اسلام آباد(آئی این پی ) الیکشن سے قبل بیوروکریسی میں اعلیٰ سطح پر تقرر و تبادلوں میں چاروں صوبوں کے آئی جیز اور چیف سیکریٹریز کو تبدیل کردیا گیا، امجد سلیمی کو سند ھ ، کلیم امام کو پنجاب،محمد طاہر کو خیبرپختونخوا اور محسن بٹ کو آئی جی بلوچستان تعینات کر دیا گیا،پنجاب میں ایڈیشنل ہوم سیکریٹری اعظم سلمان کو چیف سیکریٹری سندھ اور وفاقی سیکریٹری اکبرد رانی پنجاب کا چیف سیکریٹری لگایا گیا ۔ بیورو کریسی میں اعلی سطح پر تقرر و تبادلوں کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق انسپکٹر جنرل (آئی جی)پولیس سندھ اے ڈی خواجہ کی جگہ امجد سلیمی کو نیا آئی جی لگانے کی منظوری دی گئی ہے، امجد سلیمی اس وقت موٹروے پولیس سربراہ کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں، کہ پنجاب میں عارف نواز کی جگہ کلیم امام کو آئی جی تعینات کیا گیا ہے۔خیبرپختونخوا میں صلاح الدین محسود کا تبادلہ کرکے محمد طاہر کو نیا آئی جی خیبرپختونخوا تعینات کیا گیا ہے جب کہ آئی جی بلوچستان معظم جاہ انصاری کی جگہ محسن بٹ کو پولیس سربراہ لگایا گیا ہے۔اس کے علاوہ جودت ایاز کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا چیف کمشنر تعینات کیا گیا اور جان محمد کو آئی جی اسلام آباد لگایا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب میں ایڈیشنل ہوم سیکریٹری کی ذمہ داریاں انجام دینے والے اعظم سلمان چیف سیکریٹری سندھ تعینات کیے گئے ہیں اور وفاقی سیکریٹری اکبرد رانی پنجاب کا چیف سیکریٹری لگایا گیا ہے۔نوید کامران بلوچ چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا ہوں گے جب کہ ڈاکٹر اختر نذیر کو بلوچستان کا چیف سیکریٹری تعینات کیا گیا ہے۔ بیورو کریسی میں اعلی سطح پر تقررو تبادلوں کا فیصلہ نگران وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کے درمیان آج ہونے والی ملاقات میں کیا گیا جب کابینہ نے ان تبادلوں اور تقرریوں کی منظوری بھی دے دی ہے۔
Monthly Archives: June 2018
سپینش ہیڈکوچ لوپ ٹیگوئی کی اچانک چھٹی ہوگئی
میڈرڈ (اے پی پی) سپین فٹ بال فیڈریشن نے ورلڈ کپ سے ایک روز قبل ٹیم کوچ جولین لوپ ٹیگوئی کو عہدے سے فارغ کر دیا، اسپینش فیڈریشن نے جولین لوپ کے ریال میڈرڈ کلب کے ساتھ بطور کوچ معاہدہ کرنے کے بعد اس بات کا اعلان کیا۔ ورلڈ کپ کا آغاز (آج) جمعرات سے ہو رہا ہے، سابق عالمی چیمپئن اسپینش ٹیم 15 جون کو پرتگال کے خلاف میچ سے مہم کا آغاز کرے گی۔ اسپینش فٹ بال فیڈریشن کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق جولین لوپ نے ہمیں آگاہ کئے بغیر ریال میڈرڈ سے معاہدہ کیا جس کی وجہ سے فیڈریشن نے انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ اسپینش فٹ بال فیڈریشن کے صدر لوئس روبائلز نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اس وقت یہ مشکل فیصلہ ہے، میں جانتا ہوں کہ مجھے تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑے گا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس سے ہماری ٹیم مزید مضبوط ہو گی۔ سپین نے 2016ءمیں جولین کو ٹیم کا کوچ مقرر کیا تھا، ان کی زیر کوچنگ اسپینش ٹیم نے 20 میں سے 14 فتوحات حاصل کیں۔
عمران خان اور انکی اہلیہ عمرہ کی سعادت حاصل کرکے وطن واپس پہنچ گئے
مکہ مکرمہ (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنی اہلیہ کے ہمراہ روز قبل چارٹر طیارے کے ذریعے سعودی عرب پہنچے انہوںنے روضہ رسول پر حاضری دی اور ملک کےلئے دعاکی بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ہمراہ عمرہ ادا کیا ہے۔عمران خان نے سعودی شاہی مہمان خانے قصر الصفا میں قیام کیا۔
نواز شریف اور مریم کی آج لندن روانگی ، عید کے بعد واپس آئینگے
لاہور(اے این این ) سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز(آج) جمعرات کولندن روانہ ہوں گے جہاں وہ اہلیہ کلثوم نواز کی عیادت کریں گے اور اہل خانہ کے ہمراہ عید منائیں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز(آج) لندن روانہ ہوں گے جہاں وہ اہلیہ کلثوم نواز کی عیادت کریں گے اور اہل خانہ کے ہمراہ عید منائیں گے، اس کے علاوہ سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز شریف اور ان کی اہلیہ زینب سلمان بھی (آج) لندن کے لیے روانہ ہوں گے۔ سلمان شہباز اپنے اہلخانہ کے ساتھ پی کے 757 سے صبح 11 بجے لندن جائیں گے۔مریم نواز نے لندن روانگی کی تصدیق کی ہے ۔مریم نواز کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے سلسلے میں لاہور کے ایوان عدل میں ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہوئیں جہاں انہوں نے ریٹرننگ افسر کو بتایا کہ کل صبح 9 بجے میری فلائٹ ہے اس لیے آپ کے پاس نہیں آسکوں گی۔مریم نواز کے موقف پر ریٹرننگ افسر نے کہا کہ کل آپ نہ آئیں، اپنے وکیل کو بھیج دیں۔