آفر کر کے شرمندہ نہ ہوں ، ریٹائرمنٹ کے بعدکوئی عہدہ نہیں لونگا ، چیف جسٹس

لاہور(این این آئی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے واضح کہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی عہدہ نہیں لوں گا اور ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل اعلان کر کے جاﺅں گاکہ کوئی عہدہ آفرکرکے شرمندہ نہ ہوں،عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر نہیں نکلنا ،آئین اور پارلیمنٹ سپریم ہے ،ہمارے پاس جوڈیشل ریویوکا اختیار ہے ،اگر رولز غلط ہوں گے تو عدالت اسے دیکھے گی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میںدو رکنی بنچ نے تعطیل کے باوجود سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مختلف اہم نوعیت کے کیسز کی سماعت کی ۔ دوران سماعت ایک موقع پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس میان ثاقب نثار نے کہا کہ اگر میں کسی ہسپتال جاتا ہوں تو اس میں کیا غلط ہے؟۔بلوچستان میں بچیوں کے 6ہزار سکولوں میں ٹوائلٹ موجود نہیں ، اگر سکولوں میں سہولیات دینے کا کہتا ہوں تو اس میں کیا غلط ہے؟۔عوام کو پینے کا صاف پانی نہیں مل رہا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر نہیں نکلنا،آئین او رپارلیمنٹ سپریم ہے ،ہمارے پاس جوڈیشل ریویوکا اختیار ہے،اگر رولز غلط ہوں گے تو عدالت اسے دیکھے گی ۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ککہ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی عہدہ قبول نہیں کروں گا،ریٹائرمنٹ سے ایک دن پہلے یہ واضح اعلان کر کے جاو¿ں گا کہ کوئی عہدہ آفر کر کے شرمندہ نہ ہوں۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔اس موقع پر سموگ کمیشن کے سربراہ نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی جس کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے رپورٹ اور اس میں دی جانے والی تجاویز کی تعریف کی ۔چیف جسٹس نے رپورٹ ویب سائٹ اور پرنٹ میڈیامیں شائع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ پر حکومت اور عوام کی رائے کے بعد عملدرآمد کی طرف جائیں گے۔اس پر عدالت کی جانب سے رپورٹ اور تجاویز کی تعریف کی گئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اشفاق احمد کہتے ہیں باباوہ ہوتا ہے جو سب کیلئے سہولتیں پیدا کرتا ہے۔سموگ کمیشن کے سربراہ احمد پرویز بھی آج سے ہمارے بابے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آنے والے دسمبر میں سموگ قابل برداشت نہیں۔

