روزانہ زبان کی صفائی کرنا کیوں ضروری ہے؟

لاہور( ویب ڈیسک ) لگ بھگ ہر ایک ہی اپنے دانتوں پر برش کرتا ہے اور خلال بھی کرتا ہے، تاہم اگر آپ چند منٹ کے لیے اپنی زبان پر برش نہیں کرتے تو اس عادت کو فوری اپنالیں۔

طبی ماہرین کے مطابق منہ میں 700 سے زائد مختلف اقسام کی بیکٹریا کی اقسام ہوتی ہیں، جن میں سے بیشتر نقصان دہ تو نہیں مگر جو ہیں وہ اپنی تعداد بہت تیزی سے بڑھاتی ہیں اور یہ عام طور پر زبان کی سطح پر موجود ہوتے ہیں۔

درحقیقت صاف زبان منہ کی اچھی صفائی کا لازمی حصہ ہے، زبان پر ٹوتھ برش کے پچھلے حصے کو رگڑنا بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے جو کہ ایسے ذرات سے نجات دلاتا ہے جو کہ بیکٹریا کی افزائش نسل کا باعث بنتے ہیں۔

زبان ویسے تو بظاہر بولنے میں مدد دیتی ہے مگر اس کے چند اہم افعال بھی ہیں۔

مزید پڑھیں : سانس میں بو کیوں پیدا ہوتی ہے؟

یہ نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے میں سہولت فراہم کرتی ہے کیونکہ ہاضمے کا عمل زبان سے ہی شروع ہوتا ہے جبکہ ذائقے کی حس کے لیے بھی اس کا کردار بہت اہم ہے۔

تو اس کی صفائی کے چند فوائد جان لیں۔

سانس کی بو سے نجات
کھانے کے ذرات، بیکٹریا اور مردہ خلیات وقت کے ساتھ زبان پر جمع ہونے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں سانس بدبو دار ہوجاتی ہے۔ زبان کی صفائی اس سے بچا? میں مدد دیتی ہے کیونکہ سانس میں بو کا مسئلہ انتہائی عام ہے اور شخصیت کو بھی بدنما بناتا ہے، تاہم زبان کی صفائی کے باوجود سانس میں بو کا مسئلہ برقرار رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے کیونکہ یہ کسی اور مرض کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔

منہ کے انفیکشن کی روک تھا،
مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زبان کی صفائی ایک خطرناک بیکٹریا کی تعداد کو بڑھنے سے روکتا ہے جو کہ دانتوں کی فرسودگی اور ان کے گرنے کا باعث بنتا ہے۔ زبان کی ساخت ایسی ہوتی ہے جو پلاک جمع ہونے میں معاونت فراہم کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کی صفائی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ زبان پر جمع ہونے والے بیکٹریا دانتوں تک پھیل سکتے ہیں، جس سے مسوڑوں کا ورم، ان میں سرخی یا سوزش کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے، اگر علاج نہ کرایا جائے تو یہ یہ ورم دانتوں کی جھلی کے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے، جس کے نتیجے میں دانت ٹوٹ سکتے ہیں اور جھلی کے یہ امراض ہارٹ اٹیک، فالج وغیرہ کا خطرہ بھی بڑھاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ٹوتھ برش میں نیلے ریشے کیوں ہوتے ہیں؟

حس ذائقہ بہتر بنائے
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ زبان کی صفائی سے کھانے کے ذائقے کا احساس بھی بہتر ہوتا ہے، دوسری جانب جب زبان پر برش نہ کیا جائے تو بیکٹریا کی تہہ، خوراک کے اجزائ اور جلد کے مردہ خلیات کا اجتماع ذائقے کی حس کے لیے ضروری حصوں میں اکھٹا ہونے لگتا ہے، جس سے ذائقے کی حس ماند پڑنے لگتی ہے۔

