جناب چیف جسٹس ،کالا باغ ڈیم کا مسلہ مشترکہ مفادات کو نسل لیکر جائیں میری رٹ سپریم کو رٹ میں ہے مسلہ آپ کے پاس لیکر آرہا ہوں ،بھارت راوی ،ستلج، کا ساراپانی نہیں روک سکتا اب کوئی دریا جو ملکوں میں بہتاہے ،آبی حیات ،پینے کے پانی کو ئی ملک بند نہیں کر سکتا کہنہ مشق صحافی ،دبنگ تجزیہ کار ضیاشاہد کی چینل ۵کے مقبول پروگرام ”ضیاشاہد کے ساتھ “میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سب ے اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ دو سال سے تو میرا دن رات اس مسئلے پر کام کر رہا ہے راوی جہاں سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے جسڑ وہاں گیا۔ سلیمانکی جہاں سے ستلج پاکستان میں داخل ہوتا ہے وہاں گیا۔ بھارت نے شٹر ڈال کر پانی بند کیا ہوا ہے۔ ایک قطرہ پانی کا بھی سوائے سیلاب کے۔ جب سیلاب آتا ہے تو اٹھا دیتے ہیں تا کہ پانی ہمارے علاقے میں آ جائے۔ میں نے جو تحقیق کی ہے اس وقت بھی میرے آفس میں ہو گی کل یا پرسوں سامنے ہو گی۔ چیف جسٹس کے میں نے رٹ فائل کر دی ڈاکٹر خالد رانجھا کے ذریعے۔ مختصراً بات یہ ہے کہ پاکستان میں پانی کے دو الگ الگ معاملات ہیں۔ ایک مسئلہ ہے پینے کے پانی کا کیونکہ دریاﺅں میں مشرقی دریا ان کو کہتے ہیں راوی اور ستلج ان میں پوار سال پانی کی بندش کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی۔ آپ یوں دیکھیں کہ جب میں ملتان سے میٹرک پاس کر کے لاہور آیا بہت برس پہلے کی بات ہے تو لاہور میں 10 فٹ نیچےے ہینڈ پمپ سے پانی مل جاتا تھا کیونکہ راوی سارا سال بہتا تھا میں خود راوی میں کشتی رانی کرنے جاتا رہا ہوں۔ اب دریا سارا سال بند رہتے ہیں یہاں سے سیوریج کا گندا پانی کھڑا ہے اس کی وجہ سے پانی نیچے نیچے ہوتے ہوئے آج کل جو ہمارے گھروں میں واسا کا پانی سپلائی ہو رہا ہے لاہور سے اس سے پورے ملک کی حالت کا کہ وہ اب 650 فٹ نیچے سے آتا ہے ہر ٹیوب ویل سے۔ لیکن آخری ٹیوب ویل جو پنجاب اسمبلی کے پیچھے وہ 1350 فٹ پر جا کر پانی ملا ہے اللہ جانتا ہے میں نے اپنی زندگی میں دیکھا کہ بہاولنگر ہم دریا کے کنارے ہوتے تھے اور بڑی نہر چلتی تھی اس طرح سے ہاتھ، ڈبہ یا مگ لے کر پانی کنوﺅں میں اتنا قریب ہوتا تھا کہ ایک آدمی سے کہتے تھے میرا ہاتھ پکرنا دوسرا ہاتھ نیچے کر کے جگ بھر لیتے تھے۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ جو میں نے تجویز کیا تھا اور پچھلے ڈیڑھ سال سے یہ موومنٹ چلا رہا ہوں ستلاج راوی واٹر فورم کے نام سے اس میں بہت سے۔ یہ اخبار کا مسئلہ نہیں ہے یہ پاکستانی شہریوں کا مسئلہ ہے اس میں میرے ساتھ آبی ماہرین ہیں۔ سیاستدان ہیں زمیندار بھی ہیں۔ یہ خبر ہمارا بالکل مختصر بتاﺅں کہ ستلج اور راوی میں پاکستان کے لئے بھارت سو فیصد پانی بند نہیں رکھ سکتا ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ انڈس واٹر ٹرسٹی میں جو معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت دو دریا وہ لے گیا اور جہلم اور چناب ہمارے حصے میں آئے اس میں درج ہے کہ جن علاقوں سے جہلم اور چناب گزرتے ہیں وہاں بھارت پینے کے پانی اور گھریلو ضروریات کا پانی اور نمبر2 ماحولیات کا پانی نمبر3 آبی حیات کا پانی وہ درج ہے ایک شق میں کہ پانی جہلم اور چناب سے بھی جب یہ انڈین علاقے سے گزرتے ہیں ان مصارف کے لئے پانی لے سکتا تھا اب ہونا یہ چاہئے تھا کہ یہی جملہ اصول راوی اور ستلج کے حوالے سے بھی ہوتا وہاں ہمارے لوگوں میں ایک محی الدین صاحب ایک بزرگ ہوتے تھے اوور سینئر بیورو کریٹ تھے ایوب خان کے زمانے میں ہمارے ہاں یہ جملہ درج نہیں ہے لیکن سارے وکلا یہ کہتے ہیں کہ جب وہ اپنے لئے پینے کا پانی، ماحولیات کا پانی اورآبی حیات کا پانی یقینی بناتا ہے کہ ان دریاﺅں میں جو ان کے علاوں میں بہتے ہیں اور پاکستان کو ان کا پانی انڈس واٹر کے تحت تو ان تین مصارف کے لئے پانی لے رہا ہے اس طرح ہمارا کہنا ہے کہ ہم سپریم کورٹ میں جانا چاہتے ہیں سپریم کورٹ مجبور کرے وفاقی حکومت کو، ہم ان بنیادوں پر بین الاقوامی عدالت انصاف میں جائیں۔ میں نے خود شاہد خاقان عباسی کے پاس یہ کیس لے کر گیا انہوں نے کہا کہ ہم کیا کریں ورلڈ بینک نہیں مانتا۔ ابھی پچھلے دنوں کشن گنگا کے مقام پر مقبوضہ کشمیر میں دریائے نیلم پر مودی صاحب نے آ کر افتتاح کیا تو فوری طور پر میں نے یہ بات ان سے بھی کہی۔ آرمی چیف صاحب، میں نے یہ بات چیف جسٹس صاحب سے بھی کہی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کے ساتھ دو بندوں کے ساتھ ورلڈ بینک کے پاس بھیجا جو وہاں سے ناکام ہو کر آ گئے کہ نہیں جی وہ نہیں مانتے۔ پہلی بات ہم یہ رٹ کرنا چاہتے ہیں کہ جناب ورلڈ بینک کوئی عدالت نہیں وہ تو صرف ریوننگ اتھارٹی ہے کیونکہ وہ انڈس بین پلان کے تحت اور واٹر ٹرسٹی کے تحت ورلڈ بینک گارنٹر تھا۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کہ اگر کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو گارنٹر کے پاس جائیں کہ فلاں ملک ہم سے زیادتی کر رہا ہے۔ وہ ہماری کوئی بھی اپیل، استدعا، عرضداشت نظرانداز نہیں کر سکتا۔ وہ تھانیدار نہیں لگا ہوا۔ دوسری بات یہ کالا باغ ڈیم۔ آج اس پر بھی بہت بات ہوئی۔ کالا باغ ڈیم کے بارے میں آج 16 سال پہلے میں نے رٹ کی لاہور ہائی کورٹ میں جناب وہ رٹ 7 سال تک پینڈنگ رہی صوبوں کو جب یہ جاتا تھا کہ آپ جواب دیں کہ کالا باغ ڈیم پر کیا اعتراضات ہیں تو سندھ جواب دیتا تھا نہ کے پی کے (جو اس وقت صوبہ سرحد تھا) نہ وہ جواب دیتا تھا۔ پنجاب کی طرف سے رپورٹ آ جاتی تھی۔ پنجاب کی رپورٹ کا فائدہ کوئی نہیں کیونکہ ان دونوں صوبوں کو اعتراص ہے میں نے اس وقت ایک سیمینار کیا جنگ اخبار کے تحت کیا تھا جس میں ولی خان صاحب (میں اس وقت جنگ سے وابستہ تھا) آئے تھے صوبہ سرحد سے آئے تھے۔ عبدالحفیظ پیرزادہ، صوبہ سندھ کی طرف سے اس میں حنیف رامے حالانکہ سابق وزیراعلیٰ تھے لیکن غلام جیلانی صاحب نے کہا تھا کہ ان کو آپ پنجاب کا کیس نہیں کرنے دو۔ اس میں ولی خان نے اٹھ کر کھڑے ہو کر کہا کالا باغ ڈیم اگر بنا تو ہم اسے بم سے اڑا دیں گے اور ہمیں پنجاب پر اعتبار نہیں اور میں واک آﺅٹ کرتا ہوں۔ یہی موقف سندھ کا تھا کہ ہم نہیں بننے دیں گے۔ ٹھیک کہہ رہے چیف جسٹس صاحب لیکن اس کا بھی طریقہ یہ ہے کہ میری ایک پینڈنگ رٹ علی ظفر صاحب جو آج کل وزیر قانون ہو گئے ہیں ان سے میں نے کروائی تھی ایس ایم ظفر نے انہیں لکھا تھا وہ بھی پینٹنگ پڑی ہوئی ہے کالا باغ ڈیم کے لئے۔ وہ بھی سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے میں اس کی کاپی نکلوا کر لے کر جاﺅں گا کہ جناب اس کی جلد سماعت کی جائے اس سے ہم نے پھر سے کہا تھا کہ چونکہ صوبوں کے درمیان اختلاف ہے اس لئے سندھ کے پی کے بلوچستان اور پنجاب ان چاروں کے موقف، یہ دیتے ہی نہیں، کسی معقول بات پر کوئی آنے کے لئے تیار نہیں اسے انہوں نے مسئلہ بنایا ہوا ہے۔ ہم نے گزارش کی تھی کہ سپریم کورٹ حکومت پاکستان اور فیڈریشن ااف پاکستان کو پابند کرے کہ وہ ہمارا کالا باغ ڈیم والا کیس (ڈیم بنتا نہیں بنتا ہے؟) کیا اعتراضات ہیں میں اس کے لئے اس کی مشترکہ مفادات کونسل میں لے لیا جائے۔ اس میں چاروں صوبوں کے ہوتے ہیں ان کی صدارت وزیراعظم پاکستان کرتا ہے ہمارا موقف یہ تھا کہ اگر اس سطح پر یہ ڈسکس ہو جب سارے بیٹھے ہوں تو پھر وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم جواب ہی نہیں دیتے۔ آخری بات یہ ہے کہ جناب کالا باغ 8 سال میں نے یہاں کیس کیا۔ اب کیس کیا ہوا ہے سپریم کورٹ میں کیس کیا ہوا ہے کالا باغ ڈیم کے لئے۔ اس معاملے میں میرا سندھی اخبار خبروں کے دفتر پر حملے ہوئے سکھر میں، اس کا چھ دن تک گھیراﺅ جاری رہا۔ جو سندھ کا انتہا پسند ہے یہ کہتا ہے کہ کالا باغ ڈیم کا نام ہی نہ ہو۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس علاقے کے اعتبار سے صرف کالا باغ وہ جگہ ہے جہاں ڈیم بن سکتا ہے۔ آخری بات ہم نے یہ کیا واپڈا نے یہ تجویز کیا پرویز مشرف کے دور میں اس وقت بھی میں نے بڑی بھاگ دوڑ کی تھی صدر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ میں نے تجویز دی تھی کہ سندھ کے دانشوروں، کالم نویسوں کو بلایا جائے ان کو یہاں بلا کر بٹھایا جائے تربیلا اور منگلا بھیجا جائے اور ان سے گفت و شنید ہو کہ بغیر سنے ہوئے کیوں مخالفت کیوں کر دیتے ہیں۔ ہمارا نقطہ نظر اس وقت بھی یہ تھا کہ واپڈا نے جو ڈیزائن تھا وہ اتنے فٹ نیچے کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اب جو ایک ہی اعتراض ہوتا تھا صوبہ سرحد کو کہ اگر سیلاب آیا گو نوشہرہ پانی میں ڈوب جائے گا تو انہوں نے اس کا لیول کم کر دیا اور کہا کہ اب کسی بھی طریقے سے زیادہ سے زیادہ سیلاب بھی آ گیا تو نوشہرہ پانی میں نہیں ڈوبے گا۔ سندھ والے کہتے تھے جب ڈیم بنے گا تو پنجاب اس میں سے نہریں نکال لے گا۔ جناب آخری فزیبلٹی یہ تھی اور نقشہ یہ بنایا گیا تھا کہ کالا باغ ڈیم کیری اوور بنے گا۔ کیری اوور ڈیم اس کو کہتے ہیں کہ جہاں نہریں نہیں نکالی جاتیں صرف بجلی پیدا کی جاتی ہے اور پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے اورجب پانی جوڑنا مقصود ہو تو اس سے اگلے علاقے میں کراچی تک سندھ میں جا سکتا ہے۔ اس پر بھی سندھ کے بعض دوستوں کا اعتراض تھا کہ جی ہمیں پنجاب پر اعتبار نہیں تو ایک سیمینار میں خبریں کی طرف سے پی سی کراچی میں کیا تھا اس میں نوید قمر کے والد قمر اللہ شاہ جو سنیٹر تھے اور بھٹو کے ذاتی دوست تھے ان کو بلایا تھا انہوں نے بھی آخر میں مجھے وہی بات کہی جو ولی خان نے کہی کہ ضیا صاحب کھانا کھلائیں کالا باغ ڈیم تو ہم نے بننے نہیں دینا ہمارا پانی بند ہو جائے گا۔ اس وقت کے وزیر آب پاشی جو خود سندھی تھے چانڈیو صاحب انہوں نے کہا کہ جناب یہ طے ہو چکا ہے کہ اس کی نگرانی جب ڈیم بن جائے گا تو کتنا پانی کس کو دینا ہے اس کی نگرانی ارسا کرے گی۔
