کراچی: کورنگی میں نامعلوم افراد کا خواجہ سرا پر تیز دھار آلے سے حملہ

کراچی (ویب ڈیسک )شہرِ قائد کے علاقے کورنگی میں نامعلوم ملزمان نے ایک خواجہ سرا کو پتھروں اور تیز دھار آلے سے زخمی کردیا۔متاثرہ خواجہ سرا کی شناخت خوشی کے نام سے ہوئی۔خوشی کے دوست نیشا کے مطابق کورنگی بلال کالونی میں نامعلوم ملزمان نے خوشی کے گھر میں داخل ہوکر اس پر پتھروں سے حملہ کیا اور پھر تیز دھار آلے سے زخمی کردیا۔خواجہ سرا خوشی کو زخمی حالت میں جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔پشاور میں فائرنگ سے ایک خواجہ سرا ساتھی سمیت جاں بحق ۔رواں برس ملک کے مختلف علاقوں میں خواجہ سراو¿ں پر حملے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔رواں برس مارچ میں خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک خواجہ سرا اپنے ساتھی سمیت جاں بحق ہوگیا تھا۔اس سے قبل فروری میں بھی صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں دوستی نہ کرنے پر نشے میں دھت ایک شخص نے خواجہ سرا کو فائرنگ کرکے شدید زخمی کر دیا تھا۔

لاڑکانہ میں چیف جسٹس کی برہمی کا سامنا کرنے والے جج نے استعفیٰ دے دیا

کراچی( ویب ڈیسک )رواں ہفتے لاڑکانہ میں سیشن کورٹ کے دورے کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی برہمی کا سامنا کرنے والے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج گل ضمیر سولنگی نے استعفیٰ دے دیا۔ 23 جون کو چیف جسٹس نے لاڑکانہ سیشن کورٹ کے دورے کے دوران میز پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج گل ضمیر سولنگی کا موبائل فون دیکھ کر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے موبائل اٹھا کر پٹخ دیا تھا جبکہ مذکورہ جج کے تبادلے کا بھی حکم دیا تھا۔لاڑکانہ: چیف جسٹس ایڈیشنل سیشن جج پر برہم، موبائل فون میز پر پٹخ دیا ۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج گل ضمیر سولنگی کی جانب سے استعفیٰ رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو بھجوایا گیا ہے۔استعفے کے متن کے مطابق ‘میں 20 مارچ 2017 سے لاڑکانہ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کے عہدے پر کام کر رہا ہوں، چیف جسٹس ثاقب نثار نے عدالتی کارروائی کے دوران میری عدالت کا دورہ کیا، برہمی کا اظہار کیا اور میرا موبائل فون اٹھا کر میز پر پٹخا’۔گل ضمیر سولنگی کے مطابق چیف جسٹس کے دورے کی ویڈیو الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر دکھائی گئی، جس سے میری ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔جج گل ضمیر سولنگی کا مزید کہنا تھا کہ ایسے حالات میں، میں اپنی نوکری جاری نہیں رکھ سکتا، لہذا استعفیٰ دے رہا ہوں۔

الیکشن بروقت ہونگے ، کسی کو دھاندلی کی اجازت نہیں دینگے : نگران وزیرا طلاعات احمد وقاص کا ” خبریں “ کو انٹرویو

لاہور(احسان ناز سے )ا لیکشن 2018جولائی25 کو ہی ہوں گے الیکشن نہ ہونے یا لیٹ منعقد ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے انتظامات مکمل ہیں الیکشن شفاف ہونگے پوری دنیا سے ابزرور الیکشن والے دن پاکستان میں موجود ہوں گے کسی کو دھاندلی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی نگران وزیر اطلاعات و نشریات احمد وقاص ریاض نے کہا ہے کوئی سرکاری آفیسر الیکشن2018کے موقع پر امیدوار یا سیاسی رہنما ﺅں کی مدد کرتے ہوئے پایا گیا سن کو قانون کے مطابق سزا دیں گے الٹا لٹکا دیا جائے گا شکایت کنندہ ثبوت کے ساتھ آئے مایوس نہیں کریں گے ہم نے شفاف الیکشن کرانے کی قسم اٹھارکھی ہے سر کاری آفیسران یہ جان لیں جزا و سزا ضرور ہوگی ہر آفیسر نے اپنی سروس کے دوران تمام حکمرانوں کے ساتھ ڈیوٹی دینی ہوتی ہو وہ محبت و خلوص کو ایک طرف رکھ کر نگران حکومت کے اقدامات پر عمل کریں پچھلے ادوار میں جن آفیسروں نے حکمرانوں کے لیے سیاسی نوکر لگائے وہ نگران دور میں کام کریں ان کی نیک نامی ہوگی وہ گزشتہ روز 8کلب روڈ پر خبریں کے نمائندہ خصوصی کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے احمد وقاص ریاض نے کہا نگرانوں کو پر وٹوکول لینے کاشوق نہیں ہے کیونکہ رولز میں جو ہے سرکاری آفیسر اس کو فالو کرتے ہیں نگران وزیراعلی پنجاب حسن عسکری بھی پروٹوکول کے خواہش مند نہیں ہیں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا الیکشن 2018کے امیدواروں سے جوبھی کسی وجوہ کی بنیاد پر سکیورٹی مانگے گا وہ ہم دینے کے پابند ہوں گے لیکن ہر امیدوار کو اپنی سیکیورٹی کی طرف خود دھیان دینا ہوگا انہوں نے الیکشن کے دوران کہا الیکشن کے دوران یا اس سے قبل مختلف ایجنسیوں کی طرف سے دہشت گردی کی نشان دہی گی جارہی ہے لیکن حکومت الیکشن کو وقت پر کرانے کے لیے اپنے تمام اختیارات استعمال کر کے آنے والے خطرات سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے انہوں نے کہا ہمارا کوئی ایجنڈا نہیں ہے ہم تو شفاف الیکشن کرا کے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائے گے الیکشن کمیشن کے بنائے ہوئے ضابطہ اخلاق کو جو بھی امیدوار فالو کرے گا اسکو اور الیکشن کرانے والے عملے کو آسانی ہوگی اللہ تعالی ہمیں کامیابی عطا فرمائے انہوں نے کہا الیکشن 2018کو پر امن بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں 25جولائی کو ووٹر اپنی اپنی پسند کی جماعتوں کو ووٹ دیکر ٹرن آﺅٹ بڑہائیں گھروں میں بیٹھ کر ٹی وی کے ذرائعے الیکشن نا دیکھیں ووٹ کاسٹ کریں۔

 

جمہوریت کو معاشی عدم مساوات ، جھوٹی خبروں سے خطرہ : بیرسٹر علی ظفر ، پیپلزپارٹی کا کہنا درست ہے سی پیک منصوبہ آصف زرداری دور میں شروع ہوا پوری پاکستانی قوم کو فائدہ ہو گا : چینی سفیر لی ژن ژ و ، سی پیک کو چین کی کالونی کہنا غلط: عشرت حسین، اکرام سہگل، عارف نظامی، ملک سلیمان کا سی پی این ای کے زیراہتمام سیمینار سے خطاب

