چمپئنز ٹرافی ہاکی ، پاکستان اور ارجنٹائن آج آمنے سامنے

ایمسٹرڈیم(آئی این پی)چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ میں آج جمعرات کو پاکستان اور ارجنٹائن کے درمیان اہم میچ کھیلاجائیگا ۔ میگا ایونٹ کا آج جمعرات کو پہلا میچ پاکستان اور ارجنٹائن کے درمیان کھیلا جائیگا یاد رہے کہ پاکستان کی ٹیم اس سے قبل تین میچ کھیل چکی ہے ، تینوں میں ہی اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔بھارت نے پہلے میچ میں پاکستان کو 4-0 سے شکست دی، دوسرے میچ میں آسٹریلیا کی ٹیم انتہائی سخت مقابلے کے بعد پاکستان کو 2-1 سے شکست دی جبکہ تیسرے میچ میں میزبان ہالینڈ نے پاکستان کو بآسانی 4-0 گول سے شکست دی۔ میگا ایونٹ کادوسرا میچ بھارت اور بیلجیئم کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جائیگا جبکہ تیسرا میچ ہالینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا جائیگا۔ٹورنامنٹ میں (کل) جمعہ ایک میچ کھیلا جائیگا جس میں پاکستان اور بیلجیئم کی ٹیمیں آمنے سامنے ہونگی۔ ٹورنامنٹ میں 30 جون کو فائنل سے قبل آخری دو میچ کھیلے جائینگے۔

لنکانے بارباڈوس ٹیسٹ4وکٹوں سے جیت لیا

برج ٹاﺅن(آئی این پی) سری لنکا نے ویسٹ انڈیز کو ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ میں 4 وکٹوں سے شکست دے دی، دونوں ٹیموں کے درمیان تین میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر رہی،ہولڈر میچ اور شین ڈورچ سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ آئی لینڈرز نے 144رنز کا ہدف میچ کے چوتھے روز 6 وکٹوں کے نقصان پر پورا کیا، 81 رنز پر 6 وکٹیں گرنے کے بعد کوسل پریرا اور دلرووان پریرا حریف باﺅلرز کے سامنے ڈٹ گئے، دونوں کھلاڑیوں نے ساتویں وکٹ میں 63 رنز کی ناقابل شکست شراکت جوڑ کر کالی آندھی کا نہ صرف میچ بلکہ سیریز جیتنے کا خواب پاش پاش کر دیا۔ جیسن ہولڈر کی غیرمعمولی باﺅلنگ بھی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی انہوں نے دونوں اننگز میں 9 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، ۔برج ٹاﺅن میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز سری لنکن ٹیم نے 81رنز 5کھلاڑی آﺅٹ پر دوسری اننگز دوبارہ شروع کی تو کوسل مینڈس 25 اور دلروون پریرا ایک رن پر کھیل رہے تھے اور آئی لینڈز کو فتح کیلئے مزید 63رنز درکار تھے، دن کے پہلے ہی اوور میں ہولڈر نے کوسل مینڈس کو آﺅٹ کر کے ٹیم کو بڑی کامیابی دلائی، مینڈس 25رنز بنا سکے، اس موقع پر کوسل پریرا اور دلروون پریرا کالی آندھی کے باﺅلرز کے سامنے ڈٹ گئے، دونوں بلے بازوں نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساتویں وکٹ میں 63رنز کی ناقابل شکست شراکت جوڑ کر ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرایا، اسطرح ویسٹ انڈیز کا سیریز جیتنے کا خواب ادھورہ رہ گیا، پریرا 28اور دلروون پریرا 23 رنز بنا کر ناٹ آﺅٹ رہے، ہولڈر نے 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، کیمر روچ نے ایک وکٹ لی۔

پاکستان میں خود کو کبھی غیر محفوظ تصور نہیں کیا :مکی

لاہور(آئی این پی) پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا ہے کہ انہوں نے خود کو پاکستان میں کبھی غیر محفوظ تصور نہیں کیا بلکہ انہیں یہاں بہت پیار ملا ہے۔اپنے ایک انٹرویو میں مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ وہ یہاں کے کلچر سے بہت متاثر ہوئے جس میں ایک دوسرے کی بہت عزت کی جاتی ہے، کھلاڑی بڑوں کی عزت کرتے ہیں اور یہ سب کچھ میرے کلچر سے ذرا مختلف ہے۔مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کے اقدار اور اخلاق بہترین ہیں اور وہ اسے انجوائے کرتے ہیں۔مکی آرتھر نے بتایا کہ انہوں نے کچھ اردو کے الفاظ بھی سیکھ لیے ہیں جیسے پانی، شکریہ اور کچھ ایسے ہیں جو ٹی وی پر نہیں بتا سکتا۔لاہور کی تعریف کرتے ہوئے مکی آرتھر نے کہا کہ لاہور مختلف ثقافتوں والا شہر ہے جہاں اچھے ریسٹورینٹس اور کھانے ہیں اور خاص طور پر بریانی جو وہ کھلاڑیوں کو زیادہ کھانے نہیں دیتے کیوں کہ یہ اسکن کے لیے اچھی نہیں۔عمر اکمل سے متعلق سوال پر مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ اب میں خاموش رہوں گا کیوں کہ اگر کوئی بات کی تو ہیڈ لائنز بن جائے گی۔کیا آپ پاکستانی میڈیا سے خوش ہیںکے سوال پر مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ کئی صحافی بہت اچھے ہیں مگر کچھ مشکلات پیدا کرنے والے بھی ہیں۔

