گورنرز کو فارغ ، مئیرز کو ایک ماہ کیلئے معطل کیاجائے، 22جولائی کوتاریخی جلسے ہونگے،ا ہم انکشافات کرونگا : شیخ رشید کا ”خبریں “کو انٹرویو

راولپنڈی(ممتاز خان سے) عوامی مسلم لیگ پاکستان کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ گورنر ہاﺅسز الیکشن سیل بنے ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر فارغ کیا جائے اور میئرز کو ایک ماہ کیلئے معطل کیا جائے تاکہ الیکشن صاف شفاف اور بروقت ہوسکیں،نواز شریف کیخلاف کیسز کا فیصلہ الیکشن سے پہلے ہونا چاہیئے،25 جولائی کو قلم دوات کے نشان پر تاریخی کامیابی حاصل کریں گے اور راولپنڈی کی ساری سیٹیں جیتیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لال حویلی میں ”خبریں،،کو انٹریو دیتے ہوئے کیا،شیخ رشید احمد نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے 25 جولائی کو قلم دوات کے نشان پر تاریخی کامیابی حاصل کروں گا،ملک میں صاف شفاف اور منصفافانہ الیکشن کی توقع رکھتا ہوں،نگران حکومت انتخابات میں مداخلت اور سرکاری وسائل کے استعمال کی روک تھام کو یقینی بنائے اور میئرز کو ایک ماہ کیلئے معطل کیا جائے،ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ میرے فیصلے کے حوالے سے بڑا شور مچایا جارہا تھا ،میرا فیصلہ تو آگیا ہے اب ایفی ڈرین والوں کا 9 سی کا فیصلہ آنا ابھی باقی ہے،انشاءاللہ راولپنڈی کو چوروں ،لٹیروں ،منشیات فروشوں اور قبضہ گروپوں سے نجات دلائیں گے،نواز شریف کیخلاف نیب کیسز کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ ان کیسزکا فیصلہ الیکشن سے پہلے ہونا چاہیئے،مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ تحریک انصاف چوہدری نثار کے مقابلے میں امیدوار کھڑا کرتی ہے یا کہ نہیں اس بارے میں عمران خان ہی بہتر بتاسکتے ہیں البتہ چوہدری نثار پہلا الیکشن کسی سہارے کے بغیر لڑنے جارہے ہیں،انہوں نے کہا کہ گورنرز ہاﺅس الیکشن آفس بنے ہوئے ہیں،نگران وزیراعظم فوری طور پر ایکشن لیں اورگورنرز کو فوری طور پرگورنرز ہاﺅس سے نکالا جائے،الیکشن سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ شہر میں جوا چل رہا ہے کہ الیکشن ہونگے یا کہ نہیں لیکن میرے خیال میں اب الیکشن ہونے چاہئیں اور پولنگ کا وقت رات12 بجے تک بڑھایا جائے کیونکہ اتنی سخت گرمی میں لوگ ووٹ کیسے ڈالیں گے۔3۔3 گھنٹے لوگوں کو ووٹ ڈالنے کیلئے لائنوں میں کھڑا ہونا پڑے گا جس سے اموات بھی واقع ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف ملک واپس آتے ہیں یا کہ نہیں کچھ پتہ نہیں ہے۔ میری انتخابی مہم زوروں پر ہے،عوام میرے ساتھ ہیں،22 جولائی کواین اے60 اور23 جولائی کو این اے62 کے 2دن تاریخی جلسے لیاقت باغ میں کروں گا اور اہم انکشافات بھی کروں گا۔ان جلسوں میں عمران خان کوبھی شرکت کی باقاعدہ دعوت دی جائے گی،انشاءاللہ دونوں حلقوں میں ایک ایک لاکھ سے زائد ریکارڈ ووٹوں سے کامیابی سے ہمکنار ہوں گا اور راولپنڈی کی ساری سیٹیں جیتیں گے۔انہوں نے مذید کہا کہ قومی اسمبلی میں شیخ رشید کی آواز راولپنڈی کے غریب عوام کی آواز بلند ہوگی،کامیابی کے بعد ترجیحی بنیادوں پر تعلیم،صحت اور روزگار سمیت پینے کے صاف پانی کے مسائل حل کراﺅں گا۔

دورہ زمبابوے،احمدشہزادکی قومی سکواڈسے چھٹی

لاہور(نیوزایجنسیاں) دورہ زمبابوے کے لئے قومی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا۔پاکستان، زمبابوے اور آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی ٹرائی سیریز یکم جولائی سے 8 جولائی تک زمبابوے میں شیڈول ہے جس کے لئے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور کپتان سرفراز احمد سے مشاورت کے بعد ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے اسکواڈ کا اعلان کردیا ہے اور دورہ زمبابوے سے قبل ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر احمد شہزاد کو ڈراپ کردیا گیا ہے۔قومی ٹیم کے 15 رکنی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کی قیادت سرفراز احمد کریں گے، دیگر کھلاڑیوں میں فخر زمان، محمد حفیظ، صاحبزادہ فرحان، حارث سہیل، شعیب ملک، آصف علی، حسین طلعت، محمد عامر، فہیم اشرف، شاداب خان، محمد نواز، حسن علی، عثمان خان شنواری اور شاہین شاہ آفریدی شامل ہیں۔پاکستان اور زمبابوے کے مابین 5 ون ڈے میچز پر مشتمل سیریز 13جولائی سے 22جولائی تک کھیلی جائے گی، ون ڈے سیریز کے لئے 16 رکنی ٹیم میں فخر زمان، امام الحق، محمد حفیظ، شعیب ملک، بابر اعظم (فٹنس سے مشروط)، آصف علی، سرفراز احمد کپتان، محمد نواز، شاداب خان، فہیم اشرف، محمد عامر، جنید خان، عثمان شنواری، یاسر شاہ، حسن علی اور حارث سہیل شامل ہیں۔