ریٹرننگ افسر نے ےمریم نواز کو این اے 127 کے کاغذات کی جانچ پڑتال سے استثنی دےدیا،مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ لندن جا رہے ہیں ،عید امی کے ساتھ منائیں گے ،عید کی چھٹیوں کے بعد واپس آ ئیں گے۔واضح رہے کہ نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز گزشتہ کئی ماہ سے لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کا گلے کے کینسر کا علاج جاری ہے، اس سے قبل بھی نواز شریف اہلیہ کی تیمارداری کے لیے لندن جاچکے ہیں۔دوسری جانب نیب نے نواز شریف سمیت ان کے بیٹوں، بیٹی اور داماد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے لیے وزارت داخلہ سے درخواست کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پانچوں افراد کے خلاف جاری ایون فیلڈ ریفرنس کا ٹرائل آخری مرحلے میں ہے، ملزمان فیصلے کے نتائج سے بچنے کے لیے بیرون ملک فرار ہوسکتے ہیں اس لیے ان کے نام ای سی ایل میں شامل کیے جائیں۔واضح رہے کہ نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نواز کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اور کئی ماہ سے لندن میں زیر علاج ہیں جب کہ نیب ریفرنسز کی احتساب عدالت میں سماعت کے باعث نوازشریف اور مریم نواز لندن نہیں جاسکے ہیں۔گزشتہ روز سپریم کورٹ نے نوازشریف کو لندن جانے کی اجازت دی تھی اور شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کا فیصلہ ایک مہینے میں سنانے کا حکم دیاہے۔اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا تھا کہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو پاکستان سے بیرون ملک جانے سے نہیں روکا، دونوں سیاسی رہنماﺅں نے آج تک بیرون ملک جانے کی اجازت لینے کیلئے باضابطہ طور پر عدالت سے رجوع ہی نہیں کیا ، ہم نے کبھی کسی کو اپنے رشتہ داروں کی عیادت سے نہیں روکا اور نہ روکیں گے۔
کویت، چست لباس پہننے پر ٹی وی میزبان نوکری سے فارغ
کویت سٹی (نیٹ نیوز) کویت کے سرکاری ٹی وی چینل کی خاتون میزبان کو رمضان المبارک میں امناسب لباس پہننے پر نوکری سے نکال دیا گیا۔کویتی سرکاری ٹی وی چینل پر پروگرام کی میزبان کو رمضان المبارک میں چست لباس پہننا مہنگا پڑگیا، گیم شو کی معروف ہوسٹ امل الاوادی کو براہ راست نشریات میں نامناسب وضع قطع کی وجہ سے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔29 سالہ ہوسٹ سرکاری ٹی وی ایک چینل پر گیم شو کررہی تھیں کہ اس دوران ان کے لباس کو لے کرناظرین نے سوشل میڈیا پر چند منٹوں میں سیکڑوں شکایات کیں اور ٹی وی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔سوشل میڈیا پر صارفین نے میزبان کے چست لباس اور وضع قطع پر اعتراضات اٹھائے تو ٹی وی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے براہ راست نشریات روک دیں اور میزبان کو نوکری سے نکال دیا۔
سنٹرل اور کیمپ جیل میں عیدی مہم ، لاکھوں روپے اکٹھے کرنیکا انکشاف
لاہور (خصوصی رپورٹر )عید الفطرکی آمدپر صوبائی دا رالحکومت میں واقع سنٹر ل جےل کوٹ لکھپت اورڈ سٹرکٹ کےمپ جےل میں عیدی مہم زوروں پر پہنچ گئی ہے ، قیدیوں اور حوالاتیوں کے رشتہ داروں سے لا کھو ں رو پے اکھٹے ہو نے کا انکشاف ہو اہے ےاد ر ہے کہ گزشتہ روزملاقاتوں کاآخری روز تھا جبکہ بدھ کو صرف عدا لت کے حکم پر قےدےو ں سے ملاقات ہو سکی ، دونوںجےلو ں میں مخےرحضرا ت کی جا نب سے قیدیوں کی رہائی کے لئے دی جانے والی رقم بھی خوردبرد ہو نے کا انکشاف ہواہے تفصےلا ت کے مطابق نگرا ن سےٹ اپ میں محکمہ جیل خا نہ جات پنجا ب نے محکمہ داخلہ کے احکامات ہوا میں اڑا د ےئے محکمہ دا خلہ پنجا ب کی جا نب سے آئی جی جیل خا نہ جا ت اور تمام جےلو ں کےسپرنٹنڈنٹس کو سختی سے ہدا ےت کی گئی تھی کہ عےدالفطر کے موقع پر کسی بھی جیل میں قےدےوں اور حوالا تےوں کوتنگ نہ کےا جا ئے ، نہ ہی ان سے پےسے وصو ل کئے جا ئےں اورلواحقےن سے حسن سلوک کےا جا ئے لےکن عےدقرےب آتے ہی سنٹر ل جےل کو ٹ لکھپت اور ڈ سٹر کٹ کےمپ جےل کے عملے کی عیدی مہم زوروں پر پہنچ گئی ملاقاتیوں سے گزشتہ روز لاکھو ں رو پے اکھٹے ہو نے کا انکشاف ہوا ہے سزائے موت ڈکیتی، قتل، اغواءبرائے تاوان کے علاوہ دیگر سنگین جرائم کے مبینہ طورپرریٹ مقررکردیئے گئے ہیں ،ذرا ئع کا کہنا ہے کہ مین گیٹ پر موجودجےل عملہ من پسند ریٹ طے کرتا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق ملاقات کرواتا ہے کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں اورحوالاتیوں سے ملنے کےلئے آنے والے لواحقےن کوٹ لکھپت جیل میں قید اپنے بھائی، با پ اورشتہ داروں کے ساتھ ہونے والے حسن سلوک کے بارے میں پھٹ پڑے۔
اعصام سٹٹ گارٹ اوپن کے فائنل 8میں داخل