اے بی ڈویلیئرز پاکستان آئیں گے مگر کب؟ سب سے بڑا اعلان ہو گیا

لاہور (ویب ڈیسک ) جنوبی افریقہ کے مایہ ناز سابق کھلاڑی اے بی ڈویلیئرز پاکستان آ کر کھیلنے کیلئے راضی ہو گئے ہیں اور وہ 12 سال بعد پاکستان کے کرکٹ میدان میں ان ایکشن ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا چوتھا ایڈیشن شروع ہونے میں محض چند ہفتے ہی باقی رہ گئے ہیں اور شائقین کرکٹ میں اس حوالے سے خوب جوش و خروش پایا جا رہا ہے جبکہ لاہور قلندرز نے آج کا سب سے بڑا اعلان کر کے اس میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔لاہور قلندرز کے مالک فواد رانا نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی افریقہ کے مایہ ناز بلے باز اے بی ڈویلیئرز پاکستان آ کر پی ایس ایل کے میچ کھیلنے کیلئے راضی ہو گئے ہیں۔ فواد رانا نے اپنے پیغام میں کہا کہ پی ایس ایل کے چوتھے ایڈیشن کیلئے لاہور قلندرز کی ٹیم میں شامل اے بی ڈویلیئرز زندہ دلان لاہور کے درمیان ہوں گے اور ہم سب کہہ رہے ہوں گے کہ دم دم دم دم جیوے جیوے لاہورقلندر مست۔۔۔

پانی کےاندرآکسیجن کے بغیر رقص کرنے کا نیا ریکارڈ قائم

روم( ویب ڈیسک ) اٹلی: فری ڈائیونگ کے ماہر جوڑے نے سب سے طویل عرصے تک پانی میں ا?کسیجن کے بغیر رقص کرکے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے۔
روسی رقاص جوڑے میں شامل میرینا کازنکوفا اور دمیتری مالاسینکو نے اٹلی میں واقع دنیا کے سب سے بڑے سوئمنگ پول میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے جس کی تصدیق گنیز بک ا?ف ورلڈ ریکارڈ نے بھی کردی ہے۔ اٹلی کے شہر پاڈووا میں واقع اس سوئمنگ پول کا نام وائے 40 ہے اور اس مظاہرے کو دیکھنے کے لیے وہاں کئی افراد بھی موجود تھے جنہوں نے شیشے سے بنی سرنگ کے نیچے سے دونوں کو فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا۔

اس رقص کا سب سے اہم حصہ وہ تھا جس میں دونوں نے ایک تنے ہوئے رسے پر انتہائی مہارت سے اپنا فن دکھایا اور انہوں نے کسی قسم کا ا?کسیجن ٹینک استعمال نہیں کیا تھا۔
اس ریکارڈ کے بعد جوڑے نے بتایا کہ انہوں نے اس مظاہرے کے لیے نفسیاتی اور جسمانی مشق کی تھی جس میں خود کو مطمئین رکھنے اور دل کی دھڑکن کو سست رکھا گیا تھا۔ پھر اس ایک رسی پر رقص کرنا خود بہت مشکل چیلنج تھا۔ اس رقص کا اسکرپٹ بھی لکھا گیا تھا اور خاص موسیقی ترتیب بھی ترتیب دی گئی تھیں۔

اسکرپٹ کے مطابق پانی کے اندر دو چوروں کو جادوئی موتی چرانا تھا اور اس کے حصول کےلیے ڈانس کے دوران انہیں تلوار بازی سے ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا تھا۔ اس کے بعد دونوں کو رومانوی رقص کرنا تھا تاکہ لوگوں کو پیغام دیا جائے کہ فری ڈائیونگ کا یہ عمل اپنے اظہار کا بہترین طریقہ ہے جس سے محبت اور امن محسوس کیا جاسکتا ہے۔

2016 میں مرینا نے کسی بیرونی مدد کے بغیر پانی کی 154 میٹر گہرائی تک پہنچ کر اپنا ایک اور ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اب تک وہ 15 فلموں میں بھی کام کرچکی ہیں۔ ان دونوں کا تعلق روسی علاقے یوکرین سے ہے۔

آپ کہتی ہیں دہشتگرد حملہ ہو ا ہی نہیں پھر سرجیکل سڑائیک کا دعویٰ کیوں ؟ کانگریس رکن کے سوال پر بھارتی وزیر دفاع کے چھکے چھوٹ گئے

