نیوزی لینڈ نے واحد ٹی 20 میچ میں سری لنکا کو جیت کیلئے 180 رنز کا ہدف دیدیا

آکلینڈ (ویب ڈیسک) نیوزی لینڈ نے واحد ٹی 20 میچ میں سری لنکا کو جیت کیلئے 180 رنز کا ہدف دیدیا ہے، ڈآج بریس ویل نے 44 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی جبکہ سکاٹ کوگلین نے ناقابل شکست 35 رنز بنائے۔تفصیلات کے مطابق سری لنکا کے کپتان لاستھ ملنگا نے ٹاس جیت کر نیوزی لینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی جس نے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 179 رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا۔ ڈا?ج بریس ویل نے 44 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی اور سکاٹ کوگلین نے ناقابل شکست 35 رنز بنائے جبکہ مارٹن گپٹل نے 1، کولن منرو نے 16، ٹم سیفرٹ نے 2، ہینری نکولس نے 4، راس ٹیلر نے 33، مچل سینٹنر نے 13 اور ٹم سا?تھی نے 13 رنز بنائے۔سری لنکا کی جانب سے کاسون راجیتھا سب سے کامیاب باﺅلر رہے جنہوں نے 3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی اور کپتان لاستھ ملنگا نے 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ تھیسارا پریرا اور لکشن سنداکن نے ایک، ایک کھلاڑی کو آﺅٹ کیا۔

سپریم کورٹ کا اصغر خان کیس بند نہ کرنے کا فیصلہ


لاہو ر (ویب ڈیسک) انتخابی مہم کے دوران سیاستدانوں کی جانب سے پیسے لیے جانے کے معاملے پر ایئر فورس کے سابق سربراہ اصغر خان مرحوم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے آج اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘ایف آئی اے نے فائل بند کرنے کی استدعا کی ہے، لیکن ہم کیسے عدالتی حکم کو ختم کر دیں’۔چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ‘اصغر خان نے اتنی بڑی کوشش کی تھی، لیکن جب عملدرآمد کا وقت آیا تو ایف آئی اے نے ہاتھ کھڑے کر دیئے، ہم اصغر خان کی کوشش رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور اس کیس کی مزید تحقیقات کرائیں گے’۔

بھگوڑے آر جے اعجاز وارث نے مودی کو پسند یدہ شخصیت قرار دے دیا نام نہاد اداکار اعجاز وارث نے اپنی فیس بک پر مسلم دشمن بھارتی وزیراعظم کی تصویر لگا دی فیس بک پر لگائی تصویر میںبھارتی اداکاروں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے اعجاز وارث کی بعد میں فیس بک پر وضاحت دینے کی کوشش ‘ شہریوں نے مسترد کر دی

لاہور ( نیٹ نیوز) پاکستان کے بھگو ڑے نام نہاد اداکارہ، ریڈیو آر جے اعجاز وارث نے اپنی فیس بک آئی ڈی پر مسلم دشمن بھارتی واریراعظم مودی کی تصویر لگائی ہے۔ جس میں انہوں نے مودی کو پنی پسندیدہ ترین شخصیت قرار دیا ہے۔ تصویر میں بہت سارے دوسرے بھارتی ادارکاروں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ جس پر شہریوں میں شدید غم و غصہ کا اظہار کیا اور اعجاز وارث کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملک دشمن قرار دیدیا سخت کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔ بعد میں نام نہاد اداکار اعجاز وارث نے اپنی فیس بک پر وضاحت دینے کی کوشش کی جسے شہریوں نے مستردر کردیا، اور مطالبہ کیا کہ ملک دشمن شخص کے خلاف مقدمہ درج کر کے سخت کارروائی کی جائے۔

حکومت نے مریضو ں پر بجلیا ں گرا دیں،ادویات کی قیمتوں میں 9 سے 15 فیصد اضافہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک): ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے گزشتہ کئی عرصے سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا جارہا تھا جس کے لیے کمپنیاں سپریم کورٹ بھی گئیں اور ادویات کی فراہمی بند کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔جیونیوز کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق مختلف ادویات کی قیمتوں میں 9 سے 15 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے اور یہ اضافہ دوا کی پیکنگ پر تحریر کرنا ہوگا۔