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر‘وقائع نگار خصوصی) سی پیک کے ذریعے پاکستان میں صنعتی، ذرعی اور مواصلاتی انقلاب آئے گا ، سی پیک کے تحت2025ءتک” اسلام آباد تا کراچی “بلٹ ٹرین چلائی جا سکے گی جو پانچ گھنٹوں میں یہ سفر مکمل کرئے گی۔صبح اسلام آباد میں ناشتہ کرنے والا دوپہر کا کھانا کراچی کھائے گا۔ سی پیک منصوبہ آصف زرداری نے شروع کیا،تمام قومی رہنماﺅں کو اس کی اونرشپ لینا چاہیے۔ 45 ارب ڈالرز میں سب سے زیادہ رقم چینی کمرشل بینکوں کی جانب سے سرمایہ کاروں کو دیے گئے قرضوں پر مشتمل ہے جس پر 5 سے 6 فیصد سود اداکرنا ہو گا۔سی پیک کے حوالے سے کیے جانے والے پروپیگنڈے کا سدباب ضروری ہے۔ سی پیک کے معاملات کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے قانون سازی اور سی پیک ریگولیٹری اتھارٹی (جسمیں تمام وفاقی اکائیوں کی نمائندگی ہو)کا قیام ضروری ہے۔ سی پیک کے چار حصے ہیں پہلا توانائی کے منصوبے ،دوسرا انفرسٹرکچر ،تیسرا گوادر پورٹ اور شہر کی تعمیر اور چوتھے حصے میں انڈسٹریل زون کا قائم ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے پیر کے روز کونسل فار پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں”سی پیک اور میڈیا کا کردار“ ( حقائق اور ظلط فہمیاں )کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کے دوران کیا ۔ سی پیک کانفرنس میڈیا کنسلٹنٹ حمیرا شاہد اور سی پی این ای نے آرگنائز کروائی۔ حمیرا شاہد نے کہا کہ صحافی برادری اور سی پیک کے نمائندوں میں بہت زیادہ گیپ تھا جو ختم کرنا انتہائی ضروری تھا۔ ا س لئے سی پیک کے اس سیمینار کا انعقاد کیاگیا۔ اس پروگرام سے بہت ساری غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ۔اس موقع پرنگران وزیر اطلاعات علی ظفر، چین کے قائم مقام سفیر اور ڈپٹی چیف آف مشن سی پیک لی جین ژﺅ،سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین، سی پی این ای کے صدر عارف نظامی، دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل اور فیڈریشن آف کالمسٹ کے صدر ملک سلمان نے تقریب سے خطاب کیا۔نگران وزیر اطلاعات علی ظفر نے کہا کہ ماضی میں جنوبی کوریا پاکستان کے ترقیاتی منصوبے دیکھنے آتا تھا کہ یہ کیسے اتنی جلد ترقی کررہے ہیں مگر اب ہماری غلط پالیسیوں اور سیاست کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔سی پیک ہمارے پاس ترقی کا دوسراموقع ہے۔بدقسمتی سے ہماری ہاں ہر منصوبے کو متنازعہ بنا دیا جاتا ہے اخبارات میں نام نہاد دانشور غلط معلومات عوام کو دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ 19 اے آرٹیکل پر مکمل یقین ہے جاننے کا حق ہر ایک کو ہونا چاہیے۔اس سے منصوبوں میں شفافیت آتی ہے، معاملات میں شفافیت ہو گی تو کرپشن کو روکا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے امریکہ، چین مذاکرات سمیت مختلف معاملات پر چین کی مدد کی تو یہ بھی حقیقت ہے تو چین نے مسئلہ کشمیر پر ہمارے موقف کی تائید کی۔ چین کے ساتھ مختلف دفاعی معاہدے کیے اور چین اور پاکستان مشترکہ طور پر مختلف دفاعی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔سی پیک کے ذریعے چین اور پاکستان کی ایسی دوست قائم ہو رہی ہے جو کبھی ختم نہیں ہو گی سی پیک کا پہلا مرحلہ تقریبا مکمل ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں انڈسٹریل پارک بنائے جائیں گے، سی پیک کے حوالے سے غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے تمام صوبوں کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔سی پیک قومی منصوبہ ہے اور اس کی گارنٹی دونوں ممالک نے دی ہے جبکہ سیکیورٹی افواج پاکستان کر رہی ہے ۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ سی پیک سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں قانون سازی کرنی پڑے گی کیونکہ ہماری عدالتوں میں لڑائی جھگڑوںکے مقدمات زیادہ التواءکا شکار ہوتے ہیں تاکہ ان جھگڑوں کو جلد اور پاکستان کے اندر حل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سی پیک پر ایک ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کی ضرورت ہے۔اب تک سی پیک کے تحت 22 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی سی پیک سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔چینی سفیر لی ژن ژو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کا یہ کہنا درست ہے کہ سی پیک کا منصوبہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں شروع ہوا۔ یہ زرداری دور میں شروع ہوا ہے۔2015میں سی پیک کے منصوبے میں تیزی آئی ہے۔سی پیک سے پاکستانی عوام کو فائدہ ہوگا یہ ایک سڑک کا نام نہیں ہے سی پیک پورے پاکستان کو کور کرے گی اور اس سے پورے پاکستان میں ترقی ہوگی۔سی پیک کے منصوبے 2030ءتک مکمل ہوں گے سی پیک کا مقصد بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے توانائی کے منصوبے لگانا ، صوبوں اور وفاقی حکومت کا ٹیکس بڑھانا اور نئے روزگار پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ ملتان تا سکھر موٹر وے پر 24000 پاکستانی ملازمین کام کررہے ہیں حویلیاں تا تھاکوٹ 6400،پورٹ قاسم پر3000جبکہ قائد اعظم سولر پلانٹ پر 1500 ملازمین کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بات غلط ہے کہ سی پیک پر صرف چینی ملازمین کام کررہے ہیں ا ور وہ جیلوں سے بھر کر پاکستان لائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگلے پانچ سال میں سی پیک کے تحت انڈسٹریل پارک بنائے جائیں گے۔ یہ پروپیگنڈہ کہ کوئلے کے پلانٹ ماحول دوست نہیں۔یہ سراسر غلط ہے۔چین میں بھی 1000 سے زائد کوئلے کے پلانٹ لگے ہیں صرف 2 کوئلے کے پلانٹس کو بند کیا گیا ہے۔پوری دنیا میں ایک تہائی بجلی کوئلے سے بنائی جا رہی ہے۔پاکستان میں جدید ترین کوئلے کے پلانٹس لگائے گئے ہیں جو کم آلودگی پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں کہ چین بہت زیادہ شرح سود پر قرض دے رہا ہے چین ان منصوبوں کے لیے ٹھیک پانچ سے چھ فیصد سود پر قرض دے رہا ہے جو کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔بد قسمتی سے پرنٹ میڈیا میں بھی اس حوالے سے غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور سی پیک کو بوجھ کے طور پر پیش کیا گیا۔توانائی کے منصوبوں کے لیے 13 ملین ڈالر دیئے گئے جو کل سی پیک کے بجٹ کے 68 فیصد ہے۔چین اس کے علاوہ پاکستان کی امداد کر رہا ہے جس کے تحت سکول،فنی تربیت کے مراکز اور ہسپتال بنائے جا رہے ہیں۔اس کے علاوہ بلا سود قرض بھی شامل ہیں۔اس کے ساتھ 6 ملین ڈالر کا قرض دیا گیا ہے جو پاکستان نے 2024ءمیں 527 ملین ڈالر سود سمیت واپس کرنا ہے جو کہ کل رقم 7.4 بلین بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور حکومت چین کے درمیان خسارہ10 فیصدہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کو ایسٹ انڈیا کمپنی سے تشبیہ دینا غلط ہے۔