والدین سے حسن سلوک نہ کرنیوالا معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے : علامہ ضیا ءاللہ بخاری ، اولڈ ایج ہومز معاشرہ کا بڑا المیہ ہیں : ہما تقوی ، والدین کی پرورش کا بدلہ ناممکن ہے : کرکٹر توفیق عمر ، چینل ۵ کی خصوصی ٹرانسمیشن ” مرحبا رمضان “ میں میزبان آمنہ کاردار اور اسامہ بخاری کیساتھ گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے پروگرام ”مرحبا رمضان“ میں گفتگو کرتے ہوئے علامہ ضیاءاللہ بخاری نے کہا ہے کہ اللہ پاک نے حضور کو شب معراج کو اپنے پاس بلایا تو وہاں 14 اصول زندگی عطا کئے۔ سورة اسراءمیں اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے بیان فرمایا کہ آپ ایک اسلامی معاشرہ و ریاست تشکیل دینے جا رہے ہیں۔ وہاں پر 14 اصول لازمی طور پر نافذ العمل ہونے چاہئیں۔ معاشرے کا حسن انہی اصولوں کے ساتھ نکھرےے گا اور واضح ہو گا۔ اس میں سب سے پہلے اللہ نے فرمایا کہ ”تمہارے رب کا یہ فیصلہ ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو“ یعنی توحید باری تعالیٰ، ”والدین کے ساتھ حسن سلوک برتو۔“ اسلام میں والدین کے بڑے واضح حقوق ہیں۔ حکم ہے کہ ماں باپ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ”اُف“ تک نہیں کہنا۔ حضور نے ایک بار صحابہ کرام میں بیٹھے ہوئے دور سے ایک بوڑھی خاتون کو جاتے دیکھا تو تیزی سے اٹھے اور برے استقبال و احترام کے ساتھ انہیں مجلس میں لا کر بٹھایا، کسی کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ ”حلیمہ سعدیہ“ ہیں جنہوں نے آپ کو بچپن میں دودھ پلایا تھا۔ اللہ نے ”حلیمہ سعدیہ“ کو وہ مقام عطا کیا کہ وہ خود بھی صحابیہ بنی اور ان کی ساری اولاد سب صحابہ بنیں۔ ان کے خاوند بھی صحابی بنے۔ نبی پاک نے اپنی رضائی ماں و بہن سے بھی انتہائی حسن سلوک کیا۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ اگر والدین زندہ نہ رہیں تو کیسے حسن سلوک کیا جائے، آپ نے فرمایا چچا، تایا کا احترام کرو والد کے احترام جتنا ثواب ملے گا۔ خالہ کا احترام کرو والدہ کے احترام کا ثواب ملے گا۔ والدین کے درجات کی بلندی کے لئے دُعا گو رہو، اگر والدین میں سے کسی نے اپنی زندگی میں کسی سے کوئی معاہدہ کیا تھا تو اس کو پورا کرو، ایسے کام ان کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ والدین کی وجہ سے بننے والے رشتوں کا احترام کرو، ایسے کام مرحوم والدین کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو بوڑھے والدین کو ”اولڈ ایج ہومز“ چھوڑ آتے ہیں، والدین وہاں بھی اولاد کے لئے دُعا گو رہتے ہیں۔ میں چھوٹی عمر میں مدینہ شریف گیا تو وہاں میرا دل نہیں لگ رہا تھا میں نے والدہ کو خط لکھا، جوابی خط میں ماں نے لکھا کہ بیٹا یہ مدینہ شریف کی تیری زندگی اتنی قیمتی ہے کہ تو ساری زندگی اس کو یاد کیا کرے گا۔ میں نے آج تک وہ خط سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ ماں کی دُعاﺅں سے زندگی میں بڑی کامیابی ملی۔ انہوں نے کہا کہ والدین کے گزر جانے کے بعد کثرت سے دُعا کرو۔ حدیث ہے کہ جب بندہ فوت ہو جائے تو نیکیوں کا رجسٹرڈ پروردگار بند کر دیتے ہیں لیکن نیک اولاد، ملاقات و خیرات کی نیکیوں کے رجسٹرڈ کھلے رہتے ہیں۔ بوڑھا شخص اگر روزے نہیں رکھ سکتا تو فدیہ کے طور پر کسی کو روزہ رکھوا دے۔ روزہ رکھنا اور کسی کو رکھوانا دونوں اللہ کی غلامی ہیں۔ مذہبی سکالر ہما تقی نے کہا کہ ”اولڈ ایج ہومز“ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے۔ اسلام میں تو جتنے والدین بوڑھے ہوتے گئے، ان کے حقوق و فرائض بڑھتے چلے گئے۔ اسلام تو کہتا ہے کہ اگر بزرگ والدین کی طرف مسکرا کر دیکھ لو تو اللہ رحمت کے 70 فرشتے تمہارے اوپر معین کر دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم بوڑھے والدین کی فیوض و برکات کو سمجھ ہی نہیں سکے، جو نہیں سمجھ پاتا وہ اپنے بزرگ والدین کو ”اولڈ ایج ہومز“ میں چھوڑ آتا ہے۔ اسلام کی بنیادیں ہی قدروں کے اوپر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضور کے اپنے والدین نہیں تھے لیکن پالنے والوں کی اس قدر خدمت و احترام کر کے دکھا دیا جو ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ حدیث ہے کہ والدین فوت ہو جائیں تو ان کی قبر پر اتنی دیر بیٹھو جب تک ایک اونٹ کی قربانی کر کے اس کا سارا گوشت تقسیم کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت اویس قرنیؓ واحد صحابی ہیں جنہوں نے رسول اللہ کو بغیر دیکھے صحابی کا درجہ حاصل کیا، ان کا کمال والدین کی عطا تھا۔ انہوں نے اپنی ماں کے کہنے پر عمل کیا، ماں نے صرف اتنا کہا تھا کہ بیٹا تم جا رہے ہو لیکن شام تک پلٹ کر واپس آ جانا، جب وہ مدینہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ یہاں نہیں تو بہت روکنے پر بھی وہ نہیں رکے اور ماں کے کہنے کے مطابق شام تک لوٹ آئے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی نافرمانی گناہ کبیرہ ہے۔ اولاد کی طرح والدین کے لئے بھی وقت نکالنا چاہئے۔ ٹیسٹ کرکٹر توفیق عمر نے کہا ہے کہ والدین جو ہمارے لئے کرتے ہیں ہم اس کا بدلہ نہیں چکا سکتے۔ خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں جنہیں والدین اپنی زندگی میں ملتے ہیں۔ اگر جنت کمانی ہے تو اس سے بڑا ذریعہ نہیں ہو سکتا کہ اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کریں، ان کے خود سے راضی کر لیں۔ والدین کی دُعاﺅں سے ہی زندگی میں کامیابیاں ملتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 5 سال کا تھا جب میرے والد کا انتقال ہو گیا لیکن ماں نے کبھی اس بات کا احساس ہی نہیں ہونے دیا۔ آج میں جو ہوں وہ والدہ کی وجہ سے ہی ہوں۔

