اسلام آباد(آئی این پی،مانیٹرنگ ڈیسک ) سینئر وکیل خواجہ حارث اور ان کی ٹیم نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز سے علیحد گی اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف تینوں نیب ریفرنسز کا ٹرائل 6 ہفتوں میں مکمل کرنے سے متعلق میرے موقف کو تسلیم نہیں کیا، ڈکٹیشن بھی دی کہ ایک ماہ میں ریفرنسز کا فیصلہ کریں، مجھے عدالتی اوقات کے بعد بھی کام کرنے کی ڈکٹیشن دی گئی،ہفتے اور اتوار کو بھی عدالت لگانے کا کہا گیا، ایسے حالات میں کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ پیر کو احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران خواجہ حارث نے عدالت سے وکالت نامہ واپس لینے کی درخواست دائرکردی۔ خواجہ حارث نے موقف اختیارکیا کہ سپریم کورٹ نے ریفرنسزنمٹانے کیلئے ایک ماہ کا وقت دیا، ہفتے اوراتوارکو بھی عدالت لگانے کا کہا گیا، سپریم کورٹ نے میرے موقف کوتسلیم نہیں کیا، دبا ﺅ میں کام نہیں کرسکتا، ایک ماہ میں عدالت انصاف نہیں کرسکتی ہے۔خواجہ حارث کے وکالت نامہ واپس لینے کے بعد احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے نوازشریف کوروسٹرم پربلایا اوراستفسار کیا کہ آپ کے وکیل نے وکالت نامہ واپس لے لیا ہے، اب کس کو وکیل رکھیں گے، خواجہ صاحب کو راضی کرلیں جس پرنوازشریف نے کہا کہ اس حوالے سے مشاورت کے بعد ہی فیصلہ کریں گے۔واضح رہے کہ خواجہ حارث تقریبا 9 ماہ کے بعد نواز شریف کے نیب ریفرنسز سے علیحدہ ہوئے ہیں۔خواجہ حارث کے اس فیصلے کے بعد نواز شریف کے خلاف تینوں ریفرنسز بظاہر تعطل کاشکار ہوگئے ہیں اور جب تک سابق وزیراعظم کوئی اور وکیل ہائر نہیں کریں گے، کارروائی آگے نہیں بڑھے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد و سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ میرے بنیادی حقوق بری سلب کیے جارہے ہیں اور اپنے حق دفاع سے محروم کیا جا رہا ہوں ،ایسا ماحول بنایا جارہا ہے کہ میں وکیل کی خدمات سے بھی محروم ہوگیا ہوں،احتساب عدالت نے نیا وکیل کرنے کا کہا لیکن کوئی بھی وکیل اتنی کڑی شرائط پر کام کرنے کو تیار نہیں اور یہ ممکن نہیں کہ وکیل کل وکالت نامہ جمع کروائے اور پرسوں شروع کردے،پانامہ کے نام سے شروع ہونے والے کھیل کی یہ آخری قسط کی ظلم اور نا انصافی انتہائی افسوسناک ہے ،ملک کا آئین توڑنے ، آرٹیکل 6کے تحت غداری کا مرتکب ہونے والے ڈکٹیٹر کی کس طرح بلائیں لی جا رہی ہیں مگر اہلیہ کی عیادت کے لئے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ۔ان حالات میں کس توقع کے ساتھ اپیل میں جاﺅں گا اور کس کے پاس جاﺅں گا ،اگر 25جولائی کے انتخابات سے قبل میرے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا ضروری یا مجبوری ہے تو پھر فیصلہ کر دیجیے ، اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ قانون و انصاف ، آئینی تقاضوں ، بنیادی انسانی حقوق اور عدالتی روایات کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ وز ماڈل ٹاﺅن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے صدر و سابق وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ، راجہ ظفر الحق ، شاہد خاقان عباسی ، خواجہ آصف ،مریم نواز اور آصف کرمانی سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔نواز شریف نے کہا کہ ہمارے وکیل خواجہ حارث نے دستبرادی کی درخواست دائر کر دی گئی ہے اور اسی طرح کی اطلاعات دوسرے وکیل امجد پرویز کی طرف سے بھی آرہی ہیں ،خواجہ حارث نے تحریری طور پر وہ تمام تفصیلات بیان کر دی ہیں جس کی بناءپر وہ یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے، گزشتہ روز اتوار کے دن احتساب عدالت کی طرف سے تیسری بار توسیع کی درخواست کی سماعت کے لئے پہلی بار چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنی سربراہی میں بنچ قائم کرنے اور اتوار کے روز اس کی سماعت کرنا ضروری سمجھا ،جسٹس اعجاز الحسن بنچ کے دوسرے رکن تھے جو ہمارے خلاف دائر ریفرنسز کی مانیٹرنگ بھی کررہے ہیں ،یعنی مانیٹرنگ جج ہیں جو میرے خلاف فیصلہ دینے والے بنچ کا بھی حصہ تھے، چیف جسٹس نے ہمارے وکیل سے کہا کہ ایک ماہ کے اندر اندر ریفرنسز کا فیصلہ آجانا چاہیے انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے کے لئے ہفتہ وار چھٹیوں اور مقرر ہ اوقات کے بعد بھی سماعت جاری رکھی جائے،ہمارے وکیل نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ کیس کی تیاری ،دلائل تیار کرنا ہوتے ہیں ،مطالع کرنا ہوتا ہے ایسا کسی بھی وکیل کے لئے بھی ممکن نہیں کہ ہفتہ وار چھٹی بھی نہ کرے اور ہر روز عدالت میں پیش بھی ہو اور انہی اوقات میں عدالتی کام جاری رکھے ، چیف جسٹس نے ان گزارشات کے جواب میں کہا کہ آپ مجھے دھمکیاں نہ دیں ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ پیش نہیں ہو سکتے تو ملزمان کے وکیل بدل سکتے ہیں ، اپنے تحریری آرڈر میں چیف جسٹس نے کہا کہ احتساب عدالت اپنے اوقات کار خود طے کرے ، عدالت کو ہفتہ کے روز کارروائی کی اجازت بھی دیدی گئی ، حتمی طور پر یہ طے کر لیا گیا کہ کچھ بھی ہو اس ماہ میں ریفرنسز یا ریفرنس کے فیصلے سنا دیئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج مجھے احتساب عدالت کی طرف سے کہا گیا کہ نیا وکیل کر لوں ، میں نے وقت مانگا ہے کل مزید بات ہو گی مگر اب تک مجھے یہی معلوم ہوا کہ کوئی بھی وکیل ان کڑی شرائط ، اتنے لمبے اوقات کار اور ہفتہ وار چھٹی کی دن بھی پیش ہونے کے لئے تیار نہیں ، اگر کوئی نیا وکیل مل بھی جائے تو اسے ہزاروں صفحات کا جائزہ لینے ، گواہان کے بیان دیکھنے ، جے آئی ٹی جلدوں کی نو ہزار سے زائد صفحات کا مطالع کرنے ، تین صندوقوں میں بند کاغذات کو دیکھنے اور ریفرنسز کے تمام پہلوﺅں کا جائزہ لینے کے لئے نہ جانے کتنا وقت درکار ہو گا ،ایسا ممکن نہیں کہ وہ کل وکالت نامہ جمع کروائیں اور پرسوں دلائل شروع کر دیں ، یہ قانون و انصاف کا کھلا مذاق اڑانے والی بات ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ پاکستان کی ستر سالہ عدالتی تاریخ میں کسی احتساب عدالت پر اس طرح کی قدغنیں لگائی گئی ہوں ، آج تک کسی وکیل کو مجبور کیا گیا ہو کہ سارا دن رات گئے تک مقدمے لڑے اور چھٹی والے دن بھی پیش ہو ، یہ سب کچھ آرٹیکل 10اے ، 25اور فیئر ٹرائل کی بنیادی تقاضوں کے خلاف ہے ، یہ انصاف اور قانون کے تمام تقاضوں کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے بنیادی حقوق بری طرح صلب کیے جا رہے ہیں ، میں اپنے حق دفاع سے محروم کیا جا رہا ہوں ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ میں وکیل کی خدمات سے بھی محروم ہو گیا ہوں ، آج تک نیب کی طرف سے مختلف افراد پر ہزاروں مقدمات دائر ہیں کیا کسی ایک بھی مقدمے پر اس طرح روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو رہی ہے ، میں جس عدالت میں پیش ہو رہا ہوں اس کے پاس بھی 40دیگر مقدمات ہیں کیا چیف جسٹس کو کچھ علم ہے کہ وہ مقدمات کب درج ہوئے ، ملزمان نے کتنی پیشیاں بھگتیں، اب تک کیا کارروائی ہوئی، کیا کوئی ایک بھی مقدمہ ایسا ہے جس کی مانیٹرنگ کوئی سپریم کورٹ کا جج کر رہا ہے ، جس کے روز مرہ کے معاملات سپریم کورٹ کا کوئی بنچ نمٹاتا ہو ، کیا آج تک کسی بڑے سے بڑے جرم میں بھی کسی پاکستانی نے ایک سو سے زائد پیشیاں بھگتی ہیں ، کیا چیف جسٹس جانتے ہیں کہ آج تک کسی وکیل کے لئے یہ حکم جاری ہوا کہ وہ بغیر تیاری کا وقت لیے مشین کی طرح عدالت میں حاضری دے ، یہ اپنی نوعیت کا عجیب مقدمہ ہے جو چل تو ایک احتساب عدالت میں رہا ہے مگر جڑیں سپریم کورٹ سے ہلائی جا رہی ہیں اگر ماتحت عدالت کی کارروائی پر اس طرح اثر انداز ہوا جائے ،اس طرح وکلاءصفائی پر دباﺅ ڈالا جائے ، ان حربوں سے مجھے حق دفاع سے محروم کر دیا گیا ،ان حالات میں کس توقع کے ساتھ اپیل میں جاﺅں گا اور کس کے پاس جاﺅں گا ،آپ کو معلوم ہے کہ مانیٹرنگ جج وہ ہے جو میرے خلاف فیصلے کرنے میں شامل تھے ، فیصلہ بھی کیا ، مانیٹرنگ بھی کررہے ہیں اور اپیل بھی ان کے پاس ہی لگے گی ۔نواز شریف نے مزید کہا کہ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ریفرنسز میں تاخیر کی تمام تر ذمے داری استغاثہ پر ہے پہلی ، دوسری اور تیسری توسیع استغاثہ نے ہی مانگی میں نے نہیں ، جب بھی عدالت نے پوچھا کہ ملزمان کی طرف تعاون نہیں ہو رہا تو یہ بات ریکارڈ پر لانا پڑی کہ وکلاءصفائی کی طرف سے کوئی تاخیر نہیں ہوئی ،یعنی خواجہ حارث کی طرف سے کبھی کوئی تاخیر نہیں ہوئی ، ہمارے وکلاءنے ایک بھی پیشی کے لئے نئی تاریخ کا تقاضا نہیں کیا میں اب تک ایک سو کے لگ بھگ پیشیاں بھگت چکا ہوں مجھے اہلیہ سے ملنے کے لئے اجازت بھی نہیں دی جا رہی لیکن میں نے اور میرے وکلاءنے ہر حال میں تعاون جاری رکھا ، گزشتہ روز چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ میں تشہیر کے لئے بیوی سے ملنے اور چھٹی کی بات کرتا ہوں مجھے ان ریمارکس سے دکھ اور صدمہ پہنچا ، میں نے ان کی عدالت میں ایسی کوئی رحم کی درخواست نہیں کی مگر نہیں معلوم کہ انہوں نے اس طرح کے ریمارکس کیوں دیئے ،مجھے نہیں معلوم کہ کون سا آئین ، کون سا قانون اور کون سا ضابطہ اخلاق انہیں اس طرح کی دل آزاری کی اجازت دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ کے نام سے شروع ہونے والے کھیل کی یہ آخری قسط ظلم اور نا انصافی انتہائی افسوسناک ہے ، اب تک بہت سے راز کھل چکے ہیں اور بہت سے سوالوں کے جواب آنا باقی ہیں قوم کو پتہ لگنا چاہیے کہ فضول قرار دی گئی پٹیشن کیسے معتبر ہو گئی جے آئی ٹی کیسے بنی ، واٹس ایپ کال