کالا باغ ڈیم ہرصورت بننا ہے ، چاروں بھائیوں کو قربانی دینا ہو گی : چیف جسٹس

اسلام آباد(صباح نیوز)چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے قرار دیا ہے کہ ڈیم پاکستان کی بقاکے لیے ضروری ہے جس کے لیے چاروں بھائیوں کو قربانی دینا ہوگی، کالا باغ ڈیم کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں، ڈیم کا نام پاکستان ڈیم رکھ لیں، اگر پاکستان ڈیم نہیں بنائے گا تو پانچ سال بعد پانی کی صورتحال کیا ہوگی ؟، ڈیم ہر صورت بننا ہے۔بدھ کوسپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک عدالت میں پیش ہوئے اور ڈیم کی تعمیر کے حق میں دلائل دیئے۔ شمس الملک نے عدالت کو بتایا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں ڈیم بنانا چیف جسٹس کا کام نہیں، چیف جسٹس کے علاوہ کوئی اور انصاف نہیں کرسکتا، دنیا میں 46 ہزار ڈیم تعمیر ہو چکے ہیں۔ چین میں 22 ہزار ڈیم بنائے گئے ہیں، چین کا ایک ڈیم 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے، بھارت 4500 ڈیم تعمیر کرچکا ہے۔کالاباغ ڈیم کی تعمیر نہ ہونے سے سالانہ 196ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے ۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ چاروں بھائیوں کو ڈیمز کی تعمیر کیلئے قربانی دینا ہوگی، شمس الملک ہم نے پانی کے مسئلے کو حل کرنا ہے، ڈیمزپاکستان کی بقا کے لیے نہایت ضروری ہیں، کالا باغ ڈیم نہ بنا تو خیبرپختونخوا زمین کو پانی نہیں مل سکے گا، ہمیں ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ اگر پاکستان ڈیم نہیں بنائے گا تو پانچ سال بعد پانی کی صورتحال کیا ہوگی۔ کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح خطر ناک حد تک گر چکی ہے، ڈیمز بننے سے چاروں صوبوں کو فائدہ ہوگا، سوچ رہا ہوں عدالتی کام روک کر پانی کے مسئلے پر سیمینار کروائیں، پاکستان کی بقا کے لیے پانی اشد ضروری ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ زمین بنجر ہوگی تو کسان مقروض ہو جائے گا، ہمیں ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، لوگوں کو اکٹھا کریں تاکہ لوگوں کی تجاویز آئیں، سب کو مل بیٹھ کر ایشو کے حل کے لیے سوچنا ہوگا۔اس موقع پر اعتزاز احسن نے دلائل دیئے کہ ڈیمز کے مخالفین سے بھی بات کرنی ہوگی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جو ڈیم متنازعہ نہیں ان پر فوکس پہلے کیوں نہ کریں۔چیف جسٹس نے کہا ہمیں ماہرین اور لوگوں کو اکٹھا کرنا پڑےگا، یہ ڈیم ہرصورت بنناہے، نہیں علم یہ ڈیم میری زندگی میں بنتا ہے یا نہیں، ڈیم کی تعمیر میں سب سے پہلے حصہ عدالت عظمی ڈالے گی، قوم کو بچالیں یااپنے مفاد کو بچالیں، بات کالا باغ ڈیم کی نہیں بات پاکستان ڈیم کی ہے، چیف جسٹس نے کہا دس سال سیاسی حکومتیں رہی ہیں،ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے کچھ نہیں ہوا، سیاسی حکومتوں نے دس سال میں ڈیمز کی تعمیر کے لیے کیا کیا؟، ڈیم تو ہر حال میں بننا ہے، یہ بتائیں ڈیمز کن جگوں پر بنیں گے، جب تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا میں نے جانے نہیں دینا، مجھے بندے بتائیں، ماہرین کے نام بتائیں، میں نے سب کو بلا کر اندر سے کنڈی لگا دینا ہے، ایک کمیٹی یا ٹیم تشکیل دینا پڑے گی، ڈیمز کے مسئلے پر عدالت عظمی اپنی ٹیم تشکیل دے گی، ڈیموں کی تعمیر انا کی نذر ہوگئی۔

اچھی کرکٹ کھیل کر فتح نام کرینگے :سرفراز

لاہور(آئی این پی)قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ پاکستان،، آسٹریلیا اور زمبابوے کے درمیان ہونے والی ٹرائی اینگولر ٹی ٹونٹی کرکٹ سیریز آسان نہیں ہوگی تاہم ہماری کوشش ہوگی کہ اچھی کرکٹ کھیلیں اور سیریز میں فتح حاصل کریں۔ قذافی سٹیڈیم لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ٹرائی اینگولر سیریز میں شامل آسٹریلیا کی ٹیم مضبوط ہے اور ان کے نئے کھلاڑی بھی جانتے ہیں کہ ٹی ٹونٹی کرکٹ کیسے کھیلنی ہے اور ہم اس سیریز کو آسان نہیں لیں گے۔ٹیم کی اچھی تیاری ہے، اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ ٹی ٹونٹی میں کوئی بھی ٹیم ہلکی نہیں ہوتی۔ ہماری ٹیم ٹی ٹونٹی میں دنیا کی نمبر ون ٹیم ہے تاہم سیریز کے دوران اس کا دباﺅ نہیں لیں گے اور اپنی نارمل کرکٹ کھیلیں گے۔ زمبابوے کا دو بار دورہ کرچکا ہوں لیکن ہر بار وکٹ مختلف ہوتی ہے۔ 2013 میں زمبابوے کی وکٹیں گراسی تھیں اور بال کافی باﺅنس ہو رہا تھا جبکہ 2015 میں وکٹیں کافی سلو تھیں اور وکٹ میں نمی بھی زیادہ تھی اب وہاں کا موسم کافی ٹھنڈا ہے اور میچ بھی جلدی شروع ہوگا اسلئے وہاں کی کنڈیشنز دیکھ کر ٹیم کو میدان میں اتاریں گے۔انہوں نے کہا کہ سیریز میں ٹاس اہمیت کا حامل ہوگا۔ سرفراز احمد نے کہاکہ ان کی ایک دو سیریز میں بیٹنگ اچھی نہیں رہی۔ کپتانی کا پریشر ضرور ہوتا ہے تاہم میری کوشش ہوگی کہ اپنی بیٹنگ اور کیپنگ سے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کروں، سیریز میں نمبر چار پر ہی بیٹنگ کروں گا ۔ بطور بلے باز وکٹ کیپر اور کپتان دھونی سے متاثر ہوں۔ اس نے کامیابی سے اپنی ٹیم کی کپتانی کی اور بیٹنگ اور کیپنگ میں اچھی پرفارمنس دے کر ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔سرفراز احمد نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ کامران اکمل ڈومیسٹک میں اچھا پرفارم کر رہے ہیں۔ لیکن زمبابوے میں آسٹریلیا کی ٹیم کے چھ لیفٹ ہینڈرز کو دیکھ کر اور حفیظ کی باﺅلنگ بیٹنگ سے فائدہ اٹھانے اور انہیں فخر زمان کے ساتھ بطور اوپنر بھیجوانے کیلئے محمد حفیظ کو ٹیم میں شامل کیا۔ کامران اکمل سمیت کوئی بھی کرکٹر اپنی پرفارمنس سے ٹیم میں دوبارہ جگہ بنا سکتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ فاسٹ باﺅلر محمد عامر نے ریسٹ دیئے جانے کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہیں کی تاہم ہماری خود کوشش ہوتی ہے کہ فاسٹ بولرز کو ریسٹ دے کر کھیلائیں اور آئندہ سیریز میں بھی مختلف میچز میں مختلف بولرزکو موقع دیں گے تاکہ فاسٹ باﺅلرز کو ریسٹ مل سکے۔ انہوں نے شعیب ملک کے بیان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں بہت یک جہتی ہے اور تمام کھلاڑی ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں زیادہ کامیابیاں مل رہی ہیں۔سرفراز احمد نے کہاکہ یاسر شاہ کی ٹیم میں شمولیت اچھی بات ہے، ون ڈے میں بھی اسکی باﺅلنگ کا فائدہ اٹھائیں گے۔ ون ڈے کی ٹیم میں بہت کم تبدیلیاں کی جاتی ہیں اور کوشش ہے کہ ورلڈ کپ تک یہ ہی ٹیم رہے تاکہ ٹیم کا اچھا کمبی نیشن برقرار رہے ۔

