لاہور(ویب ڈیسک)ویسے تو دیکھا جائے تو انٹرنیٹ کی دنیا گوگل کے بغیر ویران ہے۔خودکار گاڑیوں سے لے کر ورچوئل رئیلٹی ہیڈسیٹ اور اسمارٹ کانٹیکٹ لینسز تک گوگل کے متعدد پراجیکٹس ہیں مگر اس کی اصل پہچان سرچ انجن ہی ہے۔اور سب ہی گوگل پر روزانہ کچھ نہ کچھ سرچ کرتے ہیں، تاہم کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں گوگل کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔
ایسی چیزیں جن کے اشتہار بعد میں دیکھنا پسند نہ کریں
ہوسکتا ہے کہ آپ گوگل پر کسی وجہ سے ڈائپر ریش کے علاج کو تلاش کرنے کی کوشش کریں اور اگر ایسا ہی کچھ کرتے ہیں تو پھر آپ کو متعدد اشتہارات کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ ہر بار جب بھی آپ کوئی ویب پیج اوپن کریں گے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کی مطلوبہ سرچ سے متعلق اشتہار آپ کے سامنے آجائے۔
کسی قسم کے جرائم سے متعلق
یہ کافی سنگین بھی ہوسکتا ہے، جیسے آپ گوگل پر سرچ کریں کہ کوئی ہتھیار کیسے بنایا جاتا ہے وغیرہ، چاہے ایسا تفریح کے لیے ہی کیوں نہ کیا گیا ہو، مگر مختلف ممالک میں سیکیورٹی ادارے اس طرح کی سرچز کو ہمیشہ ٹریک کرتے ہیں، اور آپ کا آئی پی ایڈریس ان کے ڈیٹابیس میں جاسکتا ہے۔
اپنے مرض کی علامات
پہلی بات تو یہ ہے کہ جب طبی مسائل کا سامنا ہو تو اس کے لیے متعدد ویب سائٹس ایسی موجود ہیں، جہاں اس حوالے سے بہترین مواد دستیاب ہوتا ہے، مگر اپنے مرض کی علامات کو انٹرنیٹ پر سرچ کرنا ذہنی طور پر دھچکا پہنچا سکتا ہے، بلکہ بدترین اور بے چینی کا شکار کرسکتا ہے، تو اگر کوئی طبی مسئلہ ہو تو ڈاکٹر گوگل سے رجوع نہ کریں بلکہ کسی ڈاکٹر کے پاس چلے جائیں۔
جلد کے مسائل
اگر چہرے پر کوئی دانہ یا دھبہ ہو تو گوگل نہ کریں۔ ایسا کرنے پر آپ کے سامنے اتنی زیادہ معلومات اور تصاویر آجائیں گی جو کہ ہلا کر رکھ دیں گی۔ ویسے تو عام طور پر دانے کچھ دن میں خود ٹھیک ہوسکتے ہیں، تاہم پھر بھی پریشانی ہے تو کسی ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ٹرانسلیشن
کتنی بار آپ کو انگلش کے اردو ترجمے کے لیے گوگل سے رجوع کرنا پڑا؟ ایسا کرنے کی کوشش کرنی بھی نہیں چاہئے کیونکہ گوگل سے جو ترجمہ آپ کے سامنے آئے گا وہ شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ ہوسکتا ہے کہ جملے کا مطلب کچھ سے کچھ ہوجائے۔
کھٹمل
یہ ننھے کیڑے یقیناً رات کی نیند خراب کرسکتے ہیں، تاہم اگر آپ ویسے ہی اس بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں یا دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ کیڑے کیسے پھیلتے ہیں تو ایسا نہ کریں کیونکہ ان کی تصاویر نیند اڑا دیں گی۔
تمباکو نوش افراد کے پھیپھڑے
ہم میں سے بیشتر افراد تمباکو نوشی کے عادی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اکثر وہ اس عادت کے مضر اثرات کے بارے میں سوچتے بھی ہوں، انٹرنیٹ تمباکو نوشی کے عادی افراد کے بیمار پھیپھڑوں کی تصاویر سے بھرا ہوا ہے، جو کہ ہوسکتا ہے کہ آپ کو بہت زیادہ پریشان کردیں۔
اپنا نام
یہ کوئی راز نہیں کہ انٹرنیٹ کے اس عہد میں پرائیویسی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی، اگر آپ اپنے نام کو گوگل کریں گے تو بہت زیادہ امکان ہے کہ کچھ ناخوشگوار نتائج کا سامنا ہوجائے، آپ کی چند بری تصاویر، ماضی کی معلومات، غیر مناسب مواد وغیرہ، چونکہ وہ مواد یا تصاویر ڈیلیٹ کرنا آپ کے لیے ممکن نہیں تو اپنے نام سے سرچ کرنے سے بھی گریز کرنا چاہئے۔
ایسا کچھ جو آپ کو شرمندہ کردے
گوگل پر لوگ بہت کچھ سرچ کرتے ہیں جن میں ایسا مواد بھی ہوسکتا ہے جو دوسروں کے سامنے آپ کو شرمندہ کردے، اس سے ہٹ کر بھی آپ ایسے اشتہارات اپنی کمپیوٹر اسکرین پر اچانک نمودار ہوتے دیکھنا پسند نہیں کریں گے جو کہ آپ کی شرمندہ کردینے والی سرچز کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں۔
کیڑے
اگر تو آپ کو کیڑوں سے متعلق کچھ سرچ کرنا ہی ہے تو مخصوص سرچ اصطلاحات استعمال کریں، ورنہ ایسی تصاویر سامنے آجائیں گی جو ریڑھ کی ہڈی میں سنساہٹ دوڑا سکتی ہیں، جبکہ ذہنی صحت بھی ان تصاویر اور معلومات سے متاثر ہوسکتی ہے تو اس قسم کی سرچ سے مکمل گریز کریں۔
