پی پی کی پی ٹی آئی کو کھلی دھمکی ، بڑا کھڑاک ، کھلاڑیوں میں کھلبلی

کراچی (صباح نیوز ‘اے این این) وزیر بلدیات سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے وفاقی وزرا ءکے بیانات پر سندھ کے عوام میں انتشار پیدا ہو رہا ہے، جیسے ای سی ایل میں نام ڈالے ہم بھی وزرا کا سندھ میں داخلہ بند کرسکتے ہیں، قانون ہمیں ایسے وزرا ءکے سندھ داخلے پر پابندی کی اجازت دیتا ہے۔پیپلزپارٹی رہنما سعید غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جے آئی ٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، انکا مقصد ایک صوبائی حکومت کو گرانا تھا۔ انہوں نے کہا علیمہ خان کے پاس کس ذرائع آمدن سے یہ جائیدادیں آئیں، دعوی کرتا ہوں کہ عمران خان صاحب کا گھر رقبے میں سب سے بڑا ہے، مطالبہ کرتا ہوں شوکت خانم میموریل کیلئے جو چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے اسکا فرانزک آڈٹ ہونا چاہیے۔سعید غنی کا کہنا تھا اسٹینڈنگ کمیٹی جلد بن جائیں گی اس میں کوئی ایشو نہیں ہے، سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود کابینہ نے ای سی ایل سے نام نہیں نکالے، جے آئی ٹی رپورٹ آتے ہی حکومتی وز ر اءنے گورنر راج کی باتیں کیں، کہا گیا ہم وزیراعلی ہٹائیں گے۔ انہوں نے کہا مطالبہ کرتا ہوں جتنی تیزی سے پیپلزپارٹی قیادت کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا اسی طرح علیمہ خان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے،اس معاملے پر بھی ایسی ہی جے آئی ٹی بنائی جائے جو پیپلزپارٹی کے خلاف بنائی گئی۔ پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنی بہن علیمہ خان کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالیں ، نہ کاروبار نہ محنت مزدوری آخر ماجرا کیا ہے؟ اتنی جائیدادیں کہاں سے آئیں؟ اتنی ساری جائیدادیں کیسے بنائیں اور کہاں سے آئیں؟آصف زرداری پر الزام تراشی کرنے والوں کا مقدر شرمندگی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خانم کی بیرون ملک جائیداد کے انکشاف پر ان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری پر الزام تراشی کرنے والوں کا مقدر شرمندگی ہے ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا اور حکومت کو براہ راست نام بھیجے تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا اصل مقصد صوبے سندھ کی حکومت ختم کرنا تھا اور پی ٹی آئی کے وزرا کے سندھ حکومت کے خلاف بیانات آرہے ہیں، وفاقی وزرا کے بیانات پر سندھ کے عوام میں انتشار پیدا ہو رہا ہے، جیسے ای سی ایل میں نام ڈالے ہم بھی وزرا کا سندھ میں داخلہ بند کرسکتے ہیں، قانون ہمیں ایسے وزرا کے سندھ داخلے پر پابندی کی اجازت دیتا ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ صوبہ سندھ کی حکومت کارکردگی میں سب سے آگے ہے۔پی پی پی رہنما نے وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نہ کاروبار نہ محنت مزدوری آخر ماجرا کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے قوم کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، لوگ غریبوں کے علاج کے لئے پیسے دیتے تھے، صدقہ اور خیرات کی رقم غریبوں کی امانت تھی۔انہوں نے کہا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ بیرون ملک جائیداد کے انکشاف پر علیمہ خان کے خلاف جے آئی ٹی بنائی جائے جو عمران خان اور علیمہ خان کے خلاف تحقیقات کرے۔انہوں نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کی تقرری پر سوال کرتے ہوئے بتایا کہ شہزاد اکبر عمران خان کے ذاتی ملازم ہیں اور ان کی تقرری پر نیب کو بھی عدم اعتماد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر دوسرے سیف الرحمان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ بیرون ملک جائیداد کے انکشاف پر علیمہ خانم کے خلاف جے آئی ٹی بنائی جائے جو عمران خان اور ان کی ہمشیرہ کے خلاف تحقیقات کرے۔انہوں نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کی تقرری پر سوال کرتے ہوئے بتایا کہ شہزاد اکبر عمران خان کے ذاتی ملازم ہیں اور ان کی تقرری پر نیب کو بھی عدم اعتماد ہے جبکہ یہ دوسرے سیف الرحمن بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔سندھ کے صوبائی وزیر ناصر شاہ نے کہا ہے کہ آصف زرداری کی بہن کے لئے الگ معیار ہے،وزیر اعظم کی بہن کے لئے الگ ہے۔وزیر جیل خانہ جات سندھ اور پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ تحریک انصاف پر پھٹ پڑے ،انہوں نے کہا کہ جعلی اکاونٹس کیس میں چیف جسٹس نے واضح احکام دیئے ہیں مگر توہین عدالت ہورہی ہے ،علیمہ خان کے 18 اکاونٹ کا بھی نوٹس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف تیزی سے جے آئی ٹی بنائی گئی، علیمہ خان کے خلاف بھی فوری جے آئی ٹی بنائی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزرا کے سندھ مخالف بیانات سے سندھ میں اشتعال پیدا ہورہا ہے،ایسا نہ ہوکہ پی ٹی آئی کے بدکلام وزرا کے سند ھ میں داخلے پرپابندی کی درخواست کی جائے۔