گولڈ ن بوٹ ایوارڈ کی دوڑ میں ہیری سب سے آگے

ماسکو(آئی این پی) انگلینڈ فٹبال ٹیم کے کپتان ہیری کین پاناما کیخلاف ہیٹ ٹرک بنا کرورلڈکپ گولڈن بوٹ ایوارڈ ریس میں ٹاپ پرآگئے جبکہ پرتگالی اسٹار کرسچیانو رونالڈو اوربیلجیئم کے رومیلو لوکاکو چار گول کیساتھ دوسرے نمبر پرہیں۔ چیری شوف اورڈی کوسٹابھی ریس میں موجود ہیں۔ فٹبال ورلڈکپ میں گولڈن بوٹ ایوارڈ کا حصول بے حداہم ہوتا ہے یہ ایوارڈ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ گول کرنےوالے کھلاڑی کودیاجاتا ہے۔ دو پلیئرز کے برابر ہونے پر زیادہ گول کرنے میں معاونت کرنے والے کھلاڑی کودیاجاتا ہے۔ گولڈن بوٹ ایوارڈ کی دوڑ میں انگلینڈ کے کپتان ہیری کین پانچ گول کے ٹاپ پوزیشن پرآگئے ہیں۔ انہوں نے تیونس کے خلاف دوگول کئے۔پانامہ پرانگلینڈ کی چھ ایک کی فتح میں ہیری کین کی شاندارہیٹ ٹرک شامل تھی۔جس نے انگلش کپتان کوگولڈن بوٹ ایوارڈ کی دوڑ میں نمایاں کردیاہے۔پرتگال کے سپراسٹار کرسچیانو رونالڈو نے اسپین کے مقابل پہلے ہی میچ میں ہیٹ ٹرک بنائی۔اورمیچ تین تین سے برابرکرنے میں نمایاں کردار اداکیا۔رونالڈو نے مراکش سے دوسرے میچ میں بھی اپنی ٹیم کا واحدگول کیا۔اورچارگول کرکے دوسرے نمبر پر ہیں۔بیلجیئم کے رومیلولوکاکو نے بھی پانامہ اورتیونس کے خلاف دونوں میچوں میں دو،دو گول کئے۔ اورچارگول کے ساتھ دوسرے نمبرپرہیں۔انگلینڈاوربیلجیئم کے آخری میچ میں دونوں پلیئرزاپنی پوزیشن بہتربناسکتے ہیں۔روس کے چیری شوف اوراسپین کی ڈیگوکوسٹا بھی تین تین گول کرکے گولڈن بوٹ ایوارڈ کی دوڑ میں موجود ہیں۔بیلجیئم کے ایڈن ہیزرڈ،روس کے آرٹم ڈزوبا اورانگلینڈ کے جون اسٹونز دو،دوگول کرچکے ہیں۔

میرے خلاف فیصلہ ذہنی معذور شخص کا ہے ، وکلا ءاس پر ہنس رہے ہیں، مجھے ذاتی طور پر نشانہ بنایا گیا، فیصلے میں شاعری کی گئی ، سیاستدانوں کو مافیا قرار دیا گیا : شاہد خاقان کی چینل ۵ سے گفتگو

لاہور (چینل ۵ رپورٹ) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ مجھے تاحیات نااہل قرار دینے کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ مجھے ذاتی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ چینل ۵ کے پروگرام میں ضیا شاہد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا میں نے جس وکیل کو بھی فیصلہ دکھایا اس نے اس نے ہنسنے اور افسوس کرنے کے سوا کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے کہا یہ ایک ایسے شخص کا فیصلہ ہے جو اپنی ذہنی صلاحیت کھو چکا ہے اور اس قسم کی باتیں کر رہا ہے۔ یہ ایک الیشکن پٹیشن تھی جس کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اپیلٹ ٹربیونل کو کسی پر آئین F6 آرٹیکل 62، 63 لگانے کا کوئی اختیار نہیں۔ فیصلہ دینے سے پہلے جج نے عدالت میں یہ بات پوچھی تھی کہ کیا میں یہ کام کر سکتا ہوں تو وہاں موجود سب وکیلوں نے کہا کہ آپ کو کوئی اختیار نہیں اس کے باوجود فیصلہ دے دیا گیا۔ فیصلے میں سیاستدانوں کو مافیا کہا گیا ہے شعر وشاعری کی گئی ہے۔ فیصلہ جس کاغذ پر لکھا گیا اس کی بھی حیثیت اس فیصلے کی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیصلے کے خلاف ڈویژنل بنچ میں جائیں گے۔ پوری امید ہے کہ فیصلے کو واپس لے لیا جائے گا۔ اسکی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ یہ فیصلہ دوسرے حلقے میں نافذ العمل نہیں ہو سکتا۔ ان چیزوں سے الیکشن متنازعہ ہو رہا ہے۔ فیصلے میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ان میں مجھے ذاتی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے سیاستدانوں پر تنقید، ذاتی تبصرہ کیا گیا ہے اس سے ذہنی بیمار شخص کی سی سوچ کی عکاسی نظر آتی ہے۔ امید ہے ڈویژنل بنچ اس تماشے کو ختم کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فیصلوں سے انتخابات متنازعہ ہو جائیں گے۔ میں نے کوئی حقائق یا معلومات نہیں چھپائیں مجھ پر معلومات یا حقائق چھپانے کا الزام سراسر غلط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلے متنازع ہونگے ہر شخص اپنے اختیارات سے بڑھ کر فیصلے کر رہا ہے۔ امیدواروں کو ہٹایا جا رہا ہے ہمیں اس معاملے میں شکوک وشبہات ہیں فیصلے کے خلاف اپیل میں جاﺅں گا۔ امید کرتا ہوں کہ قانون کے مطابق فیصلہ ہو گا۔

