وقار بھی کینیڈین ٹی 20میں پلیئرز کواپنے تجربے سے مستفیدکرینگے

کراچی(سی پی پی) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ وقار یونس اور سابق پیسر محمد اکرم گلوبل ٹی ٹوئنٹی کینیڈا لیگ میں کھلاڑیوںکو اپنے تجربے سے مستفید کریں گے، سابق ہیڈ کوچ وقار یونس کینیڈین لیگ میں ونی پیگ ایگلز کی کوچنگ کریں گے جبکہ سابق فاسٹ بولر محمد اکرم ایڈمنٹن رائلز سے وابستہ ہوئے ہیں، اس کے علاوہ آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بولر ٹام موڈی مونٹریال ٹائیگرز کی کوچنگ ذمے داری سنبھالیں گے۔سابق ہیڈ کوچ وقار یونس نے اس حوالے سے کہا کہ میں اس نئے تجربے کا انتظارکررہا ہوں۔
، میں نے نوے کی دہائی میں کینیڈا میں کرکٹ کھیلی جس کی بڑی یادیں ہیں، یہاں کرکٹ کا بڑا جوش و خروش ہے۔وقار یونس نے کہا کہ گلو بل ٹی ٹوئنٹی میں بڑے اچھے کھلاڑی دستیاب ہوں گے، 28 جون سے 16 جولائی تک شیڈول لیگ کیلیے کھلاڑیوں کی ڈارفٹنگ پیر کو متوقع ہے، ایونٹ میں 6فرنچائز ٹیمیں ایکشن میں ہونگی۔

ویمنز ایشیا 20:پاکستان ٹائٹل دوڑ سے باہربھارت،بنگلہ دیش فائنل میں

کوالالمپور(نیوزایجنسیاں)ٹی ٹوئنٹی وومین ایشیا کپ ٹورنامنٹ میں بھارت نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے ہرا کر فائنل میں رسائی حاصل کرلی۔کوالالمپور میں کھیلے جانے والے میچ میں گرین شرٹس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 7 وکٹوں کے نقصان پر 72 رنز بنائے۔ ثناء میر 20، ناہیدہ خان 18 کے سوا کسی کو ڈبل فیگر تک رسائی کا موقع نہ ملا۔ بھارت کی ایکتا بشٹ نے 3 شکار کئے۔بھارت نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 17 ویں اوور میں ہدف عبور کرلیا، سمرتی مندھاتہ38رنزکیساتھ نمایاں رہیں۔اس فتح کے ساتھ بھارتی ٹیم فائنل میں پہنچ گئی۔ بھارت کے ہاتھوں 7 وکٹ سے مات کھانے کے بعد 6 پوائنٹس تک محدود رہنے والی گرین شرٹس کی ایونٹ میں بقا کا انحصار اس بات پر تھا کہ بعد ازاں کھیلے جانے والے میچ میں میزبان ٹیم بنگلہ دیش کو زیر کرلے۔ایسا ہونے پر بھارت کے ساتھ فائنل کھیلنے والی دوسری ٹیم کا فیصلہ نیٹ رن ریٹ پر ہوتا لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔ بنگلہ دیش نے ملائیشیا کو 70 رنز سے شکست دیکر پاکستان کو بھی رخصتی کا پروانہ جاری کردیا،131 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے میزبان ٹیم 9 وکٹ پر 60 رنز ہی بناپائی۔تھائی لینڈنے سری لنکاکو4وکٹوں سے ہراکراپ سیٹ کردیا۔

امیدواروں کا کریمنل ریکارڈ چیک کرنیکا فیصلہ

لاہور(خبر نگار)عام انتخابات کی تیاریوں میں پولیس نے بھی ذمہ داری سنبھال لی۔ لاہور سے قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں کیلئے کاغذات نامزدگی حاصل کرنے والے امیدواروں کا پولیس ریکارڈ چیک کیا جائیگا۔ ہر سو عام انتخابات 2018 کے چرچے۔ جرائم پیشہ امیدواروں کا الیکشن سے آو¿ٹ ہونے کا امکان۔ لاہور پولیس نے اہم اعلان کردیا۔ کاغذات نامزدگی جمع کروانے والے امیدواروں کا کریمنل ریکارڈ چیک کیا جائے گا۔ پولیس کے اعلیٰ حکام نے شہر کے تمام تھانوں سے امیدواروں پر درج مقدمات کی بارے رپورٹ مانگ لی۔ ایس پیز نے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ریکارڈ مرتب کرکے فوری جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ ریکارڈ مرتب کرنے کے بعد اسے الیکشن کمیشن کو بھجوایا جائیگا۔