کوئٹہ، اسلام آباد (این این آئی‘ اے این این) وفاقی وزیر برائے پٹرلیم ڈویژن غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، نیب جسے بھی بلائے گا اسے وضاحت کے لئے جاناہوگا ، ملک میں بلاتفریق احتساب ہورہا ہے ،کابےنہ کو سپریم کورٹ کی جانب سے کسی کا بھی نام ای سی ایل سے نکالنے کا تحریری حکم نامہ نہیں ملا ، پاکستا ن کے کسی بھی حصے میںکوئی بھی کسی کا داخلہ بند نہیں کرسکتا، پٹرلیم ڈویژن کے ماتحت تمام کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں صوبوں کو برابری کی بنیاد پر نمائندگی دی جائیگی ،آئندہ ماہ سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان متوقع ہے ،بلوچستان میں ایل پی جی گیس کے 26پلانٹ لگانے کے ٹےڈرز کر نے جارہے ہیں ، یہ بات انہوں نے جمعہ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام کمال اور صوبائی وزراءو اراکین صوبائی اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ،وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا کہ لین دین جمہوریت کاحسن ہے لیکن ان دوجماعتوں جنہوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے ان سے کسی بھی قسم کا لین دین نہیں ہوسکتا ،بلاول بھٹو زرداری سمیت کسی بھی شخص کا نام ای سی ایل سے نکالنے کےلئے کابےنہ کو سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ نہیں ملا ، سندھ کے وزیر کی جانب سے کچھ وزراءکے داخلے کو بند کرنے کی بات سیاسی بیان ہے پاکستان میں کوئی کسی کا داخلہ بند نہیں کرسکتا ،انہوں نے کہا کہ ہم نے خود کو احتساب کے لئے پیش کیا ہے نیب خود مختار ادارہ ہے سپریم کورٹ بھی اپنا کام کر رہی ہے جو کوئی بھی بدعنوانی کے زمرے میں آئیگا وہ بچ نہیں پائے گا الیمہ خان یا کوئی بھی ہو قانون کی گرفت ہر ایک پر ہوگی حکومت نیب سمیت کسی بھی احتساب کے ادارے میں مداخلت نہیں کریگی انہوں نے کہا کہ آج جو لوگ سیخ پا ہو رہے ہیں انکی یاددہانی کے لیے بتانا چاہتاہوں کہ انہی کی حکومت اور اس وقت کی اپوزیشن نے اتفاق رائے سے موجودہ چیئرمین نیب کو تعینات کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر تمام صوبوں کے دورے کر رہا ہوں اور جو بھی معاملات زیر التواءہیں انکی تفصیل حاصل کرکے ان معاملات کو حل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے تحریک انصاف اور بلوچستان عوامی پارٹی صوبے اور مرکز میں اتحادی ہیں بلوچستان کے مسائل پر وزیر اعلی سے تفصیلی بات ہوئی ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسائل کے حل کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اور آنے والے دنوں میں مثبت تبدیلی رونماءہوگی انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی سالمیت اور خوشحالی و استحکام کے لیے اپوزیشن سمیت تمام جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں پٹرولیم ڈویژن کے ماتحت تمام کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تمام صوبوں کو برابر نمائندگی دی جائیگی ایسا کرنے سے صوبوں میں روزگار کے مواقعے اور مسائل کا خاتمہ ممکن ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ غریب طبقے کو فلیٹ ریٹ پر گیس فراہم کرنے کا سوچ رہے ہیں پانچ سالوں میں گیس کمپنوں کا خسارہ 154 ارب روپے تک بڑھ گیا اب بھی ہم گیس اور این ایل جی سستے نرخوں پر فراہم کر رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے وزیر پٹرولیم آج گوادر کا دورہ کریں گے جبکہ سعودی ولی عہد کی آمد بھی آئندہ ماہ متوقع ہے جس میں اہم معاہدوں پر دستخط ہونگے ایک سوال کے جواب میں غلام سرور خان نے کہا کہ چین کو سعودی عرب کی سی پیک میں شمولیت پر کوئی تحفظات نہیں ہیں ہم نے بلوچستان حکومت کو بھی آن بورڈ لیا ہے انکے تمام خدشات بھی دور کئے جارہے ہیں انہوں نے کہابلوچستان کے سرد اضلاع میں 28 مکس ایل پی جی پلانٹ نصب کئے جارہے ہیں جن میں سے 26 پر ٹینڈر جلد ہو جائیں گے جبکہ صوبے کے کسی بھی علاقے میں گیس کا مسئلہ ہے تو انکے نمائندے ہمارے پاس آئیں انکے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے انہوں نے بتا یا کہ بلوچستان میں گیس کے ذخائر دریافت کرنے کے لیے بھی صوبائی حکومت کو اختیار دیا گیا ہے صوبے میں ایکسپلوریشن کے لیے تین بلاک دینے کی کوشش کریں گے۔ اس موقع پر صوبائی وزراءو مشیران میر ضیاءلانگو ، محمد خان لہڑی، میر سلیم کھوسہ، عمر جمالی، نصیب اللہ مری، ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسی خیل، اراکین اسمبلی عبدالرشید بلوچ، مبین خلجی و دیگر بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی سیاست اب جھوٹی کہانیاں گھڑنے تک ہے،علیمہ خان کبھی ملک کی وزیراعظم نہیں رہیں، تمام جائیدادیں انہوں نے خود ڈکلیئر کی ہیں۔وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے مریم اورنگزیب کے ٹویٹ پرردعمل میں کہا کہ اِن لوگوں نے زندگی میں خود کوئی ٹکے کی بھلائی کا کام نہیں کیا، اپنی مرحوم سیاست کو زندہ کرنے کیلئے شوکت خانم اور نمل کو متنازع نہ بنائیں، علیمہ خان کبھی ملک کی وزیراعظم نہیں رہیں، تمام جائیداد انہوں نے خود ڈیکلیئر کی ہیں جب کہ اپوزیشن کی سیاست اب جھوٹی کہانیاں گھڑنے تک ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے کہا ہے کہ ن لیگ کی سیاست جھوٹی کہانیاں گھڑنے تک ہے، اپنی مرحوم سیاست کونئی زندگی دینے کی کوشش میں شوکت خانم اور نمل جیسے اداروں کو متنازع نہ بنائیں۔ جمعہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ن لیگ کی رہنما مریم اورنگزیب کو جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے کہا زندگی میں خود ٹکے کی بھلائی کاکام نہیں کیاتو مرحوم سیاست کوزندہ کرنے کیلئے شوکت خانم اور نمل جیسے بھلائی کےاداروں کومتنازع نہ بنائیں۔فوادچوہدری کہا ہے کہ علیمہ خان ملک کی وزیر اعظم نہیں رہیں اور جائیداد ڈکلیئر کی ہیں، آپ کی سیاست اب جھوٹی کہانیاں گڑنے تک ہے۔