ساڑھے 3ہزار ڈیم بھارت بنا چکا ہے، ہمارے 2ڈیم منگلا اور تربیلا ہیں۔ چودھ سال پہلے سنا تھا کہ بھاشا ڈیم بن رہا ہے اس پر بھی اعتراضات آئے، جس جگہ وہ بن رہا تھا وہ شاہراہ آبریشم کے پاس ہے وہاں انڈیا نے اعتراض کیا ہوا ہے کہ یہ متنازعہ لائن ہے جس کی وجہ سے ورلڈ بینک سمیت دنیا کا کوئی مالیاتی ادارہ قرض دینے کو تیار نہیں۔ بھاشا ڈیم پر 14 سال سے صرف زبانی جمع خرچ ہے۔ کالا باغ ڈیم آج شروع ہو جائے تو 8ویں سال بجلی دینے لگے گا اور پانی بھی جمع ہو جائے گا۔ چیف جسٹس کو پہلے بھی خراج تحسین پیش کیا تھا۔ ان سے کہتا ہوں کہ آپ کو جھولی پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ میری ہی رٹ کے مطا بق اس مسئلے کو مشترکہ مفادات کونسل میں لے جائیں تاکہ صوبے بیٹھ کر اور مل کر طے کریں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو گا جب تک بھارت پانی نہیں چھوڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے پرویز مشرف واپس آ جائیں گے کیونکہ یہی خدشہ تھا کہ گرفتار کر لیا جائے گا۔ بہتر ہے وہ واپس آ کر عدالت کے سامنے پیش ہوں۔ نواز شریف پر اتنے مقدمات ہیں انہیں تو گرفتار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناءنے حسن عسکری کے بارے بہت گھٹیا اور سخت الفاظ استعمال کیے۔ سیاست میں ناپسندیدگی کا اظہار مہذب انداز میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے ٹھیک کہا کہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے نام کو مسترد کرتے ہیں، ان کو غیرجانبدار تسلیم نہیں کر سکتے۔ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ جو نام بھیجے گئے تھے ان میں سے ایک کو منتخب کیا جو ہمارا اختیار ہے۔ حسن عسکری نے بھی کہا کہ مجھے الیکشن کمیشن نے نامزد کیا ہے کسی پارٹی کی طرف سے نہیں ہوں۔ ترجمان آل پاکستان مسلم لیگ ڈاکٹر امجد نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کے پاکستان آنے کی حتمی تاریخ ابھی نہیں بتا سکتا۔ دو روز پہلے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ وطن واپس آنا چاہتے ہیں اور ان کا پلان بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ان کی نااہلی کے فیصلے کو کینسل کرنے کی اپیل خود ہی دائر کی ہوئی تھی تاکہ وہ ملک میں واپس آ کر عام انتخابات میں حصہ لیں سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلاءسے مشاورت کر کے فیصلہ کریں گے کہ وہ 13تاریخ تک وطن واپسی کے تمام انتظامات پورے ہو سکتے ہیں یا عید کے بعد ہی آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2013ءمیں بھی مشرف نے انتخابات کےلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے لیکن انہیں پشاور ہائیکورٹ نے تاحیات نااہل کر دیا۔ اس لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی کہ مشرف انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی پر دستخط کروا لیے ہیں، اس بار بھی 4مختلف حلقوں سے ان کے کاغذات نامزدگی 3,2 روز میں جمع کروا رہے ہیں۔ پرویز مشرف کے کاغذات این اے 01 چترال، ملتان، این اے 247کراچی اور گوادر کےلئے تیار کر رہے ہیں۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی ناکامی کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس آئینی اختیار ہے کہ وہ نگران وزیراعلیٰ کا اعلان کرے۔ آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کا فیصلہ فائنل ہوگا کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہوگا۔ نواز لیگ کو اس طرح سے تنقید نہیں کرنی چاہیے تھی۔ الیکشن کمیشن کے پاس 4نام گئے تھے، انہوں نے ایک کا انتخاب کرنا ہی تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کو آئینی تحفظ حاصل ہے، نواز لیگ کو اس انداز میں اعتراض نہیں کرنا چاہیے تھا۔ خیال ہے کہ ن لیگ نے حکمت عملی کے تحت اعتراض کیا ہے تاکہ بیوروکریسی میں تقرر و تبادلوں کے حوالے سے دباﺅ ڈالا جاسکے۔ یہ دباﺅ 2013ءمیں دوسری پارٹیاں نہیں کر سکیں۔ جیسے ہی نجم سیٹھی آیا سب نے مبارکباد کے قصیدے پڑھنے شروع کر دئیے۔ چند مہینوں بعد پتہ چلا تو اعتراض شروع کر دیا۔ نواز شریف کی دباﺅ ڈالنے کی حکمت عملی ہے جو کامیاب نہیں ہوگی۔ حسن عسکری دباﺅ میں آنے والے نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب اب الیکشن کمیشن کے نمائندہ ہیں۔ رانا ثناءکو گالیاں نکالنے پر طلب کرنا چاہیے۔ الیکشن کمیشن رانا ثناءکو عام انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کا اختیار رکھتا ہے، نااہل کرسکتا ہے۔