نومولود بچوں کی فروخت کا کیس ، ڈاکٹر محمود ، میڈم الطاف ، مہناز روہی کے ملوث ہونیکا انکشاف ، ” خبریں “ حقائق سامنے لے آیا

فیصل آبا د (سٹاف رپورٹر )فیصل آباد میں نوزائیدہ بچوں کو اغوا کر کے بے اولاد جوڑوں کو لاکھوں روپے میں فروخت کیے جانے کا الائیڈ ہسپتال کا سامنے آنےوالا دوسرا اور بڑا اسکینڈل ہے۔ اس سے قبل فیصل آباد کے سول ہسپتال سے بچے اغوا کرنے کا اسکینڈل سامنے آ چکا ہے جبکہ نوزائیدہ بچوں کو اغوا کر کے فروخت کرنےوالی گروہ کی خاتون سرغنہ الائیڈ ہسپتال کی سرکاری ملازمہ دائی خورشید بی بی نے دوران تفتیش کچھ راز اگل دیئے ہیں۔ جس میں اس نے ڈاکٹر محمود، میڈم الطاف بشریٰ اور مہناز روہی و دیگر کا گھناﺅنے کاروبار میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے اور معاملہ ایم ایس کے علم میں بھی ہوتا تھا۔ ملزمہ کے ان انکشافات پر مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہاہے۔ پولیس نے اس صورتحال بارے میں اعلیٰ پولیس حکام کو آگاہ کر دیا ہے اور پولیس اعلیٰ حکام کے احکامات کی منتظر ہے۔ گرین سنگل ملنے کے بعد گرفتاریاں عمل میں لائی جا ئیں گی اور ذرائع کے مطابق کہ اس کاروبار میں ملوث ڈاکٹر قتل اور ریٹائرڈ بھی ہو چکے ہیں۔ واضع رہے کہ دو یوم قبل پولیس نے پی ایم سی کالونی میں چھاپہ مار کر پانچ یوم کی بچی کو اغوا کے بعد فروخت کرتے ہوئے خورشید بی بی دائیہ، اس کے خاوند صفدر اور ساتھی خاتون نبیلہ کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا تھا اور دوران تفتیش گروہ کی سرغنہ خورشید بی بی جو کہ الائیڈ ہسپتال میں سرکاری ملازمہ تھی اس نے 1200سے زائد نوزائیدہ بچوں کو فروخت کرنے کا انکشاف کیا تھا اور پولیس تفتیش میں مزید انکشافات کیے ہیں۔ الائیڈ ہسپتال کی دائیہ خورشید بی بی کا نوزائیدہ بچوں کو اغوا کے بعد فروخت کیے جانے کا اسکینڈل منظر عام پر آنے سے قبل فیصل اباد کے سول ہسپتال کا بھی بچہ اغواکرنے کا 2001میں اسکینڈل سامنے آیا تھا چک نمبر 109ر۔ب جڑانوالہ کی رہائشی نسیم بی بی زوجہ ظفر اقبال کا چھ ماہ کا بیٹا ظفر علی سول ہسپتال سے اغوا ہو گیا تھا جس کا سات سال گزرنے کے باوجود کوئی سراغ نہ ملا ہے۔ جس کا تھانہ سول لائن میں مقدمہ نمبر 1168درج ہے اور تقریباً تین چار سال قبل تھانہ پیپلزکالونی پولیس نے بھی ایک خاتون کو بچے اغوا کر کے فروخت کرنے کے الزام میں پکڑا تھا جس کو باعزت طور پر رہا کر دیا گیا تھا تاہم سول لائن پولیس کی گرفتار دو خواتین سمیت تینوں ملزموں سے تفتیش جاری ہے، دریں اثناءالائیڈ ہسپتال کے ایم ایس نے دائی خورشید بی بی کو معطل کرتے ہوئے انکوائری کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

رائیونڈ : 3 سال قبل اغواءہونیوالی لڑکی پولیس بازیاب کروانے میں ناکام ، متاثرہ خاندان نے ”خبریں ہیلپ لائن “ کی مدد طلب کر لی