حمزہ کی گرفتاری بارے خبر ، نیا سیاسی بھونچال

لاہور( کامرس رپورٹر) نیب نے حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کی تیاریاں شروع کردیں، پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کو رمضان شوگر مل کیلئے سرکاری خزانے سے نالہ تعمیر کروانے کے کیس میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نیب نے شریف خاندان اور مسلم لیگ ن کے ایک اور رہنما کو گرفتار کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے رمضان شوگر مل کیلئے سرکاری خزانے سے نالے کی تعمیر کا ریفرنس جلد دائر کر دیا جائے گا۔

کراچی ، لاہور میں آج پھر رم جھم ، برفباری کی اطلاعات

اسلام آباد (وقا ئع نگار خصوصی) کراچی اور لاہور میں بوندا باندی اور بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے جب کہ گلگت اور گرد و نواح میں وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی میں موسم خشک اور رات میں سرد رہنے کا امکان جب کہ شہر بوندا باندی اور بارش بھی ہوسکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی شہر میں شمال مشرق سے ہوائیں 18 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں اور کم سے کم درجہ حرارت 19 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور اور گرد و نواح میں آئندہ 12 گھنٹے میں بارش کا امکان ہے اور صبح 8 بجے درجہ حرارت 10 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا اور کم سے کم درجہ حرارت 5 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ کمالیہ شہر اور گرد و نواح میں بوندا باندی کے بعد موسم سرد ہوگیا جب کہ بہاول پور شہر میں مطلع جزوی ابر آلود ہے جس کے پیش نظر موسم سرد اور خشک رہے گا جہاں کم سے کم درجہ حرارت 9 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ملتان شہر اور گرد و نواح میں مطلع صاف ہے اور حد نگاہ ساڑھے 3 کلو میٹر ہے۔ دوسری جانب بالائی علاقے بدستور سردی کی لپیٹ میں ہیں، گلگت اور گرد و نواح میں وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئٹہ اور گرد و نواح میں مطلع صاف اور موسم خشک رہنے کا امکان ہے جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی ایک ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، مکران کے ساحلی علاقوں میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے اور بعض مقامات پر ہلکی بارش کا امکان ہے۔

شرابی ، چرسی ،نشئی پائلٹس کیلئے افسوسناک خبر

اسلام آباد (صباح نیوز) پی آئی اے نے ‘ٹن’ پائلٹس اور ایئر ہوسٹس کیخلاف کریک ڈاﺅن کا فیصلہ کر لیا۔ پی آئی اے، سول ایوی ایشن حکام خون کے نمونے حاصل کریں گے، نشہ کرنیوالے پائلٹس، ایئر ہوسٹس کی معطلی، ملازمت سے فارغ کیا جائے گا۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق پی آئی اے انتظامیہ نے اندرون و بیرون ملک جانے والی پروازوں پر چھاپے مارنے کا فیصلہ کرلیا۔ شیڈولنگ اینڈ فلائٹ اسٹینڈرڈ پی آئی اے کی جانب سے حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔ پی آئی اے، سول ایوی ایشن حکام پائلٹس، ایئر ہوسٹس کے خون کے نمونے حاصل کریںگے، نشے کی حالت میں ہونے والے پائلٹس، ایئرہوسٹس کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، نشہ کرنے والے پائلٹس، ایئر ہوسٹس کی معطلی کے ساتھ ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا۔ دوران پرواز فضائی سفر کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، پی آئی اے اقدامات پر عمل درآمد بین الاقومی جنرل سول ایوی ایشن قوانین کے تحت کیا جا رہا ہے۔

