لندن (وجاہت علی خان سے) لندن میں موجود پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور ان کی فیملی کے دیگر افراد کی جائیدادوں کی تحقیقات کی جائیں۔ ”ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل“ نے برطانیہ کے تحقیقاتی و تفتیشی اداروں کو ایک دفعہ پھر خط لکھا ہے کہ وہ 31 جنوری 2018ءسے لاگو ہونے والے قانون UNEXPLAIND WEALTH ORDER کے تحت خصوصی طور پر پارک لین پر واقعہ اس فیملی کے چار فلیٹس 16 اور 16 اے، نمبر 17 اور 17 اے کے بارے میں تفتیش کریں اور انہیں خریدنے کیلئے منی ٹریل کے ذرائع کا کھوج لگائیں۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق لینڈ رجسٹری سے حاصل کی گئی دستاویزات کے مطابق یہ فلیٹس دو کمپنیز نیسکول اور نیلسن لمیٹڈ کی ملکیت ہیں اور پانامہ پیپرز میں بھی ملکیت انہی کمپنیز کی ظاہر کی گئی ہے اور یہ کمپنیز نواز شریف کنٹرول کرتے ہیں۔ ٹرانسپرنسی کے مطابق 2017ءمیں جب پاکستانی اداروں نے تفتیش کی تو یہ بات سامنے آئی کہ یہ فلیٹس 1993ءاور 1995ءمیں کسی قسم کی مارگیج یا بینک قرضہ کے بغیر خریدے گئے لیکن آج تک ان فلیٹس کو خریدنے کیلئے رقوم کے ذرائع سامنے نہیں آ سکے۔ ٹرانسپرنسی کا کہنا ہے کہ اب کیونکہ برطانیہ میں ”یو ڈبلیو او“ قانون موجود ہے اس لیے اس کے تحت یہ تفتیش کی جانی چاہیے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے 2014ءمیں بھی مذکورہ فلیٹس اور لندن میں چار دیگر مختلف ممالک کے ارب پتی افراد کی جائیدادوں کی تفتیش کیلئے برطانوی حکومت کو خط لکھا تھا۔ علاوہ ازیں برطانوی اخبار ”ڈیلی میل“ نے بھی ہفتہ کے روز اپنی اشاعت میں ایک تفصیلی سٹوری شائع کی ہے جس کے مطابق ایون فیلڈ پارک میں لندن کے فلیٹس ہی نہیں برطانیہ میں شریف فیملی کی 21 دیگر پراپرٹیز بھی ہی جو مہنگی ترین ہیں ان میں مے فیئر، چیلسی اور بیلگریویا جیسے مہنگے علاقے شامل ہیں۔ ”ڈیلی میل“ کے مطابق ان پراپرٹیز کی کم وبیش اندازاً قیمت 32 ملین پونڈ یا تقریباً 500 کروڑ پاکستانی روپے سے زیادہ ہے۔ اخبار کے مطابق ان جائیدادوں کے علاوہ بھی شریف فیملی کی لندن کے مہنگے ترین ایڈریسز پر جائیدادیں موجود ہیں جنہیں پاکستانی عدالتوں میں ابھی تک ڈسکس ہی نہیں کیا گیا ان میں سے صرف ایک پراپرٹی نمبر ون ہائیڈ پارک پلیس حسن نواز نے 43 ملین پونڈ میں فروخت کی چنانچہ شریف فیملی کے برطانیہ میں رئیل اسٹیٹ بزنس کا پورٹ فولیو تلاش کرنا آسان کام نہیں ہے کیونکہ یہ جال کمپنیوں، ٹرسٹوں اور مختلف بینک اکاﺅٹس کی صورت میں ہے۔ اس فیملی کو سال ہا سال اپنا پیسہ برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، مشرق وسطیٰ اور برطانوی ورجن جزائر میں جمع کرنے میں لگے۔ صباح نیوز کے مطابق برطانیہ کی جانب سے نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کے خلاف جے آئی ٹی کی تحقیقات میں عدم تعاون کا انکشاف ہوا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل نے شریف خاندان کے لندن فلیٹس سمیت برطانیہ میں دیگر جائیدادوں اور پاناما لیکس سے متعلق عدالتی کارروائی کی تفصیلات شائع کی ہیں۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت کالے دھن کی آمد اور منی لانڈرنگ کے سدباب کے لیے ٹھوس اقدامات اور دیگر ممالک کی تحقیقات میں مکمل تعاون کے دعوے کرتی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔برطانوی حکومت نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کے دوران تعاون تو درکنار کوئی بھی معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کرنے والے خفیہ ادارے کے ایک افسر نے ڈیلی میل کو بتایا کہ برطانیہ نے معلومات فراہم کرنے سے انکار کرکے تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی، بینک کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان رقوم کی ترسیلات ہوئی تھیں، ہم نے شریف خاندان کے برطانوی اکاونٹس کے ریکارڈ تک رسائی مانگی لیکن ہمیں انکار کردیا گیا۔کیس پر کام کرنے والے دوسرے افسر نے بتایا کہ ہم نے اسکاٹ لینڈ یارڈ سے مدد مانگی اور انہوں نے حامی بھی بھرلی، لیکن جب معلومات کے تبادلے کا وقت آیا تو منع کردیا گیا، یہاں تک کہ جب جے آئی ٹی ارکان نے لندن اور برٹش ورجن آئی لینڈز جاکر خود تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا تو برطانوی سفارت خانے نے انہیں ویزا دینے میں بہت زیادہ تاخیر کی اور کئی ہفتے لگا دیئے۔ پاکستانی افسر نے کہا کہ ممکنہ طور پر اس کی سیاسی وجہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس وقت مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اور برطانوی حکومت پاکستان سے اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ادھر برطانوی محکمہ داخلہ کے ترجمان نے شریف خاندان کے خلاف تحقیقات میں تعاون سے انکار کے الزام پر اپنے مو¿قف میں کہا کہ ہم غیر قانونی سرمائے کے خلاف کارروائی کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہیں، ہم باہمی قانونی معاونت کی درخواستوں کی موجودگی کی نہ تصدیق کرتے ہیں اور نہ ہی تردید کرتے ہیں۔حسین نواز نے معاملے پر مو¿قف دینے سے انکار کر دیا۔
Monthly Archives: June 2018
نواز ، شہباز ، زرداری چوروں کا ٹولہ ، ملک کو کرپشن فری بنائینگے : عمران خان