چمپئنز ٹرافی جیت کرتاریخ رقم کریں گے، رضوان

کراچی(بی این پی )چیمپئنز ٹرافی کیلیے منتخب پاکستانی ٹیم کے کپتان محمد رضوان جونیئر نے رواں ماہ شروع ہونے والے ایونٹ میں کامیابی کا عزم ظاہر کردیا۔رضوان نے کہا کہ ہم ایونٹ کا پہلا ایڈیشن جیتے ہیں اور اب آخری ٹرافی بھی جیتنے کی صورت میں تاریخ میں نام درج کراسکتے ہیں، ہم نے گذشتہ ماہ سے سخت محنت کو اپنا شعار بنارکھا ہے اور ہماری زیادہ تر توجہ فٹنس پر بھی ہوگی، ہم سب چاہتے ہیں کہ چیمپئنز ٹرافی کا یہ آخری ایڈیشن بھی اپنے نام کرلیں۔قومی کپتان نے مزید کہا کہ اصلاح الدین اولین چیمپئنز ٹرافی کی فاتح پاکستانی ٹیم کے کپتان رہے ہیں اور اب بطور کپتان اس بار بھاری ذمے داری میرے کندھوں پر ہوگی، حکام نے مجھے اس ایونٹ میں قومی ٹیم کی باگ ڈور سونپی ہے، ہم انھیں مایوس کرنا نہیں چاہتے، ایونٹ میں ہمارا سامنا دنیا کی ٹاپ 5 سائیڈز سے ہوگا لیکن ہم انھیں ٹف ٹائم دینے کیلیے خاصے پ±راعتماد ہیں۔رضوان نے کہا کہ ٹیم کی ٹریننگ کا پہلا مرحلہ ایبٹ آباد میں منعقد ہوا تھا جہاں کھلاڑیوں کی فٹنس پر بھرپور توجہ دی گئی جبکہ کیمپ کا دوسرا مرحلہ کراچی کے عبدالستار ایدھی اسٹیڈیم میں منعقد ہوا جس میں ٹیم نے یکجا ہوکر گیم پلے کو بہتر بنانے پر محنت کی ہے، تیسرے مرحلے پر کیمپ نیدرلینڈز میں منعقد کیا جائے گا جس میں ایونٹ کے لیے حتمی 18 پلیئرز شرکت کریں گے۔رضوان سینئر نے مزید کہا کہ ہمارا فٹنس لیول اب بہت بہتر ہوچکا ہے ، حالیہ دنوں میں منعقدہ انٹرنیشنل ایونٹس میں ہمیں کچھ فٹنس مسائل کا سامنا رہا تھا ، ہماری پرفارمنس کو متاثر کرنے کا یہ بھی ایک عنصر تھا، ہمارے نئے کوچ اور فٹنس ٹرینر نے انفرادی طور پر ہر پلیئر کو مدد فراہم کی تاکہ وہ اپنا بہترین فٹنس لیول حاصل کرپائے۔دوسری جانب ٹیم منیجر حسن سردار کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن پنالٹی کارنر اور گول کیپنگ کوچ کی خدمات نیدرلینڈز میں حاصل کرلے گی جہاں ٹیم کی تربیت کا تیسرا مرحلہ منعقد ہوگا، ہمارے پاس پنالٹی کارنر اسپیشلسٹ مبشر علی موجود ہے، جس نے حالیہ دنوں میں اچھا پرفارم کیا، ہم نے تجربہ کار علیم بلال کوشامل کرکے اپنے گول کرنے کی استعداد کو بہتر بنایا ہے، ہم ان فارورڈز کومواقع کو گول میں تبدیل کرنے میں مہارت دلانے پر کام کریں گے۔حسن سردار نے مزید بتایا کہ نیدرلینڈز میں قومی ٹیم 5 پریکٹس میچز کھیلے گی، جس میں تین ا?سٹریا کیخلاف ہوں گے، ایک نیدرلینڈز کی ٹیم سے جبکہ دو مقامی سائیڈز مدمقابل ا?ئیں گی۔

فیفاورلڈکپ فاتح کےلئے3کروڑ80لاکھ ڈالرزانعام

ماسکو(نیوزایجنسیاں) فیفا ورلڈ کپ جتنا بڑا ٹورنامنٹ ہے اتنا ہی بڑا انعام بھی رکھا گیا ہے، میگا ایونٹ کا فائنل جیتنے والی ٹیم کو 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز کی رقم بطور انعام دی جائی گی۔فیفا ورلڈ کپ کھیلوں کی دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ، یہ صرف کھیل نہیں بلکہ ٹرافی پر قبضہ جمانے کی جنگ ہے جس میں 32 عالمی ٹیموں میں زور کا جوڑ پڑے گا۔میگا ایونٹ جیتنے والے ٹیم پر انعامات کی برسات ہو گی جس میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز کا انعام بھی شامل ہے تاہم فائنل ہارنے والی ٹیم بھی 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز کی حق دار ٹھہرے گی۔ ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 40 کروڑ ڈالرز کے انعامات تقسیم کیے جائیں گے ۔ میگا ایونٹ 14 جون سے روس میں شروع ہوگا۔