کنٹریکٹ ملازمین کیلئے خوشخبری

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب حکومت کا کنٹریکٹ ملازمین کیلئے بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ دوران سروس کنٹریکٹ ملازمین کے انتقال کی صورت میں قانون میں ترمیم کردی گئی۔ ملازمین کے انتقال کی صورت میں خاندان کو ریٹائرمنٹ تک تنخواہ ملے گی۔ تنخواہ کے ساتھ سالانہ اضافہ بھی ملے گا۔ محکمہ خزانہ نے مراسلہ جاری کردیا۔ اپوائٹمنٹ پالیسی 2004 کے تحت بھرتی ہونے والے ملازمین بھی اس ترمیم سے مستفید ہوسکیں گے۔

پاکستان کے غیر واضح جنسی سینٹر میں 13 سالہ لڑکی لڑکا کیسے بنی ؟ تہلکہ مچ گیا

لاہور (جنرل رپورٹر) پاکستان میں غیر واضح جنس کی تبدیلی کے پہلے سنٹر میں پہلی سرجری کی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں غیر واضح جنس کی تبدیلی کے پہلے سنٹر میں کامیاب سرجری کر لی گئی ہے جس کے تحت غیر واضح جنس کی حامل 13 سالہ کنزہ کامیاب آپریشن کے بعد عبداللہ بن گئی۔ماہر سرجن ڈاکٹر افضل شیخ نے کامیاب سرجری بلا معاوضہ کی۔ڈاکٹر افضل شیخ اس سے پہلے جنس میں تبدیلی کے 100 سے زائد آپریشن کر چکے ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ 13سال کنزہ کا 8ماہ قبل چیک اپ کروایا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ غیر واضح جنس کی حامل ہے جس کے بعد کنزہ کی سرجری کا فیصلہ کیا گیا اور کامیاب سرجری کے بعد کنزہ لڑکا بن گئی جس کا نام عبداللہ رکھا گیا۔کنزہ سے عبداللہ بننے کے بعد کچھ عرصہ تک انہیں نگہداشت میں رکھا جائے گا۔اس سے قبل ایک ایسہ ہی واقعہ تونسا شریف میں پیش آیا تھا۔ تونسہ شریف میں ایک 27 سالہ لڑکی آپریشن کے بعد لڑکا بن گیا تھا۔ 7 سالہ لڑکی نے اپنا آپریشن کروایا اور لڑکا بن گیا۔ والدین نے بیٹی کے لڑکا بننے پر اس کا نام تبدیل کر کے عمر فاروق رکھا تھا۔ تکہ نویدہ کو کافی عرصہ سے ہی پیٹ درد کی شکایت تھی جس پر والدین اسے قریب موجود ایک نجی کلینک پر لے گئے۔کلینک میں موجود ڈاکٹر نے معائنے کے بعد بتایا کہ یہ تبدیلی جنس کا مسئلہ ہے۔ جس کے بعد والدین کی رضامندی سے نویدہ کا آپریشن کیا گیا اور وہ لڑکا بن گیا۔اس موقع پر والدین کا کہنا تھا کہ یہ سب ا للہ پاک کی قدرت ہے۔ وہ ایک اور بیٹے کو پا کر بہت خوش ہیں جو ان کے بڑھاپے کا سہارا بنے گا۔خیال رہے پاکستان میں جنس تبدیلی کے عمل کو تاحال ناپسند کیا جاتا ہے ، لیکن قدرتی طور پر جنس تبدیلی کی علامات ظاہر ہونے پر ڈاکٹرز آپریشن کرکے جنس تبدیل کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں اس سے قبل بھی ایسے کئی کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں زیادہ تر کیسز مرضی سے جنس تبدیل کروانے والوں کے ہیں۔

وزیراعظم ، وزیراعلیٰ ، گورنر پنجاب کے سکیورٹی اہلکار چرسی ، پاﺅڈر کے استعمال کا انکشاف

لاہور (کرائم رپورٹر) وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے کی حفاظت پر معمور پولیس اہلکار نشئی نکلے، فلائنگ سکواڈ کے اہلکاروں کی سپیشل رپورٹ میں بڑا انکشاف، رپورٹ پولیس کے اعلی افسران کو بھجوادی گئی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم اور وزیر اعلی کو سکیورٹی خدشات، وزیر اعظم اور ویز اعلی کی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکار نشئی نکلے، فلائنگ سکواڈ کے اہلکاروں کی سپیشل رپورٹ میں بڑا انکشاف، سکیورٹی اہلکار چرس اور ہیروئن کا نشہ کرتے ہیں، سکیورٹی اہلکاروں سپیشل رپورٹ پولیس کے اعلی افسران کو بھجوادی گئی۔