مصنوعات محفوظ ہیں یا نہیں
انٹرنیٹ پر ہر شخص کی اپنی رائے ہوتی ہے اور متعدد افراد خود کو ہر فن مولا قرار دیتے ہیں، تو ایسے حالات میں اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کوئی مخصوص چیز آپ کی جلد ، ہاضمے یا کسی بھی معاملے کے بہتر ہے یا نہیں تو آپ گوگل پر کچھ فورمز پر اس کا جواب ہاں ملے گا تو دیگر میں نہیں۔ تو اس معاملے میں کسی ماہر سے مشورہ کرلینا زیادہ بہتر ہے۔
Monthly Archives: January 2019
آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ رینکنگ میں پاکستانی کھلاڑی شامل یا نہیں؟دیکھئے خبر
دبئی (ویب ڈیسک)تین میچوں کی سیریز میں پاکستان کو وائٹ واش کرنے کے بعد جنوبی افریقا کی ٹیم ٹیسٹ رینکنگ میں دوسرے نمبر پر آ گئی۔آئی سی سی کی جانب سے جاری نئی ٹیسٹ رینکنگ کے مطابق پاکستان کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں میں کامیابی کے بعد جنوبی افریقا نے 4 پوائنٹس حاصل کر کے انگلینڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔نئی رینکنگ میں پروٹیز 110 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جب کہ بھارت آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کامیابی کے بعد 116 پوائنٹس کے ساتھ بدستور پہلے نمبر پر براجمان ہے۔پاکستان ٹیسٹ سیریز میں بدترین شکست کے بعد ایک درجے تنزلی کے بعد چھٹے سے ساتویں نمبر پر آ گیا ہے اور اس کے پوائنٹس کی تعداد 92 سے کم ہو کر 88 ہو گئی ہے۔انگلینڈ کی ٹیم 107 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے جب کہ نیوزی لینڈ ایک پوائنٹس کی کمی سے چوتھے نمبر پر موجود ہے۔انگلینڈ کو اپنی تیسری پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے ویسٹ انڈیز کے خلاف 23 جنوری سے شروع ہونے والی تین میچز پر مشتمل سیریز جیتنا ہو گی۔
پنجاب اسمبلی نے چوہدری نثار کو زوردار جھٹکادیدیا، ایسا کام ہو گیا جس کا وہ تصور بھی نہ کر سکتے تھے
لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب اسمبلی میں تین ماہ تک حلف نہ اٹھانے پر رکنیت ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق تین ماہ تک حلف نہ اٹھانے پر رکنیت ختم کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں منظور کر لی گئی ہے۔ یہ قرارداد رکن اسمبلی مومنہ وحید نے پنجاب اسمبلی میں پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ تین ماہ تک حلف نہ اٹھانے والے کی رکنیت ختم کی جائے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو 25 جولائی 2018ءچکے انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست پر شکست ہوئی تاہم پنجاب اسمبلی کی نشست پر وہ کامیاب رہے لیکن ابھی تک انہوں نے رکن اسمبلی کے طور پر حلف نہیں اٹھایا۔چوہدری نثار علی خان نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کی تھی جس دوران صحافی نے ان سے حلف نہ اٹھانے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ الیکشن دھاندلی زدہ تھے جن پر تحفظات ہیں اور حلف اٹھانے کا مطلب نتائج قبول کر لینا ہے، جو میں نہیں کر سکتا۔
آج رات 12 بجے تمام مسروقہ، غیر استعمال شدہ فون بند کردیئے جائیں گے
کراچی (ویب ڈیسک)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق ا?ج رات 12 بجے تمام مسروقہ، غیر استعمال شدہ فون بند کردیئے جائیں گے۔واضح رہے کہ اس سے قبل موبائل فونز کی تصدیق کے لیے پی ٹی اے نے 20 اکتوبر 2018 کی ڈیڈ لائن دی تھی، جسے بعدازاں 15 جنوری تک بڑھا دیا گیا تھا۔پی ٹی اے کے اعلامیے کے مطابق آج رات 12 بجے تک استعمال ہونے والے موبائل فون کار آمد ہوں گے اور اس کے علاوہ تمام اسمگل شدہ، چوری یا چھینے گئے موبائل فونز بند کردیئے جائیں گے۔پی ٹی اے کی ترجمان طیبہ افتخار کے مطابق وہ موبائل فون جو چوری شدہ یا چھینے گئے ہیں اور ان کی رپورٹ پی ٹی اے کو کی گئی ہے یا ا?ج کے بعد جو موبائل فون چھینے یا چوری کیے جائیں گے، انہیں پی ٹی اے فوری بلاک کردے گا یا سراغ لگا کر استعمال کرنے والے سے موبائل فون کے اصل مالک کو واپس کرنے کو کہے گا۔انہوں نے بتایا کہ پی ٹی اے نے اس سلسلے میں ایک واضح نظام وضع کرلیا ہے۔واضح رہے کہ ماضی میں لاکھوں روپے مالیت کے کئی ہزار موبائل فون چھینے اور فروخت کردیئے گئے مگر پی ٹی اے یا سٹیزن پولیس لائڑن کمیٹی (سی پی ایل سی) میں رپورٹ نہ کرنے کی وجہ سے وہ ٹریس نہ ہوسکے۔اس سلسلے میں پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مسافر باہر سے موبائل فون لاتا ہے تو ایئرپورٹ پر ٹیکس ادا کرکے اسے قابل استعمال بنایا جاسکے گا۔