پیٹرولیم مصنوعات کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی کمی

لاہور: (ویب ڈیسک)پنجاب اور اسلام آباد میں پیٹرولیم مصنوعات کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں بھی 5 روپے فی لیٹر کمی کردی گئی ہے جس کے بعد سی این جی کی قیمت 82 روپے سے کم ہو کر 77 روپے لیٹر ہو گی۔تفصیلات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باعث سی این جی کی قیمت میں کمی کرنے کے لیے اوگرا نے سی این جی ایسوسی ایشن کے ساتھ مذاکرات کیے جس میں فیصلہ کیا گیا کہ بین الاقوامی مارکیٹ اور مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے اسی تناسب سے سی این جی کی قیمت میں بھی کمی کی جائے گی۔
سی این جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین غیاث پراچہ کے مطابق سی این جی کی قیمت 82 روپے فی لیٹر سے پانچ روپے فی لیٹر کمی کردی گئی ہے، جس کے بعد نئی سی این جی کی قیمت 77 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے، سی این جی کی قیمت میں کمی پنجاب اور اسلام آباد کے صارفین کے لیے ہے۔

صرف چہرہ دیکھ کر جینیاتی امراض کی شناخت کرنے والا نظام تیار

بوسٹن(ویب ڈیسک): بہت سی کمیاب جینیاتی بیماریوں کے چہرے پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور انہیں پہچاننا مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ مرض کئی صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے تاہم نیورل نیٹ ورک استعمال کرکے صرف چہرہ دیکھ کر موروثی امراض کی شناخت کرنے والا ایک انقلابی نظام تیار کرلیا گیا ہے۔بوسٹن میں واقع ایک قدرے نئی کمپنی ایف ڈی این اے سے وابستہ یارون گرووچ اور ان کے ساتھیوں نے ایک نظام بنایا ہے وہ مجموعی طور پر پورا چہرہ دیکھتا ہے اور اس کے بعد مصنوعی ذہانت ( اے ا?ئی) اور نیورل نیٹ ورک کی مدد سے پانچ یا دس امراض کی فہرست دیتا ہے جس میں ممکنہ طور پر کسی ایک میں یہ مریض مبتلا ہوسکتا ہے۔تربیت یافتہ نیورل نیٹ ورک میں 17 ہزار ایسی تصاویر ہیں جو کسی نہ کسی ایسے مریض سے تعلق رکھتی ہیں جو موروثی مرض کے شکار ہوسکتے ہیں۔ اس طرح یہ سسٹم 200 جینیاتی امراض یا عارضوں کی شناخت کرسکتا ہے۔ اس کے بعد مصنوعی ذہانت یا ا?رٹیفیشل انٹیلی جنس سے اس مرض کو جاننے میں مدد لی جاتی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ سسٹم صرف مریض کی تصویر دیکھ کر 91 فیصد درستی کے ساتھ مرض کی پیشگوئی کرسکتا ہے۔بسا اوقات یہ نظام صرف 500 تصاویر پڑھنے کے بعد ہی اپنا فیصلہ سنادیتا ہے۔ اگرچہ اب بھی اس میں بہتری کی بہت گنجائش ہے تاہم اسے مزید بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی لیکن اب بھی یہ انسانی ا?نکھ اور صلاحیت سے بہت آگے ہیں۔ناقدین کے مطابق اگر یہ نظام کاروباری کمپنیوں کے ہاتھ لگ جائے تو وہ اسے تفریق اور امتیاز کے لیے استعمال کریں گی جس سے معاشرے میں ناانصافی بڑھے گی۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ایف ڈی این اے نے کہا ہے کہ یہ نظام صرف ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کو ہی فروخت کیا جائے گا۔