اسٹٹ گارٹ (اے پی پی)سٹار پاکستانی کھلاڑی اعصام الحق قریشی فاتحانہ آغاز کرتے ہوئے اسٹٹ گارٹ اوپن ٹینس ٹورنامنٹ مینز ڈبلز کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے۔ جرمنی میں جاری ایونٹ میں بدھ کو کھیلے گئے مینز ڈبلز پہلے راﺅنڈ میچ میں اعصام الحق اور ان کے ہالینڈ کے جوڑی دار جین جولین راجر نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ارجنٹائن کے گوئیڈو پیلا اور ان کے آسٹریلین جوڑی دار جان ملمین کو زبردست مقابلے کے بعد 7-6 اور 6-4 سے ہرا کر کوارٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کیا۔دوسری جانب شہرہ آفاق سوئس سٹار اور ریکارڈ 20 مرتبہ کے گرینڈسلام چیمپئن راجر فیڈرر اسٹٹ گارٹ اوپن ٹینس ٹورنامنٹ مینز سنگلز کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے۔ مینز سنگلز پری کوارٹر فائنل میں راجر فیڈرر نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف جرمنی کھلاڑی مسشا زیوریف کو 3-6، 6-4 اور 6-2 سے ہرا کر کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کی۔
شوگر ملز مالکان کو آج 2 بجے تک کاشتکاروں کے واجبات ادا کرنیکا حکم
لاہور (کورٹ رپورٹر) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملز مالکان کو گنے کے کاشتکاروں کو آج جمعرات کو 2 بجے تک واجبات کی ادائیگیاں کرنے کا حکم دے \یا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے گنے کے کاشتکاروں کو واجبات کی عدم ادائیگیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ آج 2 بجے تک کاشتکاروں کو ادائیگیاں نہ کی گئیں تومالکان خود بھگتیں گے۔عدالت نے میاں الیاس معراج کی شوگر ملزکے باہر کاشتکاروں کو دھرنا ختم کرنے کا حکم دے دیا عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حسیب وقاص مل کے باہر کوئی نظرآیا توکارروائی کرینگے۔چیف جسٹس پاکستان نے ادائیگیاں کرنے پر میاں جاوید شفیع کی تعریف کی،دوران سماعت جاوید شفیع نے چیف جسٹس سے استدعا کہ میں آپ سے چیمبر میں ملنا چاہتاہوں،اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بڑے میاں صاحب کیساتھ جلسے کریں عدالت بہت مصروف ہے ۔
فٹبال کی عالمی جنگ آج سے شروع
ماسکو (نیوزایجنسیاں) اکیسواں ورلڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ 2018 (آج) جمعرات سے روس میں شروع ہوگا۔ ورلڈ کپ فٹ بال کا جنون عروج پر پہنچ گیا، میگا ایونٹ کا آغاز آج شاندار تقریب کے ساتھ ہوگا،افتتاحی تقریب پاکستانی وقت کے مطابق رات07:30پرشروع ہوگی۔ اس شاندار تقریب کو یادگار بنانے کیلئے سینکڑوں فن کار دن رات تیاریوں میں مصروف ہیں۔ماسکو کے لوزنیکی اسٹیڈیم پر میزبان روس اور سعودی عرب کے درمیان افتتاحی میچ سے قبل میوزیکل کنسرٹ میں برطانوی پاپ گلوکار روبی ولیمز کے ساتھ روسی سنگر ایڈا گیریفولینا بھی اپنی آواز کا جادو جگائیں گی۔اس موقع پر سابق برازیلین اسٹرائیکر رونالڈو بھی موجود ہوں گے۔میچ رات 8بجے شروع ہوگا۔دنیا بھر کی نظریں اپنے فیورٹ سٹارز اور ٹیموں پر لگی ہوئی ہیں، درجہ بندی میں عالمی نمبر دو اور پانچ مرتبہ کی عالمی چیمپئن برازیل کو اس بار بھی فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے،ٹائٹل معرکہ15جولائی کوشیڈول ہے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ورلڈ کپ کے دوران 41 مقامات سے پروازوں کی آمدورفت بھی معطل رہے گی ، میزبان شہروں کے گرد 100 کلومیڑ کی حدود میں ڈرون کیمروں کا استعمال ممنوع ہوگا، آرمی سٹیڈیمز کے اطراف میں جیمرز بھی نصب کریگی۔سیاحوں کے لئے خصوصی میٹرو ٹرینیں چلادی گئیں، ٹکٹ کے حصول کیلئے مقامی شائقین کی لمبی لائنیں لگ گئیں، روسی درالحکومت ماسکو میں ورلڈ کپ کی یاد میں میوزیم قائم کردیا گیا جہاں ٹرافیاں، تاریخ، فٹ بالز، مشہور فٹ بالرز کی شرٹس اور شوز نمائش کے لئے پیش کئے گئے ہیں ،ورلڈکپ کے دوران ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق میدانوں کے آس پاس شراب کی فروخت ممنوع قرار دے دی گئی، کسی بھی شہر میں شائقین کیلئے مختص علاقوں میں میچ سے ایک روز قبل ہی نہ صرف شراب بلکہ شیشے کی بوتل میں کسی بھی مشروب کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، پولیس کسی بھی ملکی یا غیر ملکی کو نشے کی حالت میں پائے جانے پر پکڑ کر خصوصی سیل میں رکھنے کی مجاز ہوگی۔ورلڈکپ کے دوران ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کےلئے انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں، فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران خصوصی پابندیاں عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنادیں گی جبکہ میدانوں کے آس پاس شراب کی فروخت ممنوع قرار دے دی گئی، کسی بھی شہر میں شائقین کےلئے مختص علاقوں میں میچ سے ایک روز قبل ہی نہ صرف شراب بلکہ شیشے کی بوتل میں کسی بھی مشروب کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی\، پولیس کسی بھی ملکی یا غیر ملکی کو نشے کی حالت میں پائے جانے پر پکڑ کر خصوصی سیل میں رکھنے کی مجاز ہوگی۔ ورلڈ کپ کے دوران 41 مقامات سے پروازوں کی آمدورفت بھی معطل رہے گی۔