نئی دہلی (آئی این پی ) بھارتی کانگریس کے لیڈر منیش تیواری نے کہا ہے کہ جب دہشت گردانہ حملہ ہوا ہی نہیں ، تو پھر سرجیکل اسٹرائیک کیوں کرنی پڑ گئی؟،اڑی ، گرداس پور اور پٹھان کوٹ کے حملے بڑے دہشت گردانہ حملے نہیں تھے؟،55 مہینوں میں پٹھان کوٹ، امرناتھ یاترا، اڑی اور دیگر مقامات پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں 400 سے زیادہ اہلکاروں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ تفصیلات ے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی اجلاس میں وزیر دفاع سیتا رمن کی جانب سے مودی حکومت کے دوران کوئی دہشت گردانہ حملہ نہ ہونے کا دعوی کئے جانے کے بعد کانگریس نے ان پر کڑی نکتہ چینی کی۔بی جے پی کے قومی اجلاس میں سیتا رمن نے پارٹی لیڈروں کے درمیان کہا کہ وزیر اعظم مودی نے یہ یقینی بنایا کہ دہشت گردوں کو ہندوستان میں کوئی جگہ نہ ملے ۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سیتا رمن نے کہا کہ سال 2014 کے بعد ملک پر کوئی بڑا دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا ۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت والی حکومت نے یہ یقینی بنایا کہ دہشت گردوں کو امن میں خلل ڈالنے کا کوئی موقع نہ ملے ۔کانگریس کے لیڈر منیش تیواری نے کہا کہ ملک کی وزیر دفاع نے کہا کہ گزشتہ 55 مہینوں میں ہندوستان میں کوئی بڑا دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا، جب دہشت گردانہ حملہ ہوا ہی نہیں ، تو پھر سرجیکل اسٹرائیک کیوں کرنی پڑ گئی؟ کیا اڑی ، گرداس پور اور پٹھان کوٹ کے حملے بڑے دہشت گردانہ حملے نہیں تھے؟۔کانگریس لیڈر احمد پٹیل نے وزیر دفاع کے اس دعوے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ وزیر دفاع کا یہ چونکانے والا دعوی سن کر کافی حیرانی ہوئی کہ مئی 2014 کے بعد سے کوئی دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا ہے ۔ انہیں یاد دلانا چاہتے ہیں کہ گزشتہ 55 مہینوں میں پٹھان کوٹ، امرناتھ یاترا، اڑی اور دیگر مقامات پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں 400 سے زیادہ اہلکاروں نے اپنی جانیں گنوائیں ۔

ماہرین نے 600 ٹریلین سورج جتنا روشن ’کوزار‘ دریافت کرلیا

ایریزونا( ویب ڈیسک ) فلکیاتی ماہرین نے کائنات کے دوردراز حصے میں ایک کوزار دریافت کیا ہے جس سے 600 ٹریلین سورجوں کے برابر روشنی خارج ہورہی ہے۔
یہ کائناتی عجوبہ ہم سے 12.8 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور بہت ابتدائی کائنات کا ایک شاہکار ہے۔ زمین سے قریب ایک کہکشاں کی ثقلی قوت نے لینس کا کام کرتے ہوئے اس کی روشنی کو غیر معمولی روشن کرکے ظاہر کیا اور یوں ماہرین نے اسے دیکھ لیا۔ یہ عمل ثقلی عدسہ گری (گریویٹیشنل لینسنگ) کہلاتا ہے جس میں روشنی خمیدہ، ترچھی اور واضح دکھائی دیتی ہے۔
یونیورسٹی ا?ف ایریزونا میں نصب ملٹی پل مِرر ٹیلی اسکوپ (ایم ایم ٹی) سے دیکھا جانے والا یہ کوزار انسانی معلومہ تاریخ میں روشن ترین کوزار ہے اور اسے دریافت کرنے والی ٹیم نے گزشتہ 20 برس سے اپنی توجہ کوزار پر مرکوز کر رکھی ہے۔