کیا آ پ کو پتہ ہے کہ لاکھوں سائنسی مشاہدات کرنے والی دوربین کس کی تخلیق تھی؟

پیر س (ویب ڈیسک)ساری دنیا میں کرسمس منائی جارہی تھی اور ہر کوئی خوشیوں سے سرشار تھا، ٹھیک اسی روز دنیا بھر کی سائنٹفک اور خاص کر ایسٹرا نامرز کمیونٹیز کو ایک خبر اداس کرگئی۔وہ خبر مایہ ناز خاتون ایسٹرانامر، ناسا ایگزیکٹو اور ہبل ٹیلی اسکوپ سے طویل عرصے تک وابستہ رہنے والی نینسی گریس رومن کی وفات کی خبر تھی، جنہیں ان کی خدمات کے حوالے سے “مدر آف ہبل ٹیلی اسکوپ” بھی کہا جاتا ہے۔
6 مئی 1925 کو امریکی ریاست ٹینیسی کے قصبے نیش وائل میں پیدا ہونے والی اس ذہین اور باصلا حیت خاتون کو نیچرل سائنسز میں دلچسپی والدین کی طرف سے ورثے میں ملی تھی، ان کی والدہ جارجیا اسمتھ رومن ایک میوزک ٹیچر تھیں، جبکہ ان کے والد ارون رومن ایک ماہرِ ارضیات تھے اور اکثر اوقات ان کے دوسرے علاقوں میں تبادلے کی وجہ سے نینسی کو امریکا کی دیگر ریاستوں ٹیکساس، اوکلاہاما، نیوجرسی اور ارون میں بھی رہنے کا موقع ملا۔ان ہی دنوں میں کھلے آسمان تلے ان گنت ستاروں کو تکتے ہوئے نینسی کی فلکیات میں دلچسپی بڑھی جو آگے چل کر جنون بن گئی، محض 11برس کی عمر میں نینسی نے اپنے دوستوں اور پڑوسی بچوں کو ساتھ مل کر اپنا ایسٹرانامی کلب بنایا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مستقبل میں اسٹرانامر بننا چاہتی ہیں، مگر اس سلسلے میں پہلا دھچکہ انہیں اس وقت لگا جب ان کی ہائی اسکول کی کاو¿نسلر نے انہیں ریاضی کے بجائےدوسرا مضمون اختیار کرنے پر مجبور کیا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ریاضی یا سائنسی مضامین لڑکیوں کے لیے موزوں نہیں ہیں اور ان سے انہیں آگے بڑھنے یا کچھ غیر معمولی کر دکھانے کے زیادہ مواقع نہیں ملتے، مگر ان تمام مخالفتوں کے باوجود نینسی نے فلکیات اور طبیعات جیسے مشکل مضامین اپنے لیے منتخب کیے اور 1946 میں نمایاں اعزاز کے ساتھ ایسٹرانامی میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی

علیمہ خان کی دبئی کے بعد امریکہ میں جائیداد سامنے آنے کا انکشاف

نیویارک(ویب ڈیسک ) :وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کی دبئی کے بعد امریکہ میں جائیداد سامنے آنے کا انکشاف ہوا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نیوجرسی میں واقع 4 منزلہ فلیٹس کی مالک ہیں۔انکے فلیٹس کی موجودہ مالیت 45 کروڑ ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ ایک اور غیر ملکی جائیداد کی مالک نکلیں۔وہ دبئی کے بعد امریکہ میں بھی مہنگی جائیداد کی مالک نکلیں۔وہ امریکہ میں نیو جرسی میں واقع 4 منزلہ فلیٹس کی مالک ہیں۔اس فلیٹس کی ملکیت کے لیے علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز کا رابطہ نمبر دیا گیا ہے۔یہ جائیداد شاہ ریز نے والد کے بزنس پارٹنر کی پاور آف اٹارنی استعمال کرتے ہوئے خریدی۔یہ جائیداد 2004 میں خریدے جانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ اس جائیداد کا 2017 کے ٹیکس گوشواروں میں کوئی ذکر نہیں ہے۔