کوریا نے دفاعی چیمپئن جرمنی کو ورلڈ کپ سے باہر کر دیا

کازان(نیوزایجنسیاں) فٹ بال ورلڈ کپ 2018 کے گروپ ایف کے میچ میں جنوبی کوریا نے جرمنی کو 0-2 سے شکست دے کر دفاعی چیمپئن کو ورلڈ کپ سے باہر کردیا۔مجموعی طور پر جرمن کھلاڑیوں نے 70 فیصد سے زائد بال کا پوزیشن اپنے پاس رکھ کر میچ پر اپنا غلبہ برقرار رکھا تاہم جنوبی کوریا کے خلاف گول اسکور نہ کرسکی۔جرمنی نے گول کرنے کے لیے متعدد شاندار مووز بنائیں تاہم جنوبی کوریا کے کھلاڑی اسے ناکام بنانے میں کامیاب رہے۔جنوبی کوریا کے گول کیپر نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جرمن شاٹس کو گول کے جال سے دور رکھا۔شکست کے نتیجے میں جرمنی کو کوئی پوائنٹ نہیں مل سکا جبکہ جنوبی کوریا بھی فتح کے باوجود ٹورنامنٹ کی دوڑ سے باہر ہوگئی ہے۔دوسری جانب سوئیڈن نے میکسیکو کو تین کے مقابلے میں صفر گولز سے ہراکر پری کوارٹر فائنلز مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا۔سوئیڈن کی جانب سے 50ویں منٹ میں لگوگ اوگسٹنسن، 62ویں منٹ میں انڈریاز گرانکوسٹ جبکہ 74ویں منٹ میں میکسیکو کے دفاعی کھلاڑی ایڈسن الوریز نے گیند کو اپنے ہی گول میں بال داغ کر اون گول کردیا۔خیال رہے کہ جرمنی نے 2014 ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کو ہراکر ورلڈ کپ کا تاج اپنے سر پر سجایا تھا۔1938 ءکے بعد یہ پہلا موقع ہے جب جرمنی ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے میں باہر ہوا ہے۔1938 کا ایونٹ ناک آو¿ٹ راو¿نڈ کی طرز پر کھیلا گیا تھا جہاں جرمنی کو سوئٹزرلینڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن یہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ جرمنی کی ٹیم گروپ اسٹیج سے آگے نہ پہنچ سکی ہو۔

ایف آئی اے کی کاروائی ، خاتون کی نازیبا ویڈیو اور تصاویر بنانے والا بلیک میلر گرفتار ” خبریں ہیلپ لائن “ میں انکشاف .

لاہور (کرائم رپو رٹر) ایف آئی اے سائبر کرائم کی ایک اور بلیک میلر کے خلاف شالیمار کے علاقہ میں کاروائی ، خاتون کو تصاویر اور ویڈیوز کی بناءپر بلیک میل کر نے والے کو دھر لیا ، موبائل اور لیپ ٹاپ قبضہ میں لیتے ہوئے نازیبا ڈڈیوز اور تصاویر برآمد کر لیں۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اویس ذوالفقار نامی شہری نے ایف آئی اے سائبر کرائم کو ایک درخواست دی جس میں موقف اپنایا گیا کہ میری بہن کو حمزہ امان نامی لڑکا بلیک میل کر رہا ہے لہذ ا اس کے خلاف کاروائی کی جائے جس پر ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر خالد انیس نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد آصف اقبال ، سینئر انویسٹی گیٹر رضوان ارشد ، اے ایس آئی حافظ زبیر اور ایف سی اہلکار تنویر احمد پر مشتمل ایک ریڈنگ پارٹی تشکیل دی جنہو ں نے مدعیان کی نشاندہی پر داروغہ والا چوک شالیمار میں ملزم حمزہ امان کے گھر چھاپہ مارکر اسے گرفتار کر لیا جبکہ اسکے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کو قبضہ میں لیتے ہوئے ان کو جب چیک کیا گیا تو اس میں بھی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز موجود تھیں جبکہ ہراساں کرنے والے میسجز بھی موبائل میں موجود تھے جس پر ملزم کو ایف آئی اے لاہور کی حوالات میں بند کرکے مقدمہ نمبر 133/18درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے ۔

ایوب دور میں کالا باغ ڈیم پر کچھ کام ہوا ، بعد میں سیاست کی نذر ہو گیا : توصیف احمد خان ، سابق پارلیمنٹ نے اپنے مفادات کے فیصلے چند لمحوں میں کئے : اعجاز حفیظ ، کالاباغ ڈیم ناگزیر لیکن اتفاق رائے کے بغیر نہیں بننا چاہئے : افضال ریحان ، جتنا پانی ہم ضائع کرتے ہیں دنیا میں کوئی ضائع نہیں کرتا : ضمیر آفاقی ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا ہے کہ قومی مفادات پر منصوبوں پر اتفاق رائے پیدا کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ چینل ۵ کے پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے ہونا حکومتوں کی نااہلی ہے۔ جرا¿ت مندانہ فیصلے کرنا ہونگے جتنا پانی ہم ضائع کرتے ہیں دنیا میں کوئی ضائع نہیں کرتا۔ چین میں 40 ہزار کے قریب ڈیم ہیں ہمیں چھوٹے ڈیمز پر بھی کام کرنا ہو گا۔ الیکشن میں جنہوں نے جعل سازی کرنا ہوتی ہے وہ راستے نکال لیتے ہیں۔ الیکشن کمیشن اپنی کوتاہیاں دور کرے۔ کالم نگار اعجاز حفیظ نے کہا کہ کالا باغ ڈیم اتفاق رائے کے بعد ہی بن سکتا ہے۔ ضیاءالحق دور میں کالا باغ ڈیم پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ ضیاءالحق کی باقیات ہمارے گلے پڑی ہوئی ہے۔ سابقہ پارلیمنٹ نے اپنے مفادات کے فیصلے گھنٹوں میں کیے لیکن ملکی مفاد پر آنکھیں بند رکھیں۔ اگر بیلٹ پیپر کا کاغذ درآمد کرنے سے الیکشن شفاف ہو سکتے ہیں تو خرچے کی پرواہ نہیںکرنی چاہیے لوگ اب تبدیلی کے خواہش مند ہیں نواز شریف نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں۔ کالم نگار توصیف احمد خان نے کہا ہے کہ پانی تو ہمارے پاس ہے لیکن ہم اس کو ضائع کر دیتے ہیں۔ ایوب خان کے دور میں کالا باغ ڈیم پر کچھ کام ہوا تھا لیکن بعد میں یہ سیاست کی نذر ہو گیا۔ انہوں نے کہا سنا ہے الیکشن کے بیلٹ پیپر کے کاغذ باہر سے منگوایا جا رہا ہے جس پر دو ارب خرچہ ہو گا۔ کالم نگار ریحان افضال نے کہا کہ کالا باغ ڈیم ناگزیر ہے لیکن اتفاق رائے کے بغیر نہیں بننا چاہیے۔ زمینیں بنجر ہو رہی ہیں اگر پانی کا مسئلہ حل ہو جائے تو ملک بھی ترقی کرے۔ سندھی اور پختون بھائیوں کے تحفظات دور کرنا چاہیے کچھ سیاستدان جب پارٹی پر مشکل آتی ہے تو مرغابیوں کی طرح اڑ جاتے ہیں۔ مفادات اٹھانے والوں کو کچھ نہ ملنے پر پارٹی نہیں چھوڑنی چاہیے۔