کوزار کا نام J043947.08+163415.7 ہے جو ایک بہت بڑے بلیک ہول سے توانائی لے رہا ہے۔ ماہرین نے اسے قابلِ مشاہدہ کائنات میں سب سے روشن کوزار قرار دیا ہے۔ ایک اندازہ ہے کہ یہ ایک نوجوان کہکشاں کا حصہ ہے اور اپنے اطراف سے مادہ کھا کر اس سے توانائی خارج کررہا ہے۔
اگر یہ گریوٹیشنل لینس کے بغیر دیکھا جاتا تو ہمیں 50 گنا مدھم دکھائی دیتا اور کہکشاں میں ہر سال 10 ہزار نئے ستارے بن رہے ہیں جو ایک غیر معمولی رفتار ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کوزار کائنات کے اس دور سے تعلق رکھتا ہے جو کائناتی ارتقا کا ایک اہم عہد تھا جسے ری ا?یﺅنائزیشن کا نام دیا گیا ہے۔ اس عہد میں کہکشاں اور کوزار ٹھنڈی ہائیڈروجن کو دوبارہ گرم کر رہے تھے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ گریوٹیشنل لینسنگ سے بلیک ہول سے بنے کوزار کی بہت سی تفصیلات بھی معلوم ہوئی ہیں۔ ماہرین کوزار کی سرخ رنگت دیکھ کر ان کی شناخت کرتے ہیں اور کبھی کبھی وہ روشنی کی ا?لودگی کی وجہ سے نیلی بھی ہوجاتی ہے۔
ایم ایم ٹی کے بعد ماہرین نے کیک رصدگاہ اور خود جیمینائی ا?بزوریٹری سے بھی کوزار کی تصدیق کی ہے۔ اس طرح یہ ابتدائی کائنات کا ایک نہایت دلچسپ مظہر بھی ہے۔
کوزار ایسے خلائی اجسام ہوتے ہیں جن کے قلب میں بہت بڑے بلیک ہولز ہوتے ہیں اور ان سے روشنی اور توانائی کی بڑی مقدار خارج ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا کا بے جا استعمال غلط فیصلوں کی وجہ بن سکتا ہے

مشی گن (ویب ڈیسک ) ماہرین نےانکشاف کیا ہےکہ فیس بک، ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا کا حد سے زائد استعمال لوگوں میں غلط اور بسا اوقات پرخطر فیصلوں کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔
جرنل ا?ف بیہیویئر ایڈکشنس میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے یہ اپنی نوعیت کا پہلا مطالعہ ہے جس میں سوشل میڈیا اور غلط فیصلوں کے درمیان تعلق واضح کیا گیا ہے۔ مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہر نفسیات ڈار میشی اور ان کے ساتھیوں نے یہ سروے کیا ہے۔
مطالعے میں 71 افراد شرہل پوئے جس میں فیس بک پر زیادہ وقت دینے والے افراد سے طویل سوالنامہ پر کرایا گیا۔ اس میں ان کے کام اور انہیں مکمل نہ کرنے کے احساسات کا جائزہ لیاگیا۔ ایک سوال میں فیس بک کے استعمال اور تعلیم یا ملازمت پر اس کے اثرات کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔

ماہرین نے شرکا کو ایک کھیل میں شامل کیا جسے ’ ا?ئیووا گیمبلِنگ ٹاسک‘ کہا جاتا ہے اور ماہرین اسے فیصلہ سازی کے لیے نفسیات میں عام استعمال کرتے ہیں۔ اس میں شرکا تاش کی گڈیوں کو دیکھتے ہوئے بہترین فیصلہ کرتے ہیں۔ ڈار نے بتایا کہ جو لوگ سوشل میڈیا کا جتنا زیادہ استعمال کررہے تھے اس گیم میں انہوں نے غیرمعمولی غلط فیصلے کیے جبکہ دیگر شرکا نے درست اور قدرے بہتر فیصلے کئے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ منشیات استعمال کرنے والوں سے بھی اسی قسم کے فیصلے ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک مطالعے سے یہ بات سامنے ا?ئی ہے کہ کوکین، افیم اور دیگر نشہ ا?ور اشیا کے عادی ا?ئیووا گیمبلنگ ٹاسک میں اسی قسم کے فیصلے دکھا چکے ہیں۔ یعنی سوشل میڈیا کا بے جا استعمال کرنے والوں کا فیصلہ سازی پر اثر عین منشیات کے عادی افراد کی طرح ہی ہوتا ہے۔
میشی کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے بہت سے فوائد ہیں لیکن جب اس کی عادت پڑجائے تو اس سے انسان پر بہت مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر ہم سوشل میڈیا کے مسلسل استعمال کو ایک لت سے تعبیر کررہے ہیں۔
اسی بنا پر ماہرین نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بے تحاشہ وقت گزارنا ایک خطرناک عمل ہے جس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