کیا کینو وا قعی سردیوں کا مفید ترین پھل ہے؟

لاہو ر(ویب ڈیسک)سردیاں شروع ہوتے ہی آپ کو بازار میں کینو کی صورت میں ہر جگہ نارنجی رنگ کی بہار نظر آنے لگتی ہے۔ذائقے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بہترین کینو پاکستان میں پیدا ہوتا ہے۔اس کا ذائقہ ہر خاص وعام کو بہت پسند ہے۔ہر سال سردیوں کے موسم میں کینو سب سے زیادہ فروخت ہونے والا پھل ہے۔اسے بڑی تعداد میں برآمد بھی کیا جاتاہے۔کینو میں حرارے (کیلوریز)کم اور غذائیت سے بھر پور اجزازیادہ ہوتے ہیں۔اس میں فاسفورس ،فولیٹ،کاربوہائڈریٹ (نشاستہ )،ریشہ ،لحمیات (پروٹینز)،تانبا،پوٹا شےئم،حیاتین الف اور ج (وٹامن اے اور سی )اور تھایان(THIAMIN)پائے جاتے ہیں ،جو اچھی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں۔ذیل میں کینو کے فائدے درج کیے جارہے ہیں:

انڈے، مچھلی اور گوشت دماغ کے لیے فائدہ مندیا نقصا ن دہ ؟ نئی تحقیق نے دھوم مچا دی

لند ن (ویب ڈیسک)انڈوں، مچھلی، سبز پتوں والی سبزیوں اور گوشت میں پائے جانے والا ایک جز الزائمر امراض سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ غذائیں دماغی طاقت بہتر بنانے والے جز کولین سے بھرپور ہوتی ہیں جس سے دماغ کو نیورو ٹاکسنز سے تحفظ ملتا ہے جبکہ صفائی کا عمل طاقتور ہوتا ہے۔مزید پڑھیں : الزائمر کی وہ علامات جنہیں اکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔تحقیق کے دوران چوہوں پر کیے جانے والے تجربات میں دریافت کیا گیا کہ جب حاملہ چوہوں کو کولین سے بھرپور غذا استعمال کرائی گئی تو الزائمر امراض کا خطرہ کم ہوگیا۔مگر اہم بات یہ ہے کہ اس جز کے زیادہ استعمال سے چوہوں کے جینز میں ایسی تبدیلیاں آئیں جو اس حفاظتی اثرات کو آنے والی نسلوں میں منتقل کرتا ہے۔دنیا بھر میں سائنسدان الزائمر امراض کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کام کررہے ہیں کیونکہ ابھی اس کا کوئی علاج نہیں جبکہ اثرات کی روک تھام کے لیے علاج محدود ہے۔محققین نے دریافت کیا کہ اس جز کا زیادہ استعمال آنے والی نسل کی یاداشت بہتر بناتا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ ماں باپ اور دادا دادی کی غذائی عادات بچوں کی صحت کے لیے کتنی اہم ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے مالیکیولر سائیکاٹری یں شائع ہوئے اور محققین کے مطابق ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں حاملہ خواتین کے لیے کولین سپلیمنٹس کے استعمال کا مشورہ دیا جائے۔