میانوالی، اسلام آباد (نمائندگان خبریں، اے این این) تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ ن لیگ کے دور حکومت میں ساری ترقی اشتہاروں میں ہوئی ، اشتہاری مہم پر 40ارب روپے خرچ کئے گئے ۔ احسن اقبال کی تجربہ کار ٹیم کرپشن میں لگی رہی ، خود امیر ہوگئے عوام کو مقروض اور غر یب کردیا ۔انہوں نے کہا کہ شریف فیملی اور زرداری کی طرح رشتے داروں اور دوستوں کو ٹکٹ دیتے تو تحریک انصاف اور ان میں کیا فرق رہ جاتا۔میانوالی میں انتخابی مہم کے آغاز پر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عمران حان نے کہا ہے کہ میانوالی اس لئے آیا ہوں کے میانوالی میرے ساتھ اس وقت کھڑا ہوا جب پاکستان میں کوئی میرے ساتھ کھڑا نہیں تھاجب لوگ میرا مذاق اڑاتے تھے کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی لیکن میانوالی کے لوگ میر ے ساتھ کھڑے ہوئے اور 2002ءمیں مجھے قومی اسمبلی میں بھیجا ۔ اگر میں وہ سیٹ نہ جیتتا تو شائد تحریک انصاف ہی نہ ہوتی لیکن آج تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے ۔ اس لئے میں میانوالی سے انتخابی مہم کا آغاز کرکے یہاں کے لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو بدلیں گے یہ وہ پاکستان بنے گا کہ لوگ باہر سے پاکستان میں نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے ۔ میں سب کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میانوالی کے سب لوگ میرے رشتے دار ہیں اورسب ہی ٹکٹ مانگ رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر شریف فیملی اور زرداری کی طرح رشتے داروں اور دوستوں کو سب کوٹکٹ مل جاتے تو پھر تحریک انصاف اور ان میں کیا فرق رہ جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سروے کروا کے ٹکٹ دیئے ہیں رشتہ داروں اور دوستوں کو ٹکٹ نہیں دیئے ۔ انہوں نے کہا کہ جن کو ٹکٹ نہیں ملے میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کے مجھے تکلیف ہے کہ ان کوٹکٹ نہیں ملے جس پر میں ان سے معذرت خواہ ہوں لیکن ان کو ٹکٹ اس لئے نہیں ملے کیونکہ ان کا سروے میں نام نہیں آیا ۔تحریک انصاف صرف میرٹ پر ٹکٹ دے گی ۔ میں نے پوری کوشش کی کے میرٹ پر ٹکٹ دیئے جائیں اور اب بھی از سر نو جائزہ لے رہے ہیں ۔عمران خان نے کہا کہ میں عوام کے سامنے اپنا پروگرام رکھنا چاہتا ہوں کہ ہم پاکستان میں کیا کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کس نے کہا تھا کہ اگر لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہوئی تو میرا نام بدل دینا ؟دونوں شریف بھائیوں نے کہا تھا کہ ہم لوڈ شیڈنگ ختم کریں گے اور شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے تو بجلی بنا دی ہے اب نگران حکومت جانے اور لو ڈشیڈنگ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ شہباز شریف تم بجلی بنا کر بیگ میں ڈال کر گھر لے گئے ہو۔ احسن اقبال کہتا تھا کہ ہم بڑی تجربہ کار ٹیم لیکر آرہے ہیں ہم ملک کے مسئلے حل کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ احسن اقبال تمہار ے پاس واقعی تجربہ کار ٹیم آئی تھی جس کو چوری کرنے اور منی لانڈرنگ کرنے کا تجربہ تھا ۔ انہوں نے 40ارب کے اشتہار دیئے اور سارے ترقیاتی کام اشتہاروں میں ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنا قرضہ اس قوم پر نہیں چڑھا جتنا یہ دونوں بھائی ملک پر چڑھا کر گئے ہیں۔آج ڈالر 125روپے کا ہوگیا ہے ، ان کے بچوں کے بچے پیدا ہوتے ہی ارب پتی اور قوم قرضوں میں ڈوب گئے ہے ۔ معتبر شکل بناکر جھوٹ بولنے والا بتائے کہ اس کو کس چیز کا تجربہ تھا ؟ بتا ئے کہ کوئی ایک ہی ادارہ انہوں نے ٹھیک کیا ہو ۔ سٹیل مل بند ہوگئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جتنا سیاسی شعور آج ہے اس سے قبل نہیں تھا ۔ قوم سوچے کہ پانچ سالوں میں انہوں نے کتنا نقصان کیا ہے ؟ انہوں نے پانچ سالوں میں36ہزارکانقصان کیا ہے ۔ اب ان کی چوری اور نااہلی کی قیمت عوام ادا کرے گئی مہنگائی اور غربت سے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کرپشن کرکے عوام کاپیسہ چوری کرتے ہیں اور اس طرح پاکستان کیسے آگے جا سکتا ہے ۔ نواز شریف اور اس کے بیٹوں نے تین سو ارب کی کرپشن کا جواب دینا تھا جو پیسہ باہر گیا اور یہ قوم کا پیسہ تھا ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف ک بیٹے باہر بھاگ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اس ملک کے شہری ہی نہیں ہیں اس لئے ہم نے جواب نہیں دینا ۔ عمران خان نے کہاکہ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز پنجاب پر لگے ہوئے ۔ میں خواجہ آصف سے پوچھتا ہوں کے آپ پاکستان کے وزیر دفاع تھے اور دبئی کی ایک کمپنی آپ کو کس چیز کی ماہانہ 16لاکھ روپے تنخواہ دے رہی تھی ۔ عمران خان نے کہا یہ ساری ٹیم کرپشن پر لگی ہوئی تھی ۔انہوںنے کہا کہ ڈیڑھ ہفتے میں اپنا منشور پیش کریں گے اور ایسا منشور پاکستان کی تاریخ میں کسی نے نہیں دیا ہوگا ۔ آپ کا ملک آپ کے گھر کی طرح ہے اگر آپ کا خرچ زیادہ اور آمدن کم ہوتوخسارہ بڑھتا جاتا ہے اور بھیک مانگنے والوں کی کوئی عزت نہیں کرتا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے پیسے چوری کرنے سے بچانے کے لئے ہم پولیس ، نیب اور ایف آئی اے کو بھی ٹھیک کریں گے ۔شریفوں نے پنجاب کی پولیس کو تباہ کردیا ہے ۔ وہ وقت دور نہیں کہ آپ پولیس کو دیکھ کر تالیاں بجایا کریں گے ۔ خیبر پختونخوا میں عوام پولیس کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے نکلی تھی ۔ پولیس ٹھیک ایسے ہوتی ہے جب آپ پولیس میں میرٹ لیکر آتے ہیں اور سیاسی مداخلت ختم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے اوپر شریفوں نے 32ایف آئی آرز کاٹی ہوئی ہیں کیا میں شکل سے مجرم لگتا ہوں؟عمران خان نے کہا کہ ڈیڑھ سال ہوگیا ہے نواز شریف کہہ رہا ہے کہ مجھے کیوں نکالا؟عمران خان نے کہا کہ میاں صاحب ہم آپ کو نکالنے کی بات نہیں کررہے بلکہ آپ کو اڈیالہ جیل میں ڈالنے کی بات کر رہے ہیں کیونکہ وہ قوم کاپیسہ تھا جو آپ ملک سے باہر لیکر گئے ۔انہوں نے کہا کہ جب یہ میرے اوپر پولیس سے ذریعے 32ایف آئی آرز درج کروا سکتے ہیں تو غریب آدمی کے ساتھ کیا کچھ نہیں کر وا سکتے ۔