سی پیک کا مقصدپاکستان کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنا اور اس کے لیے 9 اکنامک زون اگلے مرحلے میں بنائے جائیں گے۔چینی سفیر نے کہا کہ کرپشن کو کم کیا جا سکتا ہے ختم نہیں کیا جا سکتا۔پچھلے پانچ سالوں کو پانچ سو وزیروں کو کرپشن پر سزائیں دی گئیں جبکہ اب تک کل 1.5 ملین حکومتی اہلکاروں کو کرپشن پر سزا دی گئی۔انہوں نے کہا کہ کوئی کرپشن کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔دیکھا جاتا ہے کہ اس نے کتنی کرپشن کی ہے۔اگر اس نے کم کرپشن کی ہے تو اس کو اس کے عہدے سے ہٹا کر چھوٹا عہدہ دے دیا جاتا ہے۔سی پیک میں منصوبہ خیبرپختونخوا کو نظرانداز نہیں کیا گیا سی پیک میں ہی حویلیاں تا تھاکوٹ موٹر وے بن رہی ہے۔اسی طرح دیگر صوبوں میں بھی منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہسی پیک کے ذریعے پاکستان میں صنعتی، ذرعی اور مواصلاتی انقلاب آئے گا ، سی پیک کے تحت2025ءتک” اسلام آباد تا کراچی “بلٹ ٹرین چلائی جا سکے گی جو پانچ گھنٹوں میں یہ سفر مکمل کرئے گی۔صبح اسلام آباد میں ناشتہ کرنے والا دوپہر کا کھانا کراچی کھائے گا۔ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ سی پیک کے چار حصے ہیں پہلا توانائی کے منصوبے ،دوسرا انفرسٹرکچر ،تیسرا گوادر پورٹ اور شہر کی تعمیر اور چوتھے حصے میں انڈسٹریل زون کا قائم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سی پیک کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ اس سے یہ چین کی کالونی بن جائیگا جو کہ سراسرغلط ہے۔سی پیک کے تحت 45 بلین ڈالر کی کل سرمایہ کاری ہونی ہے جس میں ابھی تک 24 بلین ڈالر کے معاہدے ہوئے ہیں۔10 بلین ڈالر حکومت پاکستان کو قرض دیاگیا جس پر 2.5 فیصد شرح سود ہے۔ باقی براہ راست سرمایہ کاری ہے۔سی پیک سے فائدہ اٹھانے کے لیے پالیسیوں کو درست کرنا ہوگا اور اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہوگا۔اکرم سیگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ کے تحت 64 ممالک میں چین کام کررہا ہے۔یہ پاکستان کے لیے گیم چیلنجر ہے یہی وجہ ہے کہ سی پیک کی حفاظت کے لیے خصوصی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔تجارتی خسارا صرف پاکستان کا ہی چین کے ساتھ نہیں بلکہ بھارت اور امریکہ کا بھی تجارتی خسارا چین کیساتھ ہے۔مشرف دور میں انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری نہیں کی گئی مگر اب اس پر سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ جس سے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔سی پیک خام خیالی نہیں بلکہ حقیقت بن چکا ہے۔سی پی این ای کے صدرعارف نظامی نے کہا ہے کہ سی پیک کے حوالے سے میڈیا کو بہت کم معلومات ہیں اس پر زیادہ بات بھی نہیں کی جاتی ہمارے ہاں سیاست پر زیادہ بات ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کو بھی اس حوالے سے بہت کم آگاہی ہے یہی وجہ ہے کہ بعض سیاستدانوں کو بھی کہتے ہوئے سنا جاتا ہے کہ سی پیک پاکستان کو لوٹ لے گا،چین پاکستان پر قبضہ کرلے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ جو سرمایہ کاری کرتا ہے وہ اس میں اپنا فائدہ بھی دیکھتا ہے۔بھارت سی پیک کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے سی پیک پاکستان کا منصوبہ ہے۔ہمیں اپنا کام کرنے کی ضرورت ہے۔چین کے ساتھ تعلقات کو اب نچلی سطح پر عوام کے درمیان رابطے اور ذرائع ابلاغ کے آپسی رابطے کی طرف لے کر جانے کی ضرورت ہے اس سے ہی غلط فہمیاںدور ہوںگی۔وفاقی وزیر اطلاعات ،نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا ہے کہ جمہوریت کو میڈیا کی ضرورت ہے ، نگران حکومت مکمل غیر جانبدار ہے ،بلیم گیم کا حصہ بنے بغیر تمام وزارتوںاور شعبوںکے حوالے سے حقائق قوم کے سامنے رکھ رہے ہیں،جمہوریت کومعاشی عدم مساوات ،عدم برداشت اور جھوٹی خبروںجیسے خطرات کا سامنا ہے،ہم سب کا ہدف یہ ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اس کے لئے تمام معلومات ،حقائق قوم کے سامنے رکھنے ہونگے، شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن ہمارا ہدف ہے ،نگران حکومت دن رات کام کر رہی ہے،حکومت کو شفاف انداز سے چلانے کے لئے میڈیا کو آن بورڈ لینا ضروری ہے ،میڈیا بہتری کے لئے حکومت کی راہنمائی کرے۔وہ پیر کو سی پی این ای کی ایڈیٹرز سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔اس موقع پر سی پی این ای ایڈیٹرز سٹینڈنگ کمیٹی کے ممبران نے مختلف مسائل بھی وفاقی وزیر کے سامنے رکھے ،وفاقی وزیر نے مسائل کے جلد حل کی یقین دہانی کرائی ۔وفاقی وزیر بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا کہ حکومت کو شفافیت سے چلانا چاہیے ،حکومت کو شفافیت سے چلانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ معلومات عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں ، میڈیا کو بھی آگاہ رکھا جائے کہ ہر فیصلے کے پیچھے کیا وجوہات اور حقائق ہیںجب تک ایسا نہیں ہوگا اس وقت تک حکومت ٹھیک طریقے سے نہیں چل سکے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کا ہدف ایک ہی ہے کہ کرپشن ختم کی جائے حقیقت میں کرپشن تب ہی ختم ہوگی جب ٹرانسپرنسی ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ مجھے جتنی بھی وزارتوں کا قلمدان دیا گیا ہے ان کو میں سب سے پہلی ہدایت یہ دی ہے کہ شفافیت کے ساتھ چلیں ،بلیم گیم کے بغیر جو بھی ابھی تک کے حقائق ہیں وہ عوام کے ساتھ شیئر کیے جائیں ،حقائق قوم تک پہنچ جائیں گے تو ماہرین اس پر بحث کر کے ان کا حل بھی بتاسکیں گے ۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو میڈیا کی ضرورت ہے ،جمہوریت کو اس وقت تین بڑے خطرات کا سامنا ہے ان میںجمہوریت کوسنجیدہ خطرہ معاشی عدم مساوات ہے، نچلی سطح تک معاشی مساوا ت کے لئے اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت ہے ،دوسرا خطرہ عدم برداشت ہے ، انتہا پسندی کی وجہ سے تقسیم کے باعث معاشرے میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے اس پر غور کیا جائے اور اسے کم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔ جمہوریت کو تیسرا خطرہ فیک نیوز (جھوٹی خبروں ) سے ہے ، خبروں کی اشاعت اور نشر کرنے سے پہلے تصدیق ضرور ہونی چاہیے۔ وفاقی وزیر سید علی ظفر نے کہا کہ میڈیا کے اس فورم کے پاس اگر حکومت کے لئے کوئی تجویز ہے تو ہمیں دی جائے ،بہتری کے لئے اس پر غور کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی وزارت اطلاعات کے کنٹرول میں ہے ہم نے پی ٹی وی کو مینڈیٹ دیا ہے کہ ہر سیاسی جماعت کو مساوی وقت دے ، اس کو مانیٹر بھی کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر جب گرینڈ ڈیبیٹ ہوتی ہے تو اس میں امیدواران اپنے پارٹی منشور ،معاشی اہداف ، مسائل ،سماجی ایشوز پر بات نہیں کرتے ،میری تجویز ہے کہ الیکشن کے قریب پی ٹی وی پر گرینڈ ڈبیٹ پروگرام کا آغاز کیا جائے ۔