ڈیم بنانے کیلئے کردار ادا کرینگے

کراچی(صباح نیوز)چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کالا باغ ڈیم بنانے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ پانی کی قلت کے خاتمے کا تہیہ کر لیا ، اب سپریم کورٹ ڈیمز بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی اور اپنا کردار ادا کرے گی، آپ سب خطرہ محسوس نہ کریں، ہم کالا باغ ڈیم پر بات نہیں کر رہے، ہم چاہ رہے ہیں کہ پانی کے مسائل پر بات ہو اور پانی بحران پر قابو پایا جاسکے، ہم نے پرویز مشرف کو آنے کو کہا تو اس کا بھی سب کو خطرہ ہو رہا ہے، پرویز مشرف سے کسی کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے، پرویز مشرف آئے اور قانون کا سامنا کرے، کسی کے لیے خطرے کی بات نہیں ہونی چاہیے، ہم کوئی اےسا حکم جاری نہےں کرےں گے جو کسی بھی فرےق کے خلاف ہو ےا کسی صوبہ کے خلاف ہو،سپریم کورٹ وفاق کی عدالت ہے، ہم جوڑنے کے لیے بیٹھے ہیں توڑنے کے لیے نہیں بیٹھے، ریفرنڈم عدالت نہیں وفاقی حکومت کراسکتی ہے، ہمارے لیے آئین سپریم ہے اور آئین کا احترام سب کو کرنا چاہیے۔ہفتہ کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کالا باغ ڈیم بنانے سے متعلق بیرسٹر ظفر اللہ خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اس وقت پاکستان میں بحث کالا باغ ڈیم کی نہیں کر رہے، ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پانی کی قلت کیسے ختم ہوگی۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ معلوم ہے آئندہ وقتوں میں پانی کی اہمیت کیا ہوگی لیکن 4 بھائی جس پر متفق نہیں تو پھر متبادل کیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم نے پانی کی قلت کے خاتمے کا تہیہ کر لیا ہے، اب سپریم کورٹ ڈیمز بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی اور کردار ادا کرے گی، عید کے بعد سپریم کورٹ کا لا اینڈ جسٹس ڈیپارٹمنٹ سیمینار کرائے گا، ماہرین تجاویز دیں بیٹھ کر ایس او پیز بنائیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایک ٹیم بنا دیتے ہیں جس میں اعتزاز احسن اور دیگر ماہرین کی خدمات لیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا جائے ملک میں ڈیمز کس طرح بنائے جائیں، آپ سفارشات دیں ہم پارلیمنٹ سے سفارش کریں گے۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ قانون بنانے کی صلاحیت ملک میں ختم ہو چکی ہے، لا اینڈ جسٹس کمیشن کے ذریعے قانون بنا کر پارلیمنٹ کو سفارش کی جاسکتی ہے، قوم اختیار دے تو سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں خود نمائی کرنے والے لوگ نہیں چاہییں، سیمینار کے ذریعے پہلا قدم اٹھائیں گے جس کا آغاز کراچی اور سندھ سے کریں گے۔دوران سماعت سابق چیئرمین واپڈا ظفر محمود عدالت میں پیش ہوئے جن سے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں پانی کی قلت کیسے پوری کریں جس پر انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم بنانے پر لوگوں کو مکمل آگاہی نہیں اور اسی تنازع کے بعد واپڈا کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دیا تھا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ سب خطرہ محسوس نہ کریں، ہم کالا باغ ڈیم پر بات نہیں کر رہے، ہم چاہ رہے ہیں کہ پانی کے مسائل پر بات ہو اور پانی بحران پر قابو پایا جاسکے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے کل پرویز مشرف کو آنے کو کہا تو اس کا بھی سب کو خطرہ ہو رہا ہے، پرویز مشرف سے کسی کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے، پرویز مشرف آئے اور قانون کا سامنا کرے، کسی کے لیے خطرے کی بات نہیں ہونی چاہیے،لوگوں سے ان کو کےا معاملہ ہے قانون سب کے لےے اےک ہے لہذا سابق صدر بھی پاکستان آ کر قانون کا سامنا کر سکتے ہےں، چےف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم کوئی اےسا حکم جاری نہےں کرےں گے جو کسی بھی فرےق کے خلاف ہو ےا کسی صوبہ کے خلاف ہو ۔ایڈووکیٹ مجیب پیرزادہ نے کہا کہ پانی کے بحران اور قلت پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن کالا باغ ڈیم کا نام جہاں آتا ہے تو تنازع کھڑا ہو جاتا ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وعدہ کرتا ہوں سپریم کورٹ کوئی ایسا حکم نہیں دے گی جس سے کوئی فریق متاثر ہو، جہاں تنازع ہو اور 4 بھائی متفق نہیں تو متبادل حل نکالیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم آنے والی نسل کو اچھا مستقبل دے کر جائیں گے جس پر ایڈووکیٹ مجیب پیرزادہ نے کہا کہ پوری قوم آپ کے ساتھ ہے اچھے فیصلوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ وفاق کی عدالت ہے، ہم جوڑنے کے لیے بیٹھے ہیں توڑنے کے لیے نہیں بیٹھے۔سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے کہا کہ پانی کی قلت پر قابو پانے کے کئی حل موجود ہیں اور کئی منصوبے ہیں جس میں سمندر کا پانی میٹھا بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ منصوبے تو کاغذ پر تھے ہم نے نوٹس لیا تو کام شروع ہوا۔درخواست گزار بیرسٹر ظفراللہ نے عدالت سے استدعا کی کہ کالا باغ ڈیم بنانے کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریفرنڈم عدالت نہیں وفاقی حکومت کراسکتی ہے، ہمارے لیے آئین سپریم ہے اور آئین کا احترام سب کو کرنا چاہیے۔سپریم کورٹ نے کالا باغ ڈیم سے متعلق درخواست پر سماعت ملتوی کردی جب کہ آئندہ سماعت پر شمس الملک سے بریفنگ لی جائےگی۔

سکاٹ لینڈ کو ترنوالہ سمجھنا بیوقوفی : سرفراز

ایڈنبرا(نیوزایجنسیاں) قومی کر کٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈکیخلاف ٹی 20میچزمیں میزبان سائیڈسے اچھا مقابلہ دیکھنے میں آئے گا۔شارٹ فارمیٹ میں ٹیموں کے درمیان زیادہ فرق نہیں۔ ٹی 20فارمیٹ میں کوئی ٹیم آسان نہیں ہوتی، ہمیں بھی اسکاٹ لینڈ کیخلاف سو فیصد کارکردگی دکھانا ہوگی، حریف ٹیم میں کئی اچھے کھلاڑی موجود ہیں لہذا سخت مقابلے کی توقع ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ انگلینڈ کی مشکل کنڈیشنز میں سیریز سے ہمارے نوجوان کھلاڑیوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا جس سے مستقبل میں فائدہ ہوگا۔ایک سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ لیڈز ٹیسٹ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ مجھ سمیت پوری ٹیم مینجمنٹ کا تھا، میں اب بھی اسے غلط نہیں سمجھتا،کنڈیشنز بیٹنگ کیلیے اچھی تھیں، انگلش کپتان کا بھی یہی کہنا تھا کہ وہ بھی پہلے اپنے بیٹسمینوں کو ہی آزماتے، ہماری بیٹنگ اچھی نہیں رہی اس لیے ناکام رہے، اسی کے ساتھ میزبان بولرز کو بھی کریڈٹ دینا چاہیے جنھوں نے بہترین لائن و لینتھ پر بولنگ کی۔سرفراز احمد نے اعتراف کیا کہ ان کی اپنی بیٹنگ کارکردگی اچھی نہیں رہی، انھوں نے کہا کہ میں پوری کوشش کروں گا کہ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے بڑی اننگز کھیلوں، اہم دورے میں بطور کپتان سب کی نظریں مجھ پر تھیں، بعض لوگ یہ بھی باتیں کر رہے تھے کہ ہم تینوں ٹیسٹ ہار جائیں گے مگر ہم نے آئرلینڈ کو مات دی اور پھر انگلینڈ سے بھی سیریز برابر کر لی، گوکہ بطور بیٹسمین میں ناکام رہا مگر ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی جس پر مجھے فخر ہے۔سکاٹ لینڈکیخلاف ٹی 20میچزمیں ینگسٹرزکےلئے پرفارم کرنے کااچھا موقع ہے۔ایک سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ انگلینڈکیخلاف ٹیسٹ سیریزمیں شاداب خان نے بہترین بیٹنگ کی ، ہم نے پہلے ہی سوچا ہوا تھا کہ 5 بولرز کے ساتھ کھیلیں گے اور جب ضرورت پڑی تو بطور اسپنر شاداب کو آزمایا جائے گا،یہ درست ہے کہ وہ زیادہ وکٹیں نہ لے پائے مگر بہتری کی جانب سفر جاری رہا۔، لیڈز میں شاداب نے اچھی بولنگ کی، وہ مختصر طرزکے میچز کھیلتے چلے آ رہے اور ٹیسٹ کرکٹ ان کیلیے نئی ہے۔انگلینڈ میں اگر اسپنر تجربہ کار نہ ہو تو زیادہ وکٹیں ملنا بیحد دشوار ہوتا ہے، حسن علی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے، وہ بھی محدود اوورز میں اپنی صلاحیتیں منوا چکے اور اب ٹیسٹ میں ٹیم بھی سیٹ ہونے لگے، حالیہ سیریز سے شاداب اور حسن دونوں کو ٹیسٹ کرکٹ کا اچھا سبق مل گیا ہوگا، دونوں کو مزید چار روزہ میچز بھی کھیلنے چاہئیں تاکہ طویل طرز کا تجربہ حاصل ہو سکے۔محمد عامرکے بارے میں سوال پر کپتان نے کہا کہ میں ان کی بولنگ سے مطمئن ہوں، انھوں نے خصوصا لارڈز میں بہترین کھیل پیش کیا، اسی طرح محمد عباس نے سب کو بیحد متاثر کیا، ان کا مستقبل روشن ہے۔

