کینٹکی، امریکہ( ویب ڈیسک )ایک چھوٹے مگرعملی مشاہدے سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ سرسبز مقامات کے پاس رہتے ہیں اور درختوں کے قریب ہوں وہ دماغی تناو¿ کے کم کم شکار ہوتے ہیں۔ اس سے دل کی شریانوں کی صحت اچھی رہتی ہے اور وہ دل کے امراض اور فالج کے خطرے سے دور رہتے ہیں۔دوسری جانب آبادی کی سطح پر سبزے میں رہنے والے افراد کو ہسپتال جانے کی ضرورت بھی کم پیش آتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک چھوٹے پیمانے کا مطالعہ ہے تاہم اس کی تفصیلات جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہوئی ہے۔ تاہم ماہرین ہر فرد پر اس کے یکساں اثرات کا دعویٰ نہیں کررہے۔اس تحقیق کے لیے لوئی ویلی کینٹکی کے ایک ہسپتال میں 408 مریضوں کی خون اور پیشاب میں تناو¿ اور امراضِ قلب کے بایومارکرز دیکھے گئے۔ ساتھ ہی ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا اور یوایس جی ایس سے ہر شخص کے قریب موجود سبزے کی تفصیلات بھی اس کےڈیٹا کے ساتھ جمع کرکے پیش کی گئیں۔ان میں سے جو لوگ سب سے زیادہ درختوں اور سبزے والےمقام پر رہائش پزیر تھے ان کے پیشاب میں ایپی نیفرائن کی مقدار سب سے کم تھی جو ذہنی تناو¿ کو ظاہر کرتی ہے۔ جبکہ ان کی پیشاب میں آکسیڈیٹو اسٹریس کا ایک اور علامتی بایومارکر ایف ٹو آئسوپروسٹین بھی کم تھا۔ اگر یہ دونوں علامات زیادہ ہوں تو مریض اتنا ہی تناو¿ کا شکار ہوسکتا ہے۔ایک اور بات سامنے آئی کے ہرے بھرے ماحول میں رہنے والے افراد کی قلبی شریانیں بہت اچھی حالت میں رہتی ہیں۔ اس رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ارونی بھٹناگر نے کہا کہ فطری نظاروں کے قریب وقت گزارنے سے صحت پر حیرت انگیز اثرات مرتب ہوتےہیں۔
سروے میں شامل افراد کی اوسط عمر 51 برس تھی اور ان میں سے جو لوگ سبزے کے اطراف نہیں رہتے تھے ان میں کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور تناو¿ کی کیفیات دیکھی گئی تھیں۔ اسی بنا پر ماہرین نے کہا ہے کہ شہروں میں شجرکاری کی جائے اور سبزے کے قریب وقت گزارنے کو ترجیح دی جائے۔
Monthly Archives: January 2019
ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے والی چند غذائیں
لاہور (ویب ڈیسک ) ہائی بلڈ پرییشر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے جب کہ ذہنی دباو¿ اور اسٹریس اس میں اضافہ کردیتا ہے تاہم ماہرین طب کاکہنا ہے کہ چند ایسی غذائیں ہیں جن کے استعمال سے بآسانی بلڈر پریشر کے لیول کو کم کیا جاسکتا ہے۔پالک کا استعمال: پالک میں میگنیشیم اور پوٹاشیم بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے جو جسم میں بلڈ پریشر کو کم کرکے اسے نارمل رکھتا ہے اس کے علاوہ دیگر سبزیوں کا استعمال بھی بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد گار ہوتا ہے ان میں سلاد، بند گوبھی اور کھیرا شامل ہے۔سیاہ چاکلیٹ: سیاہ چاکلیٹ کا استعمال بھی بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دن میں 25 سے 30 کلوریز لینے سے بلڈ پریشر کو نارمل کیا جا سکتا ہے اور یہ مقدار سیاہ چاکلیٹ میں پائی جاتی ہے اس لیے چاکلیٹ کھانے کے شوقین عام طور پر بلڈ پریشر کا شکار نہیں ہوتے۔بالائی سے الگ کیا ہوا دودھ: ایسا دودھ جس سے بالائی نکال لی گئی ہو اپنے اندر بلڈ پریشر کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایسے دودھ میں کیلشیم، پوٹاشیم اور وٹامن ڈی ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں جو بلڈ پریشر کو نارمل رکھ کر جسم کو صحت مند بناتے ہیں۔ٹماٹر کا استعمال: ٹماٹر اینٹی آکسی ڈنٹ سے بھر پور ہوتا ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔سویا بین: سویا بین میں بھی پوٹاشیم پایا جاتا ہے جو جسم کے بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔بلیو بیریز اور رس بھری : ان میں قدرتی طور پر فلاوونائڈز موجود ہوتا ہے جو ہائپر ٹینشن اور بلڈ پریشر کو کم کرنے میں بہت اہم ہے۔آلووو¿ں کا استعمال: آلو میں پوٹاشیم اور میگنیشم بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو بلڈ پریشر کا نارمل رکھنے میں مدد دیتا ہے جب کہ آلو میں فائبر بھی پایا جاتا ہے جو اچھی صحت کا اہم عنصر ہے۔چقندر کا جوس: لندن کی کوئین یومیری نیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جب ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو چقندر کا جوس پلایا گیا تو ان کے بلڈ پریشر میں واضح کمی دیکھی گئی۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ اس میں موجود نائٹریٹس 24 گھنٹے میں بلڈ پپریشر کو کم کردیتا ہے۔جو کا استعمال: جو میں ہائی فائبر، کم چکنائی اور کم مقدار میں سوڈیم موجود ہوتا ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر جو کے دلیہ سے ناشتہ کیا جائے تو جسم کو سارا دن بھر پور توانائی فراہم کرتا ہے۔کیلے: کیلوں میں پوٹاشیم بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے اس کے مسلسل استعمال سے انسان سارا دن چست اور توانا رہتا ہے جب کہ کیلے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مِرگی کے مریضوں کے لیے دماغی پیس میکر ایجاد
