لاہور (ویب ڈیسک ) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ میں تبدیلی نہیں لائی اور مراد علی شاہ نے استعفیٰ نہیں دیا تو حکومت کو عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔صوبائی دارالحکومت کراچی آمد کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا سندھ کے عوام پھونک مارتے ہیں تو عوام کا پیسہ دبئی چلا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کا درد رکھنے والے تبدیلی چاہتے ہیں کیونکہ سندھ میں تبدیلی پورے پاکستان میں تبدیلی ہے اور پیپلز پارٹی کی بھرپور اکثریت صوبے میں تبدیلی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعلیٰ سندھ کے استعفیٰ کے مطالبہ اس لیے کرتے ہیں کیونکہ جس چراغ کو رگڑ کر اومنی گروپ کے سارے کام ہورہے تھے، اس کے جن مراد علی شاہ ہیں اور جب وہ چراغ رگڑتے ہیں تو مراد علی شاہ کہتے ہیں کہ میرے لیے کیا حکم ہے‘۔فاروڈ بلاک سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’ہر وہ شخص جس میں سندھ کے عوام کا درد ہے وہ صوبے میں تبدیلی چاہتا ہے، پیپلز پارٹی کے لوگ بھی تبدیلی چاہتے ہیں، جب یہ معاملہ شروع ہوا تو پی پی اراکین نے ہم سے رابطہ کیا اور تبدیلی کے لیے آگے بڑھنے کا کہا کیونکہ سندھ کے عوام کا بھی حق ہے کہ وہ تبدیلی کا حصہ بنیں ۔انہوں نے کہا کہ بطور وزیر اطلاعات میں نے اکانمی کلاس میں سفر کیا جبکہ سینیٹر رضا ربانی 27 سال سے بزنس کلاس میں سفر کرتے ہیں، وہ وزرا کالونی میں رہ رہے ہیں، اگر آج بینظیر بھٹو شہید زندہ ہوتی تو انہیں سندھ کا سب سے زیادہ دکھ ہوتا ۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ فاٹا کی ترقی کے لیے این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے علاوہ تمام صوبے حصہ ڈال رہے ہیں لیکن یہ لوگ اس سے لاتعلقی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے پیسے بھی سندھ کے غریبوں میں خرچ نہیں ہونے بلکہ زرداری اور اومنی گروپ پر خرچ ہونا ہے، یہ رقم لندن اور دبئی میں خرچ ہونی ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ تبدیلی کا سفر شروع ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں پیپلز پارٹی خود تبدیلی لے آئیں، مراد علی شاہ خود استعفیٰ دے دیں اور نیا وزیر اعلیٰ لے آئیں، ہم موقع دینا چاہتے ہیں کہ اگر انہوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو یقینی طور پر ہمیں عملی اقدامات لینا ہوں گے اور پیپلز پارٹی کی بھرپور اکثریت ہمارا ساتھ دے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں تیل اور غریبوں کی تمام اشیا چیزیں سستی ہیں، سوائے چند چیزوں کے سبزیوں کی قیمتوں میں کمی آئی ہے البتہ بڑے لوگوں کے لیے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن غریب کے لیے کمی آئی ہے اور ان کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ سندھ کے عوام کے مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں اور پیپلز پارٹی خود اس بارے میں سوچ کر ان سے استعفیٰ لے۔وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کا وارث کوئی نہیں ہے، پیپلز پارٹی نے سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے، ہم سندھ کے عوام کے دکھ درد کے ساتھی ہیں، ہماری جماعت یہاں کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری ابھی بچے ہیں اور بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں اور میرے خیال میں بلاول کا سندھ کے حالات سے کوئی تعلق نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ سندھ کے لیے جو رقم آرہی وہ آپ پر خرچ نہیں ہورہی، اگر عوام خیال نہیں کریں گے تو یہ پیسہ باہر ہی خرچ ہوتا رہے گا۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم پورے نظام کی حمایت کرتے ہیں لیکن تبدیلی ناگزیر ہے،جتنا پیسا سندھ کو ملا ہے اتنا اگر خرچ ہوتا تو یہاں لوگوں کو کوئی گلہ نہیں ہوتا۔میڈیا سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اشتہارات کے بقایاجات کی مد میں ہم نے فوری طور پر 50 کروڑ روپے جاری کیے تاکہ ملازمین کو نوکریوں سے نہ نکالا جائے لیکن اس کے باوجود بھی اس عمل کو نہیں روکا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نئے اشتہاری پالیسی لا رہے ہیں، جو ملازمین کو نوکریوں سے نہ نکالنے اور تنخواہوں کی وقت پر ادائیگی سے مشروط ہوگی، جو ادارہ ایسا نہیں کرے گا اسے اشتہارات نہیں دیں گے۔وفاقی وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ نیب نے وزیراعظم پر 27 لاکھ روپے کا ایک کیس بنا دیا ہے، جس کی کوئی تک نہیں اور نیب کو یہ کیس واپس لے کر وزیر اعظم سے معافی مانگنی چاہیے۔
Monthly Archives: January 2019
’ہونٹ پسند نہیں تھے اس لیے تبدیل کردیئے‘
ممبئی (ویب ڈیسک ) بھارتی اداکارہ و گلوکارہ سارہ علی خان نے نئے گانے کی جلد ریلیز کے اعلان کے لیے سوشل میڈیا پر پر اپنی ایک سیلفی کا سہارا لیا تاہم انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ گیا۔سارہ خان نے گزشتہ سال نومبر میں اپنا پہلا گانا ریلیز کیا تھا، جس کے ساتھ انہوں نے اپنے کیریئر کو گلوکاری کی جانب بھی موڑ لیا، جبکہ اب انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد اپنا دوسرا گانا ریلیز کرنے جارہی ہیں۔سارہ خان نے اپنے انسٹاگرام اکاو¿نٹ پر اپنی ایک سیلفی کے ساتھ نئے گانے کی جلد ریلیز کا اعلان کیا۔اداکارہ نے کہا کہ جیسے اس وقت شادی کا سیزن چل رہا ہے، تو وہ اپنے مقبول ڈرامے ’سپنا بابل کا بدائی‘ کے گانے کو الگ انداز میں ریلیز کرنے جارہی ہیں۔اداکارہ نے یہ بھی لکھا کہ امید ہے لوگوں کو ان کا یہ گانا پسند آئے گا۔تاہم صارفین نے ان کے گانے پر دیہان دینے کے بجائے ان کے چہرے پر ہوئی تبدیلی پر زیادہ فوکس کیا، جس کے بعد اداکارہ کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔سارہ کی اس تصویر کو دیکھ کر کئی افراد کا ایسا ماننا تھا کہ اداکارہ نے اپنے ہونٹوں کی سرجری کروائی ہے جس کا نتیجہ غلط ثابت ہوا ہے۔اس حوالے سے ہندوستان ٹائمز کو دیے ایک انٹرویو میں سارہ خان کا کہنا تھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں ا?رہا کہ لوگوں کو مسئلہ کیا ہے، میں نے انسٹاگرام پر اسٹوری کے ذریعے اپنی سرجری کی ویڈیو پوسٹ کی، میں نے خود کھل کر سب کو بتایا کہ میں نے سرجری کروائی ہے، اس عمل کے دوران مجھے بےہوش نہیں کیا گیا، یہ صرف ایک انجیکشن کا کمال ہے‘۔اداکارہ کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ا?پ کے پاس کچھ نہیں ہے اور وہ ا?پ کو ہر صورت چاہیے، تو اسے حاصل کرنے میں کوئی برائی نہیں، مجھے اپنی پوری باڈی پسند ہے، صرف اپنے ہونٹ پسند نہیں تھے، میں چاہتی تھی میرے ہونٹ بھرے ہوئے نظر ا?ئیں، اس لیے انہیں تبدیل کرلیا۔