ٓٓٓٓبرازیل نے کو سٹار یکا کی امیدوں پر پانی پھیر دیا

سینٹ پیٹرزبرگ(نیوزایجنسیاں) فٹ بال ورلڈ کپ 2018 کے گروپ ای کے میچ میں برازیل نے کوسٹا ریکا کو 2-0 سے شکست دے دی۔یہ میگاایونٹ میں برازیل کی پہلی کامیابی ہے۔لگاتاردوسری شکست کے بعدکوسٹاریکاکی ٹیم فائنل 16کی دوڑسے باہرہوگئی۔گروپ ڈی میں نائیجریا نے آئس لینڈکو2-0سے ہراکر پہلی فتح سمیٹ لی۔فاتح سائیڈکےلئے دونوں گولز احمدموسیٰ نے سکورکیے۔نائیجریا کو ابتدائی میچ میں کروشیا کے ہاتھوں2-0سے شکست ہوئی تھی۔روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں کھیلے گئے میچ میں مجموعی طور پر برازیل حاوی رہا تاہم کوسٹا ریکا نے اسے مقررہ 90 منٹ تک گول کرنے سے باز رکھا۔تاہم اختتامی لمحات میں پہلے کوٹنہو اور پھر نیمار کے گولز کی بدولت برازیل نے سبقت حاصل کرلی جو میچ کے اختتام تک برقرار رہی۔ برازیل اور کوسٹاریکا کے درمیان میچ میں پاکستانی نوجوان احمد رضا نے ٹاس کیا۔ عالمی مقابلوں کےلئے گروپ ای میں شامل برازیل اور کوسٹاریکا کی ٹیمیں مدمقابل ہوئیں ¾15 سالہ نوجوان احمد رضا کا تعلق پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے ہے اور وہ پہلے پاکستانی بن گئے ہیں جنہیں عالمی کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔برازیل نے ٹورنامنٹ کو اپنا پہلا میچ سوئٹزر لینڈ کے خلاف کھیلا تھا جو 1-1 سے برابر رہا تھا۔گزشتہ روز ارجنٹینا کو کروشیا کے خلاف میچ میں 3-0 سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے باعث اس کے ناک آو¿ٹ مرحلے تک رسائی کٹھائی میں پڑگئی ہے۔ایک ماہ تک جاری رہنے والے فٹ بال کے میگا ایونٹ میں دنیا بھر سے 32 ٹاپ ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں جنھیں 8 مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ایونٹ میں گروپ ایف میں عالمی چیمپئن جرمنی کو رکھا گیا ہے۔ میگا ایونٹ میں شرکت کرنے والی 32ٹیموں میں گروپ اے میں میزبان روس، سعودی عرب، مصر اور یوروگوئے شامل ہیں، گروپ بی میں پرتگال، سپین، مراکش اور ایران شامل ہیںِ، گروپ سی میں فرانس، آسٹریلیا، پیرو اور ڈنمارک شامل ہیں، گروپ ڈی میں ارجنٹائن، آئس لینڈ، کروشیا اور نائیجریا شامل ہی، گروپ ای میں برازیل، سوئٹزرلینڈ، کوسٹاریکا اور سربیا شامل ہیں، گروپ ایف میں دفاعی چیمپئن جرمنی، میکسیکو، سویڈن اور کوریا شامل ہیں، گروپ جی میں بیلجیئم، پانامہ، تیونس اور انگلینڈ شامل ہیں جبکہ گروپ ایچ میں پولینڈ، سینیگال، کولمبیا اور جاپان شامل ہیں۔