کیلیفورنیا( ویب ڈیسک ) مرگی کے دوروں اور پارکنسن کے مرض میں ہاتھ پاو¿ں لرزنے کی وجہ دماغ کے اندر غیرمعمولی برقی سرگرمی ہوتی ہے جسے کسی بیرونی برقی سرگرمی سے کم کیا جاسکتا ہے۔ اسی بنا پر ایک انقلابی آلہ بنایا گیا ہے جسے دماغ کا پیس میکر کہا جاسکتا ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ، برکلے کے انجینیئروں نے وینڈ نامی دماغی پیس میکر بنایا ہے جو مسلسل دماغی برقی سرگرمیوں کو نوٹ کرتا رہتا ہے اور کسی بھی گڑبڑ کی صورت میں مرگی اور پارکنسن جیسے امراض میں بجلی کے ہلکے جھماکے خارج کرکے اس کیفیت کو ختم کرسکتا ہے۔ یوں ایک ہی وقت یہ دماغ کا جائزہ لیتا ہے اور دماغی کیفیت کو دیکھ کر اس کی بگڑتی ہوئی حالت کو بہتر کرتا ہے۔اس طرح رعشہ ، جسمانی جھٹکوں، مرگی اور اس طرح کی دیگر کیفیات کو برقی سگنلز کے ذریعے دور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ عمل اتنا آسان نہیں کیونکہ مرگی یا جھٹکوں کے دماغی سگنل انتہائی کمزور اور نحیف ہوتے ہیں جنہیں سمجھنا ایک چیلنج ہے۔ دوسری جانب انہیں روکنے کے لیے جوابی سگنل کی شدت اور کیفیت کے لیے آلے کو ٹیون کرنا اس سے بھی مشکل کام ہوتا ہے۔وینڈ کا پورا نام ’وائرلیس آرٹفکیٹ فری نیوروماڈیولیشن ڈیوائس‘ ہے کو ایک جانب خودکار بھی ہے اور بے تار بھی۔ ایک مرتبہ مرگی اور کپکپاہٹ کے آثار جاننے کے بعد یہ اپنے معیارات خود سیٹ کرتا ہے اور غیراضطراری حرکات کو روکنے کے سگنل دیتا ہے۔ یہ سارا کام حقیقی وقت میں ہوتا رہتا ہے۔ وینڈ دماغ کے 128 مقامات کی برقی سرگرمی نوٹ کرتا ہے اور اسے کامیابی سے بندروں پر آزمایا گیا ہے۔ آلے کا کام کرنے کا طریقہ عین ای ای جی کی طرح ہے۔واضح رہے کہ اس طرح کے مسائل کا علاج بہت مہنگا اور وقت طلب ہوتا ہے۔ اسے بنانے والے ماہر رِکی میولر کے مطابق یہ مریض کے دماغی سگنل ریکارڈ کرتا ہے اور اپنے سگنل بھیج کر دماغ سے اٹھنے والے مضر سگنلوں کو زائل کردیتا ہے۔ اس کی تفصیلات نیچر بایومیڈیکل انجنیئرنگ میں شائع ہوئی ہے۔اگلے مرحلے میں اس آلے سے پارکنسن اور دیگر امراض کی شناخت اور علاج میں بھی مدد ملے گی۔
دلالوں کے انڈے
لاہور (ویب ڈیسک ) انڈے تو آپ کھاتے ہی ہوں گے۔چلیں آپ نہ سہی ،گھر میں بال بچے تو کھاتے ہی ہوں گے۔اگر ایسا ہے تو پھر آپ کو انڈوں کے ریٹ کا بھی علم ہوگا ،آپ کونہیں ہے تو خاتون خانہ جانتی ہوں گی کہ سردیوں میں انڈے بھی گرم ہوجاتے ہیں ا ور ان کے ریٹ بڑھ جاتے ہیں۔کتنی عجیب بات ہے کہ وہی مرغی جو گرمیوں میں انڈے دیتی ہے وہی سردیوں میں بھی انڈے دیتی ہے مگر نہ جانے کیا کرشمہ ہے کہ سردیوں میں اسکے انڈہ دینے کی لاگت بڑھ جاتی ہے کہ وہی انڈے جو ساٹھ روپے درجن ہوتے ہیں سردیوں میں ایک سو ستر میں بکنے لگتے ہیں۔حیرت ہے کہ کیا یہ مرغیاں پیٹرول پر چلتی ہیں یا انہیں سونے کا کشتہ کھلایا جانے لگتا ہے ؟دراصل یہ انڈے مرغیاں نہیں دیتیں بلکہ بروکرز ،دلال ،مڈل مین ایسے لوگ دیتے ہیں۔ سردیوں میں مارکیٹ میں جو انڈہ دستیاب ہوتا ہے اس میں سے زیادہ تر مال انہیں بروکرز کا ہوتا ہے جو چار چھ ماہ تک خود سینکتے ہیں اور اپنے کولڈ سٹوریج میں رکھ کر خود اس پر بیٹھ جاتے ہیں تاکہ سردیوں میں ان انڈوں سے مال نکالا جاسکے۔یہ تو اچھا ہوا کہ اب پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ان دلالوں کے انڈے توڑ دینے کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ اب 2019ئ میں مرغیوں کے ہی تازہ انڈے بکا کریں گے اور بروکرز کے انڈے خلاص ہوجائیں گے۔کہانی کچھ یوں ہے۔بروکر پولٹری انڈسٹری کا سرمایہ دار تو نہیں مگر سرمایہ داری کرکے پولٹری و ایگ انڈسٹری کھڑی کرنے والوں کو چونا لگاکر سرمایہ بنانے والا ایساطاقتور ترین طبقہ ہے جو اپنی مرضی سے انڈے کا ریٹ جاری کرواتا ہے اور انڈے کوذخیرہ کرکے اگلے سیزن میں بیچ کر اربوں روپے کماتا ہے۔بروکرز ایگ فارمز سے کم قیمت پر انڈہ اٹھاتے ہیں اور چار ماہ تک کولڈ سٹوریج میں رکھنے کے بعد سردیوں میں فروخت کرتے ہیں۔پنجاب فوڈاتھارٹی نے اعلان کردیا ہے کہ اب جو بھی انڈہ مارکیٹ کیا جائے گا ،اس پر باقاعدہ مہر لگی ہوگی ،ڈیٹ آف ایکسپائری ہوگی تاکہ بوسیدہ انڈے فروخت نہ کئے جاسکیں۔کولڈ سٹوریج میں رکھے انڈے چار ماہ بعد غذائی اعتبار سے ناقص ہوجاتے ہیں ،ان کی زردی سخت ہوجاتی ہے۔