کالا باغ اور دیگر ڈیم نہ بنانے میں تمام حکومتوں کا مجرمانہ کردار ہے

کراچی (صباح نیوز) سابق چیئرمین واپڈا ظفر محمود عدالت میں پیش ہوئے جن سے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں پانی کی قلت کیسے پوری کریں جس پر انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم بنانے پر لوگوں کو مکمل آگاہی نہیں اور اسی تنازع کے بعد واپڈا کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دیا تھا۔ ظفر محمود نے کمرہ عدالت میں پروجیکٹر کے ذریعے کالا باغ ڈیم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ماحولیات کی تبدیلی پر پاکستان میں سیلاب آنا شروع ہوئے، گلیشیر تیزی سے پگھلنا شروع ہو چکے ہیں۔سابق چیئرمین واپڈ نے کہا کہ بھارت نے راوی، ستلج اور بیاس کے پانی پر قبضہ کرلیا ہے اور انڈس واٹر معاہدے سے بھی خطرات ہو چکے ہیں، جب سیلاب آتا ہے تو بھارت پانی چھوڑ سکتا ہے جبکہ بھارت کے ڈیمز میں تکنیکی طور پر زیادہ پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔ظفر محمود نے کہا کہ ڈیمز بنانے سے متعلق ہم نے کوتاہی کی جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا حکومتوں کو ان کا ادراک نہیں رہا جس پر ظفر محمود کا کہنا تھا کہ تمام حکومتیں ہی اس مجرمانہ غفلت کی ذمے دار ہیں، بھارت تسلسل کے ساتھ پانی بند کرنے کی کوشش کرے گا اور وہ اس حوالے سے ہمیں مزید تنگ کرے گا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زندگی کے لیے سب سے زیادہ پانی کی اہمیت ہے، یہ بتائیں عدالت اس میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔سابق چیئرمین واپڈا نے کہا کہ کوئٹہ کا پانی اتنا نیچے جا چکا بحالی میں 200 سال لگیں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 10 سال بعد تو کوئٹہ میں پینے کا پانی نہیں ہوگا تو لوگوں کو وہاں سے ہجرت کرنا پڑے گی۔ظفر محمود نے کہا کہ لوگوں میں پانی کے استعمال اور بچت پر آگاہی دینے کی ضرورت ہے، صنعتی ماحول سے زیر زمین پانی بھی خراب ہو رہا ہے، صنعتوں سے متعلق کوئی مربوط پالیسی نہیں، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ معلوم ہے صنعتیں فضلہ صاف کرنے کے بجائے نالوں میں پھینک رہی ہیں، لاکھوں گیلن گندا پانی سمندر میں جا رہا ہے جس پر ظفر محمود نے کہا کہ اس کا حل یہ ہے کہ صنعتی فضلے کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ بنائے جائیں۔سماعت کے دوران مجیب پیرزادہ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کالا باغ ڈیم کا معاملہ متنازع ہو چکا ہے اور چاروں صوبوں کے عوام نے اس ڈیم کو خطرہ قرار دیا ہے۔