کیویز ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اچانک مستعفی ہوگئے

آکلینڈ(آئی این پی) کرکٹ کے سب سے بڑے ایونٹ ورلڈ کپ میں ایک سال سے بھی کم کا عرصہ رہ گیا اور اس سے قبل نیوزی لینڈ کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے اچانک عہدے سے استعفی دے دیا۔مائیک ہیسن نے پریس کانفرنس کے دوران بطور ہیڈ کوچ کیویز ٹیم کے عہدے سے سبکدوشی کا اعلان کیا۔نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مائیک ہیسن اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں جس پر انہوں نے عہدے سے استعفی دیا۔ کیویز بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ کا کہنا ہے کہ مائیک ہیسن سے رابطہ کیا گیا اور انہیں مئی 2019 میں ہونے والے ورلڈ کپ تک ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر قائل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ اپنا فیصلہ کرچکے ہیں۔ورلڈ کپ سے قبل نیوزی لینڈ آخری سیریز اکتوبر میں پاکستان کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلے گی۔، اس سے قبل بورڈ نے نئے کوچ کی تلاش شروع کردی۔مائیک ہیسن نے 6 سال تک نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کے فرائض انجام دیے جس کے دوران کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کیویز ٹیم ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ مائیک ہیسن کی کوچنگ کے عرصے کے دوران کیویز ٹیم نے 21 ٹیسٹ جیتے اور 21 میں ہی ناکام ہوئی، اسی طرح ایک 65 ایک روزہ میچز میں فاتح اور 46 میں ناکام ہوئی۔کیویز ٹیم نے مائیک ہیسن کی کوچنگ میں کھیلے گئے 56 ٹی ٹوئنٹی میچز میں سے 30 میں کامیابی اور 26 میں ناکامی کا سامنا رہا۔

ویمنز ایشیا ٹی 20:پاکستان نے ملائیشیاءکو 147رنزسے بچھاڑدیا

کوالالمپور (اے پی پی) ویمنز ٹی ٹونٹی ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستان نے ملائیشیا کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 147 رنز کے واضح مارجن سے ہرا کر تیسری کامیابی حاصل کر لی، ملائیشین ٹیم 177 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 30 رنز پر ڈھیر ہو گئی، 10 کھلاڑی دوہرا ہندسہ عبور کرنے میں ناکام رہیں، کپتان بسمعہ معروف نے مسلسل دوسری ففٹی بنائی اور 62 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہیں، ندا ڈار نے 5 رنز کے عوض 4 وکٹیں لیکر ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا اور میچ کی بہترین کھلاڑی قرار پائیں، بھارت اور بنگلہ دیش نے بھی فتوحات حاصل کیں۔ جمعرات کو کھیلے گئے میچ میں پاکستان ویمن نے ملائیشین ویمن کو با آسانی 147 رنز سے ہرا کر تیسری کامیابی سمیٹی، پاکستان ویمن نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 177 رنز بنائے، کپتان بسمعہ معروف نے عمدہ بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 62 رنز کی دلکش اننگز کھیلی، ندا ڈار 41، جویریہ خان 31، جویریہ راﺅف 13 اور ناہیدہ خان ایک رن بنا کر آﺅٹ ہوئیں، ثناءمیر 14 اور نین عابدی 9 رنز بنا کر ناٹ آﺅٹ رہیں، عائنہ، ساشہ عظمی اور زومیکا نے ایک، ایک وکٹ لی، جواب میں ملائیشین ٹیم مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں 18.4 اوورز میں صرف 30 رنز پر ڈھیر ہو گئی، صرف ایک کھلاڑی دوہرا ہندسہ عبور کر سکی، ندا ڈار نے 5 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، ثناءمیر، ناشرہ اور جویریہ خان نے ایک، ایک کھلاڑی کو آﺅٹ کیا، بھارت ویمن نے سری لنکا ویمن کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر تیسری کامیابی سمیٹی، بنگلہ دیش ویمن نے تھائی لینڈ ویمن کو 9 وکٹوں سے زیر کیا۔

