دو مرتبہ یہ کہہ چکا ہوں کہ ہم نے شملہ معاہدہ کے تحت 1971ءکی جنگ کے بعد جب ہماری فوج کو ہتھیار ڈالنے پڑے معاہدہ شملہ میں بھٹو صاحب نے تسلیم کرلیا تھا کہ فوجیوں کی واپسی ، علاقے کی واپسی کا مسئلہ تھا، لہٰذا انہوں نے تسلیم کرلیا تھا کہ ہم بات چیت کرینگے لیکن بھارت تو مذاکرات کیلئے تیار ہی نہیں ہے، اب اتنے برس گزر گئے۔ زینب کیس ہر صاحب اولاد کو چیلنج کرتا ہے۔ زینب واقعہ کے بعد سپریم کورٹ میں پٹیشن کی کہ اب تک 48 مزید واقعات ہوچکے ہیں پھر ایک اور درخواست دی اور بتایا کہ بچوں سے درندگی کے 98 واقعات ہوچکے ہیں یہ درخواستیں دینے کا مقصد یہ تھا کہ بتایا جائے ایسے واقعات اور خوفناک رجحان میں کوئی کمی نہیں آئی۔ آج بھی ہر روز کوئی نہ کوئی خبر آتی ہے کہ فلاں علاقہ میں بچے یا بچی کے ساتھ درندگی کی گئی اور پھر قتل کردیا گیا۔ ایسے جرائم کے مرتکب افراد کو سرعام پھانسی دی جانی چاہئے پھر ہی ان پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف کے خرم زمان کے پاس آصف زرداری کیخلاف مزید مضبوط شواہد آئے ہیں تبھی انہوںنے اوپن کورٹ میں لیجانے کی بات کی ہے یہ یوٹرن نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کے بجائے معاملے کے اوپن عدالت میں لیجانا تو زیادہ جرا¿ت مندانہ اقدام ہے۔اپوزیشن اعتراف کررہی ہے کہ حکومت فوجی عدالتوں کے لئے بنائی گئی کمیٹی سے خود فواد چودھری کا نام نکال دے تاکہ اپوزیشن کو مخالفت کیلئے کوئی بہانہ نہ مل سکے۔ اپوزیشن کو اس معاملہ کو صرف اور صرف میرٹ پر دیکھنا چاہئے۔ شرائط نہیں رکھنی چاہئیں نہ ہی بہانہ بازی کرنی چاہئے۔ سپریم کورٹ فیس کمی کے فیصلہ پر خود عملدرآمد کرائے اور صرف اظہار برہمی کے بجائے سزا سنائے پھر ہی فیصلہ پر عملدرآمد ہوسکتا ہے۔

کیا مچھلی کو صرف ‘ر’ والے مہینوں میں کھانا چاہئے؟

لاہور(ویب ڈیسک) اگر آپ مچھلی کھانے کے شوقین ہیں تو ایسا ضرور سنا ہوگا کہ ایسے مہینے جن میں’ ر‘ نہ آتا ہو، ان میں اسے کھانے سے گریز کریں۔یعنی اس خیال کے مطابق مئی، جون، جولائی اور اگست کے مہینے میں مچھلی نہیں کھانی چاہئے جبکہ باقی مہینوں میں آپ آزاد ہیں، مگر اس کے پیچھے وجہ کیا ہے؟ویسے تو کہا جاتا ہے کہ ان 4 مہینوں میں مچھلی اس لیے نہیں کھانی چاہئے کیونکہ یہ افزائش نسل کے مہینے ہوتے ہیں۔مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مشورہ اب کا نہیں بلکہ 1599 کا ہے جو کہ ایک برطانوی مصنف ہنری بٹیس کی کک بگ ڈائٹس ڈرائی ڈنر میں سامنے آیا تھا مگر کچھ تاریخ دانوں کے مطابق قدیم لاطینی زبان میں بھی ایسی ہدایت ملتی ہیں۔مگر یہ مشورہ مچھلیوں کی بجائے درحقیقت جھینگوں کے بارے میں تھا۔یعنی مئی سے اگست تک جھینگوں اور شیل فش کو کھانے سے گریز کریں کیونکہ گرم موسم میں جھینگے مختلف وجوہات کی بناءپر نقصان دہ بلکہ زہریلے بھی ہوسکتے ہیں، جیسے ماضی میں فریج نہیں تھا تو یہ گرمی سے خراب ہوجاتے تھے۔دوسری وجہ یہ تھی کہ یہ مہینے جھینگوں کی افزائش نسل کے مہینے تھے اور اس موسم میں ان کا گوشت زیادہ ذائقہ دار نہیں ہوتا جبکہ گرم موسم میں جب سمندری پانی گرم ہوتا ہے تو انہیں کھانے سے بیماری کا خطرہ زہریلے اثرات کی وجہ سے بڑھ جاتا ہے۔یہ مشورہ صرف جھینگوں اور شیل فش کے لیے تھا اور وہ بھی ایسے جن کو لوگ خود شکار کریں۔تو پاکستان یا دیگر ممالک میں یہ بات مچھلیوں کے لیے مشہور ہوگئی تاہم اب اکثر ممالک میں مچھلی کو منجمند کرکے کئی ماہ تک محفوظ رکھنا ممکن ہے جبکہ کمرشل بنیادوں پر بھی فارم کام کررہے ہیں تو اس پر عمل کرنے کی خاص ضرورت باقی نہیں رہی۔تاہم پاکستان میں مچھلیوں کی افزائش نسل اب بھی زمانہ قدیم کی طرح ہی ہوتی ہے تو موسم گرما میں تازہ سی فوڈ کی بجائے منجمند مچھلی کو کھانا ایک آسان آپشن ہے۔اور ہاں مچھلی کی تاثیر گرم ضرور ہوتی ہے مگر گرم موسم میں اسے کھانے سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا بس اعتدال میں رہ کر کھانا ضروری ہے۔