شاہدرہ ٹاﺅن میں نا معلوم افراد سرگرم ، بوری بند لاش نے خوف و ہراس پھیلا دیا

لاہو ر(کرائم رپو رٹر) شاہدرہ ٹاﺅن کے علاقہ سے منگل کے روز اغواءہونیوالے امانت کی فیکٹری ایریا کے علاقہ سے بوری بند لاش برآمد ، مقدمہ درج کرانے کے باوجود پولیس امانت کو بازیاب نہ کراسکی ، ورثاءنے امامیہ کالونی پھاٹک پر لاش رکھ پر پولیس کیخلاف شدیدنعرے بازی کی،ملزمان کے خلاف موثر کاروائی کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین منتشر ،پولیس نے لاش قبضہ میں لے کر پوسٹمارٹم کیلئے مردہ خانے منتقل کرتے ہوئے کاروائی شروع کردی۔ بتایا گیا ہے کہ گذشتہ منگل کے روز شاہدرہ ٹاﺅن کے علاقہ سے امانت نامی شخص کو نامعلوم افراد نے اغواءکر لیا تھا جس کی اسکے ورثاءنے متعلقہ تھانہ میں اغواءکا مقدمہ بھی درج کروا رکھا تھا لیکن پولیس مغوی کا سراغ لگانے میں بری طرح ناکام رہی تاہم گذشتہ روز امانت کی تھانہ فیکٹری ایریا کے علاقہ سے بوری میں بند لاش ملی ۔ لاش کو ورثاءنے شناخت کر لیا اور پولیس سے لیکر امامیہ کالونی پھاٹک پر رکھ کرروڈ بلاک کر دی اور پولیس کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ مقتول منگل کے روز اغواءہوا تھا جس کی متعلقہ تھانہ شاہدرہ ٹاﺅن میں فوری اطلاع دی گئی لیکن پولیس نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جس پر گذشتہ روز ملزمان نے اسے قتل کر کے بوری میں ڈال کر پھینک دیا ہے ۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین سے مذاکرات کے بعد احتجاج پرامن طور پر ختم کرتے ہوئے مظاہرین منتشر ہوگئے اور پولیس نے مقتول کی لاش کو قبضہ میں لے کر پوسٹمارٹم کیلئے مردہ خانے منتقل کرتے ہوئے واقعے کی تفتیش شروع کردی ہے ۔

مشہور پہلوان بھولا بھالا آگ بگولہ مگر کیوں ؟

لاہور (کورٹ رپورٹر)فن پہلوانی میں دنیا بھر میں نمائندگی کرنے والے گولڈ میڈلسٹ بشیر بھولا بھالا نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔بشیر بھولا بھالا نے رستم پاکستان کے دنگل میں شرکت نہ ملنے پر درخواست دائر کی، دائر درخواست میں وفاقی وزارت کھیل اور ڈی جی سپورٹس بورڈ پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں بشیر بھولا نے موقف اپنایا کہ سیف گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے گولڈ میڈل جیتےاورامریکہ، دوحہ اور برطانیہ سمیت دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا، درخواست گزار نے الزام عائد کیاکہ رستم پاکستان کے دنگل کیلئے سپورٹس بورڈ نے شرکت کا موقع نہیں دیا اورنہ ہی رستم پاکستان کے دنگل کیلئے کسی قسم کا اشتہار نہیں دیا گیا، انہوں نے استدعاکی کہ عدالت رستم پاکستان دنگل میں حصہ دینے کا حکم دیا دے۔

سپورٹس بورڈ سفید ہاتھی ، حکمرانوں کے رویئے اور عہدوں کی لڑائی نے ہاکی کو نقصان پہنچایا ، پنجاب بورڈ نے6ماہ ،پی ایچ ایف نے3سال میں 80کروڑخرچ کئے ،ایک کھلاڑی پیدا نہیں کیا : شہباز سینئر کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ہاکی کے میرا ڈونا، سابق سیکرٹری ہاکی فیڈریشن شہباز سینئر نے چینل فائیو کے پروگرام ”نیوز ایٹ 7 “ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ملک میں ہاکی کے زوال کا باعث حکومتوں کے رویے کو قرار دیدیا، انہوں نے کہا کہ ہاکی نے پاکستان کا نام روشن کیا، آج یہ صورتحال ہے کہ بچوں میں یہ کھیل کھیلنے کا شوق ہی نظر نہیں آتا، ٹیلنٹ بہت ہے لیکن اسے پالش نہیں کیا جاتا، بدقسمتی ہے کہ یہاں لوگ عہدے حاصل کرتے ہیں پھر ان سے چمٹے رہتے ہیں اور کام کوئی نہیں کرتے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہاکی پر خاص توجہ دی جائے، کھلاڑیوں کو بہترین کھانا ، ٹریننگ اور معاوضہ دیا جائے، غیر ملکی ٹیموں سے کھیلنے کے مواقع دیئے جائیں لیکن یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ پنجاب حکومت کو 3خط لکھے کہ مجھے ملاقات کرنی ہے مگر کوئی جواب نہیں ملا، وزیر اعظم عمران خان جو مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں کے پرنسپل سیکرٹری کو فون کرکے وقت مانگا کوئی جواب نہ ملا، حکمرانوں کے اس رویے کے باعث ہاکی کا کھیل زوال پذیر ہوا اور کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا، سپورٹس بورڈ سفید ہاتھی ہے جس کی کارکردگی زیرو ہے،جی ایچ ایف نے 3سال میں 80کروڑ خرچ کئے تو پنجاب سپورٹ بورڈ نے 6ماہ میں 80کروڑ خرچ کئے لیکن کوئی کھلاڑی پیدا نہ کرسکے، تمام سپورٹس بورڈ کو بند کردینا چاہئے، قومی اسمبلی اور سینٹ میں سپورٹس کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں جو کوئی کام نہیں کرتیں، ہمارے مشوروں کو نہیں سنا جاتا، عمران خان خود سپورٹس مین اور سٹار رہے ہیں انہیں کھیلوں کی جانب خصوصی توجہ دینا چاہیے، حکومت ہاکی کی بہتری چاہتی ہے تو ہاکی فیڈریشن کو خودمختار کرے، بند کمروں میں بیٹھ کر پالیسیاں بنانے والے کچھ نہیں کرسکتے، عہدوں کی لڑائی نے کھیل کو بڑا نقصان پہنچایا ہے، حکومت کو چاہیے کہ تین چار ہاکی سینٹر بنائے اور وہاں تمام سہولیات دی جائیں، لڑکوں کو کھیلنے کا موقع دیا جائے ، انکی دلچسپی قائم کی جائے، پھر ٹیلنٹ کو نکالا جائے، بھارت 3سال سے ہاکی گیم کروارہا ہے جس سے ان کے کھلاڑیوں کو عالمی سطح کے کھلاڑیوں سے کھیلنے کا موقع ملتا ہے، ہمارے یہاں تو ہاکی کو فنڈز ہی نہیں دیئے جاتے ، مجھے پاکستان سے بہت پیار ہے کسی عہدے کا لالچ نہیں ہے ، صرف ہاکی کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، اگر ہم آج بھی قبلہ درست کرلیں تو تین چار سال میں عالمی ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