انہوں نے کہاجب پولیس ٹھیک ہوتی ہے تو امن آتا ہے تو خوشحالی آتی ہے اور لوگ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ آج جب خیبر پختونخوا میں غربت کم ہوئی ہے تو اس کی وجہ پولیس کا ٹھیک ہونا ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ جب ہم نیا پاکستان بنائیں گے تو نئے ادارے بنائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ لوگ باہر سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے آئیں گے اور ملک ترقی کرے گا ۔ آج ہمارے پاس ملک چلانے کے لئے پیسہ نہیں ہے کیونکہ کوئی ٹیکس نہیں دیتا ۔ میں ان پاکستانیوں سے ہی آپ کو ٹیکس اکٹھا کرکے دکھاں گا ۔میں اسی پاکستان سے آپ کو 8ہزار ارب روپے ٹیکس اکٹھا کرکے دکھاں گا ۔ پاکستانی سب سے زیادہ خیرا ت دیتے ہیں اور سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں کیونکہ ان کو حکومت پر اعتبارنہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے نمل یونیورسٹی اس لئے بنائی تھی کہ جب میں میانوالی میں آتا تھا تو نوجوان کہتے تھے کہ ہم بیروز گار ہیں لیکن آج نمل یونیورسٹی میں جیسے ہی طالبعلم ڈگری لیتے ہیں ان کوروز گار مل جاتا ہے ۔اس یونیورسٹی میں پڑھنے والے 80فیصد اردو میڈیم سکولوں کے بچے ہیں۔ ہم پاکستان میں تعلیمی ایمرجنسی لگانی ہے ۔ ٹیکنیکل سکول بنائیں گے تاکہ لوگوں کو روز گار ملے ۔عمران خان کا کہنا تھا کہ یورپ میں پاکستانی جاکے محنت کرتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کر جاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں لوگ کام کرتے ہیں تو ان کو پیسہ ملتا ہے ، بچوں کو مفت تعلیم ملتی ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں علاج ہوتا لیکن پاکستان میں مزدور محنت کرتا ہے تو اتنی مزدوری ملتی ہے کہ اس کی روٹی بھی پوری نہیں ہوتی ۔انہوں نے کہاکہ کے پی کے میں پولیس کانظام بہتر ہوا ، سکول بہتر ہوئے ، ہسپتال بہتر ہوئے اوربلدیاتی نظام بہتر ہوا ۔ عمران خان نے کہا کہ ہم نے کے پی کے میں اپنے بچوں کے مستقبل کا سوچا ۔کے پی کے میں ہم نے جنگلات لگائے لیکن پنجاب میں انہوں نے تمام جنگلوں کا صفایا کردیا ۔ عمران خان نے کہا کہ اگر اللہ تعالی نے ہم کو کامیابی دی تو ہم سارے پاکستان کو ہر ا کردیں گے ۔انہوںنے کہا کہ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس نے ہم کو ان چوروں سے ملک کوبچانے کا موقع دیا ۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ دعا کریں کہ اللہ اس پارٹی کی حکومت لیکر آئے جو غربت ختم کرے ، ظالموں کوجیلوں میں ڈالے اور اپنی آنیوالی نسلوں کی فکر کرے۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے برطانوی میڈیا کی رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران طبقے نے قوم کی دولت پر کیسے ڈاکہ ڈالا اس حوالے سے مزید پڑھئے۔عمران خان نے برطانوی میڈیا ڈیلی میل کی ایک خبر کو سماجی رابطہ سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کیا اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘مزید پڑھیے کیسے کرپٹ حکمرانوں اور انکے خاندانوں نے منی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستانی قوم کی دولت پر ڈاکہ ڈالا’۔برطانوی میڈیا رپورٹ میں لندن کے علاقے مے فیئر میں موجود ایون فیلڈ پراپرٹیز کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہاں موجود 4 فلیٹس شریف خاندان کی ملکیت میں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف 1993 سے جب بھی وہ لندن آتے ہیں تو انہیں فلیٹوں میں قیام کرتے ہیں جن کی مالیت کم از کم 7 ملین پاو¿نڈ ہے۔
ایون فیلڈ ریفرنس: پاناما جے آئی ٹی کی رپورٹ ناقابل قبول شواہد ہے، خواجہ حارث
اسلام آباد( ویب ڈیسک ) شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت میں ہورہی ہے، جہاں سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے پانچویں روز حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاناما جے آئی ٹی کی رپورٹ ناقابل قبول شواہد ہے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں۔مذکورہ کیس کی 22 جون کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے موکل لندن فلیٹس کے بینیفیشل اونر ہیں اور نہ ہی ا±ن کا ان سےکوئی تعلق ہے۔نواز شریف لندن فلیٹس کے بینیفیشل اونر ہیں اور نہ ان سے کوئی تعلق ہے، خواجہ حارث آج جب سماعت شروع ہوئی تو جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ ملزمان میں سے کوئی بھی نظر نہیں آرہا۔ جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ کیپٹن (ر) صفدر تھوڑی دیر میں پیش ہوجائیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ نواز شریف اور مریم نواز بیرون ملک ہیں، اس حوالے سے درخواست جمع کرانی ہے۔تاہم تھوڑی ہی دیر میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کمرہ عدالت میں پہنچ گئے۔سماعت کے باقاعدہ آغاز پر خواجہ حارث نے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاناما جے آئی ٹی کی رپورٹ ناقابل قبول شواہد ہے۔
بیوی کو منانے آئے داماد کو سسرالیوں نے زہر پلا کر قتل کر دیا
سمبڑیال (نمائندہ خبریں) ناراض بیوی کو منانے کے لیے آنے والے داماد کو سسرالیوں نے زہر پلا کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ تھانہ ایئرپورٹ پولیس کے مطابق موضع بہرام تحصیل وزیرآباد کا رہائشی غلام سرور جس کی شادی 8سال قبل سمبڑیال کے موضع چھنی گوندل میں ہوئی تھی اور اب اُس کی دوبیٹیاں اورایک بیٹا ہے ایک ماہ قبل اس کی بیوی تہمینہ دختر محمد اشرف سسرالیوں سے ناراض ہو کر اپنے میکے چھنی گوندل آگئی تھی کہ گزشتہ روز اُ کا خاوند غلام سرور اُسے منانے اور ساتھ لے جانے کے لیے آیا اس کی ناراض بیوی نے شربت کا گلاس اپنے خاوند کو دیا شربت پیتے ہی اُس کا خاوند تڑپنے لگا جسے طبی امداد کے لیے ساتھ آئے رشتہ داروں نے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کردیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکا، مقتول کے بھائی شوکت کی درخواست پر تھانہ ایئرپورٹ پولیس نے سسرالیوں، بیوی تہمینہ سمیت 6ملزمان محمد اشرف، ثریا، ارشد، لیاقت اورندیم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