شائقین کے سرجری کے نتیجے کو خراب کہنے پر سارہ نے کہا کہ ’میں اس سرجری کے نتیجے سے بےحد خوش ہوں، یقین کریں کچھ بھی غلط نہیں ہوا‘۔
صارفین کے مذاق اڑانے پر سارہ کا کہنا تھا کہ ’مذاق اڑانے والوں کو میں توجہ دینا نہیں چاہتی، وہ مجھے کھلا نہیں رہے، وہ ہیں کون جو میرے لیے فیصلہ کریں، میں جب بھی سوشل میڈیا پر کچھ بھی پوسٹ کرتی ہوں تو ایسے کمنٹس سامنے ا?تے ہیں‘۔
اپنے ا?نے والے گانے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’یہ میرا نیا گانا ہے، جو دلہنوں کے لیے بنایا گیا، اسے پاکستانی کمپوزر الطاف سعید نے تیار کیا، ہم نے اس کی بہترین ویڈیو بھی تیار کی ہے‘۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ جلد ایک بولی وڈ فلم میں کام کرتی نظر ا?ئیں گی۔
یاد رہے کہ سارہ خان کا پہلا گانا ’بلیک ہارٹ‘ گزشتہ سال نومبر میں سامنے ا?یا تھا، اس گانے میں انہوں نے خود ہی اداکاری بھی کی، جبکہ ان کے بولڈ انداز کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
مزید پڑھیں: انڈین اداکارہ سارہ خان پاکستانی ڈرامے میں کاسٹ
اس گانے میں اداکارہ کافی بولڈ ملبوسات میں نظر ا?ئیں، جبکہ ایک سین میں اداکارہ کے جسم کا ایک حصہ تقریباً لباس کے بغیر نظر ا?یا۔
اس گانے پر ہوئی تنقید پر سارہ کا کہنا تھا کہ ’لڑکوں کو کیوں نہیں کہا جاتا کہ انہیں ا?نکھوں کا پردہ کرنا چاہیے؟‘
سارہ نے مزید کہا تھا کہ ’میری صرف ایک ہی شکایت ہے ان لوگوں سے جو خواتین پر انگلی اٹھاتے ہیں، میں ان سے یہی کہنا چاہتی ہوں کہ وہ اپنی ا?نکھوں پر شرم کریں کہ وہ یہ سب دیکھ ہی کیوں رہے ہیں؟ ایسے لوگوں کو پردہ کرنا چاہیے، ہم کیوں کریں؟‘۔
آسٹریلیا کا بھارت کو دوسرے ون ڈے میں جیت کیلئے 299 رنز کا ہدف
ایڈیلیڈ (ویب ڈیسک ) آسٹریلیا نے بھارت کو دوسرے ایک روزہ میچ میں جیت کے لیے 299 رنز کا ہدف دیا ہے۔آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو شان مارش کی دھواں دھار بیٹنگ کی بدولت میزبان ٹیم نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 298 رنز بنائے۔اوپننگ بلے باز الیکس کیری 18 اور کپتان ایرون فنچ 6 رنز بنا کر آو¿ٹ ہوئے جب کہ گلین میکسویل 48، مارکس اسٹونس 29، عثمان خواجہ 21 اور پیٹر ہینڈسکوم 20 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔آسٹریلیا کی جانب سے سنچری بنانے والے شان مارش نے 3 چھکوں اور 11 چوکوں کی مدد سے 123 گیندوں پر 131 رنز بنائے۔بھارت کے بھونیشور کمار نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں جب کہ محمد شامی نے 3 اور روندرا جدیجا نے ایک وکٹ حاصل کی۔ یاد رہے کہ آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان 3 ایک روزہ میچز پر مشتمل سیریز میں میزبان ٹیم کو 0-1 کی برتری حاصل ہے۔
بیکٹیریا سے بجلی بنانے والی بیٹری میں اہم کامیابی