امریکہ مسئلہ مذاکرات سے حل کرنے پر آمادہ ، آرمی چیف آئندہ ہفتے کابل جائینگے

اسلام آباد (صباح نیوز) پاکستان اور افغانستان کے مابین حالیہ مہینوں میں کئی ایک اعلی سطحی رابطے ہوئے جنہیں دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے ساتھ ساتھ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے لیے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، آئندہ ہفتے ایک اعلیٰ سطحی افغان وفد اسلام آباد کا دورہ کرے گا جب کہ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ کابل بھی متوقع ہے۔ باضابطہ طور پر اس بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، اسلام آباد اور کابل کے درمیان یہ رابطے ایک ایسے وقت ہو رہے ہیں جب افغان حکومت کی طرف سے عید الفطر کے موقع پر عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد افغان طالبان نے عید پر تین روز کے لیے افغان سکیورٹی فورسز کے خلاف اپنی عسکری کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ افغانستان میں اس عارضی جنگ بندی کے لیے امریکہ اور پاکستان نے مل کر اپنا کردار ادا کیا ہے اور امریکہ کے محکمہ خارجہ کی ایک بریفنگ کے دوران پاکستان کے کردار کے بارے میں پوچھنے پر محکمہ خارجہ کے اعلی عہدیدار نے اسکا براہ راست جواب دینے کی بجائے کہا کہ “یہ افغان حکومت کا اقدام ہے جو افغان عوام کی خواہش کی ترجمانی کر رہی ہے اور یقینا ہمیں امید ہے کہ طالبان اور دیگر تنظیمیں یا ایسے ممالک بھی محدود دورانیے کی جنگ بندی کی برابر حمایت کریں گے جن کا طالبان پر کسی قدر اثر و رسوخ ہے۔” واضح رہے کہ افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے طالبان کو عارضی جنگ بندی کی پیش کش سے پہلے امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ سے فون پر ہونے والی بات چیت میں پاکستان امریکہ تعلقات اور افغانستان میں سیاسی مفاہمت اور دیگر امور پر گفتگو کی تھی۔ سلامتی کے امور کے تجزیہ کار طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان کے مسئلہ کو سیاسی طور پر حل کرنے کے لیے ان کے بقول پاکستان کے کردار کو اہم خیال کرتا ہے۔ تاہم، یہ اسی صورت ممکن ہے جب اسلام آباد اور کابل کے درمیان مکمل اعتماد بحال ہو۔ بقول ان کے،” ابھی حال میں افغانستان سے بھی یہ کوشش ہے کہ پاکستان سے تعلقات کو بہتر کیا جائے اور آپ نے دیکھا ہوں گا کہ مختلف وفود کا تبادلہ ہو رہا ہے اور یا جو آئندہ دنوں میں آئیں گے اور پاکستانی فوج کے سربراہ افغانستان جا رہے ہیں یہ تمام چیزیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان افغانستان سے اچھے تعلقات چاہتا تھا اب افغانستان بھی اس کا مثبت ردعمل دے رہا ہے۔” واضح رہے کہ حال ہی میں افغانستان کے قومی سلامتی مشیر حنیف اتمر کی سربراہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے وفد نے پاکستانی عہدیداروں سے افغانستان پاکستان ایکشن پلان برائے امن و استحکام پر عملدرآمد اور دیگر امور کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔

ٹکٹوں کی تقسیم پر کچھ نوک جھونک تو ہوتی ہے : یاسمین راشد ، چینل۵ کے پروگرام ” ٹی ایٹ ۵“میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد نے کہا ہے کہ جماعت کوئی بھی ہو ٹکٹوں کی تقسیم پر تھوڑی بہت نوک جھونک تو ہوتی ہے اب ہر بندے کو تو ٹکٹ مل نہیں سکتا کیونکہ سیٹوں کی تعداد مخصوص ہوتی ہے۔ چینل ۵ کے پروگرام ٹی ایٹ ۵میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا جس کو ٹکٹ نہیں ملتا وہ ناراض ہوتا ہے میں سمجھتی ہوں ایم این اے یا ایم پی اے بنے بغیر بھی پارٹی کی خدمت کی جاسکتی ہے پارٹی کی کوشش ہوتی ہے مضبوط امیدوار کو ٹکٹ دیا جائے عمران خان نے میرٹ کا خیال رکھا ہے۔ ٹکٹ کا اختیار عمران کے پاس ہے لہذا پیسے نہیں چل سکتے اس وقت جو لوگ پاکستان کی بہتری کا سوچتے ہیں وہ تحریک انصاف پر اعتماد کررہے ہیں سیاست میں اس لئے آتی ہوں کہ یہ کار خیر کا کام ہے اور عوام کی خدمت کرنی ہے جن پارٹیوں کو الیکشن ہارنے کا خطرہ ہے وہ تحریک انصاف پر اسٹیبلشمنٹ حمایت کا الزام لگارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج تک کسی بھی حکومت نے پانی کے مسائل پر توجہ نہیں دی سندھ والوں کے مطالبے پر عمران خان سندھ سے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں انہوں نے کہا میرے شوہر کو سیاست کا شوق نہیں۔