رائے ونڈ (نامہ نگار) قصور کے علاقہ میں تین سال قبل 6 اکتوبر 2015ءکو اغواءہونے والی جواں سالہ لڑکی بازیاب نہ کروائی جاسکی، متاثرہ خاندان انصاف کیلئے خبریں آفس رائے ونڈ پہنچ گیا، تفصیلات کے مطابق ضلع قصور کے تھانہ تھ شیخم کے علاقہ لاکھو پورہ کے رہائشی بزرگ زمیندار محمد رشید نے بتایا کہ علاقہ کے بااثر افراد عبدالرحمن عابد، طاہر، واجد، عابد اور آصف نے اس کی 19 سالہ بیٹی سعدیہ کو کسی طرح ورغلاءکر اغواءکرلیا، جس کی رپورٹ اس نے مقامی تھانہ کو دی جنہوں نے ایک ملزم عبدالرحمن عابد کو ہماری نشاندہی پر گرفتار کیا جبکہ اس کا ایک اہم ساتھی طاہر موقع سے فرار ہوگیا، متاثرہ شخص محمد رشید کے مطابق ملزم عبدالرحمن عابد کو اسی رات ہی علاقہ کی بااثر شخصیات شوکت اور اکرم وغیرہ نے چھڑوا لیا، جس کے چند دنوں بعد ملزموں کے سرپرستوں نے ایک جعلی نکاح نامہ پنچائت کے ذریعے پیش کیا کہ لڑکی نے رضا مندی کیساتھ عبدالرحمن عابد سے شادی کرلی ہے، محمد رشید نے کہا کہ جب اس نے اپنی بیٹی کو ملوانے کا کہا تو ملزموں نے اگلی پنچائت میں ایک اور نکاح نامہ دکھا دیا کہ لڑکی نے عبدالرحمن عابد کیساتھ نہیں بلکہ طاہر کیساتھ شادی کی ہے، متاثرہ شخص محمد رشید نے بتایا کہ وہ تین سال سے مختلف جگہوں پر انصاف کیلئے دھکے کھا رہا ہے لیکن اس کو کسی ادارے اور افسر مجاذ نے انصاف فراہم نہیں کیا اور آج تک اس کی بیٹی سے نہیں ملایا گیا تاکہ وہ سچ جان سکے، اس نے کہا کہ یہ گروہ جس کو مذکورہ بااثر شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے، مقامی پولیس اور متعلقہ یونین کونسل سیکرٹریوں کے ساتھ ملی بھگت سے علاقہ کے بے آسرا لوگوں کی نوجوان لڑکیاں اغواءکرتا ہے، پھر اغواءکی گئیں لڑکیوں میں سے کسی ایک لڑکی کو آزاد کرنے کے عوض اس کی مدد سے دوسری لڑکی اغواءکرلیتا ہے اور اس طرح ان کا نیٹ ورک کئی سالوں سے یہ دھندہ کررہا ہے، ناجانے یہ لڑکیوں کو کہاں رکھتے ہیں اور ان سے کیا کام لیتے ہیں، اس نے انکشاف کیا کہ جس لڑکی ثمرین کے ذریعے ملزموں نے اس کی بچی کو اغواءکیا تھا، اس لڑکی نے چند دنوں بعد خود کشی کرلی تھی جو کہ اس کے والدین نے بدنامی کے خوف سے ملزموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کروائی، کیونکہ بااثر ملزمان کے خلاف کوئی آواز اٹھانے کو تیار نہیں، ملزمان کی پشت پناہی انتہائی بااثر لوگ کرتے ہیں، جن میں کوئی کسی جج کا رشتہ دار ہے تو کوئی کسی اعلیٰ پولیس افسر اور فوجیوں کے عزیز ہیں، متاثرہ شخص نے خبریں کے چیف ایڈیٹر جناب ضیاءشاہد صاحب سے اس سلسلے میں خصوصی دلچسپی لیکر چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے انصاف دلوانے کی اپیل کی ہے۔

ضیا شاہد کی پانی کے مسئلہ پر کوششیں قابل تعریف ، بھٹو نے کالا باغ ڈیم پر کام شروع کروایا ، سندھ اور کے پی کے رکاوٹ بنے ، ” خبریں “ میں اہم انکشافات