بوسٹن( ویب ڈیسک ) وہ دن دور نہیں جب بیکٹیریا پر مشتمل بیٹریوں سے چھوٹے آلات چلانا ممکن ہوگا کیونکہ اس ضمن میں ایک اہم اور کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔مشہور تحقیقی ادارے میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ماہرین نے بجلی پیدا کرنے والے بیکٹیریا کو الگ کرنے اور ان کی درجہ بندی کا ایک نیا طریقہ وضع کیا ہے۔قدرت کے کارخانے میں بہت سے بیکٹیریا (جرثومے) بجلی پیدا کرتے ہیں تاہم انہیں تجربہ گاہوں میں رکھنا اور ان کی تعداد بڑھانا مشکل اور مہنگا کام ہوتا ہے اور اسی بنا پر بیکٹیریا کی بیٹری میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی تھی۔
اس ضمن میں ایم آئی ٹی کے ماہرین نے ایک نیا طریقہ وضع کیا ہے جس سے برق پیدا کرنے والے بیکٹیریا کو الگ کرنا قدرے آسان ہوگیا ہے۔ اس طرح بیکٹیریا کا الیکٹران کی خلوی جھلی سے باہر آتا ہے اور یہ عمل ایکسٹر سیلولر الیکٹران ٹرانسفر یا ای ای ٹی کہلاتا ہے۔
بیکٹیریا میں ای ای ٹی کے عمل کو دیکھنا اور اس کی درجہ بندی سب سے بڑا چیلنج تھا۔ جسے اب ایک نئی تکنیک ڈائی الیکٹرو فوریسس کو استعمال کرکے دو اقسام کے بیکٹیریا الگ کیے گئے ہیں۔ اس بنا پر بجلی بنانے والے بیکٹیریا کو الگ کرکے کام کی شے حاصل کرنے میں بہت مدد ملی ہے۔
اس کے لیے ماہرین نے ریت گھڑی جیسے چھوٹے ا?لے میں مائع کے خردبینی راستے یا خانے (چینلز) بنائے اور ان کے خواص کو نوٹ کیا۔ اس طرح بہت زیادہ بجلی بنانے والے بیکٹیریا سامنے ا?ئے۔ اگلے مرحلے میں ماہرین ان پر مشتمل بیٹری بنانے پر کام کریں گے۔
نامور اداکارہ دیدار دوسرے بیٹے کی ماں بن گئیں
لاہور (صدف نعیم ) فلم اور تھیٹر کی نامور اداکارہ دیدار دوسرے بیٹے کی ماں بن گئیں۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے فیروز پور روڈ پر واقع مقامی پرائیوٹ ہسپتال میں گزشتہ صبح بیٹے کوجنم دیا ہے۔ زچہ اور بچہ دونوں خیریت سے ہیں۔پیدائش کی خبرسنتے ہی کئی فنکارانہیں مبارک باد پیش کرنے کے لئے ہسپتال پہنچ گئے جبکہ بعض فنکاروں نے ٹیلی فون پرمبارک باد پیش کی۔ بیٹے کی پیدائش پر اداکارہ دیدار اور انکے شوہر نہایت خوش ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ دیدار کو ایک دو روز تک ہسپتال سے گھر منتقل کردیا جائے گا۔ یاد رہے کہ دیدار اس سے قبل ایک تین سالہ بیٹے کی بھی ماں ہیں۔
وزیراعظم نے این آر او بارے حقائق واضح کر دیئے
اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے اپوزیشن کا واک آﺅٹ حکومت پر دباﺅ ڈال کر این آر او لینے کے لیے ہے۔وزیراعظم نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ ہر سال پارلیمنٹ پر عوام کے ٹیکس کے کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور اپوزیشن کی جانب سے اجلاس سے ایک اور واک آﺅٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن صرف یہی کر سکتی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات حکومت پر دباﺅڈالنے اور این آر او لینے کا حربہ ہیں، اس طرح کرپشن کے خلاف احتساب کو نہیں روکا جاسکتا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیب کے مقدمات تحریک انصاف کے بنائے ہوئے نہیں ہیں۔وزیراعظم نے سوال کیا کہ کیا جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ منتخب سیاسی رہنماﺅں کو کرپشن سے استثنیٰ حاصل ہے، ایسا لگتا ہے جیسے منتخب نمائندوں کو انتخاب کے بعد لوٹ مار کا لائنسس مل جاتا ہے۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے فوجی عدالتوں پر سوالات کھڑے کر دیئے ، نیا پنڈورا باکس کھل گیا