وہ امراض جن کی علامات پیروں سے ظاہر ہوتی ہیں

نیو یا رک (ویب ڈیسک)ویسے تو اکثر افراد کے خیال میں پیر چلنے میں مدد دینے سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے مگر وہ جسمانی صحت کے بارے میں بھی بہت کچھ بتاتے ہیں۔وہ آپ کو سنگین امراض جیسے ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے بارے میں کسی ڈاکٹر کا رخ کرنے سے قبل بتا سکتے ہیں بس ان علامات کو سمجھنا چاہئے۔
خشک اور پھٹی ہوئی جلد والے پیر
یہ ممکنہ طور پر تھائی رائیڈ (سانس کی نالی کے قریب موجود غدود) میں مسائل کی علامت ہوسکتے ہیں خاص طور پر اس وقت جب پیروں کی نمی کا خیال رکھنا بھی بے کار ثابت ہو۔ جب تھائی رائیڈ غدود میں مسئلہ ہو تو وہ تھائی رائیڈ ہارمونز کو تیار کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے جو کہ میٹابولک ریٹ، بلڈ پریشر، پٹھوں کی نشوونما اور اعصابی نظام وغیرہ کے لیے کام کرتے ہیں۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق تھائی رائیڈ کے مسائل کے نتیجے میں جلد انتہائی خشک ہوجاتی ہے خاص طور پر پیروں کی جلد پھٹنے لگتی ہے اور حالت میں بہتری نہ آنے پر ڈاکٹر کا رخ کرنا ہی فائدہ مند ہوتا ہے۔
ناخنوں سے بال غائب ہوجانا
اگر پیروں کے انگوٹھوں پر موجود بال اچانک غائب ہوجائے تو یہ خون کی شریانوں کے امراض کی علامت ہوسکتی ہے کیونکہ اس سے خون کی ناقص گردش کا اشارہ ملتا ہے۔ ایسا ہونے کی صورت میں پیروں میں بالوں کی نشوونما کم ہوجاتی ہے۔
ایسا زخم جو ٹھیک نہ ہو رہا ہو
یہ ذیابیطس کی علامت ہوسکتی ہے۔ طبی تحقیق رپورٹس کے مطابق کنٹرول سے باہر گلوکوز لیول اعصاب کو نقصان پہنچاتا ہے اور خون کی گردش متاثر ہوتی ہے جس کے باعث خون پیروں تک پہنچ نہیں پاتا۔ اگر اس دوران پیروں میں کسی طرح کی چوٹ لگ جائے تو وہ مناسب طریقے سے بھر نہیں پاتا۔ طبی ماہرین کے مطابق زیادہ تر افراد میں ذیابیطس کی تشخیص ہی پیروں کے مسائل سے ہوتی ہے۔
انگوٹھے کا سوج کر پھول جانا
یہ ناقص غذا کے استعمال کی نشاندہی کرنے والی علامت ہے کیونکہ آپ جو کھاتے ہیں اس کے اثرات انگوٹھے کے جوڑوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ سرخ گوشت، مچھلی اور الکحل وغیرہ میں پائے جانے والا جز جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھا دیتا ہے جس کے نتیجے میں پیر کے انگوٹھے سوج کر پھول سکتے ہیں جو انتہائی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔

فضل الرحمن کے کارنامے بے نقاب ہر دور حکومت میں وارے نیارے ”خبریں“ کے حسنین اخلاق کی چونکا دینے والی رپورٹ