 

شفاف اور پر امن الیکشن کا بروقت انعقاد نگران حکومت کی ترجیح :نگران صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں انجم نثار کا ” خبریں “ کو انٹر ویو

لا ہور (انٹرویو : سید شہزاد بخاری )نگران حکو مت میں محدود وسا ئل کے با وجو د سر کا ری ملازمین کی تنخوا ہو ں میں اضا فہ کیا گیا ہے، تا جروں اور عوام کو سہو لت فرا ہم کرتے ہو ئے کو ئی نیا ٹیکس نہیں عا ئد کیا گیا ، مو جو دہ نگران سیٹ اپ کی سر فہرست تر جیحا ت صاف شفا ف غیر جا نبدار اور پر امن انتخا با ت اپنے مقررہ وقت پر کر وا یا جانا ہے جس کے لئے تما م وسا ئل بروئے کا ر لا ئے جا ئیں گے ، ملکی تر قی اور خوشحا لی میں ہی عوام کی تر قی خو شحا لی ہے ،ہم نے ٹریڈرز ، صنعتکا ر وں اور تا جر طبقہ کو ملکی اداروں کے آپسی تعلقا ت کو فروغ دے کر مزید مظبو ط کریں گے ان خیالات کا اظہا رنگرا ن صو با ئی وزیر صنعت و تجا رت میا ں انجم نثار نے گزشتہ روز خبریں کو دئیے گئے انٹر ویو میں گفتگو کرتے کیا۔ انھوں نے کہا کہ اپنا چا رج فو ری سنبھا لنے کے بعد جن مسا ئل اور مشکلا ت کا سا منا تھا ان کو حل کرنے کی کو شش کی ہے جس میں کا فی حد تک کا میا بی حا صل ہو ئی ہے عا م انتخا با ت کے لئے جن وسا ئل کی ضرورت تھی ان کو کا بینہ میں تفصیلی کے سا تھ زیر بحث لا یا گیا ہے تا کہ الیکشن کو متنا زع ہو نے سے بچا یا جا سکے انہوں نے کہا کہ نگران وزراءمحدود دائرے کا ر میں رہ کر کا م کرتے ہیں اس کے با وجو د تا جروں اور صنعتکا روں کے مسا ئل اورمشکلا ت کو بھی حل کیا جا رہا ہے تا جر طبقہ ٹیکس کی اد ئیگی سے ملک کو سپورٹ کرتا ہے جب کے ہما ری انڈسٹری ملکی معشیت ریڑھ کی ہڈی کے ما نند ہے جن کے لئے وسا ئل پیدا کرنا حکو مت کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا ہے کہ اپنے مختصر دور اقتدار کے باو جود صنعت کاروں کو درپیش تمام مسائل کے حل کےلئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے اورایسا نظام قائم کریں گے کہ بعد میں آنیوالوں کو بھی ایک روڈ میپ دے سکیںصوبائی وزیر نے کہا کہ نگران سیٹ اپ کا بنیادی مقصد آنیوالے الیکشن کے لئے ماحول سازگار بنانا ہے تاہم صنعتکاروں کو بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہیں نگران حکومت کی پالیسیوں کا محورصنعت و تجارت اور معیشت ہے تاہم صنعتکاروں کو درپیش تمام مسائل کے حل کےلئے ایک میکنزم ترتیب دے رہے ہیں تاکہ صنعتکار وں کو ایسا سازگار ماحول فراہم کیا جائے کہ وہ ملکی معیشت کو مزید استحکام فراہم کرسکیں ا نہوں نے کہا کہ تاجر برادری ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اثاثہ جات کو ظاہر کرکے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے اور اپنے اثا ثہ جا ت ڈکلیئر کروا کر اپنیزندگی کو خوف کے عا لم سے با ہر نکالنا چا ہیے ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے والے تاجروں کے ساتھ ایف بی آر بھرپور تعاون کررہا ہے اس سے حکومت اور کاروباری برادری دونوں کو فائدہ ہوگا انہوں نے کہا کہ ڈیم پا کستا ن کی سب سے بڑی ضرورت ہے ڈیم بنا نے چا ہیے روز بروز پا نی کی کمی ملک کے لئے بڑا خطرہ ہے کرا چی اور راولپنڈی میں پا نی فروخت کیا جا رہا ہے پا نی ضیا مہم تیز کرنی چا ہیے تا کہ شہریو ں کو پا نی کی قدرو قیمت معلوم ہو سکے اور پا نی کو کم سے کم ضائع کیا جا ئے ضائع پا نی ڈیمو ں کی صورت میں سیف کر نا چا ہیے انہوں نے کہا نگران حکو مت کےلئے 6سو 93ارب کا بجٹ پاس ہوا ہے جسے چا ر مہینے کےلئے کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس کو کالا باغ ڈیم پر بریفنگ خوش آئند مسئلہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جانا پڑیگا : ضیا شاہد، شاہد خاقان ایک حلقے سے نہیںپورے پاکستان سے نا اہل ہو گئے : کنور دلشاد، چینل ۵ کے مقبول پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ بڑی حیرت انگیز خبر ہے اچانک یہ دھماکہ خیز خبر ہے کہ شاہد خاقان عباسی سابق وزیراعظم پر بھی 63-62 کا کلہاڑا چل گیا ہے انہوں نے کاغذات نامزدگی میں بے احتیاطی برتی ہے۔ مجھے تو گردش ایام ہے۔ میرا خیال ہے کہ 35 سال تھوڑے نہیں ہوتے نوازشریف نے پچھلے دنوں کہا کہ پاکستان کو مزید ترقی دینا چاہتا ہوں اس کے لئے مجھے 20 سال اور چاہئیں۔ اگر 20 سال بھی جمع کر لیں تو میرے ذہن میں پہلا خیال یہ آیا کہ ایک تاریخ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پاکستان کی تاریخ اس طرح بنے گی۔ اگر 55 سال ان کے کھاتے میں چلے گئے۔ میرا خیال ہے ایک دور تھا جو اپنے انجام کو پہنچا ہے۔ میں پہلا اخبار نویس تھا جس نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کی تھی میں چاہتا تھا اس کی وضاحت کچھ باتوں کی ہو جائے آئین تو یہ موجود تھا اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا تھا کافی دیر تک کیس چلتا رہا میرے پاس آج بھی اس کا فیصلہ موجود ہے وہ فیصلہ بڑا گول مول سا تھا۔ جج صاحب نے آخر میں فیصلہ دیا کہ ٹھیک ہے آپ کوئی تجویز دیں کہ 63,62 پر کس طرح سے عمل ہو سکتا ہے ہم نے کیا تجویز دینی تھی ڈس پوز آف ہو گئی لیکن میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اتنے تابڑ تور فیصلے 63,62 کے تحت ہو رہے ہیں کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کل تک آج شاہد خاقان عباسی کے بارے میں فیصلہ آ گیا کہ تاحیات نااہل ہیں۔ یہ ایک نہیں دو حلقوں سے لڑ رہے تھے اگر ایک حلقے میں تا حیات نااہلی آ جاتی ہے تو کیا خود بخود ہی دوسرے حلقے کا بھی فیصلہ ہو گیا یا دوسرے حلقے میں ان کو اجازت مل جائے گی۔بیٹے اور بیٹی کو حق حاصل ہے۔ ان کو ہمدردی کے ووٹ بھی مل سکتے ہیں۔ یہ سیاستدانوں کی ذہانت ہے۔ کالا باغ کے سب سے بڑے حامی حالانکہ ان کا تعلق صوبے کے پی کے سے ہے۔