میزبان شہروں کے گرد 100 کلومیڑ کی حدود میں ڈرون کیمروں کا استعمال ممنوع ہوگا، آرمی سٹیڈیمز کے اطراف میں جیمرز بھی نصب کرے گی، روس میں پولیس آفیسرز ٹورنامنٹ کے دوران سٹیڈیمز میں تعینات کیے جائینگے تاکہ کھلاڑیوں اور فٹ بال شائقین کی سکیورٹی کو ممکن بنایا جاسکے۔ توقع کی جارہی ہے کہ میگاایونٹ کو دیکھنے کےلئے ہزاروں شائقین روس کا رخ کرینگے۔ جرمنی کی ٹیم میگا ایونٹ میں اپنے اعزاز کا دفاع کریگی۔ ایک ماہ تک جاری رہنے والے فٹ بال کے میگا ایونٹ میں دنیا بھر سے 32 ٹاپ ٹیمیں شرکت کرینگی جنھیں 8 مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ایونٹ میں گروپ ایف میں عالمی چیمپئن جرمنی کو رکھا گیا ہے۔ میگا ایونٹ میں شرکت کرنے والی 32ٹیموں میں گروپ اے میں میزبان روس، سعودی عرب، مصر اور یوروگوئے شامل ہیں۔گروپ بی میں پرتگال، سپین، مراکش اور ایران شامل ہیںِ، گروپ سی میں فرانس، آسٹریلیا، پیرو اور ڈنمارک شامل ہیں، گروپ ڈی میں ارجنٹائن، آئس لینڈ، کروشیا اور نائیجریا شامل ہی، گروپ ای میں برازیل، سوئٹزرلینڈ، کوسٹاریکا اور سربیا شامل ہیں، گروپ ایف میں دفاعی چیمپئن جرمنی، میکسیکو، سویڈن اور کوریا شامل ہیں، گروپ جی میں بیلجیئم، پانامہ، تیونس اور انگلینڈ شامل ہیں جبکہ گروپ ایچ میں پولینڈ، سینیگال، کولمبیا اور جاپان شامل ہیں۔
اللہ کے احکامات تسلیم کرنا زندگی کی ا صل حقیقت ہے : علامہ ضیاءاللہ بخاری،رمضان المبارک میںگناہوں سے بچنے کی پریکٹس سارا سال جاری رکھنی چاہیئے : علامہ رشید ترابی ، چینل ۵ کی خصوصی ٹرانسمیشن ” مرحبا رمضان “ میں گفتگو ، عظیفہ بخاری نے کلام ”کیوں چاند میں کھوئے ہو “ سنایا
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) علامہ محمد رشید ترابی نے بتایا کہ جب ماہ رمضان رخصت ہو رہاہوتا تھا تو نبی کریم بہت افسردہ اور اداس ہو جاتے، صحابہ کرام جب آپ سے اداسی کی وجہ پوچھتے تو نبی کریم فرماتے اللہ کے بندوں آپ کو رکیاپتہ رمضان المبارک کی کتنی عظمت ہے اور یہ اللہ کا کتنا مبارک ، مہینہ ہے اور یہ ہم سے رخصت ہو رہا ہے۔چینل فائیو کے پروگرام مرحبا رمضان میں گفتگو کرتے ہوئے علامہ صاحب نے بتایا کہ ہمیں رمضان المبارک کے پورے تیس دنوں کا فائدہ اٹھانا چاہئے ،خوب عبادات کرنی چاہئیں آئندہ سال پتہ نہیں کس نے دیکھنا ہے کس نے نہیں۔نبی کر یم نے فرمایا کہ رمضان المبارک کو معمولی مہینہ نہ سمجھو یہ اللہ کا مہینہ ہے توبہ اور نجات کا مہینہ ہے۔اللہ پاک رمضان المبارک میں بہت سے گناہ گاروں کی مغفرت فرماتا ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئے اللہ کی رحمتوں سے فائدہ اٹھائیں۔کامیاب وہی ہے جس نے رمضان کو نہیں اللہ کی محبت کو پا لیا۔ماہ رمضان تو گناہوں سے بچنے کی پریکٹس ہے یعنی ماہ رمضان گزرنے کے بعد گیار ہ مہینے بھی گناہوں سے بچنا ہے۔اصل میں گناہ کر کے ہم اللہ کو دھوکہ نہیں دیتے خود کو دھوکہ دیتے ہیں کیونکہ اللہ تو بے نیاز ہے۔ہم جو بھی نیک عمل کرتے ہیں اس سے ہمیں ہی فائدہ ملتا ہے۔علامہ ضیاءاللہ بخاری نے بتایا کہ فطرانہ دینے سے اگر روزہ کی حالت میں کوئی بھول چوک ہو جائے تو اس کی معافی ہو جاتی ہے۔ فطرانہ سب پر فرض ہے اور عید کی نماز پڑھنے سے قبل ادا کرنا ہوتا ہے۔اللہ کریم فرماتے ہیں تمہیں ہم نے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔عبادت عبد سے ہے یعنی بندگی، غلامی کہ ہم نے اللہ کا ہر ہر حکم تسلیم کرنا ہے۔ہم ساری زندگی اللہ کی عبادت کے پابند ہیں۔ نبی کریم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ وقت گزارتا ہے تو وہ بھی نیکیوں میں لکھا جاتا ہے۔مومن اپنی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق جیتا ہے یعنی بندہ اپنی مرضی نہیں کرتا۔ مذہبی سکالرعظیفہ بخاری نے بتایا کہ رمضان جیسے جیسے اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہماری لگن اور بھی زیادہ بڑھ جانی چاہئے۔روز حشر رمضان روزہ دار کے حق میں گواہی دینے والا بن کر آئے گا کہ یا اللہ میں اس کی طرف مہمان بن کر گیا تھا اس نے میرا حق ادا کیا۔رمضان کا مقصد تقوی پیدا ہونا ہے تاکہ ہم گناہوں سے بچ سکیں اور ہماری عبادات میں استقامت آئے۔ہمیں چاہئے کہ خصوع خشوع کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں اور رمضان المبارک میں دل کھول کر اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کریں۔پروگرام کے اختتام پر عظیفہ بخاری نے کلام ”کیوں چاند میں کھوئے ہو کیوں تاروں میں الجھے ہو“ سنایا۔
بھائی کیلئے ٹکٹ ناصر جنجوعہ سے جا کر لو ، نواز شریف نے چوہدری غفور کو جھاڑ پلا دی