لاہور(ملک مبارک سے )کچھ لوگوں کی ہٹ دھرمی ،نااہلی یا اقتدار کی ہوس کی وجہ سے پاکستان کا اہم مسئلہ پس پشت ڈال دیا گیا ہے اپنے مفادات کی خاطر قوانین میں ترامیم تو ایک منٹ میںہوجاتی ہے جبکہ ان سیاستدانوں سے 40سال سے کالاباغ ڈیم کامسئلہ حل نہ ہوسکا ۔روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد نے اس اہم مسئلے کا علم بلند کیا سوئے ہوئے حکمرانوں کو دریاوں کی آنے والی خطرناک صورت حال سے اگاہ کیا پھر بھی حکمران خواب غفلت کا شکار رہے ، سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے پانی کے مسئلہ کو اہم قرار دے دیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کی ڈھائی کروڑ ایکڑ اراضی پانی نہ ہونے کی وجہ سے بے آباد پڑی ہے۔ اس میں سے 91 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی صوبہ سندھ میں ہے۔ وسیع تھر زرخیزی کے لحاظ سے کسی سے کم نہیں لیکن پانی نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑا ہے بلکہ ہر سال اوسطاً سو ڈیڑھ سو بچے قحط کے ہاتھوں لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم سے سندھ کے پانی میں جو اضافہ ہوگا، اس سے تھر کی وادی کو پانی ملے گامنگلا اور تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کا مجموعہ 102.73 ملین ایکڑ فٹ لگایا گیا تھا۔ 1975 میں تربیلا ڈیم کے مکمل ہوتے ہی بھٹو مرحوم نے حکم دیا کہ کالا باغ ڈیم پر فوری کام شروع کیا جائے چنانچہ تخمینہ لگانے کا کام شروع ہوا تربیلا سے تمام تعمیراتی مشینری کالا باغ پہنچا دی گئی۔ کالا باغ ڈیم کی ڈیزائن کے مطابق تعمیر کے لئے پلاننگ کی گئی۔ رہائشی عمارات بھی تعمیر ہوئیں۔ اس دوران ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ضیاء الحق کے دور میں 1982 میں دوبارہ کام شروع کیا گیا۔ ایک برطانوی کمپنی کو سروے کا کام سونپا گیا۔ اس کمپنی کے کنسلٹنٹس نے اندازہ لگانا چاہا کہ 1929 میں بڑا سیلاب کہاں تک آیا تھا۔ اس سیلاب کے حوالے سے وہ نوشہرہ میں نشان لگا رہے تھے کہ شور مچ گیا کہ کالا باغ ڈیم بنا تو نوشہرہ ڈوب جائے گا۔ عبدالغفار خان باچا خان آئے اور ہڑتال شروع ہو گئی۔ گورنر فرنٹیئر جنرل فضل حق نے بھی اس کی حمایت کی۔ جئے سندھ بھی میدان میں کود پڑی۔ اس طرح کالا باغ ڈیم خوامخواہ متنازعہ بن گیا۔ چنانچہ فرنٹیئر کے انجینئر شاہنواز اور سندھ کے دو انجینیئرز اصغر علی عابدی اور شیخ منظور احمد کا تین رکنی کمیٹی بنا دی گئی۔ جس نے 1984 میں فیصلہ کیا کہ کالا باغ جھیل کی سطح 925 فٹ سے کم کرکے 915 فٹ کر دیا جائے۔ نوشہرہ کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ حالانکہ نوشہرہ کی بلندی 961 فٹ ہے۔کے پی کے گورنمنٹ نے اس رپورٹ کو تسلیم نہ کیا جس پرکے پی کے گورنمنٹ کو اختیار دیا گیا کہ وہ پوری دنیا سے اپنی مرضی کا ماہر چن لے۔ اس کی نگرانی میں سٹڈی کروا لیتے ہیں۔ اسے مان لیں گے۔ فرنٹیئر گورنمنٹ نے امریکہ کے ڈاکٹر کنیڈی کا نام چوائس کیا۔ چنانچہ ان کی نگرانی میں سٹڈی کروائی گئی جس نے 1987 میں فیصلہ کیا کہ کالا باغ ڈیم سے نوشہرہ کو کوئی خطرہ نہیں۔ اس دوران کالا باغ ڈیم کے مقام پر اصل ڈیم کے علاوہ تمام کام مکمل ہو چکا تھا۔ دفاتر پاور ہاو¿س کی بلڈنگ ملازمین اور افسران کے لیے رہائشی کالونیاں، سکول، ڈسپنسری سب کچھ بن چکا تھا۔لیکن پھر ضیائ الحق فضائی حادثہ کا شکار ہو گئے محترمہ بینظیر بھٹو کے پہلے دور میں 1989 میں پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈویڑن میں کالا باغ ڈیم کا منصوبہ منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔ سندھ نے اعتراض اٹھایا کہ کالا باغ ڈیم بڑا منصوبہ ہے اس کی تعمیر سے پہلے صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کا فارمولا طے ہونا چاہیے کہ کس صوبے کو کیا ملے گا۔ بلوچستان نے بھی سندھ کی تائید کی۔1991 میں چاروں صوبوں کے ماہرین کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہونے کے بعد 16 مارچ کو چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم پر دستخط کئے جس کے بعد 21 مارچ 1991 کو مشترکہ مفادات کونسل نے باقاعدہ منظوری دے کر آئینی شکل دی۔معاہدے کے مطابق حاصل ہونے والے فاضل پانی میں سے صوبہ پنجاب، سندھ، فرنٹیئر اور بلوچستان کو بالترتیب 37, 37,، 14 اور 12 فیصد پانی ملے گا۔یہاں یہ واضح رہے کہ کالا باغ ڈیم کی جھیل میں مستعمل پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 6.1MAF ہے۔ ڈیم کا کام محض پانی جمع کرنا نہیں بلکہ پانی کی روانی کو کنٹرول کرنا بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ اضافی پانی کا تخمینہ 11.62MAF لگایا گیا۔ جسے فارمولے کے تحت تقسیم ہونا تھا۔ اس موقع پر سندھ نے تھر اور فرنٹیئر نے جنوبی اضلاع کی خستہ صورتحال بتائی چنانچہ پنجاب نے قربانی دے کر اپنا پانی کم کر لیا۔ جس کا تخمینہ لگانے کے بعد اس پانی کو واٹر اکارڈ میں جمع کر دیا گیا۔صوبوں کو اضافی پانی کی فراہمی کا شیڈول بھی طے پاگیا جس کے مطابق سندھ 5.72MAF،کے پی کے 2.69MAF،بلوچستان1.76MAF،پنجابF 1.45MAسندھ میں اس فاضل پانی سے ایک تو گدو سے رینی کینال نکال کر خان پور کے وسیع صحرا کو آباد کرنا تھا۔ دوسرے نارا اور تھر کے علاقوں میں بھی پانی پہنچانا تھا۔ پانی کی تقسیم کا فارمولا تو طے پا گیا۔ کالا باغ ڈیم بننے کی صورت میں بھی اس سے حاصل ہونے والے پانی کو بھی تقسیم کرکے واٹر اکارڈ میں جمع کر دیا گیا۔ مگر کالا باغ ڈیم تو نہ بنا تھا۔ یہ فاضل پانی کہاں سے آتا۔ چنانچہ جب موسم برسات کے بعد اکارڈ کے مطابق پانی کی فراہمی کا سوال اٹھایا گیا تو 16 ستمبر 1991 میں مشترکہ مفادات کونسل میں وضاحت کی گئی کہ اکارڈ میں ظاہر کیا فاضل پانی جب ملے گا جب کالا باغ ڈیم بنے گا۔اس بارے ضیا شاہد نے اپنی زندگی کا کافی حصہ صرف کیا ہے صوبوں کو اکٹھا کر نے میں عوام کو اگاہی دینے میں پانی کی بندش کے حوالے سے کئی کتابیں تحریر کر ڈالیں ۔آبی ماہرین کا کہنا ہے جو کام حکمرانوں نے کرنا تھا وہ ایک عوام کا ددر دل رکھنے والے محب پاکستان ضیا شاہد نے کردیا پنجاب اور خاص کر جنوبی پنجاب کی عوام نے ضیا شاہد کو اپنے حقوق کا علمبردار قرار دے دیا ہے پانی کے مسئلے کو اجاگر کر نے پر جنوبی پنجاب کی عوام نے بھی خراج تحسین پیش کیا ہے۔