شریف خاندان نے غیر قانونی پیسوں سے لندن میں 3کروڑ 20لاکھ پاﺅنڈ کی جائیدادیں خریدیں ، برطانوی اخبار کا نیا انکشاف

اسلام آباد(آن لائن) برطانیہ کے معروف اخبار ڈیلی میل نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیرون ملک اثاثوں کے حوالے سے تازہ انکشاف کئے ہیں ۔ اخبار کے مطابق لندن میں موجود شریف خاندان کے اپارٹمنٹس کی مالیت 70 لاکھ پاونڈ ہے جو پاکستانی روپوں میں ایک ارب روپے سے زیادہ رقم بنتی ہے۔ اخبار کا مزیدکہنا ہے کہ شریف خاندان کے پاس لندن فلیٹس کے علاوہ غیر قانونی پیسوں سے لندن کے پوش علاقے میفیئر، چیلسی اور ریوالہ میں بھی 21 جائیداد یں ہیں ان تمام جائیدادوں کی مجموعی مالیت 3 کروڑ 20 لاکھ پاونڈ بنتی ہے۔ اخبار کا مزیدکہنا ہے کہ شریف خاندان نے دیگر جائیدادوں سے بھاری منافع کمایا جن میں ون ہائیڈ پارک کے ویو کے ساتھ والا گھر بھی شامل ہے جسے حسن نواز نے 4 کروڑ 30 لاکھ پاﺅنڈ میں فروخت کیا تھا اخبار ”ڈیلی میل“ کے مطا بق نواز شریف کے قبضے میں جو فلیٹ تھا وہ محل تھا ایک گھر ہے جس کو چار اپارٹمنٹس ملا کر ایک گھر بنایا گیا ہے۔

الیکشن کے بعد مضبوط حکومت ، فعال اپوزیشن دیکھ رہا ہوں : کنور دلشاد کا ” خبریں “ کو انٹرویو

اسلام آباد(سید انوار زیدی، تصاویر: فتح علی)نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کی آڑ میں عدلیہ اور افواج پاکستان کو تضحیک کا نشانہ بنایاپنجاب کے ووٹر پر اس کا گہرا اثر پڑے گا کیونکہ پنجاب کا ووٹر ہمیشہ سے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد نے خبریں کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا انہوں نے کہا مودی ۔نواز دوستی کی وجہ سے نواز شریف کا ووٹ بینک دن بدن کم ہوتا جارہا ہے تمام سیاسی پارٹیاں نواز شریف کی انڈیا دوستی کو اجاگر کریں سیاسی مخالفت اور الزام تراشیوں کی سیاست سے پرہیز کریں انہوں نے کہا کہ الیکشن ۔2018 کے انتخابات کے بعد ملک میں ایک بہت مضبوط پارلیمنٹ بنتے دیکھ رہا ہوں اگر پاکستان تحریک انصاف سنگل اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو اسے ایک بہت ہی متحرک اور فعال اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا خورشید شاہ والی فرینڈلی اپوزیشن نظر نہیں آئے گی ۔ 1977کے الیکشن کو شفاف کہنے والے جاہل ہیں کیا انہوں نے مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے حالات نہیں دیکھے 1977 مینوپلیڈیٹ الیکشن تھے جسے ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی مرضی اور منشا کے مطابق نتائج حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو وزارت پارلیمانی امور سے ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے الگ کرکے وزیر اعظم ہاﺅس کے ماتحت کردیا تھا جس کو بعدازاں اکتوبر 1977میں جنرل ضیا الحق نے دوبارہ وزارت پارلیمانی امور کی تحویل میں دیا اور آج تک ہے 1984میں جنرل ضیاالحق کا ریفرنڈم مکمل طور پر ایک بہت بڑا فراڈ تھا دس فی صد ووٹ کاسٹ ہوئے ڈپٹی کمشنرز اور آر اوز کے ذریعہ نتائج حاصل کیے ۔1985کے انتخابات غیر جماعتی ہونے کی وجہ سے منصفانہ تھے 1988, 1990,1993,1997کے انتخابات کسی حد تک غیر جانبدار تھے البتہ 2002کے انتخابات غیر جانبدار ی کے ذمرے میں نہیں آتے ۔2008کے انتخابات پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ صاف اور شفاف ہوئے جسے عالمی مبصرین نے بھی سراہا اور ’First world democracy,قرار دیا ۔2013کے الیکشن اس لیے متنازعہ ہوئے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اراکین نے اپنی جوڈیشل اینڈ ایڈ منسٹریٹو وژڈم کو بروئے کار نہیں لائے فخر الدین جی ابراہم عمررسیدہ ہونے کی وجہ سے شفاف انتخابات کروانے میں ناکام رہے کنور دلشاد نے کہا کہ نگران حکومتوں پر ہماری گہری نظر ہے خاص طور پر پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کی کارکردگی کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ پنجاب میںبیوروکریسی ان کے زیر اثر نہیں اور انتخابات کے عمل میں ان کی صیح طریقے سے معاونت نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ 15جولائی کے بعد نگران حکومتوں بارے ایک پریس کانفرنس میں آگاہ کریں گے کیونکہ نگران حکومتیں الیکشن کے معاملات میں جن لوگوں سے مشاورت کر رہی ہے ہم مطمعن نہیں ہیں پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے تمام بیورو کریسی۔وزرا ۔کابینہ اور سیاسی جماعتیں تحفظات رکھتی ہیں اس کے برعکس مرکزی نگران حکومت پر اعتماد ہے نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر لملک غیر جانبدار ہیں ان کو انتخابات کی نگرانی کرنے کی بجائے صاف شفاف الیکشن کی یقین دہانی کرانی چاہیے اگر 25جولائی کے انتخابات متنازعہ ہو گئے تو نگران حکومت عوامی غیظ و غضب نہیں بچ سکے گی۔پولیس محکمے میں نچلے طبقہ تک تبدیلیوں بارے انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی غیر مناسب اقدام ہے اس سے پولیس کا تمام انتظامی ڈھانچہ ہل گیا ہے اگر تبدیلیاں کرنے بھی تھیں تو اعلی افسران کی کرنی تھیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن ملتوی کرنے کا کوئی جواز یا امکان نہیں ایسا ہوا تو آئینی بحران پیدا ہوگا۔