فطرانہ روزہ دار کی بھول چوک کا کفارہ بن جاتا ہے: علامہ ضیاءاللہ بخاری ، فطرہ اجناس کے برابر دینا چاہیے اللہ تعالیٰ انسان کی نیت دیکھتا ہے، علامہ رشید ترابی،چینل ۵ کی خصوصی ٹرانسمیشن ”مرحبا رمضان “میں گفتگو ، شاہدہ منی نے سنت رسول سنا کر سماں باندھ دیا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام مرحبا رمضان میں فطرانے کے شرعی احکامات اور اس کی ادائیگی کے حوالے سے مسائل پر روشنی ڈالی گئی۔ علامہ ضیاءاللہ بخاری نے بتایا کہ اسلام اپنے ہر پیروکار کو اللہ کی راہ میںخرچ کرنے والا سخاوت کرنے والا دیکھنا چاہتا ہے۔جس کا رزق تنگ ہوجائے اسے چاہئے تھوڑے رزق میں سے بھی اللہ کی راہ میں حسب استطاعت ضرور دے جس کے نتیجے میں اللہ تھوڑے رزق کو زیادہ کر دے گا۔سخی ویسے بھی اللہ کے قریب ہوتا ہے کیونکہ اس کے دل میں بندوں کی محبت ہوتی ہے اس لئے وہ اللہ کی راہ میں اس کے بندوں کی مدد کرتا ہے۔ اسی طرح فطرے اور حکم دیا گیا ہے جس کے مقصد یہ ہوتا ہے کہ روزے کے دوران اگر روزہ دار سے کوئی بھول چوک ہوجائے تو فطرہ اس کا کفارہ بن جاتا ہے جبکہ فطرہ ادا نہ کرنے کی صورت میں روزہ دار کے روزے آسمان اور زمین کے دوران معلق رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ فطرہ ادا نہ کر دے۔صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق نبی کریم نے فطرہ کو فرض قرار دیا ہے۔یہاں تک کہ ایک دن کا بچہ جو عید الفطر سے چاہے ایک گھنٹہ پہلے ہی کیوں نہ پیدا ہوا ہو اس کا فطرہ بھی ادا کرنا لازم ہے۔جس مسلمان کے پاس صبح اور شام کا کھانا ہو اس پر فطرہ فرض ہو جاتا ہے۔فطرہ عید کی نماز سے پہلے پہلے اداکرنا لازم ہوتا ہے اور اگر عید کی نماز سے ایک یا دودن پہلے ادا کیا جائے تو یہ ادا ہو جاتا ہے۔جو لوگ زکوة کے مستحقین ہیں وہی فطرانے کے حقدار بھی ہیں۔ اصل ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ضرورت مند تو ہوتے ہیں لیکن اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کےلئے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے یا سوال نہیں کرتے اپنی کم آمدن اور زائد اخراجات کا رونا نہیں روتے ایسے لوگ ہمارے اردگرد ہی ہوتے ہیں بس ہمیں انہیں تلاش کرنا ہوتا ہے۔کوشش کی جائے سب سے پہلے اپنے قریبی رشتے داروں کا خیال کیا جائے۔ زکوٰة یا صدقہ اس طرح نہ دیا جائے جس سے لینے والے کی دل آزاری ہو۔اللہ پاک فرماتے ہیں اپنے صدقات کو احسان جتا کر ضائع مت کرو،چپکے چپکے سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے روز حشر اللہ کے عرش کے سائے تلے ہوں گے۔ علامہ محمد رشید ترابی نے بتایا کہ جو اجناس ہماری خوراک ہیں یعنی ہم روز مرہ کے معمولات میں استعمال کرتے ہیں فطرانہ ان سے دینا واجب ہے۔ یہ ہر گز نہیں دیکھنا کونسی سی اجناس سستی ہیں یا مہنگی ہیں بلکہ جو اجناس ہم خود اپنے گھر میں استعمال کرتے ہیں اس کی مناسبت سے ہی فطرانہ دینا ہے اگر کوئی خود سپر کرنل کھاتا ہے اور فطرانہ ٹوٹا چاول کے حساب سے دے تو اللہ کے نذدیک ہر گز قبول نہیں ہو گا کیونکہ یہ ریاکاری اور دھوکہ ہے اور اللہ تو صرف بندے کی نیت دیکھتا ہے ۔ پیمانہ تین کلو کا رکھا گیا ہے یعنی جو خوراک ہم کھاتے ہیں چاہے گندم ہو تو بھی تین کلو کے حساب سے کشمش ہے تو اس سے بھی تین کلو اسی حساب سے جو یا کھجور ہو تو قیمت کے مطابق تین کلو کے حساب سے فطرانہ دینا ہے۔ پروگرام میں بہالپور سے رابعہ کے ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ عید کا چاند نکلنے سے قبل اگر کوئی مہمان گھر آ جائے اور فطرانہ ادا کر سکتا ہو تو میزبان پر اس کا فطرانہ ادا کرنا بھی واجب ہے۔ سعدیہ نے پوچھا اگر کوئی شخص فطرانہ دینا بھول جائے تو کیا حل ہے جواب میں مولانا صاحب نے بتایا جب یاد آئے اللہ سے معافی مانگے اور صدقہ دے اور زیادہ دے کیونکہ عید کی نماز ادا ہوتے ہی فطرے کا وقت گزر جاتا ہے لہٰذا بعد میں دیا جانے والا مال صدقہ ہو گا فطرانہ نہیں۔ چینل فائیو کے مرحبا ر مضان پروگرام میں معروف گلوکارہ شاہدہ منی نے خصوصی طور پر شرکت کی اور ناظرین کی پر زور فرمائش پر کلام ”رحم کرو رحم کرو میرے مولا مجھ پر رحم کرو“”چاروں طرف ہے جلوہ تیرا رات بھی تیری دن بھی تیرا“ کلام سنایا پروگرام کے اختتام پر نعت رسول مقبول ”شاہ مدینہ شاہ مدینہ سارے نبی تیرے در کے سوالی“ ” تو نے جہاں کی محفل سجائی تاریکیوں میں شمع جلائی “پڑھ کر سنائی، شاہدہ منی کی خوبصو رت آوا ز اور کلام کے خوبصورت اشعار نے سماں باندھ دیااور سامعین کے دل جیت لئے۔

مسجد الحرام خانہ کعبہ میں بد قسمت آدمی نے کود کر خودکشی کرلی 26 سالہ نوجوان نے تیسری منزل سے چھلانگ لگائی ذہنی توازن درست نہیں تھا: ترجمان مکہ پولیس

مکہ مکرمہ (نیٹ نیوز) سعودی عرب کے شہر مکہ میں اسلام کے مقدس ترین مقام مسجد الحرام میں ایک شخص نے خود کشی کر لی ہے۔سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے نے مکہ پولیس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ غیر ملکی شہری نے جمعے کی رات نو بج کر 20 منٹ پر مسجد الحرام کی چھت سے نیچے طواف کرنے کی جگہ پر کود کر خود کشی کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیچے گرنے سے اس شخص کی فوری موت واقع ہو گئی۔ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لاش کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق اس واقعے میں ہلاک ہونے والے شخص نے جس مقام سے نیچے چھلانگ لگائی وہاں زائرین کو گرنے سے بچانے کے لیے حفاظتی باڑ نصب تھی۔ترکی اور عرب ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ تیسری منزل سے کود کر خودکشی کرنے والا 26 سالہ شخص فرانسیسی شہری تھا اور اس نے اسلام قبول کیا تھا۔خانہ کعبہ کی سکیورٹی پر مامور پولیس حکام نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس شخص کی حرکتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا ذہنی توازن درست نہیں۔

عمران کا راستہ روکا جائیگا،ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ڈیل طے پا رہی ہے ،وزیر اعظم پیپلز پارٹی کا ہوگا،نواز،زرداری ملاقات اسی سلسلے کی کڑی تھی، ضیا شاہد کا انکشاف