ضرورت مندوں کو کھلانا اسلام کا حکم غیر مسلم بھی اس کار خیر میں شامل
ممبئی (ویب ڈیسک )ہم میں سے اکثر لوگ معاشرے کے نادار اور بھوک و افلاس کا شکار افراد کی مدد کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں لیکن وسائل نہ ہونے یا دیگر وجوہات کی بناءپر یہ خواہش دل میں ہی رہ جاتی ہے، ایسے میں ایک بھارتی شہری نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے فلائٹس کے دوران ایئر لائنز کا بچا ہوا کھانا جمع کرنا شروع کردیا ہے، جو وہ ضرورت مندوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ممبئی کے رہائشی وشاب مہتامی نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ کس طرح انہوں نے فلائٹس کے دوران بچ جانے والا کھانا جمع کرنا شروع کیا۔مہتا نے لکھا، ‘میں نے اپنی پوری زندگی میں متعدد مرتبہ جہاز میں سفر کیا ہے، چاہے یہ شوقیہ ہو، کاروباری مقاصد کے لیے ہو یا تفریحی غرض سے، لیکن چند ماہ قبل ہی مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ فلائٹس کے دوران پیش کیا جانے والا کھانا ضائع کردیا جاتا ہے یا کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے۔’وشاب مہتا کے مطابق ‘اس کی وجوہات کچھ یہ ہوسکتی ہیں: کچھ لوگ پہلی مرتبہ جہاز میں سفر کرنے کی بناء پر اتنے شرمیلے ہوتے ہیں کہ وہ انگریزی بولنے والے جہاز کے عملے کو جواب بھی نہیں دے سکتے، کچھ لوگوں کو جہاز کا کھانا پسند نہیں آتا، لہذا وہ تھوڑا سا کھا کر باقی چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ کچھ کو اپنی صحت کا اتنا خیال ہوتا ہے کہ وہ جہاز میں پیش کیے گئے کھانے کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے’۔
چودھریوں کی فائرنگ ، نوجوان کی ٹانگیں ناکارہ ، خواتین پر تشدد
نواںکوٹ (عبدالشکور وٹو سے ) نماز عید الفطر کی ادائیگی کے وقت مقامی چوہدریوں کا انتظار نا کرنے پر عید گاہ میں جھگڑا ، چوہدریوں نے فائرنگ کر کے چار بچوں کے غریب باپ نو جوان کو دونوں ٹانگوں سے مفلوج کر دیا دو رہائیشوں کو بٹ مار مار کر شدید زخمی کرنے کے علاوہ مقامی عورتوں کوبھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا کپڑے پھاڑ ڈالے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے رہے پولیس تھانہ صدر فاروق آباد پولیس نے ملزمان کو اسلحہ سمیت گرفتار کرنے کے بعد مبینہ طور پربھاری ڈیل کر کے آزاد کر دیا ،وقوعہ کی ایف آئی آر درج کرنا درکنار درخواست تک وصول کرنے سے انکار کر دیا جبکہ علاقہ کے معززین مقامی رہائشی اور زیادتی کا شکار افراد سراپاءاحتجاج بنے ہوئے ہیں اس بات کا انقشاف تھانہ صدر فاروق آباد کے گاﺅں قلعہ کونیاں کے رہائشیوں شاہد پرویز ولد اقبال۔ شہزاد علی ولد محمد رمضان،آزاد علی ،بابا حفیظ سمیت سینکڑوں لوگوں جن میں خواتین،مرد، بچے بوڑھے شامل تھے نے فاروق آباد پولیس اور ملزمان کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ عید الفطر کے روز مسجد کی کمیٹی کے اعلان کے مطابق عید الفطر کی نماز صبح 7.30 بجے ادا کی جانی تھی جو لیٹ کر کے 7.35 پر مقامی عید گاہ میں ادا کی گئی مگر پھر بھی مقامی چوہدری عید کی نماز میں شامل نا ہو سکے اورنماز سے لیٹ ہو گئے لوگوں نے بتایا کہ امام مسجد نے 8.00 کے قریب دعا کی جب لوگ نماز عید اور دعا سے فارغ ہو کر عید گاہ سے باہر نکل رہے تھے کہ مقامی چوہدری واجد علی جو مسلح کلاشنکوف ، اعظم علی مسلح پسٹل 30 بور،سجاول حسین مسلح پمپ ایکشن جن کے ساتھ دو نا معلوم افراد بھی تھے دو موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر عید گاہ پہنچ گئے اور آتے ہی تمام نمازیوں کو گالی گلوچ کرنے لگے کہ گاﺅں والوں نے نمازعید کی ادائیگی کے لئے ان کا انتظار کیوں نہیں کیا اور گاﺅں کے بزرگوں ،اور غریب رہائیشوں کو تھپڑ مارنے لگے جس سے آصف علی ، محمدرمضان ، نذیر احمد اور دیگر مقامی رہائیشوں نے منع کیا جس پر ملزم اعظم نے سیدھے فائرمار نے شروع کر دیئے جس کی زد میں آکرنوجوان محمدآصف جو کہ چار معصوم بچوں کاباپ ہے اور محنت مزدوری کرکے گزر اوقا ت کرتا ہے شدید زخمی ہو گیا آصف کی دونوں ٹانگوں میں فائر لگے جن وہ دونوں ٹانگو ں سے مفلوج ہو گیا،ملزم واجد علی نے رہائشی رمضان کو بٹ مار مار کر شدید زخمی کر دیا جبکہ ملزم سجاول نے محنت کش نذیر احمد ولد غلام محمدکو پمپ ایکشن کے بٹ مارنے شروع کر دیئے جس سے نذیر بھی زخمی ہو گیا اس کے بعد تینوں ملزمان ہوائی فائرنگ کرنے لگے جس سے نمازیوں میں بے تحاشہ خوف و ہراس پھیل گیا عید گاہ میں ہر طرف بھگدڑ مچ گئی نمازیوں نے عید گاہ سے بھاگ کر دیواروں کی اوٹ میں اور فرش پر لیٹ کر جانیں بچائیں مظاہریں نے بتایا کہ فائرنگ کی آواز سن کر گاﺅں کی عورتیں بھاگ کر عید گاہ پہنچیں جہاں ملزمان نے عورتوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا کپڑے پھاڑ ڈالے اور بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے رہے خوف و ہراس اور طرف زخمی افراد کے ماحول میں ہیلپ لائن 15 پر کال کی گئی جس پر تھانہ صدر پولیس موقع پر پہنچی جنہوں نے ملزمان کو اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا اور موٹر سائیکلیں بھی تحویل میں لے لی گئیں جب وقوعہ کی درخواست تھوڑی دیر بعد ایس ایچ او تھانہ صدر کو دی گئی تو انہوں نے مقدمہ کے اندراج میں لعت و لعل سے کام لینا شروع کر لیا درخواست تک وصول نا کی اور یہ کہا کہ درخواست سے عید گاہ کا وقوعہ نکال کر ذاتی لڑائی کی درخواست دو تو مقدمہ درج کر لیں گے ورنہ کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی مظاہرین نے بتایا کہ زخمی ہونے والے افراد کے میڈیکل بھی موجود ہیں اور فائرنگ سے زخمی محمد آصف تا حال ہسپتال میں زیر علاج ہے جبکہ ملزمان سرعام دھندناتے پھر رہے ہیں معززین علاقہ ۔