بھارت نے آسٹریلیا کو دوسرے ون ڈے میں 6 وکٹوں سے شکست دے دی
ایڈیلیڈ(ویب ڈیسک)بھارت نے آسٹریلیا کو دوسرے ایک روزہ میچ میں 6 وکٹوں سے شکست دے کر 3 میچز کی سیریز 1-1 سے برابر کردی۔میزبان آسٹریلیا نے بھارت کو جیت کے لیے 299 رنز کا ہدف دیا جو مہمان ٹیم نے ویرات کوہلی کی شاندار سنچری اور مہندرا سنگھ دھونی کی نصف سنچری کی بدولت 4 وکٹوں کے نقصان پر 49.2 اوورز میں حاصل کرلیا۔ہدف کے تعاقب میں روہت شرما اور شیکر دھاون نے پہلی وکٹ پر 47 رنز کی شراکت قائم کی، دھاون 32 اور شرما 43 رنز بنا کر آو¿ٹ ہوئے۔کپتان ویرات کوہلی نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 112 گیندوں پر 104 رنز کی اننگز کھیلی۔مہندرا سنگھ دھونی 55 اور دنیش کارتھک 25 رنز کے ساتھ ناٹ آو¿ٹ رہے اور 299 رنز کا ہدف 49.2 اوورز میں حاصل کیا۔آسٹریلیا کی جانب سے جیسن بیہنڈروف، جے رچرڈسن، مارکس اسٹونس اور گلین میکسویل نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔میچ میں بہترین کارکردگی پیش کرنے پر ویرات کوہلی کو ‘مین آف دی میچ’ کے اعزاز سے نوازا گیا۔آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو شان مارش کی دھواں دھار بیٹنگ کی بدولت میزبان ٹیم نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 298 رنز بنائے۔اوپننگ بلے باز الیکس کیری 18 اور کپتان ایرون فنچ 6 رنز بنا کر آو¿ٹ ہوئے جب کہ گلین میکسویل 48، مارکس اسٹونس 29، عثمان خواجہ 21 اور پیٹر ہینڈسکوم 20 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔آسٹریلیا کی جانب سے سنچری بنانے والے شان مارش نے 3 چھکوں اور 11 چوکوں کی مدد سے 123 گیندوں پر 131 رنز بنائے۔بھارت کے بھونیشور کمار نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں جب کہ محمد شامی نے 3 اور روندرا جدیجا نے ایک وکٹ حاصل کی۔
100 کروڑ کی نمبر پلیٹ: ‘ہر خاص چیز میری ہو’
دبئی (ویب ڈیسک)دبئی ایک خاص شہر ہے۔ یہاں کی عمارتیں خصوصیت کی حامل ہیں۔ یہاں کی سڑکیں خاص ہیں۔ یہ شان و شوکت کی نمود و نمائش والا شہر ہے۔یہاں کے رو¿سا اور شیخ مہنگی چیزوں کے شوقین ہیں۔ دبئی کی سڑکوں پر انتہائی پر تعیش کاریں فراٹے بھرتی ہیں۔ جبکہ لمیٹڈ ایڈیشن کی پرشکوہ عیش و آرائش والی گاڑیاں کروڑوں میں آتی ہیں۔ان کاروں کے نمبر پلیٹ بھی لاکھوں کروڑوں روپے میں آتی ہیں۔ کچھ خاص نمبر حاصل کرنے کے لیے تو کروڑوں روپے بھی خرچ کیے گئے ہیں۔دبئی کے شوقین مزاج لوگوں کو سب سے جدا لائسنس پلیٹ چاہیے اور کار تو خاص ہونی ہی چاہیے۔اپنی کار کے لیے سب سے مختلف اور خاص نظر آنے والی لائسنس پلیٹ کے لیے دبئی کی امیر شہری منھ مانگی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔فینسی نمبر حاصل کرنے کے لیے بولیاں لگتی ہیں اور بعض امیر شیخ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ وی آئی پی نمبروں کی نیلامی سے حکومت کو کروڑوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔35 سالہ محمد المرزوقی پرانی گاڑیوں (ونٹیج کاروں) کے شوقین ہیں۔ انھوں نے اپنی گاڑیوں کے مخصوص نمبروں کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے ہیں۔المرزوقی کے پاس پر تعیش کاروں کا ایک قافلہ ہے اور 11 خصوصی نمبر پلیٹس ہیں۔ وہ خود چار کاریں استعمال کرتے ہیں اور ہر ایک کی لائسنس پلیٹ وی آئی پی ہے۔سرخ رنگ کی ان کی فراری کار کا نمبر 8888 ہے۔ یہ ان کی گاڑیوں کے قافلے کا سب سے اہم نمبر ہے۔المرزوقی کہتے ہیں: ‘میں نے چھ لاکھ درہم (تقریبا 1،63،376 امریکی ڈالر یا سوا دو کروڑ پاکستانی روپے) میں اسے حاصل کیا تھا۔ان کے پاس ایک ایسی نمبر پلیٹ بھی ہے جس میں پانچ بار آٹھ کا ہندسہ آتا ہے۔اس لائسنس پلیٹ کو خریدنے کے لیے المرزوقی نے نو لاکھ درہم (تقریبا 2،45،064 امریکی ڈالر یا ساڑھے تین کروڑ پاکستانی روپے) خرچ کیے۔