ایل این جی درآمد: ایک ہی کمپنی کوذمے داربنانے پرغور

اسلام آباد( ویب ڈیسک ) ایل این جی درآمد کرنے والی کمپنیوں میں رابطے کا فقدان بھی ملک میں گیس بحران کی بڑی وجہ بنا، یہ انکشاف وزیر اعظم کو پیش کی گئی رپورٹ میں کیا گیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک ہونیوالے معاہدوں کو چار، چار کمپنیوں کی بجائے پاکستان میں ایک ہی کمپنی کو ذمہ داری دی جائے۔ذرائع کے مطابق ملک میں گیس بحران پر وزیر اعظم نے نوٹس لیا تو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے اپنی رپورٹ میں سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کی تجویز دی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیاکہ ایل این جی درا?مد کرنے کیلئے پاکستان میں 4 کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن میں پی ایس او کے پاس دو معاہدے، (قطر، گنور)، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے پاس دو، (ای این ا?ئی اور گنور)،پاکستان ایل این جی ٹرمینل لمیٹڈ(پی ایل ٹی ایل)،اورسوئی سدرن گیس لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے پاس ایک معاہدہ (اینگرو) ہے، یہ کمپنیاں براہ راست ایل این جی درا?مدکرنیکی ذمہ دار ہیں۔ ان کمپنیوں کیجانب سے طلب اوررسد کا درست اندازہ نہ لگائے جانیکی وجہ سے گیس کی کمی ہوئی۔ ذرائع کیمطابق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے یہ تجویز دی کہ ایل این جی کی ضرورت کے مطابق بلاتعطل درا?مد کیلئے ضروری ہے کہ ایل این جی کے تمام معاہدے پاکستان کی ایک ہی کمپنی کیساتھ کئے جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت پٹرولیم فائل ورک کرکے قطر سے معاہدوں میں ترمیم کیلئے درخواست کریگی۔

امیر ترین پاکستانیوں کی نئی فہرست جاری ،نواز ، زرداری کے نام بھی شامل

اسلا م آباد(صباح نیوز)پاکستان میں بھی دنیا بھر کی طرح امیرترین شخصیات موجود ہیں، جن کی دولت کا اندازہ اربوں ڈالرز میں لگایا گیا ہے۔ 2019 کی شروعات میں سامنے آنے والی نئی فہرست میں پاکستان کے امیرتین افراد میں شاہد خان گزشتہ سال کی طرح پہلے مقام پر ہیں، ان کی دولت تقریبا 7.2ارب ڈالر ہے۔اس فہرست میں سابق صدر آصف زرداری اور نواز شریف کے نام بھی شامل ہیں۔دوسر ے نمبر پر پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت بیسٹ وے گروپ اور یو بی ایل کے مالک انور پرویز ہیں، جن کی کل دولت 3.8ارب ڈالر ہے۔تیسرے نمبر پر میاں منشا ہیں جن کی دولت کا اندازہ 1.9ارب ڈالر ہے۔ جبکہ سابق صدر آصف زرداری کی دولت کا اندازہ 1.8ارب ڈالر ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف، بحریہ ٹان کے مالک ملک ریاض، ہاشو گروپ آف کمپنیز کے صدر ہاشوانی، شان گروپ کے ناصر شان اور آئی ٹی سیکٹر کے اشعر عزیز بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