حیرت ہے سیاسی جماعتیں بلدیاتی سربراہوں کو معطل کرنیکی بات ہی نہیں کر رہیں : ضیا شاہد، ملتان کا آر پی او ابو بکر خدا بخش اعلانیہ قادیانی ، اپنوں کو پروموٹ کرتا ہے : سید کفیل بخاری ، بلدیاتی سربراہ فوراً معطل کریں ورنہ الیکشن شفاف نہیں ہونگے : کنور دلشاد ، چینل ۵ کے لائیو پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ مشرف کو خطرہ تھا کہ گرفتار کر لیا جائے گا وہ پاکستان نہیں پہنچے سپریم کورٹ نے ان کو یقین دہانی کرائی تھی اس کو انہوں نے ادھوری یقین دہانی قرار دیا کہ ایئرپورٹ سے سپریم کورٹ تک انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا لیکن بعد ازاں کوئی یقین نہیں تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پرویز مشرف کا اگلے 5 سال کے لئے سیاسی طور پر بستر گول ہو گیا ہے۔ اور اب جو ان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر امجد جو ان کے وزیر بھی رہے ہیں۔ مشرف نے پارٹی سے بھی استعفیٰ دے دیا انہوں نے ڈاکٹر امجد کو ایکٹنگ چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔ اگر وہ پارٹی میں نہ ہوتے اور الیکشن نہیں لڑتے تو کتنے امیدوار ان کی پارٹی پر الیکشن لڑ رہے ہیں، یہ بات ڈاکٹر امجد ہی بتا سکتے ہیں۔ کیا عملاً اب پارٹی کا سیاسی مستقبل نظر آتا ہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر امجد نے کہا ہے پرویز مشرف صاحب نے چیئرمین شپ چھوڑی ہے پارٹی نہیں چھوڑی وہ پارٹی کے قائد بھی ہیں اور چیف پیٹرن بھی ہیں۔ چیئرمین شپ اس لئے چھوری کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں کہا تھا کہ ان کا جو ڈس کوالیفکیشن والا کیس ہے سپریم کورٹ نے ان کو ریلیف نہیں دیا۔ سپریم کورٹ نے اپیل پینڈنگ کر دی اس لئے الیکشن کمیشن نے ہمیں کہا کہ جب تک وہ ڈس کوالی فیکیشن والی شرط ختم نہیں ہوتی وہ پارٹی کے چیئرمین نہیں رہ سکتے۔ جس پر مشرف صاحب نے مجبوراً استعفیٰ دیا۔ دوسرا طریقہ یہ بھی تھا کہ جیسے نوازشریف کو نااہل کیا لیکن انہوں نے پارٹی کی صدارت نہیں چھوڑی جب الیکشن کمیشن نے ان کو ڈی نوٹی فائی کیا تو انہوں نے کہا قانون بنوا لیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پارٹی چھوڑنا پڑی لیکن مشرف کو ایک ہی دفعہ سپریم کورٹ نے پوچھا اور انہوں نے کہا کہ اگر یہ غیر قانونی ہے تو میں استعفیٰ دے دیتا ہوں، میں اپنی جگہ ایک چیئرمین بنا دیتا ہوں جب میری یہ ڈس کوالیفکیشن کی شرط ختم ہو گی تو میں دوبارہ پارٹی صدر یا چیئرمین بن جاﺅں گا۔ یہ عارضی طور پر انتظام ہے سیاست نہیں چھوڑی پارٹی نہیں چھوڑی کارکنوں کو نہیں چھوڑا۔ وہ ہماری رہنمائی کیا کریں گے ابھی وہ خود میڈیا میں آ کر اعلان بھی کریں گے خود میڈیا میں آ کر اور اس کے علاوہ پارٹی جلسوں سے ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے۔ ضیا شاہد نے پوچھا کہ ڈاکٹر امجد صاحب آپ کی پارٹی کی طرف سے کتنے لوگ قومی اور صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے ہیں، کس کس صوبے سے لڑ رہے ہیں۔ ڈاکٹر امجد نے کہا کہ 52 لوگ چاروں صوبوں سشے ہماری پارٹی کی طرف سے ایم این اے کے امیدوار ہیں ان کو ہم نے ٹکٹ دیئے ہیں اور انہوں نے اپنی کمپین شروع کر دی ہے۔ میں بھی ان کے حلقوں میں جاﺅں گا اور پرویز مشرف بھی خطاب کریں گے۔ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہمارے امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔ کے پی کے اسمبلی میں 52، کراچی میں 50 لوگوں کو پارٹی ٹکٹ کنفرم کئے ہیں کل لاہور میں مرکز اور جنوبی پنجاب کی میٹنگ ہے جس کو کوئی 67 کے لگ بھگ امیدوار ہیں، لوگ تو اسی جوش و خروش سے ہمارے پاس درخواستیں دی ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ الیکشن کمشن کو چاہئے کہ وہ ایاز صادق کی شکایت کا نوٹس لیا وہ قومی اسمبلی کے سپیکر رہے اور مسلم لیگ ن کے اہم ایم این اے بھی رہے اگر ان کے پاس جنیوئن ثبوت ہیں تو ضرور اس پر تحقیقات ہونی چاہئے۔ لیکن مجھے ایک مصرعہ یاد آ رہا ہے کہ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔ یہی ایاز صادق تھے لاہور میں ان کا طوطی بولتا تھا اور اسمبلی میں بھی ان کے طوطے بولتے تھے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ آج میری ملاقات ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے ہوئی انہوں نے دو چیزوں کی طرف توجہ دلائی ایک تو انہوں نے کہا کہ میری پارٹی تو سیاست میں حصہ نہیں لے رہی اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ انتخابی اصلاحات میں جو پارٹیاں موجود تھیں انہوں نے عملاً کوئی بھی کام نہیں کیا۔ دوسری بات یہ کہی کہ پہلے دھرنے میں جو چودھری شجاعت اور جو اس وقت کی پیپلزپارٹی کی حکومت تھی انہوں نے جو مجھے یقین دلایا تھا اس کا کوئی کام نہیں ہوا اور تیسری بات یہ کہی کہ نہ صرف یہ کہ سیاسی گورنروں کی موجودگی میں صاف شفاف الیکشن نہیں ہو سکتے کہ گلی اور محلے میں جہاں ووٹرز گھر سے نکلتا ہے جس سے زیادہ اس کو متاثر کرتا ہے اس کو بلدیاتی منتخب نمائندہ ہے کونسلر ہو یا چیئرمین ہو۔ نکاح کے اندراج سے لے کر اور پیدائش کے اندراج تک اور سڑک کی تعمیر سے لے کر گلی محلے کے کام بلدیاتی اداروں کے پاس ہوتے ہیں لہٰذا وہ سب سے زیادہ اثر انداز ہو سکتا ہے جو بھی ایم این اے اور ایم پی اےسے بھی کہیں زیادہ اس کا اثرورسوخ عام ووٹر پر ہوتا ہے۔ اور جب میں نے ان کو بتایا کہ ہمارے دوست کنور دلشاد نے 2008ءمیں بطور سیکرٹری الیکشن نے خود آرڈر جاری کر دیا جائے ان کو الیکشن کے دوران۔ خود طاہر القادری صاحب نے کہا کہ یہ سب سے زیادہ ضروری کام ہے۔ ان کو معطل کئے بغیر صاف شفاف انتخابات کا خواب کیسے دیکھ سکتے ہیں۔
کنور دلشاد نے کہا کہ طاہر القادری نے درست فرمایا ڈاکٹر صاحب کا 15 جنوری 2013ءمیں کامیاب دھرنا ہوا تھا۔ اس میں معاہدہ ہوا تھا کہ سکروٹنی جو ہے جانچ پڑتال کا عمل جو ہے سات دن کے اندر کی بجائے 15دن رکھا جائے گا اور الیکشن کمشین جو اس وقت تھا غیر قانونی اور غیر آئینی تھا اس کو بھی معطل کیا جائے گا وہ بہت بڑا معاہدہ ہوا تھا لاہور میں پریس کانفرنس ہوئی تھی اس میں خورشید شاہ صاحب اور پوری حکومت جو اس وقت تھی موجود تھی۔ مجھے بھی بطور آبزرور طاہر القادری نے بلایا تھا۔ سب نے اتفاق کیا تھا کہ اس کو 15 دن کر دیں گے۔ میں نے کہا بہت آسان ہے۔ معاہدہ ہوا جب حالات تبدیل ہوئے گرد بیٹھ گئی اور طاہر القادری صاحب سپریم کورٹ میں چلے گئے کہ الیکشن کمیشن کو برطرف کیا جائے یہ غیر قانونی ہے جسٹس افتخار چودھری صاحب نے بھی طاہر القادری کی پٹیشن خارج کر دی۔ ہمارا مطالبہ ہے آپ کی وساطت سے کہ فوری طور پر لوکل گورنمنٹ کا سسٹم غیر فعال، مفلوج کر دیا جائے ان کی موجودگی میں شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ہمارا پولنگ سٹاف کا تیسرا حصہ اس کا تعلق بھی لوکل گورنمنٹ کے اداروں سے ہے اور اسی طرح شہباز شریف نے جاتے جاتے جو 3 لاکھ کے لگ بھگ جو کنٹریکٹ پر تھے ان کو بھی کنفرم کر دیا۔ لوکل گورنمنٹ کا جو سسٹم ہے فوراً معطل کیا جائے اس الیکشن کمیشن سے ہے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو اس میں ذرہ برابر بھی دلچسپی نہیں ہے۔ کسی ایک سیاسی جماعت نے خواہ پیپلزپارٹی ہو یا پی ٹی آئی۔ دھاندلی کے خلاف سب سے زیادہ تحریک تو پی ٹی آئی نے چلائی تھی۔ کنور دلشاد نے کہا ہے کہ بلدیاتی اداروں سے سب کے فوائد ہیں۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ میں ان کا کنٹرول ہے۔ پنجاب میں نوازشریف کا فائدہ وہ بھی خاموش ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی رورل ایریا میں ہے اس کو سارے فائدہ اس کو نظر آ رہے ہیں اپنے اپنے مفادات کی وجہ سے پارٹیاں خاموش ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ میاں غفار نے ملتان سے بتایا کہ یہاں اس بات پر نارضگی پائی جاتی ہے، لوگوں کو اعتراض ہے کہ خدا بخش جو آر پی او ملتان بنائے گئے ہیں ان کا تعلق شاید قادیانیوں سے ہے۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ شہباز شریف جو ڈیرہ غازی خان میں جو الیکشن لڑ رہے ہیں اویس لغاری کے حلقے میں وہاں بھی ان کے بھانجے یا بھتیجے جو ہیں وہ پولیس افسر سربراہ بنائے گئے ہیں ان کا تعلق بھی قادیانی مذہب سے ہے۔ آپ کی تنظیم جس کا بڑا مقام ہے جس نے ختم نبوت کی تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ کیا آپ نے اس معاملے پر غوروفکر کیا ہے اور کس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ کفیل بخاری نے کہا کہ ملک ابوبکر خدا بخش کھوکھر کا اعلانیہ قادیانی ہے ہمیں کسی قادیانی پر ذاتی طور پر اعتراض نہیں ہے۔ وہ ملازمتوں میں موجود ہیں جب وہ اپنی حقوق سے تجاوز کر کے مسلمانوں کے حقوق کو پامال کرتے ہیں اور آئینی طور پر وائلیشن کرتے ہیں تو اس کا ہم نوٹس لیتے ہیں یہ ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔ ابوبکر خدا بخش کھوکھر خوشاب میں رہے تو وہاں پر ان کی کارکردگی انتہائی قابل اعتراض رہی وہاں انہوں نے ایک مسلماننوں کی مسجد پر قادیانیوں کا قبضہ کرایا اس پر عدالتی کارروائی عل رہی تھی مسلمانوں نے عدالت میں درخواست دی ہوئی تھی کیس چلتا رہا۔ یہ قادیانیوں کو پروموٹ کرتے رہے اور اس مسجد کے جو متولی تھے سید اطہر شاہ صاحب وہ اب بھی وہاں موجود ہیں ان کو خاصا ہراساں کیا گیا اور اس کیس کو انہوں نے مداخلت کر کے خراب کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اللہ کے فضل سے وہ کیس مسلمانوں کے حق میں ہو گیا اور مسجد کی رجسٹریشن بھی مسلمانوں کے حق میں ہو گئی۔ خوشاب ہمارا بڑا حساس علاقہ ہے کیونکہ یہاں پر ہمارے ایٹمی اثاثے ہیں، ملکی دفاع کا مسئلہ ہے تو وہاں جتنا بھی ایٹمی مرکز ہے وہاں آس پاس انہوں نے قادیانیوں کو بڑے وسیع پیمانے پر انہوں نے انہیں لے کر دیں یہ ہمارے نیو کلیئر پروگرام کے حوالے سے انتہائی خطرناک ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر بھی اس مسئلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں، زاہد ملک کی کتاب میں ہی اس پر کمنٹس کئے ہیں کہ یہ لوگ ہمارے ایٹمی اثاثوں کو نقصان پہنچانے والے لوگ ہیں۔ یہ شیخوپورہ بھی گئے وہاں بھی ان کی سرگرمیاں قادیانیوں کو پروموٹ کرنے کے حوالے سے نہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں اس کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ ملتان میں یہ کیا کرتے ہیں ڈی جی خان کا معاملہ میرے پاس ابھی کلیئر نہیں ہوا وہاں کون صاحب گئے ہیں۔ شہباز شریف وہاں الیکشن لڑ رہے ہیں کہا جا رہا ہے کہ کوئی وقاص صاحب ہیں لیکن ابھی کنفرم نہیں ہوا۔ شہباز شریف کا یہ خاص آدمی ہے خدا بخش خاص طور پر ان کے پسندیدہ لوگوں میں رہے ہیں ان کو خاص مقامات پر تعینات کر کے کام لیا جاتا ہے۔ قصور میں جو کیس ہوا تھا بڑا دردناک اس میں بھی ان کو انکوائری میں شامل کیا گیا۔ پھر احتجاج پر ان کو ہٹایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ختم نبوت معاملے میں این جی او پلڈ اٹ بہت زیادہ متحرک تھی۔ قادیانیوں کو سیاست میں لانا عالمی استعمار کا پرانا ایجنڈا ہے وہ کسی کو بھی استعمال کر سکتے ہیں، نوازشریف کو بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت بل پر اسمبلی کے ممبران نے بغیر پڑھے دستخط کر دیئے، عوامی احتجاج و شیخ رشید نے آواز اٹھائی تو تبدیلی کو واپس لے لیا گیا، اب بھی کوشش چل رہی ہے لیکن یہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی اپنی آئینی حیثیت کو تسلیم کریں، اقلیتی نشستوں پر الیکشن لڑیں کوئی اعتراض نہیں۔