لاہور(رپورٹ:حسنین اخلاق)ایم ایم اے ختم ہونے کے بعد اپوزیشن اتحاد کو جمع کرنے میں مشغول مولانا فضل الرحمن کیااسلامی ،نظریاتی یا ذاتی مفادات کی سیاست میں مصروف ہیں؟۔پی پی پی اور ن لیگ کے رہنماءبھی جے یو آئی سربراہ کی مفاداتی سیاست سےائف ہونے لگے۔ان رہنماﺅں کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن جو کہ پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماءاسلام (ف) گروپ کے مرکزی امیر اور صوبہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمود کے صاحبزادے ہیں۔ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت، پی پی پی کے بھی اتحادی رہے جبکہ ان حکومتوں میں بطور رکن قومی اسمبلی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔2018 کے الیکشن میں مولانا کو شکست ہوئی اور وہ سخت تنقید کر رہے ہیں جس کے بعد وہ قومی اداروں پر سخت تنقید میں مصروف ہوچکے ہیں۔چیرمین شپ کے مزے ختم ہوئے تو مولانا فضل الرحمان سے سرکاری رہائش گاہ چھن گئی، مولانا نے تیرہ سال بعد منسٹراینکلیو کا بنگلا نمبر بائیس خالی کر کے بوریا بستر سمیٹا،اور اب تبدیلی نے مولانا فضل الرحمان کی سیٹ ہی نہیں چھینی انھیں بے گھر بھی کردیا سرکاری آشیانہ چھن گیا۔مولانا اسی پاکستان کی قومی اسمبلی میں کئی برس رکن رہے، ان کے بزرگوں نے جس کی مخالفت کی تھی۔ اسی پاکستان سے انواع و اقسام کی مراعات حاصل کیں۔ کشمیر کمیٹی کے صدر رہے۔ جبکہ مولانا کے قریبی عزیزوںنے کس طرح اس ریاست پاکستان سے بھرپور فوائد اٹھائے، موجودہ اسمبلی میںفضل الرحمن صاحب نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے لیے اپنے ہی صاحبزادے اسد محمود کو نامزد کر دیا تو حیرت کیسی؟متحدہ مجلس عمل کا دور اقتدار توسب کو یاد ہی ہو گا جب یہ سب اکابرین کے پی کے میں نفاذ اسلام کی جدوجہد میں مصروف تھے۔مولانا کے چھوٹے بھائی ضیاءالرحمن متحدہ مجلس عمل کے دور اقتدارکے دنوں پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ انجینئر تھے۔مارچ 2005ءمیں اچانک وزیر اعلیٰ کے حکم پر انہیں افغان ریفیوجیز کمیشن میں پراجیکٹ ڈائریکٹر لگا دیا گیا۔یہ سب اتنی عجلت میں کیا گیا کہ پہلے سے موجود پراجیکٹ ڈائریکٹر فیاض درانی کو ان کے منصب سے الگ کیے بغیر مولانا کے بھائی کو یہاں تعینات کر دیا گیا۔۔مذکورہ افسر پوچھتا ہی رہ گیا کہ جو سیٹ خالی ہی نہیں اس پر کسی کو کیسے تعینات کر دیا گیا۔دو سال بعدانہیں شاید یہ محکمہ کچھ زیادہ ہی پسند آگیا۔چنانچہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے ایک خصوصی سمری تیار کی ،اکتوبر 2007 ءمیںگورنر علی محمد جان اورکزئی نے اس سمری کو منظور کر لیا اور یوں ایک اسسٹنٹ انجینئر کو سپیشل کیس کے طور پر صوبائی سول سروس کا حصہ بنا دیا گیا اور انہیں اسی افغان ریفیوجیز کمیشن میں ایڈیشنل کمشنر لگا دیا گیا۔2013ءمیں مرکز میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو جے یو آئی اس حکومت کا حصہ بن گئی۔درانی صاحب نے وزیر کا حلف اٹھا لیا۔ 25 فروری 2014ءکو ایک نیا نوٹیفیکیشن جاری ہوا اور انکی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کے سپرد کر دی گئیں۔اور انہیں ڈی سی او خوشاب بنا دیا گیا۔ ایک اسسٹنٹ انجینئر مقابلے کا امتحان دیے بغیر سول سروس کا حصہ بھی بن گیا اور ڈی سی او بھی لگ گیا۔اپریل 2016ءمیں ان کی خدمات سیفران کے حوالے کر دی گئیں اور سیفران نے انہیں کمشنر افغان ریفیوجیز کے عہدے پر تعینات کر دیا۔ یہ گریڈ 20 کی پوسٹ تھی جو مولانا کے بھائی کی خدمت میں پیش کر دی گئی جبکہ اس سیٹ پرپہلے سے تعینات افسر محمد عباس نے سی ایس ایس کر رکھا تھاجس نے اٹلی سے ریفیوجی لاءکورس کر رکھا ہے ، آ کسفورڈ یونیورسٹی سے ’ فورسڈ مائیگریشن‘ کا سمر سکول اٹینڈ کیا ہوا ہے۔ان کے بھائی مولانا عطاءالرحمن پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وفاقی وزیر بنا دیے گئے۔2008ءسے 2010ءتک وہ وزیر سیاحت رہے۔1988میں انہیں مولانا سمیع الحق کی مخالفت کے باوجود مرکزی الیکشن کمیشن تعینات کرکے پارٹی انتخاب کروائے گئے۔وہ جے یو آئی کے پی کے ، کے جوائنٹ سیکرٹری بھی رہے۔ 2002ئٓ میں یہ پارٹی کے ڈپٹی الیکشن کمشنر بنے ، اس کے بعد انہیں کے پی کے جماعت کا نائب امیر بھی بنا دیا گیا۔2003 ءاور 2008ءمیں علمائے اسلام کی جمعیت میں کوئی اس قابل نظر نہ آ یا چنانچہ اس بھاری ذمہ داری کے لیے ایک بار پھر انہی کو چنا گیا۔2013ءکے انتخابات میں مولانا فضل الرحمن نے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ضمنی الیکشن کا مرحلہ آیا تو ایک بار پھر نظر انتخاب اپنے ہی بھائی پر پڑی اور انہیں لکی مروت این اے 27 سے ٹکٹ دیا گیایہ الگ بات کہ وہ ہار گئے۔سینیٹ کے انتخابات کا مر حلہ آیا تو مولانا نے ان کو ایک بار پھر اقتدار کے ایوانوں تک لا پہنچایا اور سینیٹر بنوا دیا۔ اس وقت مولانا عطا الرحمن سینیٹر ہیں۔انکے ایک اوربھائی مولانا لطف الرحمن ہیں۔کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت بنی تو قائد حزب اختلاف کے لیے بھی علمائے اسلام کی جمعیت میں مولانا فضل الرحمن کے بھائی جان کے علاوہ کوئی بندہ نہ ملا چنانچہ مولانا لطف الرحمن اپوزیشن لیڈر قرار پائے۔ایک اور مثال حاجی غلام علی صاحب کی ہے جو مولانا کے سمدھی ہیں اور سینیٹر بھی رہ چکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے اپنے صاحبزادے کو ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کرنے پر مجلس عمل میں تناﺅ ہے اور سراج الحق سمیت کچھ رہنما اس سے خفا ہیں۔ اس لئے جہاں ایم ایم اے میں شامل قائدین جے یوآئی سربراہ سے اپنے خاندان کو نوازنے کے حوالے سے ناراض ہوکر مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے الگ ہورہے ہیں وہیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اہم رہنماءبھی کسی ایسے اتحاد کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہیں جس میں مولانا فضل الرحمن کو اہم ذمہ داری دی جائے۔