 

قصور، سرگودھا، چونیاں میں بچیوں سے زیادتی کے واقعات کو اپنے اخبار میں نمایاں طور پر شائع کیا ، یہ گینگ بچیوں کی فلمیں بناتا ہے اس پر چھاپہ مارنے کی تیاری کر لی تھی جس نے جوا بی و ار میں ضیا شاہد کی جعلی آڈیو جاری کر دی :میاں غفا ر ، ملتان، آج کل ٹیکنالوجی بڑی ایڈوانس ہے میسج ہی نہیں، ویڈیواورآڈیومیںکسی بھی چیز کو بدلا جا سکتا ہے:وحیدآئی ٹی سپیشلسٹ ، میں نے عمران خان اورگلا لئی واقعہ پر آپ کے علاوہ ایک اور ٹی وی چینل پرعملی مظاہرہ کرکے بھی دکھایا تھا ، نواز ، شہباز کے کیسز، واضح ہو گیا الیکشن سے پہلے فیصلہ نہیں آئیگا ، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ الیکشن کمشن نے فیصلہ کہا ہے کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ فاٹا میں بعد میں الیکشن ہوں گے اس کے راستے میں جورکاوٹیں ہیں وہ یقینی طور پر حلقہ بندیوں سے لے کر نظم و نسق بھی ابھی منتقل نہیںہوا ہے خیبر پختونخوا کی حکومت کو۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ فاٹا کے نوجوانوں کو بھی اور جو وہاں تحریک شروع ہوئی ہے ان کو تھورا صبر کر لینا چاہئے۔ نہ اتنی جلدی وہاں الیکشن کروانے کی پوزیشن میں ہیں اور نہ ہی اس کی وجہ سے سارے الیکشن ملتوی کر سکتے ہیں۔ عبداللہ گل آپ کی تنظیم فاٹا کے لوگوں کی بھرپور طور پر حمایت کر رہی ہے آپ کے پاس کیا دلائل ہیں اورآپ کے پاس اس کا حل کیا ہے۔
تنظیم نوجوانان کے سربراہ عبداللہ گل نے کہا ہے کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا فاٹا کے ساتھ ایک ایسا تعلق ہے ایک تو میرے والد حمید گل کی وجہ سے تعلق ہے دوسرا تعلق یہ ہے کہ اس وقت متعدد امیدوار جو ہیں ان کا تعلق فاٹا سے ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ایک ایم این اے کے ساتھ ایم پی اے کے الیکشن لڑتے ہیں یہ پورا پینل بنتا ہے جب انہوں نے میرے ساتھ رابطہ کیا تو متعدد قبائل سے بات کی اور ہم باقاعدہ الیکشن کمیشن کی طرف گئے الیکشن کمیشن سے جب بات کی تو ہم نے ایک درخواست دے دی جس کے بعد انہوں نے ہمارا کوئی جواب نہیں دیا یہ 25 مئی کی بات ہے جب ہم نے ان کو درخواست دی تھی اس کے بعدہم گاہے بگاہے رابطے میں رہے لیکن کوئی مثبت جواب نہ آیا تو ہماری ایک کمیٹی ہے۔ اس میں فیصلہ کیا کہ ہم اسلام آباد میں دھرنا دیں گے پرامن انداز میں۔ یہاں ہمارے ہزاروں جو قبائل کے لوگ، ہماری جو پشتون برادری ہے تنظیم جوانان پاکستان کے لوگ وہ سارے اکٹھے ہوئے اور ہم نے پرامن احتجاج ریکارڈ کرواتے رہے لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی تو دودن کے بعد ڈپٹی کمشنر اور ڈی ایس پی صاحب نے وہ ہمیں لینے کے لئے آئے اور انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر صاحب سے آپ کی ملاقات ہے۔ بڑی اچھی ملاقات ہوئی اور چیف الیکشن کمشنر صاحب نے ہمارے جو تمام مطالبات تھے ان کو دل سے جائز قرار دیا لیکن کہا کہ یہ آئین کے اندر ہم مجبور ہیں کیونکہ پچھلی حکومت آئین بنا گئی۔ ہمارا ان سے موقف تھا کہ آئین تو پچھلی نے حلف نامے کے اوپر بھی بنایا تھا مگر حکومت نے سپریم کورٹ نے 63,62 کی جو شقیں تھیں وہ اس میں ڈال دی گئی ہیں اگر وہ کام ہو سکتا ہے تو یہ آج جو الیکشن کمشنر نے ہمارے مطالبے کو مسترد کیا تو اس کو طریقے اختیار کریں گے ایک قانونی طریقہ ہے۔ آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ بیرسٹر فروغ نسیم صاحب جو ہیں وہ ایک بہت بڑے لائر ہیں اور انہوں نے ہمارا کیس لیا آخر اس میں کوئی جان تھی تو وہ لیا۔ اب ہمارے پاس سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا راستہ موجود ہے ہم نے جو متعدد میڈیا ہاﺅسز سے اور بالخصوص میں خبریں گروپ سے یہ درخواست کروں گا کہ چیف جسٹس صاحب تک ہمارا موقف پہنچایا جائے کہ کروڑ لوگوں کا معاملہ ہے اگر ضیا شاہد صاحب خود آپ دیکھیں 12 سیٹوں پر 25 جولائی کو الیکشن ہو رہا ہے لیکن سولہ سیٹیں جمع 5 جو ریزرو سیٹیں ہیں اس کے اوپر وہ کہتے ہیںکہ ایک سال بعد، ایک سال کے اندر کروائیں گے اب ایک سال کے اندر الیکشن کا مطلب یہ ہے کہ جو فاٹا کے لوگ ساری زندگی محرومیوں کا شکار رہے 70 برس سے اب جب ان کو آزادی دے دی گئی ہے اور ایف سی آر اور ایف آئی آر کے قانون میں لاتے ہیں تو باقی پورے پاکستان میں 5 سال کے لئے الیکشن ہو رہے ہیں اور فاٹا کے لوگ 4 سال کے لئے ہوں۔ دوسرا اس کے اندر جو قانونی نقطہ ہے وہ یہ ہے آئین کے اندر تو کہیں موجود نہیں ہے کہ کسی کو 4 سال کے لئے الیکشن کر لیں اس لئے آئین اور جمہوریت کے تقاضوں کے بالکل منافی بات جو الیکشن کمیشن نے کہی اور دوسرا یہ کہ 21 سیٹوں پر آپ جانتے ہیں صوبائی اسمبلی کے اندر حکومت بنائی بھی جا سکتی ہے اور گرائی بھی جا سکتی ہے اس لئے ہمارے جو مطالبات ہیں اس کے منوانے کا پہلا تو قانونی راستہ ہے اور دوسرا راستہ جمہوری طریقہ ہے اس کے لئے ہم نے لاک ڈاﺅن کرنے کا جو باقاعدہ اعلان کیا ہے 24 گھنٹے کا میں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مشاورت سے الٹی میٹم دیا ہے الیکشن کمیشن کو اور نگران حکومت کو کہ ہمارے مطالبات کو سنا جائے اور ان پر عمل کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو۔
ضیا شاہد نے کہا کہ ہمارے ہاں جب بھی کوئی جھگڑا پیدا ہوتا ہے تو مہذب اقوام میں بجائے اس کے کہ ہم آپس میں بحث و مباحثہ کریں یا ڈنڈے سوٹے سے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں ہم سب کے پاس معقول اور آئینی راستہ ہوتا ہے آپ اس مسئلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں لے جاتے۔
عبداللہ گل نے کہا کہ آپ کی بات بجا فرمائی ہے۔ لیکن میں گزارش کروں گا کہ ہم نے یہ راستہ بھی اختیار کرنا ہے لیکن ماضی میں دیکھا گیا کہ سپریم کورٹ بھی انہی کی سنتی ہے جو لوگ اپنے لئے کچھ کرنے کے لئے شور مچاتا ہے ورنہ تو ماں بھی بچے کو دودھ نہیں دیتی بغیر چلائے۔ ہم اپنا احتجاج پرامن رکھتے ہوئے جمہوری انداز کے اندر رہتے ہوئے جو پاکستان کی بنیادی شاہراہیں ہیں ان کے اوپراپنا پرامن دھرنا دیں گے۔ امید کریں گے میں نے کل اپنی پریس کانفرنس میں چیف جسٹس کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ
ضیا شاہد نے کہا کہ اب کم و بیش یہ بات نظر آ رہی ہے کہ نوازشریف اپنی اہلیہ کی علالت کے باعث لندن میں ہیں اور واپس مقررہ تاریخ پر پہنچنا ممکن نظر نہیں آ رہا مریم نواز صاحب نے اس طرف اشارہ کیا ہے اب یہ کم و بیش بات دکھائی دیتی ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے جو ایک مہینہ دیا تھا کہ ایک مہینے کے اندر ان کا فیصلہ آ جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ تھا کہ الیکشن سے پہلے فیصلہ آ جائے، عملاً اگر دیکھا جائے تو اکثر بحث کا حصہ مکمل ہو چکا ہے اور کوئی شاید ہی کوئی بات رہ گئی ہو۔ عدالتوں کا جو اپنا طریقہ کار ہوتا ہے اس میں ظاہر ہے نوازشریف صاحب پیش نہیں ہو سکتے تو کیا ان کے وکلاءکو اجازت ہونی چاہئے کہ وہ ان کی جگہ پر وہ جو سوالات کا جواب دے سکیں۔ بہر حال بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ بیگم کلثوم کو اللہ صحت دے اب تو کہا جا رہا ہے کہ ان کی طبیعت ٹھیک بھی ہونے لگی ہے۔ بڑی اچھی بات ہے میں نے اپنے ہر پروگرام میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ دُعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو صحت عطا فرمائے۔ ایک دوسرے سے سیاسی اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔ میرا خیال ہے نظر آ رہا ہے کہ نوازشریف کا معاملہ الیکشن کے بعد حل ہوتا نظر آئے گا۔ نوازشریف کے 25 بیورو کریٹس کے ناموں کی حتمی فہرست تیار کر لی گئی ہے اور ان کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالا جانے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ مجھے تو امید نہیں ہے کہ ان بیورو کریٹس کے خلاف کوئی کارروائی ہو سکے اس لئے کہ میں نے آج صبح ہی سنا کہ جو ہمارے محترم جو نیب کے سربراہ ہیں ان کے ترجمان سے پوچھا تھا کہ تو غالباً ایک ہفتے کے لئے لاہور میں آئے ہوئے ہیں۔ خیال ہے کہ شہباز شریف ان کی عدالت میں پیش ہوں گے مگر پتہ چلا ہے کہ وہ پیش نہیں ہوئے اب تو نظر آ رہا ہے کہ شہباز شریف کا معاملہ بھی جسٹس (ر) جاوید اقبال صاحب جو ہیں اس کو بھی الیکشن سے پہلے نہیں نپٹا سکتے۔ پتلا چلا ہے کہ ان کو دھمکی بھی ملی ہے میں نے تو اس سے بھی بہت زیادہ آگے جا کر باتیں کی ہیں۔ میں نے کہا تھا کہ نیب کے چیئرمین جناب ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال کو ایک مرحلہ پر کہا گیا تھا بعض سیاسی عناصر کی طرف سے کہ آپ مہربانی کریں استعفیٰ دے دیں یا بیماری کے بہانے رخصت پر چلے جائیں۔ پریس نے یہ خبر بھی دی تھی کہ ان کو آفر کی گئی ہے کہ خانہ کعبہ کے سامنے ان کا ایک نمائندہ اور جس پارٹی کا میں ذکر کر رہا ہوں ایک جگہ بیٹھ کر حلف اٹھائیں کہ اگر جاوید اقبال صاحب چھٹی پر چلے جائیںگویا یہ معاملہ کھوہ کھاتے پڑ جائے تو پھر اس کی پاداش میں، انعام کے طور پر آفر کی گئی تھی کہ اگر اگلی حکومت میں جب جناب نوازشریف صاحب کی پارٹی کامیاب ہو کر حکومت بنائے گی تو ان کو صدر ممنون کی جگہ صدر بنا دیا جائے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ جناب جسٹس صاحب نے اس سے معذرت کر لی تھی۔ ادھر نیب میں صاف پانی سکینڈل میں پیش نہ ہونے اور کراچی کے عوام کو حکومت میں آ کر صاف پانی فراہم کرنے کے شہباز شریف کے بیان پر ضیا شاہد نے کہا کہ اس کا جواب تو وہ خود ہی دے سکتے ہیں مگر اس بیان کو بھی ان کے باقی وعدہ کی طرح ہی لینا چاہئے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ اگرچہ بہت سارے لوگ مجھ سے خفا ہیں اور آج کل تومجھ پر بڑی یلغار ہے۔اخبار اور چینل ۵ کا ریکارڈ گواہ ہے کہ میں نے سب سے پہلے قصور میں بچیوں کے ساتھ زیادتی اور اس سے پہلے لڑکوں سے زیادتی کے سلسلے میں آواز اٹھائی۔ میں واحد ایڈیٹر تھا جو 3 مرتبہ قصور گیا۔ سرگودھا میں جب 600 بچوں کی ویڈیو بنا کر ناروے کے ٹیلی ویژن کو 100 یورو فی ویڈیو کے حساب سے فروخت کی گئی میں واحد بندہ تھا جس نے اس مسئلے کو سب سے زیادہ اٹھایا۔ میں نے اس کو سزا دلوانے تک پرسو کیا اور میں اس بات سے اتنی شدید نفرت کرتا ہوں کہ بچیوں پر مجرمانہ حملے کئے جائیں۔ اس وقت ساری دنیا جانتی ہے، ہمارے اخبار میں دو خبریں بھی چھپی ہیں کب سے یہ شروع ہوا، ہر تیسرا بندہ جو اداکار، صدا کار ہے وہ کسی کی بھی آواز میں ایسی کاپی کرتا ہے کہ اس کو وہ ہی نہیں پہچان سکتا کہ یہ میری آواز ہے یا اس کی آواز ہے۔ اس کی میں مثال دوں گا اور میاں غفار صاحب بھی جو اس کیس پر کام کر رہے تھے، یہ ایک کیس ہے، 15 دن سے پہلے اس کے پیچھے لگے ہوئے تھے۔ ایف آئی اے کی ٹیم بھی تیار کی جا چکی ہے جس کے ذریعے ہم نے ملزموں پر چھاپہ مارنا تھا۔ کسی وجہ سے یہ بات لیگ ہو گئی کہ اخبار والوں کو پتا چل گیا لہٰذا وہ شو نہیں ہو سکا۔ اب اس کا سارا ملبہ مجھ پر ڈال دیا گیا۔ دوسری بات کہ عائشہ گلا لئی صاحب نے جب عمران خان پر یہ الزام لگایا کہ اس نے مجھے میسج کئے ہیں تو بہت سے لوگوں نے مجھے پاکستان سے باہر سے بھی فون کیا کہ یہ ٹیکنالوجی موجود ہے کہ آپ کے ٹیلی فون سے جو بھی چاہے کسی کو بھیج سکتے ہیں۔ بول ٹیلی ویژن پر ایک صاحب نے اس کا ڈیمو بھی دیا۔ اس کے بعد مجھے بتایا اور میرے دوست عبداللہ غالب صاحب اس کو ٹریس کرے۔ ہمارے پروگرام میں اس کی ویڈیو موجود ہے کہ انہوں نے کہا آپ جو نام مجھے دیں میں اسی نام سے میسج کروں گا۔ یہ ایک الزام مجھ پر لگا میں اس کے خلاف جو قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ پروگرام میں ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ خبریں ملتان میاں غفار نے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک گینگ ہے اس میں سکول ٹیچر اور کچھ لوگ ملتان میں ہیں۔ سکول ٹیچر بچیوں کو ورغلا کر ان کی ساﺅنڈ بائیٹس لیتی ہے اور تصاویر اپلوڈ کرتی ہے۔ اس نے مخصوص لوگ رکھے ہوئے ہیں جنہیں یہ بیچتی ہے ۔ اس کا تعلق ملتان سے ہے۔ ہم اس تک پہنچ چکے تھے۔اس بندے کو جسے ہم نے پورے پلان میں شامل کیا ہوا تھا کہیں سے پتا چل گیا کہ یہ میڈیا والے ہیں اور اس کی وجہ سے ہمارا پلان چوپٹ ہوا۔
پروگرام میں آئی ٹی ایکسپرٹ ولید نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آج کل ٹیکنالوجی بہت ایڈوانس ہو چکی ہے۔ میسج ہی نہیں ویڈیو اور آواز کسی بھی چیز کو بدل سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ بہت ہائی اینڈ رانزک رپورٹ ہی اس کو نیٹ کر کے بنا سکتی ہے۔ ملکی ادارے یا بڑی آرگنائزیشن ہی ٹیسٹ کر کے بتا سکتی ہیں کہ یہ نقلی ہے۔ ٹیکنالوجی اتنی ایڈوانس ہو چکی ہے کہ میں چاہوں تو آپ کی وائس فریکوینسی کو میچ کر کے آپ کی آواز اتنی ایکوریٹ کر سکتا ہے کہ آپ خود ہی نہیں تو کہیں کہ یہ میری آواز ہے۔ ٹیکنا لوجی سے کسی کو بھی بلیک میل کیا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ کے نمبر سے آپ کو ہی کال کی جا سکتی ہے۔ سوچل میڈیا کے ذریعے عام یوزر کسی کو بھی بلیک میل کر سکتا ہے، جو سب فیک ہے۔ وائس ریکارڈنگ پر مختلف سافٹویئر اس کی جانچ کرتے ہیں کہ یہ وائس ریکارڈنگ ہے یا کمپیوٹرائزڈ طور پر کچھ ہے۔ ٹیکنالوجی اتنی جدید ہے کہ میں آپ کی آواز ریکارڈ کر کے آپ کی آواز میں یہی بات کر سکتا ہوں۔ اگر مجھے آپ کا نمبر پتا ہے تو میں آپ کو ضیا شاہد صاحب کے نمبر سے کال کروں گا اور لکھا آئے گا کہ ضیا شاہد صاحب کالنگ۔ اس کاٹ کے پیچھے وائس جنریٹنگ کا سسٹم لگا کر آواز اس انداز سے جائیگی کہ فرق پتا ہی نہیں چلے گا۔