یاسرکانام بھی سکروٹنی لسٹ میں شامل ہے،طاہرشاہ، عمراکمل کی طرح احمدشہزادبھی ٹیم کےلئے اچھا نام نہیں بنارہے، چینل ۵کے پروگرام” گگلی “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر شاہ نے کہا ہے کہ یاسر شاہ کا بھی ڈوپ ٹیسٹ ہو گا وہ سکروٹنی لسٹ میں ہیں۔ چینل فائیو کے کرکٹ پر تبصروں کے خصوصی پروگرام گگلی میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کا پلاسٹر اترگیا ہے، انکا فٹنس ٹیسٹ لیا جائے گا۔ عماد وسیم اور رومان رئیس کو بھی پی سی بی نے فٹنس ٹیسٹ کیلئے بلایا ہے۔ زمبابوے میں آسٹریلیا کی ٹیم زیادہ مضبوط نہیں ہے۔ پاکستان کی جانب سے نئے لڑکے سیریز کے لیے جائیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ کرکٹ کمنٹیٹر ساجد اسد علی خان نے کہا کہ عمراکمل کی طرح احمد شہزاد بھی پاکستان کیلئے اچھا نام نہیں بنارہے۔ ماری جواناکے استعمال کی خبریں بھارتی میڈیا مصالحے لگا کر پیش کر رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ کے حوالے سے یہ خبر تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکی جگہ شان مسعود ٹیم میں کھیل سکتے ہیں۔