مظاہرین مرد و خواتین نے نئے تعینات ہونے والے ڈی پی او سردار غیاث گل سے مطالبہ کیا ہے کہ اس دہشت گردی کے وقوعہ کا فوری مقدمہ درج کرتے ہوئے قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے اور ملزمان کو فوری گرفتار کر کے تھانہ کی حوالات میں بند کیا جائے اس حوالہ سے ملزم محمداعظم نے موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ محمدآصف کواس نے فائرنہیں مارا ہے آصف کو لگنے والا فائر گاﺅں کے مقامی رہائشی سے لگا ہے البتہ لڑائی ضرور ہوئی ہے اعظم نے یہ بھی بتایا کہ ان کے پاس اسلحہ بھی نہیں تھا لڑائی کے دوران اسلحہ مخالف گروپ کے افراد لے کر آئے تھے اور ان کے ہاتھ چلنے والی رائفل کا فائر ہیں آصف کو لگ گیا جس سے وہ مضروب ہو ا ہے۔
محافظ فورس کی ڈکیتی ، شہری کو لوٹ لیا ، مزاحمت پر تشدد ، متاثرہ نوجوان مدد کیلئے ” خبریں ہیلپ لائن “ پہنچ گیا
سرگودھا (محمد کامران ملک سے) محافظ پولیس سکواڈ کا کارنامہ، دِن دیہاڑے شہری کو لوٹ لیا۔ موٹر سائیکل کاغذات چیکنگ کی آڑ میں ناکہ لگا کر 5ہزار روپے چھین لیے منت سماجت کرنے پر ناجائز مقدمہ میں پھنسانے کی دھمکیاں۔ تھپڑ بھی مارے متاثرہ نوجوان مدد کے لیے خبریں ہیلپ لائن پہنچ گیا۔ ڈی پی او آر پی او آئی جی پنجاب پولیس نگران وزیر اعلی پنجاب اور چیف جسٹس آف پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق فیکٹری ایریا کا رہائشی عابد جو کہ محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے اور بڑھاپے میں والدین کا واحد سہارا ہے۔ متاثرہ نوجوان عابد نے ظلم کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ روز تقریبا ساڑھے چار بجے شام میں چوکی بھاگٹ سے رشتہ داروں سے ملکر واپس آ رہا تھا کہ 9نمبر چونگی سے قبل نہر کی پلی پر سکواڈ ملازمین نے مجھے روکا جو کہ ایک موٹر سائیکل پر سوار تھے اور تعداد میں 2تھے اُنہوں نے مجھ سے موٹر سائیکل کی رجسٹریشن کاپی مانگی تو میں نے جواب دیا کہ گھر پر ہے جس پر اُنہوں نے میری جامہ تلاشی لینی شروع کر دی اور میرا پرس بھی نکال لیا جس میں کل ٹوٹل 7ہزار روپے تھے جس پر سکواڈ ملازمین بے ایمان ہو گئے اور میری رقم خرد برد کرنے کی کوشش کرنے لگے میری منت سماجت کرنے پر مذکورہ نے 2ہزار روپے واپس کر دیئے جبکہ بقیہ رقم مانگنے پر مجھے تھپڑ بھی مارے اور ناجائز مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دینے لگے جس پر میں خوفزدہ ہو گیا میری خبریں ہیلپ لائن کے توسط سے افسران بالا سے اپیل ہے کہ اِن کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور محکمہ سے انکا قلع قمع کیا جائے اور میرے پورے مہینہ کا جیب خرچ واپس دلایا جائے ورنہ میرا پورا گھر فاقے کاٹنے پر مجبور ہو جائے گا۔
پولیس گردی ، اہلکاروں نے سیکنڈ ائیر کا طالبعلم غائب کر دیا ، بوڑھی ماں کی ”خبریں ہیلپ لائن “ سے مدد کی اپیل
لودہراں (رپورٹ:امین چوہدری سے)مقامی پولیس تھانہ قریشی والا نے ظلم کے پہاڑ ڈھا دیئے 16سالہ طالبعلم 3روز سے غیر قانونی حراست میں محبوس سال 2013میں پہلے نوجوان بیٹے کو کھا گئے30ہزار لینے کے باوجود بھی بیٹے کو نہ چھوڑا گیا 65سالہ والدہ نذیراں بی بی حصول انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور حصول انصاف کی خاطر ”خبریںہیلپ لائن“ پرکال”خبریں“کے توسط سے اعلیٰ حکام ،RPOملتان اور DPOلودہراں سے اپنے بیٹے کی رہائی اور پولیس یونیفارم میں ملبوس کالی بھیڑوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی اپیل اگر انصاف نہ ملا تو DPOآفس کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کر لوں گی ۔ تفصیل کے مطابقلودہراں کے نواحی علاقہ بستی غریب آباد موضع گوگڑاں کی رہائشی65سالہ نذیراں بی بی نے ”خبریں“دفتر آکر دہائی دی کہ اسکا اور اسکے بیٹوں کا مقامی تھانہ قریشی والہ میں تعینات افسران و کانسٹیبلان نے جینا محال بنا دیا ہے 65سالہ نذیراں بی بی نے بتایا کہ تھانہ قریشی والہ میں تعینات کانسٹیبل مصطفی اور نائب محرر راشد ڈوگر کی میرے نوجوان بیٹے محمد اشرف کے ساتھ دوستی تھی مگر انھوں نے اسکا جینا حرام بنا رکھا تھا مصطفی اور راشد ڈوگر جو کہ پرچی جوا اور خود بھی کھیلتے تھے اور جواریوں کی سرپرستی بھی منتھلیاں لے کر کرتے تھے کی میرے بیٹے محمد اشرف کے ساتھ توں تکرار ہو گئی جس پر انھوں نے میرے بیٹے کو کہیں غائب کر دیا جس کا 5سال گزرنے کے بعد بھی تاحال تک کوئی پتہ نہ چل سکا ہے ہم نے کئی بار اپنے بیٹے کو ان سے بازیاب کروانے کی کوشش کی مگر جب بھی ہم کوئی کاروائی کرنا چاہتے تو یہ ہمیں بلیک میل کرتے تھے اور کوئی بھی قدم اٹھانے پر جان سے مار دینے اور تیزاب پھینکنے جیسی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی تھیں جس پر ہم کاروائی کرنے سے رک جاتے تھے اب ان کے خلاف اپنے بیٹے کی بازیابی کیلئے کاروائی کرنا چاہی مگر اس کی پاداش میں انھوں نے میرے دوسرے بیٹے محمد ارشد جس کی عمر 16سال ہے اور وہ سیکنڈ ایئر کا طالبعلم ہے 20جون 2013کو شام 4بجے گھر سے انسپکٹر حاجی بشیر ،نائب محر ر راشد ڈوگر ،کانسٹیبل مصطفی اور 3عدد کانسٹیبلان کے ہمراہ ہمارے گھر پر دھاوا بول کر اسے زبردست پولیس وین میں غیر قانونی پکڑ کر لے آئے اورحوالات بند کر دیا جس پر میں اور میرا بیٹا محمد ارشد فوراََ تھانہ پہنچے جہاں پر معلوم ہوا کہ میرے بیٹے کے خلاف کوئی درخواست اور FIRدرج نہ ہے بلکہ مصطفی اور راشد ڈوگر کے کہنے پر میرے بیٹے کو پکڑا ہے جب راشد ڈوگر اور مصطفی سے اپنے بیٹے کی