رائے ونڈ (نامہ نگار) سابق وزیر جیل خانہ جات چودھری عبدالغفور نے جو میاں نوازشریف کے مرحوم والد میاں شریف کے خادم خاص اور منہ بولے بیٹے کہے جاتے تھے نے بدھ کے روز جاتی امراءمیں نوازشریف سے ملاقات کی۔ وہ انتہائی اہم اجلاس میں بغیر اجازت اندر چلے گئے جس پر لیگی قیادت نے ان کا سخت نوٹس لیا۔ چودھری عبدالغفور جو آج کل ایم ڈی ٹورازم ہیں نے میاں نوازشریف سے درخواست کی کہ آپ نے کیا تحریک انصاف نے بھی ساری ٹکٹ کھوکھر برادری کو دیدیئے ہیں میرے بھائی کو ٹکٹ دیا جائے تاکہ ایک شخص تو کھوکھروں کے علاوہ بھی منتخب ہوسکے جس پر میاں صاحب نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اجازت لیکر اندر جانا چاہئے تھا۔ پھر انہوں نے کہا کہ آج کل تو آپ کی سکیورٹی ایڈوائزر جنرل جنجوعہ سے بہت دوستی ہے وہی ہر جگہ آپ کے سفارشی ہوتے ہیں جائیں اور بھائی کے لئے ٹکٹ ان سے لیں۔ چودھری عبدالغفور نے کہا ہے کہ انہیں زبردستی کمرے سے باہر دھکیل دیا گیا اور یہ درست ہے کہ جنرل جنجوعہ ان پر مہربان ہیں لیکن انہوں نے زندگی بھر شریف فیملی کی خدمت کی ہے مگر اب نوازشریف کا بیانیہ فوج کیخلاف ہوگیا ہے حالانکہ ساری زندگی فوج ہی نے انہیں مکمل سپورٹ کی۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی نے بھی 2 کھوکھروں اور ن لیگ نے بھی 2 کھوکھروں کو ٹکٹ سے نوازا ہے۔ واضح رہے کہ رائے ونڈ میں دوسری برادریوں کا ایک اہم اجلاس ہوا ہے جو کل بھی جاری رہے گا۔ رشید احمد بھٹی بھی کھوکھروں کو ٹکٹ دینے پر ناراض ہوئے تھے اور تحریک انصاف چھوڑ دی تھی۔ دریں اثناءیہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دیگر برادریوں نے پیپلزپارٹی سے رابطہ کیا ہے اور ان کے مشترکہ امیدوار زرداری اوربلاول کے ٹکٹ پر تحریک انصاف اور ن لیگ کے دونوں کھوکھر برادران کے امیدواروں کیخلاف الیکشن لڑیں گے۔
غیر جانبدار نگران حکومت ، مشرف کیلئے آسانی پیدا ہو گئی : امجد اقبال ،عمران کے طیارے پر تنقید بلا جواز : اعجاز حفیظ ، مشرف کو گرفتار کر کے عدالت پیش کیا جائے : افضال ریحان ، تبدیلی کے دعویدار قول و فعل کا خیال رکھیں : ضمیر آفاقی ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار ‘ ‘ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا ہے کہ شیح رشید بڑے سینئر سیاست دان ہیں اور بڑے عرصے سے اپنے حلقے سے جیتتے آ رہے ہیں۔فیصلے میں جج صاحب نے ریمارکس دیے کہ اس کا فیصلہ ہو جانا چاہئے کس بات پر نااہل کیا جا سکتا ہے اور کس پر نہیں۔چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شیخ رشید بارے چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں۔شیخ رشید کو آزادی بھی مل گئی ہے اب وہ خود کو پہلے سے زیادہ صادق و امین کہلوائیں گے۔جو لوگ کہتے ہیں ہم تبدیلی لائیں گے انہیں قول و فعل کا خیال رکھنا چاہئے۔پاکستان کی سیاست میں مشرف کا کوئی مستقبل نہیں۔ سینئر صحافی امجد اقبال نے کہا کہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ وہ عوام کی دعاﺅں سے سرخرو ہوئے ویسے شیخ رشید کئی مرتبہ سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔عدالتوں کا احترام سب کو کرنا چاہئے لیکن فیصلوں پر رائے تودی جا سکتی ہے۔اسراف نہیں ہونا چاہئے لیکن جو بندہ افورڈ کر سکتا ہے تو اس پر تنقید نہیں ہونی چاہئے۔ میں سمجھتا ہو عدالت کو مشرف کو موقع دینا چاہئے جو وہ دے بھی رہی ہے۔ اس وقت غیر جانبدا ر نگران حکومت ہے مشرف آزادی کے ساتھ اپنا کیس لڑ سکتے ہیں۔ کالم نگاراعجاز حفیظ نے کہا سب سے پہلے تو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اور ماننا پڑے گا اکثریت نے فیصلہ دیا ہے۔ایک بات ہے شیخ رشید ہر حکومت کے لئے خوش قسمت ثابت ہوئے ۔شیخ رشید کو یقینی طور پر عدالتی فیصلے سے سیاسی طور پر فائدہ ہوا لیکن آخری فیصلہ تو عوام نے ہی کرنا ہے۔شیخ رشید ہمیشہ ڈبل سیٹ سے لڑتے ہیں۔اگر زلفی بخاری کا نا م ای سی ایل میں تھا تو ان کے باہر جانے پر تنقید کی جا سکتی ہے۔عمران خان کے چارٹر طیارے پر سفر پر تنقید کی جارہی ہے ن لیگ کے تو کئی چارٹر طیارے ہیں۔مشرف کو چاہئے تھا وہ آ جائیں لیکن وہ نہیں آئیں گے۔پاکستان میں سب کچھ ہے لیکن علاج کے بہانے سب باہر چلے جاتے ہیں کالم نگارافضال ریحان نے کہا کہ کسی کے لئے تاحیات نااہلی معمولی بات نہیں ہوتی۔انصاف وہ ہوتا ہے جو ہوتا نظر آئے۔ میرے خیال میں جہانگیر ترین کو بھی نااہل نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔سیاسی معاملات کے فیصلے عوام کو کرنے دیے جائیں۔عمران خان ایک اہم شخصیت ہیں ظاہر ہے ان کا استقبال کیا جانا تھااس پر تنقید نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کو پکڑ کرپیش کرنا چاہئے۔سیاستدان نوے پیشیاں بھگتیں اور مشرف باہر بیٹھے رہیں یہ کہاں کا انصاف ہے۔
اخبارات کو اشتہارات کے پیسوں کی ادائیگی پر سپریم کورٹ کا شکریہ : ضیا شاہد ، شیخ رشید کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل نہیں ہوسکے گی : ایس ایم ظفر ، مشرف کو ریلیف ادھوری یقین دہانی تھی : ڈاکٹر امجد ، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “میں گفتگو