الیکشن جیتنے کیلئے لڑ رہے ہیں ، کسی رشتہ دار کو ٹکٹ نہیں دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، آئی این پی) تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ یہ الیکشن ہم جیتنے کیلئے لڑ رہے ہیں۔ میں نے اپنے کسی دوست یا رشتہ دار کو ٹکٹ نہیں دیا اورنہ ہی کسی سے ٹکٹ کیلئے کوئی پیسہ لیا ہے ۔ اپنے حق کے لئے پرامن احتجاج پر کارکنوں کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ بنی گالا میں احتجاج والے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ میں کارکنوں کے جذبے کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں کیونکہ آپ کا جذبہ انصاف لینے کا ہے ۔ ہم نے ڈی چوک میں اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ انصاف کیلئے 136دن گزارے ۔ ہم چاہتے تھے کے 2013کے الیکشن کی تحقیقات کی جائیں کیونکہ ہم کو انصاف نہیں مل رہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپ کا حق ہے کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کے ٹکٹ دینے میں نا انصافی ہوئی تو یہ آپ کاحق تھا یہاں آنا ۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے میں 136دن اتنے مشکل نہیں تھے جتنے ٹکٹ دینے میں 3ہفتے گزارے ۔ ساڑھے چارہزار لوگوں نے ٹکٹ کے لئے اپلائی کیا تھا ابھی تک ساڑھے چارسو لوگوں کو ٹکٹ ملے اور زیادہ سے زیادہ سات سو لوگوں کو ٹکٹ ملیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ کارکنوں کے آواز بلند کرنے پر میں از سرنوجائزہ لے رہا ہوں کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں کے کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہوجائے ۔ انہوں نے کہا کہ 10فیصد حلقوں میں ہمیں مشکل پڑ رہی ہے کیونکہ کچھ امیدواروں کے جیتنے کے زیادہ مواقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن ہم جیتنے کیلئے لڑ رہے ہیں کیونکہ اگر لیکشن جیتیں گے تو تبدیلی لے کر آئیں گے ۔انہوں نے کہا کہ یہ آسان کام نہیں ہے لیکن میں دیانتداری سے پوری کوشش کرہا ہوں اور دو تین دن کے اندر لسٹ کاجائزہ لیکردوبارہ لسٹ شائع کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے کسی رشتہ دار یادوست کو ٹکٹ نہیں دیا اور نہ ہی کسی امیدوار سے ایک پیسہ لیا ہے ۔دوسری جانب زعیم قادری کہہ رہا ہے کہ مجھ کوحمزہ شہباز نے اس لئے ٹکٹ نہیں دیا کہ میرے پاس پیسے نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے میری یہ کوشش ہے کہ اسمبلی میں ان خواتین کو لیکر آئیں جو قانون سازی جانتی ہوں اور اسمبلی میں بات کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کارکنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے پرامن احتجاج کیا اوراب آپ پرامن ہو کر بیٹھیں اگلے دو تین دن تک نئی لسٹ جاری ہو جائے گی۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ (ن) لیگ پاکستان کو ریکارڈ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے جیسا تحفہ دے گئی‘ اداروں یں نقصان کی بلند ترین شرح بھی (ن) لیگ کے دور میں رہی‘ (ن) لیگ نے کیا ہی کمال کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جمعہ کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عمران خان نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ (ن) لیگ پاکستان کو ریکارڈ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے جیسا تحفہ دے گئی۔ بلند ترین گردشی قرضہ بھی (ن) لیگ حکومت کا کارنامہ ہے۔ اداروں یں نقصان کی بلند ترین شرح بھی (ن) لیگ کے دور میں رہی۔ تیل کی قیمتیں گرنے سے اربوں ڈالر بچت کے باوجود معیشت کا یہ حال ہوا۔ (ن) لیگ نے کیا ہی کمال کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کارکنوں نے بنی گالہ کے باہر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

پٹرول ٹیکس پر نظر ثانی کی جائے ، ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے

کراچی (این این آئی‘ آئی این پی) چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ لوگ بلک گئے، ہر ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اوپر نیچے کر دیتے ہیں، پالیسیاں کون بنا رہا ہے، لگتا ہے سیاسی وڈیروں نے پمپ کھول لئے ہیں، یہ سب ڈیلرز اور اداروں کی اجارہ داری ہے۔ عدالت پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز اور قیمتوں کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں کیونکہ جس کا دل چاہتا ہے ٹیکس عائد کر دیتا ہے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ٹیکسز سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ کیس کی سماعت کے دوران ایم ڈی پی ایس او پیش ہوئے تاہم چیئرمین اوگرا کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ دوران سماعت ایم ڈی پی ایس او نے عدالت کو بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کے تناسب سے اوسط قیمت مقرر کی جاتی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات پی ایس او سمیت 22کمپنیاں خرید رہی ہیں۔ ایم ڈی پی ایس او کا کہنا تھا کہ مشترکہ اجلاس میں ہر کمپنی 3ماہ کی ڈیمانڈ رکھتی ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی رپورٹ سے مطمئن نہیں، آپ کے ریکارڈ کی ماہرین سے تصدیق کرائیں گے اور اگر رپورٹس میں جھول ہوا تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ لوگ بلک گئے ہر ماہ قیمتیں اوپر نیچے کر دیتے ہیں، لگتا ہے سیاسی وڈیروں نے پمپس کھول لیے ہیں۔ دوران سماعت ڈیلرز کے کمیشن کے تناسب میں فرق پر چیف جسٹس پاکستان نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ لگتا ہے یہ سب ڈیلرز اور اداروں کی اجارہ داری ہے، بتائیں کراچی والوں پر ٹرانسپورٹیشن چارجز کیوں لاگو کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کراچی والوں سے ٹرانسپورٹیشن چارجز کیوں لے رہے ہیں، یہ پالیسیاں کون بنا رہا ہے جس پر ایم ڈی پی ایس او نے کہا کہ پالیسیاں اوگرا بناتا ہے۔ اس موقع پر عدالت میں موجود اوگرا حکام نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اوگرا پالیسیاں بناتا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے طریقہ کار سے متعلق تمام پالیسیاں حکومت بناتی ہے۔ ذمے داریاں ایک دوسرے پر ڈالنے پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہر ادارہ ایک دوسرے پر ذمے داری ڈال رہا ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری خزانہ نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھائیں، اس فیصلے کا بوجھ عبوری حکومت پر آیا لہذا اب خسارہ کم کرنے کے لیے مزید قیمت بڑھائی جا سکتی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اس کا مطلب ہے شہریوں پر مزید عذاب ڈالیں گے، جس کا دل چاہتا ہے ٹیکس عائد کر دیتا ہے، عدالت ٹیکسز اور قیمتوں کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں۔ سیکرٹری خزانہ نے عدالت کو بتایا کہ پیٹرولیم قیمتیں اب بھی خطے میں سب سے کم ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ یہ بات بہت مرتبہ سن چکا، کہا جاتا ہے بھارت کے مقابلے میں قیمتیں کم ہیں تو بھارت کے ڈالرز کی قیمت بھی تو دیکھیں، بھارت اچھا کر رہا ہے یا برا، آپ کیا کر رہے ہیں، لوگوں پر ترس کھانا سیکھیں۔ عدالت نے تمام متعلقہ اداروں سے جامع جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5جولائی تک ملتوی کردی۔

میرے شوہر کو غیر شادی شدہ کیوں کہا؟ مودی کی اہلیہ مدھیہ پردیش گورنر پر برس پڑیں

نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی بیوی جشودا بین مدھیہ پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل پر وزیراعظم نریندر مودی کو غیر شادی شدہ بتانے پر برس پڑیں ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ نریند مودی کی بیگم کے منظر عام پر آنے پر صارفین کے دلچسپ تبصرے سامنے آئے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بیوی جشودا بین جو طویل عرصے سے نریندر مودی سے الگ رہتی ہیں مدھیہ پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل کے وزیراعظم کو غیر شادی شدہ کہنے کے بیان پر خاموش نہ رہ سکیں۔

شہباز شریف لاہور پہنچ گئے ، زعیم قادری کی بغاوت بارے غور

لاہور (این این آئی‘ مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پارٹی اجلاس ہوا جس میں زعیم حسین قادری کی بغاوت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں حمزہ شہباز سمیت مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماﺅں نے شرکت کی۔ اجلاس میں زعیم قادری کی بغاوت کے بعد کی صورتحال سمیت (ن) لیگ کے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر بھی مشاورت کی گئی۔ بعد ازاں شہباز شریف سے امیر مقام اور مرتضیٰ جاویدعباسی نے ملاقات کی، اس موقع پر امیرمقام نے خیبر پختونخوا میں انتخابی مہم اور ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق تجاویز پیش کیں، شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی ناقص کارکردگی عوام کے سامنے لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام مسلم لیگ (ن) سے والہانہ محبت کرتے ہیں، ہماری کارکردگی عوام کے سامنے ہے جبکہ پی ٹی آئی کے پاس دکھانے کے لیے کچھ نہیں۔ شہباز شریف لندن کا دورہ مکمل کرنے کے بعد گزشتہ صبح وطن واپس پہنچ گئے۔ شہباز شریف پی آئی اے کی پرواز پی کے 758 کے ذریعے لندن سے لاہور پہنچے لاہور پہنچنے کے بعد سکیورٹی کی گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ ائیر پورٹ سے ماڈل ٹاﺅن روانہ ہو گئے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر لاہور پہنچنے کے فوری بعد سیاسی سرگرمیوں کے لئے خواجہ سعد رفیق اور سابق صوبائی وزیر رانا مشہود نے رابطہ کیا۔ دونوں سابق وفاقی اور صوبائی وزراءنے شہباز شریف کو ناراض (ن) لیگی رہنما زعیم قادری کو منانے کے بارے میں آگاہ کیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹیلی فونک رابطوں کے بعد سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے زعیم قادری کو خود منانے کا عند یہ بھی دیا ہے۔ ان سے کب رابطہ کیا جائے گا۔ اس بات کا شہباز شریف نے واضح نہیں کیا جبکہ شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) نے ابھی کسی کو ٹکٹ جاری نہیں کیا۔ ٹکٹ کے اجراءکا فیصلہ چند روز میں ہو گا۔ اس حوالے سے زعیم قادری کا غصہ علظ ہے۔ ن لیگ نے آج ٹکٹوں کے اعلان کا فیصلہ کرلیا۔ غیر متنازع حلقوں میں امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا جائے گا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ن لیگ کے اجلاس میں سینئر رہنماو¿ں نے شہباز شریف کو مشورہ دیا کہ اعتراضات بڑھنے لگے ہیں‘ ٹکٹوں کا فوری اعلان کیا جانا چاہیے۔ ن لیگ آج 70 سے 80 فیصد تک حلقوں کے امیدواروں کا اعلان کرسکتی ہے۔