درآمدی ڈائپرزکی کم ویلیو ایشن سے مقامی انڈسٹری متاثر

کراچی (ویب ڈیسک ) درا?مدی ڈائپرز کی ویلیو ایشن کم ہونے سے حکومت کو درا?مدی ڈیوٹی میں نقصان کے علاوہ مقامی انڈسٹری شدید متاثر ہورہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 3 برسوں سے درا?مدی ڈائپرز کی ڈیوٹی میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ماہرین کے مطابق ایسا ناقابل فہم ہے کیونکہ دیگر تمام عوامل جیسے قیمت، خام مال کی لاگت اور روپے کی شرح تبادلہ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کسٹمز درا?مدی ڈائپرز کی قیمت ویلیوایشن کرتا ہے۔
اسی طرح کم سے کم ویلیوایشن درا?مدی ڈائپرز کی متعین ہے جو مختلف ملکوں اور مختلف برانڈز کیلیے ہے۔ ویلیو ایشن اسکیم کے تحت برانڈز کی تخصیص اعلیٰ برانڈز اور ادنیٰ برانڈ میں کی جاتی تھی تاہم کسٹمز نے اپنی ویلیوایشن پر نظرثانی کی (رولنگ 870/2016، جون 2016) جو ادنیٰ قیمت کے ڈائپرز کے حوالے سے ہے۔کسٹمز نے 4 اگست 2016 ایک نظر ثانی ا?رڈر جاری کیا جو درج بالا ویلیو ایشن رولنگ کے مقابل ہے اور ہائی ویلیو برانڈز ڈائپر کی ویلیو 3 ڈالر فی کلوگرام سے بڑھا کر 3.85 ڈالر فی کلوگرام کردی گئی جبکہ کم درجے کے برانڈز کی ویلیو کو 2.20 سے 2.90 ڈالر فی کلوگرام کے درمیان رکھا گیا ہے۔
اس کے بعد نئی ویلیو ایشن ہائی برانڈز ڈائپرز کے لیے مزید کم کرکے 2.90 سے 3.15 ڈالر فی کلوگرام تک متعین کی گئی اور کم درجے کے ڈائپرز کے لیے کم کرکے 1.95 سے 2.75 ڈالر فی کلوگرام کے درمیان کردی گئی۔ اس کے ساتھ ہی اسکیم ا?ف ویلیو ایشن کو تبدیل کرکے ”اوریجن “ کی بجائے ”برانڈ“ کردیا گیا۔

طالبان سے مذاکرات میں امریکا کا افغانستان میں مستقل فوجی اڈے برقرار رکھنے کا مطالبہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) افغان طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات میں امریکا کی جانب سے دو اہم مطالبات رکھے گئے ہیں کہ افغانستان میں امریکی فوجی اڈے موجود رہیں گے، نیز اس بات کی ضمانت دی جائے کہ افغان سرزمین مغرب کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق اس کے بدلے میں امریکا اور اس کے مغربی و عرب اتحادی امن معاہدے کے بعد افغانستان کی تعمیر اور بحالی کے لیے بھاری مالی امداد فراہم کریں گے۔ طالبان اگرچہ افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کرتے رہے ہیں مگر حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والے مذاکرات میں انھوں نے افغانستان میں فوجی اڈے برقرار رکھنے کی امریکی تجویز پر لچک دکھائی ہے۔
ابو ظہبی میں ہونے والے مذاکرات کے انعقاد میں ڈونلڈ ٹرمپ کا خط ملنے کے بعد پاکستانی وزیراعظم نے اہم کردار ادا کیا تھا، خط میں پاکستان سے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مدد کی درخواست کی گئی تھی۔ اسی وقت سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکی مطالبات تسلیم کرنے کے لیے افغان طالبان کو راضی کرنے کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں۔ ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ واشنگٹن افغانستان میں مستقل فوجی اڈے قائم رکھنا چاہتا ہے اور جاری مذاکرات میں یہی بات زیربحث ہے۔

اسرائیلی جیل میں 16 سال سے قید بیٹے کی رہائی کی منتظرفلسطینی ماں بیٹے کو دیکھتے ہی چل بسی