کس نے کی اور کس نے کروائی ،جے آئی ٹی نے کہاں کہاں اور کیا کیا گل کھلائے اور جب کرپشن کا ایک بھی پیسہ ثابت نہیں ہوا تو ایک اقامہ نکالا گیا ایک خیالی تنخواہ دریافت کی گئی اور اس الزام میں کہ میں نے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی وزیر اعظم ہاﺅس سے نکال دیا گیا ،آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں تین ریفرنسز بنانے کی مثال بھی نہیں ملتی ، پھر بات نہ بنی تو ضمنی ریفرنس لائے گئے اور میں یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ کب یہ ضمنی ریفرنسز رکیں گے کیا جب تک کچھ ایسا کر نہیں لیا جاتا اس وقت تک ایسے ریفرنسز بھی آتے رہیں گے ، کیس بھی چلتا رہے گا اور کرپشن کا تو کوئی ثبوت تو دور کی بات ہے الزام تک بھی نہیں ہے تو کس چیز کا انتظار کیا جا رہا ہے اس کیس کے فیصلے میں ، بار بار موقف بدلے گئے ،ہماری درجنوں درخواستیں رد کی گئی مگر ہم نے پوری استقامت کے ساتھ تمام زیادتیوں ، نا انصافیوں ، تمام حق تلفیوں کا سامنا کیا ، اللہ کا شکر ہے کہ استغاثہ اپنے تمام دعوﺅں میں ناکام رہا ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی دوسری عجیب و غریب باتوں کے علاوہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عدالت نے یہ طے کر لیا تھا کہ تینوں ریفرنسز کے فیصلے ایک ساتھ سنائے جائیں گے ، ہماری یہ استدعا رد کی جا چکی تھی کہ تینوں ریفرنسز ایک ساتھ سنیں جائیں کیونکہ ایک ہی الزامات کے تحت کئی کئی ریفرنسز نہیں بن سکتے لیکن بعد میں عدالت نے اپنے اس فیصلے سے بھی انحراف کر لیا کہ تینوں ریفرنسز کے فیصلے ایک ساتھ سنائے جائیں اور اب انتخابات سے عین پہلے ریفرنسز کے فیصلہ کن موڑ پر یہ صورتحا ل پیدا کر دی گئی ہے اب تو تین میں سے دو ریفرنسز کے گواہان پر جراح بھی نہیں ہوئی ،مجھے نہیں معلوم کہ کیا میرا حق دفاع اہم ہے یا الیکشن سے پہلا فیصلہ ، قانون و انصاف کے تقاضے اہم ہیں یا الیکشن سے پہلے فیصلہ ،کیا پاکستانی شہری کے بنیادی حقوق اہم ہیں یا الیکشن سے پہلے فیصلہ ،میرے وکلاءکو جبراً بغیر تیاری عدالت میں پیش ہونے اور عدالتی مرضی ، منشاءاور اوقات کی پابندی کا حکم دیا جا رہا ہے ۔انہوں نے اس حکم کی پابندی سے معذرت کر لی ہے کوئی نیا وکیل فوری طور پر یہ بوجھ اٹھانے کے لئے تیار نہیں ، اسے مقدمے کے مطالع اور تیاری کے لئے وقت چاہیے اور مجھے حق دفاع سے محروم کر کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے میں قومی تاریخ کی طرف بھی ضرور اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس ڈکٹیٹر کی کس طرح بلائیں لی جا رہی ہیں جس نے دو بار ملک کا آئین توڑا ، جو آرٹیکل 6کے تحت غداری کا مرتکب ہوا ،جس نے ساٹھ ججز کو اہل خانہ سمیت قید کر دیا جس نے آئین پاکستان میں من مانی ترامیم کیں جس نے پاکستان کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکا ، لیکن میں آخر میں یہی کہوں گا کہ اگر 25جولائی کے انتخابات سے قبل میرے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا ضروری یا مجبوری ہے تو پھر فیصلہ کر دیجیے ، اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ قانون و انصاف ، آئینی تقاضوں ، بنیادی انسانی حقوق اور عدالتی روایات کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے ۔
Monthly Archives: June 2018
منہ کھولا تو شریف منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ، عورت راج کے مخالف نواز نے پارٹی پر بیٹی مسلط کر دی ، چوہدری نثار ن لیگی قیادت پر برس پڑے
راولپنڈی (آئی این پی) سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے ٹکٹ سیاسی یتیموں کو دے دیے ہیں۔ تحریک انصاف میں 10 اور ن لیگ میں 100 سے بھی زائد خامیاں ہیں، عورت راج کے مخالف نوازشریف نے آج اپنی بیٹی پارٹی پر مسلط کر دی ہے، میں نے اگر منہ کھولا تو شریف کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے مگر مجھے 34 سالہ رفاقت کا خیال آجاتا ہے، پی ٹی آئی میں شمولیت کا فیصلہ وقت آنے پر کروں گا۔ پیر کو اڈیالہ روڈ پر کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ عورت راج کے مخالف نوازشریف نے آج اپنی بیٹی پارٹی پر مسلط کر دی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے ٹکٹ سیاسی یتیموں کو دیے ہیں، اگر پی ٹی آئی میں دس خامیاں ہیں تو مسلم لیگ (ن) میں 100 سے زائد خامیاں ہیں۔ میں نے اگر منہ کھولا تو شریف کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے مگر مجھے 34 سالہ رفاقت کا خیال آجاتا ہے، میں آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لوں گا اور اس کے لئے زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی میں شمولیت کے سوال پر چوہدری نثار نے کہا کہ فیصلہ وقت آنے پر کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ٹکٹ سیاسی یتیموں کو دے دیے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر نے اپنی جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف میں 10 اور ن لیگ میں 100 سے بھی زائد خامیاں ہیں۔ انہوں نے کہا وہ بہت کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن انہیں 34 سال کی رفاقت کا خیال آجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد الیکشن لڑوں گا اس لیے اب زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔
محمد عباس کاﺅنٹی سیزن میں لیسسٹرشائرکی نمائندگی کےلئے تیار
لیڈز(آئی این پی)محمد عباس لیسٹر شائر کانٹی کی نمائندگی کے لیے انگلینڈ میں رکیں گے اوراس سال وہ پہلی بار کانٹی چیمپئن شپ کھیلیں گے۔محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں 64 رنز دے کر8 وکٹ حاصل کئے تھے۔عباس نے 8 ٹیسٹ میچوں میں42وکٹ لے کر سب کو حیران کردیا ہے۔محمد عباس نے ایک انٹر ویو میں کہا کہ مجھے یہ مقام مشکل سے ملاہے۔میں چمڑے کی فیکٹری میں ملازمت کرتا رہا اورایک ویلڈنگ کی دکان پر بھی کام کیا۔سیالکوٹ کے ایک وکیل کے پاس بھی چھوٹی سی ملازمت کی لیکن کرکٹ کھیلنے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔مجھے میری مسلسل محنت کا صلہ ملا لیکن میں ایک پراسس سے گذر کر پاکستانی ٹیم میں آیا ہوں اس مقام کو حاصل کرنے کے لئے انتھک محنت کی ہے۔
عمران خان کو ریٹرننگ افسر نہیں عدالتیں نا اہل کر سکتی ہیں ، افتخار چوہدری کا موقف غلط ہے ، ایم کیو ایم کا ریفرنس بھی مسترد ہوا ، سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کی چینل ۵ سے خصوصی گفتگو
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ عمران خان کی بیٹی کے معاملے پر 2006ءمیں ایم کیو ایم نے ریفرنس دائر کیا جو سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین کی وساطت سے الیکشن کمیشن کو ملا۔ ایم کیو ایم کی جانب سے دائر فل ڈاکومنٹری رپورٹ پر 15 دن تک بحث ہوتی رہی۔ اور 15 دن بعد چیئرمین الیکشن کمیشن قاضی فاروق نے تمام حالات کو دیکھتے ہوئے اسے ماضی کا قصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ 2002ءمیں بھی انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا اس وقت ریٹرننگ آفیسرز کے ہاں اعتراض کیوں نہیں کیا لہٰذا ٹیکنیکل وجوہات کی بنیاد پر کیس خارج کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ اگر ریفرنس خارج ہو جائے تو وہ دوبارہ نہیں آتا۔ افتخار محمد چودھری اس وقت کیس لے کر سپیکر قومی اسمبلی کے پاس نہیں جا سکتے مگر اپنے دعوے کے مطابق ریٹرننگ افسران کے پاس جائیں گے تو یہ کیس ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ یہ کیس عدالتوں میں جائے گا۔ نجی ٹی وی پروگرام میں انہوں نے مزید کہا کہ سابق صدر پرویز کے انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی کے حوالے سے سپریم کورٹ کی طرف سے بہت اہم ففیصلہ آیا جب سسپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اسحاق ڈار کو انتخاب لڑنے کی اجازت دی۔ کہ ابھی انہیں سزا نہیں ہوئی۔ اسحاق ڈار کاغذات نامزدگی کی منظوری کے بعد ایسے حالات میں سنیٹر بھی بن گئے تو مشرف صاحب کے کاغذات نامزدگی بھی ریٹرننگ افسران کی صوابدید پر ہے کہ وہ انہیں منظور بھی کر سکتے ہیں اور مسترد بھی۔ آئندہ انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنا ویب سائٹ کا نظام بہت بہتر کیا ہے۔ انتخابات کا نتیجہ واٹس ایب کے ذریعے پولنگ سٹیشن سے فوراً الیکشن کمیشن آف پاکستان اور ریٹرننگ افسران کو پہنچ جائے گا۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ افتخار محمد چودھری کو سیتا وائٹ کیس کے حوالے سے عمران خان کے خلاف بات نہیں کرنی چاہئے۔ ایسی باتیں ذاتی مفادات، انتقام اور ذاتی انا کے زمرے میں آتی ہیں۔ چینل ۵ سے ٹیلی فونک گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ریٹرننگ افسران ایسے معاملات سننے کے مجاز ہی نہیں ہیں ان کے پاس اختیار ہی نہیں ہے کہ 20 سال پرانا کیس لڑیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ایلیکشن ہوتے رہے ہیں۔ 2002ءکے اور 2013ءمیں اس مسئلے کو کیوں نہیںپیش کیا۔ اس وقت اٹارنی افسران اور عدالتوں کے سامنے کیوں نہیں لائے اور اب 2018ءکے الیکشن میں یہ کیس لایا جا رہا ہے۔ ایسا کیس بدنیتی کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ ان کے وکلاءسوائے ٹی وی پر بیانات دینے کے علاوہ کوئی عملی کام نہیں کرتے۔ انہیں کیس سامنے آنے پر کہنا چاہئے کہ یہ بدنیتی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے سرکاری طور پر کیس آیا۔ اس وقت میں الیکشن کمشنر جسٹس قاضی فاروق صاحب نے بدنیتی کی بنا پر اس کیس کو خارج کر دیا۔ اب افتخار چودھری کیا کیس لا رہے ہیں کہ نہ اس خاتون کو سامنے لا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فل بنچ، سسپریم ہائی کورٹ کے سٹنگ جج اور چیف الیکشن کمشنر نے 2006ءمیں اس کیس کو خارج کیا۔ اب 2018ءمیں یہ کیس بنتا ہی نہیں ہے۔ عمران خان کی کوتاہیاں ہو سکتی ہیں۔ مگر سیتا وائٹ کیس الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ ریٹرننگ افسران کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے یہ معاملہ الیکشن ٹربیونل کے دائرہ کار میں نہیں۔