کنور دلشاد نے کہا ہے کہ جس وقت چیف جسٹس آف پاکستان نے کاغدات نامزدگی کو تبدیل کرتے ہوئے حلف نامے میں تبدیل کیا تھا اس وقت بڑے تاریخی ریمارکس تھے انہوں نے کہا تھا کہ اب باقاعدہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا حصہ بن چکا ہے اب اگر کسی نے حقائق چھپائے تو ان کے خلاف توہین عدالت بھی لگ سکتی ہے اور وہ تاحیات نااہل بھی ہو سکتا ہے۔ ابھی جو ہمارا کاغذات نامزدگی حلف نامہ تھا اس کی خلاف ورزی کرنے پر اپیلٹ ٹربیونل نے فیصلہ دے دیا۔ کاغدات نامزدگی نامنظور کر دیئے۔ جج حضرات نے 62 ون ایف کے تحت، یہ ان کے صوابدیدی اختیارات تھے جو انہوں نے نقطہ نظر اختیار کیا لیکن اس کی بیک گراﺅنڈ دیکھیں۔ شاہد خاقان عباسی کے بارے میں سارا میڈیا جو ہے سامنے آ گیا۔ جنرل پرویز مشرف صاحب نے 2013ءمیں الیکشن کے لئے اپنے کاغذات نامزدگی کراچی میں جمع کرائے دو جگہ۔ اس کے ساتھ انہوں نے چترال میں بھی کرائے، چترال کے ریٹرننگ آفیسر نے کاغدات تسلیم کر لئے لیکن ان کے خلاف اپیلٹ ٹربیونل میں مخالفین نے درخواست کی۔ اس اپیلٹ ٹربیونل کے سربراہ جسٹس دوست محمد خان جو آج کل چیف منسٹر ہیں خیبر پختونخوا کے انہوں نے ان کو تاحیات نااہل قرار دے دیا۔ اب وہ سارے پاکستان میں تاحیات نااہل قرار پائے۔ اسی فیصلے کی روشنی میں انہیں پارٹی کی صدارت چھوڑنا پڑی اب ایک کارکن بن گئے۔ اسی طرح ان کے کراچی میں دو حلقوں میں کاغذات نامزدگی وہ بھی خود بخود ہی مسترد ہو گئے۔ اب سمجھ نہیں آ رہی کہ پرویز مشرف کو شاہد خاقان عباسی کے فیصلے کو دیکھا جائے تو یہ راولپنڈی کے اپیلٹ ٹربیونل نے جو فیصلہ کیا وہ درست تھے۔ وہ بھی چترال کے حوالے سے اپیلٹ ٹربیونل تھا۔ اس لحاظ سے شاہد خاقان عباسی ہو گیا۔ فواد چودھری ہو گیا۔ فواد چودھری پی ٹی آئی کے ترجمان ہیں ظاہر ہے ان کا معاملہ بھی جہانگیر والا ہو گیا۔ یہ سارے معاملات بڑے اہم جا رہے ہیں یہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کے ریمارکس نہیں دیکھے انہوں نے اس کے خلاف اگر کسی نے غلط کام کیا یا تو وہ تاحیات نااہل اور توہین عدالت میں اسے سزا بھی ہو سکتی ہے۔ یہ صاف ستھری چیزیں سامنے آ رہی ہیں ہمیں اس کی تعریف کرنی چاہئے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ آج آپ کی ملاقات ہوئی ہے وفاقی وزیر اطلاعات علی ظفر سے، یہ جو بلدیاتی ادارے کے سربراہ ہیں۔ آپ نے خود کہا تھا کہ 2008ءمیں اپنے دستخطوں سے یہ حکم جاری کیا تھا کہ دو ماہ کے لئے ان کے اختیارات معطل کر دیئے جائیں۔ میں نے انگران وزیراعلیٰ حسن عسکری سے بھی پوچھا اور وزراءسے بھی پوچھا۔ کل اس پر یہ فیصلہ دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے کہ یہ جو منتخب بلدیاتی ادارے کے سربراہ اور منتخب ارکان جو ہیں ان کو منع کر دیا گیا ہے وہ الیکشن تک کام نہیں کر سکیں گے الیکشن تک۔یہ تو صرف پنجاب میں کیا ہے۔ میرے خیال میں تو یہ الیکشن کمشن کو کہنا چاہئے یا علی ظفر صاحب سے آپ ملے تھے ان کو اپنے گڈ آفسز استعمال کرنے چاہئیں۔ وہ الیکشن سے بھی بات کر گئے ہیں خود بھی کوئی حکم جاری کر سکتے ہیں۔ اس پروگرام میں علی ظفر سے بات ہوئی۔ دونوں معاملات ممیں کہ گورنروں کو سیاسی کردار ادا نہیں کرنا چاہئے اس سے بھی زیادہ بلدیاتی اداروں کے منتخب ارکان کارکردگی کو سٹاپ کر دینا چاہئے۔ ہمارے اخبار میں لیڈ سٹوری بھی چھپی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ غور جاری ہے اور اس کے لئے کوشش بھی کر رہے ہیں۔ آپ سے ملاقات میں کیا بات ہوئی کہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ کیا آپ کے خیال میں صرف پنجاب حکومت کا آرڈر جاری کرنا ضروری ہے یا الیکشن کمشن کو چاروں صوبوں کے لئے ایک مکمل آرڈر جاری کرنا ضروری ہے، کنور دلشاد نے کہا کہ میں نے وفاقی قانون و انصاف علی ظفر صاحب سے بات کی تو یہی سب سے بڑا اہم پونئنٹ اٹھایا کہ بلدیاتی اداروں کے میئر اور چیئرمین ہیں ان کا بہت دخل ہوتا ہے40,30 محکمے پر میئر کے ماتحت ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ درست ہے ان اداروں کا کام روکنا چاہئے میں نے ان کو مشورہ دیا کہ 2008ءمیں مجھ پر دباﺅ پڑا تھا تو ہم نے الیکشن کمیشن کی منظوری سے تمام ادارے جتنے بھی ناظمین تھے سب کو غیر فعال قرار دے دیا تھا۔ ظاہر ہے جب الیکشن کمشن کا جب حکم ہوتا ہے تو ہم نے ان کو غیر فعال قرار دے دیا تھا۔ پھر ازخود الیکشن کمشن نے نوٹس لیا تھا صدر، وزیراعظم کا کوئی دباﺅ نہیں تھا۔ انہوں نے اس تجویز کو درست قرار دیا میں اس بارے میں الیکشن کمیشن سے بات کروں گا، یہ علی ظفر نے نوٹ کر لیا ہے۔ ایک اور اہم بات پھر میں نے ان سے کہی کہ ہم کوشش بہت کر رہے ہیں جس بیلٹ پیپر پر لوگ ووٹ کاسٹ کرنے جاتے ہیں۔ اس میں ناپسندیدگی کا کالم ہونا چاہئے کہ جہاں اگر کوئی ووٹر کسی کو بھی ووٹ نہیں ڈالنا چاہتا تو وہ کہہ سکے کہ میں کسی کو ناپسند نہیں کرتا۔ 2013ءکے انتخابات میں یہ فیصلہ ہو چکا تھا لیکن بہرحال الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپر جب چھپنے کے لئے گیا تو یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ یہ کہانی پراسرار تھی۔ کل عدالت میں اس سلسلے میں ایک درخواست بھی دائر کی جا رہی ہے۔ علی ظفر صاحب نے اس سے بھی اتفاق کیا ہے اور میں اس سلسلے میں الیکشن کمیشن میں مشاورت کرتا ہوں۔ضیا شاہد نے کہا کہ کتنے ایسے چیف الیکشن کمشنر ہیں جن کو میں نے خود اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے بریفنگ میں بلائے تھے ان سے سوال و جواب ہو سکتے تھے۔ ہمارے چیف الیکشن کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے کہ انہوں نے ایک بھی ایڈیٹرز سے بریفنگ میں بات چیت کی ہو۔ ہم سب کا مقصد الیکشن کمیشن کے کام کو آگے بڑھانا ہے یہ الیکشن کمیشن اب یہ تمام اخبار والوں کے لئے کیوں شجر ممنوعہ ہو گیا ہے۔ کنور دلشاد نے کہا کہ بہت سے پرانے الیکشن کمشنر کے انٹرویو کئے ہیں۔ ہم بھی ہر ہفتے الیکشن کمیشن کی بریفنگ کرواتے تھے۔ یہ بات ہونی چاہئے ہم آپ کی بات کے توسط سے یہ بات کریں گے کل میں بھی ان سے درخواست کرتا ہوں کہ بعض اہم معاملات ہو گئے ہیں۔ بعض متضاد فیصلے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ آپ پریس بریفنگ میں صحافی حضرات کو مدعو کریں۔
چیف جسٹس نے بجا طور پر ایک تفصیلی بریفنگ لی ہے۔ شمس الملک صاحب کی میں بات کر رہا تھا یہ واپڈا کے چیف تھے ان کا تعلق صوبہ سرحد سابقہ سے اور آج کے خیبر پختونخوا سے ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ پچھلے دور میں وہ نگران وزیراعلیٰ بھی رہے ہیں خیبر پختونخوا کے الیکشن کے دوران میں یہ گزارش کرنا چاہتا تھا کہ آج انہوں نے بھی کوئی گھنٹے پون گھنٹہ بریفنگ دی ہے اور یقینا انہوں نے بڑی مفید باتیں کیں۔ معزز پٹھان قبیلے سے تعلق رکھنے کے باوجود خود انہوں نے ہمیشہ سے جب وہاں سے عبدالولی خان کی آوازیں اٹھتی تھیں کہ اگر کالاباغ بنا تو ہم اسے بم سے اڑا دیں گے اس وقت شمس الملک صاحب نے بہت کھل کر کہا کہ یہ پاکستان کے لئے ضروری ہے اور اس سے ہر گز ہرگز خیبرپختونخوا اس وقت کا صوبہ سرحد کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ آج بھی انہوں نے بڑی تفصیل سے بات کی اور سابق چیف جسٹس صاحب (جو نگران وزیراعلیٰ ہیں) نے مددگار کے طور پر ایکسپرٹ کے طور پر اعتزاز احسن کی خدمات بھی حاصل کی ہیں۔ اگرچہ ان کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے لیکن وزیرداخلہ بھی رہے علمی ادبی شخصیت ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی موجودگی قابل عمل ہو گی اور معاف کیجئے گا چھوٹا سا آدمی نہیں ہوں لیکن کالا باغ ڈیم پر ایک عمر گزاری ہے جو 7,6 سال میں نے لاہور ہائی کورٹ میں کیس لڑا تھا اس کا کیا حشر ہوا تھا میں اب یہ کہوں گا کہ جتنی کمیٹیاں چیف جسٹس صاحب نے کہی ہیں بہت اچھی بات ہے۔ مشاورت ہونی چاہئے، میں نے زیادہ قابل عمل فارمولا دے کر آخر دور میں رٹ کی تھی علی ظفر بھی اس میں میرے وکیل تھے اس میں میں نے کہا تھا اس وقت کے چیف جسٹس صاحب سے کہ کالا باغ ڈیم کا معاملہ پھنس جاتا ہے کیونکہ صوبوں میں احتلاف ہے شہباز شریف نے بھی یہی کہا ہے۔ پاکستان کا اس میں بڑا نقصان ہے۔ دریائے سندھ پاکستان کا بہت بڑا دریا ہے اس میں دریائے سوات اور قابل بھی آ کر ملتے ہیں اس میں بھی ایک ڈیم نہیں ہے اور اوپر سے جو پانی چلتا ہے جا کر سمندر میں گر جاتا ہے اگر میں نے نہیں کہا فلاں کو پانی دو فلاں کو نہ دو آخری ڈیزائن جو بنے ہیں واپڈا نے ختم کر دیا تھا کہ دائیں طرف یا بائیں طرف نہریں نکالی جائیں اس وقت یہ تجویز دی گئی تھی کہ کالا باغ ڈیم کو اس وقت بھی کہا گیا کہ نام پر مخالفت ہو چکی ہے اسے پاکستان ڈیم کا نام دیا جائے۔ کیونکہ یہ پاکستان کے لئے ہے۔ دوسرا یہ کہا گیا کہ اسے ”کیری اوور‘’ ڈیم بنایا جائے۔ ”کیری اوور ڈیم“ یہ ہوتا ہے کہ آپ پانی روک لیں کوئی نہر نہ نکالیں اور یہ ظاہر ہے ارسا جس میں چاروں صوبوں کے نمائندے اس میں ہیں۔ ارسا کا ادارہ اوپر ہیڈ کرے فیصلہ کر دے کب اور کتنا پانی چھوڑنا ہے۔ آخری فیصلہ وہ کوئی سی کمیٹی میں نہیں ہو گا آخری فیصلہ خود چیف جسٹس نے کیا کہ ثالثی کے لئے تیار ہوں اگلے ہی دن خورشید شاہ نے کہہ دیا کہ ہمیں کوئی ثالثی کی ضرورت نہیں، میں نے یہ کہا کہ پاکستان میں کے آئینی میں ایک ادارہ جس کو کونسل آف کامنر انٹرسٹ جسے مشترکہ مفادات کونسل، وزیراعظم اس کا سربراہ ہوتا ہے اور چاروں صوبوں کے چیف منسٹر اس کے ارکان ہوتے ہیں۔ صوبوں کی مشاورت سے یہ کام ہو سکتا ہے۔