اسدشفیق مستقبل میں عمدہ پرفارم کرنے کےلئے پرعزم

لاہور(نیوزایجنسیاں) قومی کرکٹر اسد شفیق آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شائقین کو واپسی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ”پاکستان واپس آ گیا ہوں، اب رمضان المبارک کے آخری چند روز اپنی فیملی کے ساتھ گزاروں گا، انگلینڈ کے خلاف سیریز نہ جیتنے پر مایوسی ہوئی، آپ سے درخواست ہے کہ ہمیں اپنی دعاﺅں میں یاد رکھیں، آپ سب کا سربلند رکھنے کیلیے ہم اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔“واضح رہے کہ آئر لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف سیریز میں اسد شفیق کی کارکردگی ملی جلی رہی تھی، ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے اسد شفیق اور اظہر علی کو کاﺅنٹی کرکٹ کھیلنے کا مشورہ دیا تھا تاہم کچھ مسائل کی وجہ سے اسد شفیق وطن واپس آ گئے ہیں۔

دیا میر بھاشا مشکل کام،کالا باغ ڈیم آسان راستہ:امتنان شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ایڈیٹر خبریں گروپ آف نیوز پیپرز اور سی ای او چینل ۵ امتنان شاہد نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم بہت ضروری ٹاسک ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان انڈس کمیشن کو کبھی حکومت پاکستان کی طرف سے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ بدقسمتی سے گزشتہ 20 سال کو دیکھیں تو وارسک ڈیم 1960ئ، منگلا ڈیم 1962ئ، راول ڈیم 1962، سنگلی ڈیم 1962، حب ڈیم 1963ئ، تربیلا 1968ءاور خان پور ڈیم 1968ءمیں بنا۔ یہ ڈیم اس دور میں بنے ہوئے ہیں جو جنرل ایوب کا دور تھا۔ آج بھی چیف جسٹس صاحب نے ہماری نسلوں پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ ایوب خان کے نظریے سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اس وقت ہم اور ہمارے بچے زندہ ہیں تو اس آدمی کی مہربانی ہے۔ اس وقت بھی کوئی مفاہمت نہیں تھی۔ اس وقت بھی کسی سیاسی جماعت نے اٹھ کر نہیں کہا تھا کہ آ? سارے ملک کر بنائیں۔ یہ فرد واحد کا فیصلہ تھا۔ یہ فیکٹ ہے کہ بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتوں میں سے کسی میں بھی اتنی دور اندیشی نہیں ہے، قوم کی فکر نہیں ہے کہ 10 سال بعد اس ملک میں پانی نہ ہوا تو آپ کا کھانا کہاں سے آئے گا۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے امتنان شاہد نے کہا کہ انڈیا میں انڈسس واٹر کمیشن کے نام پر ایک کمیشن بنایا گیا۔ جس کی صوابدید پر اڑھائی بلین بھارتی روپے ہیں جبکہ پاکستان کی طرف کمیشن پر 5 بلین ہیں۔ جو دو نیشن فنڈ ہے۔ جس میں سے جو پیسے نکلتے ہیں وہ واپس آ جاتے ہیں۔ سنا یہ گیا ہے کہ پاکستان میں جتنے بھی اہم بیورو کریٹس وزراءاور انڈسس واٹر ٹریٹی کے سرکردہ ماہرین کو بھی اس میں سے پیسے جاتے ہیں اور انڈیا انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں کلیم کرتا ہے کہ پاکستان کو تو پانی کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اور ہم بولتے نہیں ہیں۔ عمران خان کی شخصیت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں نے جب صحافت میں قدم رکھا تو 1996ءمیں احتساب موومنٹ کے نام سے ایک تحریک شروع کی۔ میں نے گلوکار سلمان احمد اور عمران خان بھی اس میں شامل تھے۔ ہم نے مل کر خبریں کے پلیٹ فارم سے 6 سے 8 مہینے لگائے اور جنون گروپ کے کنسرٹ کروائے جب جنون پی ٹی وی پر بین تھا۔ ہم خود رات کو جا جا کر مال روڈ پر بینر لگاتے تھے۔ میں عمران خان اور تحریک انصاف کا بیٹ رپورٹر تھا۔ سکاچ کار پر دفتر تھا۔ میں نے بیٹ رپورٹنگ سے صحافت کا آغاز کیا یہ 1996ئ کی بات ہے۔ مجھے انہوں نے کہا کہ ذرا عمران خان نئے نئے کپتان بن کر آئے ہیں اور نیا ورلڈ کپ جیتا ہے۔ احتساب کا بین ویڈیو اسی ٹائم پر بنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھ آدمی سے اختلاف کریں، سیاست میں، عمران خان صاحب کرپٹ نہیں ہیں اور ان کے اوپر الزام لگانے والے آہستہ آہستہ خود کرپٹ ہونے جا رہے ہیں اور کرپٹ نکلتے جا رہے ہیں اور ثابت ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج میں بیان پڑھ رہا تھا سنیٹر زاہد خان کہتے ہیں کہ پنجاب میں جو وزیراعلیٰ نامزد کیے گئے ہیں وہ جانبدار ہیں، پنجاب میں اے این پی، وہ جماعتیں اپنی ناک پھنساتی ہیں جن کی ایک سیٹ نہیں ہے۔ ان کا یونین کونسلر بھی نہیں ہے اور اس طرح کالا باغ ڈیم کے مسئلے کو بھی سیاست کی نظر کیا ہوا ہے۔ صرف کچھ لوگوں نے۔ اس کا باقاعدہ انڈیا نے ایک فنڈز رکھا ہوا ہے جو کہ اڑھائی بلین بھارتی روپے ہیں۔ یہ فنڈ مختلف روٹیشنز پر ہے۔ اس میں سے جتنے پیسے نکال کر وہ استعمال کرتے ہیں اس میں دوبارہ ڈل جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ عوام کے موقف کو مولڈ کرنے کا، ہم سندھ سے 3 سٹیشنز سے اخبار نکالتے ہیں، ہم نے، پرویز مشرف نے ایک دفعہ ایک موومنٹ شروع کی تھی جب وہ صدر تھے اور کالاباغ کے ہم نے ہمارے سندھی کے اخبار میں اشتہار چھاپ دئیے، اس پر کسی نے جوابی کارروائی نہیں کی۔ ایک سیاسی جماعت تھی جس نے جوابی کارروائی کی۔ انہوں نے ہمارے دفتر پر کریکر بم پھینکے۔ ہمارے پشاور کے آفس پر حملہ ہوا، سکھر کے دفتر پر حملہ ہوا لیکن ایک جماعت تھی۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے گلوکار سلمان احمد نے کہا کہ ریحام ان سے 2014 میں ملیں اور اپنا تعارف کروایا تو وہ پاکستان کی نمبرون اینکر پرسن تھیں اور میری فین تھیں۔ مگر ان کی کتاب کوئی ماں بہن نہیں پڑھ سکتی۔ آج عمران خان کی سابقہ بیوی جمائما کا مجھے فون آیا اور انہوں نے کہا کہ میرے 16 سالہ بیٹے کے خلاف ریحام کی کتاب میں مواد شائع ہوا تو میں انہیں کورٹ میں لے جا?ں گی۔ سلمان احمد نے انکشاف کیا کہ ریحام خان ایس کے ایم ٹی، عمران خان فا?نڈیشن اور نمل کے لئے آنیوالی زکوٰة فنڈاپنے اکاﺅنٹ میں ڈالنا چاہ رہی تھیں اور عمران خان نے انہیں پکڑ لیا۔ ایسی عورت کی کیا حیثیت ہے۔ ریحام یہودی لابی کی ماں ہے۔ دشمن عناصر کے ساتھ مل کر کتاب لکھنے پر میں ان کا سب سے بڑا دشمن ہوں۔ پروگرام میں شریک مہمان تجزیہ نگار چودھری غلام حسین نے کہا کہ قوم کو نظر آ گیا ہے کہ پانی ختم ہو گیا تو ہم ختم ہیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے پاکستان کو بنجر بنانے میں لگے ہیں کیونکہ یہ انکا وطن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے اسفند یار ولی نے ا مریکہ سے بلین ڈالرز لیے اور ان کے دادا بھارت سے پوٹلیاں لیتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ شریفوں سے جان چھوٹ رہی ہے۔ ان کا یہ حال ہے کہ شہباز شریف کہتے ہیں جو بھی ہو جائے پنجاب اور اسلام آباد کی 150 سیٹوں میں سے 70’65 ہم لینگے۔ مگر ان کی سیٹیں 40,35 ہونگی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا امیج خراب کرنے کی بین الاقوامی سازش ہو رہی ہے۔ ایک خبر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ آئی بی کا باپ بھی نواز شریف کو الیکشن نہیں جتوا سکتا۔