سکاٹش ٹیم کو آسان سمجھنا سنگین غلطی ہو گی:رمیز
کراچی (یو این پی)سابق قومی کپتان رمیز راجہ نے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ کوآسان سمجھنے کی بھاری قیمت اداکرناپڑسکتی ہے۔میزبان سائیڈنے جس طرح گزشتہ روزانگلش ٹیم کو تگنی کاناچ نچایاوہ واقعی تعریف کے لائق ہے۔مختصر فارمیٹ میں ٹیموں میں زیادہ فرق نہیں ہوتا۔قومی ٹیم کوذمہ دارانہ کھیل کامظاہرہ کرناہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لارڈز ٹیسٹ میچ جیتنے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کے پاس بہترین موقع تھا کہ وہ نئی تاریخ رقم کرتی لیکن سیریز ڈرا کرنے پر ہی اکتفا کرلیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان کرکٹرز کو سمجھنا ہو گا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے حساب سے نہیں کھیلنا چاہئے بلکہ اگر وہ جیتنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں بھرپور جنگ لڑنا ہو گی۔ رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نوجوان ٹیم ہے جو سیکھنے کے مرحلے سے گزر رہی ہے لیکن اسے یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ کسی بھی ٹیم کیخلاف آسانی سے ہتھیار نہیں ڈالے جاتے بلکہ لڑ کر ہارا جائے تو برا نہیں لگتا۔رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ ابتداء ہی میں پلیئرز کو یہ اہم بات سیکھنا چاہئے کہ مقابلہ جم کر ہوتا ہے ورنہ انہیں آئندہ بھی آسانی سے ہار ماننے کی عادت پڑ جائے گی۔سابق قومی کپتان کا کہنا تھا کہ نوجوان کرکٹرز کو سمجھنا ہو گا کہ یہ ٹیسٹ کرکٹ ہے جس میں سیشن بائی سیشن کے اعتبار سے میچ کو اپنے حق میں کیا جاتا ہے جبکہ انہیں ملک اور قوم کے علاوہ خود اپنے وقار کیلئے بھی وہ کام کرنا ہوگا جو کہ ابھی تک پاکستانی سسٹم میں موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کو سمجھنا ہو گا کہ پاکستان قوم کرکٹ کے کھیل سے پیار کرتی ہے لہٰذا وہ خود سے وعدہ کریں کہ آئندہ ایسی غلطیاں نہیں دہرائیں گے اور اس طرح کی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کبھی مستقبل میں نہیں کریں گے۔
پاکستان میں کرکٹرزکی زیادہ قدرنہیں: طاہر شاہ ، ٹیم مینجمنٹ اور چند دوسری وجوہات نے احمدشہزاداورعمراکمل کوضائع کردیا : سابق کرکٹر ، سکاٹش ٹیم آسان نہیں ، میچ جیتنے کےلئے ٹیم کوسخت محنت درکار : وسیم خان کی چینل ۵ کے پروگرام ” گگلی“ میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ نے کہا ہے کہ احمد شہزاد اور عمر اکمل بہترین کھلاڑی تھے چینل ۵ کے پروگرام گگلی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیم منیجمنٹ کی شخصتیوں اور چند دوسری وجوہات نے ان کے ٹیلنٹ کو ضائع کردیا۔ پاکستان میں کھلاڑیوں کی قدر نہیں کی جاتی۔ بہر حال ٹی ٹونٹی کی ٹیم میں اچھے کھلاڑی موجود ہیں اسکاٹ لینڈ نے انگلینڈ کو شکست دے کر بتایا ہے کہ پاکستان کو مشکل ٹاسک کا سامنا ہوگا۔ ٹی 20اتنی آسان نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے میچ ون ڈے ہو یا ٹی 20دونوں ہی دماغ کے کھیل ہیں پاکستان کو مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔ سابق فرسٹ کلاس کرکٹر وسیم خان نے کہا ہے کہ آئرلینڈ اور سکاٹ لینڈ کی ٹیمز کو ٹی 20کا اچھا تجربہ حاصل ہے اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اسکاٹ لینڈ کو ہلکا نہیں لینا چاہیے ٹی 20کے لحاظ سے پاکستان کی یٹنگ اور باﺅلنگ اچھی ہے سرفراز کی کپتانی سے مایوسی نہیں ہوگی۔ اسکاٹ لینڈ اور پاکستان دونوں ٹی 20میں ماہر ہیں دونوں کے مابین دلچسپ مقابلہ ہوگا۔ پاکستانی باﺅلنگ کو ابتدا میں ہی اسکاٹ لینڈ کو قابو کرلینا چاہیے۔
پاک سکاٹ لینڈ پہلا ٹی 20معرکہ آج