طرابلس (ویب ڈیسک )اسرائیلی جیل میں 16 سال سے قید بیٹے کی رہائی کی منتظر فلسطینی ماں بیٹے کو دیکھتے ہی چل بسی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الحاجہ ام ابراہیم الخطیب کا بیٹا کامل الخطیب 16سال تک اسرائیلی جیل میں پابند سلاسل رہا۔ حال ہی میں اس کی رہائی عمل میں لائی گئی۔ بیٹے سے ملنے کے بعد بیمار فلسطینی خاتون نے کہا کہ اس کی جینے کی ایک ہی تمنا تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو رہا ہونے کے بعد اپنے سامنے دیکھنا چاہتی تھی، اب میری یہ خواہش پوری ہوگئی۔ اس کے چند گھنٹے کے بعد خاتون اسپتال میں دم توڑ گئی۔

نئی دہلی میں فوجی پریڈ کی ریہرسل کے دوران پاکستان زندہ باد کے نعرے

نئی دہلی( ویب ڈیسک ) مقبوضہ کشمیراورپنجاب کے بعد بھارتی دارالحکومت میں بھی اب پاکستان کے حق میں نعرے لگنا شروع ہوگئے ہیں۔بھارت میں بڑھتے ہندو جنونیت اور جنگی اشتعال انگیزی کے باعث جہاں مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک پھل پھول رہی ہے وہیں اب بھارت کے اپنے علاقوں میں پاکستان کے حق میں نعرے لگائے جارہے ہیں ایسا ہی ایک واقعہ بھارتی دارالحکومت میں بھی پیش آیا ہے جہاں ایک خاتون نے فوجی پریڈ کی ریہرسل کے دوران سینکڑوں فوجیوں کی موجودگی میں پاکستان کے حق میں نعرے بازی کی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے انڈیا گیٹ پرسینکڑوں فوجی جوان اوربڑی تعداد میں عسکری افسران پریڈ کے لیے ریہرسل کررہے تھے کہ ایک خاتون نے مردانہ واراندازمیں پاکستان کے حق میں نعرے بازی شروع کردی۔ اس موقع پرخاتون نے وہاں موجود اہلکاروں کو دھکے بھی دیئے۔ خاتون کوفوری طورپرگرفتارکرلیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر پولیس مدھرورما کا کہنا ہے کہ خاتون کی شناخت کرلی گئی ہے، اس کا پاکستان سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق یا رابطہ ثابت نہیں ہوسکا۔ اس کا تعلق ریاست تلنگانہ کے علاقے نظام آباد سے ہے اور اسے 12 سال قبل طلاق ہوگئی تھی، اس کا سابق سسرال ممبئی میں مقیم ہے، خاتون چند روز قبل نظام آباد سے بذریعہ ٹرین ممبئی کے لیے نکلی تھی لیکن وہ وہاں پہنچی نہیں، جس پر نظام آباد میں ہی اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔ خاتون کے گھروالوں کا کہنا ہے کہ اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں، اس کی تصدیق پولیس کی جانب سے کرائے گئے طبی معائنے سے بھی ہوئی ہے، خاتون کو جلد ہی اس کے ورثا کے حوالے کردیا جائے گا۔

پاکستان جانیوالا پانی روک کر 5 بھارتی ریاستوں کو فائدہ پہنچایا : بھارتی وزیرنے جارحیت کا جرم تسلیم کرلیا

نئی دہلی (این این آئی) بھارتی وزیر آبی وسائل نتن گڈکری نے کہا ہے کہ مودی سرکار نے پاکستان جانے والا پانی روکا جس سے پانچ بھارتی ریاستوں کا فائدہ ہوا۔ یہ پانی شاہ پور کنڈی ڈیم، ستلج بیاس کی ایک اور لنک کینال اور مقبوضہ کشمیر میں ا±جھ ڈیم کی مدد سے روکا گیا۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق گڈکری نے کہا کہ دریائے ستلج، بیاس اور راوی بھارت کو دیئے گئے تھے مگر ان کا پانی پاکستان بھی جا رہا تھا، جسے روک دیا گیا۔ اس سے بھارت کی ریاست مشرقی پنجاب، ہریانہ، اترپردیش، راجستھان اور دہلی کو فائدہ ہوا۔ نتن گڈکری کے مطابق یہ پانی شاہ پور کنڈی ڈیم، ستلج بیاس کی ایک اور لنک کینال اور مقبوضہ کشمیر میں ا±جھ ڈیم کی مدد سے روکا گیا۔