نیواسلام آباد ایئر پورٹ پر پانی کھڑے ہونے کا معاملہ، سپریم کورٹ میں حقیقت سامنے آ گئی

لاہور(ویب ڈیسک)نیو اسلام آبادایئر پورٹ پر پانی کھڑے ہونے کے معاملے کی حقیقت سپریم کورٹ میں حقیقت سامنے آ گئی۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے نیواسلام آباد ایئر پورٹ پر پانی کھڑے ہونے کے معاملے کی سماعت کی،ایئر پورٹ انتظامیہ اور سول ایوی حکام عدالت میں پیش ہوئے،سول ایوی ایشن کے نمائندے نے عدالت کو بتایاکہ سوشل میڈیاپرجوویڈیوزوائرل ہوئی ہیں وہ ڈیڑھ سال پرانی ہیں،جب ایئر پورٹ زیرتعمیر تھا ان کا کہناتھا کہ سوشل میڈیا پر چیزوں کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ پوری دنیامیں جوایئرپورٹ بنتے ہیں اس پربیک وقت 2جہازلینڈ اورٹیک آف کرسکتے ہیں،آپ نے اربوں روپے لگادیے،اس ایئرپورٹ پرایک جہازلینڈکرسکتاہے، آئندہ سماعت پرمکمل ریکارڈلے کرآئیں،عدالت نے ایم ڈی پی آئی اے اورسٹیشن منیجر اسلام آبادکوآئندہ سماعت پرطلب کرلیا،عدالت نے پانی بھرنےوالی سی سی ٹی ویڈیواوراسلام آبادایئرپورٹ پر آنےوالی لاگت کامکمل ریکارڈ 13 جون کوطلب کرلیا۔