بھارت کیساتھ پانی کا مسئلہ اٹھانے کا کریڈٹ ضیا شاہد کو جاتا ہے ، چناب کے متنازعہ ڈیم کے معائنہ پر بھارتی آمادگی پاکستان کی بڑی کامیابی:میاں غفار، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے ریذیڈنٹ ایڈیٹر خبریں ملتان میاں غفار نے کہا ہے سندط طاس معاہدہ 1960ءمیں ہوا تھا۔ 56 سال سے یہ معاہدہ کاغذات تلے دبا ہوا تھا۔ کوئی حکومت اس بارے باتا نہیں کرتی تھی۔ سچی بات یہ ہے کہ اس کا کریڈٹ ضیا شاہد صاحب کو اتا ہے کیونکہ آبی ماہر نہیں ہیں، قانونی ماہر نہیں، سیاستدان نہیں ہیں، صحافی ہیں۔ انہوں نے اس پر جب کام شروع کیا ایک ڈیڑھ سال پہلے تو میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اس مسئلے کو آگے لے جائیں گے کہ وہ اسے نیشنل اور نٹرنیشنل لیول پر لے جائیں گے۔ ضیا شاہد صاحب نے اس پر اتنی سٹڈی کی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ لوگ پڑھتے ہی نہیں، لوگ تحقیق نہیں کرتے۔ سیاستدانوں نے تو قسم کھا رکھی ہے کہ کوئی دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کرنی ملک کو جاہل اور قوم کو جاہل رکھنا ہے۔ اپنے حلقے کے عوام کو جاہل رکھنا ہے۔ یہ حکمرانوں کے کرنے کے کام، ایوب خان کے بعد سب سے پہلے یحییٰ خان کے کرنے والا، بھٹو، جنرل ضیاءالحق کے کرنے والا، نوازشریف، بے نظیر جتنے بھی حکمران اس ملک میں آئے۔ یہ لوگ دُنیا اور آخرت میں اس حوالے سے ضرور جوابدہ ہوں گے ملک میں غربت کا جو دور دورہ رہا ہے اس کی وجہ یہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلے آدمی ضیا شاہد ہیں جنہوں نے اس پر آواز بلند کی اور 1970ءکا ایک معاہدہ نکالا۔ معاہدہ یہ تھا کہ کوئی ملک کی دوسرے زیریں ملک آبی حیات، پینے کا پانی اور اسکے بعد جنگلی حیات کا پانی بند نہیں کر سکتا۔ یہ جو چار پانچ قسم کے پانی ہیں یہ دریا کا 20 سے 25 فیصد بنتے ہیں۔ انڈیا سندھطاق معاہدہ کے تحت خود سارے پانی حاصل کر رہا ہے اپنے علاقے میں جو ہمارا دریائے جناب، جہلم ہے وہاں سے آتا ہے تو انڈیا اس میں اپنے حصے کا پانی نکالتا ہے اور ان پر غیر قانونی طور پر ڈیم بھی بنائے ہوئے ہیں لیکن ستلج سوکھا ہوا ہے۔ اگر ستلج میں 20 فیصد پانی بھی چلتا ہے، 25 فیصد چلتا تو زیر زمین پانی میں بہاولپور میں سنکھیا نہ آتا۔ یہ انڈیا نے ظلم کیا، انڈیا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ 1970ءکا جو معاہدہ تھا اس کی روشنی میں تو انڈیا پانی نہیں روک سکتا۔ آپ گنڈا سنگھ جائیں تو وہاں پشتے لگا کر سیدھا سیدھا دریا بند کر رکھا ہے اور بدقسمتی اور دکھ کی بات یہ ہے کہ زیرو لائن پر جائیں قصور سے گنڈا سنگھ سے شروع ہوں اور بدین تک سندھ میں جائیں تو پورا چولستان دیکھیں اور تھر تک آپ جائیں، ہمارا جو چولستان ہے وہاں پانی کی ایک بوندھ نہیں ہے وہاں ہمارے جو رینجرز کے جوان بیٹھے ہیں وہ بھی گھڑے دور دور سے بھر کر لاتے ہیں۔ دوسری طرف خار دار تار کے عین دوسری طرف یہی صورتحال ہے کہ سرسبز شاداب زرعی زمینیں ہیں انڈیا کی۔ انسان کے ساتھ تو ظلم ہوا ہے ہماری جو چولستانی گائیں ہیں اگر وہ گھاس چرتی چرتی اس طرف زیرو لائن کی طرف نکل جائیں تو پھر ان کے نتھنوں میں، ناک میں سبز چارے کی خوشبو ااتی ہیں۔ پھر وہ دیوانہ وار بھاگتی ہیں اس خار دار تاروں کی طرف اور وہاں سے تاروں میں سے اپنی گردن پھنسا کر وہ سبز چارہ کھانے کی کوشش کرتی ہیں اور بعض اوقات تاریں ان کی شہ رگ میں گھس جاتی ہیں اور گردنوں سے خون نکلنے لگتا ہے اور اکثر وہ تڑپ تڑپ کر جان دے دیتی ہیں۔ یہ ظلم اس گائے کے ساتھ ہو رہا ہے جسے ہندو گاﺅ ماتا کہہ کر پوجتا ہے۔ جس گاﺅ کا ہندو یورین پیتا ہے اپنی گائے کا یورین پیتا ہے اور ہماری گائے تڑپ تڑپ کر مر جاتی ہیں اس کو اٹھاتا کوئی نہیں اس قدر ظلم ہو رہا ہے۔ ضیا شاہد نے سندھ طاس کے حوالے سے آواز بلند کی اور پورا کیس تیار کیا۔ اس کے لئے انہوں نے پتہ نہیں کتنی راتیں جاگ کر گزاری ہیں وہ لگے رہتے تھے۔ آخر کار انہوں نے کیس کیا پھر انہوں نے تیاری کی کہ میں اسے عالمی عدالت میں لے کر جاﺅں گا۔ اور جتنا کام اس پر انہوں نے کیا انڈیا نے عالمی عدالت میں سوفید مار کھانی تھی اور ہم نے وہ کیس جیتنا تھا کیونکہ 1970ءکے عالمی کنونشن کا جو فیصلہ ہے اس کے تحت 20 فیصد پانی وہ چھوڑ دے تو ہمارے تو بہت سارے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ میں معلومات کی روشنی میں پورے یقین سے بات کر رہا ہوں کہ روزنامہ خبریں جن دنوں یہ ایشو اٹھا رہا تھا روزنامہ خبریں کی ایک ایک خبر کی کٹنگ انڈین ہائی کمشنر کے پاس جاتی تھی اوار وہاں باقاعدہ جو ہمارا جو ہم منصب ہے واٹر کمشنر وہ باقاعدہ ان خبروں کا ترجمہ کر کے انگلش میں ترجمے کروا کر بھارتی وزیراعظم کو پیش کیا جاتا تھا اس کے اوپر وہ سر جوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ یہ کیا بنا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج اگر انڈیا اس طرف آ گیا ہے تو ایک دباﺅ تو بنا ہے کل بھارت کیا کرتا ہے وہ الگ بات ہے۔ اس کا کریڈٹ تو ضیا شاہد کو جائے گا۔