کراچی (ویب ڈیسک ) رواں سال مارچ میں فوجی عدالتوں کی 2 سالہ مدت پوری ہونے کے بعد اس میں توسیع کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالفت واضح طور پر نظر آرہی ہے اور پارلیمنٹ میں اعلیٰ عہدہ رکھنے والے پارٹی رکن نے کہا ہے کہ خصوصی عدالتی انتظامات عارضی حل کے لیے کیے گئے تھے اور اب ان کی مزید ضرورت نہیں۔ کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے فوجی عدالتوں کے خلاف ان کی اور ان کی جماعت کی رائے کی وجوہات پیش کیں، ساتھ ہی انہوں نے ان کے قیام کے وقت کی امن و امان کی صورتحال کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ 2 سال کے عرصے کے دوران صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب فوجی عدالتوں کی تجویز اور قیام عمل میں آیا، اس وقت ایک خاص ماحول اور صورتحال تھی، جس نے اس کے قیام کے لیے اتفاق رائے کا راستہ ہموار کیا۔سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ 2 برس کے دوران صورتحال مکمل تبدیل ہوگئی ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ ان کی مزید ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ برس پہلے عدلیہ کو خطرات تھے، جس نے فوجی عدالتوں کو خلا پر کرنے کی اجازت دی، تاہم موجودہ صورتحال میں ہمیں فوجی عدالتوں کی ضرورت نہیں۔اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں وزارت قانون نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ فوجی عدالتوں میں دوسری توسیع کے لیے سمری وفاقی کابینہ کو منظوری کے لیے بھیج دی گئی ہے۔واضح رہے کہ سلیم مانڈوی والا کے یہ خیالات پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان کے ایک ماہ بعد سامنے ا?ئے ہیں، جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ ان کی جماعت فوجی عدالتوں میں مزید توسیع کی حمایت نہیں کرے گی۔اپنی گفتگو کے دوران چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے سے متعلق ان کی جماعت کے ارادوں سے متعلق، انہوں نے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی بلکہ کسی اقدام یا تبدیلی کے لیے صرف’جمہوری عمل‘ کی جانب اشارہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ’ہم نے ہمیشہ کسی بھی تبدیلی یا اقدام کے لیے آمریت اور غیر جمہوری اقدام کی مخالفت کی ہے‘۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ ہم ہر اقدام کا خیر مقدم کریں گے اور اس کا حصہ بننا چاہیں گے جو تمام جمہوری اور پارلیمانی اقدار کے مطابق ہو‘، لیکن اس پالیسی سے ہٹ کر کوئی بھی چیز قابل قبول نہیں اور نہ ہی ہم ایسا کچھ سوچ رہے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے کراچی پریس کلب کی نئی منتخب باڈی کو مبارکباد دی اور یقین دلایا کہ ان کی جماعت غیر اعلانیہ سینسر شپ اور میڈیا ورکز کو اداروں سے نکالنے جیسے اقدامات کے خلاف ہے۔
شاہراہ قراقرم پر لینڈ سلائیڈنگ سے 9مزدور جاں بحق