ایپل واچ کےلیے ”واکی ٹاکی ایپ“ لانچ کردی گئی

کیلیفورنیا(ویب ڈیسک)یہ ایپ واچ او ایس فائیو نامی نئے ایپل آپریٹنگ سسٹم پر چلتی ہے۔ جس میں واٹس ایپ کی طرح رابطہ فہرست میں شامل دیگر دوستوں کو بھی اپنا وائس میسج بھیج سکتے ہیں۔ اس ایپ کو ’واکی ٹاکی‘ کا ہی نام دیا گیا ہے۔پیر کے روز ورلڈ وائڈ ڈیویلپرز کانفرنس میں ایپل کے چیف آپریٹنگ آفیسر جیف ولیمز نے اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایپل واچ رابطے، جان بچانے اور صحت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔’اب نئے اوایس فائیو کی لانچنگ کے بعد ایپل واچ رابطے اور دیگر سرگرمیوں میں ایک نئے درجے پر جائے گی،‘ جیف ولیمز نے کہا۔ انہوں نے کہا کہ واکی ٹاکی ایپ کے ذریعے دو افراد بہت آسانی سے ایک دوسرے سے بات کرسکتے ہیں۔ایپل نے اس کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ایپ وائی فائی اور سیلولر نیٹ ورک، دونوں پر کام کرتی ہے جبکہ اس کے ذریعے پوری دنیا سے تیزرفتار، ذاتی اور خفیہ رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح فون کال کے مقابلے میں ایک بٹن دبا کر بات کرنا بہت آسان اور محفوظ طریقہ بھی ہے۔ایپل کے مطابق نئے آپریٹنگ سسٹم میں واچ فیس میں بہت تبدیلیاں کی گئی ہیں جبکہ نقشوں، اسپورٹس اور صحت کی معلومات بھی بہتر بنائی گئی ہیں۔واکی ٹاکی ایپ کےلیے بٹن کو کسمٹائز یا تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے۔

افغان صدر کا عید پر طالبان کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان

کابل(ویب ڈیسک)افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا ہے کہ 27 ویں روزے سے عید کی تعطیلات تک جنگ بندی جاری رہے گی۔ اشرف غنی نے کہا کہ یہ جنگ بندی صرف طالبان کے ساتھ ہوگی اور افغان سیکورٹی فورسز داعش اور دیگر غیر ملکی تنظیموں کے خلاف آپریشن بند نہیں کریں گی۔ افغان صدر نے کہا کہ طالبان کے ساتھ جنگ بندی کا یہ فیصلہ افغان علما کے تاریخی فتوے کی روشنی میں کیا گیا۔افغان حکومت نے عید پر 5 دن کی چھٹیوں کا اعلان کیا ہے اور دونوں فریقوں نے معاہدے کا احترام کیا تو یہ سیز فائر 12 سے 19 جون تک جاری رہ سکتا ہے۔ ادھر طالبان نے تاحال افغان حکومت کی اس پیش کش کا جواب نہیں دیا۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم اس حوالے سے اپنے اعلیٰ حکام سے پوچھ کر جواب دیں گے۔واضح رہے کہ 3 روز قبل افغانستان میں حکومت کے خلاف جنگ کو حرام قرار دینے والے علمائے کرام کے اجلاس میں دھماکا ہوا تھا جس سے 14 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ دھماکے سے کچھ دیر قبل 2 ہزار سے زائد علمائے کرام نے اس اہم اجلاس میں افغانستان میں حکومت کے خلاف جاری جنگ کو غیر شرعی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حکومت کے خلاف ہتھیار ا±ٹھانے والوں کو شر پسند قرار دیا تھا۔

خشک آنکھوں کا بجلی کے جھماکوں سے علاج

مشی گن(ویب ڈیسک)ماہرین نے اس کیفیت کےلیے بجلی کے ہلکے جھماکوں سے علاج پر کام کیا ہے، ان کے مطابق آنکھ کی نمی والی پرت میں بجلی کی سرگرمی سے اس کیفیت کو دور کیا جاسکتا ہے۔خشک آنکھوں کے مرض میں آنکھوں کو نمدار رکھنے والے غدود اپنا کام ٹھیک طرح نہیں کرپاتے لیکن یہ کیفیت بڑھ جائے توآنکھوں میں نمکیات بڑھ جاتے ہیں اور ناکافی پانی کی وجہ سے ہائپرس مولیریٹی یعنی اضافی نمکیات سے لاحق ہونے والا مرض پیدا ہوجاتا ہے جس کے دوران آنکھوں میں آنسوو¿ں کے غدود بڑے ہوجاتے ہیں۔ ان میں جلن پیدا ہوتی ہے اور آنکھوں کے خلیات بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ہمارے پورے بدن میں معمولی برقی سگنل جاری رہتے ہیں اور جو جسم کے مختلف اعضا کو ان کے کام میں مدد دیتے ہیں۔ اس ضمن میں یونیورسٹی ا?ف مشی گن کے پروفیسر ڈونلڈ جی پیورو اور ان کے ساتھیوں نے تحقیق کے بعد کہا ہے کہ بایو الیکٹریکل سگنل ا?نکھوں کے اندر خاص گوبلٹ سیلز (خلیات) کو سرگرم کرتے ہیں۔ اس سرگرمی سے میوسن نامی ایک پروٹین خارج ہوتا ہے جو ا?نکھوں میں نمی کو برقرار رکھتا ہے۔اس سرگرمی کو خاص چوہوں پر آزمایا گیا تو معلوم ہوا کہ بجلی کے جھماکے بڑھانے سے گوبلٹ سیلز کی کارکردگی بڑھنے لگی اور ان کی آنکھوں میں نمی پیدا ہوتے دیکھی گئی لیکن یہ عمل تھوڑی دیر کے لیے پیدا ہوا تھا۔ اس سے یہ بات ضرور سامنے آئی کہ انسانی آنکھ کی یہ عجیب بیماری بجلی کے سگنل سے درست کی جاسکتی ہے۔اس تحقیق کی تفصیلات امریکن جرنل آف فزیالوجی کے شمارے سیل فزیالوجی میں شائع ہوئی ہیں جس میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ انسانوں کی آنکھ میں بجلی کی سرگرمی پیدا کرکے خشک آنکھ کے مرض کا علاج ممکن ہے۔

امریکی شہری کو سانپ کے کٹے ہوئے سر نے ڈس لیا

ہیوسٹن(ویب ڈیسک)متاثرہ شخص کی بیوی نے امریکن ٹی وی کو بتایا کہ اس کے شوہر باغ میں کام کررہے تھے کہ اچانک انہوں نے تقریباً چار فٹ طویل ایک سانپ دیکھا جسے انہوں نے کچل کر ختم کردیا۔خاتون نے بتایا کہ لیکن جب ان کے شوہر نے سانپ کی باقیات کو اٹھا کر انہیں پھینکنا چاہتا تو سانپ کے کٹے ہوئے سر نے بھی انہیں ڈس لیا جس کے بعد انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں اینٹی اسنیک دوا دی گئی، تقریباً ایک ہفتے بعد ہی ان کی حالت کسی قابل ہوسکی اس دوران انہیں بچانے کے لیے دوا کے 26 ڈوز دیے گئے۔یونیورسٹی آف ایریزونا وائپر انسٹی ٹیوٹ کی ڈاکٹر لیزلے نے سانپ کو مارتے وقت یا اسے کاٹنے سے متعلق عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جانوروں کے ساتھ ایک سفاکانہ عمل ہے کہ اسے کاٹ دیا جائے۔خیال رہے کہ ایک سانپ مرنے کے کئی گھنٹوں بعد تک بھی ڈسنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

این اے 59 سے (ن)لیگ کے انجینئرقمرالاسلام نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے

راولپنڈی(ویب ڈیسک)راولپنڈی حلقہ این اے 59 سے (ن) لیگ کے رہنما انجینئر قمر الاسلام نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے ہیں۔ این اے 59 سے چوہدری نثارعلی خان بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔مسلم لیگ کے رہنما انجینئر قمر الاسلام نے گزشتہ دنوں پنجاب ہاو¿س اسلام آباد میں مسلم لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کی تھی اور پارلیمانی بورڈ میں این اے 59 کے ٹکٹ کے لیے درخواست جمع کرائی تھی۔ انجینئر قمر الاسلام پہلے اس علاقے سے رکن پنجاب اسمبلی تھے۔دوسری طرف چوہدری نثار علی خان نے مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ کو ٹکٹ کے لیے سرے سے کوئی درخواست ہی نہیں دی تھی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چوہدری نثار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔این اے 59 سے چوہدری نثار کے مقابلے میں تحریک انصاف کے غلام سرور خان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری کامران اسلم بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔چوہدری نثار اور نواز شریف میں اختلافات کھل کر سامنے آچکے ہیں جب کہ شہباز شریف بظاہر چوہدری نثار کو منانے کی کوششیں کرتے نظر آئے ہیں۔چوہدری نثار نے اپنی ایک سے زائد پریس کانفرنسز اور انٹرویوز میں نواز شریف اور پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ گزشتہ دنوں شہباز شریف نے بھی کہا تھا کہ چوہدری نثار میں بچپنا ہے اور بچے کو منانا پڑتا ہے۔شہباز شریف کی اس بات کا چوہدری نثار نے کافی برا مناتے ہوئے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ شہباز شریف کو بچپنے اور سنجیدہ عمل میں فرق کا احساس ہی نہیں، بچپنا وہ عمل ہے جو ان کی پارٹی قیادت اس وقت روا رکھے ہوئے ہے جب کہ غیر سنجیدگی یہ ہے کہ بطور پارٹی صدر وہ اس کے مداوے کے لئے کچھ نہیں کر پا رہے۔

بجلی بحران کی ذمہ داری (ن) لیگ کے دونوں وزرائےاعظم پر عائد ہوتی ہے، عمران خان

بنی گالہ(ویب ڈیسک)اپنے بیان میں عمران خان نے ملک بھر میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہائی شدید موسم میں عوام کو بجلی کی عدم دستیابی سراسر ظلم ہے، رمضان المبارک میں عوام کے لیے عبادات کو بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ بجلی بحران کی ذمہ داری (ن) لیگ کے دونوں وزرائے اعظم پرعائد ہوتی ہے، نواز شریف اور وزرا 5 سال تک جھوٹ بولتے رہے کہ ہزاروں میگاواٹ بجلی نظام میں شامل کی، آج قوم کو بجلی تو مل نہیں رہی لیکن اربوں روپے کے گردشی قرضے ضرور جمع ہوگئے۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ (ن) لیگی حکومت کی جانب سے بجلی کے منصوبوں کی تنصیب کی پڑتال ناگزیر ہے، نگراں حکومت معقول لوڈ مینجمنٹ پلان مرتب کرے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت پہنچائے، تحریک انصاف کی حکومت ہی انشاءاللہ بجلی کے بحران کا موثر اور مستقل حل پیش کرے گی۔

گلوکار جواد احمد نے بھی کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان ٹی وی انڈسٹری میں بے شمار ڈراموں کے لیے اپنی آواز کا جادو جگانے والے نامور گلوکار جواد احمد نے بھی 2018 کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جواد احمد نے ”برابری پارٹی پاکستان“کے نام سے سیاسی جماعت قائم کی ہے اور وہ اسی جماعت کے پلٰیٹ فارم سے انتخابی میدان میں اتریں گے۔جواد احمد نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے132 سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائی کی وساطت سے ا?ر او محمد اسلم پنجوتہ سے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔واضح رہے کہ جواد احمد کے علاوہ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی، ابرار الحق، حمزہ عباسی اور سلمان احمد بھی سیاسی میدان میں خاصے متحرک ہیں۔

الیکشن کمیشن نے حسن عسکری پر ن لیگ کے اعتراضات مسترد کردیے

اسلام آباد(ویب ڈیسک)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حسن عسکری کو نگراں وزیر اعلی پنجاب مقرر کردیا ہے تاہم مسلم لیگ (ن) نے ان کی تقرری کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ادھر ترجمان الیکشن کمیشن نے ن لیگ کے ردعمل پر کہا ہے کہ الیکشن کمیشن بغیر دباو کے کام کرتا ہے، آرٹیکل 224 اے کے تحت پروفیسر حسن عسکری کو نگراں وزیراعلی پنجاب بنانے کا فیصلہ کیا، کمیشن نے تینوں صوبوں پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختون خوا کے وزرائے اعلی متفقہ طور پر مقرر کئے۔الیکشن کمیشن حکام نے ن لیگ کا حسن عسکری کے نام پر نظرثانی کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کسی کے ایما اور خواہش پر نہیں بلکہ میرٹ پر فیصلے کرتا ہے، الیکشن کمیشن پر بے جا تنقید کسی صورت مناسب نہیں، سیاسی جماعتیں فیصلہ کرنے میں ناکام ہوئیں تو ہی الیکشن کمیشن نے آئین کے تحت فیصلہ کیا۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سعد رفیق، احسن اقبال سمیت (ن) لیگ کے دیگر رہنماو¿ں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں حسن عسکری کی بطور نگراں وزیراعلی پنجاب تقرری کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے حسن عسکری کا تقرر کرکے انتخابات کو شبہ میں ڈال دیا ہے، حسن عسکری جانبدار اور پی ٹی ا?ئی کے حامی ہیں، ان کے نام پر نظرثانی کی جائے۔