لاہور (چینل ۵ رپورٹ) خبریں گروپ کے چیف ایڈیٹر ضیاشاہد نے اپنے پروگرام ”ضیاشاہد کے ساتھ“ میں سیاست کے کھیل سے باخبر کچھ حلقوں کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ڈیل قریباً حتمی شکل اختیار کر چکی ہے اور گزشتہ دنوں نجم سیٹھی کے گھر پر ہونے والی نواز شریف اور آصف علی زرداری کی ملاقات بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی تاکہ معاملات کو سرے تک پہنچایا جائے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیل کا بنیادی نقطہ ہر قیمت پر عمران کا راستہ روکنا ہے تاکہ وہ اقتدار میں نہ آ سکیں کیونکہ ان کا اقتدار میں آنا دونوں جماعتوں کے لئے انتہائی نقصان کا باعث ہو گا۔ اس مقصد کے لئے عمران خان کو آئین کے آرٹیکل62 اور63 کے تحت نااہل قرار دلوانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ جس کے لئے مسلم لیگ ن کا میڈیا سیل گزشتہ سات برس سے کام کر رہا تھا۔ اس سیل نے بہت سی دستاویزات، رپورٹیں اور فلمیں بھی حاصل کر لی ہیں جن میں بنی گالا کے معاملات کی خفیہ فائلیں بعض میڈیکل رپورٹس، ڈی این اے ٹیسٹ بھی شامل ہیں اور اب ریحام خان کی کتاب بھی اس سلسلے کی کڑی نظر آتی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ آصف علی زرداری ماضی کے تجربات کے پیش نظر نوازشریف کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لئے تیار نہیں تھے مگر گزشتہ ماہ جب ان کی دست راست اور بہن فریال تالپور کو نیب میں طلب کیا گیا جبکہ ان کی دوسری ہمشیرہ عذرا پچیہو کے خاوند کے خلاف نیب انکوائری شروع ہوگئی تو آصف زرداری کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا چنانچہ دونوں جماعتوں میں رابطے اور کسی نہ کسی شکل میں میثاق جمہوریت کو بحال کرنے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ یہ کوششیں بیک ڈور چینل کے ذریعے تھیں اور انہی کے نتیجے میں سابق صدر اور سابق وزیراعظم کی ملاقات ممکن ہو سکی جس کے لئے نجم سیٹھی نے بھی اہم کردار ادا کیا جو دونوں شخصیات کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ اگرچہ حتمی ڈیل کے حوالے سے تو کوئی یقینی بات کہنا مشکل ہے تاہم جن امور پر معاملات طے پا رہے ہیں ان میں پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کی صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔ پنجاب میں میاں شہبازشریف ہی وزیراعلیٰ رہیں گے جبکہ سندھ میں بھی پیپلز پارٹی ہی حکمران رہے گی۔ تاہم مرکز میں ن لیگ پیپلز پارٹی کو حق دینے کےلئے تیار ہے کہ وہ اپنا وزیراعظم لے آئے۔ اس سے وہ خود اپنی پارٹی کے اندر سے کسی کو نامزد کر دیں۔ کسی دوسری جماعت سے انتخاب کر لیں یا باہر سے کوئی شخصیت لے آئیں، یہ پیپلز پارٹی کی مرضی پر منحصر ہوگا۔ ضیاشاہد نے کہا کہ سیاستدانوں کے وعدے اردو کی روایتی محبوبہ کے وعدے ہوتے ہیں، ایک مہینہ پہلے زرداری کہہ رہے تھے کہ وہ اور بلاول لاہور میں آ کر رہیں گے۔ پنجاب کا وزیراعلیٰ ہمارا ہو گا۔ نواز سے ملاقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب 3دن پہلے ایک ملاقات ہوئی ہے۔ نجم سیٹھی نے ملاقات سے پہلے کوئی بات نہیں کی۔ وہ بھی ”پروانڈین“ مشہور ہیں۔ ایسے لوگ سیاسی جماعتوں کو بڑے مرغوب ہوتے ہیں۔ میں ایک زمانے میں پاکستان ایڈیٹرز کونسل کا صدر اور نجم سیٹھی جنرل سیکرٹری ہوتے تھے۔ ان کو بڑی مدت سے جانتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل نواز، زرداری ملاقات کرائی، ملاقات سے پہلے پتہ چلا کہ یہ خوف پیدا ہو گیا ہے کہ پی ٹی آئی پنجاب میں بہت مضبوط ہو گئی ہے، جنوبی پنجاب سارا ٹوٹ کر اس میں شامل ہو گیا ہے۔ وہاں سارے ن لیگ کے لوگ تھے جو اب پی ٹی آئی میں ہیں۔ آدھے پنجاب میں زیادہ اثرورسوخ رکھنے والے تحریک انصاف میں جا رہے ہیں۔ اس وقت پی ٹی آئی کا زیادہ رش ہے۔ زرداری صاحب کبھی کہتے ہیں کہ فوجیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دینگے پھر بھاگ جاتے ہیں۔ دوبارہ واپس آ کر پھر سیٹ ہو جاتے ہیں۔ اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تحریک انصاف سب لے دے گئی اس لیے اب درمیان کا راستہ نکالا گیا۔ اب جو طے ہوا ہے اس میں ایک بات کہ شہباز شریف ایم ا ین اے و ایم پی اے دونوں سیٹوں سے کھڑے ہونگے۔ ان کو وزیراعظم کا امیدوار بھی کہا جاتا ہے۔ ن لیگ و پی پی میں اتفاق رائے ہو چکا ہے کہ سندھ میں پی پی، پنجاب میں ن لیگ اور مرکز میں عمران خان کو نہیں آنے دینا۔ سراج الحق بھی اب فضل الرحمن سے مل گئے ہیں۔ اب یہ چلے ہوئے کارتوس ہیں، خیبرپختونخوا میں ان کا شاید تھوڑا اثر پڑے ورنہ پرانے دور والے ایم این اے کے مزے اب دونوں بھول جائیں۔ ن لیگ کے میڈیا سیل نے جب مشاہد حسین وزیراطلاعات تھے اس وقت کی فائلیں بنی ہوئی ہیں کہ عمران خان کو نااہل کرانے کےلئے کیا کیا ا خلاقی الزامات لگانے ہیں۔ اس میں سیتا وائٹ کیس سرفہرست ہے، مختلف ایجنسیوں کے ذریعے بنی گالا کی فلمیں و قصے اکٹھے کرتے رہے اب ریحام خان سامنے آ گئی جس پر ایک انڈین پیسے خرچ رہا ہے۔ ریحام خان کی کتنی ہی دوستیاں ہوں سب اپنی جگہ لیکن پی ٹی آئی کہہ چکے ہیں کہ شہباز شریف نے ایک لاکھ یورو ڈالر دئیے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا ریحام خان کی کتاب بھارت میں چھپے گی۔ لندن میں کوئی پبلشر تیار نہیں۔ شاید وہ حسین حقانی سے ملکر کوشش کر رہی تھیں کہ نیویارک یا واشنگٹن میں چھپ جائے۔ میری معلومات کے مطابق اسددرانی کی کتاب والا پبلشر ہی ریحام خان کی کتاب کو چھاپ رہا ہے۔ اس کے بعد یہ کتاب پاکستان و برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں سمگل کی جائے گی۔ انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہو گی۔ آدھے سے زیادہ کتاب تو نیٹ پر آ بھی چکی ہے۔ کوشش یہ ہے کہ پنجاب میں ن لیگ اور سندھ میں پی پی حکمران رہے۔ خود زرداری ناراض ہیں کہ فریال تالپور کے خلاف بھی کیسز کھل گئے ہیں۔ ن اور پی پی کے پاس آپس میں ملنے کے سوال کوئی چارہ کار ہی نہیں۔ نواز شریف کی طرف سے فارمولا دیا گیا ہے کہ اگر ہم ملکر عمران خان کا راستہ روکیں، 63,62 کے تحت نااہل کروا سکیں تو پھر ن لیگ پنجاب میں، پی پی سندھ میں اور مرکز میں سمجھوتہ کر لیں گے۔ پیپلز پارٹی اس شرط پر مانی ہے کہ آئندہ وزیراعظم پی پی کا یا اس کا نامزد کردہ ہوگا۔ اب ن و پی پی آپس میں خفیہ طور پر مکمل گٹھ جوڑ کر چکی ہے۔ عمران خان اکیلا رہ گیا ہے وہ اکیلا مقابلہ کر سکے گا؟ ریحام خان کی کتاب ن لیگ کا بنا بنایا فارمولا ہے۔ اس کے بہت سارے صفحات کی فوٹو سٹیٹ دیکھی ہیں جو عمران خان کو آﺅٹ کرنے کےلئے بنایا گیا تھا۔ شواہد، فلمیں، کتابیں وغیرہ ابھی ایک کتاب کو روک رہے ہیں میرے پاس 2اور کتابیں ایسی ہیں جس میں سے ایک کتاب ایک خاتون سے لکھوائی گئی ہے جو چھپ چکی ہے، اس میں بقول اس کے وہ بنی گالہ میں انصاف کےلئے گئی اور عمران خان نے کہا کہ اب میں تم سے شادی نہیں کروں گا۔ یہ سارا مواد اس لیے رکھا گیا ہے کہ 63,62 پر عمران خان کو بالکل اسی طرح نااہل کروا سکیں جس طرح نواز شریف ہوئے۔ ن لیگ اپنے اس فارمولے میں کامیاب ہو گی یا نہیں یہ معلوم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو تیسری شادی کے بعد بہت بدلا ہوا پایا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر پروردگار کو منظور ہوا تو ضرور موقع ملے گا حالانکہ سیاستدان ایسے نہیں کہتے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی یا غیرفوجی کوئی بھی ہو جس نے بھی کوئی غلط کام کیا ہے اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیتا وائٹ کی بیٹی جمائما کے تحفظ میں ہے، جمائما نے اسے گھر لیکر دیا، اس کے اخراجات بھی برداشت کر رہی ہیں، ڈیڑھ سال پہلے پاکستان میں سے کچھ لوگ آفرز لیکر گئے تھے اور یہ شیڈول طے ہو چکا تھا کہ سیتاوائٹ کی بیٹی کو پاکستان لایا جائے گا اور وہ 5 بڑے شہروں میں پریس کانفرنس کریں گے جس سے عمران خان سیاست سے آﺅٹ ہو جائے گا۔ جواب میں پی ٹی آئی کے بھی باغی ہو سکتے ہیں۔ گل صاحبہ جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ ایک گھنٹے کےلئے گرفتار ہوئیں، سب جانتے ہیں کہ لاہور کے سرکردہ اخبار کی خاتون ایڈیٹر نے تحفے کے طور پر مریم نواز کو پیش کی۔ یہ ان کی سوشل میڈیا سیل کی سربراہ تھیں۔ اس میڈیا سیل کا اتنا بڑا بجٹ تھا جو سب سرکاری وسائل سے حاصل کیا گیا۔ نیب سمیت دوسرے ادارے و عمران خان کو چاہیے کہ اس کی تحقیق کروائیں کہ مریم نواز کے سوشل میڈیا سیل پر جتنا پیسہ خرچ ہوا کیا وہ واقعی ن لیگ کے سیاسی فنڈز سے کیا۔ مجھ تک یہ بات پہنچی تو میں نے تحقیق کروانے سے انکار کر دیا۔ اگر ن لیگ کسی کی بیوی، بیٹی کے بارے میں شواہد اکٹھے کر سکتے ہیں تو پھر شیشے کے گھروں میں کوئی نہیں بیٹھا ہوا۔ جو تیاری کی گئی ہے عمران خان بھی اس کے خلاف ہے کہ غیر شائستہ بات ہوگی لیکن شاید عمران کے بس میں بھی نہ رہے، جب بات حد سے بڑھی تو پی ٹی آئی کے باغی ورکر کیا کچھ سامنے لائیں گے اس کےلئے تیار ہو جائیں۔