علی طفر نے میرے بارے میں جو کہا اسے غلط رنگ دیا گیا

لاہور(شوبزڈیسک)گلوکارہ آئمہ بیگ نے ہے کہ وہ تقریبات اور شوز میں دیر سے نہیں پہنچتی اورنا یہ ان کی عادت ہے-انہوں نے کہا کہ”طیفا ان ٹربل” کی تقریب میں جان بوجھ کر لیٹ نہیں ہوئی بلکہ میں اپنے کسی شوپر تھی جہاں سے فری ہونے کے فوری بعد وہاں پہنچ گئی لیکن میری غیر موجودگی میں علی ظفر نے میرے بارے میں کہا تھا” کہ وہ گانے کی ریکارڈنگ میں بھی لیٹ آیا کرتی تھی”- یہ بات صرف مذاق کی حد تک تھی جسے غلط رنگ دیاگیا-آئمہ بیگ نے مزید کہا کہ میں تعلیم یافتہ اور ذمہ دار آرٹسٹ ہوں اور میں کبھی کسی تقریب میں جان بوجھ کر لیٹ نہیں گئی۔یاد رہے کہ “طیفا ان ٹربل” میں آئمہ بیگ اورعلی ظفر کے گائے ہوئے گانے “آئٹم نمبر”نے مقبولیت کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اور اس گانے کو صرف دو دنوں میں 20لاکھ سے زائد لوگ دیکھ چکے ہیں-

منی چینجرز نے غیر قانونی طور پر ڈالر کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی

لاہور (سید شہزاد بخاری)ملکی امپورٹ میں اضافہ اور ایکسپورٹ میں کمی ہونے کے باعث ڈالر 3 سال کی بلند ترین سطح پر آگیا ، بیرون ممالک سے رزمبادلہ کی شرح میں کمی ،وصولیوں کا پاکستان میں نہ آنا اور پاکستان کو مختلف سیکٹر میں حاصل ہونے والے قرضوں کے باعث ڈالر122 روپے کی بلند ترےن سطح تک پہنچ گیا ، معاشی ماہرین نے ڈالر کی قیمت میں اضافے کے باعث پاکستان میں حکومت کی جانب سے خوردنی تیل ، ڈیزل، پیٹرول اور دیگر امپورٹ کی جانے والی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی نوید سنا ڈالی ، ڈالر کی قیمت میں اضافے کے باعث ذخیرہ اندوزں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جبکہ قیمتوں میں اضافہ سے محصوص سرمایہ کاروں کی ڈالر کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی ،ڈالر کی خفیہ خریدو فروخت اور حکومت کی طرف سے چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ممکن ہوا ہے ڈالر کی قمیت بڑھنے کی وجہ سے ملکی قرضوں میں بھی اضافہ ہو گیاوفا قی وزےرکے متعلقہ اداروں کو مصنوعی طریقہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ کرنے اور غیر قانونی فروخت کرنیوالوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاو¿ن جا ری رکھنے کی ہدایت کی ، تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ہر طرف ڈالرز کی قیمتوںمیں کمی کا تذکرہ عروج پر ہے اسی طرح ملکی کرنسی جس کی قدر میں روز بروز کمی ہو رہی ہے اس کی وجوہات، اسباب اور ان کے سدباب کے حوالے سے محتلف معاشی ماہرین اورماہر سٹاک بروکرز اورملکی مصنوعات کو ایکسپورٹ کرنے والی تاجر برادری کے علاوہ عوام نے بھی ڈالر کی قیمتوں میں اضافے کو باعث تشویش قرار دیا ہے ۔ملکی ایکسپورٹ کی شرح کم ہونے اور کرنسیوں کے اتار چڑھاﺅ میں ذحیرہ اندوزوں کے غیر معمولی کردار ادا کرنے سے ملکی حالات میںمنفی تبدیلی رونما ہو رہی ہے ملک روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی بنیادی وجہ حکو متی اداروں اور تاجربرادری کے ساتھ ساتھ صنعتکاروں کا آپس میں باہمی اتفاق اور مشترکہ تعاون کا شدید فقدان ہے ملکی زرمبالہ کی شرح میں اضافہ ہونے کرنے کےلئے پاکستان کو امپورٹ اور ایکسپورٹ کے فرق کو برابرکرنا ہو گاڈالر کی قیمت کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے ملک میں کرنسی ایکس چینج کے کاروبارکو خفیہ طریقے سے کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کی ضرورت ہے بد قسمتی سے ماضی کی حکومتوں کے ساتھ ساتھ موجودہ نگران حکومت نے بھی کوئی قانون سازی نہیں کی ہے اور نہ ہی اس کی روک تھام کے لئے کوئی قانون وضع نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے ذخیرہ اندزوں کے حلاف کوئی منظم کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے ڈالر کی سمگلنگ اور اس کے اتار چڑھاو¿ کرنے والے مافیا کی جانب سے اکثر اوقات کرنسی کے بڑھنے کی پیشن گوئی یا اس کا ریٹ بڑھانے کی غرض سے اس کو ذخیرہ کر لیتے ہیںاس کے علاوہ کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کرنے والوںسے کرنسی کی تبدیلی کی جاتی ہے تو یہ کرنسی تبدیل ہونے والی رقوم کو حکومت کے پاس جمع بھی نہیں کرواتے ہیں منی ایکس چینجرز کی جانب سے ذیادہ منافع حاصل کرنے کی لالچ کی وجہ سے ڈالرز کی ذخیرہ اندوزی کے باعث حکومتی قرضوں کے بوجھ میں مزیداضافہ ، معاشی بدحالی ،مہنگائی اور بدامنی نے جنم لیتی ہے جن کے خلاف سخت ایکشن لینے کے علاوہ کڑی نگرانی کرنی کی ضرورت ہے ڈالر کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے حکومتی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے تدارک کےلئے نگران وفاقی وزیر خزانہ کا متعلقہ اداروں کو مصنوعی طریقہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ کرنے اور غیر قانونی فروخت کرنیوالوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاو¿ن کرنے کی ہدایات جاری کر دیںتاکہ ڈالر کی قیمت میں استحکام لایا جا سکے۔

ندا چودھری کے” لونگ الائچی “کی ریکارڈ آمدنی‘ ہر شو فل پیک

لاہور(شوبزڈیسک)اداکارہ ندا چودھری کے” لونگ الائچی “کی ریکارڈ آمدنی ۔محفل تھیٹر میں عید کے روز سے شروع ہونیوالے اس ڈرامہ کا ہر شو ابھی تک ہاﺅس فل چل رہا ہے ۔ اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے اداکارہ نے کہا کہ ڈرامہ میں ان کی محنت سب کے سامنے ہے اور باقی دوسرے آرٹسٹوں کی محنت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ پروڈیوسر اسحاق چودھری اور ان کی ٹیم میں شامل ڈائریکٹر اور رائٹر اظہر ملک کا بھی ہاتھ ہے ۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر مبشر ملک کی کاوشوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ڈرامہ کی کامیابی کا جشن بھی منا چکی ہیں۔
ڈرامہ ”لونگ الائچی “عوامی توجہ حاصل کرنے میں اس لئے کامیاب رہا کہ پوری ٹیم حلوص سے کام کر رہی ہے۔

خبریں کی خبر پر لومیرج کرنیوالی لڑکی کے اغواکاروں کیخلاف مقدمہ

گگومنڈی (نامہ نگار) خبریں کی خبر پر لومیرج کرنے والی لڑکی کے اغوا میں ملوث ملزمان کیخلاف مقدمہ درج۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب نواحی گاﺅں 255 ای بی رہائشی پھول صباءجس نے محمد صادق لاڑ سے اپنے گھر والوں کی مرضی کے بغیر پسند کی شادی کی ہوئی تھی اسے اس کا والد محمد ظفر‘ بھائی زوار 7\8 مجسلح افراد کے ہمراہ گن پوائنٹ پر اغوا کرکے لے گیا تھا اور مزاحمت پر اپنے داماد محمد صادق کو زخمی کردیا تھا۔ روزنامہ خبریں کی اشاعت کے بعد گزشتہ روز پولیس نے ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرکے ان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنا شروع کردیئے ہیں۔

ریکھا کے آئیفا ایوارڈزکی تقریب میں ’سلام عشق‘ پر جلوے

ممبئی(شوبز ڈیسک) اداکارہ ریکھا نے 20 سال بعد آئیفا ایوارڈز میں ’سلام عشق اور’پیارکیا تو ڈرنا کیا‘ گانے پررقص کرکے محفل لوٹ لی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 19 ویں آئیفا ایوارڈز 2018 کا میلہ بینکاک میں سجا جہاں بالی ووڈ ستاروں نے شرکت کرکے ایوارڈز کی تقریب کو چار چاند لگادیئے۔تقریب کا مزہ تب دوبالا ہوا جب بالی ووڈ اداکارہ ریکھا نے 1978 میں ریلیز ہونے والی اپنی فلم ’مقدر کا سکندر‘ کے مشہورگانے ’سلام عشق‘ پر ایک بار پھر رقص کیا جو دیکھنے دکھانے والا تھا۔
۔اداکارہ جیسے ہی اسٹیج پر آئیں تو وہاں موجود تقریب کے شرکا نے شور مچانا شروع کردیا ۔ریکھا کی جانب سے 1960 میں ریلیزہونے والی فلم ’مغل اعظم‘ فلم کے مشہورومعروف گانے ’پیارکیا تو ڈرنا کیا‘ پر بھی عمدہ رقص کیا گی۔

پریانکا اور امریکی گلوکار میں محبت ‘ ڈنر اکٹھے کیا‘دوستی کی تصدیق

ممبئی(شوبزڈیسک) امریکی گلوکارنک جوناس نے بالی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کےساتھ گہری دوستی کی تصدیق کردی۔گہری دوستی کے چرچے گزشتہ کئی روزسے میڈیا کی زینت بنے ہوئے تھے۔ممبئی کے نئے گھرکی پارٹی کی خوشی میں دونوں ہی ممبئی پہنچے ۔گزشتہ روزپریانکا والدہ اورنک جوناس کے ساتھ ممبئی کے مہنگے ریستوران میں ڈنرکیلئے بھی گئے۔گلوکارکی جانب سے اداکارہ کےساتھ گہری دوستی کی تصدیق اس وقت ہوئی جب نک جوناس کی جانب سے انسٹاگرام پرایک وڈیو شئیرکی جس میں وہ اپنی محبت کا اظہارکرتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔واضح رہے کہ دونوں کی ملاقات گزشتہ سال میٹ گالا میں ہوئی تھی جہاں وہ ایک ساتھ ریڈ کارپٹ پرجلوہ گر ہوئے تھے جب کہ گلوکار اداکارہ سے پورے دس سال چھوٹے ہیں۔