اپرکوہستان (ویب ڈیسک ) خیبرپختونخوا کے ضلع اپرکوہستان میں شاہراہِ قراقرم پر لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں ایک گاڑی آنے سے 9 مزدور جاں بحق ہوگئے۔تھانہ داسو کے ایس ایچ او نصیر الدین بابر کے مطابق شاہراہ قراقرم کی توسیع کا کام جاری رہنے کے باعث لینڈ سلائیڈنگ ہوتی رہتی ہے۔ایس ایچ او کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی میں سوار مزدور برسین میں کام مکمل کرکے واپس داسو جارہے تھے کہ اچانک زیرو پوائنٹ کے قریب ان کی گاڑی قریبی پہاڑ سے ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آگئی اور بھاری ملبے تلے دب گئی۔مقامی افراد نے کئی گھنٹوں کی جدوجہد اور بھاری مشینری کے ذریعے ملبے سے 9 لاشیں نکال کر اسپتال منتقل کردیں، جنہیں بعدازاں ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردیا گیا۔جاں بحق ہونے والوں میں حجت میر، سون زر، محمد غنی، اعظم ریاض، عبدالمالک، ملوک شاہ، سیف الرحمان اور شبیر احمد شامل ہیں۔
صرف 7 روز میں حکومت نے 113 ارب روپے قرض کیوں لیا ؟ چونکا دینے والی رپورٹ
کراچی (ویب ڈیسک ) اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ حکومت نے صرف ایک ہفتے کے دوران ہی بجٹ کی معاونت کے لیے ایک سو 13 ارب روپے قرض لیا ہے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے شائع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی ششماہی کے دوران ہدف سے کم آمدن ہونے کی وجہ سے بجٹ سپورٹ نے بہت زیادہ اضافہ دیکھا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 31 جولائی 2017 سے لے کر 4 جنوری 2018 تک حکومت نے بجٹ سپورٹ کے لیے 8 سو 35 ارب 70 کروڑ روپے قرض لیا جبکہ گزشتہ برس یہی قرضہ 3 سو 53 ارب 40 کروڑ روپے تھا، تاہم دیکھا جائے تو اس میں 136 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔مرکزی بینک کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے تک حکومتی قرض 7 سو 22 ارب روپے تھا تاہم 4 جنوری تک یہ قرض 8 سو 35 ارب 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔اس کا مطلب ہے کہ حکومت کی جانب سے لیے گئے قرض میں ایک سو 13 ارب روپے کا اضافہ صرف ایک ہفتے کے دوران ہی ہوا حکومت کا زیادہ تر انحصار اسٹیٹ بینک سے قرض پر ہوتا ہے تاہم یہ قرض اب بڑھ کر 36 کھرب 50 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔اس کے علاوہ حکومت نے شیڈول بینکوں کی جانب سے قرض لینے کے فیصلے کو موخر کردیا ہے جس کی وجہ سے اب اس کے پاس مرکزی بینک سے قرض لینے کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے کیونکہ حکومت اہداف کے مطابق آمدن حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے۔علاوہ ازیں حکومت رواں مالی سال کا تیسرا بجٹ بھی پیش کرنے جاری ہے تاکہ ملکی آمدن کو بڑھایا جاسکے۔خیال رہے کہ وفاقی وزیرِخزانہ اسد عمر رواں ماہ 23 جنوری کو ضمنی بجٹ پیش کریں گے۔اسد عمر کا ضمنی بجٹ سے متعلق کہنا تھا کہ یہ بجٹ حکومت کو اپنی آمدن بڑھانے میں مدد دے گا۔امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر حکومت اسی اسی رفتار کے ساتھ قرض لیتی رہی تو رواں مالی سال کے دوران بجٹ خسارے کا ہدف 5.1 فیصد سے تجاوز کر جائے گا۔حکومت اس وقت انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے رابطے میں بھی ہے تاہم اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کے معاملے میں عالمی مالیاتی ادارے کو پریشانی کا امکان ہے۔سعودی عرب کی جانب سے امداد جبکہ متحدہ عرب امارات اور چین کی جانب سے امداد کی یقین دہانی سے حکومت بیلنس آف پیمنٹ کی ادائیگی کو برقرار رکھنے کے لیے ڈونرز کے ساتھ رابطے میں رہے گی۔