ایڈنبرا(نیوزایجنسیاں)پاکستان اور سکاٹ لینڈ کے درمیان دو ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کا پہلامیچ (آج)منگل کوایڈنبرا میں کھیلا جائے گا، پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ کے خلاف کھیلنے کا تجربہ نہیں نئے کھلاڑی ہیں اور ہوم گراونڈ پر سب کو فائدہ حاصل ہوتا ہے اس لئے کوئی بھی غلطی نہیں کی جاسکتی ، پوری ٹیم فوکسڈ ہوکر کھیلے گی۔پاکستان اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان پہلا ٹی ٹونٹی پاکستانی وقت کے مطابق رات 8بجے شروع ہوگا۔سکاٹش ٹیم نے گزشتہ روز انگلینڈ کو 6رنز سے ہرا کر پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، گرین شرٹس کی تیاریاں عروج پر ہیں، بیٹنگ، بولنگ سمیت تمام شعبوں میں خوب ٹریننگ جاری ہے۔پاکستان اور سکاٹ لینڈ کی کرکٹ ٹیمیں11 سال بعد ٹی 20 انٹرنیشنل میں مدمقابل ہوں گی۔ دونوں ٹیموں کے مابین اب تک واحد میچ 2007 ٹی 20 ورلڈ کپ میں کھیلا گیا جس میں گرین شرٹس نے 51 رنز سے فتح حاصل کی۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور سکاٹ لینڈ کے درمیان ٹی ٹونٹی سیریز کا (آج)منگل سے آغاز ہو رہا ہے۔ سکاٹش ٹیم نے سیریز سے قبل سرفراز الیون کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ گزشتہ روز انگلینڈ کے خلاف ون ڈے میچ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 371رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا۔ انگلش پلیئرز نے مزاحمت تو اچھی دکھائی لیکن مطلوبہ ہدف کا تعاقب نہ کر سکے، سکاٹ لینڈ نے 6رنز سے فتح سمیٹ کر بڑا اپ سیٹ کیا۔ اسکاٹ لینڈ کے خلاف دو ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز سے قبل شاہینوں نے ایڈنبرا میں خوب پریکٹس کی۔ قومی بلے بازوں نے بیٹنگ کی خامیوں کو دور کیا جبکہ عثمان شنواری، شاداب خان اور حسن علی نے بالنگ میں خوب پسینا بہایا۔ فہیم اشرف کا کہنا تھا کہ پریکٹس سے بہت فائدہ ہورہا ہے اور وہ اپنی بالنگ سے مطمئن ہیں۔شیڈول کے مطابق پاکستان اور سکاٹ لینڈ کی ٹیموں کے درمیان دوسرا اور آخری ٹی 20کرکٹ میچ 13 جون کو کھلا جائیگا۔ٹی 20سیریز کے دونوں میچز ایڈن برگ کے مقام پر کھیلے جائینگے۔ اس سے قبل پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیموں کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر ہوگئی ۔ پاکستان ٹیم نے پہلے میچ میں انگلینڈ کی ٹیم کو شکست دی تاہم دوسرے میچ میں میزبان ٹیم نے پاکستان کو ایک اننگز اور 55 رنز سے شکست دیکر سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔
سابق ایس ایچ او رائیونڈ کا جوئے کے اڈے پر چھاپہ ، دوسرے دن معطل
لاہور (نادر چوہدری سے) سیاسی اور قانونی سرد جنگ میں جرائم پیشہ کی چاندی، سابق ایس ایچ او رائیونڈ کی جانب سے جوئے کے اڈے پر چھاپہ، ایوان صدر اسلام آباد سیکرٹریٹ کے لیٹر پیڈ پر ایس ایچ او اکمل خالد معطل، اگلے ہی روڈ اسی ڈویژن کے دوسرے تھانے مصطفی ٹاﺅن میں بطور ایس ایچ او دوبارہ تعینات۔ ذرائع کے مطابق محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت اور جرائم پیشہ عناصر کی سیاسی شخصیات کے ساتھ بہتر روابط کی وجہ سے بیشتر بار پولیس کو کاروائی کرنے میں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی واضح مثال چند ہفتے قبل تھانہ رائیونڈ میں تعینات سابقہ ایس ایچ او سب انسپکٹر اکمل خالد ہیں جنہوں نے گھر کے اندر جوئے کی خفیہ اطلاع پر بابلیانہ گاﺅں رائے ونڈ میںاصغر علی ، کاشف ،TASIحیدر علی اور اہلکاروں کے ہمراہ چھاپہ مارا جہاں سے انھوں نے تین ملزمان گھر کے مالک وارث علی، ملک مختار، نوید یونس اور ایک نامعلوم کوجواءکھیلتے ہوئے موقع سے گرفتار کرلیا جبکہ دوران ریڈ ٹیلی فون سیٹ، کمپیوٹراور دیگر سامان بھی برآمد کرلیا گیا تاہم ملزم پارٹی کی جانب سے متعدد بار پیسوں کی آفر کرنے کے باوجود پولیس کی جانب سے ملزمان کو نہ چھوڑنے کی پاداش میں ملزمان نے اپنے سیاسی روابط اور اثر و سوخ استعمال کرتے ہوئے موقع سے گرفتار ہونے والے ایک شخص نوید یونس نے ایوان صدر میں درخواست دائر کر دی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ میں 5مئی 2018کو اپنے عزیز وارث علی کو ملنے کے لئے بابلیانہ گاﺅں رائے ونڈ گیا تھا جہاں ملک مختار بھی موجود تھا۔ اسی دوران وہاں تقریباً ساڑھے 4 بجے صبح وارث علی کے مکان کو پولیس کی بھاری نفری نے چاروں طرف سے گھیر لیا جو کہ مسلح تھے۔ اکمل خالد، اصغر علی، کاشف ، TASI حیدر علی اور پانچ چھ کے قریب پولیس اہلکار وارث علی کے گھر میں داخل ہوگئے اور ہمارے سمیت گھر میں موجود خواتین سے بدتمیزی کی۔ نوید یونس نے درخواست میں مزید بتایا کہ میں، جو گھر کا مالک تھا وارث اور ملک مختار نے جب پولیس سے گھر میں گھسنے کی وجہ دریافت کی تو ایس ایچ او اکمل خالد نے ہم سے کہا کہ یہاں جواءہوتا ہے جس وجہ سے چھاپہ مارا گیا ہے جبکہ TASIحیدر علی نے خواتین کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور فحش گالیاں بھی دیں اور گھر سے ٹیلی فون سیٹ، کمپیوٹر وغیرہ زبر دستی اُٹھا کر گاڑی میں رکھ لیا اور ہمیں بھی زبر دستی گاڑی میں بیٹھا کر تھانہ رائے ونڈ سٹی لے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جوئے کے اڈے کو حاصل پشت پناہی کی بناءپر 5 ہی روز کے اندر 10 مئی کو ایوان صدر اسلام آباد سے سی سی پی او لاہور کے نام 1765/2018نمبری ایک لیٹر جاری کروا لیا جس میں سی سی پی او لاہور کو سابقہ ایس ایچ او رائیونڈ اکمل خالد کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس پر 18مئی کو اکمل خالد کو تھانہ رائیونڈ سے معطل کر کے پولیس لائن بھیجوا دیا گیا جس سے ایک طرف تو سیاسی شخصیات کو خوش کر دیا گیا جبکہ دوسری جانب بااثر سب انسپکٹر اکمل خالد نے بھی پولیس لائنز میں کچھ زیادہ وقت نہیں گزارا اور اگلے ہی روز ان کو صدر ڈویژن کے ہی تھانہ مصطفی ٹاﺅن کا ایس ایچ او لگا دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسی ایس ایچ او کے خلاف کوئی ایسی شکایت موصول ہوتی ہے کہ جس کی روشنی میں اسے معطل کرنا پڑے تو اسکی دوبارہ تعیناتی سے قبل اسکی پہلی غلطی کی محکمانہ انکوائری کی جاتی ہے جس میں اگر وہ غلط ثابت ہو تو دور دور تک اسکی تعیناتی کے آثار نہیں ہوتے لیکن اگر وہ اس الزام میں بے قصور ہو تو اسے واپس اسکے عہدے پر باعزت طریقے سے بحال کر دیا جانا چاہئیے لیکن لاہور پولیس کے اعلی ترین افسران بھی سیاسی شخصیات کو خوش کرنے میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے انھیں ان کی ایماءپر ایس ایچ او کو معطل کرنا پڑتا ہے جبکہ ایس ایچ او کی “تگڑی” سفارش کی وجہ سے اسے بھی اگلے ہی روز کسی نہ کسی تھانے میں تعینات کرنا پڑتا ہے جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔
مرجان کیس ، اختر عالم قریشی صلح کیلئے مدعی کے پیر سے دباﺅ ڈلوانے لگے
ملتان (سپیشل رپورٹر) عدالت میں ضمانت کی کوششوں میں ناکامی کے بعد ویڈیو سکینڈل کے مرکزی ملزم علی رضا قریشی کے والد اختر عالم قریشی نے مرجان کے والد امین جوئیہ کے قاسم پور کالونی کے رہائشی پیر منظور حسین رضوی کو رام کرلیا، پیر منظور نے اپنی تمام تر پھونکوں کا رخ مرجان کے والد کی طرف کرتے ہوئے ان پر سخت دباﺅ ڈال رکھا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو صلح پر مجبور کریں مگر مرجان نے صلح سے انکار کردیا جس پر پیر منظور شاہ نے دوسرا حربہ استعمال کیا کہ میرا حساب کہتا ہے کہ اس کیس کی وجہ سے آپ کی فیملی کو نقصان ہوسکتا ہے اس لیے آپ کو شہر چھوڑنا ہوگا۔ بتایا گیا ہے کہ امین جوئیہ کسی حد تک صلح پر آمادہ ہیں مگر مرجان کسی بھی طور پر صلح کے لئے تیار نہیں اور وہ ہر فورم پر لڑنے کیلئے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ سیشن جج سے درخواست ضمانت خارج ہونے کے بعد کیس کے مرکزی ملزم علی رضا قریشی کی درخواست ضمانت ہائی کورٹ میں دائر تھی جس کی گزشتہ روز پیشی تھی جس میں عدالت کی جانب سے آئندہ پیشی کیلئے 3 جولائی تاریخ رکھی گئی ہے دوسری جانب مرجان کیس میں پراسیکیوٹر کو تبدیل کرکے کیس کی پیروی سینئر پراسیکیوٹر کے سپرد کردی گئی، جنہوں نے عدالت میں یہ بیان دیا کہ ملزم کے موبائل سے ویڈیو ریکور کرلی گئی ہے جبکہ ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری کی رپورٹ کا انتظار ہے جس کی وجہ سے آئندہ تاریخ 3/7 مقرر کی گئی ہے۔ ادھر ہائی کورٹ پیشی کے بعد وومن کرائسس سنٹر کی ایس ایچ او مریم نے زیادتی کا شکار ہونے والی طالبہ مرجان اور ان کے والد کو کیمپس میں تحقیقات کے حوالے سے وومن کرائسس سنٹر طلب کیا ہے۔
مرجان کیس
ناجائز تعلقات کا الزام ماموں کے ہاتھوں بھانجی قتل
گجرات (بیورورپورٹ )15سالہدوشیزہ کوغیرت کے نام پر ماموںنے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ، تفصیلات کے مطابق تھانہ گنجاہ کے علاقہ گنجاہ مےں ناصر ساتھیوں کے ہمراہ فائرنگ کر کے غیرت کے نام پر اپنی 15سالہ بھانجی بسمل فضیلت کو قتل کر دےا ہے ۔تھانہ گنجاہ پولیس نے مقتولہ کی نانی منور سلطانہ، ماموں ناصر، عائشہ شہزاد ی اور دو نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لےا ہے ۔ ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ بسمل فضیلت کے والدین نے 15سال قبل ایک دوسرے سے طلاق لیکر اپنی اپنی شادی کرلی تھی اور مقتولہ بسمل فضیلت اپنی نانی منور سلطانہ اور ماموں ناصر کے پاس رہائش پذیر تھی اس دوران مقتولہ نے اقبال عرف راجا نامی لڑکے سے ناجائز تعلقات استوار کرلیے جس پر ملزمان نے غیرت کے نام پر فائرنگ کرکے اسے قتل کر دیا ہے پولیس تحقیقات کررہی ہے ۔
ملکی مفاد کےلئے سکواش کھیلنا چاہتا ہوں، عامر اطلس