علیمہ خان کے کیسوں کی نوعیت مختلف ہے انکا موازنہ حکومتی عہدے والوں سے نہیں ہوسکتا: ارشد یاسین ، عمران خان شفاف سیاستدان ہیں انکا علیمہ خان کی جائیدادوں سے کوئی تعلق نہیں: کامران گورایہ ، ملک میں جس نے بھی لوٹ مار کی اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے: میاں حبیب ، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ غریب عوام کےساتھ زیادتی ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے: میاں افضل ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ارشد یاسین نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز پیچھے رہ کر کام کرتے تھے۔ درجہ چہارم کے ملازمین تک ان کی منظوری سے بھرتی ہوتے تھے۔ نیب کے پاس دستاویزات ہیں جن پر حمزہ شہباز کے دستخط موجود ہیں۔ ترقیاتی کاموں کیلئے بنائی گئی کمیٹیوں کی سربراہی حمزہ شہباز ہی کرتے تھے۔ شریف خاندان کیخلاف تمام کیسز ان کے اپنے دور حکومت میں بنے تھے۔ سیاسی انتقام کی بات غلط ہے۔ حکومت اداروں کے کام میں مداخلت نہیں کر رہی۔ علیمہ خان کے کیسز کی نوعیت مختلف ہے ان کا موازنہ حکومتی عہدوں پر دینے والوں کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا۔ تاجر مافیا اس وقت مصنوعی مہنگائی کر رہا ہے۔ حکومت صرف بلدیاتی نظام کو فعال کر دے تو کافی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ سینئر صحافی کامران گورایہ نے کہا کہ رمضان شوگر ملزم کا ریفرنس حمزہ شہباز پر نہیں شہباز شریف کیخلاف دائر ہونا چاہیے کہ ذمہ دار تو وہ بنتے ہیں۔ عمران خان ایک شفاف سیاستدان ہیں ان کا علیمہ خان کی جائیدادوں سے کوئی تعلق نہیںہے۔ علیمہ خان ایک کامیاب بزنس وومن ہیں۔ ان سے غلطی یہ ہوئی کہ اپنے جائیداد کے حوالے سے مکمل تفصیل نہیں دی۔ علیمہ خان کا کوئی ایشو نہیں ہے صرف سیاست ہو رہی ہے۔ وفاقی کابینہ اہل گردی پر مشتمل نہیں ہے، وزراءاپنی کارکردگی نہیں بتاتے صرف پچھلی حکومتوں کی برائیاں بتاتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا جس کے نتیجہ میں مہنگائی مزید بڑھے گی۔ اسد عمر وزارت خزانہ کے بالکل اہل نظر نہیں آرہے۔ سینئر صحافی میاں افضل نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ غریب عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ حکومت کو آئے 4 ماہ ہوئے ہیں اور مہنگائی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ ابھی آئی ایم ایف کے پاس بھی جانا پڑے گا جس کے بعد مہنگائی کا ایک اور طوفان آئے گا۔ یہ محکمہ کرپشن کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ اسے ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا۔ حکومت کو مزید وقت ملنا چاہیے۔ اسد عمر وزیر خزانہ کے طور پر اب تک ناکام نظر آتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ صورتحال پر عوام کو اعتماد میں لیں۔ سینئر صحافی میاں حبیب نے کہا کہ علیمہ خان کی امریکہ میں ایک اور جائیداد سامنے آگئی ہے۔ علیمہ خان کے شوہر شہباز شریف کے قریبی دوست ہیں۔ ملک میں جس نے بھی لوٹ مار کی ہے اس کیخلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ بیماریاں پھیلنے کی وجوہات پر قابو پائے۔ ملاﺅٹ خود مافیا پر ہاتھ ڈالے۔ منی بجٹ آرہا ہے جس سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔ عوام پریشان ہیں وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ فوری طور پر عوام کو اعتماد میں لیں۔ عوام سے قربانی بھی لینی ہے تو اسے اعتماد میں تو لیا جائے اسے اندھیرے میں رکھنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