بازیابی کیلئے دہائی دی تو انھوں نے ہمیں تھانہ سے دھکے مار کر نکال دیا اور کہا کہ جو رقم ہم نے اشرف سے لینی تھی وہ دے جاو¿ اور اپنے بیٹے کو لے جاو¿ وگرنہ اسے بھی ایسے ہی غائب کریں گے جیسے آج تک تمہارے بڑے بیٹے کا علم ہی نہ ہے بعد ازاں میں نے مصطفی کے کہنے پر اسے اپنے بیٹے کی بازیابی کیلئے 14ہزار روپے ادا کر دیئے مگر انھوں نے پھر بھی میرے بیٹے کو نہ چھوڑا بلکہ راشد ڈوگر نے مزید 70ہزار کی ڈیمانڈ رکھ دی جس پر مزید اسے اپنے بیٹے کی بازیابی کیلئے 10ہزار روپے دے دیئے مگر پھر بھی بیٹے کو نہ چھوڑا گیا بلکہ ہمیں کہا گیا کہ SHOنہیں مان رہا اسکی رہائی کیلئے تمہیں 50ہزار کی رقم تو ہر صورت میں ادا کرنا ہوگی وگرنہ اپنے بیٹے کو بھول جاو¿ اگلے دن جب ہم تھانہ گئے تو ہم نے اپنے بیٹے کو حوالات میں نہ پایا جس پر ہمیں تشویش ہو ئی ہم نے تھانہ میں موجود کانسٹیبلان و افسران سے اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھا مگر انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ تمہارے بیٹے کو تو تھانہ کا کوئی بندہ لے کر ہی نہیں آیا ہے میں نے اپنے بیٹے محمد ارشد کے ہمراہ تھانہ میں موجود ایس ایچ او سمیت تمام افسران و کانسٹیبلان کی منت سماجت کی مگر کسی نے میرے بیٹے کے بارے میں کچھ نہ بتایا جس پر ہمیں گہری تشویش ہوئی میری اآنکھیں ابھی تک پہلے بیٹے کو دیکھنے کیلئے ترس رہیں ہیں مگر ان ظالم پولیس افسران نے میرے دوسرے بیٹے کو بھی غائب کر دیا مجھے اندیشی ہے کہ کہیں انھوں نے میرے بیٹے کو جان سے ہی نہ مار ڈالا ہو میں نے اپنے بیٹے کی ان ظالموں کے چنگل سے بازیابی کے لیءبہت بھاگ دوڑ کی مگر مجھے اپنے بیٹے کا کوئی سراغ نہ مل سکا بالآخر حصول انصاف کی خاطر ”خبریں“کا دروازہ کھٹکھٹایا اور”خبریں“کے توسط سے اعلیٰ حکام ،RPOملتان اور DPOلودہراں سے اپنے بیٹے کی رہائی اور پولیس یونیفارم میں ملبوس کالی بھیڑوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی اپیل اگر انصاف نہ ملا تو DPOآفس کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کر لوں گی ۔
مومنہ کی انوکھی خواہش‘ خوبصورتی کے بجائے آواز سے پہچانا جائے
ممبئی (شوبزڈیسک) پاکستان کی خوبرو گلوکارہ مومنہ مستحسن نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ دنیا انہیں خوبصورتی کے بجائے ان کے کام سے پہچانے۔ ایک بھارتی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہر کوئی مجھے میری آواز کے بجائے میری خوبصورتی کی وجہ سے پسند کر رہا ہے، میں جہاں بھی جاﺅں مجھے یہی سننے کو ملتا کہ ارے دیکھو کتنی پیاری لڑکی ہے لیکن میں یہ نہیں چاہتی۔ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتی تھی کہ خوبصورت چہرے کے علاوہ بھی میری پہچان ہو جس کے لیے میں نے فیصلہ کیا کہ جب تک میں اپنے آپ کو ثابت نہیں کرلوں گی تب تک کوئی گانا ریکارڈ نہیں کروں گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تعلیم، صحت اور خاص طور پر پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنا شروع کیا ۔جس کے بعد مجھے امریکی جریدے فوربز نے 30 انڈر 30 کی فہرست میں شامل کیا جس نے مجھے دوبارہ میوزک کی طرف لوٹنے کی راہ دکھائی۔ واضح رہے کہ حال ہی میں بھارتی گلوکار ارجن کننگو کے ساتھ مومنہ کا گانا آیا نہ تو ریلیز کیا گیا، جسے مداحوں کی جانب سے خوب پذیرائی مل رہی ہے۔
موسیقی میں نئے رجحانات متعارف کرانے میںکوئی حرج نہیں
لاہور( شوبزڈیسک) نامور گلوکارہ سائرہ نسیم نے کہا ہے کہ موسیقی میں نئے رجحانات متعارف کرانے میںکوئی حرج نہیں لیکن اس کےلئے متعین کردہ حدسے باہر نہیں جانا چاہیے ،نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی کی قائل ہوں اور انہیں تاکید کرتی ہوں کہ خاص طو رپر موسیقی کے شعبے میں بغیر کسی کی سر پرستی کے زور آزمائی نہ کی جائے ۔ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سائرہ نسیم نے کہا کہ عید الفطر پر پیش کی جانے والی پاکستانی فلموںکو شائقین نے بیحد پذیرائی دی ہے جو انتہائی خوش آئند بات ہے ۔ کسی ایک فلم کی کامیابی سے کئی لوگوں کی کامیابی اوررزق وابستہ ہوتا ہے ۔بلا تعطل فلمیں بنتی رہنی چاہئیںاور وقت بھی آئے گا جب ہماری انڈسٹری دوبارہ عروج حاصل کرے گی ۔ سائرہ نسیم نے کہا کہ موسیقی میں نئے رجحانات متعارف کرانے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس کےلئے متعین کردہ حد سے باہر نہیں جانا چاہیے کیونکہ کوئی بھی چیز ایک حد میں اچھی لگتی ہے اور اگر وہ اس سے باہر نکلے گی تو نہ صرف اپنی وقعت کھو دے گی بلکہ لوگوں کو بھی نا گوار گزرے گا۔
علی ظفر فلم ”طیفا ان ٹربل“ کی پروموشن کے دوران زخمی ہوگئے
لاہور(شوبزڈیسک) اداکار و گلوکار علی ظفر طیفا ان ٹربل کی ریلیز سے قبل ہی زخمی ہوگئے ،اطلاعات کے مطابق وہ مقامی ہوٹل میں فلم کی پروموشن کے سلسلے میں موجود تھے کہ سیڑھیوں سے گر کر زخمی ہوگئے جس کے بعد ان کو جوہر ٹاو¿ن میں ایک نجی کلینک پر لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے طبی معائنہ کرنے کے بعد انہیں مکمل طور پر چھ ہفتے کیلئے آرام کا مشورہ دیدیا۔یاد رہے کہ علی ظفر اپنی پہلی پاکستانی فلم ”طیفا ان ٹربل“ کے حوالے سے بہت پرجوش ہیں ۔
اور وہ مایا علی کیساتھ فلم کی پروموشن کے سلسلے میں پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے بھی کررہے ہیں۔
کسان دوست زرعی پالیسی نافذ، ایگروبیسڈ صنعت کوفروغ دیاجائے : مظفر حیا ت خان خاکوانی، چین سے محتاط معاہدے کئے جائیں : عامر نذیر بُچہ، چینی فیکٹریوں پر چیک رکھاجائے:ڈاکٹر طارق ملک، کلسٹر فارمنگ کی طرف جانا ہوگا:ڈاکٹرعابد حمید، ”فانا فلورا“ محفوظ رکھنے کےلئے جنگلات لگائے جائیں: شفقت سعید، حکومت آم کی ایکسپورٹ پر ریلیف دے:میجر(ر) طارق خان اسماعیل، سبزیوں، پھلوں کے ایکسپورٹرز کو سبسڈی دی جائے: اکرم چاون، اعظم صابری، ملتان آم کے حوالے سے پہچان کھو چکا:ظفر حسین مہے، باغبانوں کےلئے سبسڈی سکیم متعارف کرا دی:نویدعصمت، ” خبریں فورم “ میں ا ظہار خیال