ملکہ برطانیہ کی جانب سے 3 پاکستانی نوجوانوں کیلئے ’کوئنز ینگ لیڈرز‘ ایوارڈ

لندن(ویب ڈیسک) ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کی جانب سے 3 پاکستانی نوجوانوں کو سماجی خدمات انجام دینے پر ’کوئنز ینگ لیڈر‘ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔گزشتہ روز شاہی محل بکنگھم پیلس میں ’کوئنز ینگ لیڈرز‘ ایوارڈ کی تقریب منعقد کی گئی، جس میں پاکستانی نوجوانوں ہارون یاسین، حسن مجتبیٰ اور ماہ نور سید کو ’کوئنز ینگ لیڈرز‘ ایوارڈ دیا گیا۔’کوئنز ینگ لیڈرز‘ ایوارڈ کی تقریب میں پاکستان سمیت مختلف ممالک کے ا±ن تمام نوجوانوں کو اعزاز سے نوازا گیا جو معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں۔شاہی محل بکنگھم میں ’کوئنز ینگ لیڈرز‘ ایوارڈ کی تقریب—.فوٹو بشکریہ/کوئنز ینگ لیڈرز ٹوئٹر یہ ایوارڈ کامن ویلتھ گروپ کے رکن ممالک کے ایسے نوجوانوں کی شناخت کرتا ہے جن کی عمر 18 سے 29 برس ہو اور وہ اپنی کمیونٹی میں کسی اہم سماجی کام کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہوں، جو کسی کو جینے کی صحیح راہ اور امید دکھا رہے ہوں۔واضح رہے کہ پاکستانی نوجوان حسن مجتبٰی زیدی ‘ڈسکورنگ نیو آرٹسٹس’ کے بانی ہیں جو آرٹ کے ذریعے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارتے ہیں۔ وہ بچوں کو مفت آرٹ ٹریننگ دیتے ہیں اور اس کے ساتھ جو طلباءتعلیمی اخراجات نہیں اٹھا سکتے انہیں تعلیم بھی فراہم کرتے ہیں۔ہارون یاسین ’اورینڈا‘ کے بانی ہیں جو قومی نصاب کو کارٹون سیریز میں بدل کر بچوں کے لیے پیش کرتے ہیں، جس کا نام تعلیم آباد ہے۔ ہارون ا±ن بچوں کو نصابی اور ڈیجیٹل تعلیم دینے کے لیے گامزن ہیں جن کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے وسائل موجود نہیں ہیں۔ ماہ نور ’اسپریڈ دی ورڈ‘ کی بانی ہیں جو بچوں کے ساتھ زیادتی، جسمانی اور ذہنی دباو¿ کو ختم کرنے کے لیے مخلتف سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں۔علاوہ ازیں ماہ نور ’خواجہ سرا سپورٹ‘ آرگنائزیشن سے بھی منسلک ہیں اور ان کے لیے فنڈز جمع کرتی ہیں۔