المرزوقی کو 8 کے ہندسے بہت لگاو¿ ہے۔ ان کی کوشش رہتی ہے کہ ان کی تمام تر گاڑیوں میں آٹھ کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو۔آٹھ کے ہندسے سے انھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے قافلے کے ساتھ ان کا ذاتی ربط باہمی ہے۔وہ کہتے ہیں: ‘میں اپنے آٹھ کے ہندسے کو اپنے موبائل نمبر کے 8 سے ملاتا ہوں۔ اور اس کے لیے بہت پیسے لگتے ہیں۔’تاہم یہ بتانے کے بعد المرزوقی قدرے شرمسار ہوتے ہوئے کہتے ہیں: ‘قیمت کے بارے میں اس طرح کھلے عام باتیں کرنا اچھا نہیں لگتا۔’بہر حال اس طرح کا شوق رکھنے والے المرزوقی پہلے شخص نہیں ہیں۔دبئی کے سرکاری حکام جو ایسے نمبروں کی نیلامی کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی بھی شہری حصہ لے سکتا ہے۔وہ کہتے ہیں: ‘انتہائی تر تعیش یا لگزری کاروں اور خصوصی نمبر پلیٹس سے ان کے مالکان کو سڑکوں پر خصوصی شناخت ملتی ہے۔’دبئی اور عیش و آسائش ایک دوسرے کے ہم قدم ہیں۔ متحدہ عرب امارات کا یہ شہر امیر شیوخ اور اونچی تنخواہیں پانے والے غیر ملکیوں کا پسندیدہ شہر ہے۔سماجی میڈیا کی مشہور شخصیات، جن میں بعض ٹین ایجر بھی شامل ہیں، وہ اپنے مہنگے شوق کے اظہار میں پیچھے نہیں ہٹتے۔انسٹا گرام پر لاکھوں کے پالتو جانوروں کے ساتھ اکثر ان کی تصاویر نظر آتی ہیں۔متحدہ عرب امارات کے سب سے زیادہ آبادی والے اس شہر میں پرتعیش اور پرشکوہ چیزوں کی ریل پیل ہے۔ اور وی آئی پی نمبر پلیٹیں ان میں سے ایک ہیں۔سنہ 2008 میں، دبئی میں ایک نمبر والی لائسنس پلیٹ ایک کروڑ 24 لاکھ امریکی ڈالر میں نیلام ہوئی تھی۔ آج کے حساب سے یہ قیمت پاکستانی روپے میں دو سو کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔دبئی میں آج بھی اس نمبر پلیٹ کو سب سے زیادہ مہنگی نمبر پلیٹ کہا جاتا ہے۔دبئی کی ایک رہائشی اینجلینا کہتی ہیں: ‘جب میں سڑک پر کسی خصوصی نمبر پلیٹ والی کار کو گزرتے ہوئے دیکھتی ہوں تو اس سے فرق تو ضرور پڑتا ہے۔’ایک شہری فری ترابی بھی اینجلینا سے متفق نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ‘بہت سے ممالک میں لوگوں کو مخصوص نمبر سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن دبئی میں فرق پڑتا ہے۔ یہاں یہ ایک ٹرینڈ ہے۔’بطور خاص اس وقت جب آپ کے پاس کوئی سپر کار یا کوئی مخصوص کار ہو۔ دبئی میں محدود ایڈیشن والی کئی کاریں موجود ہیں۔’
‘اگر کسی خاص کار کی نمبر پلیٹ بھی مخصوص ہے تو اس کی شناخت آسان ہو جاتی ہے۔’المرزوقی نے اپنی لیمبورگینی کے لیے 8686 نمبر خریدا ہے۔ ان کی دوسری فیراری کار نمبر 55608 ہے۔وہ کہتے ہیں: ‘پہلے یہ صرف شوق تھا لیکن اب اس نے کاروبار کا روپ اختیار کر لیا ہے۔ میں اپنے سوشل میڈیا پروفائل پر فالوورز کی تعداد دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہوں۔’المرزوقی نے سب سے پہلے جو سپیشل نمبر پلیٹ خریدی تھی اس کا نمبر 888 تھا۔ اس کے بعد وہ 8 کے ہندسے سے منسلک ہر خاص نمبر خریدنے کی کوشش کرنے لگے۔وہ کہتے ہیں: ‘میں اسے خریدنے میں ہچکچاتا نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر خاص چیز میری ہو۔’
لفظ شیمپو متعارف کروانے والے شیخ دین محمد کون ہیں؟
پٹنہ (ویب ڈیسک)آج گوگل نے اپنے ہوم پیج پر شیخ دین محمد کا ‘ڈوڈل’ لگایا ہے جس کے بعد بہت سے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ شیخ دین محمد کون ہیں اور کیا کرتے تھے؟شیخ دین محمد 1759 میں ہندوستان کے شہر پٹنہ میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برطانیہ سے انگریز جوق در جوق آ کر ہندوستان میں بس رہے تھے، لیکن دین محمد نے الٹا راستہ اختیار کیا اور وہ جا کر لندن میں بس گئے۔انھوں نے نہ صرف برطانیہ کو اپنا گھر بنا لیا بلکہ وہاں ‘ہندوستان کافی ہاو¿س’ کے نام سے ایک ریستوران بھی کھول لیا جسے برطانوی سرزمین پر پہلا ریستوران ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آج ہندوستانی کری اور چکن تکہ وغیرہ کا شمار گریزوں کے پسندیدہ ترین کھانوں میں ہوتا ہے۔صرف یہی نہیں، شیخ صاحب کے کریڈٹ پر ایک اور اختراع بھی ہے جو ان کے نام سے کہیں زیادہ مشہور ہے۔ اور وہ ہے کہ انگریزی زبان میں لفظ ‘شیمپو’ کی شمولیت۔بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ شیمپو کو پہلی بار شیخ دین محمد نے متعارف کروایا تھا۔ ایسا کیوں اور کیسے ہوا، اس کی کہانی نیچے چل کر آئے گی، پہلے کچھ باتیں شیخ صاحب کے بارے میں۔ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے خدماتان کی تعلق حجاموں کے خاندان سے تھا۔ ان کی پیدائش کا زمانہ ہندوستان کی تاریخ کے متلاطم ادوار میں سے ایک تھا۔ دین محمد کی پیدائش کے دو سال پہلے انگریزوں نے پلاسی کے میدان میں سراج الدولہ کو شکست دے کر ہندوستان میں اپنے پنجے گاڑ دیے تھے۔جب وہ پانچ سال کے تھے تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے بکسر کی جنگ میں مغل فوج کو بھی شکست دے کر سب کو حیرت زدہ کر دیا کہ ایک تجارتی کمپنی نے طاقتور مغل بادشاہ کو نیچا دکھا دیا ہے۔ اس فتح کے ساتھ ہی انگریزوں نے پورے ہندوستان پر نظریں جما دی تھیں۔اس دوران بہت سے ہندوستانیوں کو عافیت اسی میں نظر آئی کہ وہ انگریزوں کے ساتھ لڑنے کی بجائے ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔یہی کام دین محمد کے خاندان نے کیا۔ پہلے ان کے والد اور بھائی انگریزوں کی فوج کا حصہ بنے اور پھر دین محمد بھی 11 برس کی کچی عمر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج میں بھرتی ہو گئے۔ یہاں ان کا کام جنگ لڑنا نہیں تھا بلکہ فوجی کیمپ میں اپنے پیشے کی مناسبت سے مختلف خدمات انجام دینا تھا جن میں جراحی (سرجری)، مالش اور چمپی وغیرہ شامل ہیں۔دین محمد کے والد تو جلد ہی فوت ہو گئے لیکن وہ ترقی کرتے کرتے صوبیدار کے عہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔انگریزوں کے ساتھ ایک طویل عرصہ گزارنے کے بعد دین محمد بھی انھی کے رنگ میں رنگ گئے، اور بظاہر دوسرے ہندوستانیوں سے الگ تھلگ ہو گئے تھے۔ ایک دفعہ تو لوگوں نے انگریزوں کا ساتھ دینے کی پاداش میں ان پر حملہ بھی کر دیا تھا۔ وہ بڑی مشکل سے اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے۔ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہمیشہ سے وفادار ہندوستانیوں کی ضرورت تھی۔ چنانچہ انھوں نے دین محمد کو مختلف شہروں میں بھیجا تاکہ وہ وہاں کے حالات سے انگریزوں کو باخبر کریں۔ انھوں نے اس حیثیت سے دہلی، ڈھاکہ اور مدراس جیسے دور دراز علاقوں کا سفر کیا۔
کمبھ میلے کا آغاز، لاکھوں افراد مقدس غسل کے لیے جمع
پریاگ راج(ویب ڈیسک)انڈیا کے شمالی شہر پریاگ راج (الہ آباد) میں دنیا میں ہندوو¿ں کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا جانے والا کمبھ میلہ سج گیا ہے اور منگل کو مقدس غسل سے میلے کا باقاعدہ آغاز بھی ہو گیا ہے۔یہ میلہ 49 دنوں تک جاری رہے گا اور چار مارچ کو اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ میلے کے پہلے دن تقریبا ڈیڑھ کروڑ افراد کی آمد متوقع ہے۔میلے کے آغاز کے موقعے پر ضلع پریاگ راج کے تمام سکول اور کالج تین دن کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔شہر کو آنے والی تمام سڑکوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں ہیں اور گاڑیوں کو شہر سے باہر روک لیا گیا ہے جہاں سے لوگوں کو شٹل بسوں اور رکشوں کے ذریعے میلے کے مقام تک پہنچایا جا رہا ہے۔اندازہ ہے کہ اس میلے کے دوران کم از کم 12 کروڑ افراد الہ آباد کا رخ کریں گے اور گنگا اور جمنا کے سنگم پر جمع ہوں گے جن میں دس لاکھ کے قریب غیرملکی بھی شامل ہیں۔ہندوو¿ں کے عقیدے کے مطابق دریائے گنگا اور جمنا کے سنگم کے مقام پر غسل کرنا ان کے گناہوں کو دھو دیتا ہے اور ان کی نجات کا ذریعہ ہے۔کمبھ کے ضلعی کلکٹر کے مطابق اس مرتبہ میلے کی سرگرمیاں 45 مربع کلومیٹر کے علاقے میں پھیلی ہوئی ہیں جبکہ ماضی میں یہ علاقہ 20 مربع کلومیٹر تک ہوتا تھا۔ان کے مطابق اس پھیلاو¿ کا فائدہ یہ ہے کہ سنگم کے مقام پر ہجوم کا دباو¿ زیادہ نہیں ہو گا اور زیادہ اشنان گھاٹ بھی بنائے جا سکے ہیں۔اس میلے کو زمین پر انسانوں کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا جاتا ہے جسے خلا سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی بھی بسائی گئی ہے۔ شہر بھر میں سڑکوں کو کشادہ کیا گیا ہے اور نئے فلائی اوورز بنائے گئے ہیں۔