پرویز مشرف نے آل پاکستان مسلم لیگ کی صدارت سے استعفیٰ دیدیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پرویزمشرف آل پاکستان مسلم لیگ کی صدارت سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ ترجمان آل پاکستان مسلم لیگ نے بتایا ہے کہ پرویزمشرف آل پاکستان مسلم لیگ کی صدارت سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ پرویزمشرف نے اپنا استعفی الیکشن کمیشن کوبجھوا دیا ہے۔ اس استعفی کی وجہ ان کےخلاف لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست بنی ہے۔ درخواست میں کہا گیاکہ پرویز مشرف نااہل ہونے کی وجہ پارٹی کی قیادت نہیں کرسکتے۔ پرویزمشرف کی نااہلی پارٹی رجسٹریشن میں رکاوٹ بن رہی تھی۔ ریٹرننگ افسرکی جانب سے نااہل قرار پانے پرپرویزمشرف نے عہدہ چھوڑا تاہم پرویز مشرف پارٹی کے سرپرست رہیں گے۔ آل پاکستان مسلم لیگ کی صدارت اب ڈاکٹر امجد کے سپرد کردی گئی ہے جو پہلے پارٹی کے سیکریٹری جنرل تھے۔مہرین آدم آل پاکستان مسلم لیگ کی سیکرٹری جنرل ہوںگی۔اے پی ایم ایل کی الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کیلئے نئی درخواست بھی دائر کردی گئی ہے۔ درخواست کامتن ہے کہ پارٹی رجسٹریشن میں ڈاکٹرامجدکوسربراہ مقررکیاجائے۔آل پاکستان مسلم لیگ کا قیام 2010 ءمیں آیاتھا۔ اس پارٹی کی لانچگ لندن میں کی گئی تھی۔ پارٹی کا سینٹرل سیکرٹریٹ اسلام آباد میں واقع ہے۔ پارٹی کے کوآرڈینیٹراحمد رضاخان قصوری ہیں۔ آل پاکستان مسلم لیگ کی سینیٹ میں کوئی نمائندگی نہیں ہے تاہم گذشتہ قومی اسمبلی میں اس پارٹی کے پاس صرف ایک سیٹ تھی۔ صوبائی اسمبلی میں بھی چترال سے اس پارٹی کے پاس ایک سیٹ تھی۔سابق صدر پرویز مشرف کے اثاثے بھی سامنے آگئے۔اس سے قبل سابق صدر پرویز مشرف کے اثاثوں کی تفصیلات بھی سامنے آگئی تھیں۔ الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق پرویز مشرف کی پاکستان میں تمام جائیداد اہلیہ کے نام پر ہیں تاہم پرویز مشرف کے مجموعی اثاثے 3 کروڑ 43 لاکھ روپے ظاہر کئے گئے۔پرویز مشرف کی پاکستان میں چک شہزاد فارم کی قیمت 2 کروڑ 37 لاکھ روپے ظاہرکی گئی ہے ، ڈی ایچ اے کراچی میں مکان کی قیمت 50 لاکھ روپے اور ڈان ٹان دبئی میں اپارٹمنٹ کی قیمت 9 کروڑ روپے ظاہرکی گئی۔دستاویز کے مطابق اندرون و بیرون ملک 2 کروڑ 60 لاکھ کی گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں ساتھ ہی مختلف بینک اکانٹس میں 2 کروڑ12 لاکھ روپے بھی موجود ہیں۔واضح رہے کہ پرویز مشرف نااہلی کیس میں سپریم کورٹ نے بڑا حکم دیتے ہوئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی مشروط اجازت دے دی تھی تاہم وطن واپس نہ آنے پر عدالت نے سابق صدر کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا حکم واپس لےلیا تھا۔گزشتہ روزسابق صدر پرویزمشرف کے این اے 1 چترال سے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے جہاں ریٹرننگ افسرمحمد خان نے ان کے کاغذات مسترد کیے۔اس کے علاوہ کراچی کے حلقہ این اے 247 سے سابق صدر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی خود واپس لے لیے گئے۔اس سے قبل نوازشریف بھی سپریم کورٹ کی جانب سے نااہلی پر مسلم لیگ نون کی قیادت سے دستبردار ہوچکے ہیں۔

صنم بھٹو کی اداکارہ بیٹی کی لندن میں غیر مسلم گورے سے شادی

لاہور (نمائندہ خصوصی) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کزن اور صنم بھٹو کی بیٹی آزادے حسین کی شادی لندن میں ایک غیر مسلم گورے کے ساتھ ایک پرائیویٹ ہال میں سرانجام پائی جس میں بلاول بھٹو زرداری، آصفہ زرداری اور بختاور زرداری نے بھی شرکت کی محترمہ بینظیر بھٹو کی بھانجی آزادے حسین ہالی وڈ کی فلم انڈسٹری کی کئی فلموں میں مرکزی کردار ادا کر چکی ہیں جن میں اوفینڈرز، کریسٹی اور آنے والی رشین فلم رینے وسکایا شامل ہیں متذکرہ دونوں فلموں کو عالمی شہرت یافتہ فلمیں قرار دیا جا رہا ہے۔ شادی کی اس تقریب میں بڑی تعداد میں مہمانوں نے شرکت کی۔ اس دوران پاکستان کے حالات پر بحث مباحثہ ہوتا رہا جبکہ دولہا اور دلہن بھی مہمانوں میں گھل مل گئے اور ان کے ساتھ گپ شپ کرتے رہیں۔ دونوں کی مسکراہٹوں اور قہقہوں سے لگتا تھا کہ انہیں اپنی اپنی پسند مل گئی ہے۔

بلدیاتی اداروں کی معطلی کی سفارش کیوں نہیں کرتے : ضیا شاہد ،غور ہو رہا ہے ، گورنر الیکشن کمیشن تبدیل کریگا : علی ظفر ، چینل ۵ کے پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) نگران وفاقی وزیراطلاعات علی ظفر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے قانون کے مطابق نگران حکومت تقرر و تبادلے نہیں کر سکتی، حالیہ جتنے بھی تبادلے ہوئے، الیکشن کمیشن کے کہنے اور ہماری مشاورت سے ہوئے ہیں۔ گورنرز کو تبدیل کرنے پر بھی غور ہو رہا ہے، حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی ہو اگر وہ کسی کو کوئی فائدہ پہنچا رہا ہے تو اسے ہٹا دینا چاہئے۔ گورنرز کی تبدیلی کیلئے میں اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہوں اور کرتا رہوں گا، اچھا ہے کہ یہ بحث ہو رہی ہے، دُعا ہے کہ نتیجہ اچھا نکلے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ آپ اپنی رائے اور مشورہ تو دیں کہ بلدیاتی اداروں کے منتخب ارکان کو 2 مہینوں کیلئے معطل کریں۔ 2008ءمیں اس کی معطلی کی مثال موجود ہے؟ نگران وزیر اطلاعات پنجاب احمد وقاص نے کہا ہے کہ نگران وزیراعلیٰ و کابینہ شفاف انتخابات کے لئے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن سے تمام ہدایات لے رہے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کے حوالے سے بھی ہدایات آئیں گی تو عمل کریں گے۔ بلدیاتی اداروں کو معطل کرنا الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چینل ۵ کے پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