جو مضر صحت ہوتی ہے۔بروکرز جب گرمیوں میں انڈوں کا ایک کریٹ (360 انڈے )بالفرض 1800روپے میں خریدتا ہے مگر سٹور کرکے سردیوں میں 2500/2800 روپے میں بیچتا ہے۔اس موقع پر ایک عجیب کام ہوتا ہے۔وہ تازہ انڈہ بھی خریدتا ہے جس کا فارم ریٹ 2700/3300 ہوتا ہے اور اس کو وہ 3100/3500 روپے تک فی کریٹ فروخت کرتاہے ،یوں وہ ڈبل منافع کماتا ہے ،ظاہر ہے گرمیوں میں خریدے کم قیمت انڈے کے پیچھے اسکو دوہرا فائدہ ہوگا۔ مگر اب اسکا گودامی انڈہ مارکیٹ نہیں ہوسکے گا۔پولٹری انڈسٹری سے وابستہ ہمارے ایک مہربان ڈاکٹر عمر مسعود کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے ملک میں دیسی مرغی سے کاروبار کا جو تصوّر دیا ہے یہ پولٹری انڈسٹری کو بڑی کامیابی دے سکتا ہے مگر حکومت کو چاہئے کہ اس بارے ریگولیشنز بنائے تاکہ ،انڈے ،مرغی اور چوزے کے کاروبار کو مستحکم کرکے پروڈیوسرز کو زیادہ فائدہ پہنچ سکے ،ابھی تو زیادہ فائدہ بروکر اٹھا رہاہے۔بروکرز کی وجہ سے خراب انڈہ بھی مارکیٹ ہوتا ہے اور اسکا کوئی سسٹمائز ریٹ نہیں ہے۔مڈل مین ٹائپ بروکرز پولٹری انٹسٹری کے لئے بڑا خطرہ ہیں جس کا علاج کئے بغیر اس صنعت کو فروغ نہیں دیا جاسکے گا ،بلکہ انڈے اور مرغی کے اس بڑے کاروبار سے حکومت کو ٹیکسز میں بھی گھاٹا پڑے گا۔ضرور پڑھیں: نیب نے نوازشریف کو ایک اور زور دار جھٹکا دینے کی تیاری مکمل کر لی ، شریف خاندان کیلئے ایک اور پریشان کن خبر
مشاہدہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انڈے کے کاروبار میں بھی بہت سے گندے انڈے موجودہیں۔ان میں سے زیادہ تر لوگ بروکر ،دلال،مڈل مین کہلاتے ہیں۔ویسے بھی جس کے ساتھ دلال کا لفظ لگ جائے اسکی نیک نامی تو ویسے ہی مرجاتی ہے اور بندہ خوامخواہ اسکے کردرا پر شک کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔یہ شک بلاوجہ بھی نہیں ہوتا کیونکہ دلالی میں منہ کالا کرنے والے بہت سے لوگ خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے مال خرچ کئے بغیر دوسروں کے مال سے اپنا مال اینٹھ لیا ہے۔اپنے وطن میں تو ایسے لگتا ہے یہاں دلالوں کا راج ہے ،انہیں نہ منہ کالا ہونے کا ڈر ہے نہ ان کے دامن پر کوئی دھبہ لگتا ہے۔ان کی نطر میں کرپشن عین عبادت ہے اور دلالی زبردست باعزت کاروبارہے۔ یہاں کرپشن انہی دلالوں کی وجہ سے کاروبار بن گئی ہے۔سیاست اور معیشت کی ماں ترقی کی منڈھیر پر بیٹھی اپنا سینہ کوٹ رہی ہے۔کتنی ماوں اور بہنوں کے پیاروں کے ارمانوں کویہی دلال چاٹ گئے ،وہ ڈگریوں میں پکوڑے لپیٹ کر بیچتے رہ گئے ہیں اور دلالوں نے بینکوں میں گھوسٹ اکاونٹ بنا کر اپنا پیسہ چھپالیا ،گھروں میں نوٹوں کی بوریاں اور زیورات کی دیگیں دبا کر رکھ لیں۔اب یہ سارا کالا دھن سامنے آرہا ہے تو قوم حیران و پریشان ہے۔کہ اتنا پیسہ ہے پاکستان میں۔حقیقتیں کھل رہی ہیں کہ اس ملک کی تقدیر کا پیسہ کن لوگوں نے کمایا اور کہاں کہاں چھپایا۔یہ سرمایہ دار نہیں تھے جنہوں نے سائیکل پر سفر شروع کیا اور چند سالوں میں لینڈکروزرز کے مالک بن بیٹھے ،پنج مرلے سے پنج ہزاری بن کر ہاوسنگ سکیموں کے مالک بن گئے۔ان میں سے زیادہ تر مڈل مین ،دلال،ایجنٹ ،بروکر ،فرنٹ مین ہی نکل رہے ہیں۔نیب اور سپریم کورٹ کا جمال گھوٹا کام دکھا گیا ہے اور اب ایسوں پر نہ دوا کام کررہی ہے نہ انہیں فی الحال این آر او کا پیمپر نصیب ہورہا ہے۔ان کی غلاظتوں کودھونے کے لئے ہسپتالوں کی بجائے جیلوں میں بڑے پیمانے پر بندوبست کیا جارہا ہے۔
بات دلالوں سے شروع ہوئی ہے تو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ دلال ہماری زندگیوں کا روگ ہیں۔یہ بہلا پھسلا کر ترغیبات دیکر ،چمک دکھا کر لال بتی کے پیچھے لگانے والا وہ قماشیہ ہے جو اب اشرافیہ کہلاتا ہے۔زراعت پر بھی یہی اشرافیہ قابض ہے جس نے چھوٹے اور بڑے کاشتکار اور زمیندار کو مزید چھوٹا کردیا ہے اور بڑے کاشتکار کو اپنا محتاج بنا رکھا ہے۔پیداوار ا±ن کی ہوتی ہے اور یہ صاحب اونے پونے میں ان کی سبزیاں ،پھل ،دالیں اور دیگر اجناس ادھار پر لے جاتے ہیں۔اصل منافع یہ کماتے ہیں اور زمیندار اور کاشتکار وہی روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرتا ہے۔ جب کبھی جوش میں آتا ہے تو حق لینے کے لئے سڑکوں پر نکلتا ہے تو ڈنڈے کھا کرپورا سیزن زخم سینکتا رہتا ہے۔کسی بھی قسم کی صنعت کے لئے لائنسس اور پھر پیداوار اٹھانے میں بھی دلال آپ کی مدد کرتے ہیں ،کاشتکاروں سے سستے داموں زمینیں ہتھیاکر ہاوسنگ سوسائٹیاں بنوانے میں بھی دلال کا س±رمہ بکتا ہے اور اسکے سورمے گاوں پر گاوں کھا جاتے ہیں۔