پرویز خٹک کے کزن چنگیز خان کو ٹکٹ نہ دینے پر کھلاڑی کی خود سوزی کی کوشش

اٹک (ویب ڈیسک) سابق وزیر اعلیٰ خیبر یی کے پرویز خٹک کے کزن چنگیز خان کو پی پی کا ٹکٹ نہ دینے پر پی ٹی آئی ٹائیگر نے خود سوزی کی کوشش کی ، فیصلہ پر نظرثانی نہ ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی کے چار سابق امیدواران وائس چیئرمین نے بنیادی رکنیت چھوڑنے کی دھمکی دیدی ، مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو شکست دینے کیلئے پورے چھچھ نے متفقہ طور پر پی ٹی آئی قیادت سے چنگیز خان کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کر دیا، بیرون ممالک سے بھی حلقہ عوام کا چنگیز خان سے اظہار یکجہتی ، حضر و شہر کے احتجاج میں مسلم لیگی جنرل کونسلر ملک اجمل نے بھی چنگیز خان کی حمایت کر دی۔روزنامہ خبریں کے مطابق پی پی 2کیلئے پی ٹی آئی کی طرف سے چنگیز خان جو کہ پرویز خٹک کے کزن بھی ہیں کو ٹکٹ نہ دینے کو علاقہ عوام نے سخت حیرت اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حضروشہر اور مختلف یونین کونسلوں میں احتجاجی مظاہرے اور چنگیز خان سے یکجہتی کے اظہار کیلئے اجتماعات ہوئے ، فواہ چوک حضرو میں پی ٹی آئی کارکن نے چنگیز خان کو ٹکٹ نہ ملنے پر خود پر پیٹرول چھڑک لیا اور آگ لگانے کی کوشش کی مگر مظاہرین نے پکڑ کر بچالیا۔

نوکری پر بحالی کا انوکھا طریقہ شہری جسٹس اعجاز الاحسن کی گاڑی کے نیچے گھس گیا

لاہور (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ رجسٹری لاہور کے باہر اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک شہری جسٹس اعجاز الاحسن کی گاڑی کے نیچے گھس گیا۔جسٹس اعجاز الاحسن مقدمات کی سماعت کیلئے سپریم کورٹ رجسٹری لاہور آئے تو عدالت کے باہر موجود ایک شخص ان کی گاڑی کے آگے آگیا اور گاڑی کے آگے لیٹ گیا۔ اس وقت اور بھی دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب جسٹس اعجازالاحسن کی گاڑی رکتے ہی وہ شخص اس کے نیچے پہنچ گیا۔ سکیورٹی عملے نے بڑی مشکل سے شہری کو احتجاج سے منع کیا۔

انجکشن سے جھینگوں کا وزن بڑھانے کا انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) وزن بڑھانے کے لیے جانوروں کے گوشت میں پانی بھرنا عام بات ہے لیکن کیا جھینگے کے وزن میں اضافہ بھی ممکن ہے؟ اور کیا ایسا کراچی فش ہاربر میں ہو رہا ہے؟ایک وائرل فوٹیج نے جھینگے کے کھانے والوں میں کھلبلی مچا دی، انجکشن سے پانی جھینگے میں ڈالنے اور پھر اسے فوراً فریز کرنے سے اس کا وزن تقریباً دگنا ہو جاتا ہے اور خریدار سے زیادہ مال بٹورا جاتا ہے۔اگر یہ پاکستان کی فوٹیج نہیں تب بھی اس تکنیک کے یہاں ہونے کو مکمل رد نہیں کیا جا سکتا۔انجکشن سے جھینگے کا وزن بڑھانے کا انکشاف ،مسئلہ لالچی بیوپاریوں کی جانب سے صرف وزن بڑھانے کا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ جھینگے میں کس طرح کا پانی یا کیمیکل ڈالا جا رہا ہے، ایکسپورٹرز جھینگے میں قابل قبول کیمیکل کی مقدار ڈالنے کا اعتراف کرتے ہیں۔ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ کچھ افراد نا قابل قبول کیمیکلز بھی جھینگے میں ڈالتے ہیں تاکہ وہ دیر تک تازہ رہے اور اچھا دکھائی دے۔اس صورتحال میں کراچی والے اس حوالے سے شک و شبہے میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ آیا انہیں صرف زائد وزن لیکن صحت مند جھینگا کھلایا جا رہا ہے یا مضر صحت جھینگا ان کے دستر خوانوں کی زینت بن رہا ہے۔