نئے ارکان اسمبلی آتے ہی آرٹیکل 62 ، 63 ختم کردینگے : طاہر القادری ، سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے ، تحریک منہاج القرآن کے سربراہ سے چیف ایڈیٹر خبریں کی ملاقات، گفتگو

لاہور (خبر نگار) تحریک منہاج القران کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیاشاہد سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ جہاں پر سابقہ حکمرانوں کی طرف سے سیاسی طور ملک کے گورنرز کا انتخاب کر کے تعینات کیا جاتا ہے جو عام انتخابات میں اپنی سابق حکومت کے ساتھ وفاداری نبھاتے ہوئے ٹکٹیں تقسیم کر رہے ہوں اور اپنے گورنر ہاوس کو سابقہ حکمرانوں کا مسکن بنا لیں وہاں شفاف الیکشن کیسے ہونگے گورنرز اپنی اولادوں کو الیکشن لڑوا رہے ہوں حالانکہ ملک کے گورنرز غیر سیاسی ہوتے ہیں اور یہ ریاستی ادارے کے نمائندے ہیں لیکن یہاں سب الٹا چل رہا ہے ۔بلدیاتی نمائندے جن میں مئیر سے لے کر کونسلر تک سب الیکشن کمپین میںمصروف ہیں جو سابق حکمرانوں کو جتوانے کے چکر میں ہیں جب بلدیاتی اداروں کے الیکشن ہوئے تھے تو یہ بات واضح تھی۔ شہروں میں مئیر ،ڈپٹی مئیر جو سابقہ ن لیگ حکومت سے وابسطہ ہیں ان کی جماعت کے پلیٹ فارم سے منتخب ہوئے ہیں جو دن رات سابقہ حکومت کے امیدواروں کی کمپین میں مصروف ہیں اور یہ لوگ سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ زیادہ آبادی دیہاتوں مین ہے وہاں یوسی کونسلر اور یوسی چیرمین کا بہت اثر روسوخ ہوتا ہے عوام ان تک محدود رہتے ہیں اب بھی ان کے ذریعے حکومتی فنڈز استعمال کئے جارہے ہیں 2008ءدور حکومت میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بلدیاتی نظام معطل کردیا تھا لیکن موجودہ الیکشن کمیشن کیا کر رہا ہے میری سمجھ سے بالا تر ہے جبکہ اس نظام کو آنے والی حکومت تک معطل کردینا چاہیے تمام ترقیاتی سرکاری فنڈز بند کر دینے چاہیے اگر ایسے رہا تو مجھے نہیں لگتا جنرل الیکشن صفاف شفاف ہونگے ۔علامہ طاہر القادری نے سرکاری مشینری کا ذکرکرتے ہوے ہوئے کہا کہ ن لیگ پچھلے کئی داہائیوں سے اس ملک پر حکمرانی کر رہی ہے اس دوران ملکی بیوروکریسی میں اپنی اتنی نرسری پیدا کی ہے ایک عام کلرک سے لے کر اے سی ،ڈی سی ،کمشنر ،ڈی پی او ،آر پی اوحتی کہ علاقے کا ایس ایچ اوز ان کے اپنی نرسری کے ہیں جس سے اچھے کی امید کرنا بہت مشکل ہے ۔ضیا شاہد کے سوال پر علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ 62.63شق کے حوالے سے ہم نے یہ ایجنڈا پہلے 23دسمبر 2012ءکو مینار پاکستان پر ہونے والے جلسے میں دیا تھا بعد میںجنوری 2013 اسلام آباد میں اس حوالے سے دھرنا بھی دیا تھا اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہمیں یقین دھانی کراوئی اور معاہدہ بھی ہوا جس پر ہم نے دھرنا ختم کیا تھا لیکن اس بارے آج تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور نہ ہی اس پر عمل کیا گیا بلکہ سابقہ پارلیمنٹ نے تو اس بارے تمام شقیںہی ختم کردیں جو بہت بڑا لمیہ ہے ہمارے ملک میں چوروں ،لیٹروں ،قاتلوں کو الیکشن لڑنے کی کھلی چھٹی مل چکی ہے انہوں نے اس شق بارے بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ آنے والی نئی حکومت اس شق 62،63کو آئین سے ہی نکال دے گی جب بھی ان کو موقع ملا کیونکہ اس ملک میں سب مفاد پرست لوگ ہیں اپنے مفاد کی جنگ لڑ رہے ہیں عوام اور پاکستان کا ان میں سے کوئی نہیں سوچ رہا انہوں نے 62،63کے حوالے مزید کہا کہ اس آرٹیکل بارے سیاستدانوں نے تو کچھ نہیں کیا لیکن ہمارے اس ایجنڈے سے عوام کو خوب آگاہی ملی ہے آج ایک عام آدمی ،کسان ،ریڑی چلانے والا ،مزدور ،طالب علم اور ہماری نئی نسل آگاہ ہوگئی ہے آج اس بارے ہر جگہ گفتگو جاری ہے جو سیاستدانوں کےلئے شرمندگی کا باعث بن ہوئی ہے اس پر عدلیہ نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے اب ہر فیصلے میں آرٹیکل 62 , 63کی بات ہوتی ہے جس کی مثال سابق وزیراعظم نواز شریف ہیں اور دیگر لوگ بھی ہیں علامہ طاہر القادری نے مزید کہا کہ میری نظر میں سابقہ دور حکومت شر تھا لیکن آنے والی حکومت میں مجھے شر اور مایوسی اکٹھے نظر آرہی ہے۔