جہاں کبھی کٹیاہوا کرتی تھی اب ان دلالوں کے طفیل عالی شان فارم ہاوسز کھڑے ہیں،گاوں کی زمین پر شہر کھڑے کرنے والے ان دلالوں میں سے بہت سے خود یا ان کے مرہون منت اسمبلیوں میں جابیٹھے ہیں،یہ طبقہ ملک کا امیر ترین اور طاقتور ترین طبقہ ہے جس نے کوئلوں کی دلالی کرکے عزت پائی ہے۔معاف کیجئے گاہم لوگ اب دلال کو مہذب پیشہ سمجھتے ہوئے اسے بروکر تو کہ لیتے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ ملک کا سب سے بڑا مافیا اور استیصالی طبقہ یہی ہے۔یہ معیشت کا ناگ ہے جس کو پٹاری میں بند کرنے اور اسکا زہر نکالنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان کوصرف بین بجانے پر ہی اکتفا نہیں کرنا ہوگا ،سپیرے جیسے جرات و دانائی سے اسکو قابو کرنا ہوگا۔ملک کو بنانا ہے تو ملک میں پیداوار لانے والے حقیقی سرمایہ دارکو دلالوں اور ان کے انڈوں سے بچانا ہوگا۔
اس موسم کی یہ سوغات کھانا عادت بنالیں
لاہور (ویب ڈیسک ) اس موسم میں شکر قندی عام ملتی ہے مگر بہت کم افراد ہی اسے کھانا پسند کرتے ہیں۔درحقیقت یہ صرف منہ کا ذائقہ دوبالا کرنے والی سوغات نہیں بلکہ جسم کو گرم رکھنے کے ساتھ متعدد ایسی فوائد پہنچاتی ہے، جن کا تصور بھی اکثر افراد نے نہیں کیا ہوگا۔
بلڈ شوگر کو متوازن رکھے
ایک طبی تحقیق کے مطابق شکرقندی خون میں گلوکوز کی سطح متوازن رکھنے میں کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں ایک قدرتی جز اینتھوسیان اور دیگر اینٹی آکسائیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں جو کہ بیکٹیریا کش خوبیوں، سوجن سے بچاو¿ اور وائرس سے بچاﺅمیں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ امریکی ذیابیطس ایسوسی ایشن کے مطابق شکرقندی انسولین کی مزاحمت کو کم کرتی ہے، ساتھ ساتھ بلڈ شوگر کی سطح کو مستحکم رکھتی ہے۔ اس مزیدار چیز میں فائبر زیادہ مقدار میں موجود ہے جو دل کی متعدد بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
جلد کے لیے بھی فائدہ مند
اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جلد کو قدرتی طور پر تروتازہ رکھنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ خلیات کو نقصان پہنچانے والے اجزائ کی روک تھام کرکے قبل از وقت بڑھاپے سے تحفظ دیتے ہیں۔
بالوں کو جگمگائیں اور گرنے سے روکے
شکرقندی ایک جز بیٹا کروٹین سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ جسم میں جاکر وٹامن اے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس وٹامن کی کمی کا نتیجہ اکثر خشک جلد کی شکل میں نکلتا ہے جو کہ بالوں میں خشکی اور اس کے جھڑنے کی صورت میں بھی نظر آتا ہے۔ صحت مند سر کی سطح کے لیے غذا میں زیادہ بیٹا کروٹین کو شامل کرنا ضروری ہے اور شکرقندی اس کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔
بینائی کے لیے فائدہ مند
نارنجی یا اورنج رنگ کے پھلوں اور سبزیوں جیسے شکرقندی، گاجر، آم اور آڑو وغیرہ بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتی ہیں جو کہ وٹامن اے کی ایک قسم ہے جو بینائی کو درست رکھنے میں مدد دیتی ہے جبکہ تاریکی میں آنکھوں کو ایڈجسٹ ہونے میں بھی مدد دیتی ہے۔ ایک شکر قندی میں اتنی وٹامن سی ہوتی ہے جو کہ ایک دن کی ضروریات کا نصف ہوتی ہے جبکہ وٹامن ای بھی کچھ مقدار میں جسم کا حصہ بن جاتا ہے۔
دل کو صحت مند بنائے
شکرقندی میں وٹامن سی اور بی سکس کے ساتھ ساتھ دل کی صحت کے لیے فائدہ مند فائبر اور مینگنیز جیسے اجزائ موجود ہوتے ہیں۔ شکر قندی میں موجود پوٹاشیم جسم میں سوڈیم کے اثرات کو کم کرتا ہے جس سے ہائی بلڈ پریشر سے نجات پائی جاسکتی ہے جو کہ ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
قبض سے نجات دلائے
شکرقندی قبض کی شکایت کو ختم کرنے کے لیے بہترین ہے جو کہ پانی، فائبر، میگنیشم اور وٹامن بی سکس سے بھرپور ہوتی ہے، میگنیشم آنتوں کو ریلیف پہنچا کر ان کی قدرتی حرکت کو بحال کرتی ہے، جبکہ پانی اور فائبر جسمانی نمی کو برقرار رکھتے ہیں جبکہ فضلے کو جسم سے باہر نکال دیتے ہیں۔
میاں بیوی کی عمروں میں کتنا فرق کامیاب شادی کی ضمانت ہوتا ہے؟
لاہور (ویب ڈیسک) شادی کا رشتہ خوشی، دکھ اور دیگر جذبات سے نکل کر اپنے اندر کچھ منفرد فوائد اور حقائق بھی چھپائے ہوئے ہوتا ہے جو ہم سب کے سامنے ہوتے ہیں۔جیسے شوہر اور بیوی کا اچھا تعلق جان لیوا امراض سے بچانے یا ان کا شکار ہونے پر جلد صحت یاب ہونے میں مدد دیتا ہے۔مگر ایک سوال ایسا ہے جو اکثر افراد کے ذہنوں میں اترتا ہے کہ شوہر اور بیوی کی عمروں میں کتنا فرق انہیں مثالی جوڑی بناسکتا ہے؟ویسے تو کچھ لوگوں کے لیے عمر نمبر سے زیادہ کچھ نہیں اور اس کا زندگی بھر کے رشتے سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا مگر کچھ سائنسدانوں کے خیال میں ایک کامیاب تعلق اور عمر کے فرق میں تعلق موجود ہے۔