زمین کے تنازع پر 2خواتین کو تیزاب ڈال کر جھلسا دیا ،ملزمان فرار

مظفرگڑھ(ویب ڈیسک)مظفرگڑھ کے علاقہ شہرسلطان کے ایک گھر میں 4 ملزمان نے2خواتین پر تیزاب پھینک دیا۔متاثرہ خواتین میںسے ایک خاتون کا 50 فیصدحصہ جل گیاجبکہ دوسری معمولی زخمی ہوئی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق خواتین پر تیزاب پھینکنے کا واقعہ مظفرگڑھ کے علاقہ شہرسلطان کے ایک گھر میں پیش آیا جہاں 4 ملزمان 2خواتین پر تیزاب پھینک کر فرار ہو گئے۔پولیس کا کہنا تھا کہ متاثرہ خواتین کو نشتر اسپتال ملتان منتقل کردیاگیا ہے۔ خواتین میںسے ایک خاتون کا 50 فیصدحصہ جل گیا اور دوسری معمولی زخمی ہوئی ہے۔پولیس کا مزید کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق فریقین میں زمین کا تنازع ہے اور واقعے کامقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ٹکٹ ملے نہ ملے میں عمران خان کے ساتھ ہوں وفاداری ہو تو ایسی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق ممبر قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ مجھے اپنے لیڈر پر اعتماد ہے،مسلم لیگ ن کی وکالت کی کوئی ضرورت نہیں اس سے تو میرا کیس اور خراب ہو گا،میری ٹکٹ کا فیصلہ ہونا باقی ہے ،میرے حلقے میں ابھی سروے ہورہا ہے جس کے بعد ٹکٹ کا فیصلہ ہوگا تاہم مجھے پارٹی ٹکٹ ملے یا نہ ملے میں عمران خان کے ساتھ ہوں۔علی محمد خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سیاست کبھی کسی عہدے کے لئے نہیں کی ،میں نے کبھی نہیں سوچا کہ میں ایم این اے بنوں گا ،میں تو ایک وکیل اور انجیئنر تھا ،عمران خان کے ساتھ اس لئے شامل ہوا کیونکہ ملک بنانےکی ایک سوچ تھی اور وہ سوچ اب بھی ہے ،جب آپ ایک سفر میں جاتے ہیں تو راستے میں ایک سٹاپ اوور بھی ملتا ہے ،جب آپ ایک تحریک کا حصہ ہوتے ہیں تو آپ وزیر بھی بنتے ہیں اور ایم این اے بھی بنتے ہیں، میں خوش ہوں کہ شہریار آفریدی اور شوکت یوسفزئی کو ٹکٹ مل گئے ہیں،میرے حلقے میں سروے ہو رہا ہے ،ابھی میرے حلقے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا لیکن مجھے امید ہے کہ عمران خان میرٹ پر فیصلہ کریں گے ،مجھے امید ہے کہ اس کا اچھا ہی فیصلہ نکلے گا اور عمران خان نظریاتی لوگوں کو سپورٹ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کچھ ورکرز کو ٹکٹ نہیں بھی ملے اور کارکنوں کو اس پر تحفظات بھی ہیں ،اسی لئے ان تحفظات کو دور کرنے کے لئے عمران خان نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے ، ہر جماعت چاہتی ہے کہ وہ ایسے امیدوار کو ٹکٹس دے جو الیکشن جیت جائے ،29 اپریل کے جلسے کے بعد بہت سے لوگوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے اور بہت سے لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں ،ہر جماعت کو بیلنس رکھنا ہوتا ہے کہ جماعت میں نظریاتی کارکن بھی رہیں اور ایسے لوگوں کو بھی اکاموڈیٹ کیا جائے جو حلقوں سے جیتتے رہیں ہیں ،تحریک انصاف نے یہ بیلنس ڈھونڈنا ہے ،کئی حلقوں میں تحفظات بھی ہیں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کترینہ اچھے کھانوں کی دلدادہ نکلیں

مبئی (ویب ڈیسک) بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کترینہ کیف نے کہا ہے کہ مجھے اچھے کھانا کھانے سے زیادہ خوشی کسی اور چیز میں نہیں ملتی۔ کترینہ کیف کا اپنے ایک انٹر ویو میں کہناتھا کہ کھانے سے مجھے زیادہ کام کرنے کے لئے طاقت ملتی ہے اور مجھے اچھا کھانا کھانے سے بہتر کسی اور چیز میں کوئی خوشی نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ مجھے سٹریٹ فوڈ بہت پسند ہے اور ایسی جگہیں جہاں میرے پسندیدہ کھانے کڑک پاو (kadak pav) اور پایا کھانے کو مل جائے تو انہیں خوشی ہوتی ہے جبکہ انہیں سی فوڈ بھی بے حد پسند ہے اور دہلی میں وہ ہر قسم کے کھانے کھانے چاہتی ہیں۔

چیف جسٹس کی ما حولیاتی آلودگی میں ریمارکس

لاہور(ویب ڈیسک)چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اشفاق احمد کہتے ہیں باباوہ ہوتا ہے جو سب کیلئے سہولتیں پیدا کرتا ہے،احمد پرویز بھی آج سے ہمارے بابے ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں بنچ نے سپریم کورٹ رجسٹری میں ماحولیاتی آلودگی کیس کی سماعت کی ،سموگ کمیشن کے احمد پرویز نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کردی،اس پر عدالت کی جانب سے رپورٹ اور تجاویز کی تعریف کی گئی۔چیف جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اشفاق احمد کہتے ہیں باباوہ ہوتا ہے جو سب کیلئے سہولتیں پیدا کرتا ہے،احمد پرویز بھی آج سے ہمارے بابے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آنے والے دسمبر میں سموگ قابل برداشت نہیں،عدالت نے رپورٹ ویب سائٹ اور پرنٹ میڈیامیں شائع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ پر حکومت اور عوام کی رائے کے بعد عملدرآمد کی طرف جائیں گے۔