حکومتی یو ٹرن ؟ ہر پی ٹی آئی ایم پی اے کیلئے 10 لاکھ کا اعلان
لاہور (آن لائن) پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین پنجاب اسمبلی کو دس کروڑ روپے کی فی ایم پی اے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے باقاعدہ سمری تیار کر لی گئی ہے۔ جسے آئندہ ہفتے ہونے والے پنجاب کی صوبائی کابینہ کے اجلاس میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ جس کی منظوری ہوتے ہی پی ٹی آئی کے تمام ایم پی ایز کو دس دس کروڑ روپے کی رقم ادا کر دی جائے گی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے جو سمری تیار کی گئی ہے اس میں پی اینڈ ڈی تجاویز کو شامل کیا گیا ہے۔
30 لاکھ سے زائد کی پراپرٹی خریدنے والوں کیلئے بری خبر ، شکنجہ تیار
لاہور(وقائع نگار) شہر کے پوش علاقوں میںپراپرٹی خریدنے کیلئے رقم کہاں سے آئی،ایف بی آر نے تمام پراپرٹی مالکان کو تفصیلات فراہم کرنے کیلئے 15 روز کی مہلت دی ہے۔سال 2017 میں پراپرٹی خریدنے والے 550 افراد کے ٹیکس معاملات کی چھان بین شروع، ایف بی آر نے نوٹسز جاری کردئیے۔تفصیلات کے مطابق ایف بی آر نے ڈیفنس ، کینٹ اور ماڈل ٹاو¿ن میں 2017 کے دوران 30 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی پراپرٹی خریدنے والوں کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں، پراپرٹی رجسٹرڈ کرانے والے 550 افراد سے ذرائع آمدن کی تفصیلات مانگ لی گئی ہیں۔ایف بی آر نے ڈیفنس میں پراپرٹی خریدنے والے 150 جبکہ کینٹ میں پراپرٹی خریدنے والے 100 افراد کو نوٹسز جاری کیے ہیں، جبکہ گلبرگ میں پراپرٹی خریدنے والے 120، ماڈل ٹاو¿ن کے 130 اور گارڈن ٹاو¿ن میں پراپرٹی خریدنے والے 50 افراد کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔
سردی ، برفباری جاری ، محکمہ موسمیات کا اہم اعلان
اسلام آباد(وقائع نگار خصوصی)محکمہ موسمےات کے مطابق آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک/جزو ی ابر آ لود رہے گا تاہم پنجاب کے میدانی علاقوں اور بالائی سندھ میں بعض مقامات پر دھند پڑنے کا امکان ہے۔گزشتہ چوبےس گھنٹوں کے دوران ملک کے بےشتر علاقوں مےں موسم شدےد سرد اور خشک رہا تاہم پنجاب کے میدانی علاقوں اور بالائی سندھ میں بعض مقامات پر دھند چھائی رہی گزشتہ روز استور مےں منفی 15 ڈگری سےنٹی گرےڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گےا جبکہ کالام،سکردو منفی 13،بگروٹ منفی 11،گوپس، مالم جبہ منفی09،ہنزہ، کوئٹہ منفی 08،قلات دیرمنفی 06،چترال،راولا کوٹ، دروش منفی05، کاکول منفی04 ،مری منفی 03 اور اسلام آباد مےں منفی ایک سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
علیمہ خان نے اثاثوں بارے خود ہی بھید کھول دیا