ملتان(اہتمام و رپورٹ: سجاد بخاری، طارق اسماعیل، تصاویر: سرفراز نیازی) پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک CPEC) منصوبے کی آڑ میں غیرملکی کمپنیوں کو زرعی زمینیں اور سرکاری فارم دینے کے بجائے کسان دوست زرعی پالیسی نافذ کی جائے۔ سی پیک منصوبے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین پاکستان میں اپنی صنعتیں تو لگا سکتا ہے لیکن اس کے پاس ہماری زراعت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اس حوالے سے محتاط معاہدے کئے جائیں۔ ہم بہتر منصوبہ بندی سے وافر زرعی اجناس پیدا کرکے چین سمیت دنیا بھر کی بیشتر آبادی کو کھلا سکتے ہیں۔ مانگے تانگے کی صنعت پر انحصار کے بجائے ویلیو ایڈیشنز پر توجہ دی جائے اور ہر چھوٹی صنعتیں لگانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ حکومت سی پیک کے ساتھ کارپوریٹ فارمنگ کے بجائے کوآپریٹو فارمنگ کو فروغ دے۔ زراعت ماحولیات سمیت تمام متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور پاکستان کو سی پیک کے ساتھ دنیا بھر کے ممالک سے جوڑنے کے لئے تیاری رکھیں۔ یہ تجاویز ”خبریں“ فورم میں گفتگو کرتے ہوئے شرکاءنے دیں۔ عدنان شاہد فورم ہال میں ہونے والے فورم میں محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید، مینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان کے ماہرین ڈاکٹر طارق ملک، ڈاکٹر عابد حمید ملغانی، سینئر زرعی سائنسدان ملک عامر بُچہ، ترقی پسند کاشتکار اور مینگو گروورز میجر(ر) طارق خان اسماعیل زئی، مظفرحیات خاکوانی، ملک ظفر حسین مہے، راﺅ محمد عمران، محکمہ زراعت پنجاب کے میڈیا لائز ان یونٹ ملتان کے نوید عصمت کاہلوں، انجمن آڑھتیان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل اعظم صابری اور سبزی اور پھلوں کے ایکسپورٹر محمد اکرم چاون نے شرکت کی۔ ”خبریں“ زرعی فورم میں شرکاءنے سی پیک اور ہماری زراعت کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی جس میں اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تجاویز بھی دیں۔ ترقی پسند مینگو گروور مظفر حیات خان خاکوانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت پاکستان اور پالیسی سازوں کو چاہےے کہ وہ سرکاری و نجی زمینیں چین سمیت تمام غیرملکی کمپنیوں کے حوالے نہ کریں۔ کمپنیوں سے قلیل المدتی محتاط معاہدوں کے تحت زمینیں لیز پر دینے سے کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہےے کہ ہم مانگے تانگے کی صنعت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی ایگرو بیسڈ صنعت کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں۔ سی پیک کے منصوبے کے ساتھ چین سے ایک بڑی تعداد میں غیرتربیت یافتہ افراد اپنے آپ کو نامور ماہرین ظاہر کرکے ہمیں ٹریننگ دینے کے در پے ہیں، انہیں روکا جائے۔ چین سے زرعی ٹیکنالوجی ، تحقیق کا تبادلہ ضرور کیا جائے۔ فیکٹریوں اور شہریوں کا فضلہ نہروں میںڈالنے کا سلسلہ بند کیا جائے کیونکہ اس روش سے زراعت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ چین جتنی بڑی صنعت لگا لے ہمیں اپنی زراعت پر فخر ہے اور ہماری زراعت کا چین سمیت دنیا بھر میں کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ سینئر زرعی سائنسدان اور پلانٹ پتھالوجسٹ ملک عامر نذیر بُچہ نے کہا ہے کہ ہمیں خواب غفلت سے باہر آنا ہوگا اور بہتر کل کے لئے آج کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ باغات سمیت فصلوں کی خوراک کا کیلنڈر تبدیل ہوگیا ہے لیکن ہمارے ادارے پرانے طریقوں پر چل رہے ہیں۔ زراعت کے نئے تقاضوں کے مطابق کاشتکاروں کی ٹریننگ کی جائے۔ مینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر طارق ملک نے کہا کہ ہم باغات کی سڈن ڈیتھ کوئیک ڈیکلائن کی وجہ 10سال بعد جان چکے ہیں اور ہم اس وائرس تک بھی پہنچ چکے ہیں، ہمیں باغات کو بچانے اور ان سے بھرپور پیداوار لینے کےلئے تمام تقاضے تبدیل کرنا ہونگے۔ آبپاشی کے طریقوں کو تبدیل کرنا ہوگا اور باغات کو فوری طور پر ڈرپ اری گیشن پر لانا ہوگا تاکہ پانی کی بچت کی جاسکے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے ساتھ یہاں لگنے والی فیکٹریوں پر چیک رکھا جائے تاکہ وہ یہاں کا ماحول اور پانی آلودہ کرنے سے باز رہیں کیونکہ دنیا بھر میں امریکہ کے بعد چین دوسرا بڑا ملک ہے جو ماحولیاتی آلودگی پھیلا رہا ہے اور چینی کمپنیوں کی فیکٹریوں کے پاکستان میں آنے سے انہیں ماحولیاتی تقاضوں سے سختی سے مانیٹر کیا جائے۔ مینگوریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سینئرماہر ڈاکٹر عابدحمید ملغانی نے کہا کہ سی پیک ہمارے لئے ایک نعمت ہے اور ہمیں اپنی معیشت مضبوط کرنے کا بہترین موقع مل رہا ہے۔ ہم صرف ٹال پلازوں سے ہی سالانہ بجٹ سے کہیں زیادہ آمدنی حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمیں منصوبہ بندی بہتر کرناہوگی۔ ہمیں باغات کے علاقوں میں سڑکیں اور انفراسٹرکچر بہتر بنانا ہوں گے تاکہ ہم سی پیک کے ساتھ اپنی بنیادی ڈھانچے کا بھی موازنہ کرسکیں۔ ہمیں کلسٹر فارمنگ کی طرف جانا ہوگا۔ محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک سے جہاںملک کے داخلی پوائنٹس سے سبزی و پھل کے ٹرک اور کنٹینر آئیں گے تو وہ اس دوران فصلوں کی نئی سنڈیاں اور کیڑے بھی لائیں گے۔ یہاں چینی کلچر آنے سے نیا پیسٹ بھی آئے گا۔ ہمیں چینی کلچر کے تناظر میں نئے پیسٹ کلچر سے بھی نبردآزما ہونا ہوگا۔ ہمیں کپاس کی فصل پر خاصی محنت کی ضرورت ہے کیونکہ ہماری کپاس زرمبادلہ کمانے کا سب سے اہم اور ضروری عنصر ہے۔ ہمیں کپاس کی فصل اور باغات پر توجہ دیکر پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سی پیک منصوبے میں جہاں جہاں سڑکیں بن رہی ہیں ان کے ساتھ مقامی درخت اور جنگلات لگائے جائیں تاکہ ہمارا ”فانا فلورا“ محفوظ رہے اور ہم ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم منصوبہ بندی بہتر کرلیں تو دنیا بھر کو زرعی اجناس فراہم کرنے کے ساتھ انہیں کھلا سکتے ہیں۔ چین ہر میدان میں ہمارا مقابلہ کرسکتاہے لیکن ہماری زراعت میں کوئی مقابل نہیں ہے۔ہمارے ملک میں بی ٹی کاٹن تو کاشت کر لی گئی ہے لیکن بی ٹی کو چیک کرنے کے لئے ایک بھی لیبارٹری نہیں ہے اور اب بی ٹی پر بھی خطرناک قسم کی سنڈیوں کا حملہ بڑھ گیا ہے جو بی ٹی پر حملہ آور نہیں ہوتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بی ٹی کاٹن کی تمام اقسام مناسب ٹیسٹ کئے بغیر منظور کی جاتی ہیں۔ سی پیک منصوبے کے دوران ماحولیات کا خاص خیال رکھنا ہوگا تاکہ چین پاکستان جیسے ترقی پذیر اور غریب ملک میں صنعتیں منتقل کرتے وقت محتاط رہے۔ ترقی پسند مینگو گروور میجر(ر) طارق خان اسماعیل زئی نے کہا کہ حکومت ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے آم کی ایکسپورٹ کرنے والوں کو ریلیف دے۔ انہوں نے کہا کہ مینگو پلٹ پلانٹ پر قبضہ مافیا کی اجارہ داری ختم کرائی جائے۔ سرکاری ایئرلائن پی آئی اے آم کی ایکسپورٹ کے لئے کرایوں میں کمی کرے اور حکومت نجی کمپنیوں کو بھی کرائے کم کرنے پر مجبور کرے۔ ناقص حکمت عملی اور اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سے آم کی ایکسپورٹ میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے اور ہم اپنی پیداوار کا نصف بھی ایکسپورٹ نہیں کررہے۔ پھلوں اور سبزیوں کے ایکسپورٹر محمد اکرم چاون نے کہا کہ ڈالر کے چڑھاﺅ کی وجہ سے پیکنگ میٹریل بھی آئے روز مہنگا ہورہا ہے اور بھارت کے مقابلے میں ہمیں سبزی یا پھل ایکسپورٹ کرنے کے لئے ایک چوتھائی زیادہ اخراجات کرنے پڑتے ہیں۔ اسی طرح سی فریٹس پر حکومت کی مانیٹرنگ نہیں ہے، کمپنیاں اپنی من مانی کرتی ہیں اور جگہ جگہ بلیک میلنگ کرکے ہمیں لوٹتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت شپنگ لائن کے لئے پالیسی واضح کرکے اور کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کرائے۔ اگر سبزی، پھلوں کی ایکسپورٹ زیادہ ہوئی تو کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ انجمن آڑھتیان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل کے صدر اعظم صابری نے ”خبریں“ فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے سبزیاں اور پھل ایکسپورٹ کرنے کے دوران ایکسپورٹرز کو پریشان کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک پھلوں کے ایکسپورٹرز کو ای (E)فارم جاری کرنے کے ساتھ رقم منگوانے کی مدت کا دورانیہ 90روز کرے۔ انہوں نے کہا کہ 30روز میں معاملات کلیئر نہیں ہو پاتے اور ایکسپورٹرز نقصان اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے لئے چھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ملتان میں مینگوپلٹ پلانٹ کے معاملات میرٹ پر چلانے کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بحال کیا جائے۔ حکومت ایکسپورٹرز کو سبسڈی دے۔ محکمہ زرعی اطلاعات ملتان کے ترجمان نوید عصمت کاہلوں نے کہا کہ حکومت پنجاب ملتان سمیت صوبہ بھر میں باغبانوں کی حوصلہ افزائی کےلئے جدید مشینری اور آلات سبسڈی پر فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے باغات میں ڈرپ اری گیشن کے لئے بھی سبسڈی سکیم متعارف کرائی ہے۔ ملک ظفر حسین مہے نے کہا کہ شہری آبادی کے بے ہنگم اضافے اور نئی رہائشی کالونیوں کی وجہ سے آم کا دارالخلافہ ملتان آم کے لحاظ سے اپنی پہچان کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آم کے تحقیقاتی ادارے کم رقبے میں زیادہ پودے لگانے کی اقسام تیار کریں اور روایتی اقسام کے ساتھ ایکسپورٹ کوالٹی کی اقسام تیار کی جائیں۔ راﺅ محمد عمران نے کہا کہ پانی کی کمی سنجیدہ مسئلہ ہے اسے حل کیا جائے۔
میرا نے میرا فاونڈیشن کے نام پر فنڈ ریزنگ مہم شروع کردی
لاہور(شوبزڈیسک) اداکارہ میرا نے فلاحی ہسپتال کے بعد اب میرا فاونڈیشن کے نام پر بھی فنڈ ریزنگ مہم شروع کردی۔اداکارہ میرا نے ہسپتال کے بعد اب میرا فانڈیشن نامی پراجیکٹ پراپنی تمام ترتوجہ مرکوز کردی ہے اوراسی لیے وہ دبئی میں مقیم بھی ہیں۔ میرا کی جانب اس مہم میں فنڈریزنگ کے لیے اپنا اورسٹارمیکرجراررضوی کانمبر بھی دیدیا ہے۔ لیکن جب اس سلسلہ میں جراررضوی سے رابطہ کیا گیا توان کا کہنا تھا کہ اداکارہ میرا کے ہسپتال اورمیرا فانڈیشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرا فون نمبرمیری اجازت کے بغیردیا گیا ہے، جوکہ انتہائی غیراخلاقی حرکت ہے۔فلمسٹار میرا کے اس پراجیکٹ کے بارے میں فلم کے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اداکارہ میرا کا فنی سفرتقریبا ختم ہوچکا ہے۔ انھوں نے اپنے کیرئیرمیں بہت سی اچھی فلموں میں کام کیا ہے لیکن گزشتہ برسوں سے وہ جس طرح سے شہرت اورکام حاصل کرنے کے لیے سکینڈلز بنوا رہی ہیں، اس سے ان کی ہی نہیں بلکہ پاکستان فلم انڈسٹری کی ساکھ بھی متاثرہوئی ہے۔ انھوں نے جب اسپتال بنانے کا اعلان کیا تھا توبہت سے لوگ ان کے ساتھ تھے لیکن اسپتال کی تعمیر کے لیے جمع ہونے والی رقم کا آج تک کسی علم نہیں کہ وہ کہاں ہے ؟ ایسے میں ایک نیا فلاحی پراجیکٹ شروع کرنا تو اچھی بات ہے۔لیکن اس کومستحق لوگوںتک پہنچایا جائے تواس کا فائدہ ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ میرا کوفلاحی کاموں پرتوجہ دینے کے بجائے نجی زندگی کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔


