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل چینل ۵ کے خصوصی پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں چیف ایڈیٹر خبریں گروپ آف نیوز پیپرز ضیا شاہد نے کہا کہ دو جج حضرات نے شیخ رشید کو اہل قرار دیا ہے۔ ایک جج قاضی فائز عیسیٰ کا بہت مشہور فیملی بیک گراﺅنڈ ہے۔ اس لئے کہ یہ بلوچستان کے یحییٰ بختیار کی طرح بہت پرانی شخصیت قاضی عیسیٰ صاحب جن کا تعلق پاکستان بننے کے وقت پاکستان مسلم لیگ سے تھا اور وہ قائداعظم کے جانثار شمار ہوتے تھے۔ قاضی فائز عیسیٰ انہی قاضی عیسیٰ صاحب کے صاحبزادے ہیں اور بہت آزاد جج شمار ہوتے ہیں۔ آج انہوں نے جو الگ نوٹ لکھا اس کو اختلافی نوٹ تو نہیں کہہ سکتے لیکن انہوں نے ایک طرح سے دو ججوں کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا بلکہ انہوں نے بعض بنیادی اصولوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک شخص کی یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ اس کو فلاں بات یاد نہیں رہی تھی اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بس یاد نہیں رہا تھا تو پھر کسی دوسرے شخص کو اس بنیاد پر کس طرح سے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ قانونی حلقوں میں شام سے یہ بحث شروع ہے کہ قاضی عیسیٰ فائز نے کہا اس میں کتنا سچ ہے۔ قانونی حلقوں کی بات کے حوالے سے پروگرام میں سینئر قانون دان ایس ایم ظفر نے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ جس پر ایس ایم ظفر نے کہا کہ مجھے اس وقت افسوس ہوا تھا جب میں نے پانچ ججوں کا فیصلہ پڑھا جس میں میاں نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا گیا تھا چونکہ اس کی دلیل کمزور تھی۔ لیکن عدالتوں کے دلائل اپنی جگہ اور فیصلہ اپنی جگہ، دلیل کا کمزور ہونا اس چیز کی نشاندہی کرتا ہے کہ فیصلہ قابل ریویو ہے۔ نامعلوم کس وجہ سے نوازشریف نے فیصلے کے خلاف ریویو داخل نہیں کیا۔ میرا یقین ہے کہ اگر وہ ریویو داخل کرتے تو جج صاحبان مجبور ہو جاتے کیونکہ اس وقت رائے آنی شروع ہو گئی تھی کہ ان کے خلاف فیصلہ کمزور ہے۔ شاید وہ نظر ثانی کر لیتے لیکن کسی کلائنٹ یا ایسے شخص کو جسے انصاف ملنا چاہئے، یا جس کا خیال ہے کہ میرے ساتھ انصاف نہیں ہوا، مایوس ہو کر بیٹھ رہنا بھی اتنی ہی بڑی غلطی ہے۔ اور اس کے لئے وہ چاہے جتنی بڑی دلیل دے درست نہیں ہے۔ انصاف کے لئے آخری چوکھٹ تک کھٹکھٹانی ضروری ہوتی ہے۔ قاضی عیسیٰ فائز سے متفق ہونے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ضیا صاحب میں بہت عجیب قسم کی بات کرنے لگا ہوں اور اس کے لئے شاید مزید بحث نہ کر سکوں۔ لیکن تین ججز کا جو پہلے فیصلہ آیا تھا جس کی سربراہی آصف سعید کھوسہ صاحب کر رہے تے۔ بہت عمدہ اور اچھی انگرازی الفاظ میں جب انہوں نے فیصلہ دیا جو کہ بعد کے فیصلے سے بھی زیادہ کمزور تھا کہ ان کی نظر میں نواز شریف نااہل ہو چکے ہیں۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ میڈیا نے ان تین ججز کے فیصلے کو تاریخی فیصلہ کیوں قرار دے دیا تھا اور کیوں بہت عرصہ اس کی توسیع میں لگے رہے۔ یہاں تک کہ ایک پریشر تمام لوگوں نے ذہنوں پر بن گیا کہ وہی فیصلہ درست ہے کہ جس میں نواز شریف کو کسی نہ کسی صورت نااہل کر دیا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر یہ پریشر نہ بنتا تو جج صاحبان جنہوں نے بعد میں فیصلہ لکھا اور تین ججز کے درمیان شامل ہوئے، وہ اپنا فیصلہ یقینا بہتر دلیلوں پر وضاحت دے کر کرتے۔ ضیا شاہد نے پوچھا کہ شیخ رشید کے اہل ہونے کے فیصلے کے خلاف کیا کوئی کورٹ میں جا سکتا ہے اور وہ کون سی کورٹ ہو گی جہاں سے فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔ ایس ایم ظفر نے کہا کہ فیصلے تو تبدیل ہوں گے اور آئندہ بھی ریویو ہوتے رہیں گے مگر جو نتیجہ ہے اس کا ریویو نہیں ہو سکے گا۔ اس کی معیاد ختم ہو چکی ہے۔ شیخ رشید کے حوالے سے فیصلہ پڑھا نہیں لیکن ان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ وہ اس فیصلے میں بچ گئے ہیں۔ میں ان کو مبارک دیتا ہوں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ تحریک انصاف ان کے مقابلے میں حسب سابق جس طرح پچھلی مرتبہ انہوں نے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔ اس لئے وہ اس بار بھی ان کے مقابلے میں کوئی امیدوار کھڑا نہیں کر رہی۔ ظاہر ہے کچھ نہ کچھ اثرورسوخ تو اس علاقے میں شیخ رشید صاحب کا بھی ہے۔ جب وہ آزاد اور تحریک انصاف کی مدد کے بغیر کھڑے ہوئے تھے تو بھی انہوں نے کچھ نہ کچھ ووٹ ضرور لئے تھے۔ اب جبکہ تحریک انصاف بھی ان کی حمایت کرے گی تو پچھلی مرتبہ کی طرح میرے خیال میں 90 فیصد وہ جیت جائیں گے اور ان کے یہ کہنے کا مطلب کہ تگڑے ہو جاﺅ میں آ رہا ہوں، یہی ہے کہ میں جیت کے آ رہا ہوں۔ پرویز مشرف کو سپریم کورٹ کی جانب سے وطن واپسی کے لئے 2 بجے تک کا ٹائم دینے اور عدالت سے نکلتے ہی گرفتار کر لئے جانے پر کوئی گارنٹی نوٹس نہ دینے کے حوالے سے سوال پر ضیا شاہد کا کہنا تھا کہ اُردو شاعری میں بڑے مزے مزے کے شعر ہیں اور مصرے تو بہت ہی کمال کے ہیں، اس قسم کا مصرعہ۔ مجھے اس صورتحال کو دیکھ کر یاد آیا ہے کہ ”اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا، کہ لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں۔ قصہ یہ ہے کہ جن جج صاحبان نے یہ کہا اور چیف جسٹس صاحب نے فرمایا اس پر یہی کہہ سکتے ہیں کہ ’کمال ہے، واہ واہ!۔ پروگرام میں آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما اور پرویز مشرف کے ترجمان ڈاکٹر امجد نے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ ضیا شاہد نے ان سے سوال کیا کہ پرویز مشرف کے حوالے سے فیصلے کے الفاظ یہ تھے کہ ایئرپورٹ سے لے کر عدالت تک ان کو گرفتار نہیں کیا جائے گا اور اس وقت بھی اس پر بہت بہت ہوئی تھی اور رات بھر ٹاک شوز میں قیاس آرائی ہوتی رہی اور ایئرپورٹ سے سپریم کورٹ کی عمارت تک تو واقعی ان کو کوئی گرفتار نہیں کرتا، چیف جسٹس صاحب کے حکم کے مطابق، لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جونہی وہ عدالت سے باہر نکلیں گے تو کسی نہ کسی کیس میں، جو کافی زیر التوا کیسز ہیں ان کے خلاف، اس میں گرفتار کر لئے جائیں گے۔ لہٰذا عام خیال ہی تھا کہ جب تک چیف جسٹس صاحب کی طرف سے ان کو مکمل یقین دہانی نہ ہو تو وہ کوئی بچے ہیں کہ پاکستان آ جائیں گے۔ جس پر ڈاکٹر امجد نے کہا کہ یہ آدھی یقین دہانی نہیں بلکہ ان کو صرف عدالت میں بلانے کے لئے اور اس کیس میں ان کو وہاں حاضر ہونے کے لئے ایک عارضی ریلیف ہے۔ لیکن جس طرح نواز شریف اور دیگر کہہ رہے کہ ان کو کیوں یہ ریلیف دیا کہ ان کو گرفتار نہیں کیا جائے گا تو عدالت تو ریلیف دے ہی اسس لئے رہی ہے تا کہ وہ ہمارے سامنے پیش ہو سکیں۔ یہ کوئی مشرف صاحب کے فائدے کے لئے نہیں ہے، اس لئے بھی کہ وہ اگر راستے میں ہی کسی اور کیس میں گرفتار ہو جاتے ہیں تو وہ ادھر چلے جائیں گے، اس کیس میں تو نہیں آئیں گے۔ اس کیس میں گرفتاری کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے۔ یہ کیس نااہلی کا پہلے کا فیصلہ ہے جس پر ہم نے کہا ہے کہ ان کو غلط نااہل کیا ہے؟ ان کو الیکشن ان کی اجازت دیں۔ یہ کوئی واضح ریلیف نہیں ہے۔ آج ہم نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس صاحب اور اس بنچ سے استفسار کیا کہ آپ عدالت تک تو کہہ رہے ہیں، آپ اگر یہ اجازت دیتے ہیں کہ پرویز مشرف پاکستان واپس آ کر دوسرے لیڈران کی طرح الیکشن مہم چلا سکیں گے اور وہ آزادانہ نقل و حرکت کر سکیں گے تو پھر ہم پرویز مشرف کو بلا لیتے ہیں تا کہ ان کے اور دوسروں کے برابر حقوق ہوں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں تک کے لئے ہم کہتے ہیں، اس کے بعد کا فیصلہ ہم ان کے آنے کے بعد کریں گے۔ میرے خیال میں ریلیف کے اعتراض پر لوگ اپنی اپنی جگہ ترجمہ کر رہے ہیں لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ریلیف ان کو عدالت تک لا کر شامل کرنے تک ہے۔
ترجمان پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ اگر اکبر بگٹی کا قتل ہوا یا بے نظیر بھٹو صاحبہ کا ہوا یا لال مسجد میں آپریشن ہوا۔ جس کے نتیجے میں رشید غازی صاحب کی وفات ہو گئی۔ تینوں قتل کے کیسز پرویز مشرف پر ڈالے ہوئے ہیں۔ یہ سیاسی کیسز ہیں۔اگر آرمی چیف کسی دستے کو آرڈر دے گا کہ فلاں جگہ پر جا کر کارروائی کرے۔ دہشت گرد ہیں یا ملک دشمن ہیں تو وہ دستہ نہیں کرے گا۔ اگر اس طرح کے قتل کے مقدمات ایک سابقہ آرمی چیف پر بنائیں گے تو پھر آئندہ کوئی ٓارمی چیف بھی حکومت کے سامنے یہ نہیں کرے گا کہ بس ان آپریشنز کی اجازت دیتا ہوں یا ان آپریشنز کی نگرانی کرتا ہوں یا دہشت گردوں کا خاتمہ کرتا ہوں۔ جیسا کہ ردالفساد میں باجوہ صاحب کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے راحیل شریف صاحب کیا تھا اور اس سے پہلے کیانی صاحب نے سوات میں کیا۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے روایت ڈال دی گئی ہے۔ جنہوں نے یہ مقدمات جان بوجھ کر پرویز مشرف کو نقصان پہنچانے یا فوج کو شرمندہ کرنے کے لئے تیار کئے تھے۔ پرویز مشرف نے 2008ءمیں استعفیٰ دیا، اس کے بعد 30 اپریل 2009ءتک وہ ملک کے اندر رہے۔ 10 مہینے ملک کے اندر رہے، پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور پنجاب میں نواز شریف کی حکومت تھی اور شروع میں دونوں بڑے گلے بھی ملتے رہے اور وفاقی حکومت بھی مشترکہ تھی جنہوں نے مشرف صاحب سے حلف لیا۔ اس دوران ان پر کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا، نہ لال مسجد کا، نہ بگٹی صاحب کا، نہ جج نظر بندی کا اور نہ ہی بے نظیر قتل کا۔ جب وہ ملک سے چلے گئے تو تقریباً 2 سال کے بعد 2011ءمیں جان بوجھ کر پیپلزپارٹی کے رحمان ملک نے ایف آئی اے میں اپنی کمیٹی بنائی اور ان کو یہ کہا کہ اس کیس میں مشرف صاحب کو بھی ڈال دیں۔ یعنی ان پر جان بوجھ کر تین سال بعد بینظیر قتل کا الزام ڈال دیا گیا۔ اسی طرح بگٹی صاحب کا ڈال دیا گیا۔ اسی طرح پنڈی اسلام آباد کے وکلاءجو سابقہ چیف جسٹس کے حمایتی تھے اور ان کی پنڈی میں مومنٹ کے انچارج تھے، ان وکلاءنے مل کر اسلام آباد میں جا کر کیس دائر کر دیا کہ مشرف صاحب نے ججز کو نظر بند کیا تھا، انہیں اور ان کے بچوں کو باہر نہیں جانے دیا، ان کے امتحانات رہ گئے اور انہیں کھانا نہیں دیا۔ یہ چیزیں روایت اورغلط ہیں۔ سیاسی لوگ اپنے کام سیاست سے کریں، یہ نہیں کہ کوئی ادارے کا سربراہ ہے اور اس نے اگر کوئی ایکشن لیا ہے، آرڈر پاس کیا ہے یا آرمی یا صدر نے وزیراعظم کے کہنے پر کسی ایڈوائس پر سائن کئے تو آپ اس کو 4,3 قتل کے مقدمات، ایک اغوا کا پپرچہ اور آئین کو توڑنے کے بدلے انہیں ملک کا سنگین ترین غدار کہہ دیا جائے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ کہ چینل مالکان سیلری ادا کریں اس پر چینل مالکان کی جانب سے اشتہاری کمپنیوں کی طرف پیسے رکے ہونے کے نقطہ کو اٹھایا گیا جس پر بات کچھ آگے بڑھی اس حوالے سے چیف ایڈیٹر خبریں گروپ نے کہا کہ وہاں بحث ہو رہی تھی، اصل مقدمہ، اس کی بنیاد سوموٹو نوٹس تھا، جس کو ازخود اختیار کا نوٹس کہتے ہیں۔ خود سپریم کورٹ نے، چیف جسٹس صاحب نے اس بنچ کے سامنے پیش کیا تھا۔ اصل کیس یہ تھا کہ قومی فنڈ، عوامی فنڈ استعمال کیا جا رہا ہے۔ جس بھی پراجیکٹ کہ ہسپتال ہو، سکول ہو یا کوئی سکیم ہو یا پاور جنریٹنگ یونٹ ہوں اس پر بڑی بڑی تصویریں سیاسی لیڈروں کی چھپ رہی ہیں۔ جس کا نوٹس لیا گیا۔ لیکن جب ہم وہاں پیش ہوئے، اصل میں وہ ایک ہی پیشی میں ختم ہو جانا چاہئے تھا، وکیل صاحبان آپس میں بات چیت کر رہے تھے، یقیناً قابل لوگ تھے لیکن میں نے محسوس کیا کہ اخبارات کے ایڈیٹرز کا نقطہ نظر شاید صحیح طریقے سے پیش نہیں ہو رہا۔ لہٰذا میں نے کہا کہ میں کسی کاغذ پر جواب دینے کی بجائے میں خود پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جس پر انہوں نے کہا کہ جو ضیا شاہد صاحب آپ بتائیں تو میں نے تھوڑا، عام طور پر 5,4 منٹ سے زیادہ سپریم کورٹ میں بولے نہیں دیتے کیونکہ رش بہت ہوتی ہے۔ لیکن میں نے پورے چودہ منٹ تقریر فرمائی اور میں نے کہا جناب آپ حکم دیتے ہیں کہ اخبارات فوراً ادائیگی کریں۔ تو میں نے کہا ہم اخبار اور چینل میں دو مہینے پیچھے تھے، ہم نے 7 دن میں پونے دو کروڑ کا بندوبست کیا اور آٹھویں دن وہ ادائیگی کر دی۔ لیکن جناب میرا کہنا یہ ہے کہ یہ 6 کروڑ روپے کے چیک میرے پاس ہیں جو باﺅنس ہوئے ہوئے ہیں، سال بھر سے اور 14 کروڑ روپے ہم نے مزید لینے ہیں 14 اور 6، 20 ہو گئے، اس کے علاوہ بہت سارے پیسے ہم نے سینٹرل گورنمنٹ کے سرکاری اشتہارات کے مختلف اخباروں میں لینے ہیں۔ حضور ہماری بھی ادائیگی کا بندوبست کروائیں، ہمیں تو آپ ڈنڈا دکھاتے ہیں، ہم ڈر جاتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے جو آرڈر کیا آنکھیں بند کر کے ہم اس پر عمل کریں۔ لیکن ہم نے کہاں سے پیسے لینے ہیں۔ جہاں سے لینے ہیں وہ تو ہمیں دیتے ہیں اور سرکاری محکمے واجبات نہیں دیتے۔ چیف جسٹس کی مہربانی ہے وہ میرا نقطہ نظر سمجھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس بات کو یقینی بناﺅں گا کہ آپ کے واجبات آپ کو ملنے چاہئیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک جملے کے اندر آرڈر کیا تو جتنے سرکاری اشتہارات کے بل ہیں ایک ہفتے کے اندر اندر وہ اخبارات کو ادا کئے جائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مجھے کہا کہ اے پی این ایس سے ایک آدمی، سی پی این ای سے ایک بندہ اور پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن سے ایک بندہ اور سنٹرل گورنمنٹ، فیڈرل گورنمنٹ کے سیکرٹری صاحب یا انن کا نامزد ایک بندہ، ان چار بندوں کی کمیٹی بناتا ہوں جو بیٹھ کر ایک ہفتے کے اندنر ادائیگی کروائیں۔ میں نے کہا کہ مجھے بہت سفر کرنا پڑے گا، میں نے اپنی سیکرٹری جنرل اعجاز الحق کو کو کہا، اے پی این ایس سے سرمد صاحب گئے، ادھر سے واجد صاحب گئے اور اے پی آئی اور سلیم صاحب سے مقرر ہوئے۔ ایک ہفتہ تو ایک طرف سوا مہینہ گزر گیا۔ سرکاری واجبات کون دیتا ہے۔ ہم نے پھر شور مچایا اور سپریم کورٹ کے آرڈرز کے تحت انہوں نے کہا کہ آپ فوراً یہ ادائیگی کریں چنانچہ پرسوں پہلی ادائیگی 35 کروڑ روپے کا چیک اے جی پی آر سے بن کر متعلقہ چار ایجنسیوں کو چلا گیا۔ ہم اس پر شکریہ کا اشتہار بھی چھاپ رہے ہیں اور خط بھی لکھا ہے کہ جناب آپ کا بہت شکریہ۔ باقی بھی کچھ واجبات ہیں لیکن میں اس بات پر خوش ہوں کہ اگر چیف جسٹس صاحب نے ہماری سرزنش کی، کوئی بات نہیں ان کا حق ہے، جہاں کہیں بے قاعدگی ہو۔ لیکن انہوں نے ہمارا موقف بھی سنا کہ ہماری بھی ادائیگی کروائیں۔ نہ صرف ادائیگی ہوئی بلکہ نہیں ہو رہی تھیں اور دوبارہ ان کا سخت حکم آیا اوار پرسوں 35 کروڑ کی ادائیگی کے چیک جاری ہو گئے۔ جس پر میں چیف جسٹس صاحب کا بہت شکر گزار ہوں۔


