امریکا کی ایمیری یونیورسٹی کے محققین نے اس بارے میں دلچسپ تحقیق کی ہے جس میں بتایا گیا کہ شادی شدہ جوڑے کی عمر میں کتنا فرق ان کے رشتے کو کامیاب یا ناکام بنانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔اس تحقیق میں 3 ہزار افراد کو شامل کیا گیا جو کہ شادی شدہ تھے۔محققین نے ان سب کے درمیان دلچسپ تعلق دریافت کیا اور وہ یہ تھا کہ عمر کا فرق جتنا زیادہ بڑھتا گیا، شادی کی ناکامی کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھ گیا۔محققین نے اس بارے میں کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی مگر ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ جن جوڑوں کی عمروں میں فرق بہت زیادہ ہوتا ہے تو ان کے خیالات بھی کافی مختلف اور دلچسپیاں اور مقاصد بھی متضاد ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگر جوڑے کی عمر میں 5 سال سے زیادہ کا فرق ہو تو ایک دوسرے سے لڑائیاں یا علیحدگی کا خطرہ 18 فیصد بڑھ جاتا ہے۔اگر عمر کا فرق 10 سال ہو تو یہ خطرہ 30 فیصد تک پہنچ جاتا ہے جبکہ 20 سال سے زیادہ کے فرق پر سب کچھ منفی ہی سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ یہ خطرہ 95 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔اسی طرح اگر جوڑے کے درمیان تعلیمی فرق بھی بہت زیادہ ہو تو بھی ایک دوسرے سے علیحدگی کا امکان 43 فیصد ہوتا ہے۔تو پھر جوڑوں کے درمیان مثالی عمر کا فرق کونسا ہے؟تو اس کا جواب محققین کے مطابق ہم عمر جوڑے زیادہ مثالی ہوتے ہیں جبکہ ایک سے 3 سال کا فرق والے جوڑے بھی اسی گروپ کا حصہ ہیں۔تحقیق کے مطابق ایسے جوڑوں میں اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں کہ وہ زندگی بھر ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور ان کی ممکنہ علیحدگی کا خطرہ 3 فیصد سے بھی کم ہوتا ہے۔ویسے یہ سائنسدانوں کی رائے ہے جو ضروری نہیں ٹھیک ہو کیونکہ ایسا ضروری نہیں کہ عمر کا کم فرق شادی کامیاب بنادے یا زیادہ فرق ہونے پر علیحدگی ہوجائے۔a
ہڈیاں مضبوط بنانے میں مددگار غذائیں
لاہور (ویب ڈیسک ) ہڈیوں کی کمزوری یا آسٹیو پوروسز کو خاموش مرض کہا جاتا ہے جس کا احساس ہونا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے۔اس مرض کے دوران ہڈیوں کی کثافت کم ہوجاتی ہے اور وہ کمزوری کا شکار ہوجاتی ہیں۔ہر دو میں سے ایک خاتون اور ہر چار میں سے ایک مرد اس کا شکار ہوتا ہے اور ہڈیاں ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔مگر روزمرہ کی زندگی میں چند غذاﺅں کو اپنا کر آپ عمر بڑھنے سے ہڈیوں میں آنے والی کمزوری سے بچ سکتے ہیں۔
دہی
دہی پروبایوٹیکس، کیلشیئم، پوٹاشیم اور وٹامن ڈی، اے اور فولیٹ کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے، طبی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ روزانہ دہی کو کھانا ہڈیوں کی کمزوری اور فریکچر کے خطرے کی روک تھام کرتا ہے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہڈیاں کمزور ہوچکی ہیں تو دہی کھانا عادت بنالیں۔
دودھ
دودھ بھی کیلشیئم، فاسفورس اور وٹامنز اے اور ڈی کے حصول کا چھا ذریعہ ہے، گائے کا دودھ ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے لیے فائدہ مند ہے، اس کے لیے فورٹیفائیڈ ملک پینا بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
سبز پتوں والی سبزیاں
سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک اور ساگ وغیرہ کیلشیئم، اینٹی آکسائیڈنٹس اور وٹامن کے اور سی کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے، ان سبزیوں کو اکثر کھانا ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ جسمانی مدافعتی نظام بھی طاقتور کرتا ہے۔
خشک میوہ جات
بادام، کاجو اور مونگ پھلی وغیرہ میگنیشم کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں، جو ہڈیوں کی ساخت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، جبکہ یہ کیلشیئم جذب کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔
آلو بخارہ
ہڈیوں کو 20 فیصد زیادہ مضبوط بناتا ہے مگر پھر بھی اکثر افراد اس کی خوبی سے لاعلم ہوتے ہیں۔ ایک طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خشک آلو بخارے بھی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور یہ ہڈیوں کو ریڈی ایشن سے تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔
پنیر
پنیر کو دودھ سے بنایا جاتا ہے اور اسی لیے کیلشیئم کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے، جبکہ اس سے جسم کو وٹامن اے، وٹامن بی 12، زنک اور فاسفورس بھی ملتے ہیں، اسے کھانا معمول بنانا نہ صرف منہ کا ذائقہ بہتر بناتا ہے بلکہ ہڈیوں کو بھی کمزور ہونے سے بچاتا ہے۔