اسلام آباد(اے این این‘ این این آئی) وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ انہوں نے بیرون ملک اثاثے جائز ذرائع اور ظاہر کاروباری آمدن سے بنائے ہیں۔بیرون ملک اثاثوں کے حوالے سے علیمہ خان نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ میرے بیرون ملک اثاثوں کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، مجھ پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہ اثاثے غیرقانونی اور شوکت خانم کی خیرات کے پیسے سے خریدے، ان تمام خبروں اور الزامات کو مسترد کرتی ہوں۔علیمہ خان کا کہنا ہے کہ شوکت خانم خیراتی ہسپتال میری مرحوم والدہ کی یاد میں بنا ، ہسپتال کو ملنے والے چندے کا آڈٹ نامور عالمی فرم سے کرایا جاتا ہے، میں نے اپنی زندگی اس خیراتی کام کیلئے وقف کر دی ہے، میری جائیداد اور میرے خیراتی کام آپس میں کوئی تعلق نہیں، میں نے اثاثے اپنی آمدن اور اپنے شوہر کے اثاثوں سے بنائے ہیں۔ جھوٹی اور بدنام کرنے والی مہم سے مجھے تکلیف پہنچائی جارہی ہے۔وزیر اعظم کی ہمشیرہ کا کہنا تھا کہ میں گزشتہ 20 سال سے ٹیکسٹائل کا کامیاب کاروبارکرتی ہوں، میرے عالمی سطح پر ٹیکسٹائل کے خریدارہیں، میرے سالانہ ایکسپورٹ آرڈر تقریباً 2 ارب روپے کے ہوتے ہیں، میری ایکسپورٹ یا کاروبار ملکی معیشت میں بھی حصہ ڈالتا ہے، دبئی کی جائیداد کے لئے رقوم جائز بینکنگ ذرائع سے بھیجی گئیں، اس کے لیے دبئی میں بینک سے قرضہ بھی لیا گیا، نیوجرسی کی جائیداد 14 کروڑ 5 لاکھ میں خریدی گئی، یہ جائیداد بھی قانون کے مطابق ٹیکس ادا کر کے ظاہر کی گئی، نیوجرسی کی جائیداد کے لئے جائز بینکنگ ذرائع سے پیسے بھیجے اور بینک سے قرض لیا، یہ مشترکہ جائیداد کاروباری مقاصد کے لئے خریدی گئی تھی، نیوجرسی کی جائیداد قانون کے مطابق ٹیکس ادا کر کے ظاہر کی گئی۔واضح رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی دبئی کے بعد امریکا میں بھی جائیداد کا انکشاف ہوا تھا۔ امریکا میں موجود یہ جائیداد علیمہ خان نے 2004 ءمیں خریدی مگر جون 2017 ءتک پاکستانی ٹیکس حکام کے سامنے ظاہر نہیں کی تھی۔ دریں اثناء علیمہ خان سپریم کورٹ پہنچ گئیں اور بیرون ملک جائیدادوں کے کیس کی سماعت دیکھی۔عدالت پہنچنے کے موقع پر انہوں نے صحافیوں کی طرف سے کیے گئے سوالات کے جوابات دیئے۔علیمہ خان نے کہا کہ میں نے اپنی تمام جائیدادیں ظاہر کی ہوئی ہیں، امریکہ میں جائیداد بھی ظاہر کی ہوئی ہے، میری سلائی مشینوں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ نے مشینوں کی کمائی سے جائیدادیں بنائیں؟۔علیمہ خان نے جواب دیا کہ جی پاکستان میں بہت سی خواتین سلائی مشین سے روزگار کما رہی ہیں،میں 20 سال سے کام کر رہی ہوں۔صحافی نے پوچھا کہ آپ کو اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کا بے نامی دار ٹھہرایا جا رہا ہے؟۔علیمہ خان نے کہا کہ میں اس حوالے سے اپنا بیان دے چکی ہوں،مجھے والدین کی جانب سے بھی جائیداد کا حصہ ملا تھا، مجھے عمران خان کی طرف سے نہیں بلکہ والدین کی طرف سے حصہ ملا، آپ ریکارڈ چیک کرلیں تمام چیزیں ریکارڈ پرموجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میری ویلتھ اسٹیٹمنٹ چیک کر لیں، میں 20سال سے کام کر رہی ہوں، جب خاتون کام کرتی ہے تو اس کی سلائی مشینوں کابھی مذاق اڑایا جاتا ہے۔وزیراعظم کی ہمشیرہ نے یہ بھی کہا کہ سلائی مشینیں ہماری ایکسپورٹ کا بڑا حصہ ہیں، لاکھوں لوگ کام کر رہے ہیں، پاکستان میں فارن ایکسچینج ایکسپورٹ سے آ رہا ہے، سلائی مشینوں سے آ رہا ہے۔


