اسلام آباد (اے پی پی) سکواش کے سابق ایشین چیمپئن عامر اطلس نے پاکستان سکواش فیڈریشن کے صدر ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان سے اپیل کہ ہے کہ وہ ملکی مفاد کےلئے سکواش کھیلنا چاہتا ہے اور ایشین گیمز کےلئے ٹرائلز کے ذریعے قومی ٹیم میں شامل کیا جائے، گذشتہ روز اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ سکواش ایسوسی ایشن کے زیراہتمام آئندہ ماہ 6 جولائی سے 11 جولائی تک کراچی میں کھیلے جانے والی جوبلی انشورنس پاکستان سرکٹ تھری ٹورنامنٹ کھیلنے کی بھی خواہش کی تھی کہ ٹورنامنٹ میں شرکت کےلئے مجھے وائلڈ کارڈ یا لوکل کوالیفائنگ راﺅنڈ کے ذریعے کھیلنے کی اجازت دی جائے لیکن ابھی تک نہ ہی مجھے وائلڈ کارڈ اور نہ ہی کوالیفائنگ راﺅنڈ میں رکھا جا رہا ہے اس ٹورنامنٹ کے لئے دس ہزار ڈالر کی انعامی رقم رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ٹورنامنٹ کھیلنے کا موقع دیا گیا تو میں قوم کو مایوس نہیں کروں گا۔ انہوں نے پاکستان سکواش فیڈریشن کے صدر ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان سے اپیل کی ہے کہ میں تین ماہ سے پریکٹس کر رہوں اور مجھے ڈائرکٹ نہیں بلکہ ٹرائلز کے ذریعے قومی ٹیم میں شامل کیا جائے اور لوکل ٹورنامنٹس بھی کھیلنے کی اجازت دی جائے۔ ایک سوال کے جواب میں عامر اطلس نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مجھے پاکستان سکواش فیڈریشن نے موقع دیا تو میں نے گولڈ میڈلز حاصل کئے اور مایوس نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ہرسطح پر ٹرائلز دینے کےلئے تیار ہوں۔ پاکستان سکواش فیڈریشن کو مجھ سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور میرے کھیلنے سے ملک و قوم کو فائدہ ہوگا۔
شوہر اور دیور کے ہاتھوں جھلسنے والی خاتون ہسپتال میں دم توڑ گئی
لاہور (خصوصی ر پو رٹر )نشتر کالونی کے علاقہ میں شوہر اور دےو ر کے ہا تھوں جھلس کر زخمی ہو نے والی خاتون زخموں کی تا ب نہ لا تے ہو ئے گزشتہ روز ہسپتا ل میں د م تو ڑ گئی۔ پو لیس نے لا ش کو مردہ خا نہ میںمنتقل کرتے ہو ئے ملزما ن کی گرفتا ری کےلئے چھا پے ما ر نے شروع کرد ئےے ہیں ۔ بتا ےا گےا ہے کہ نشتر کالونی کے رہائشی 5بچوں کے باپ جاوید نے جوکہ نشی تھا اوراپنے نشے کی طلب پوری نہ کرنے پر غصہ میں آکر اپنی بیوی شکیلہ بی بی کو بھا ئی کے ساتھ مل کر دوروز قبل تیل چھڑک کر آگ لگا دی جس پر محلہ داروں نے موقع پر پہنچ کرجسم پر لگی ہوئی آگ کو بجھا کر فوری تشویشناک حالت میں طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتا ل منتقل کردیاجہا ں و ہ دوروز زند گی مو ت کی کشمکش میں ر ہنے کے بعد گزشتہ روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی ۔اس واقع کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر جھلس کر مرنے والی خاتون کی لاش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوادیا ۔ پولیس نے مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں شوہر سمیت 3افراد پر مقدمہ درج کرلیاتاحال ملزم روپوش ہیں۔
لیلتہ القدر عقیدت واحترام سے منائی گئی ، توبہ استغفار ، خصوصی دعائیں
لاہور (وقائع نگار) ملک بھر میں بھی لیلة القدر نہایت عقیدت واحترام کے ساتھ منائی گئی۔ فرزندان اسلام نے رات بھر تلاوت قرآن مجید، نوافل اور ذکر واذکار میں گزاری اور سحری تک عبادت وریاضت کرتے رہے۔ شہر بھر کی مساجد کو برقی قمقوں سے سجایا گیا تھا۔ کراچی کی مساجد میں خصوصی انتظامات کئے گئے۔ مساجد میں نماز تراویح میں ختم قرآن کے اجتماعات ہوئے۔ علماءکرام نے اس موقع پر اپنے خصوصی خطابات میں شب قدر کے فضائل بیان کئے۔ ملک کی سلامتی واستحکام، امت مسلمہ کی سربلندی اور ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ 27 ویں شب کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کے حضور خصوصی دعائیں کی گئیں۔ علماءنے شب قدر کے فضائل بیان کئے۔ محافل شبینہ وجشن نزول قرآن، صلوة التسبیح اور اللہ تعالیٰ کے حضور گناہوں سے توبہ، جنت کی طلب، رزق کی کشادگی، عالم اسلام اور پاکستان کی سلامتی کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شہر بھر کی مساجد میں علمائ، آئمہ اور خطباءنے مسلم امہ کی ترقی، خوشحالی ملک وقوم خصوصاً شہر کراچی کے امن وسلامتی اور استحکام کے لئے خصوصی اجتماعی دعائیں کیں۔ علماءکرام نے کہا کہ رمضان المبارک گناہوں سے توبہ اور ہماری مغفرت کے لئے ایک علماءکرام نے شب قدر کے فضائل بیان کرتے ہوےءکہا کہ اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ عزت و کرامت والی رات، رحمتوں اور برکتوں والی رات، بخششوں اور مغفرت والی رات، ایک ہی شب میں ہزار مہینوں کی عبادت کا اجر دینے والی رات ہے۔ اس رات کا اجر اور فضیلتیں تو کائنات کا رب ہی بہتر جانتا ہے مگر احادیث اور روایات سے ثابت ہے کہ اس رات جبرئیل امین کی قیادت میں فرشتوں کا قافلہ زمین پر اترتا ہے اور عبادت کرنے والوں کی مغفرت کیلئے طلوعِ آفتاب تک دعا کرتا ہے۔ علما کے مطابق نزولِ قرآن کا سلسلہ بھی اسی مبارک شب سے شروع ہوا، ایک ایسا ضابطہ حیات جو رہتی دنیا تک انسانوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔


