مچھلی
وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ کے ساتھ ساتھ اس سے بھرپور غذائیں جیسے مچھلی کو کھانا بھی عادت بنانا چاہیئے اور ہر ہفتے ایک سے دو بار مچھلی کھانا وٹامن ڈی کی فراہمی میں مدد دیتا ہے۔
انڈے
انڈے کی زردی وٹامن اے، ڈی، کے اور ای کے حصول میں مدد دیتی ہے، وٹامن ڈی کیلشیئم جذب کرنے کے لیے ضروری عنصر ہے جس سے ہڈیوں کی صحت بہتر ہوتی ہے۔
دالیں
دالوں سے جسم کو صرف پروٹین ہی نہیں ملتا بلکہ یہ کیلشیئم ، فاسفورس، پوٹاشیم اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھی بھرپور ہوتی ہیں، محققین نے تصدیق کی ہے کہ دالوں کو کھانے کی عادت ہڈیوں کی کثابت میں کمی کی روک تھام کرتی ہے۔
’’عقل بڑی کہ بھینس ‘‘،لاہور میں پیش آنے والے حیرت انگیز واقعہ نے سوشل میڈیاپر دھوم مچادی
لاہور(ویب ڈیسک)صوبائی دارالحکومت میں بھینسوں نے اوور ہیڈ برچ کے ذریعے سڑک پارک کر کے اپنے بارے میں بنائے گئے محاورے ” عقل بڑی کے بھینس “ کو غلط ثابت کر دیا۔گزشتہ دو روز سے سوشل میڈیا پر 8سے10بھینسوں کی قطار میں ایک اوور ہیڈ برج سے نیچے اترتے ہوئے تصویر نے دھوم مچا رکھی ہے اور اس پر مختلف کمنٹس کیے جارہے ہیں۔ شارٹ کٹ کے عادی حکومت کی طرف سے خطرناک شاہراہوں کو پار کرنے کیلئے بنائے گئے اوور ہیڈ برج کو استعمال نہیں کرتے اور اکثر حادثات کا شکار ہو جاترے ہیں تاہم جانوروں کی اس تصویر نے ایسے لوگوں کو ایک بڑا سبق دیا ہے۔
کیا یہ آپ کو سانپ لگتے ہیں؟
لاہور (ویب ڈیسک ) جدید دور میں فیشن کے نت نئے انداز دلچسپ سے زیادہ حیران کن ثابت ہو رہے ہیں اور اب سانپ کی طرح دکھائی دینے والے پاجاموں نے بھی سب کی حیرت میں اضافہ کردیا ہے۔جاپانی فیشن ڈیزائن اسٹوڈیو ‘می می’ نے حال ہی میں اپنی نئی کلیکشن متعارف کروائی ہے، جس کے پرنٹس کو بالکل سانپ کی کھال کی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے۔آڈیٹی سینٹرل کی ایک رپورٹ کے مطابق می می کا کہنا ہے کہ ماڈلز پر اکثر سانپ اٹھا کر ریمپ واک کرنے پر تنقید کی جاتی تھی، یہی وجہ ہے کہ اب ایسے پیٹرن کے پاجامے تیار کیے گئے ہیں جن کا اوپری ٹانگوں والا حصہ سانپ کے جسم اور پاو¿ں والا حصہ سانپ کے منہ سے مشابہہ ہے۔فیشن اسٹوڈیو کے مطابق ان کے پاس مختلف سانپوں کے پیٹرن دستیاب ہیں۔می می کے مطابق ان پاجاموں کو ایسے تیار کیا گیا ہے کہ دیکھنے والے کو پہلی نظر میں یہ بالکل سانپ دکھائی دے گا۔فیشن اسٹوڈیو کے مطابق ان کے پاس مختلف سانپوں کے پیٹرن دستیاب ہیں، جن میں کوبرا اور بوا سمیت دیگر شامل ہیں۔ان ڈیزائنز کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں، جنہیں دیکھنے کے بعد صارفین تبصرے کر رہے ہیں کہ یہ بالکل حقیقی سانپ جیسے معلوم ہوتے ہیں۔
سبحان تیری قدرت ۔۔۔ وہ دلکش منظر جب زمین پر اللہ کا گھر اور سورج ایک ہی قطار میں اوپر نیچے دکھائی دیئے
مکہ(ویب ڈیسک) سورج کے گرد زمین کی گردش کے دوران کبھی کبھار سورج عین خانہ کعبہ کے برابر اوپر آ جاتا ہے۔ اگرچہ ایسا سال میں دو بار ہوتا ہے۔ رواں سال یہ دوسرا موقع ہے جب آفتاب دوسری بار خانہ کعبہ کے عین اوپر جلوہ فگن ہوا ہے۔سعودی اخبار ’وصف‘ کے مطابق سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر نماز جمعہ کی اذان کے آیا۔یہ ایک دلفریب فلکیاتی منظر تھا جب زمین پر اللہ کا گھر اور سوج ایک اہی قطار میں اوپر نیچے دکھائی دے سورج میں سال دوبار خانہ کعبہ کے برابر آتا ہے ایک بار موسم گرما اور دوسری بار موسم سرما میں برج جدی اور برج سرطان کے دوران آفتا کی کرنیں عین خانہ کعبہ کے اوپر سے چمکتی ہیں چونکہ خانہ کعبہ خط استوا اور برج سرطان کے مدار پر تعمیر کیا گیا ہے ۔
سرجیکل سٹرائیک کی بڑھکیں مارنیوالے بھارت کو پاک آرمی کا کرارا جواب
باغ، راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے مطابق پاکستان آرمی نے باغ سیکٹر میں بھارتی فوج کا کوارڈ کاپٹر مار گرایا۔ نریندر مودی کی سرجیکل اسٹرائیک کی ڈینگیں، فوجی تو درکنار ڈرون تک کنٹرول لائن عبور نہیں کر سکتا، پاک فوج نے باغ سیکٹر میں کنٹرول لائن بار کرنے کی کوشش کرنے والے بھارتی ڈرون کو مار گرایا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ پاک فوج نے کنٹرول لائن پر باغ سیکٹر میں بھارتی جاسوس کوآرڈ کاپٹر کو مار گرایا ہے، ڈی جی آصف غفور کا کہنا تھا کہ بھارتی ڈرون کو بھی کنٹرول لائن پار نہیں کرنے دیا جائے گا انشاءاللہ۔ دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنی عوام کے سامنے پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کی ڈینگیں مار رہے ہیں پاک فوج کی جانب سے بھارتی جاسوس کوآرڈکاپٹر کو مار گرانا اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک تو درکنار بھارتی ڈرون تک کنٹرول لائن پار نہیں کر سکتا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ ’پاک فوج نے لائن آف کنٹرول کے قریب پرواز کرنے والے بھارتی جاسوس ڈرون کو نشانہ بنایا۔ اُن کا ک ہنا تھا کہ انشاءاللہ کسی ایک ھارتی ڈرون کو بھی سرحد پار نہیں کرنے دیں گے۔ پاک فوج نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے ڈرون کو باغ سیکٹر کے قریب نشانہ بنایا۔ قبل ازیں پاک فوج نے 19 نومبر 2016ءکو پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے ڈرون کو مار گرایا تھا، آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ڈرون 60 میٹر تک پاکستانی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔ بعد ازاں 27 اکتوبر 2017ءکو بھی بھارت نے پاکستان کے خلاف گھناﺅنی سازش کرنے کی کوشش کی تھی جسے پاک فوج نے بروقت ناکام بناتے ہوئے لائن آف کنرول کے علاقے رکھ چکری سیکٹر پر بھارتی ڈرون کو مار گرایا تھا۔ اس سے قبل 2015ءمیں پاک فوج نے بھارتی ڈرون مار گرایا تھا جس کے تکنیکی تجزیے کے دوران جاسوسی کے ناقابل تردید شواہد سامنے آئے تھے۔ بھارتی ڈرون نے پاکستانی علاقوں کی تصاویر بنائی تھیں۔ جن میں لائن آف کنٹرول کا بھارتی علاقہ واضح نظر آ رہا تھا، ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈرون کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے چوڑیاں سے اڑا کر پاکستانی حدود میں داخل کیا گیا۔ تصاویر میں ایل او سی پر بھارتی علاقہ بھی واضح نظر آ رہا ہے۔ جاسوسی طیارہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے چوڑیاں سے اڑایا گیا۔ اب سے کچھ دیر قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی تھی جس کا دفتر خارجہ نے بھرپور انداز میں جواب دیا اور پاک فوج نے سرحد پر بھارتی فوج کے عزائم کو خاک میں ملایا۔
وزیراعظم نے گورنر سندھ کو کیا ہدایات دیں ؟ اند کی خبر
اسلام آباد (وائس آف ایشیا) وزیراعظم عمران خان نے سندھ میں تبدیلی کے حوالے سے گورنر سندھ عمران اسماعیل کو نئی ہدایات جاری کردی ہیں۔ منگل کے روز گورنر سندھ عمران اسماعیل نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے متعدد ارکان اسمبلی اپنی پارٹی کی پالیسیوں اور خاص طور پر کرپشن میں ملوث ہونے پر ناخوش ہیں اور حکومت مین تبدیلی کے حوالے سے کسی بھی تحریک کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہیں اور سندھ کی دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس حوالے سے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ جس پر وزیراعظم نے گورنر سندھ کو کہا کہ سندھ میں کسی بھی تبدیلی کے لئے یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتی ہے۔ بلکہ یہ تاثر جانا چاہیے کہ کرپشن سے تنگ عوامی نمائندے نئی قیادت چاہتے ہیں ۔ اس حوالے سے انہوں نے پارٹی کے دیگر سیاسی رہنماﺅں کو بھی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ محتاط اندازمیں کھیلتے ہوئے تبدیلی کی کوشش جاری رکھیں۔ و زیراعظم نے گورنر سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم نے 22 سال سیاسی جدوجہد اس لیے نہیں کی کہ دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالیں بلکہ اس لیے کی ہے کہ پاکستان ڈاکوﺅں اور ڈاکوں سے بچائیں اور ایسے عناصر کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جنہوں نے پاکستان کو لوٹا اور اس کی معیشت کو تباہ کردیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ پر دباﺅ بڑھانے کیلئے بھی کیا کہ وہ خود ہی استعفیٰ دے جائیں۔ علاوہ ازیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے گورنر راج کے حوالے سے چلائی جانے والی خبروںکے ضمن میں گورنر کوکہا کہ اس پروپیگنڈے کو بھی زائل کیا جائے۔
پاک چین لازوال دوستی کی نئی مثال ، 2 ارب ڈالر کا تاریخی پیکج ، بڑا اعلان
اسلام آباد لندن (آئی این پی‘ مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے پاکستان کے گرتے ہوئے زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کےلئے 2ارب ڈالر دینے کا فیصلہ کرلیا،رقم روپے کی گرتی ہوئی قدراور پاکستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گی۔ منگل کو برطانیہ جریدے ”فنانشل ٹائمز“ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے پاکستان کو دو ارب ڈالر دینے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ غیر ملکی زر مبادلہ کے گرتے ذخائر کو روکنے اور روپے کی قدر کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، چین نے ایسے وقت میں پاکستان کو یہ رقم دینے کا فیصلہ کیا ہے جب وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں قائم ہونے والی نئی حکومت کمزور معیشت کو بہتر بنانے کےلئے جدوجہد کر رہی ہے، پاکستانی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اخبار سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چین کی جانب سے رقم دینے کا فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ چین دوست ملک پاکستان کو کسی بھی قسم کے معاشی بحران کا شکار نہیں ہونے دے گا۔ رپورٹ میں کسی بھی چینی عہدیدار کا موقف شامل نہیں کیا گیا،چین کی جانب سے مالیاتی امداد دونوں ممالک کے مابین وسیع تر معاشی تعلقات کو ظاہر کرتی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان آئی ایم ایف سے 7سے 8ارب کا مالیاتی پیکج حاصل کرنے کےلئے بھی مذاکرات کر رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ چین نے مالیاتی امداد پاکستان کو دینے کا اعلان اس لئے نہیں کیا امریکہ دونوں ممالک کے مابین اس مالیاتی پیکج کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار نہ کرے۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی مالی بحران میں مدد کی ہے، خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے مسند اقتدار سنبھالنے کے بعد نومبر میں پہلا دورہ چین کای تھا جس میں دونون ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون کے 15معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کئے گئے تھے، ذرائع کے مطابق چین کی جانب سے ڈیڑھ ارب گرانٹ اور ڈیڑھ ارب قرجہ دیئے جانے کا امکان ہے، جبکہ سی پیک کیلئے 3ارب ڈالر اضافی ملنے کا امکان ہے۔ اسلام آباد( وائس آف ایشیا‘ آئی این پی )اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ گیند اب ہمارے کورٹ میں ہے۔ سعودی عرب پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی انویسٹمنٹ کرنے والا ہے ، گیند ہمارے کورٹ میں ہے ، صرف اگلے ہفتے کابینہ نے منظوری دینی ہے اور ہم باقاعدہ اعلان کر دیں گے۔اسد عمر کامزید کہنا تھا کہ انہیں سعودی ولیعہد کے پیغامات بھی مل رہے ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے معاملات میں تیزی کیلئے مسلسل پیغام وصول ہو رہے ہیں۔اسد عمر نے ایک سوال کے جواب میں کہا مکہ ان سے پوچجا جاتا ہے کہ چوروں کو جیل میں کب ڈالیں گے اور یہ لوگوں کی خواہش بھی ہے۔خیال رہے کچھ روز قبل پاکستان کو سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر کی دوسری قسط موصول ہو ئی۔۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق سعودی عرب پیکج کے تحت یہ دوسری قسط پاکستان کو موصول ہوئی جب کہ ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط جنوری کے وسط میں پاکستان کو ملے گی۔اس منتقلی سے اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ کے ذخائر 9 ارب 26کروڑ ڈالر ہو گئے تھے۔واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کو معاشی اور مالی بحران سے نکالنے کیلئے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ جس میں سعودی عرب نے پاکستان کو ادھارتیل اور مالی امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔ اسی طرح وزیراعظم عمران خان امدادی قرض لینے کیلئے چین کا بھی دورہ کیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ چین نے پاکستان کو توقعات سے بڑھ کر امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے وفد کے ہمراہ متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کیا۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صدارتی محل آمد پر وزیراعظمعمران خان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ جس کے بعد عمران خان نے ولی عہد شیخ محمد بن زید سے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماں نے زیرغور معاہدوں کو جلد حتمی شکل دینے کیلئے مشاورت پر بھی اتفاق کیا۔ اسی طرح ملاقات میں دونوں رہنماں نے ہرقسم کی دہشتگردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی یو اے ای کے ولی عہد سے ملاقات میں دونوں ملکوں کا تربیت ، مشترکہ مشقوں اور دفاعی پیداوار میں تعاون سمیت تجارت، سرمایہ کاری اوردیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شیخ زید بن سلطان النیہان پاکستان کے سچے دوست تھے۔ وزیراعظم نے پولیو کے خاتمے کیلئے متحدہ عرب امارات کے تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا۔ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد زید النیہان نے کہا کہ عرب امارات علاقائی اورعالمی سطح پربرداشت کی اقدارکوفروغ دے رہا ہے۔ پاک عرب امارات تعلقات تعاون وعزت واحترام کے مضبوط رشتے پرمبنی ہیں۔


