‘جوڈیشل ایکٹوازم کی بنیاد انسانیت کی بہتری کیلئے رکھی، کسی کے کام میں مداخلت نہیں کی’

لاہور(ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جوڈیشل ایکٹو ازم کی بنیاد انسانیت کی بہتری کیلئے رکھی، کسی کے کام میں مداخلت نہیں کی، سختی کسی کی تذلیل کیلئے نہیں قانون کی حکمرانی کیلئے کی۔لاہور ہائیکورٹ میں الوداعی تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس نے کہا کہ میری لاہور ہائیکورٹ کے ساتھ وابستگی 56 سال سے ہے، میرے والد صاحب نے یہاں پریکٹس بھی کی، اب عوام کو وہ انصاف نہیں مل رہا جو پہلے ملا کرتا تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ نعمتوں میں پاکستان کو پہلے نمبر پر شمار کرتا ہوں، میں نے کھلی کچہری کا سلسلہ شروع کیا توبہت مظلوم لوگ دیکھے، وہ لوگ بھی دیکھے جن کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ دوائی خرید سکیں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میں نے نیک نیتی سے جوڈیشل ایکٹوازم کی بنیاد رکھی، اگرمیں اسپتال گیا ہوں تو یہ کہنے گیا کہ یہاں علاج کے وسائل میسر نہیں، میں نے اسپتال میں کسی کا آپریشن نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ مجھ سے کئی غلطیاں ہوئیں، دانستہ نادانستہ، لیکن ان میں بدنیتی نہیں تھی، میں قانون کی حکمرانی کیلئے کوشش کرتا رہا ہوں، ججزسے گزارش کروں گا کہ اس کام کو ملازمت سمجھ کر نہ کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ میں زندگی میں بہت کم رویا ہوں، آج آپ کے اس پیار نے میری آنکھیں نم کردیں، یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میری ہائیکورٹ کے ساتھ نسبت سب سے پرانی ہے، ایک بھی چہرہ ایسا نظر نہیں آرہا جس کی لاہور ہائیکورٹ کے ساتھ نسبت مجھ سے پرانی ہو، میں کیتھڈرل اسکول میں پڑھتا تھا، میرے والد صاحب یہاں پریکٹس کرتے تھے، میں ان کوریڈورز میں کھیلتا رہتا تھا۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ وکلاءجوڈیشل سیٹ اپ کا لازم و ملزوم حصہ ہیں، وکلاءکو محنت کرنی ہے کیونکہ اعجازحسین بٹالوی بننا ہے، وکلاءکو حق کیلئے کیس کی پیروی کرنی ہے، آج اس عدالت کو 22 اے نے یرغمال بنالیا ہے، ہائیکورٹ کا یہ مقام نہیں کہ پرچہ رجسٹر ہورہا ہے یا نہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے مزید کہا کہ آج سپریم جوڈیشل کونسل میں صرف 2 ریفرنسز زیر التوا ہیں، ہم اہلیت پر فیصلے کریں گے، ججز کو بلیک میل نہیں ہونے دیں گے، ہم اپنا احتساب خود کررہے ہیں اور آپ سے بھی یہی امید رکھتا ہوں۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس ثاقب نثار کے عہدے کی معیاد 17 جنوری کو ختم ہو رہی ہے۔جسٹس آصف سعید خان کھوسہ 18 جنوری سے چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ سنبھالیں گے۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کو چیف جسٹس پاکستان کے عہدے پر تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