جنرل بپن راوت کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی سرجیکل سٹرائیک کا دعوی ،گیدڑ بھیکی کرنیوالی انڈین فوج ہم جنس پرست نکلی سنسنی خیز ،شرمناک انکشافات

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) سرجیکل اسٹرائیک کی بھڑکیں مارنے والی بھارتی فوج میں ہم جنس پرستی کا انکشاف ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابقبھارتی فوج میں، جس نے پاکستانی علاقے میں سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ کر کے اپنی جگ ہنسائی کا سامان کیا تھا، اب ہم جنسی پرستی کے انکشاف نے سنسنی پھیلا دی ہے۔بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت اپنی فوج میں ہم جنس پرستی کے سوال پر بوکھلا گئے، جب ایک صحافی نے اچانک فوج میں ہم جنس پرستی پر سوال کیا تو ان کی ہوائیاں اڑنے لگیں۔جنرل بپن راوت نے صحافی کے سوال پر بوکھلا کر جواب دیا کہ بھارتی فوج میں ہم جنس پرستی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔خیال رہے کہ آج نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران جنرل بپن راوت نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے جارحیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی کی جاسوسی کے لیے بھارتی فوج کی جانب سے کواڈ کاپٹرز بھیجے جاتے ہیں اور ایل او سی پر بھی فائرنگ کرتے ہیں۔بھارتی آرمی چیف نے پاکستانی حدود میں دو بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹرز مار گرائے جانے کا بھی اعتراف کیا، بھارتی آرمی چیف نے لائن آف کنٹرول پرجارحیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کی جاسوسی کے لئے کواڈ کاپٹرز بھیجتے ہیں اور ایل اوسی پر بھی فائرنگ کرتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے ایل اوسی پرجاسوسی کا اعتراف کرلیا، نئی دہلی میں پریس کانفرنس میں انھوں نے تسلیم کیا کہ پاکستانی حدودمیں کواڈ کاپٹرزجاسوسی کے لئے بھیجتے ہیں، پاکستانی فوج نے ہمارے دو کواڈ کاپٹرزمارگرائے ہیں۔بپن راوت نے یہ بھی مان لیا کہ بھارتی فوج ایل اوسی پرفائرنگ کرتی ہے، پاکستان کی جانب شہری آبادی ایل اوسی کے قریب ہے۔یاد رہے گذشتہ روز بھارتی فوج نے ایل اوسی، شاہ کوٹ سیکٹر پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی پر بلا اشتعال فائرنگ کی تھی ، جس کے نتیجے میں ایک خاتون شہید ہو گئیں تھیں۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی فوج پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا بھارتی فوج کا غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل جاری ہے۔