میلے میں 300 کلومیٹر سڑک بنائی گئی ہے۔ شہر کے چاروں طرف وسیع پیمانے پر کار پارکنگ بنائی گئی ہے تاکہ تقریباً پانچ لاکھ گاڑیوں کو پارک کیا جا سکے۔حکام کے مطابق اس سال میلے کے انتظامات پر چار ہزار کروڑ روپے سے زیادہ لاگت آئی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے رواں برس بھی مقدس غسل کے اوقات مقرر کیے ہیں۔ میلے کے منتظم وجے کرن آنند کا کہنا تھا کہ ’پہلا مقدس غسل 15 جنوری کو صبح سوا پانچ بجے ہو گا اور ہر گھاٹ پر 45 منٹ کے دورانیے کے لیے اشنان ہو گا اور یہ سلسلہ شام چار بجے تک چلے گا‘۔کمبھ میلہ الہ آباد میں صدیوں سے منعقد ہو رہا ہے لیکن گذشتہ دو دہائیوں سے یہ ایک میگا ایونٹ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔رواں سال کا میلہ ‘اردھ کمبھ’ یعنی نصف کمبھ ہے اور یہ دو کمبھ میلوں کے بیچ میں منایا جاتا ہے لیکن اس میں کوئی کمی نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ سنہ 2013 میں ہونے والے پورے کمبھ سے بھی بڑا ہونا متوقع ہے۔میلے میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے کا کہنا ہے کہ اس برس یہ میلہ بہت بڑا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ملک کی ہندو قوم پرست حکومت نے اس کا انتظام ملک میں ہونے والے عام انتخابات کو نظر میں رکھ کر کیا ہے۔الہ آباد شہر اور میلے کے مقام پر وزیراعظم نریندر مودی کے بڑے بڑے اشتہاری بورڈز جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں جبکہ اشنان گھاٹوں پر بھی مودی کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔اس تہوار میں سب سے زیادہ توجہ کے حامل ’ناگا سادھو‘ ہوتے ہیں جو برہنہ جسموں پر راکھ مل کر رنگ برنگے جلوسوں میں یہاں آتے ہیں۔بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق میلے میں آغاز سے ہی جشن کا سماں ہے اور منتظمین نے اس کے دوران موسیقی اور رقص کی محفلیں بھی سجا رکھی ہیں جن کے علاوہ کرتب دکھانے والے، لوک موسیقار اور گلوکار بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔تاہم میلے میں آنے والے زیادہ تر یاتریوں کا کہنا ہے کہ وہ ’گنگا ماں کی پکار‘ پر آئے ہیں۔ کسان پرمود شرما کا کہنا تھا کہ ’ہمارا عقیدہ ہے کہ اشنان سے ہمارے گناہ دھل جائیں گے۔‘شابھ جی راجہ نے کہا کہ ’اس پانی میں حیات بخش خصوصیات ہیں۔ یہاں نہانے سے ساری بیماریاں اور راہ میں حائل مشکلات بھی دور ہو جاتی ہیں۔‘a





وزیراعلیٰ سندھ خود مستعفی ہو جائیں ورنہ ہم تبدیل کردیں گے، فواد چوہدری
کراچی(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ خود مستعفی ہو جائیں ورنہ ہم تبدیل کردیں گے۔کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ مراد علی شاہ اومنی گروپ کےچراغ کا جن ہے، وہ اپنی پارٹی قیادت کو کہتے ہیں کیا حکم ہے میرےآقا، پاکستان اور اس کے 3 صوبوں نے تبدیلی کی لہر دیکھی ہے، سندھ کےعوام کا بھی حق ہے کہ وہ تبدیلی دیکھیں۔ ہر وہ شخص جس کے دل میں سندھ کے عوام کا درد ہے وہ تبدیلی چاہتا ہے، پیپلز پارٹی کے سنجیدہ لوگ بھی تبدیلی چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی خود سندھ میں تبدیلی لے آئے، مراد علی شاہ استعفیٰ دیں، اگر ایسا نہ ہوا تو حکومت عملی اقدامات اٹھائے گی اور پیپلز پارٹی کی اکثریت ہمارا ساتھ دے گی۔ سندھ میں حکومت کی تبدیلی کے لیے فارورڈ بلاک بنائیں گے اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ہم سے رابطے میں ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بلاول کو چیف جسٹس نے کہا ہے کہ وہ بچے ہیں اور بچے غیر سیاسی ہوتےہیں، ان کے پاپا اور پھوپھی نےسندھ کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی نے سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے، سندھ کے عوام کا پیسہ دبئی اور لندن میں خرچ ہورہا ہے، سندھ ترقی میں پورے پاکستان سے پیچھے ہے، سندھ کا ب±را حال ہے، اسپتالوں میں ڈاکٹرز نہیں ہیں اسکولوں میں استاد نہیں ہیں اور اگر استاد ہیں تو فرنیچر نہیں، مرادعلی شاہ کے حلقہ انتخاب کےحالات دیکھیں، ترقیاتی کاموں کے لیے ملنے والے اربوں روپے کہاں گئے۔ کراچی کا حشر نشر ہوگیا لیکن ترقیاتی کاموں کےلیے پیسےنہیں۔ جتنا پیسہ سندھ کو ملا اگر جائز خرچ ہوتا تو آج یہ گلے شکوے نہ ہوتے۔وزیر اعظم عمران خان کے خلاف نیب کیس سے متعلق فواد چوہدری نے کہا کہ نیب نے وزیر اعظم عمران خان پر 27 لاکھ روپے کا ایک بے تکا کیس بنایا ہوا ہے، نیب کو ہیلی کاپٹر کیس پر وزیر اعظم سے معافی مانگنی چاہیے۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ بڑی بڑی باتیں کرنے والے پیپلز پارٹی کے رضاربانی بڑے مزدور رہنما بنتے ہیں، وہ 27 سال سے سینیٹر ہیں ابھی میں اور وہ ایک ساتھ طیارے میں سفر کررہے تھے، وہ بزنس کلاس میں سب سے آگے بیٹھے تھے جب کہ میں طیارے کی اکنامی کلاس میں سفر کرکے آیا ہوں۔
آصف زرداری اور شہباز شریف کی ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر غور
اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے درمیان پہلی باضابطہ ملاقات ہوئی ہے۔پارلیمنٹ ہاو¿س اسلام آباد میں قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں اپوزیشن کے اجلاس میں شرکت کے لیے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو پہنچے تو شہباز شریف نے دروازے پر آکر ان کا استقبال کیا۔ جس کے بعد شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان باضابطہ ملاقات ہوئی اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے رہنماو¿ں کا اجلاس ہوا، جس میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے شہباز شریف، رانا تنویر، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور سینیٹر پرویز رشید، پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، خورشید شاہ، نوید قمر اور شیری رحمان، ایم ایم اے کے مولانا اسعد محمود اور مولانا واسع جب کہ اے این پی کے امیرحیدرہوتی شریک ہوئے۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال، فوجی عدالتوں میں توسیع، نیب کی کارروائیوں اور اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی پر بات چیت کی جارہی ہے۔اجلاس کے دوران ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کو شہباز شریف کے چیمبر کے باہر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے روک لیا، ان کا کہنا تھا کہ آپ کا نام اجلاس کے لئے دیئے گئے ناموں میں شامل نہیں ہے اس لئے آپ اجلاس میں نہیں جا سکتے،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اجازت نے ملنے پر واپس لوٹ گئے۔
عہدہ خطرے میں
لاہور (نیٹ نیوز) راحیل شریف سے اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ کا عہدہ چھن جانے کا خدشہ، سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود وفاقی حکومت نے نیا این او سی جاری نہیں کیا، سابق آرمی چیف کی مدت ملازمت آج ختم ہو رہی ہے، نیا این او سی نہ ملنے کے باعث وہ بیرون ملک ملازمت کرنے کے اہل نہیں رہیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سابق آرمی چیف اور اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف سے ان کا یہ عہدہ چھن جانے کا خدشہ ہے۔راحیل شریف کی بیرون ملک میں ملازمت کیلئے جاری کیا گیا این او سی آج 15 جنوری کو ختم ہو رہا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ ماہ راحیل شریف کو جاری کیا گیا این او سی غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ ایک ماہ کے اندر اندر راحیل شریف کو نیا اور قانونی این او سی جاری کیا جائے، تاکہ اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے کام جاری رکھ سکیں۔تاہم اس حوالے سے حکومت کی جانب سے سستی دکھائی گئی اور تاحال این او سی کا اجرائ نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ راحیل شریف کو پہلے سے جاری کردہ این او سی کی مدمت ختم ہوتے ہی وہ بیرون ملک ملازمت کرنے کے اہل نہیں رہیں گے۔ یوں ان سے اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ کا عہدہ واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر حکومت ہنگامی بنیادوں پر راحیل شریف کو این او سی جاری کر دیتی ہے، تو ایسے میں انہیں بیرون ملک ملازمت کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہو جائے گا، اور یوں اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ کا عہدہ بھی انہیں کے پاس رہے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کی دوہری شہریت بارے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے سعودی عرب میں اسلامی عسکری اتحاد کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف کا بیرون ملک ملازمت کا این او سی غیر قانونی قراردے دیا تھا۔سپریم کورٹ کی جانب سے راحیل شریف کے این او سی کی درستگی کے لئے وفاقی حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دے دی گئی تھی۔فیصلہ میں کہا گیا تھا کہ مقررہ مدت کے اندر قانون کے مطابق این او سی جاری نہ ہونے کی صورت میں جنرل (ر) راحیل شریف اپنی موجودہ غیر ملکی ملازمت سے فوری طور پر سبکدوش تصور کئے جائیں گے۔ راحیل شریف کا این او سی قانون کے مطابق نہیں ہے۔ سابق ا?رمی چیف کو بیرون ملک ملازمت کے لئے جی ایچ کیو اور وزرات دفاع نے این او سی جاری کیا۔ قانون کے تحت سابق سرکاری ملازم کو صرف وفاقی حکومت این او سی جاری کرسکتی ہے۔این او سی کے بغیر کوئی سابق سرکاری ملازم کسی غیر ملکی حکومت یا ایجنسی کی ملازمت نہیں کرسکتا۔ فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت سے مراد وفاقی کابینہ ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اٹارنی جنرل نے اس معاملے کا جائزہ لینے کے لئے عدالت سے مہلت طلب کی تھی جس پر عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ سیکرٹری دفاع کو حکومت سے این او سی کی بابت ایک ماہ کی مہلت دیتے ہیں۔ مقررہ مدت کے اندر قانون کے مطابق این او اسی جاری نہیں کیا جاتا تو جنرل (ر) راحیل شریف بیرونی ملازمت سے سبکدوش تصور کئے جائیں گے۔
سندھ اسمبلی کے ستون ، گیٹ مسمار
کراچی (نیٹ نیوز) رات کے اندھیرے میں سندھ اسمبلی پر دھاوا، عمارت کے کئی پلرز اور گیٹ مسمار کر دیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر کے ایم سی کی جانب سے کراچی شہر میں ناجائز تجاویزات کو گرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں اب کے ایم سی کی جانب سے سب سے بڑی کاروائی کی گئی ہے۔ کے ایم سی کی جانب سے پیر کی شب کو سندھ اسمبلی کی عمارت پر دھاوا بولا گیا ہے۔کے ایم سی کا عملہ بھاری مشینری لے کر سندھ اسمبلی کی عمارت پہنچ گیا۔ اس دوران کے ایم سی کے عملے کے غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے سندھ اسمبلی عمارت کے 5 پلرز کا مسمار کر دیا، جبکہ ایک گیٹ بھی اکھاڑ دیا گیا۔ کے ایم سی کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مسمار کیے گئے پلرز اور گیٹ غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے تھے۔ کے ایم سی عملے کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ آپریشن ابھی مکمل نہیں ہوا، کل دوبارہ سندھ اسمبلی کی غیر قانونی حصوں پر مسمار کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کل سندھ اسمبلی کے مزید تین پلرز کو مسمار کیا جائے گا۔
بچے کی پیدائش پر باپ کو 10 دن کی چھٹی
اسلام آباد (نیٹ نیوز) حکومت نے بچے کی ولادت پر والد کو 10 دن کی لازمی چھٹی دینے کا قانون نافذ کردیا، وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے قانون کے اطلاق کی تصدیق کردی، قانون کا اطلاق تمام سرکاری اور نجی اداروں پر ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری اور نجی اداروں میں کام کرنے والے مرد حضرات کیلئے شاندار اعلان کیا گیا ۔وفاقی حکومت کی جانب سے نافذ کیے جانے والے نئے قانون کے مطابق اب بچے کی ولادت پر والد کو 10 روز کی رخصت دینا لازمی ہوگا۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے بتایا ہے کہ اس سے قبل پاکستان میں اس حوالے سے کوئی قانونی سازی نہیں کی گئی۔ تاہم اب موجودہ حکومت نے نئی پالیسی نافذ کردی ہے۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے قانون کے اطلاق کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کا اطلاق تمام سرکاری اور نجی اداروں پر ہوگا۔ تاہم یہ واضح رہے کہ یہ سہولت کسی بھی شخص کو صرف 2 بچوں کی پیدائش پر حاصل ہوگی۔ 2 سے زیادہ بچوں کی پیدائش پر 10 چھٹیاں نہیں مل سکیں گی۔


















